وہ حیرت سے اپنا بدن چھو کر دیکھ رہی تھی، گویا یقین دلا رہی تھی کہ اس کی روح اپنے جسم سے مل گئی ہے اور اب کبھی جدا نہ ہوگی۔ سرخوشی کے عالم میں وہ قد آدم آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ اس نے آس پاس کا ماحول بھلا دیا تھا۔ اس لمحے وہ بھول گئی تھی کہ دنیا میں اس کے خوبصورت جسم کے علاوہ کوئی اور بھی ہے۔ وہ اور اس کا جھلملاتا عکس تھا۔ جب عورت اپنے حسن و شباب پر فریفتہ ہوتی ہے تو اسے اپنے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ اس نے دونوں بانہیں اٹھائیں اور بھرپور انگڑائی لی۔
اسی وقت اس کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ وہ جھینپ کر بازو نیچے گرا بیٹھی۔ اس کی جان لیوا انگڑائی ٹوٹ گئی تھی۔ اسے یاد آ گیا کہ وہ کمرے میں تنہا نہیں ہے۔ پلٹ کر مسکراتے ہوئے بولی: "میرے دیوتا، میں خوشی سے پاگل ہو گئی تھی! بھول گئی کہ میرے دیوتا میرے پاس ہیں۔ مجھے سب سے پہلے اپنے دیوتا کے قدموں میں جھکنا چاہیے!"
وہ آگے بڑھی اور میرے قدموں میں جھک گئی۔ میں نے اسے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر کھڑا کیا اور کہا: "نیکی کرنے والا اور کسی کے کام آنے والا فرشتہ یا دیوتا ضرور ہوتا ہے، لیکن میرے مذہب میں کسی فرشتے یا دیوتا کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں۔ اگر میں دیوتا ہوں تو تم دیوی ہو۔ تم نے اپنے عزم اور ہمت سے چھمیا کے جادو کو شکست دی۔ اگر تم ہمت ہار جاتیں تو یہ ملاقات کبھی نہ ہوتی۔ یہ جسم تمہاری بے مثال جرات کا انعام ہے!"
"اور یہ انعام آپ نے مجھے دیا، میرے دیوتا!" اس نے کہا۔
"مجھے دیوتا نہ کہو، میرا نام فرہاد ہے۔"
"فرہاد!" اس نے محبت اور عقیدت سے میرا نام لیا، پھر میرا ہاتھ اپنے نازک ہاتھوں میں لے کر میری ہتھیلی کی پشت کو بوسہ دیا۔ وہ آتشیں ہونٹ، جو دور سے آگ لگاتے تھے، آج میری ہتھیلی پر آگ بھڑکا رہے تھے۔ یہ آگ میری رگوں میں سیال بن کر دوڑتی محسوس ہوئی۔ دل چاہا کہ اس بوسے کے جواب میں ایک بوسہ پیش کروں، لیکن سوچا کہ یہ بوسہ ایک دیوتا کے لیے ہے۔ آج وہ مجھے عقیدت سے چوم رہی ہے، کل شاید محبوب سمجھ کر گلے لگائے گی۔
میرے صبر نے اچھا صلہ دیا۔ میں نے اس کی سوچ پڑھی۔ وہ سوچ رہی تھی: "ہائے، یہ ہاتھ کتنے مضبوط ہیں! جو ان کے شکنجے میں آئے، وہ تڑپتا رہ جائے۔ اس میں ہر وہ خوبی ہے جو کسی عورت کا خواب ہو سکتی ہے۔ دراز قد، چٹانی سینہ، آہنی بازو۔ یہ دلیر اور ذہین بھی ہے۔ ایک مکمل مرد! میں تو ایسے ہی کسی خوبرو آئیڈیل کی تلاش میں تھی، لیکن اپنے منہ سے کیسے کہوں؟ یہ تو میری سوچ بھی پڑھ سکتے ہیں!" وہ گھبرا کر سر اٹھا بیٹھی۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر آہستہ سے کہا: "میں خوش نصیب ہوں کہ تمہارے خیالوں میں بس رہا ہوں۔ اگر ہماری دوستی میں محبت کی مٹھاس یوں ہی گھلتی رہی تو یہ دوستی پائیدار ہو جائے گی۔"
اس نے فوراً موضوع بدل دیا۔ "دیکھیں، میں کتنی نادان ہوں! اپنا جسم حاصل کرتے ہی چھمیا کو بھول گئی۔ آپ ٹیلی پیتھی سے چھمیا کی خبر لیں۔"
مجھے بھی چھمیا کا خیال آیا۔ میں نے کہا: "اچھا، تم زرینہ کے کمرے میں جاؤ، اپنی پسند کا لباس بدلو، اور فریش ہو جاؤ۔ میں چھمیا کی خبر لیتا ہوں۔"
اگرچہ میرا دل ایک پل کے لیے بھی سامی کو تنہا چھوڑنے کو تیار نہ تھا، لیکن چھمیا کیا کر رہی ہے، کہاں ہے، یہ جاننا ضروری تھا۔ سامی کمرے سے چلی گئی تو میں نے آنکھیں بند کر کے چھمیا کی سوچ پر دستک دی۔ وہ چچا جان کے سامنے کھڑی تھی۔ چچا جان پوچھ رہے تھے: "غزالہ، تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟"
مجھے جھٹکا لگا۔ تو چھمیا نے غزالہ کا جسم حاصل کر لیا تھا! اوہ، غزالہ کو کہیں دیکھ کر اسے یہی سوجھا کہ سامی نہ سہی، غزالہ بھی کم خوبصورت نہیں۔ مجھے غزالہ کی موت کا دکھ ہوا۔ کل تک وہ مجھے مارنا چاہتی تھی، اور آج وہ خود نہیں رہی۔ میں نے ٹھنڈی سانس بھر کر چچا جان اور چھمیا کی باتیں سننا شروع کیں۔
وہ کہہ رہی تھی: "میں نے فرہاد کو نہیں دیکھا، اور اس کی پھوپھی بھی گھر پر نہ تھیں۔"
چچا جان نے حیرت سے کہا: "غزالہ بیٹا، تمہیں کیا ہو گیا؟ وہ تمہاری بھی تو پھوپھی ہیں!"
وہ گھبرا کر بولی: "ابا جان، میرے ذہن کو پتا نہیں کیا ہو گیا۔ شاید صبح سے کچھ کھایا نہیں۔ میں جلدی سے ناشتہ کر لوں۔"
"ابا جان؟ لیکن تم نے مجھے کبھی ابا جان نہیں کہا!" چچا جان نے حیرانی سے کہا۔
اب وہ پوری طرح بوکھلا چکی تھی۔ میں اسے اس کے حال پر چھوڑ کر اس کے دماغ سے نکل آیا۔
میں سامی کو دیکھنا چاہتا تھا، اسے سوچنا چاہتا تھا۔ میں نے اس کے دماغ میں جھانکا۔ وہ میری کشش سے گھبرا رہی تھی، میری سوچ سے کترا رہی تھی، لیکن پھر بھی مجھے سوچ رہی تھی۔ میں نے اس کی سوچ میں کہا: "محبت سے کترانا کیسا؟ تم سے محبت میری زندگی بن گئی ہے۔ میرا خوابوں کا شہزادہ مجھے انعام میں مل رہا ہے۔ اس سے نظر چرانا کفرانِ نعمت ہے۔"
وہ سوچنے لگی: "میں بھی کیا ہوں! میری ماں ایک ہندو ناری تھی، میرا باپ انگریز تھا، اور جسے میں دل و جان سے چاہنے لگی ہوں، وہ مسلمان ہے۔ میری روح میں سارے دھرم جمع ہو گئے ہیں۔ مجھے ہندو دھرم سے محبت ہے کیونکہ میں نے ایک ہندو عورت کا دودھ پیا۔ میری رگوں میں عیسائی کا خون ہے، اور مجھے اسلام سے عقیدت ہے کیونکہ یہ میرے دیوتا کا مذہب ہے۔ میں آخری سانس تک اس کی رہوں گی۔" یہ سوچتے ہوئے وہ غسل خانے کی طرف چلی گئی۔ میں اس کے دماغ سے نکل آیا۔
میں نے دوبارہ چھمیا کے دماغ میں جھانکا۔ وہ بستر پر پڑی تھی۔ اس کے ارد گرد گھر کے ملازم، ایک ڈاکٹر، اور قاسم کھڑے تھے۔ چچا جان سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھے تھے۔ میں نے حیرت سے اس کی سوچ ٹٹولی تو پتا چلا کہ اس نے یادداشت کھونے کا ناٹک رچایا تھا۔ وہ کسی حد تک کامیاب تھی کیونکہ وہ غزالہ کی زندگی کے بارے میں کچھ نہ جانتی تھی۔ اس کی نظریں قاسم پر تھیں۔ وہ سوچ رہی تھی: "یہ غزالہ کا دوست ہے، ضرور میرے کام آئے گا۔ میں اس کے ذریعے یہاں سے نکل جاؤں گی۔"
میں اس کی شاطرانہ سوچ سے نکل آیا۔ اسی وقت سامی دروازہ کھول کر اندر آئی۔ میں چند لمحوں تک اسے دیکھتا رہ گیا۔ غسل کے بعد اس کا حسنِ جہاں سوز گلاب کی ادھ کھلی کلی کی طرح نکھر گیا تھا۔ گھنے سیاہ بال کھلے ہوئے تھے۔ وہ پلکیں اٹھاتی گراتی کمرے کے ہلکے اندھیرے میں روشنی بکھیر رہی تھی۔ گو کہ وہ میرے خیالات نہ پڑھ سکتی تھی، لیکن اچھی طرح جانتی تھی کہ میری نگاہیں اس کے وجود پر بہک رہی ہیں، کہیں ٹھہر رہی ہیں، کہیں پھسل رہی ہیں۔ ریشم کے بدن پر ململ کی ساڑھی یوں لپٹی تھی جیسے جذبے جذبوں سے لپٹ جاتے ہیں۔
میں ٹھہر ٹھہر کر اس کی طرف بڑھنے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ وہ میرے بازوؤں میں پگھل جائے گی۔ میں اس کی سوچ پڑھ چکا تھا۔ وہ دل ہی دل میں مجھے اپنے جسم و جان کا مالک مان چکی تھی۔ پھر بھی، میں نے اس کے جذبات کو سمجھنا ضروری سمجھا۔ وہ سوچ رہی تھی: "میں کیا کروں؟ یہ مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہے ہیں جیسے بھوکا درندہ اپنے شکار کو دیکھتا ہے۔ میں کوئی شکار کی ہوئی چیز نہیں! میں تو سوچ رہی تھی کہ ہم دھیرے دھیرے ایک دوسرے کو سمجھیں گے۔ آہستہ آہستہ پیار بڑھے گا۔ درست ہے کہ مرد اور عورت کی دوستی کا اختتام اسی چیز پر ہوتا ہے کہ ایک دوسرے کی بھوک مٹائی جائے، لیکن اس تعلق کے کچھ اصول ہوتے ہیں، جن پر عمل کرنے سے کبھی پچھتاوا نہیں ہوتا۔ میں فرہاد کو کیسے سمجھاؤں؟ یہ تو مجھ سے زیادہ ذہین ہیں۔ پھر یہ کیوں نہیں سمجھتے کہ جلد بازی اچھی چیز نہیں؟ ابھی ہماری ملاقات کو چند گھنٹے گزرے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا ہے، وقت دینا ہے۔"
سامی کے خیالات پڑھ کر میرے قدم رک گئے۔ وہ جانتی تھی کہ میں اس کی سوچ پڑھ رہا ہوں۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر کہا: "سامی، ہم اچھے دوست ہیں۔ اچھے دوست کبھی ایک دوسرے کو شکایت کا موقع نہیں دیتے۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ شرافت کے دائرے میں رہ کر دوستی نبھاؤں گا۔"
میں اس کا ہاتھ تھام کر صوفے پر لے آیا۔ "آؤ، میں تمہیں چھمیا کے بارے میں بتاتا ہوں۔" وہ میرے ساتھ بیٹھ گئی، اس نے ہاتھ نہ چھڑایا، گویا وہ ملائم ہاتھ محبت کی کتاب کا پیش لفظ ہو۔
میں نے اسے چھمیا کی داستان سنائی کہ وہ کس طرح یادداشت کھونے کا ناٹک کر رہی ہے۔ سامی نے کہا: "جتنی جلدی ہو سکے، وہ چڑیل یہاں سے دور چلی جائے، ورنہ وہ ہم سے انتقام لینے کے بہانے ڈھونڈتی رہے گی۔"
میں نے کہا: "وہ ایسا نہیں کرے گی۔ تم فکر نہ کرو، وہ مجھ سے ڈرتی ہے۔ وہ یہاں سے بھاگ جائے گی۔"
میں نے سامی کی طرف دیکھا۔ "کیا خیال ہے، تھوڑی سی نیند لے لیں؟ ہم کب سے سوئے نہیں ہیں۔"
اس نے تائید میں سر ہلایا۔ میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے آہستہ سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ میں نے کہا: "تم نے آئینے میں اپنا جسم دیکھ کر میرا ہاتھ چوما تھا۔ کیا میں محبت سے تمہارا ہاتھ نہیں چوم سکتا؟"
اس نے شرما کر گردن جھکا لی۔ میں نے جھک کر اس کی گلابی ہتھیلی کو چوم لیا۔ اس نے فوراً ہاتھ کھینچ لیا، پھر ہنستے ہوئے بولی: "میں سب سمجھتی ہوں! تم شرارت سے باز نہیں آؤ گے، لیکن اس وقت میں تمہیں اپنے خیالات نہیں پڑھنے دوں گی!" یہ کہہ کر وہ تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔
میں بیڈ پر لیٹ گیا۔ نرم ملائم بیڈ پر لیٹ کر لگا جیسے میں دنیا کا چکر لگا کر تھک کر گرا ہوں۔ لیٹتے ہی آنکھیں بند ہو گئیں۔ نہ کوئی غم، نہ سکھ، نہ پریشانی، نہ فکر، بس نیند کا سمندر تھا اور میں تھا۔
کسی کی نازک انگلیوں کے لمس سے میری آنکھ کھل گئی۔ وہ مجھ پر جھکی ہوئی مجھے جگا رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اتنی محبت اور خود سپردگی تھی کہ میں بے اختیار ہو گیا۔ میری آنکھیں کھلتی دیکھ کر وہ ہنستے ہوئے پیچھے ہٹ گئی۔ میرے کانوں میں مندروں کی گھنٹیاں بجنے لگیں۔
"اب اٹھ جاؤ، فرہاد! میں چائے لا رہی ہوں۔ جاؤ، فریش ہو کر آ جاؤ!" اس کی خوشبو کو دل میں اتارتے ہوئے، میں گنگناتا ہوا باتھ روم چلا گیا۔
باہر نکلا تو وہ چائے کپوں میں ڈال رہی تھی۔ اس نے ایک پیالی میری طرف بڑھائی۔ "یہ لو، بیڈ ٹی اور ایوننگ ٹی! چائے پیو، پھر میں کھانا بناتی ہوں۔"
"نہیں، ہم کھانا باہر کھائیں گے۔ پھر تم شاپنگ کرنا، اپنی ضرورت کی چیزیں اور کپڑے خریدنا۔ اس کے بعد ہم بھوانی شنکر اور احمد شیخ کے بندوبست کا منصوبہ بنائیں گے۔"
"اوکے، ڈن!" وہ چائے پیتے ہوئے میرے خیالات سے بچنے کی کوشش کر رہی تھی، جو ناممکن تھا۔
ایک گھنٹے بعد ہم کوٹھی سے نکلے۔ میں نے بلیک ڈنر سوٹ پہنا تھا۔ سامی نے مہندی کلر کی ساڑھی پہنی تھی، جس میں سفید گلاب کا پھول اس کی سیاہ زلفوں میں مسکرا رہا تھا۔ وہ اس وقت دنیا کی حسین ترین لڑکی تھی، اور میرے پہلو میں بیٹھی تھی۔ میں گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے اس کے حسن میں کھویا ہوا تھا۔
میں نے کھانے کے لیے شبانہ کلب کا انتخاب کیا۔ دل میں تھا کہ شاید قاسم فلیش کھیلنے وہاں آئے، اور ساتھ چھمیا بھی ہو۔ وہ ہم دونوں سے ڈر کر ہمیشہ کے لیے بھاگ جائے۔
ہم کلب میں داخل ہوئے تو ہر خاص و عام کی نگاہیں سامی کے حسین سراپے پر جم گئیں۔ میں نے بے اختیار اس کا ہاتھ تھام لیا۔ ہم نے ایک کارنر والی میز پر آمنے سامنے بیٹھ کر کھانے کا آرڈر دیا۔ خوبصورت عورت کا ساتھ مرد کے حواس پر اس قدر چھایا ہوتا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد سے بے گانہ ہو جاتا ہے۔ میں اپنی ہونے والی جیون ساتھی کے سحر میں ڈوبا تھا۔ میں نے کاؤنٹر پر کھڑے سادہ کپڑوں میں سپیشل فورسز کے آدمیوں کا بالکل اندازہ نہ کیا۔
میں نے ایک پل کے لیے چھمیا کے دماغ میں جھانکا۔ وہ قاسم کے ساتھ ریل گاڑی میں سفر کر رہی تھی۔ یعنی وہ شہر سے جا چکی تھی۔ میں نے سامی کو بتایا۔ اس نے برا سا منہ بنا کر کہا: "چھوڑو اس چھمیا چڑیل کو! مجھے اپنے بارے میں کچھ بتاؤ۔ کیا مجھ سے پہلے کوئی لڑکی تمہاری زندگی میں آئی؟"
میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا۔ "اگر میں کہوں ہاں، تو کیا تم انہیں مار ڈالو گی؟"
"نہیں، انہیں تو نہیں، کیونکہ وہ ماضی میں تھیں۔ لیکن اب اگر کوئی تمہارے قریب آئی تو اس کی روح کھینچ لوں گی!" اس نے پوری آنکھیں کھول کر مجھے ڈرایا۔ میں ڈرنے کی ایکٹنگ کرنے لگا تو وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ اس کی نقرئی ہنسی سن کر کئی لوگ رشک و حسد سے مجھے دیکھنے لگے۔
اسی دوران کھانا آ گیا۔ ہم باتوں کے دوران کھانا کھانے لگے۔ میں سامی کو ٹیلی پیتھی کے علم کے بارے میں بتانے لگا۔ وہ حیرانی سے سن رہی تھی۔ کہنے لگی: "تم بھوانی شنکر اور احمد شیخ کے دماغ میں کیوں نہیں جاتے تاکہ ان کا پتا معلوم ہو؟"
میں نے بتایا: "میرا علم ابھی محدود ہے۔ جب تک میں کسی کی آواز نہ سن لوں، اس کے دماغ میں نہیں جا سکتا۔ شاید مجھ سے بڑے عالم ہوں جو اس کے بغیر سوچ پڑھ سکتے ہوں۔"
باتیں کرتے ہوئے میں ہاتھ دھونے واش روم جانے لگا کہ کاؤنٹر پر کھڑے ایک شخص نے میرا راستہ روک کر کہا: "ایکسکیوز می، مسٹر! ہم آپ سے اس لڑکی کے بارے میں کچھ سوالات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ سمجھ تو گئے ہوں گے۔"
میں نے خطرہ بھانپ لیا، مگر لہجہ نارمل رکھا۔ "جی، ضرور، لیکن پہلے اپنا تعارف کروائیں۔"
"میں انٹیلیجنس انسپکٹر ہوں۔ آپ کو میرے ساتھ اس کمرے میں چلنا ہوگا۔" اس نے مینیجر کے کمرے کی طرف اشارہ کیا۔
اب اس کے ساتھ جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا۔ میں نے سامی کی سوچ سے رابطہ کیا۔ وہ حیرت سے کاؤنٹر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ میں نے اسے انسپکٹر کے بارے میں بتایا اور محتاط رہنے کو کہہ کر مینیجر کے کمرے میں چلا گیا۔
وہاں ایک اور شخص بیٹھا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر مصافحہ کیا۔ "میں انٹیلیجنس آفیسر رجب علی۔ آپ؟"
"میں فرہاد علی تیمور، اپنی منگیتر سمیہ ناز کے ساتھ کھانا کھانے آیا ہوں۔"
"آپ کی رہائش؟"
میں نے کوٹھی کا پتا بتایا۔
"اس لڑکی کے بارے میں؟"
"سمیہ ناز ڈھاکہ میں اپنے والد کے ساتھ رہتی تھیں۔ والد کی اچانک وفات کے بعد وہ میرے پاس آئیں۔ ہمارا محبت کا رشتہ ہے۔ ہماری منگنی ہو چکی ہے، اور جلد شادی ہونے والی ہے۔ میں اپنی پھوپھی اور ان کی بیٹی کے ساتھ رہتا ہوں۔" میں نے اپنے بارے میں سب بتا دیا، سوائے ٹیلی پیتھی کے۔
انسپکٹر نے طنزیہ نظروں سے دیکھا۔ "یہ لڑکی سلمیٰ قادر ہے۔ اس نے ہمارے اہم راز چرا کر دشمن کے حوالے کیے ہیں۔ مسٹر فرہاد، آپ اپنے آپ کو زیر حراست سمجھیں!"
اتنے میں باہر سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ میں نے سامی کے دماغ سے رابطہ کیا۔ وہ بولی: "فرہاد، تم کہاں ہو؟ یہاں میرے چاروں طرف آدمی کھڑے ہو گئے ہیں۔ ان میں سے ایک کو میں نے پہچان لیا۔ وہ بھوانی شنکر کا آدمی ہے!"
میں نے سامی کو تسلی دیتے ہوئے کہا: "میں تمہارے ساتھ ہوں، تم ایک بہادر لڑکی ہو۔ میں انسپیکٹر کے سوالات کا جواب دے کر دو منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔"
میں نے سامی سے رابطہ منقطع کر کے انسپیکٹر سے کہا: "آپ لوگ میرے لیے مصیبت کھڑی کر رہے ہیں۔ باہر میری سامی اکیلی ہے۔ اگر اسے کچھ ہو گیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ براہِ مہربانی مجھے اس کے پاس جانے دیجیے!"
انٹیلیجنس آفیسر نے جواب دینے کی بجائے وائرلیس کھول کر اپنے ماتحتوں سے بات شروع کی: "دیکھو، کلب کو چاروں طرف سے گھیر لو۔ لڑکی کلب سے باہر نہیں جانی چاہیے۔ اوہ…" وہ میری طرف پلٹا۔ "تو تم نے اپنے ساتھیوں کو بلا لیا؟ مجھے پہلے ہی تم پر شک تھا!"
میں نے جذبات پر قابو رکھتے ہوئے کہا: "میں اپنے ملک کا وفادار ہوں۔ مر کر بھی ملک دشمنوں کے ساتھ نہیں مل سکتا۔ اگر آپ کو یقین نہیں تو مجھے آزما لیجیے!"
میں نے سامی کے دماغ سے رابطہ کیا۔ وہ پریشان تھی۔ "فرہاد، یہ لوگ مجھے اغوا کر کے لے جا رہے ہیں! ادھر شدید فائرنگ ہو رہی ہے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ یہ بھوانی شنکر کے آدمی ہیں، مجھے پورا یقین ہے کہ یہ انڈین ایجنٹس ہیں۔ فرہاد، کچھ کرو!"
میں نے پیار سے سمجھایا: "پرسکون رہو، سامی۔ میں ان تک پہنچ جاؤں گا۔ بس تم راستہ یاد رکھو جہاں یہ تمہیں لے جا رہے ہیں۔"
میں نے انسپیکٹر سے کہا: "آپ کی فورسز کچھ نہیں کر سکیں۔ دشمن ملک کے ایجنٹس میری منگیتر کو لے جا رہے ہیں، اور آپ نے مجھے یہاں قید کر رکھا ہے۔ مجھے جانے دیجیے، میں اپنی سامی، اپنی زندگی کو بچانا چاہتا ہوں!"
انسپیکٹر وائرلیس پر چیخ رہا تھا۔ دوسرے آفیسر نے ریوالور نکال کر مجھ پر تان لیا۔ "تمہیں کیسے پتا کہ تمہاری منگیتر کو وہ لوگ اغوا کر کے لے جا رہے ہیں؟"
میں نے دانستہ ٹیلی پیتھی چھپاتے ہوئے کہا: "مجھے ایک خاص حس ہے۔ میں اپنی منگیتر کی خوشبو سے بتا سکتا ہوں کہ وہ کہاں ہے۔"
وہ دونوں طنزیہ مسکرائے۔ میں نے چیلنج کیا: "اگر آپ کو یقین نہیں تو آزما لیجیے۔ انسپیکٹر کو باہر بھیجیں۔ وہ جہاں جائیں گے، میں آپ کو تفصیل بتا سکتا ہوں۔"
دونوں کچھ دیر سوچتے رہے۔ پھر انسپیکٹر نے کہا: "آزما لینے میں کوئی حرج نہیں۔" وہ کمرے سے نکل کر بائیں طرف مڑا، ایک چھوٹے کمرے سے ہوتا ہوا لان میں پہنچا، پھر لان کے پچھلے حصے کی طرف گیا۔ میں یہ سب آفیسر کو بتاتا رہا۔ انسپیکٹر واپس آیا تو اس نے میری معلومات کی تصدیق کی۔
اب دونوں دلچسپی سے مجھے دیکھ رہے تھے۔ آفیسر نے فیصلہ کن انداز میں کہا: "چلو، اسے گاڑی میں بٹھاؤ۔" اس نے مجھ پر پستول تانے رکھا۔
میں نے سامی کی خبر لینے کے لیے اس کے دماغ میں جھانکا۔ وہ میرا انتظار کر رہی تھی۔ میں نے پوچھا: "تم کہاں ہو؟"
وہ پریشان بولی: "میں ایک جیپ کی پچھلی سیٹ پر دو آدمیوں کے بیچ بیٹھی ہوں۔ میری آنکھوں پر پٹی بندھی ہے۔ فرہاد، مجھے راستے کا کچھ پتا نہیں!"
میں نے کہا: "ڈرائیور سے ادھر اُدھر کی باتیں کرو تاکہ میں اس کے دماغ میں پہنچ جاؤں۔"
سامی نے میری ہدایت پر عمل کیا۔ ڈرائیور کی آواز اور لہجے سے میں اگلے ہی پل اس کے دماغ میں پہنچ گیا۔ وہ قصور روڈ کے ساتھ ایک ویران سڑک پر تھا۔ میں نے انٹیلیجنس آفیسر کو بتایا۔ اس نے وائرلیس پر ایک مسلح ٹیم کو پیچھے آنے کی ہدایت دی۔ رات کے دس بج رہے تھے۔ سڑک پر چاروں طرف اندھیرا تھا۔
میں مسلسل سامی کے دماغ میں موجود تھا، ساتھ ہی ڈرائیور کی سوچ پڑھتا رہا۔ تقریباً ایک گھنٹے بعد وہ ایک پرانے مکان کے سامنے رکے۔ سامی کو کھینچ کر اندر لے گئے۔ وہ مکان درختوں میں گھرا تھا، باہر سے کوئی اندازہ نہ لگا سکتا کہ وہاں رہائش ہو سکتی ہے۔
میں نے انسپیکٹر کو مطلوبہ مقام سمجھایا۔ منصوبہ تھا کہ پچھلی گاڑی سے مسلح افراد مکان کو گھیر لیں گے، انسپیکٹر اور آفیسر اندر جائیں گے، جبکہ میں ایک سپاہی کی نگرانی میں گاڑی میں بیٹھوں گا۔ لیکن معاملہ گڑبڑ ہو گیا۔ جیسے ہی مسلح افراد مکان کی طرف بھاگے، دشمن کے آدمیوں نے درختوں سے فائرنگ شروع کر دی۔ وہ ہمیں آتا دیکھ رہے تھے۔ ہمارے آدمی درختوں کی اوٹ لے کر جوابی فائرنگ کرنے لگے۔ انسپیکٹر اور آفیسر کار سے اتر کر زمین پر لیٹ گئے۔ میں بھی رینگتے ہوئے مکان کی طرف بڑھنے لگا۔ اتنے میں انسپیکٹر کے ہاتھ پر گولی لگی۔ اس کا ریوالور دور جا گرا۔
میں نے موقع سے فائدہ اٹھا کر ریوالور اٹھایا اور آہستہ سے مکان کی طرف بڑھا۔ میں نے سامی کی سوچ میں کہا: "میں آ گیا ہوں، میری جان! تیار رہو، میں تین چار منٹ میں تمہارے پاس ہوں گا۔"
وہ زور زور سے سانس لے رہی تھی، گویا مزاحمت کر رہی ہو۔ "فرہاد، یہاں کوئی نہیں! سب جا چکے ہیں۔ ایک گونگا شخص مجھے کمر پر لاد کر پچھلے دروازے سے بھاگ رہا ہے!"
میں نے تیزی سے چکر کاٹ کر مکان کے پچھلے حصے میں پہنچا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ سامی کی سوچ سے رابطہ کیا۔ وہ دور ایک کچے راستے پر تھے۔ میں نے اندھا دھند اس طرف بھاگنا شروع کیا۔ جلد ہی وہ گونگا شخص نظر آ گیا۔ وہ بول نہیں رہا تھا، اس لیے میں اسے ٹیلی پیتھی سے کنٹرول نہ کر سکتا۔ وہ تیزی سے بھاگ رہا تھا۔ اتنے میں دور سے ہیلی کاپٹر کی آواز آئی۔
میں نے بے بسی سے سامی کی سوچ میں کہا: "سامی، اپنا جسم چھوڑ دو! انہیں موقع نہ دو کہ وہ تمہیں مجھ سے جدا کر دیں۔"
وہ سوچنے لگی: "جس جسم کو میں نے جان جوکھوں میں ڈال کر حاصل کیا، اسے کیسے چھوڑ دوں، فرہاد؟ تم میری جگہ سوچو!"
میں دنیا و مافیہا سے بے خبر اس گونگے کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔ میں کسی بھی صورت سامی کو بچانا چاہتا تھا۔ میرے ہاتھ میں انسپیکٹر کا ریوالور تھا۔ میں نے نشانہ لے کر فائر کرنا چاہا۔ اسی وقت ایک ہیلی کاپٹر نمودار ہوا۔ گونگا اس کی طرف بھاگنے لگا۔ میں نے فائرنگ شروع کی، لیکن کوئی اثر نہ ہوا۔ اس نے سامی کو ہیلی کاپٹر میں دھکیل دیا، اور وہ اوپر اٹھنے لگا۔ میری فائرنگ رُک گئی۔
"سامی… سامی!" میں دوڑتے ہوئے چیخنے لگا، لیکن جتنی تیزی سے میں دوڑ رہا تھا، وہ اتنی تیزی سے فضا میں بلند ہو رہا تھا۔ میں لڑکھڑا کر گر پڑا۔ گھاس پر چت لیٹ کر حسرت سے سامی کو دور جاتے دیکھ رہا تھا۔ میری زندگی مجھ سے دور جا رہی تھی۔ لگتا تھا میری روح جسم سے الگ ہو رہی ہے۔ ہیلی کاپٹر میری فائرنگ رینج میں تھا۔ میں نے سامی کی سوچ میں کہا: "میں ہیلی کاپٹر پر فائر کرنے لگا ہوں۔ میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکتا!"
میں نے ریوالور اٹھایا۔
"نہیں، فرہاد!" اس نے سہمی ہوئی سوچ میں کہا۔ "تم ہیلی کاپٹر گراؤ گے تو میرا جسم بھی تباہ ہو جائے گا!"
"تم اپنا جسم چھوڑ دو! تم کسی اور جسم میں آ جاؤ۔ مجھے تمہارے جسم سے نہیں، تمہاری روح سے محبت ہے۔ تم سے جدا ہو کر میں کبھی سکون سے نہیں رہ سکوں گا!"
"نہیں، فرہاد، نہیں! تمہیں میری قسم، گولی نہ چلاؤ۔ تم جانتے ہو کہ اس جسم کے لیے میں نے کتنی مصیبتیں سہی ہیں۔ میں تمہاری جدائی برداشت کر سکتی ہوں، لیکن اس جسم سے علیحدگی نہیں!"
اس کی باتوں سے میرے دل پر گھونسا لگا۔ میں اسے اتنی شدت سے چاہتا تھا کہ جدائی برداشت نہ کر سکتا، اور وہ اسے یوں برداشت کر رہی تھی جیسے میری کوئی اہمیت نہ ہو۔ وہ میری خاطر اپنے جسم کی قربانی نہ دے سکی۔
میں نے ریوالور والا ہاتھ نیچے گرا دیا۔ وہ مجھے سبق دے کر جا رہی تھی کہ انسان سب سے زیادہ اپنی ذات سے محبت کرتا ہے، پھر کسی اور کی چاہت دل میں رکھتا ہے۔ میں خواہ مخواہ سامی کو اپنی ذات سے زیادہ اہمیت دے رہا تھا۔
میں نے فیصلہ کیا کہ جس طرح سامی کو اس کا جسم عزیز ہے، اسی طرح مجھے اپنے مقاصد عزیز ہوں گے۔ میں نے دور جاتے ہیلی کاپٹر کو دیکھا اور سامی کی سوچ پڑھنے لگا۔ وہ سوچ رہی تھی: "میں اتنی دیر سے فرہاد کو پکار رہی ہوں، لیکن وہ جواب نہیں دے رہے۔ لگتا ہے وہ مجھ سے ناراض ہیں۔ میں انہیں کیسے مناؤں؟ میں سمجھاؤں گی کہ میں کتنی مجبور ہوں!"
میں نے اسے مخاطب کیا: "سامی، تم مجھے اپنی مجبوریاں کیا سمجھاؤ گی؟ میں سمجھ گیا کہ تم اپنے خوبصورت جسم کی کس طرح پوجا کرتی ہو۔ اس جسم کی خاطر تم اپنے ڈیڈی کے ساتھ نہیں گئیں۔ اس جسم کی خاطر تم نے اپنی محبت چھوڑ دی!"
"نہیں، فرہاد!" اس نے کہا۔ "تم کیوں نہیں سمجھتے کہ اس جسم کی حفاظت میں تمہاری خاطر کر رہی ہوں؟ یہ جسم تمہاری امانت ہے۔ میں آخری سانس تک اسے تمہارے لیے سنبھال کر رکھوں گی!"
اس کے اعتراف سے میں کچھ پگھل گیا، لیکن اگلے لمحے سوچا: کیا میں صرف سامی کے جسم سے محبت کرتا ہوں؟ اگر یہ جسم نہ رہا تو میری محبت ختم ہو جائے گی؟
میں نے اس سے پوچھا: "سامی، اگر میں اس جسم میں نہ رہوں، کسی اور جسم میں تمہارے پاس آؤں تو کیا تمہاری محبت ختم ہو جائے گی؟"
"نہیں، بالکل نہیں!" اس نے کہا۔ "میرے دیوتا، تم کسی بھی جسم میں آؤ، میں تم سے اسی طرح محبت کروں گی!"
"یہی تو میں کہہ رہا ہوں! مجھے تمہارے جسم کا لالچ نہیں۔ تم کسی بھی روپ میں آؤ گی، میں تمہیں دل و جان سے قبول کروں گا!"
"تم کیسی باتیں کر رہے ہو، فرہاد؟ میں بچپن سے اسی جسم میں پروان چڑھی ہوں۔ اس جسم کی پرورش کے لیے میں نے ہر طرح کی محنت کی۔ میری روح اور جسم کی رفاقت بیس برس کی ہے!"
میں نے جواب دیا: "جوان لڑکیاں اپنے مرد کی خاطر گھر بار، ماں باپ، بہن بھائی سب چھوڑ کر اس کے پاس چلی آتی ہیں۔ تم اپنا جسم چھوڑ کر نہیں آ رہی ہو۔ سنو، سامی، جس طرح تمہیں اپنے جسم سے محبت ہے، اسی طرح مجھے اپنے وطن سے محبت ہے۔ جس طرح تمہاری اپنے جسم کے ساتھ پرانی رفاقت ہے، اسی طرح میری اپنے وطن کے ساتھ جنم جنم کی رفاقت ہے۔ اگر مجھے اپنے وطن کی خاطر تمہارے دیش میں جانا پڑا تو تم سے ملاقات ہوگی، ورنہ میں اپنی پاک زمین چھوڑ کر ایسی محبت کے لیے نہیں بھٹکوں گا جو صرف جسم کے لیے ہو اور روح سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو!"
میں ٹوٹے دل کو سہلاتے ہوئے شبنم آلود گھاس پر چاروں شانے چت لیٹا تھا۔ میرے ارد گرد بھاگتے قدموں کی آوازیں قریب آ رہی تھیں۔ میں جانتا تھا کہ یہ انٹیلیجنس کے لوگ ہیں۔ چند لمحوں میں انہوں نے مجھے گھیر لیا، رائفلیں تانے کھڑے تھے۔
"اپنا ریوالور پھینک دو!" ایک نے چیخ کر کہا۔ اس کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا۔
میں نے ریوالور اس کے سامنے پھینک دیا اور ہاتھ اٹھا لیے۔ "میں فرہاد ہوں۔ میں ہی آپ سب کو یہاں تک لایا تھا۔"
اسسٹنٹ انسپیکٹر نے ریوالور اٹھایا اور طنزیہ لہجے میں بولا: "تمہاری سامی کہاں ہے؟"
"مجھے افسوس ہے کہ وہ لوگ اسے لے گئے۔ اگر انسپیکٹر صاحب نے میرا راستہ نہ روکا ہوتا، شاید میں اسے بچا لیتا۔"
اس نے کہا: "بہرحال، جو ہوا، اس پر بعد میں بحث ہوگی۔ اب تم زیر حراست ہو۔ آگے چلو!"
میں سر جھکائے ان کے آگے چلنے لگا۔ میرا دل بجھا ہوا تھا۔ راستے میں وہ مکان نظر آیا جہاں سامی کو قید کیا گیا تھا۔ اسے دیکھ کر سامی کی یاد نے دل کو پھر دکھایا۔ میں جانتا تھا کہ وہ اپنے خیالوں میں مجھے پکار رہی ہوگی، لیکن میں لگاوٹ کی باتیں نہیں سننا چاہتا تھا۔ سب لڑکیاں زبان سے دعوے کرتی ہیں۔ اگر سامی کو مجھ سے سچی محبت ہے تو وہ اپنے جسم کو داؤ پر لگا کر میرے پاس آئے گی۔ اب میں اسی طرح اس کی محبت پر یقین کر سکتا ہوں۔
ہم پگڈنڈیوں سے گزر کر پکی سڑک تک پہنچے۔ وہاں انٹیلیجنس کی تین گاڑیاں کھڑی تھیں۔ ایک گاڑی کی پچھلی سیٹ پر میں دو افراد کے بیچ بیٹھ گیا۔ میں چاہتا تو انسپیکٹر کی سوچ پڑھ سکتا، لیکن میرا دل خیال خوانی کی طرف مائل نہ تھا۔
تقریباً ایک گھنٹے بعد ہم آئی بی کی عمارت پہنچے۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ مجھ سے طرح طرح کے سوالات کریں گے، لیکن انہوں نے کچھ نہ پوچھا۔ مجھے ایک کمرے میں بند کر دیا۔
میں ایزی چیئر پر نیم دراز ہوا اور کچھ ہی دیر میں گہری نیند میں چلا گیا۔ اگلی صبح آٹھ بجے دروازہ کھلا۔ وہ مجھے ایک بڑے ہال میں لے گئے۔ وہاں چند آفیسر موجود تھے، جن میں زخمی ہاتھ والا انسپیکٹر بھی تھا۔
وہ بولا: "فرہاد، کل تم نے ہماری صحیح رہنمائی کی، لیکن ہم کیوں نہ سوچیں کہ تم نے ڈبل گیم کھیلا اور اپنی محبوبہ کو فرار کروایا؟"
میں نے جواب دیا: "آپ جو مرضی سمجھیں، میں اپنے وطن سے غداری نہیں کر سکتا۔ اگر میں ان کا ساتھی ہوتا تو ہیلی کاپٹر میں ان کے ساتھ چلا جاتا۔ کوئی مجھے نہ روک سکتا۔"
انسپیکٹر نے کہا: "میرے آدمیوں کی رپورٹ کے مطابق تم ہم سے پہلے وہاں پہنچے تھے۔ پھر تم نے سامی کو کیوں جانے دیا؟"
"میں دیر سے پہنچا۔ میرے پہنچنے سے پہلے ہیلی کاپٹر فضا میں بلند ہو چکا تھا۔"
ایک آفیسر نے طنزیہ کہا: "تمہارے پاس ریوالور تھا۔ تم نے ہیلی کاپٹر پر فائر کیوں نہ کیا؟"
"اگر میں فائر کرتا تو ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو جاتا۔ سامی کی زندگی بچانے کے لیے میں نے ایسا نہ کیا۔"
"تو پھر تم نے وطن کے مفاد پر اپنی محبوبہ کو ترجیح دی؟" آفیسر نے سنجیدگی سے میری طرف دیکھا۔
میرا سر ندامت سے جھک گیا۔ واقعی، میں نے یہ نہ سوچا کہ وہ لوگ وطن کے کتنے اہم راز لے جا رہے ہوں گے۔ انسپیکٹر نے گھوما پھرا کر مجھ سے اعتراف کروا ہی لیا۔
میں نے شرمندگی سے کہا: "میں نے نادانستگی میں یہ سب کیا، جو بالکل ٹھیک نہ تھا۔ لیکن میں اس غلطی کا ازالہ کرنے کو تیار ہوں۔ مجھے ایک موقع دیں، میں وطن کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچاؤں گا۔"
آفیسر نے سوچ بھری نظروں سے میری طرف دیکھا۔ "تم نے جس طرح حس سے دشمن کے ٹھکانے تک ہمیں پہنچایا، اس سے ہم متاثر ہیں۔ ہم تمہیں ایک موقع دیں گے۔"
انسپیکٹر نے آفیسر کی طرف دیکھا، گویا کہہ رہا ہو کہ آزما لینے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ کہاں بھاگے گا؟
آفیسر بولا: "فرہاد، ہم تمہیں ایک مشن میں استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے پاس ایک ملک دشمن ایجنٹ فرید احمد خان قید ہے۔ آج رات ہم اسے رہا کریں گے تاکہ اس کے ٹھکانوں تک پہنچ سکیں۔ تم اس کی حس سے اس کا پیچھا کرو گے اور ہمیں اس کے ٹھکانے تک لے جاؤ گے۔ منظور ہے؟"
"ہاں، منظور ہے، لیکن پہلے مجھے فرید خان سے ملنے اور بات چیت کا موقع دیں۔"
"ہاں، ہم تمہیں اس سے ملوائیں گے، لیکن وہ بولے گا نہیں۔ جب سے وہ ہماری حراست میں ہے، ایک لفظ نہیں کہا۔"
یہ کہتے ہوئے انسپیکٹر مجھے عمارت کے اندرونی حصے کی طرف لے گیا۔ کئی راہداریوں سے گزر کر ہم ایک چھوٹے کمرے کے سامنے پہنچے، جس پر لوہے کی سلاخیں لگی تھیں۔ اندر ایک لحیم شحیم آدمی سر جھکائے بیٹھا تھا۔ ہمیں دیکھ کر اس نے نظریں اٹھائیں۔ میں نے اس کی سوچ کو گرفت میں لیا۔ حیرت کا جھٹکا لگا۔ وہ فرید احمد خان نہیں، بھوانی شنکر تھا، جو راولپنڈی میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث تھا۔
میں نے کبھی نہ سوچا تھا کہ جس سے انتقام لینا چاہتا ہوں، وہ قیدی کے روپ میں میرے سامنے آئے گا۔ خیال خوانی کے کمال نے اسے بے نقاب کر دیا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ صبر و ضبط سے کام لینا ہے۔ وطن کے رازوں کی حفاظت کے لیے حکمت عملی ضروری تھی۔
میں آہستہ سے بھوانی شنکر کے قریب گیا، گویا اس کی بو سونگھ رہا ہوں، لیکن درحقیقت اس کے دماغ کے نہاں خانوں کو کھنگال رہا تھا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ پتا نہیں وہ کہاں ہیں۔
میں نے اس کی سوچ میں کہا: "صرف ان رازوں کے بارے میں سوچو جو تم نے اپنے دیش کی خاطر چرا کر لائے ہو۔ اس بلی کو چھوڑو، جس نے تمہاری مدد کی۔"
وہ سوچنے لگا: "بلی کو چھوڑو، پہلے رازوں کو محفوظ مقام پر رکھنے کا بندوبست کروں۔ راز ایک مائیکرو فلم میں محفوظ ہیں، جو ایک انچ کے کیپسول میں بند ہے۔ یہ کیپسول میرے جبڑے کی مصنوعی جھلی میں چھپا ہے۔ کوئی اس تک نہیں پہنچ سکتا!" وہ دل ہی دل میں ہسنے لگا۔ اس نے مجھے حقارت سے دیکھا اور منہ چھپا کر بیٹھ گیا۔
مجھے اپنی زندگی کی پہلی کامیابی مل گئی۔۔ میں نے خوشی سے خود کو تھپکی دی اور باہر نکل آیا۔
ہال میں آفیسر نے پوچھا: "بھئی، تم نے اس کی بو اچھے سے سونگھ لی؟ کیا تم اس کا پیچھا کر سکتے ہو؟"
میں نے کہا: "یس س: "ایک بات بتانیا چاہتا ہوں۔ جب میں اس کے قریب گیا، اس کی بو میں فلم کی خوشبو گڈمڈ ہوئی تھی۔ یہ بو اس کے جبڑے کے قریب سے آ رہی تھی، گویا اس نے کوئی فلم نگل رکھی ہو۔"
وہ خاموش بیٹھے رہے۔ آفیسر نے انسپیکٹر سے کہا کہ کہ: "فرہاد کو کمرے میں لے جاؤ۔ ہم اس بات کی تحقیق کرتے ہیں۔"
دو گھنٹے بعد مجھے واضہ ہال میں طلب کیا گیا۔ افسروں کا رویہ بدل گیا تھا۔ انہوں نے مجھے اپنے برابر صوفے پر بٹھایا۔ میز پر ناشتا لگا تھا۔ ان کا رویہ دوستانہ تھا۔ ناشتے کے دوران انہوں نے بتایا کہ بھوانی شنکر کا ایکسرے لیا گیا، جس سے میری بات کی تصدیق ہوئی۔ آپریشن کر کے مائیکرو فلم نکال لی گئی۔
"تم حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک ہو۔ تم نے وطن کے اہم راز دشمن سے بچا لیے۔"
اس دوران وہ میری پچھلی زندگی کے بارے میں سوالات کرتے رہے۔ باتیں کرتے کرتے ہماری خاصی بے تکلفی ہو گئی، خصوصاً انسپیکٹر شہباز سے، جو دوستی میں بدل گئی۔ وہ مجھے شبانہ کلب تک میری گاڑی چھوڑنے آیا۔
میری گاڑی پارکنگ میں کھڑی تھی، جہاں ایک دن پہلے میں سامی کے ساتھ ڈنر پر آیا تھا۔ گاڑی دیکھ کر سامی شدت سے یاد آئی۔ شہباز کی جیپ سے اتر کر اپنی گاڑی میں بیٹھا۔ اچانک لگا کہ دو آنکھیں مجھے گھور رہی ہیں۔
میں دل ہی دل میں ہنسا کہ شدید ایڈونچرز نے میری حسیات کو دھوکا دیا۔ لیکن اگلے پل میری تصدیق ہوئی۔ چست کپڑوں میں ایک حسینہ میری گاڑی کا دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی۔ میں نے اسے سر سے پاؤں تک دیکھا اور شیشہ نیچے کیا۔ "جی، فرمایا، میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟"
"میری گاڑی خراب ہو گئی۔ کیا آپ مجھے مال روڈ تک چھوڑ سکتے ہیں؟ میرا گھر وہیں قریب ہے۔" اس نے بال ٹھیک کرتے ہوئے ریشمی بدن کی جھلک دکھائی۔
اس کے ارادے نیک نہ لگے، لیکن اس کا منت بھرا اندازا ایسا تھا کہ صاف انکار نہ کر سکا۔ "آئیے، میں چھوڑ دیتا ہوں۔"
وہ فرنٹ سیٹ پر بیٹھی۔ چینل کی تازہ خوشبو سے گاڑی معطر ہو گئی۔ میں نے گاڑی آگے بڑھائی اور اس کے دماغ میں جھانکا۔ وہ سوچ رہی تھی: "میرا کام کتنا آسان ہو گیا! اکیلی لڑکی دیکھ کر مردوں کی عشق کی عادت انہیں پھانس لیتی ہے۔ مجھے انتظار کرنا ہے کہ یہ کب مائل ہوتا ہے۔"
اس کی سوچ پر کھٹکا ہوا۔ ایسی حسین کیا چاہتی ہے، جسے دیکھ کر نیت خراب ہو جائے؟ مکھن جیسا ملائم بدن، گلاب کی پنکھڑیوں جیسے ہونٹ، ستواں ناک، ٹھوڑی پر ننہا گڑھا اس کی تند مزاجی بتا رہا تھا۔
دال میں کچھ کالا لگا۔ میں اس کی سوچ پڑھنے لگا۔ اس نے بات سے تسلسل توڑا: "کیا یہ آپ کی کار ہے؟"
"ہاں، میری ہی ہے۔"
"برا نہ مانیں، آپ کے حلیے سے بالکل نہیں لگتا۔"
میں ہنس پڑا۔ "آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ کل ایک پریشانی میں پھنس گیا تھا، نہ کپڑے بدلنے کا موقع ملا، نہ شیو کا۔"
وہ سوچ رہی تھی: "لگتا ہے انٹیلیجنس والوں نے اس کی خوب ٹھکائی کی۔"
میں چونکا۔ اسے کیسے پتا؟ لگتا ہے بھوانی شنکر نے بھیجا ہے۔ میرا اندازہ درست ثابت ہوا۔ وہ۔ وہ مجھے اپنے گھر لے جا کر پھنسانا چاہتی تھی۔
میں نے اس کے ارادوں کی تکمیل کا سوچا۔ اس کی طرف ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اس پر لٹو ہو گیا ہوں۔ وہ اپنی کامیابی پر مسرور ہو، اداؤں سے لبھاتی رہی۔۔ میں نے کہا ہر بات کے جواب میں شوخ نظروں سے جھک کر دیکھا۔
اس کے ساتھ جانے سے پتا چلتا کہ وہ کون ہے اور کس کے لیے کام کرتی ہے۔ اس کی سوچ سے معلوم ہوا کہ اس کا نام روزینہ ہے۔ بھوانی شنکر کے آدمیوں نے اسے میری جاسوسی کے لیے لگایا ہے۔۔ اس کے بھائی احمد شیخ کو انہوں نے قید کر رکھا ہے۔ وہ مجھے قربانی کا بکرا بنا کر اسے چھڑانا چاہتی تھی۔
اس کے گھر کے سامنے گاڑی رکی تو اس نے اندر آنے کی دعوت دیوت: "تم بہت تھکے ہو۔ اندر آو، میں کافی پلاؤں گی۔"
وہ اتر کر اندر چلی گئی۔۔ مجھے احمد شیخ کو گردن سے پکڑنا تھا۔ میں اس کے پیچھے سفید گیٹ کے اندر گاڑی لے گیا۔ کوٹھی اندر سے خوبصورت تھی۔
اس نے ڈرائنگ روم کا دروازہ کھولا اور کہا: "تم جاؤ، فریش ہو کر آو۔ میں کافی لاتی ہوں۔" وہ سوچ رہی تھی کہ میرے جاتے ہی ٹونی کو کال کر کے بلا لے گی اور مجھے اس کے حوالے کر کے اپنے بھائی کی جان چھڑا لے گی۔۔ میں نے آگے ب کہ کر کہ: "فریشن ہونے کا سامان سامنے ہو تو کون انکار کرے؟"
وہ جھٹکے سے پیچھے ہٹی۔ "آپ غلط سمجھ رہے ہیں! میں اتنی سستی نہیں!"
"سستی ہو یا مہنگی!"، میں نے کہ "میں مجبور لڑکیوں سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔ تم مجبوری میں مجھے یہاں لائی تاکہ بھوانی شنکر سے اپنے بھائی کو چھڑا سکو۔ بولو، غلط کہہ رہا ہوں؟"
وہ حیرت سے میرا منہ تکنے لگی۔ "تم آپ کو کیسے پتا کہ میرا بھائی ان کی قید میں ہے؟"
"یہ سب چھوڑو! میں تم اپ آپ کے بھائی کو چھڑا سکتا ہوں، اگر تم بھروسہ کرو۔"
"تم بھوانی شنکر کو جانتے ہو؟" وہ ہکلاتی ہوئی بولی۔
میں نے اسے بازو سے پکڑ کر صوفے پر بٹھایا۔ "ہاں، میں اسے جانتا ہوں اور تم آپ کے بھائی کو چھڑا سکتا ہوں۔ میری آنکھوں میں دیکھو۔"
وہ میری سلفگتی ہوئی آنکھوں میں دیکھنے لگی اور دھیرے دھ رے میرے اثر میں آگئی۔۔ میں نے تنویمی عمل سے اسے ہپنٹائز کیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ مکمل طور پر میرے زیر اثر تھی۔
میں نے اس سے مطلوبہ نمبروں پر کالز کر کے احمد شیخ اور بھوانی شنکر کے آدمیوں کے ایڈریس نوٹ کیے۔ وہ خاموش بیٹھی رہی، گویا نیند سے جاگ کر بھی نیند میں ہو۔۔ میں نے انسپیکٹر شہباز کو معلومات دیں اور احمد شیخ کی لوکیشن سمجھائی، جو ٹونی سے ملی تھی۔ کام ختم کر کے میں نے روزینہ کو سونے کا حکم دیا۔۔ وہ بیڈ پر لیٹ گئی اور سو گئی۔۔ کچھ ہی دیر میں انٹیلیجنس کی ریڈ ہونے والی تھی۔
میں خاموشی سے دروازہ بند کر کے نکل آیا۔۔ کافی دنوں سے گھر نہ گیا تھا۔ میں نے گاڑی کا رخ ادھر موڑ لیا۔۔ میں جانتا تھا کہ آدھے گھنٹے میں احمد شیخ اور بھوانی کے آدمی ایجنسی کی حراست میں ہوں گے۔
آدھے راستے میں ایک سیاہ مرسڈیز بائیں سے نکل کر میری گاڑی کے سامنے آگئی۔ جھنجھلاہٹ میں بریک لگائی تو وہ میرا رہکتہ روکتی ہے۔ اگے پل دو رائفل بردار نکل کر میری طرف آئے۔
"سلام علیکم، مسٹر فرہاد! ہمارے باس آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔"
میں نے ہچکچاتے ہوئے دیکھا۔
"گھبرائیں نہ، ہم آپ کے آدمی ہیں۔ ڈائریک کٹر جنرل آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔"
کچھ سمجھ کر، کچھ نہ سمجھ کر، میں نے گاڑی ان کے پیچھے لگائی۔ بیس منٹ بعد ہم آئی بی کی عمارت کے سامنے رہے۔
اندر جا کر ایک گارڈ نے مجھے فرسٹ فلور پر ایک سجے ہوئے کمرے میں لے جایا۔ وہاں کئی آفیسر تھے، کچھ جانے پہچانے، کچھ نئے۔ بڑی میز کے پیچھے براؤن لیدر چیئر پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھتے ہی اٹھ کر مصافحہ کیا۔ "ڈائکٹر جنرل، انٹیلیجنس۔"
میں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔
"مسٹر فرہاد، آپ حیرت انگیز صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ آپ کی معلومات سے ہم نے دشمن کا بڑا نیٹ ورک پکڑ لیا۔ مبارک ہو!"
"تشریف رکھیں!"۔ ہم جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کو احمد شیخ اور اس کے ساتھیوں کا علم کیسے ہوا؟"
وقت آ کہا تھا کہ اپنے علم کے بارے میں حکام کو آگاہ کروں۔ میں نے کہا: "جناب، میں تفصیل سے بتانا چاہوں گا۔ چونکہ یہ سیکریٹ مشن ہے، اس لیے..."
ڈائیکٹر کٹر نے بات کاٹ کر تین، چار کو چھوڑ کر باقی آفیسروں کو تنہائی کا حکم دیا۔۔
میں ڈایکئر کٹر جنرل کے ساممنے ایزی چی چئر پر بیٹھا۔ دروازہ بند ہوتے ہی خیال خوانی سے اطمینان کیا کہ کوئی دشمن سے متعلق نہیں ہے۔ پچھلے واقعات نے مجھے محتاط بنا دیا تھا۔
ڈائیکٹر یا کٹر شبیر حسن ہمہ تن گوش تھے۔۔ میں نے الف سے یم تا اپنے علم کی تفصیل بتانی شروع کی۔ جوں جوں بتاتا گیا، ان کی آنکھیں حیرت سے پھیلتی گئیں۔۔
شبیر حسن نے پوچھا: "تم نے اس علم کے بارے میں پہلے کیوں نہیں بتایا؟ بو سونگھنے کا جھوٹ کیوں گھڑا؟"
"آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن حالات میں وقت کم تھا۔۔ کوئی میرا یقین نہ کرتا، اور دشمن ہاتھ سے نکل جاتے۔"
شبیر نے کہا کہ: "کیا اپنی ٹیلی پیتھی کا نمونہ ابھی پیش کر سکتے ہو؟"
"جی، آپ کے سامنی جو فائل ہے، اسے ذہن میں پڑھنا شروع کریں۔ میں بتاتا ہوں کہ آپ کیا پڑھ رہے ہیں۔"
انہوں نے دراز سے ایک فائل نکالی اور پڑھنے لگے۔ میں پیچھے پیچھ بولتا گیا۔ سب مجھے دیکھتے جیسے کوئی مافوق الفطرت ہوں۔۔
شبیر حسن نے کہا: "فرہ کہا، تم حیدرت انگیز صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ یہ صلہ صلاحیت تمہین غلط یا سہی راستوں پر لے جا سکتی ہے۔ تم نے ثابت کیا کہ تم محب وطن ہو اور سیدھے راستے پر ہو۔ کیا چیئر میری محکمے سے کام کرنا پسند کروگے؟"
میں نے کہا: "جناب، وتن کی خدمت کے لیے ہمہ وقت تیار ہوں، لیکن مستقل نوکری نہیں کروں گا۔ یہی بات شہباز کو بھی کہی۔ جب وطن کو ضرورت پڑے، میں حاضر ہوں جاؤں گا۔"
وہ بولے: "بقاعدہ ملازمت سے اعتراض کیوں؟ سمجھو، رازداری والے محکموں میں ملازمین پر بھی اعتبار نہیں ہوتا، کیا کہ تو تعلق نہ رکھو۔ میں وعدہ کرتا ہوں، تم پر پابندیاں نہیں ہوں گی۔ تم اپنی مرضی سے آؤ۔"
شہباز نے کہا کہ: "ہ کہ کہا سہ کہ دو، تم۔ دفتر نہ آو، ہم خود رابطہ کریں گے۔"
میں نے کہا کہ: "ٹھیک، قبول ہے، لیکن مجھ کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر جانے کی اجازت دیں۔"
"کہدھر؟"
"جہ سامی کہ کو لے جایا گیا۔"
"عشق میں ملک چھوڑنا دانشمندی نہیں۔"
"اگر عشق سے نقصان نہ ہو، فائدہ ہو؟ جیسے عاشق کدال لے کر محبوبہ کے لیے دودھ کی نہر کھودے۔ محبوبہ ملے یا نہ ملے، لوگ دودھ سے فائدہ اٹھائیں۔ تو ایسی عشق فائدہ مند ہے۔"
میں سامی کہ کے پیچھے جاؤں گا، اور وہی رول پلے کروں گا جو سہ ہم پر آ کر کرت سہیے تھے۔ ہمارے ملک کو فائدہ ہوگا۔ میں ان کے ملک دشمن منصوبوں کو ناکام بنا سکتا ہوں۔"
شبیر حسن قائل ہو کر بولے: "ٹھیک، دیکھتے ہیں کہ اس سلسلے میں کیا کرنا ہے۔"
اس کے بعد میں نے خیال خوانی سے بھوانی شنکر کے دوسرے نیٹ ورک کے بارے میں بتایا۔ احمد شیخ کی سوچ سے وہ راز معلوم کیے جو اس نے وطن سے چرا کر دشمنوں کو دیے تھے۔ لیکن ایک بات کھٹکتی رہی۔
ٹونی کے دماغ کو کھنگالا، لیکن اس شخص کا حلیہ نہ جان سکا جو انہیں بچا کر لے جاتا تھا۔ اس کی سوچ میں شیتل ایک طاقتور شخصیت تھی، جو مجھے زیر کر سکتی تھی اور سب کو قید سے چھڑا کر ہندوستان لے جا سکتی تھی۔
وہاں سے نکل کر میں گھر آیا۔ پھوپھی مجھے دیکھ کر روتے ہوئے گلے لگ گئیں۔ "میرے بچے، تم کہاں تھے؟ میں کب سے تمہاری راہ دیکھ رہی تھی۔ اتنا نہ ستایا کرو، کم از کم فون کر دیا کرو!"
ندامت نے مجھے گھیر لیا۔ "پھوپھی جان، کان پکڑتا ہوں۔ آئندہ بتا کر جاؤں گا۔" میں نے معافی مانگی۔ وہ نہال ہو گئیں۔
"چلو، کھانا لگاتی ہوں۔ نہا دھو کر بیٹھو۔"
میں کمرے میں آیا اور بیڈ پر گر پڑا۔ اتنا تھکا تھا کہ کوئی اور کام کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ لیکن شیتل کے بارے میں پتا نہ چلا۔ ٹونی اسے طاقتور شخصیت کے طور پر چھپا کر بیٹھا تھا۔ اور وہ تھا شیتل
اس کی سوچ کے مطابق شیتل ہی وہ شخص تھا جو مجھے زیر کر سکتا تھا اور ان سب کو قید سے چھڑا کر ہندوستان لے جا سکتا تھا
اس کی سوچ کے مطابق شیتل ہی وہ شخص تھا جو مجھے زیر کر سکتا تھا اور ان سب کو قید سے چھڑا کر ہندوستان لے جا سکتا تھا
