براہ مہربانی پلے کا بٹن ضرور دبائیں اور نیچے دی گئی کہانی پڑھیں۔ آپ کے تعاون کا بہت بہت شکریہ
👇👇
تہہ خانے کے اندر اندھیرا اس قدر گہرا ہے کہ عارف کو اپنے ہاتھ بھی دکھائی نہیں دیتے۔ وہ اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی ٹارچ نکالتا ہے اور روشنی جلاتا ہے۔ تہہ خانے کی دیواروں پر پرانے جالے اور دھول کی تہیں ہیں، مگر ایک کونے میں ایک چھوٹا سا دروازہ دکھائی دیتا ہے، جو ہلکا سا کھلا ہے۔ عارف اس کی طرف بڑھتا ہے، مگر اسے اچانک ایک عجیب سی بدبو آتی ہے، وہی بدبو جو مائرہ نے بیگم ثریا کی شیشی سے آتی دیکھی تھی۔ وہ دروازے کے قریب پہنچتا ہے اور اندر جھانکتا ہے۔ کمرے کی دیواروں پر خون کے دھبے ہیں، جو برسوں پرانے لگتے ہیں، مگر اب بھی تازہ دکھائی دیتے ہیں۔ کمرے کے بیچ میں ایک پرانا ڈیسک ہے، جس پر ایک خط پڑا ہے۔ خط پر زرتاشا کا نام لکھا ہے۔
عارف خط اٹھاتا ہے اور اسے کھولتا ہے۔ اس میں لکھا ہے: "اگر میں مر جاؤں، تو جان لینا کہ یہ حادثہ نہیں تھا۔ چوہدری خاندان ایک خوفناک راز چھپا رہا ہے۔ تہہ خانے میں… وہ چیز… وہ کبھی نہیں مرتی۔" خط کے آخر میں ایک عجیب سا نشان ہے، وہی نشان جو تہہ خانے کے دروازے اور بیگم ثریا کے لاکٹ پر تھا۔ عارف کا دل زور سے دھڑکتا ہے۔ وہ خط کو اپنی جیب میں رکھتا ہے اور تیزی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اسے اچانک ایک عجیب سی آواز سنائی دیتی ہے، جیسے کوئی دیواروں کے پیچھے سانس لے رہا ہو۔ وہ مڑتا ہے، مگر وہاں کوئی نہیں۔ صرف ایک سرد ہوا کا جھونکا ہے جو اس کے چہرے سے ٹکراتا ہے۔
دوسری طرف، مائرہ حویلی کے کچن میں دوبارہ جاتی ہے، جہاں اس نے بیگم ثریا کو شیشی جلاتے دیکھا تھا۔ وہ الماری کے پیچھے ہاتھ ڈالتی ہے اور شیشی کو نکال لیتی ہے۔ شیشی اب خالی ہے، مگر اس سے وہی عجیب سی بدبو آ رہی ہے۔ مائرہ شیشی کو اپنی جیب میں رکھتی ہے اور تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بھاگتی ہے۔ مگر راستے میں اسے ایک بار پھر لگتا ہے کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ وہ تیزی سے مڑتی ہے، اور اس بار وہ ایک سایہ دیکھتی ہے جو حویلی کی راہداری میں غائب ہو جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ کانپنے لگتے ہیں، مگر وہ خود کو سنبھالتی ہے اور اپنے کمرے میں جا کر دروازہ بند کر لیتی ہے۔
اسی رات، قمر اپنے کمرے میں بیٹھا ہے جب اسے دروازے پر ایک ہلکی سی دستک سنائی دیتی ہے۔ وہ دروازہ کھولتا ہے، مگر وہاں کوئی نہیں۔ صرف ایک چھوٹا سا کاغذ زمین پر پڑا ہے۔ اس پر لکھا ہے: "تم اگلے ہو۔" قمر کا چہرہ زرد پڑ جاتا ہے۔ وہ تیزی سے دروازہ بند کرتا ہے اور اپنی الماری کی طرف بھاگتا ہے۔ وہ ایک پرانی چابی نکالتا ہے، جو اسے برسوں پہلے اس کے والد نے دی تھی۔ وہ چابی کو ہاتھ میں پکڑتا ہے اور سوچتا ہے کہ کیا اسے تہہ خانے میں جانا چاہیے۔ مگر اس کے دل میں ایک عجیب سا خوف جاگتا ہے۔ وہ چابی واپس الماری میں رکھ دیتا ہے اور دروازے کی طرف دیکھتا ہے، جیسے کوئی اسے گھور رہا ہو۔
دوسری صبح، مائرہ اور عارف گاؤں کے ایک پرانے مزار کے پیچھے ملاقات کرتے ہیں۔ مائرہ عارف کو شیشی دکھاتی ہے اور کہتی ہے، "یہ وہی شیشی ہے جو بیگم ثریا جلا رہی تھی۔ اس سے عجیب سی بدبو آتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اس کا زرتاشا کی موت سے کوئی تعلق ہے۔" عارف خط نکالتا ہے اور مائرہ کو دکھاتا ہے۔ "یہ تہہ خانے میں ملا۔ زرتاشا نے لکھا ہے کہ چوہدری خاندان کوئی خوفناک راز چھپا رہا ہے۔ ہمیں تہہ خانے میں دوبارہ جانا ہوگا۔"
مائرہ خوفزدہ ہو جاتی ہے۔ "عارف، یہ بہت خطرناک ہے۔ اگر چوہدری فیاض کو پتہ چل گیا تو…" اس کی آواز کانپنے لگتی ہے۔
عارف اس کا ہاتھ پکڑتا ہے۔ "مائرہ، زرتاشا ہمارے لیے ایک پیغام چھوڑ گئی ہے۔ اگر ہم اب چپ رہے، تو اس کا قاتل کبھی نہیں پکڑا جائے گا۔"
اسی شام، چوہدری فیاض اپنے کمرے میں بیٹھا ہے جب اسے ایک پرانا خط ملتا ہے، جو برسوں سے اس کے ڈیسک میں چھپا ہوا تھا۔ خط پر ایک عجیب سا نشان ہے، وہی نشان جو تہہ خانے کے دروازے اور بیگم ثریا کے لاکٹ پر ہے۔ خط میں لکھا ہے: "راز دفن نہیں رہتے۔ خون ہمیشہ اپنا بدلہ مانگتا ہے۔" چوہدری فیاض کا چہرہ زرد پڑ جاتا ہے۔ وہ خط کو موم بتی کی لو پر جلاتا ہے، مگر اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا خوف ہے۔ وہ حویلی کے صحن کی طرف دیکھتا ہے، جہاں سے ایک عجیب سی آواز آ رہی ہے، جیسے کوئی دیواروں کے پیچھے سے اسے پکار رہا ہو۔
رات کے گہرے اندھیرے میں، مائرہ اور عارف تہہ خانے کے دروازے کے قریب کھڑے ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں ٹارچ ہے، اور ان کے دل زور زور سے دھڑک رہے ہیں۔ وہ دروازے پر وہی عجیب سا نشان دیکھتے ہیں۔ عارف دروازے کو دھکا دیتا ہے، اور وہ ہلکا سا کھلتا ہے۔ اندر سے ایک سرد ہوا کا جھونکا آتا ہے، جو ان کے چہروں سے ٹکراتا ہے۔ مائرہ کے ہاتھ کانپ رہے ہیں، مگر وہ عارف کے پیچھے چل پڑتی ہے۔ تہہ خانے کے اندر ایک عجیب سی بدبو ہے، اور دیواروں پر خون کے دھبے اب زیادہ واضح دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ اسی چھپے ہوئے کمرے کی طرف بڑھتے ہیں جہاں عارف کو خط ملا تھا۔ مگر اس بار، کمرے کا دروازہ مکمل طور پر کھلا ہے۔ اندر ایک عجیب سی روشنی جھلملاتی ہے، جیسے کوئی موم بتی جل رہی ہو۔
مائرہ اور عارف ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں۔ ان کے دل زور زور سے دھڑک رہے ہیں۔ وہ کمرے میں داخل ہوتے ہیں، اور وہاں انہیں ایک پرانا آئینہ ملتا ہے، جس پر خون کے دھبے ہیں۔ آئینے کے سامنے ایک چھوٹا سا صندوق پڑا ہے، وہی صندوق جو مائرہ نے زرتاشا کی الماری میں دیکھا تھا۔ مگر اس بار، صندوق کا تالا کھلا ہوا ہے۔ عارف صندوق کھولتا ہے، اور اس کے اندر ایک پرانا کاغذ ملتا ہے، جس پر وہی نشان کندہ ہے۔ کاغذ پر لکھا ہے: "وہ کبھی نہیں مرتی۔ وہ ہمیشہ واپس آتی ہے۔"
اچانک، ایک عجیب سی آواز گونجتی ہے، جیسے کوئی دیواروں کے پیچھے سے ہنس رہا ہو۔ مائرہ اور عارف خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹتے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں کہ آئینے میں ان کی عکاسی نہیں، بلکہ ایک سفید دوپٹے میں لپٹی ایک عورت کی عکاسی دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی آنکھیں خالی ہیں، اور اس کا چہرہ زرتاشا سے ملتا جلتا ہے۔ مائرہ چیخ پڑتی ہے، اور عارف اس کا ہاتھ پکڑ کر کمرے سے باہر بھاگتا ہے۔ مگر جیسے ہی وہ تہہ خانے کے دروازے کی طرف بڑھتے ہیں، دروازہ زور سے بند ہو جاتا ہے۔
زرتاشا کا راز ابھی اور گہرا ہو گیا ہے۔ تہہ خانے میں چھپی وہ عورت کون ہے؟ چوہدری خاندان کا وہ خوفناک راز کیا ہے جو خون مانگتا ہے؟ بیگم ثریا کی شیشی اور لاکٹ کا زرتاشا کی موت سے کیا تعلق ہے؟ قمر کیوں اتنا خوفزدہ ہے؟ مائرہ اور عارف کیا تہہ خانے سے زندہ باہر نکل پائیں گے، یا وہ بھی اس راز کا حصہ بن جائیں گے؟
چوہدری ہاؤس کے تہہ خانے میں اندھیرا اتنا گہرا ہے کہ مائرہ اور عارف کو اپنی سانسوں کی آواز بھی خوفناک لگ رہی ہے۔ وہ اس چھپے ہوئے کمرے میں کھڑے ہیں، جہاں آئینے میں زرتاشا سے ملتی جلتی ایک عورت کی عکاسی نے ان کے خون کو منجمد کر دیا تھا۔ تہہ خانے کا دروازہ زور سے بند ہو چکا ہے، اور ہوا میں وہی عجیب سی بدبو پھیلی ہوئی ہے جو مائرہ نے بیگم ثریا کی شیشی سے آتی دیکھی تھی۔ ان کے ہاتھوں میں ٹارچ کی روشنی کمزور پڑ رہی ہے، اور دیواروں سے ایک عجیب سی سرسراہٹ گونج رہی ہے، جیسے کوئی ان کے گرد گھوم رہا ہو۔ مائرہ کا دل زور زور سے دھڑک رہا ہے، اور عارف کا چہرہ پسینے سے شرابور ہے۔
"عارف… ہمیں یہاں سے نکلنا ہوگا!" مائرہ کی آواز کانپتی ہے۔ وہ آئینے کی طرف دیکھتی ہے، جہاں اب کوئی عکاسی نہیں، صرف ایک سیاہ خلا ہے جو انہیں نگلنے کو تیار لگتا ہے۔
عارف اپنی جیب سے زرتاشا کا خط نکالتا ہے، جس پر لکھا ہے: "وہ کبھی نہیں مرتی۔ وہ ہمیشہ واپس آتی ہے۔" اس کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ایک عزم بھی ہے۔ "مائرہ، زرتاشا نے یہ خط ہمارے لیے چھوڑا ہے۔ ہمیں اس راز کا اختتام کرنا ہوگا۔" وہ صندوق کی طرف دیکھتا ہے، جو زرتاشا کی الماری سے یہاں منتقل ہوا تھا۔ اس کا تالا کھلا ہے، اور اندر ایک پیلا پڑا کاغذ پڑا ہے۔
مائرہ صندوق کے قریب جاتی ہے اور کاغذ اٹھاتی ہے۔ اس پر لکھا ہے:"چوہدری خاندان نے برسوں پہلے ایک گناہ کیا تھا۔ زہرہ، چوہدری فیاض کی بہن، اس خاندان کا سب سے بڑا راز جان گئی تھی۔ اسے تہہ خانے میں قتل کر دیا گیا، اور اس کا خون اس حویلی کی دیواروں میں سمایا۔ وہ سفید دوپٹے میں واپس آتی ہے، اور اس کی بھوک صرف خون سے بجھتی ہے۔ زرتاشا نے یہ راز جان لیا تھا، اور اسی لیے اسے خاموش کر دیا گیا۔ تہہ خانے کی سب سے نچلی سیڑھی کے نیچے ایک دروازہ ہے۔ اس کے پیچھے وہ سچ ہے جو اس خاندان کو تباہ کر دے گا۔ مگر خبردار، وہ دروازہ کھولنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔"
مائرہ کے ہاتھ کانپتے ہیں۔ "زہرہ… یہ وہی عورت ہے جو آئینے میں دکھائی دی؟" وہ عارف کی طرف دیکھتی ہے، جس کی نظریں سیڑھیوں کی طرف اٹھی ہیں۔
"ہمیں وہ دروازہ ڈھونڈنا ہوگا، مائرہ۔" عارف ٹارچ کی روشنی سیڑھیوں کی طرف موڑتا ہے۔ سیڑھیاں پرانی اور ٹوٹی ہوئی ہیں، اور ہر قدم پر ایک عجیب سی آواز گونجتی ہے۔ وہ دونوں آہستہ آہستہ نیچے اترتے ہیں، مگر انہیں لگتا ہے کہ کوئی ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ سیڑھیوں کے آخر میں ایک زنگ آلود دروازہ ہے، جس پر وہی نشان کندہ ہے جو بیگم ثریا کے لاکٹ، تہہ خانے کے دروازے، اور زرتاشا کے خط پر تھا۔ عارف دروازے کو چھوتا ہے، مگر وہ نہیں کھلتا۔
مائرہ اپنی جیب سے وہ شیشی نکالتی ہے جو اس نے بیگم ثریا سے چھپائی تھی۔ شیشی میں ابھی بھی کچھ سیاہ مائع باقی ہے۔ "شاید یہ کام آئے۔" وہ شیشی کا مائع تالے پر ڈالتی ہے، اور اچانک ایک عجیب سی کھٹکی سنائی دیتی ہے۔ تالا کھلتا ہے، اور دروازہ آہستہ آہستہ کھلتا ہے۔ اندر ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، جس کی دیواروں پر سفید دوپٹوں سے بنے عجیب سے نقوش ہیں۔ کمرے کے بیچ میں ایک پرانا آئینہ ہے، اور اس کے سامنے ایک چھوٹی سی محراب ہے، جس کے نیچے ایک پتھر کی تختی ہے۔ تختی پر لکھا ہے: "خون کا بدلہ خون۔"
عارف اور مائرہ محراب کے قریب جاتے ہیں۔ اچانک، آئینے میں ایک عکاسی نمودار ہوتی ہے۔ یہ زرتاشا نہیں، بلکہ ایک اور عورت ہے، جس کا چہرہ زرتاشا سے ملتا جلتا ہے۔ اس کی آنکھیں خالی ہیں، اور اس کے ہاتھوں میں ایک سفید دوپٹہ ہے، جو خون سے تر ہے۔ مائرہ چیخنے کو ہوتی ہے، مگر عارف اسے روکتا ہے۔ "مائرہ، ڈرو مت۔ یہ زہرہ ہے۔ وہ ہمیں کچھ بتانا چاہتی ہے۔"
آئینے میں عکاسی بدلتی ہے، اور اب اس میں بیگم ثریا دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایک چھری ہاتھ میں پکڑے ہوئے ہے، اور اس کے سامنے زرتاشا کھڑی ہے۔ مائرہ اور عارف سکتے میں آ جاتے ہیں۔ یہ زرتاشا کی موت کا منظر ہے۔ بیگم ثریا زرتاشا کے گلے پر سفید دوپٹہ لپیٹتی ہے، اور زرتاشا چیختے ہوئے زمین پر گر جاتی ہے۔ مگر اسی لمحے، ایک اور سایہ کمرے میں داخل ہوتا ہے۔ یہ چوہدری فیاض ہے۔ وہ بیگم ثریا کو روکتا ہے، مگر زرتاشا کی سانس پہلے ہی بند ہو چکی ہے۔ چوہدری فیاض چیختا ہے، "یہ کیا کر دیا تم نے، ثریا؟"
بیگم ثریا ہنستی ہے۔ "اس نے بہت کچھ جان لیا تھا، فیاض۔ وہ زہرہ کا راز جان گئی تھی۔ اگر وہ زندہ رہتی، تو ہمارا خاندان تباہ ہو جاتا۔" چوہدری فیاض سر جھکاتا ہے، جیسے وہ اس راز کا شریک ہو۔
آئینے کی عکاسی غائب ہو جاتی ہے، اور کمرے میں ایک سرد ہوا کا جھونکا آتا ہے۔ مائرہ اور عارف پیچھے ہٹتے ہیں، مگر اچانک انہیں ایک عجیب سی آواز سنائی دیتی ہے، جیسے کوئی دیواروں کے پیچھے سانس لے رہا ہو۔ وہ محراب کی طرف دیکھتے ہیں، جہاں سے ایک خفیہ در کھلتا ہے۔ اندر ایک چھوٹا سا کمرہ ہے، جس کی دیواروں پر خون کے دھبے ہیں۔ کمرے کے بیچ میں ایک پرانا صندوق ہے، اور اس کے اوپر ایک سفید دوپٹہ پڑا ہے۔
عارف صندوق کھولتا ہے۔ اندر ایک پرانا خط ہے، جس پر زہرہ کے دستخط ہیں۔ خط میں لکھا ہے:"میں زہرہ، چوہدری فیاض کی بہن، اس حویلی کا سب سے بڑا راز ہوں۔ برسوں پہلے، میں نے خاندان کی دولت اور زمینوں کے بارے میں ایک خوفناک سچ جان لیا تھا۔ یہ سب خون سے خریدا گیا تھا۔ ہمارے باپ نے گاؤں والوں کی زمینیں ہتھیائیں، اور جو مخالفت کرتا، اسے مار دیا جاتا۔ میں نے اس راز کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی، مگر فیاض اور اس کی بیوی ثریا نے مجھے تہہ خانے میں قتل کر دیا۔ میرا خون اس حویلی کی دیواروں میں سمایا، اور میری روح سفید دوپٹے میں بند ہو گئی۔ میں ہر نسل میں واپس آتی ہوں، اور اس خاندان سے بدلہ لیتی ہوں۔ زرتاشا نے میرا خط پایا، اور اسی لیے اسے مار دیا گیا۔ مگر راز اب ختم ہونا چاہیے۔ اس صندوق میں وہ دستاویزات ہیں جو چوہدری خاندان کے جرائم کو بے نقاب کریں گی۔ انہیں گاؤں والوں تک پہنچاؤ، اور میری روح کو آزاد کرو۔"
عارف اور مائرہ صندوق سے دستاویزات نکالتے ہیں۔ یہ پرانے کاغذات ہیں، جن پر چوہدری خاندان کے جرائم کی تفصیلات لکھی ہیں زمینوں کی ہتھیاوٹ، قتل، اور بدعنوانی کی داستانیں۔ مائرہ کی آنکھوں میں آنسو ہیں۔ "زہرہ… وہ ہم سے یہی چاہتی تھی۔"
اسی لمحے، حویلی کے اوپر والے حصے میں ایک زوردار چیخ گونجتی ہے۔ یہ قمر کی ہے۔ چوہدری فیاض اور بیگم ثریا قمر کے کمرے کی طرف دوڑتے ہیں۔ وہاں قمر زمین پر پڑا ہے، اس کے ہاتھ میں وہی چابی ہے جو اس نے الماری سے نکالی تھی۔ اس کے گلے پر نیلے نشانات ہیں، اور اس کے سامنے ایک سفید دوپٹہ ہوا میں لہرا رہا ہے۔ بیگم ثریا چیختی ہے، "نہیں! یہ نہیں ہو سکتا!" چوہدری فیاض سکتے میں آ جاتا ہے۔ اس کی نظریں کمرے کے ایک کونے میں جاتی ہیں، جہاں ایک سایہ کھڑا ہے۔ یہ زہرہ ہے، سفید دوپٹے میں لپٹی، اس کی آنکھیں خالی ہیں۔
بیگم ثریا اپنا لاکٹ نکالتی ہے، جس پر وہی نشان ہے۔ "تم مر چکی ہو، زہرہ! تم واپس نہیں آ سکتی!" وہ لاکٹ کو زہرہ کی طرف اٹھاتی ہے، مگر اچانک لاکٹ سے ایک عجیب سی روشنی نکلتی ہے، اور زہرہ غائب ہو جاتی ہے۔ بیگم ثریا ہنستی ہے، مگر اس کی ہنسی میں ایک عجیب سی اذیت ہے۔ "یہ لاکٹ اسے روکتا ہے، فیاض۔ وہ کبھی مکمل طور پر واپس نہیں آ سکتی۔"
چوہدری فیاض اسے گھورتا ہے۔ "ثریا، یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا۔ تم نے زہرہ کو مارا، اور اب اس کی روح ہم سب سے بدلہ لے رہی ہے۔" بیگم ثریا چیختی ہے، "تم بھی اس راز کے شریک ہو! تم نے اسے دفن کیا!"
اسی وقت، تہہ خانے میں مائرہ اور عارف دستاویزات کو اپنی جیبوں میں رکھتے ہیں۔ وہ دروازے کی طرف بھاگتے ہیں، مگر اچانک ایک عجیب سی آواز گونجتی ہے۔ سفید دوپٹے والی عورت، زہرہ، ان کے سامنے نمودار ہوتی ہے۔ مگر اس بار اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی سکون کی کیفیت ہے۔ وہ آہستہ سے کہتی ہے، "تم نے میرا راز جان لیا۔ اب اسے گاؤں والوں تک پہنچاؤ، اور مجھے آزاد کرو۔" اس کی آواز کمرے میں گونجتی ہے، اور وہ غائب ہو جاتی ہے۔
مائرہ اور عارف دروازے کی طرف بھاگتے ہیں، اور اس بار دروازہ کھل جاتا ہے۔ وہ تہہ خانے سے نکل کر حویلی کے صحن میں پہنچتے ہیں، جہاں چوہدری فیاض اور بیگم ثریا کھڑے ہیں۔ مائرہ چیختی ہے، "آپ لوگوں نے زہرہ کو مارا! آپ نے زرتاشا کو مارا! یہ دستاویزات آپ کے جرائم کو بے نقاب کریں گی!"
چوہدری فیاض ان کی طرف بڑھتا ہے، مگر اچانک حویلی کی روشنیاں مدھم ہوتی ہیں، اور ایک سفید دوپٹہ ہوا میں لہراتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ زہرہ دوبارہ نمودار ہوتی ہے، اس بار اس کی آنکھوں میں غصہ ہے۔ وہ بیگم ثریا کی طرف بڑھتی ہے، جو لاکٹ اٹھاتی ہے۔ مگر اس بار لاکٹ کام نہیں کرتا۔ زہرہ کا ہاتھ بیگم ثریا کے گلے تک پہنچتا ہے، اور ایک زوردار چیخ گونجتی ہے۔ بیگم ثریا زمین پر گر جاتی ہے، اس کے گلے پر نیلے نشانات ہیں، اور لاکٹ اس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ جاتا ہے۔
چوہدری فیاض چیختا ہے، "نہیں!" وہ زہرہ کی طرف بھاگتا ہے، مگر زہرہ اس کی طرف مڑتی ہے، اور اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی جھلکتی ہے۔ چوہدری فیاض سکتے میں آ جاتا ہے۔ "زہرہ… معاف کر دو…" مگر زہرہ کا ہاتھ اس کے گلے تک پہنچتا ہے، اور وہ بھی زمین پر گر جاتا ہے۔
مائرہ اور عارف خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹتے ہیں۔ زہرہ ان کی طرف مڑتی ہے، مگر اس بار اس کی آنکھوں میں سکون ہے۔ وہ آہستہ سے کہتی ہے، "میرا بدلہ پورا ہو گیا۔ اب یہ راز گاؤں والوں تک پہنچاؤ۔" وہ ایک سفید دوپٹے میں لپٹی ہوئی غائب ہو جاتی ہے، اور حویلی کی روشنیاں دوبارہ روشن ہوتی ہیں۔
مائرہ اور عارف دستاویزات لے کر گاؤں کی طرف بھاگتے ہیں۔ وہ انسپکٹر آفتاب کو سب کچھ بتاتے ہیں، اور وہ پولیس کی ایک ٹیم کے ساتھ حویلی کا معائنہ کرتا ہے۔ وہاں چوہدری فیاض، بیگم ثریا، اور قمر کی لاشیں ملتی ہیں، ہر ایک کے گلے پر نیلے نشانات اور ایک سفید دوپٹہ لپٹا ہوا ہے۔ دستاویزات سے چوہدری خاندان کے جرائم بے نقاب ہو جاتے ہیں، اور گاؤں والوں کو ان کی زمینیں واپس مل جاتی ہیں۔
مائرہ اور عارف گاؤں چھوڑ دیتے ہیں، مگر ان کے دل میں زہرہ کی کہانی ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ حویلی کو ہمیشہ کے لیے بند کر دیا جاتا ہے،
زہرہ کی روح کو آخر کار سکون مل گیا۔ چوہدری خاندان کے جرائم بے نقاب ہوئے، اور گاؤں والوں کو انصاف ملا۔ سفید دوپٹہ اب صرف ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک سبق ہے کہ راز کبھی دفن نہیں ہوتے، اور خون ہمیشہ اپنا بدلہ مانگتا ہے۔
(ختم شد)
