کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 18

 

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 17
رائیٹر :ایم اے راحت

‎’’تم جانور ہو بالکل!‘‘ وہ گرجی۔
‎’’یہ دوا بھیجی ہے حاجی صاحب نے! یہ تینوں گولیاں انہیں کھلا دیں۔‘‘
‎’’گدھوں کی طرح منہ اٹھائے گھس آئے۔ تم نے اندر آنے کی جرأت کیسے کی؟‘‘ نہ جانے کیوں مجھے ترس آگیا۔ میں نے اسے گھورا اور آہستہ سے بولا۔ ’’گولیاں لے لیجئے۔‘‘
‎’’میری بات کا جواب دو!‘‘
‎’’آپ بہری ہیں کیا… یہ گولیاں بھیجی گئی ہیں میرے ہاتھ! آپ یہ انہیں کھلا دیں یا آپ باہر نکل جائیں، میں کھلا دوں گا۔‘‘ درشہوار کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ وہ ایک دم خاموش ہوگئی۔ مجھے گھورتی رہی پھر مڑی اور اس کمرے سے باہر نکل گئی۔ میں نے عظیم میاں کو گولیاں کھلائیں اور پھر باہر نکل آیا۔ عجیب سا ماحول ہوگیا تھا۔ حاجی صاحب نے مجھے حکم دیا کہ آج واپس نہ جائوں، نہ جانے کس وقت عظیم میاں کی وجہ سے میری ضرورت پیش آجائے۔ میں نے گردن جھکا دی۔ پکنک سے تو تھوڑی دیر کے بعد ہی واپسی ہوگئی تھی۔ سارا مزا کرکرا ہوگیا تھا پکنک پر جانے والوں کا!
‎وقت گزرتا رہا، رات ہوگئی۔ عظیم میاں کو تیز بخار ہوگیا تھا اور اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہوگئے تھے۔ سب ان کے کمرے میں جمع تھے۔ میں باہر موجود تھا اور آج کے واقعہ کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ ایک ملازمہ نے میرے قریب آکر کہا۔ ’’اندر آئو… تمہیں بلایا گیا ہے۔‘‘
‎میں اس کے ساتھ اندر داخل ہوگیا۔ ملازمہ میری رہنمائی کررہی تھی۔ ایک دروازے کے سامنے رک کر اس نے کہا۔ ’’اندر جائو۔‘‘ دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا۔ اندر تیز روشنی تھی اور اس روشنی میں مجھے ایک عجیب الخلقت شے نظر آئی… چہرہ درشہوار کا تھا مگر اس کے پورے بدن پر بال اُگے ہوئے تھے۔ بہت سی ٹانگیں نظر آرہی تھیں۔ بدن کا انداز بدلا ہوا تھا۔ بس یوں لگتا تھا جیسے ایک بہت بڑی مکڑی کھڑی ہوگئی ہو…! وہ اپنی منحوس پیلی آنکھوں سے مجھے گھور رہی تھی۔
‎بھوریا چرن میرا پرانا دوست، یہ بھوریا چرن ہی کا رُوپ تھا مگر اس کی جھلک صرف ایک لمحے کیلئے نظر آئی، اس کے بعد وہ صرف درشہوار رہ گئی۔ اپنی اصل شکل میں آگئی تھی، شعلۂ جوالا بنی ہوئی اورآنکھوں میں سخت طیش کے آثار۔ پھر اس نے غرائی ہوئی آواز میں کہا۔

‎’’ڈرائیور تمہاری موت تمہیں اس جگہ لائی ہے، سمجھے۔ تمہارے لیے میں نے صرف یہی فیصلہ کیا ہے کہ تمہیں مر جانا چاہیے۔ میں نے زندگی میں کسی کو زخمی بھی نہیں کیا لیکن تم نے مجھے قتل جیسے بھیانک اقدام پر مجبور کر دیا ہے اور اب تم خاموشی سے مر جائو، بالکل خاموشی سے۔‘‘ اچانک درشہوار نے پستول مجھ پر تان لیا۔ یہ پستول پہلے سے اس کے ہاتھ میں چھپا ہوا تھا۔ میں ساکت کھڑا اسے گھورتا رہا۔ ابھی تو میرے ذہن سے یہ تاثر ہی ختم نہیں ہوا تھا کہ میں اسے بھوریا چرن کے رُوپ میں دیکھ چکا ہوں، وہ کچھ اور ہے کچھ اور…
‎درشہوار کا کچھ اور خیال تھا، شاید وہ سوچ رہی تھی کہ پستول دیکھ کر میں خوف سے تھر تھر کانپنے لگوں گا۔ دہشت سے میرا رنگ بدل جائے گا اور میں نہ جانے کیا اول فول بکنے لگوں گا۔ لیکن میں اسے پلک جھپکائے بغیر دیکھ رہا تھا۔
‎’’تم سمجھ رہے ہو میں گولی نہیں چلا سکتی۔‘‘ اس نے کہا۔ میں پھر بھی چپ رہا تو وہ پھر بولی۔ ’’تمہیں موت کا خوف نہیں ہے اپنی دلیری کا سکہ جمانا چاہتے ہو مجھ پر۔‘‘ اب وہ سو فیصدی درشہوار تھی۔ اگر وہ بھوریا چرن کا رُوپ ہے، اگر وہ پورنی ہے تو دیکھ لوں گا اسے۔ اس وقت سنبھلنا ضروری ہے۔
‎’’آپ نے مجھے بلایا ہے۔‘‘ میں نے پتھریلے لہجے میں کہا۔
‎’’ہاں۔‘‘ اس نے کہا۔
‎’’کوئی کام ہے مجھ سے؟‘‘
‎’’جو کچھ میں نے کہا ہے وہ تم نے نہیں سنا؟‘‘
‎’’سن لیا ہے۔‘‘
‎’’تم نے مجھے بہری کہا تھا؟‘‘
‎’’اُس وقت کہا تھا۔‘‘
‎’’میرے بارے میں تمہیں علم ہے کہ میں کون ہوں؟‘‘
‎’’اب ہوگیا ہے۔‘‘ میں نے معنی خیز لہجے میں کہا۔
‎’’کیا مطلب؟‘‘ اس نے سخت لہجے میں سوال کیا۔
‎’’کچھ نہیں۔‘‘
‎’’مجھے تو… مجھے تو تم پاگل لگتے ہو۔‘‘
‎’’میں واپس جا سکتا ہوں۔‘‘
‎’’زندہ نہیں جا سکتے سمجھے۔ تم نے اپنی حیثیت سے تجاوز کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہاں لوگ میری صورت دیکھ کر ہکلانے لگتے ہیں اور… اور تمہاری یہ جرأت… تمہیں معافی مانگنا ہوگی۔‘‘
‎’’مجھے حاجی صاحب نے یہاں بھیجا تھا۔ ان کے حکم کی تعمیل مجھ پر فرض تھی۔‘‘
‎’’میرا حکم ان سے افضل ہے۔‘‘
‎’’شاید… مجھے بتایا نہیں گیا۔‘‘
‎’’آج سن لیا ہے۔‘‘
‎’’سن تو لیا ہے لیکن اس پر عمل کرنے کا حکم حاجی صاحب ہی دے سکتے ہیں۔‘‘
‎’’اوہ… تم… تم… شاید تم مرنا ہی چاہتے ہو… میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی بالکل نہیں چھوڑوں گی۔ مجھے معلوم ہے تم… وہاں تم… پکنک پر ہمارا پیچھا کیوں کر رہے تھے۔‘‘
‎’’پیچھا؟‘‘
‎’’بالکل پیچھا کر رہے تھے۔ تم اس وقت وہاں کیوں موجود تھے جب عظیم صاحب گڑھے میں گرے تھے۔‘‘
‎’’مجھے علم نہیں تھا کہ وہ اتنا بڑا کارنامہ سرانجام دینے والے ہیں۔‘‘
‎’’تم نے ہماری باتیں چھپ کر سنی تھیں۔‘‘
‎’’جی سنی تھیں۔‘‘
‎’’اور اب تم وہ تمام باتیں حاجی صاحب کو بتانے کیلئے بے چین ہوگے، یہی بات ہے نا۔‘‘
‎میں نے چونک کر اسے دیکھا یہ باتیں تو عجیب تھیں مگر ان میں معصومیت تھی۔ اس گفتگو سے اس کی فطرت کا اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ ایک خود سر مغرور لڑکی تھی، ذہنی طور پر اس قدر برتر نہیں تھی جتنا ظاہر کرتی تھی۔ پھر مجھے جو کچھ نظر آیا کیا وہ صرف میرا واہمہ تھا۔ کوئی غلط فہمی ہوئی تھی مجھے… مگر سوچنے کا وقت نہ ملا۔ اس نے پھر اپنا سوال دُہرایا تھا۔
‎’’جی نہیں… میں کسی کو کچھ بتانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔‘‘
‎’’سچ بول رہے ہو…؟‘‘ اس نے مشکوک انداز میں کہا۔
‎’’جی ہاں۔‘‘ میں نے جواب دیا۔

‎’’اگر نہ بھی بول رہے ہو تو تم میرا کچھ بگاڑ نہیں سکتے۔ اوّل تو ویسے بھی تمہاری بات پر کوئی تفتیش نہیں کرے گا پھر خود عظیم بھائی گواہی دیں گے کہ وہ خود گڑھے میں گرے تھے۔ تمہارے لیے میں اس سے بھی زیادہ گہرا گڑھا کھود دوں گی۔ میں کہہ دوں گی کہ یہ شخص مجھے بلیک میل کر رہا ہے۔‘‘
‎’’جی بہتر۔‘‘
‎’’تو اب یہاں کیوں مر رہے ہو؟‘‘
‎’’آپ مجھے قتل کرنا بھول گئیں شاید۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’دفعان ہو جائو، میں دو کوڑی کے نوکروں کو منہ نہیں لگاتی۔‘‘ اس نے جھلا کر کہا اور میں اس کے کمرے سے نکل آیا۔ اس کی گفتگو کا ایک لفظ بھی ذہن پر چسپاں نہیں ہوا تھا مگر اس کے کمرے میں داخل ہو کر مجھے اس کی جو شکل نظر آئی تھی اس نے مجھے بے چین کر دیا تھا۔ اس وقت تو میرے ذہن میں دُور دُور تک بھوریا چرن کا تصور نہیں تھا پھر درشہوار مجھے ایسی کیوں نظر آئی۔
‎یہ رات یہیں گزری۔ عظیم میاں کی وجہ سے سب پریشان تھے لیکن صبح کو وہ بہتر ہوگئے اور پھر بتدریج ٹھیک ہونے لگے۔ شام تک وہ اُٹھ کر بیٹھ گئے تھے۔ شہاب علی کو بھی ساری صورت حال معلوم تھی۔ ان میں چچی جان اور فرحانہ بھی حاجی صاحب کی کوٹھی میں آئے تھے اور دیر تک رہے تھے۔ بہرحال یہ ڈرامہ ختم ہوگیا۔ آج دن میں دو بار درشہوار نظر آئی تھی وہی انداز تھا، وہی پُرغرور تنی ہوئی گردن تھی۔ مجھے اس وقت کے واقعہ کی حقیقت پر خود شک ہوگیا، مگر نہ جانے ایسا کیوں ہوا تھا۔ رات کو معمول کے مطابق واپس آ گیا۔ کھانا وغیرہ کھایا اور آرام سے سو گیا۔ پچھلی رات بے چین رہا تھا اس لیے نیند آ گئی۔ رات کے دو بجے تھے جب آنکھ کھل گئی، پُرسکون نیند ٹوٹ گئی۔ نہ جانے کیوں… ذہن پوری طرح جاگ گیا تھا۔ چھت کو گھورتا رہا پھر بغلی کھڑکی کی طرف نگاہ اُٹھ گئی اور بری طرح اُچھل پڑا۔ کھڑکی میں ایک چہرہ نظر آیا تھا۔ خد و خال واضح نہیں تھے مگر آنکھیں روشن تھیں۔ یہ آنکھیں کینہ توزی سے مجھے گھور رہی تھیں۔ ان میں نفرت تھی اور یہ آنکھیں، یہ درشہوار کی آنکھیں تھیں، اُچھل کر بیٹھ گیا۔ ’’کون ہے؟‘‘ میرے حلق سے آواز نکلی اور آنکھیں فوراً غائب ہوگئیں۔ جھپٹ کر کھڑکی پر پہنچ گیا۔ یہ کھڑکی مکان کے عقب میں گلی میں کھلتی تھی۔ پرانے طرز کی موٹی سلاخیں لگی ہوئی تھیں۔ ان سے گزر کر کسی کا اندر آنا ناممکن تھا مگر وہ چہرہ، وہ آنکھیں… گلی کے انتہائی سرے پر ایک سایہ نظر آیا جو فوراً غائب ہوگیا تھا۔ یقیناً کوئی بھاگتا ہوا وہاں تک پہنچا تھا مگر کون… کیا درشہوار…؟ ان آنکھوں کو میں بھول نہیں سکتا تھا مگر درشہوار۔

‎واقعات مسلسل پُراسرار تھے۔ میرا احاطہ کئے ہوئے تھے۔ مہلت نہیں مل رہی تھی۔ سات پورنیوں میں سے ایک ہلاک ہو چکی تھی اور وہ سب کچھ رمارانی، رادھا اور کشنا… ابھی تک میری عقل کوئی فیصلہ نہیں کر پائی تھی۔ صبح کو سب کچھ معمول کے مطابق ہوا۔ ذہن میں کرید تھی، زیادہ تر درشہوار کا جائزہ لیتا رہا۔ اس کی آنکھیں غور سے دیکھیں اور شبہ نہ رہا یہی آنکھیں میری نگراں تھیں مگر کیوں… درشہوار کیا واقعی مجھ سے خوف زدہ ہوگئی تھی اور مجھے ہلاک کرنا چاہتی تھی۔ ممکن ہے اس نے سمجھداری سے کام لیا ہو، اگر وہ اپنے کمرے میں واقعی مجھے گولی مار دیتی تو میرے قتل کا الزام اس پر آتا اور اب وہ میری تاک میں ہو۔ اس خیال پر مجھے ہنسی آ گئی۔ اگر وہ ایسا کرنا چاہتی ہے تو ضرور کر دے۔ یہ ناپاک زندگی ختم ہو جائے۔ میں تو دل سے چاہتا تھا، یہ بے مقصد زندگی مجھے بوجھ لگتی تھی۔ خود اپنا خاتمہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔

‎شام کو کسی کام سے دُرشہوار کے کمرے کے سامنے سے گزرا۔ کھلے دروازے سے اندر نگاہ گئی تو اُچھل پڑا، وہ نماز پڑھ رہی تھی۔ جائے نماز پر بیٹھی وہ مقدس اور پاکیزہ لگ رہی تھی۔ آگے بڑھ گیا اب اس کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچ سکتا تھا کہ وہ میرا وہم تھا صرف وہم… لیکن اس رات پھر اُلجھ گیا۔ کھڑکی بند کر کے سویا تھا۔ ٹھیک دو بجے تھے، آنکھ کھلی۔ کھڑکی سے وہی آتشی آنکھیں جھانک رہی تھیں۔ پورے ہوش و حواس کے عالم میں، میں نے وہ آنکھیں دیکھی تھیں۔ برق کی سی تیزی سے میں نے پلنگ سے کھڑکی کی طرف چھلانگ لگائی اور اسی تیزی سے وہ چہرہ وہاں سے غائب ہوا لیکن آج میں نے دیر نہیں کی۔ گلی طویل نہیں تھی پھر بھی وہ آدھی گلی عبور کر چکی تھی اور اس کے جسم کو دیکھ کر مجھے شبہ نہ رہا وہ درشہوار ہی تھی، سو فیصدی وہی تھی۔ دماغ گھوم کر رہ گیا یہ کیا اسرار ہے۔ حاجی صاحب کے گھر سے یہاں تک طویل فاصلہ تھا۔ وہ اتنی رات کو یہ فاصلہ عبور کر کے آتی ہے اور کھڑکی سے مجھے گھورتی ہے۔ کیوں… آخر کیوں… کیا چاہتی ہے وہ۔ اسے نماز پڑھتے دیکھ کر بھرم قائم ہوا تھا مگر اس وقت سب کچھ تہہ و بالا ہو گیا تھا۔
‎مہتاب علی صاحب سے بات کرنے کا موقع مل گیا۔ ’’اَرواحِ خبیثہ سے متعلق کچھ معلومات ہیں آپ کو چچا جان؟‘‘
‎’’نہ ہونے کے برابر… کیوں۔‘‘
‎’’ویسے ہی مجھے کچھ دلچسپی ہے۔‘‘
‎’’ارے… اس دلچسپی کی کوئی وجہ۔‘‘
‎’’کوئی خاص نہیں، بس کچھ مشاہدات۔‘‘
‎’’مثلاً۔‘‘
‎’’صرف ایک سوال… کوئی مسلمان لڑکی خواہ وہ کسی بھی حیثیت کی مالک ہو، ایک خبیث رُوح کی شکل میں نظر آئے، اس کی حرکات و سکنات پُراسرار ہوں، مگر بعد میں وہ نماز پڑھتی نظر آئے تو کیا کوئی گندی رُوح اس میں حلول کر سکتی ہے۔‘‘
‎’’مسلمان لڑکی۔‘‘ شہاب علی کچھ سوچنے لگے پھر بولے۔ ’’اس سلسلے میں میرا ایک سوال ہے۔‘‘
‎’’جی۔‘‘

‎’’تم نے خبیث رُوح کا تعین کیسے کیا۔‘‘
‎’’ایک ایسی شکل جس کے بارے میں علم ہو کہ وہ کالے جادو سے تعلق رکھتی ہے۔‘‘
‎’’کسی مسلمان لڑکی پر جن کا سایہ ہو سکتا ہے۔ اس پر سفلی عمل کر کے اسے معطل کیا جا سکتا ہے، اگر اس پر کسی جن کا سایہ ہو تو مختلف اشکال بن سکتی ہیں۔ بھیانک، خوفناک، دُوسروں کو ڈرانے کیلئے، دُور رکھنے کیلئے لیکن وہ کوئی ایسی شکل نہیں اختیار کرسکتی جس کے بارے میں علم یقینی ہو کہ اس کا تعلق کالے جادو سے ہے۔ اگر کسی بدبخت مسلمان نے ایمان کھو کر کالا جادو سیکھ لیا توہ دائرۂ اسلام سے تو اسی وقت خارج ہو گیا۔ نماز جیسی پاکیزہ شے کا تو تصور ہی اسے ہلاک کر دے گا۔ یہ تو اللہ سے رابطہ ہے اور مجال ہے کہ کوئی باطل قوت اللہ سے رابطہ کر سکے۔ اسی لمحے فنا ہو جائے گی، ہاں کوئی غلیظ قوت اس پر عارضی طور پر اثرانداز ہو سکتی ہے، جیسا کہ میں نے کہا کہ بہرحال سفلی علوم کے ذریعے کسی کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔‘‘ میں حیرانی سے مہتاب علی کی صورت دیکھنے لگا۔ وہ ایک ناواقف انسان تھے۔ اس بارے میں کچھ نہیں جانتے تھے لیکن اس وقت مجھے ایسا لگا تھا جیسے میرے تمام سوالات ان کے سینے میں اُتر گئے ہوں اور یہ جواب کسی اور کی زبان سے ان کے ہونٹوں سے پھوٹا ہو۔ اس جواب سے نہ صرف میری تشفی ہوئی تھی بلکہ اس جواب نے مجھے نئی فکر دی تھی، ہوشیار کیا تھا اور اب مجھے جو کچھ کرنا تھا وہ سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔
‎عظیم میاں ٹھیک ہوگئے کوئی کہانی نہیں بنی۔ درشہوار سے کئی بار واسطہ پڑا، کچھ کھسکی ہوئی ہی لگتی تھی۔ مجھ سے تو کبھی سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتی تھی بلکہ اگر اسے کبھی ڈرائیور کی ضرورت پیش آتی تو وہ دُوسرے ڈرائیور کو ترجیح دیتی تھی۔ بحالت مجبوری مجھے برداشت کر لیتی تھی۔ وہ بھی اگر دوسرے ساتھ ہوں تو، اکیلے وہ کبھی میرے ساتھ نہیں نکلتی تھی لیکن میں اب بھی پریشان تھا۔ وہ مسلسل مجھے گھورتی تھی۔ کئی بار راتوں کو وہ مجھے نظر آئی، اس وقت جب اس کے آنے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کوئی تدبیر ایسی نہیں ہو سکی جس سے میں اسے پکڑ سکوں حالانکہ کئی راتیں میں نے مہتاب علی کے گھر کے پچھواڑے گلی میں گزاریں۔ ان راتوں میں وہ نہیں آئی۔ مجھے تجسس تھا۔ کئی بار میں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا۔ بہرحال وقت بہتر گزر رہا تھا۔ کم از کم یہاں عزت سے گزارہ ہو رہا تھا اور رزق حلال مل رہا تھا۔

‎مہتاب علی کے رشتے داروں کے ہاں ایک شادی کا اہتمام ہوا۔ بہت قریبی رشتہ تھا۔ ہم سب گھر والوں کے ساتھ وہاں مصروف ہوگئے۔ دن رات کا آنا جانا تھا۔ حاجی صاحب نے ان دنوں مجھے حویلی ہی میں رہنے کی ہدایت کر دی تھی اور میرے لیے انتظام بھی کر دیا

‎تھا۔ اس وقت اتفاق سے درشہوار کو میرے ساتھ حویلی آنا پڑا۔ تقریباً ساڑھے گیارہ بجے وہ کار میں آ بیٹھی۔
‎’’گھر چلو۔‘‘ اس نے کہا۔ ’’اور سنو راستے سے یہ دوا لینی ہے… بازار سے گزرنا۔‘‘ اس نے ایک پرچہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔ میں نے پرچہ لے کر رکھ لیا اور کار آگے بڑھا دی۔ پھر بازار پہنچ کر میں نے کار ایک ڈرگ اسٹور کے سامنے روکی اور دوا لینے اُتر گیا۔ دوا لے کر واپس آیا تو وہ آگ بگولا ہو رہی تھی۔ ’’تم‘‘ اس نے چنگھاڑتے ہوئے کہا۔
‎’’جی؟‘‘ میں حیرانی سے بولا۔
‎’’دُوسرا ڈرائیور کہاں مر گیا۔‘‘
‎’’کسی اور کام سے گیا تھا۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
‎’’تم نے بتایا کیوں نہیں کہ یہ تم ہو۔‘‘
‎’’کس طرح بتاتا۔‘‘
‎’’کیا مطلب؟‘‘
‎’’میڈم مجھے حکم ملا تھا آپ کو گھر لے جائوں۔ آپ گاڑی میں آ بیٹھیں۔ میں نے گاڑی آگے بڑھا دی۔ اب میں آپ سے یہ کہتا کہ یہ میں ہوں آپ میرے ساتھ نہ بیٹھئے۔‘‘
‎’’بکواس مت کرو… گاڑی آگے بڑھائو۔‘‘
‎’’جی…!‘‘ میں نے کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ وہ غصے سے کھول رہی ہے۔ کچھ دیر کے بعد اس نے کہا۔
‎’’تم آخر خود کو سمجھتے کیا ہو۔‘‘
‎’’جی صرف ڈرائیور۔‘‘
‎’’اور اس دن تم نے مجھے بہری کہا تھا۔‘‘
‎’’میں اس کیلئے آپ سے معافی مانگ چکا ہوں۔‘‘
‎’’مگر یہ بات کبھی نہیں بھول سکتی میں، نہ جانے کیوں میں نے تمہیں معاف کر دیا ورنہ… ورنہ۔‘‘ میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ اس کے بعد حویلی آ گئی۔ وہ خود ہی دروازہ کھول کر اندر چلی گئی تھی۔ میں خاموش کھڑا سوچتا رہا۔ مجھے ہدایت ملی تھی کہ اس کے بعد میں حویلی میں آرام کروں۔ حویلی کے دُوسرے مکین شادی والے گھر میں تھے۔ میں اپنی رہائش گاہ پہنچ گیا۔ بستر پر لیٹ کر میں نے آنکھیں بند کرلیں۔ تقریباً پون گھنٹہ گزر گیا پھر دروازے پر دستک سنائی دی اور میں چونک پڑا۔
‎’’کون ہے؟‘‘
‎’’جمیلہ ہوں بھیّا۔‘‘

‎’’کیا بات ہے جمیلہ۔‘‘ میں نے دروازے پر آ کر پوچھا۔ جمیلہ گھر کی ملازمہ تھی۔
‎’’چھوٹی بٹیا نے کچھ دوائیں منگوائی تھیں تم سے، وہ کہاں ہیں۔‘‘
‎’’ارے… وہ تو گاڑی میں ہی رہ گئیں۔‘‘
‎’’منگوا رہی ہیں۔ گاڑی سے نکال کر انہیں پہنچا دو، کچھ طبیعت خراب ہے اس لیے شادی والے گھر سے آگئیں۔ مجھ سے یہی کہلوایا ہے۔‘‘
‎’’ابھی پہنچاتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا۔ گاڑی کی چابی تکیئے کے سرہانے تھی۔ پلٹ کر چابی نکالی اور باہر آ گیا۔ ملازمہ جا چکی تھی اس میں میرا کوئی قصور نہیں تھا۔ اس نے روشنی میں مجھے دیکھتے ہی بکنا جھکنا شروع کر دیا تھا اور میں اسے اس کی منگوائی ہوئی دوائیں دینا بھول گیا تھا۔ وہ گاڑی میں ڈرائیونگ سیٹ کے برابر والی سیٹ پر رکھی رہ گئی تھیں۔ گاڑی سے دوائیں نکال کر میں اس کے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔ اندازہ تھا کہ وہ کیا کہے گی۔ دروازہ آہستہ سے بجایا اور اندر سے آواز سنائی دی۔
‎’’آ جائو۔‘‘ میں دروازہ کھول کر اندر داخل ہوگیا۔ کمرے میں تیز روشنی تھی۔ وہ رات کے لباس میں ملبوس مسہری پر نیم دراز تھی اور مسکرا رہی تھی۔ ایک لگاوٹ بھری مسکراہٹ۔
‎’’آگے آئو۔‘‘ اس نے کہا اور میں آگے بڑھ گیا۔ ’’میری طرف دیکھو۔‘‘ اس کی نشہ آلود آواز اُبھری۔ میں نے نظریں اُٹھائیں اور جھکا لیں وہ کچھ عجیب نظر آ رہی تھی۔
‎’’جی۔‘‘ میں گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا۔
‎’یہ ہاتھ میں کیا ہے۔‘‘
‎’’دوائیں۔‘‘
‎’’یہاں رکھ دو… آئو بیٹھو۔‘‘ میں نے اس کے اشارے پر دوائیں رکھ دیں اور پھر واپسی کیلئے مڑا مگر نہ جانے کب، نہ جانے کیسے وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر میرے سامنے آگئی۔ مجھے احساس تک نہ ہوا تھا۔ ’’کہاں جا رہے ہو۔‘‘
‎’’مجھے کہاں جانا چاہیے۔‘‘
‎’’چلے جانا… گھر میں کوئی نہیں ہے۔ مجھے اکیلے ڈر لگے گا۔ آئو کچھ دیر بیٹھو آئو نا۔‘‘ اس نے کہا اور میرے دماغ میں غصّے کا طوفان اُمنڈ آیا۔ میں نے اسے زور سے جھٹکا دیا مگر اس نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا تھا۔ ’’امر کر دوں گی، سنسار میں تمہارے جیسا کوئی نہ ہوگا۔ سب تمہارے پیروں تلے بچھ جائیں گے، بس مجھے سوئیکار کر لو… مجھے سوئیکار کر لو۔‘‘ اس نے کہا اور میرا دل دہشت سے دھڑک اُٹھا۔ پورنی… دُوسری پورنی ایک مسلمان لڑکی کے رُوپ میں؟ میری نگاہیں بے اختیار اس کے ہاتھوں پر پڑیں مگر اس کے ہاتھوں میں صرف پانچ پانچ اُنگلیاں تھیں۔ صرف پانچ اُنگلیاں… میں ایک دم سنبھل گیا بڑی ڈھارس ہوئی تھی۔ اس نے پھر کچھ کہا اور مجھے گھسیٹنا چاہا مگر میرا زناٹے دار تھپڑ اس کے گال پر پڑا اور وہ چیخ کر نیچے گر پڑی۔
‎مجھے اب یقین ہوگیا تھا کہ وہ پورنی نہیں ہے اس لئے ہمت بڑھ گئی۔ میں نے نفرت بھرے لہجے میں کہا۔

‎’’میں نہیں جانتا یہ سب کیا ہے لیکن… لیکن مجھ میں ہمت ہے ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرنے کی… تم مجھے زیر نہیں کر سکتیں۔ میں مالک کا وفادار کتّا ہوں، میں رزق حلال کھائوں گا سمجھیں۔‘‘
‎’’مجھے سوئیکار کر لو… مجھے…‘‘ وہ پھر اُٹھ گئی مگر اس بار میں نے اس کی گردن دبوچ لی تھی۔ مگر ایسے نہیں جیسے میں نے کشنا کی گردن دبوچی تھی۔ میں نے گردن پر ہلکا سا دبائو ڈال کر اسے بے ہوش کر دیا تھا۔ جب اس کا بدن بے سدھ ہوگیا تو میں نے اسے اُٹھا کر پلنگ پر ڈال دیا۔ سانس پھول گیا تھا، بُرا حال ہو رہا تھا۔ ایک آہٹ سی ہوئی اور میرا رُواں رُواں کانپ گیا۔ کوئی آ گیا اور اب… اب ایک دم گھوم کر دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ بڑی مشکل سے گردن گھمائی اور آنے والے کو دیکھا۔ بھوریا چرن تھا۔ ہنس رہا تھا۔ اپنی تمام شیطانی صفات کے ساتھ میرے سامنے تھا وہ۔
‎’’پورنی ماری ہے رے بہادر سورما۔ واہ رے مالک کے وفادار کتّے۔ ارے تے نے مالک کی بٹیا مار ڈالی اور خود کو کہے ہے مالک کا وفادار کتّا! ارے وہ پورنی نا ہے ہوشیار۔ تورے مالک کی لونڈیا ہے۔‘‘
‎’’بھوریا چرن ۔‘‘ میں نے سرد لہجے میں کہا۔
‎’’چھوڑیں گے نا تجھے حرام کھور۔ جیون کھراب کر دیا ہے تے نے ہمارا۔ تیرے جیون کو شانتی نا لینے دیں گے ہم وچن دیا ہے ہم نے بھی اپنے آپ کو۔‘‘
‎’’یہاں کیوں آیا ہے۔‘‘
‎’’تیرا رزق حلال بھنڈ کرنے… ہم تو رہیں ہی تیری ناک میں ہیں۔ سات پورنیوں میں سے ایک مار دی تے نے۔ ارے بدنصیب کسی سے پوچھ تو لیتا پورنی کا ہووے ہے۔ سارا جیون تیاگ دیں ہیں رشی منی ایک پورنی پانے کیلئے۔ ہم نے توکا سات دے دیں اور تے ان کا مارت ہے۔ ان کا دیا نہ کھائے ہے نہ پیئے ہے۔ کبھی مانگ تو سنسار میں کچھ ان سے۔ مہاراجہ بنا دیں گی تجھے، پر تیرا نصیب ہی بھنڈ ہے۔ کتّے جیسی درگت ہوگئی تیری پر اب بھی دھرم کی لاٹھی اُٹھائے ہوئے ہے۔ ایک پورنی مار دی تے نے۔ ہم سمجھ گئے کسی نے توکا بھٹکائی دیا تب ہم نے یہ سوچا کہ اب توکا سبق دئی ہیں۔ ہم نے تیرے مالک کی لونڈیا کو بگاڑا اور تے سمجھا او پورنی ہے۔ اب بیٹا آگے دیکھ ملے گا توکا رزق حلال… سب مار مار کر تیرا بھرکس نہ نکال دیں تو ہمارا نام نا ہے۔ کھا رزق حلال…!‘‘ وہ مڑا اور باہر نکل گیا۔
‎میرا دل دھاڑ دھاڑ کر رہا تھا۔ تیزی سے دروازے سے نکل کر دیکھا وہ غائب ہو چکا تھا۔ واپس درشہوار کے پاس آیا۔ میرا اندازہ دُرست نکلا تھا۔ آہ بھوریا چرن کو یہ معلوم نہیں تھا کہ میں پورنیوں کی پہچان جانتا ہوں، وہ یہ بات نہیں جانتا تھا۔ درشہوار گہری گہری سانسیں لے رہی تھی۔ اسے سنبھال کر لٹایا۔ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔ خدایا تیرا شکر ہے۔ اللہ تیرا احسان ہے۔ میں نے دل میں کہا۔ اس وقت باہر شور سنائی دیا اور پھر دروازے سے بہت سی آوازیں اُبھریں۔ حویلی کے ملازم تھے۔
‎’’کیا بات ہے… کیا شور تھا ڈرائیور صاحب…‘‘ ایک ملازم نے مجھے مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
‎’’شور، کہاں…؟‘‘ میں نے حیرت سے کہا۔
‎’’چھوٹی بٹیا کیوں چیخ رہی تھیں۔‘‘
‎’’وہ تو ایک بار بھی نہیں چیخیں۔ تمہیں دھوکا ہوا ہے لیکن وہ شاید بے ہوش ہوگئی ہیں۔‘‘
‎’’بے ہوش؟‘‘ بہت سی آوازیں اُبھریں۔
‎’’ہاں۔‘‘

‎’’تم یہاں کیا کر رہے ہو۔‘‘ ایک معمر ملازم نے پوچھا۔
‎’’یہ دوائیں لے کر آیا تھا۔‘‘
‎’’اس وقت۔‘‘
‎’’ہاں میں تو اپنے کمرے میں تھا۔‘‘ جمیلہ نے کہا تھا کہ چھوٹی بی بی دوائیں منگوا رہی ہیں۔ میں گاڑی سے دوائیں لے کر یہاں آیا تو انہیں بے ہوش دیکھا۔
‎’’مگر ہم ان کے شور کی آوازیں سن کر آئے ہیں۔‘‘
‎ملازم عورتیں درشہوار کے پاس آ کر اسے ٹٹولنے لگیں۔ ملازموں کو مجھ پر شک ہوگیا تھا۔ معمر ملازم حیات خان نے دو ملازموں سے کہا کہ وہ شادی والے گھر جا کر درشہوار بی بی کے بے ہوش ہونے کی اطلاع دیں اور حاجی صاحب کو بلا لائیں۔ وہ دونوں چلے گئے تو ملازم عورتوں کو درشہوار کی خبرگیری کرنے کیلئے کہا اور مجھ سے بولا۔
‎’’آئو… باہر آ جائو…‘‘ میں باہر نکل آیا۔ تب وہ مجھ سے سے بولا۔ ’’ڈرائیور صاحب برا مت ماننا۔ میں بیس سال سے اس گھر کا نمک کھا رہا ہوں۔ بڑا فرض ہے مجھ پر۔ اس حویلی کی حفاظت کا کام مجھے ہی دیا گیا ہے۔ ڈرائیور صاحب، ہمیں چھوٹی بٹیا کی چیخیں سنائی دیں۔ ہم یہاں پہنچے تو وہ ہمیں بے ہوش ملیں اور تم ان کے کمرے میں، ہمیں تم پر شک ہوگیا ہے۔ اس لیے جب تک مالک نہ آ جائیں تم ہمارے ساتھ رہو گے کہیں جائو گے نہیں۔‘‘
‎’’میں کہیں نہیں جا رہا حیات بابا۔‘‘
‎’’اپنے کمرے میں چلو۔‘‘ حیات خان نے کہا اور میں خاموشی سے اپنے کمرے میں آ گیا۔ حیات خان نے دُوسرے ملازموں کی ڈیوٹی لگائی۔ کچھ کو میرے کمرے کے سامنے میری نگرانی کے لیے چھوڑا کچھ کو باہر ڈیوٹی پر لگا دیا اور پھر خود کمرے میں آ گئے۔
‎’’جی حیات بابا…!‘‘ میں نے انہیں بیٹھتے دیکھ کر کہا۔
‎’’کچھ نہیں ڈرائیور صاحب۔‘‘
‎’’آپ یہاں کیسے بیٹھے ہیں؟‘‘
‎’’وہ بس…! ذرا بڑے مالک آ جائیں۔‘‘
‎’’آپ فوراً باہر چلے جایئے۔ اس کمرے کے دروازے کے باہر بیٹھ کر آپ اپنا حق نمک ضرور ادا کریں، مجھے اعتراض نہیں۔‘‘
‎’’تم برا مان گئے ڈرائیور صاحب۔ دراصل…!‘‘
‎>’’حیات خان، فوراً باہر نکل جائو۔‘‘ میں نے کرخت لہجے میں کہا اور حیات خان اُٹھ گئے۔ مجھے ان کا یہاں رُکنا بہت بُرا لگا تھا۔ ان کے باہر نکلنے کے بعد میں نے دروازہ بند کر لیا تھا۔ اور پھر میں اس بارے میں سوچنے لگا۔ بڑی خطرناک چال چلی تھی بھوریا چرن نے۔ خدانخواستہ اگر میں اسے پورنی سمجھ کر ہلاک کر دیتا۔ بڑا رحم ہوا تھا مجھ پر، اوّل تو مجھے پورنیوں کی اہم شناخت بتا دی گئی تھی۔ دوم مہتاب علی سے ہونے والی گفتگو نے مجھے سوچنے کا موقع دیا تھا۔
‎بستر پر لیٹ گیا۔ سوچتا رہا پھر نیند آ گئی۔ صبح ہی آنکھ کھلی تھی۔ رات کے واقعات یاد آئے اور دل دھک دھک کرنے لگا۔ اندازہ لگانے کیلئے دروازے پر پہنچا۔ دروازہ کھول کر باہر جھانکا، کوئی نہیں تھا۔ مگر بہت دُور کچھ فاصلے پر جمیلہ کی جھلک نظر آئی تھی۔ منہ ہاتھ وغیرہ دھو کر فارغ ہوا تھا کہ جمیلہ تیزی سے آتی نظر آئی۔ میرے قریب پہنچ کر بولی۔

‎’’بڑے مالک بلا رہے ہیں ڈرائیور صاحب…!‘‘ حاجی فیاض صاحب اپنے کمرے میں تھے۔ ایک سمت حیات خان کھڑا ہوا تھا۔ میرے سلام کا جواب دے کر حاجی صاحب بولے۔
‎’’مسعود میاں۔ وہ رات کو کچھ غلط فہمی ہوگئی تھی حیات خان کو۔ تم سے کچھ بدتمیزی کر بیٹھے یہ۔‘‘
‎’’درشہوار بی بی کی طبیعت اب کیسی ہے۔‘‘ میں نے بے اختیار پوچھا۔
‎’’ٹھیک ہے، کوئی بات بھی نہیں تھی دراصل وہ زیادہ رش سے گھبرا جاتی ہے۔ اعصابی دبائو کا شکار ہو گئی تھی۔ سب بالکل ٹھیک ہے۔‘‘
‎’’جی!‘‘
‎’’حیات خان رات کے واقعے پر شرمندہ ہیں تم سے معافی مانگنا چاہتے ہیں۔‘‘
‎’’کوئی بات نہیں ہے۔ ان کا شک دُور ہوگیا۔‘‘
‎’’جی ڈرائیور صاحب ہم شرمندہ ہیں۔‘‘
‎’’میں نے آپ کی وفاداری کا بُرا نہیں مانا۔‘‘
‎بات ختم ہوگئی، شادی کے ہنگامے ابھی باقی تھے۔ وہ دن گزر گیا دُوسرے دن دوپہر کو درشہوار نے مجھے بلایا۔ اس وقت بھی تمام لوگ وہیں گئے ہوئے تھے۔ میں نے دو چکر لگائے تھے اور آخر میں مجھے شام کو درشہوار کو لے کر جانا تھا جس کیلئے ہدایت کر دی گئی تھی۔ میں اس کے کمرے میں پہنچ گیا۔
‎’’جی چھوٹی بٹیا؟‘‘
‎’’یہ پتہ رکھ لو مسعود۔ تھوڑی دیر کے بعد یہاں چلے جانا ، میری دوست صفیہ تمہارے ساتھ یہاں آ جائے گی۔ شام کو اسے ہمارے ساتھ جانا ہے۔‘‘
‎میں نے کاغذ لے لیا۔ ’’پڑھ سکتے ہو…؟‘‘
‎’’جی ہاں…!‘‘
‎’’کوئی پونے گھنٹے کے بعد چلے جانا۔‘‘
‎’’جی بہتر…!‘‘ میں بیٹھا تو اس نے مجھے پھر پکارا۔
‎’’سنو…!‘‘ اور میں رُک گیا۔ ’’جلدی ہے جانے کی…؟‘‘
‎’’جی نہیں۔‘‘
‎’’مجھ سے بات کرنا پسند کرو گے؟‘‘ اس نے عجیب سے لہجے میں پوچھا اور میں چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ درشہوار کا لہجہ بدلا ہوا تھا۔
‎’’حکم دیجئے…؟‘‘
‎’’میں نے تم سے بہت بدتمیزی کی ہے۔ بہت سختی سے پیش آئی ہوں تمہارے ساتھ، مجھے اس پر شرمندگی ہے۔ میں تم سے معافی مانگنا چاہتی ہوں مسعود…!‘‘
‎’’نہیں چھوٹی بی بی۔ آپ میرے مالک کی بیٹی ہیں۔‘‘
‎’’مگر تم فرشتہ صفت انسان ہو۔ مسعود میری کیفیت کے بارے میں کچھ بتائو گے۔‘‘
‎’’جی؟‘‘

‎’’پلیز مجھے بتائو، مجھے ایک ایک لمحہ یاد ہے۔ مجھے یاد ہے میں تم سے کیا کہہ رہی تھی۔ میں بہت بے باک ہوگئی تھی مسعود۔ مگر خدا کی قسم میں اپنے حواس میں نہیں تھی۔ مجھے یوں لگتا تھا جیسے کوئی انجانی قوت میرے وجود میں داخل ہوگئی ہو۔ وہی مجھ سے یہ سب کہلوا رہی ہو۔ میں اس کے ہاتھوں بے بس ہوگئی تھی۔ کیا تم میری باتوں پر یقین کر سکو گے؟‘‘
‎’’کیوں نہیں۔ آپ سچ کہہ رہی ہوں گی۔‘‘
‎’’اس نے مجھے بے بس کر دیا تھا مگر مسعود تم نے مجھے بچا لیا۔ خدا تمہیں اس کا اَجر دے۔‘‘
‎’’اب آپ ٹھیک ہیں؟‘‘
‎’’ہاں! وہ شرمندہ لہجے میں بولی، پھر اس نے کہا۔ ’’تم نے کسی سے اس کا تذکرہ تو نہیں کیا؟‘‘
‎’’نہیں۔‘‘
‎’’آئندہ بھی مت کرنا، تمہارا احسان ہوگا مجھ پر۔‘‘
‎’’آپ بالکل اطمینان رکھیں۔‘‘
‎’’تم بہت شریف انسان ہو، تم نے میرا ہر راز راز رکھا ہے۔ بس میری طبیعت بہت چڑچڑی ہے۔ نہ جانے کیوں ہر بات پر بہت جلد غصہ آ جاتا ہے۔ لوگ بھی تو مجھے چڑاتے ہیں۔ تم عظیم کے بارے میں جانتے ہو؟‘‘
‎’’کیا…؟‘‘
‎’’مجھے اس سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حاجی صاحب کی عقل خبط ہوگئی ہے، وہ گوشت اور ہڈیوں کا پہاڑ۔ عقل سے عاری انسان میری تقدیر کا مالک بنایا جا رہا ہے۔ مجھے ساری زندگی کے عذاب میں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کیسے دماغ پر قابو رکھوں، یہ تصور ذہن میں آتا ہے تو خون خرابہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ دیکھو نا کیسی زبردستی ہے، میرے سانس بھی مجھ سے چھینے جا رہے ہیں۔ دل چاہتا ہے کہ کسی طرح وہ اس دُنیا سے چلا جائے یا میں۔‘‘
‎’’میرا خیال ہے حاجی صاحب آپ پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کریں گے۔‘‘
‎’’ارے تم انہیں نہیں جانتے، بڑے عجیب و غریب انسان ہیں وہ۔‘‘
‎’’خدا کرے ایسا نہ ہو۔‘‘
‎’’میرا دل ہلکا ہوگیا ہے تم سے معافی مانگ کر، مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا گیا تھا۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘
‎’’اس بے وقوف حیات خان نے تم پر شک کیا تھا، میں نے خود بھی اسے خوب ڈانٹا ہے، کچھ ضرورت سے زیادہ ہوشیار بنتا ہے وہ۔‘‘
‎’’وفادار ہے۔‘‘
‎’’جانوروں سے زیادہ، ارے ہاں مسعود تم کتنے لکھے پڑھے ہو؟‘‘
‎’’ضرورت کے مطابق۔‘‘
‎’’لکھنے پڑھنے کا کام نہیں کر سکتے؟‘‘
‎’’کر سکتا ہوں۔‘‘
‎’’پھر ڈرائیور کیوں ہو؟‘‘
‎’’یہ بھی کام تو ہے۔‘‘
‎’’تم نے اپنی خوشی سے اپنایا ہے؟‘‘
‎’’حاجی صاحب نے حکم دیا تھا۔‘‘

‎’’میں ان سے بات کروں گی، اب تم جائو ایک بار پھر تمہارا شکریہ۔‘‘ میں باہر آ گیا، مجھے خود بھی خوشی تھی۔
‎شادی کے ہنگامے ختم ہوگئے، زندگی معتدل ہوگئی مجھے درشہوار سے ہونے والی گفتگو یاد بھی نہ رہ گئی تھی لیکن حاجی صاحب نے مجھے بلایا۔
‎’’مسعود تم کھاتے وغیرہ دیکھ سکتے ہو۔ کاروباری پارٹیوں سے مل سکتے ہو؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
‎’’آپ جو حکم دیں گے کروں گا۔‘‘
‎’’نہیں میرا مطلب ہے تم پڑھے ہوئے ہو نا۔‘‘
‎’’جی ہاں۔‘‘
‎’’کمال ہے اس بات پر غور نہیں کیا تھا میں نے، مہتاب علی بھی خوب ہیں کل میں تمہیں دفتر لے جائوں گا۔‘‘ دُوسرے دن وہ مجھے اپنے ساتھ دفتر لے گئے۔ اپنے منیجر نوشاد مجید کو بلایا اور مجھے اس سے ملواتے ہوئے کہا۔ ’’نوشاد میں انہیں تمہارا اسسٹنٹ بنا رہا ہوں، انہیں پورا کام سکھائو۔ تم بہت دنوں سے ایک اسسٹنٹ کی فرمائش کر رہے تھے۔ نوشاد کوئی 35 سال کی عمر کا خوش شکل آدمی تھا، بعد میں وہ خوش مزاج بھی ثابت ہوا۔ اب میں اس کے ساتھ ہی بیٹھتا تھا۔ دفتر کے بہت سے کام میں نے سنبھال لیے تھے۔ میری تنخواہ میں اضافہ کر دیا گیا تھا اور سب سے زیادہ مہتاب علی اس بات سے خوش ہوئے تھے۔ کوٹھی سے اب کوئی رابطہ نہیں رہا تھا اس لیے ادھر بالکل جانا نہیں ہوتا تھا البتہ یہ بھی جانتا تھا کہ یہ سب کچھ درشہوار کی مہربانی سے ہوا ہے۔ اس دن حاجی صاحب خاص طور سے دفتر آئے انہوں نے نوشاد سے کہا۔
‎’’نوشاد… وہ رانی مہاوتی کی ساڑھیاں بالکل تیار ہوگئی ہیں۔‘‘
‎’’جی حاجی صاحب… رگھبیر نے مجھے آج ہی خبر دی ہے۔‘‘
‎’’تم نے دیکھ لیں؟‘‘
‎’’ابھی نہیں۔‘‘
‎’’کل صبح کارخانے چلے جائو، آخری نگاہ ڈال کر انہیں پیک کرا دو، اور پھر بھٹنڈہ چلے جائو، رانی صاحبہ کا آدمی دو بار آ چکا ہے اب دیر نہیں ہونی چاہئے۔‘‘
‎’’جی حاجی صاحب۔‘‘
‎’’بلکہ مسعود کو بھی ساتھ لے جائو، ایسے کاموں سے ان کی واقفیت ضروری ہے۔‘‘
‎’’بہت بہتر۔‘‘ حاجی صاحب کے جانے کے بعد نوشاد نے کہا۔ ’’چلو اچھا ہے سیر و تفریح بھی ہو جائے گی، بہت دن سے بنارس سے باہر جانا نہیں ہوا۔‘‘
‎’’جی نوشاد صاحب۔‘‘
‎’’یار ایک تو تمہاری یہ سعادت مندی سے مجھے چڑ ہے۔ میں تمہیں دوست بنانا چاہتا ہوں مگر تم صرف ماتحت بننے پر تلے ہوئے ہو۔‘‘
‎’’ماتحت تو میں ہوں نوشاد صاحب۔‘‘
‎’’گویا دوست نہیں بن سکتے؟‘‘
‎’’یہ آپ کی مہربانی ہے۔‘‘

‎’’تو برادرم یہ مہربانی قبول کر لو۔ ویسے دورے بڑے دلچسپ ہوتے ہیں، ہمارا مال تو پورے ہندوستان میں سپلائی ہوتا ہے مگر ایسی رانیوں اور راجکماریوں کے آرڈر بھی آتے رہتے ہیں جو چاہتی ہیں کہ ان کے لباس پورے ہندوستان میں منفرد ہوں اوریہ ڈیزائن صرف ان کیلئے بنائے جائیں۔ آنکھیں بند کر کے قیمت دیتی ہیں، ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے جو عیش ہوتے ہیں وہ منافع میں۔



’’مگر نوشاد صاحب رانیاں اور راجکماریاں اب اس دور میں۔‘‘
’’کیوں… ؟‘‘
’’ریاستیں تو ختم ہو چکی ہیں۔‘‘
’’ریاستیں ختم ہوگئی ہیں راجہ رانیاں تو نہیں ختم ہوئے۔ وظیفے ملتے ہیں اور اتنے ملتے ہیں کہ وہ اب بھی راجہ رانیاں ہیں۔‘‘
’’اوہ… یہ معاملہ ہے۔‘‘
’’اور بھی بہت کچھ ہے جان من، تم چلو تو۔‘‘ نوشاد نے مسکراتے ہوئے کہا۔
دُوسرے دن میں بھی نوشاد کے ساتھ مصروف رہا تھا۔ مہتاب علی کو اپنے جانے کے بارے میں بتا دیا تھا۔ ساڑھیاں بلاشبہ خوبصورت تھیں۔ تمام تیاریاں ہوگئیں اور میں اور نوشاد چل پڑے۔ ریل کے سفر کے دوران نوشاد نے کہا۔
’’ہم شکتی پور اُتریں گے۔‘‘
’’کہاں…؟‘‘ میں چونک پڑا۔
’’شکتی پور، وہاں سے گاڑی لے کر بھٹنڈہ جائیں گے۔‘‘
’’ریل بھٹنڈہ نہیں جاتی؟‘‘
’’جاتی ہے لیکن شکتی پور میں ہمارا سپلائر بھگوتی پرشاد رہتا ہے۔ یہ آرڈر اسی کے توسط سے ملا ہے، اسے بھی ساتھ لے جانا ہوگا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘ میں نے گردن ہلا دی۔
’’اور پھر یار… وہاں اپنے کچھ اور رشتے دار بھی رہتے ہیں تمہیں بھی ان سے ملائیں گے‘‘ نوشاد نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا۔ میں اس کی بات کو سمجھ نہیں سکا تھا۔ شکتی پور پہنچ گیا۔ بڑی یادیں وابستہ تھیں یہاں سے، حاجی فیاض کے ایجنٹ بھگوتی پرشاد نے بڑا اچھا خیرمقدم کیا۔ سارے انتظامات کئے اور کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔ شام کو نوشاد نے مجھ سے تیار ہونے کیلئے کہا اور بولا ’’بہت عمدہ سے کپڑے پہن لو، بڑی مہمان نوازی ہوگی۔‘‘ میں نے اس کی ہدایت پر عمل کیا تھا پھر ہم چل پڑے مگر جب تانگہ اس بازار میں داخل ہوا جہاں میں رتنا کی حیثیت سے کافی وقت گزار چکا تھا تو میرا دل دھڑکنے لگا۔ مجھے یہاں آنے کی اُمید نہیں تھی رما رانی کشنا سب یاد آ گئے۔
’’یہاں کہاں؟‘‘ میں نے گھبرائے ہوئے لہجے میں پوچھا۔
’’یہیں تو اپنے رشتے دار رہتے ہیں۔ یار سارے رشتے دل کے ہوتے ہیں اور میاں اپنی ایک دلدادہ ہے لکشمی۔‘‘
’’لل… لکشمی؟‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
’’ہاں! بہنیں تو دو تین ہیں مگر لکشمی سے اپنی چھنتی ہے۔‘‘
’’وہ اب یہاں کہاں؟‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’ایں … کیا؟‘‘
’’نہیں کچھ نہیں۔‘‘
’’گھبرا رہے ہو کچھ۔‘‘

’’ہاں۔‘‘
’’اماں زندگی کے مزے لوٹو، جو نہیں دیکھا وہ دیکھو، اسی کا نام زندگی ہے۔‘‘ ہم تانگے سے اُتر گئے۔ میرے قدم بوجھل ہو رہے تھے۔ لکشمی اس بازار میں ایک ہی تھی، کشنا کی بہن، اور بنارس میں جو کچھ ہو چکا تھا اس کے بعد یہاں کچھ نہیں ہونا چاہئے۔ لیکن کوٹھا آباد تھا نہ جانے کس کیفیت میں، میں اُوپر پہنچا اور سب سے پہلے مالتی نے مجھے دیکھا۔
’’ارے رتنا تو آ گیا، رماجی… اپنا رتنا آ گیا۔ رتنا آ گیا رماجی…‘‘ مالتی چیختی اندر دوڑ گئی۔ نوشاد بوکھلا کر مجھے دیکھنے لگا۔ میرا حلق بند ہوا جا رہا تھا۔ رما رانی آئیں، رادھا اور لکشمی بھی آ گئیں رما رانی نے میرا سر سینے سے لگا لیا تھا۔
’’میرا دل کہتا تھا رتنا تو ایک بار ضرور آئے گا۔ آسانی سے نہیں بھولے گا ہمیں۔‘‘ ان کی آواز گلوگیر ہوگئی۔ مجھے فوراً ہی کوئی قدم اُٹھانا تھا ورنہ ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہو جاتا۔ نوشاد الگ سر کھجا رہا تھا۔ میں نے رما رانی سے خود کو چھڑاتے ہوئے کہا۔ ’’نوشاد صاحب یہ سب کچھ… یہ سب کچھ کیا ہے؟‘‘
’’ایں… اماں تم بتائو، میں کیا بتائوں، تم تو ہم سے بھی پرانے کھلاڑی نکلے۔‘‘ نوشاد نے کہا۔
’’یہ مجھے رتنا کہہ رہی ہیں۔‘‘
’’ہیں…‘‘ نوشاد کے بجائے رما رانی بولیں۔ پھر ان کے چہرے پر بڑا کرب اُبھر آیا۔ انہوں نے اِدھر اُدھر دیکھ کر کہا۔ ’’تم… آپ… رتنا… رتنا۔‘‘
’’پر… ان کا نام رتنا تو کسی طرح نہیں ہو سکتا۔ یہ مسعود احمد ہیں ویسے رما جی آپ کو دھوکا بھی ہو سکتا ہے‘‘ نوشاد نے کہا۔
’’ہاں! ایسا ہی ہوا ہے، معافی چاہتی ہوں۔‘‘ رما نے سسکتی ہوئی آواز میں کہا۔ آیئے آپ لوگ اندر آیئے۔
’’لکشمی تم کیسی ہو۔ ذرا تم سے کچھ باتیں کرنی ہیں۔ رما جی آپ کی محفل سج گئی۔‘‘ نوشاد نے پوچھا۔
’’ابھی کچھ دیر ہے مگر آیئے۔‘‘ رما رانی نے کہا، نوشاد لکشمی کے ساتھ اندر چلا گیا۔ مجھے بڑے کمرے میں لے جایا گیا۔ بری طرح گھبراہٹ سوار تھی، مجھ پر تو دُہری بیت رہی تھی۔ ان لوگوں سے رابطے تھے اور پھر بنارس میں جو کچھ ہوا… مالتی البتہ بگڑ گئی۔
’’ارے بہت بن رہے ہو رتنا جی… ہم نا پہچانیں گے تمہیں، ہم… بھاگ گئے ٹھیک ہوتے ہی، کشنا کا حال بھی پوچھا تم نے؟‘‘
’’کیوں بک بک کر رہی ہو مالتی… اگر یہ وہ بھی ہیں تو رتنا تو نہیں تھے۔ ہم نے نام رکھ دیا تھا ان کا رتنا، اس وقت یہ بیمار تھے اب ٹھیک ہوگئے ہیں۔ جا تو اپنا کام کر۔‘‘ رما رانی نے اسے ڈانٹا۔
’’ارے اچھے ٹھیک ہوگئے… واقعات ہی بھول گئے۔‘‘
’’چل تو باہر چل، بکے جا رہی ہے۔‘‘ رما رانی مالتی کو باہر لے گئیں۔ رادھا رہ گئی تھی، اس نے دُکھ بھرے لہجے میں کہا۔
’’کشنا… جب سے تم گئے ہو بیمار ہے۔ چپ رہتی ہے اندر اندر گھٹتی ہے۔ سوکھ کر کانٹا ہوگئی ہے، علاج ہو رہا ہے مگر اس کا علاج تمہارے پاس ہے، ملو گے اس سے؟‘‘

’’ہو سکتا ہے میری صورت کسی رتنا سے ملتی ہو۔‘‘ مگر میرے سلسلے میں آپ لوگوں سے بھول ہو رہی ہے۔ میں یہاں پہلی بار آیا ہوں۔ ہاں مجھے یہ احساس ضرور ہو رہا ہے کہ میں نے… میں نے بنارس میں آپ لوگوں کو ضرور دیکھا ہے۔‘‘
’’کاشی جی میں؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’وہاں تو ہم کبھی نہیں گئے۔‘‘ رادھا اُداس لہجے میں بولی۔
جب تک یہاں رہا شدید گھٹن کا شکار رہا۔ کم از کم یہ اندازہ ضرور ہوگیا کہ وہ فریب تھا بھوریا چرن کا جال تھا۔ وہ سب اَرواح خبیثہ تھیں مگر کتنی خوفناک کوشش تھی اس کمبخت کی۔ واپسی میں نوشاد نے بھی بڑی حیرت کا اظہار کیا۔ لکشمی یہ ماننے کو تیار نہیں تھی کہ میں رتنا نہیں ہوں۔
بھگوتی پرشاد نے دوسرے دن انتظامات کئے۔ ہم شام کی گاڑی میں بیٹھ کر بھٹنڈہ چل پڑے۔ رات کو وہاں پہنچے، یہاں بھی ٹھہرنے کا انتظام ایک گھر میں کیا گیا تھا۔ صبح کو رانی صاحبہ سے اجازت لے کر ان کی خدمت میں حاضری دینا تھی۔ جس گھر میں قیام کیا گیا تھا وہ پرانے طرز کا اور بہت وسیع تھا۔ لق دق احاطہ جس کی دیواریں جگہ جگہ سے ٹوٹی پھوٹی تھیں۔ قطار میں بنے ہوئے کمرے۔ احاطے میں املی کے بے شمار درخت، جس کمرے میں، میں اور نوشاد ٹھہرے تھے وہ بھی بہت بڑا تھا۔ عقب میں ایک بہت بڑی کھڑکی تھی جس میں سلاخیں نہیں تھیں بس پٹ لگے ہوئے تھے۔ کھانے وغیرہ کا انتظام ایک مسلمان ہوٹل سے کیا گیا تھا۔ ہم دونوں باتیں کر رہے تھے۔ موضوع وہی رما رانی تھیں۔
’’ضرور کوئی ایسی شخصیت تھی جو بالکل تمہاری ہم شکل ہو۔‘‘ نوشاد نے کہا۔
’’ایسا ہی لگتا ہے۔‘‘
’’لکشمی کہہ رہی تھی کہ اس کی بہن کشنا، رتنا کی جدائی سے پاگل ہوگئی ہے۔ وہ اسے چاہتی تھی۔ ویسے یار تمام بہنوں میں سب سے زیادہ حسین تھی وہ… یہ واقعی تعجب ہوا ہے۔‘‘
’’ہاں… بعض اوقات بڑے عجیب واقعات ہوتے ہیں! بہت دیر تک ہم باتیں کرتے رہے پھر نوشاد سو گیا۔ میں کھلی کھڑکی سے باہر تاریک رات میں جھانک رہا تھا۔ میرا بستر کھڑکی کے عین سامنے تھا۔ املی کا ایک گھنا درخت تھوڑے ہی فاصلے پر نظر آ رہا تھا جس کا پھیلائو بے حد وسیع تھا۔ اس کی مناسبت سے اس کا تنا چوڑا تھا۔ میں بے خیالی کے عالم میں اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ کشنا بار بار دماغ میں اُبھر رہی تھی۔ وہ سب تو جعلی تھے جو بنارس میں مجھے ملے تھے لیکن کمبختوں نے کسی بات میں بھی تو شک نہ ہونے دیا۔ سب کچھ بالکل وہی تھا سوائے اس آخری رات کے۔ مگر میں کشنا کیلئے کیا کرتا۔ اگر اس سے مل بھی لیتا تو کیا ہوتا سوائے دل پر بوجھ لینے کے۔
پھر میرے خیالات کا طلسم ٹوٹ گیا۔ جو کچھ دیکھا تھا کھلی آنکھوں سے دیکھا تھا کوئی وہم نہیں تھا۔ املی کے درخت سے ایک سفید سایہ آہستہ آہستہ بڑی احتیاط کے ساتھ نیچے اُتر رہا تھا۔ میں اُچھل کر بیٹھ گیا۔ کوئی انسان ہی تھا مگر کون… اس نے زمین پر قدم جمائے اور پھر اس کا رُخ کھلی کھڑکی کی طرف ہوگیا۔ وہ ادھر ہی آ رہا تھا۔ میرے بدن میں سنسنی دوڑنے لگی… کچھ دیر کے بعد پُراسرار سفید سایہ کھڑکی کے پاس پہنچ گیا۔ اب وہ اس پر چڑھ رہا تھا۔
میں پلنگ پر پائوں لٹکائے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔ کمرے میں اندھیرا تھا جب کہ باہر مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ باہر سے آنے والے کو یقیناً اس تاریک کمرے میں کچھ نظر نہیں آ رہا ہو گا لیکن وہ کون ہے، کوئی چور یا پھر کچھ اور۔ کچھ اور کا خیال مجھے اس لئے آیا تھا کہ وہ میرے سامنے املی کے درخت سے نیچے اترا تھا۔ دل چاہا کہ نوشاد کو جگا دوں مگر ایسا نہ کر سکا۔ نوشاد کرے گا بھی کیا سوائے شور مچانے کے۔ سایہ کھڑکی کے راستے اندر آ گیا۔ میں سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا۔ کچھ لمحوں کے بعد مجھے احساس ہوا کہ وہ کوئی عورت ہے اور درحقیقت اسے کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ وہ دونوں ہاتھ پھیلائے آگے بڑھ رہی تھی اور اس سے پہلے کہ میں اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرتا، وہ نوشاد کے پلنگ سے ٹکرائی اور اس پر ڈھیر ہو گئی۔
’’ٹٹ ٹوٹ گیا۔ ٹوٹ گیا۔ بچائو بچائو۔‘‘ نوشاد چیخا اور اس کے ساتھ ہی سایہ بھی چیخ پڑا۔ نسوانی چیخ کے ساتھ ہی آواز بھی ابھری۔
’’نہیں۔ بھگوان کے لئے نہیں۔ نہیں۔‘‘
’’ایں۔‘‘ اس بار نوشاد کی آواز سنبھلی ہوئی تھی۔
’’چھوڑ۔ مجھے چھوڑدو۔ تمہیں بھگوان کا واسطہ۔‘‘
’’کک کون ہو تم۔‘‘ نوشاد گھگھیا کر بولا۔ اسی وقت میں نے اپنی جگہ سے اٹھ کر روشنی جلا دی۔ غالباً پچیس واٹ کا نہایت دھندلا اور پرانا بلب یہاں لگا ہوا تھا جس کی مدھم روشنی بھی نہایت بدنما تھی۔ نوشاد نے لڑکی کو چھوڑ دیا اور لڑکی اندھوں کی طرح دوڑی۔ اس بار وہ مجھ سے ٹکراتے ٹکراتے بچی تھی۔ اس نے مجھے بھی دیکھ لیا اور اس کا چہرہ مزید دہشت زدہ ہو گیا۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑے اور رندھی ہوئی آواز میں بولی۔
’’بھگوان کے لئے مجھے چھوڑ دو۔ بھگوان کے لئے ایسا نہ کرو۔ تمہیں دعائیں دوں گی۔‘‘

میں نے لڑکی کو بغور دیکھا۔ چیتھڑے جھول رہے تھے اس کے بدن پر۔ سفید لباس مٹیالا ہو رہا تھا اور جگہ جگہ سے پھٹا ہوا تھا۔ نقوش بے حد جاذب نظر، آنکھیں بڑی بڑی مگر خوف میں ڈوبی ہوئی، بال گھنے اور سیاہ مگر بری طرح الجھے ہوئے۔ عمر بیس، بائیس سال سے زیادہ نہیں ہو گی۔ نوشاد بھی اپنے پلنگ سے نیچے اتر آیا تھا۔ وہ لڑکی کو سر سے پائوں تک دیکھ رہا تھا۔
’’ہم نے تمہیں پکڑا کہاں ہے اور مگر۔‘‘ نوشاد نے چھت کی طرف دیکھا پھر میری طرف۔ ’’یہ ٹپکی کہاں سے ہے؟‘‘ نوشاد کے لہجے میں تمسخر تھا۔ مجھے یہ بے رحمی محسوس ہوئی۔ میں نے نرم لہجے میں کہا۔
’’تم اگر جانا چاہو تو جا سکتی ہو۔ جس کھڑکی سے تم آئی ہو دل چاہے تو اس سے ورنہ یہ دروازہ سامنے ہے۔‘‘
’’تم… یہاں رہتے ہو؟‘‘
’’ہاں!‘‘
’’مجھے کچھ کھانے کو دو گے۔ کوئی بھی چیز، میں دو دن سے بھوکی ہوں۔ پیاسی بھی ہوں۔ کوئی بھی چیز دے دو چاہے وہ اتنی سی ہو۔ سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی ہو تو کھا لوں گی بس اتنا سا ہو۔‘‘ اس نے عاجزی سے کہا۔
’’کچھ انتظام کرو نوشاد۔‘‘
’’ایں ہاں ابھی لو۔‘‘ نوشاد نے کہا اور تیزی سے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ لڑکی نے خوف بھری نظروں سے دروازے کو دیکھا پھر خشک ہونٹوں پر زبان پھیر کر بولی۔ ’’وہ، وہ کسی کو بتا تو نہ دے گا۔ وہ انہیں خبر تو نہ کر دے گا؟‘‘
’’کسے؟‘‘
’’انہیں انہیں۔ وہ سب لونا چماری کے داسی ہیں۔ لونا چماری مجھے بھی۔ … وہ میرے خون سے نہائے گی۔ پہلے میری گردن کاٹ دے گی پھر اسے اوپر لٹکا دے گی۔ اس طرح میرے شریر کو بھی، میرا خون اس پر گرے گا اور وہ منتر پڑھتی جائے گی۔ ہائے رام۔ ہائے رام۔‘‘ وہ رونے لگی۔ اس کا بدن تھر تھر کانپنے لگا۔
’’سنو۔ سنو۔ وہ کسی کو کچھ نہیں بتائے گا۔ وہ میرا دوست ہے۔ بس تمہارے لئے کھانے کو لائے گا۔ کسی کو کچھ نہیں بتائے گا وہ۔‘‘
’’دو دن ہو گئے۔ پورے دو دن۔ پہلے میں ایک سوکھے نالے میں چھپی رہی، وہاں کچھ لوگ نظر آئے تو بھاگ کر یہاں آ گئی۔ املی کے پیڑ پر چڑھ گئی۔ مگر میں نے انہیں دیکھا ہے۔ وہ مجھے ڈھونڈتے پھر رہے ہیں۔ بڑی بھوکی ہوں میں، میں نے سوچا اس گھر میں رسوئی ہو گئی، کچھ کھانے کو مل جائے تو۔‘‘ اس نے سہمی ہوئی نظروں سے دروازے کی طرف دیکھا…؟‘‘
’’لونا چماری کون ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’مجھے کیا معلوم۔ پوچھے جا رہے ہو۔ مجھ سے بولا نہیں جا رہا۔‘‘ اس نے جھلا کر کہا۔ بڑی پیاری لگی وہ اس انداز میں۔ میں خاموش ہو گیا۔ بڑا ترس آ رہا تھا اس پر، مگر اس کی کہانی بڑی عجیب تھی۔ دروازے پر آہٹ ہوئی تو وہ چونک پڑی۔ اس نے کھلی کھڑکی کی طرف دیکھا پھر دروازے کی طرف پھر دہشت زدہ نگاہوں سے مجھے۔ مگر آنے والا نوشاد ہی تھا۔ اس کے ہاتھوں میں پتوں سے بنے دونے تھے جن میں سے ایک میں پوریا اور کچھ لڈو رکھے ہوئے تھے، دوسرے میں ترکاری تھی۔
’’پوریاں بس تین ہیں۔ تھوڑے سے لڈو کھا لینا، کام چل جائے گا۔‘‘ نوشاد نے یہ چیزیں آگے بڑھاتے ہوئے کہا اور اس نے بلی کی طرح انہیں جھپٹ لیا۔ پھر وہ وہیں زمین پر بیٹھ گئی۔

’’پانی۔ پانی نہیں ملا؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’وہ بھی آ جائے گا تم کھائو۔‘‘
’’بھگوان تمہیں سکھی رکھے۔ بھگوان کرے۔ کبھی بھوکے نہ مرو…‘‘ وہ پوریاں ٹٹولنے لگی۔ بہت خوبصورت لڑکی تھی مگر بڑی ناقدری کی شکار، جو کچھ اس نے مجھے بتایا تھا وہ نوشاد کو معلوم نہیں تھا مگر میں اس کی کہانی میں الجھا ہوا تھا اور نوشاد اسے مسلسل گھور رہا تھا۔ اس نے ایک سالم پوری منہ میں ٹھونس لی تھی اور دوسری ہاتھ میں دبا رکھی تھی۔ ساتھ ساتھ وہ بولتی بھی جا رہی تھی۔ ’’بس ان کا خطرہ ہے، وہ مجھے جگہ جگہ کھوجتے پھر رہے ہیں۔ وہ تو میں بہت تیز دوڑتی ہوں ورنہ ان کے ہاتھ آ جاتی۔ بھگوان کرے۔‘‘ اچانک دروازے کا پٹ زور سے کھلا اور وہ دہشت سے چیخ پڑی۔ اس کے ساتھ ہی بجلی سی کوند گئی، ایسی نپی تلی چھلانگ لگائی اس نے کہ سیدھی کھڑکی سے باہر جا کر گری۔ اس طرح دروازہ کھلنے سے ہم دونوں بھی اچھل پڑے۔ ہماری گردنیں دروازے کی طرف گھوم گئیں۔ بھگوتی پرشاد تھا۔ پانی کا برتن سنبھالے اندر گھس آیا اور احمقوں کی طرح منہ کھول کر ہمیں دیکھنے لگا۔ پھر میں نے اور نوشاد نے بیک وقت کھڑکی کی طرف دوڑ لگائی اور باہر جھانکنے لگے لیکن باہر بیکراں سناٹا پھیلا ہوا تھا۔ اس کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ میرے ساتھ نوشاد بھی کھڑکی سے باہر آ گیا اور ہم اسے تلاش کرنے لگے۔ میں نے چیخ کر کہا ’’تمہیں کوئی خطرہ نہیں ہے۔ وہ ہمارا ساتھی تھا جو تمہارے لئے پانی لایا ہے۔ اگر تم درخت پر چڑھ گئی ہو تو نیچے آ جائو، ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔‘‘ آدھے گھنٹے تک جھک مارتے رہے اور بھگوتی پرشاد ہمیں کھڑکی میں کھڑا جھانکتا رہا۔ اس کا کوئی نشان نہیں ملا تھا۔ میرے ذہن میں شدید جھلاہٹ پیدا ہو گئی۔ غصے کے عالم میں، میں اس کھڑکی سے اندر داخل ہو گیا۔
’’تم انسان ہو یا گدھے۔‘‘ میں نے بھگوتی پرشاد سے کہا۔
’’پپ۔ پتہ نہیں!‘‘ وہ بوکھلا کر بولا۔
’’یوں بیل کی طرح ٹکر مار کر اندر آتے ہیں۔‘‘
’’نہیں جی۔ وہ۔‘‘
’’پاگل۔ احمق۔ گدھا!‘‘ نوشاد بھی غرایا۔
’’اب میں کیا کروں؟‘‘ بھگوتی پرشاد بولا۔
’’دفع ہو جائو۔‘‘
’’پپ۔ پانی چھوڑ جائوں؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’دفع ہو جائو یہاں سے۔‘‘ نوشاد پائوں پٹخ کر بولا اور بھگوتی پرشاد پھرتی سے باہر نکل گیا۔ ’’بہت برا ہوا یار۔ وہ سب کچھ ایسے ہی چھوڑ گئی۔ کیا حسین لڑکی تھی نہ جانے کس سے خوفزدہ تھی۔‘‘ میں گہری سانس لے کر پلنگ پر آ بیٹھا۔ سخت ذہنی اذیت کا شکار ہو گیا تھا۔ ’’کچھ بتایا تھا اس نے…‘‘ نوشاد نے پوچھا۔
’’کوئی خاص بات نہیں۔ بس وہ خوفزدہ تھی کسی سے۔ کہہ رہی تھی کچھ لوگ اس کی تلاش میں ہیں، افسوس وہ کچھ کھا بھی نہ سکی۔‘‘
’’غلطی مجھ سے ہوئی تھی۔ کھانے کے لئے بھگوتی کو جگانا پڑا تھا۔ یہ کھانا اس کے پاس بچا ہوا رکھا تھا۔ میں نے اس سے پانی لانے کے لئے کہا اور کھانا لے کر آ گیا۔ میرے دونوں ہاتھ بھرے ہوئے تھے اس لئے اس سے کہہ دیا تھا مگر وہ تھی کون؟‘‘

’’کچھ نہیں معلوم مجھے۔‘‘ میں نے کہا۔
’’اس وقت میں ایک عجیب خواب دیکھ رہا تھا۔ میں دیکھ رہا تھا کہ میں ایک اونچے سے درخت کی شاخ پر بیٹھا ہوا ہوں۔ شاخ کی موٹی لکڑی میرے وزن سے چرچرا رہی ہے۔ پھر وہ ٹوٹ گئی اور میں نیچے گرنے لگا اور عین اسی وقت وہ میرے اوپر آ گری۔ میں نے سوچا تھا کہ درخت میرے اوپر آ گرا، مگر یار بڑی یاد آ رہی ہے۔ وہ بہت خوبصورت تھی۔‘‘ نوشاد خود ہی مجھ سے بے تکلف ہوا تھا۔ میں نے کبھی اس سے بہت زیادہ بے تکلفی کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ یہاں تک کہ جب وہ رمارانی کے کوٹھے پر گیا تھا تب بھی میں اس کے ساتھ نہیں جانا چاہتا تھا۔ بہرطور میں نے لڑکی کے سلسلے میں اس سے بہت زیادہ گفتگو نہیں کی۔ وہ اپنے پلنگ پر لیٹتا ہوا بولا۔ ’’یہ کھڑکی بھی بند نہیں کی جا سکتی، کیا تمہیں نیند آ جائے گی مسعود؟‘‘
’’سونا تو ہے نا، ورنہ صبح کو طبیعت خراب ہو جائے گی۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’یہی میں کہنا چاہتا تھا، حالانکہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہوتی۔ خیر، خیر جو چیز تقدیر میں نہیں ہوتی انسان کتنی ہی کوشش کرے…‘‘ نوشاد جملہ ادھورا چھوڑ کر کروٹ بدل کر لیٹ گیا۔ مجھے اس ذہنیت سے نفرت تھی، کچھ لوگ صرف اپنے بارے میں سوچتے ہیں، حالانکہ میں اس لڑکی کے بارے میں سوچ رہا تھا، میری تو خیر سوچیں ہی مختلف ہوتی تھیں اور حیران کن بات یہ تھی کہ عام زندگی میں بھی مجھے ایسے ہی واقعات کا سامناکرنا پڑتا تھا جو عام واقعات نہیں ہوتے تھے۔ اس کے الفاظ میرے ذہن میں گونجنے لگے۔ ’’لونا چماری، خون کا غسل۔‘‘ یہ ساری باتیں بے مقصد نہیں تھیں، اسے قید رکھا گیا تھا، یقینی طور پر اس نے کوئی ایسا منظر دیکھا ہو گا جس کی بناء پر اس کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوا۔ نہ جانے کس کی اولاد تھی، نہ جانے کون تھی۔ بے چینی سے کروٹیں بدلتا رہا اور بالآخر نیند آ گئی۔ دوسری صبح خوب دیر تک سویا تھا۔ جاگا تو نوشاد نظر نہیں آیا۔ کھڑکی پر نگاہ پڑی۔ املی کے درختوں کو دیکھا۔ رات کا منظر نگاہوں میں اجاگر ہو گیا۔ ہڑبڑا کر اٹھا اور کھڑکی کے قریب پہنچ گیا۔ زمین کھڑکی سے زیادہ نیچے نہیں تھی۔ لڑکی کا خیال مسلسل دل میں آ رہا تھا کہ کہیں خوفزدہ ہو کر وہ دوبارہ کسی املی کے درخت پر تو نہیں جا بیٹھی۔ جائزہ لینے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ میں نیچے اتر کر املی کے اس درخت کے پاس پہنچ گیا جس سے میں نے اسے اترتے ہوئے دیکھا تھا۔ کچی زمین پر قدموں کے نشانات بنے ہوئے تھے۔ وہ ننگے پائوں ہی تھی اور اس کے پیروں کے نشانات صاف نظر آ رہے تھے۔ اگر وہ کوئی دھوکا ہوتی، کوئی بری روح ہوتی تو قدموں کے یہ نشانات یہاں نہ ملتے۔ میں ان نشانات کی کھوج کرنے لگا۔ نشانات درخت سے کھڑکی تک آئے تھے اور اس کے بعد جب وہ واپس کھڑکی سے کودی تھی تو وہ زیادہ گہرے تھے۔ میں ان کا جائزہ لیتا ہوا آگے بڑھتا رہا، لیکن پھر تھوڑے ہی فاصلے پر جا کر وہ نشانات گم ہو گئے تھے، کیونکہ زمین سخت تھی اور اگر تھوڑے بہت نشانات اس پر بنے بھی ہوں گے تو ہوا نے انہیں مٹا دیا تھا۔ املی کے بہت سے درخت یہاں موجود تھے جن کی شاخیں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ میں بھرپور نگاہوں سے ان شاخوں کے درمیان جھانکنے لگا۔ ایک ایک درخت کے نیچے پہنچا۔ آوازیں بھی دیتا رہا پھر ایک لمبا چکر کاٹ کر واپس آیا۔ مجھے اس سلسلے میں مکمل طور پر مایوسی ہی ہوئی تھی۔ ابھی واپس کھڑکی کے نزدیک نہیں پہنچا تھا کہ نوشاد کی آواز سنائی دی۔

’’لو تم بھی وہی کر رہے ہو جو میں دو گھنٹے تک کر چکا ہوں۔ نہیں بھائی اب وہ املی کے کسی درخت پر نہیں ہے، اس عمارت سے بھاگ چکی ہے۔‘‘
میں نے کسی قدر شرمندہ سے انداز میں نوشاد کی صورت دیکھی اور گردن جھٹک کر بولا۔ ’’بہرطور میں اس کے لئے غمزدہ ہوں۔‘‘
’’غمزدہ تو ہم بھی ہیں پیارے بھائی مگر اب کیا کیا جائے۔ آئو اندر آئو۔ ناشتہ ٹھنڈا ہو چکا ہے بالکل۔ میں نے بھی اخلاقاً تمہاری وجہ سے ناشتہ نہیں کیا۔ بہت دیر سے ناشتہ رکھا ہوا ہے۔‘‘ کھڑکی ہی کے راستے ہم دونوں اندر آئے تھے اور پھر نوشاد نے ناشتے کی ٹرے اٹھا کر آگے رکھ لی تھی، چائے وغیرہ بھی موجود تھی جو اب اتنی گرم نہیں رہی تھی لیکن ہم نے وہ ٹھنڈی چائے ہی پی لی۔ میں نے چونک کر بھگوتی پرشاد کے بارے میں پوچھا تو نوشاد نے بتایا کہ وہ محل جا چکا ہے اور ساری باتیں کر کے ہی واپس آئے گا۔
’’بھٹنڈا کیسی جگہ ہے۔‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’بس بہت بڑا شہر نہیں ہے پھر بھی اچھی خاصی آبادی ہے۔ ذرا ان معاملات سے نمٹ لیں، ایک دو دن گھومیں گے۔ رانی مہاوتی سے ملاقات کے بعد ہی فرصت ہو سکے گی۔‘‘
’’جادو ٹونوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے نوشاد صاحب؟‘‘
’’بھیا کبھی واسطہ نہیں پڑا، حالانکہ لوگ طرح طرح کی کہانیاں سناتے ہیں، کوئی ان حسین چڑیلوں کی داستانیں سناتا ہے جو راہ گیروں پر عاشق ہو جاتی ہیں اور راہ گیروں کے عیش ہو جاتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ بارہا ویرانوں میں ان چڑیلوں کی تلاش میں نکلے لیکن اتنے بدقسمت ہیں کہ وہ بھی ہمیں دیکھ کر بھاگ جاتی ہیں۔ کیوں تم نے یہ سوال کیوں کیا، کیا رات کی لڑکی پر کوئی شک کر رہے ہو…؟‘‘
’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں، ویسے وہ املی کے درخت سے اتری تھی…‘‘
’’کیا؟‘‘ نوشاد نے چونک کر پوچھا۔
’’ہاں۔ رات کو پوری کہانی میں تمہیں نہ سنا سکا۔ آنکھ کھل گئی میری، پلنگ پر پائوں لٹکائے بیٹھا تھا کہ میں نے اسے املی کے درخت سے اترتے ہوئے دیکھا اور اس کے بعد وہ کھڑکی سے اندر آ گئی۔‘‘
’’ڈرا رہے ہو؟‘‘ نوشاد نے خوفزدہ سی ہنسی کے ساتھ کہا اور مجھے بھی ہنسی آ گئی۔ ’’نہیں۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔‘‘
’’اماں قسم کھائو کیا وہ چڑیل تھی۔‘‘ نوشاد نے پُرخوف لہجے میں پوچھا۔
’’نہیں نوشاد صاحب، چڑیل تو بالکل نہیں تھی وہ۔‘‘
’’ہاں ہو تو نہیں سکتی۔ مم مگر ہمیں چڑیلوں کا تجربہ بھی تو نہیں ہے۔ ابے نکلو یار یہاں سے۔ تم نے واقعی دہشت زدہ کر دیا۔ ویسے بھی یہ گھر بھوت گھر معلوم ہوتا ہے۔ ٹوٹا پھوٹا۔ اے لاحول ولا قوۃ۔ کس خوف کا شکار کر دیا۔ آئو باہر بیٹھیں۔‘‘ مجھے ہنسی آ گئی۔ میں نے کہا۔ ’’اور اگر بھوت یہ سازوسامان اٹھا کر لے گئے تو مصیبت نہیں ہو جائے گی؟‘‘
’’بھئی میں سچ بتا رہا ہوں اب مجھے اس ویران جگہ سے ڈر لگنے لگا ہے اور مجھے مزید خوفزدہ نہ کرو تم۔‘‘

’’اور اگر وہ رات کو ہمارے کمرے میں رہ جاتی تو…‘‘
’’تو مجھے کیا معلوم تھا کہ وہ بھوتنی ہے کم بخت، سنا ہے بھوتنیاں اور چڑیلیں ایسے ہی درختوں پر بسیرا کرتی ہیں۔ ارے باپ رے۔ میں تو تم سے پہلے اسے املی کے درختوں پر تلاش کرتا پھرا ہوں یہ سوچ کر کہ کہیں وہ کسی شاخ پر سو نہ رہی ہو، پتہ نہیں کس سے خوفزدہ تھی۔ کوئی بات ہی نہیں ہوئی تم سے…‘‘
’’کوئی خاص بات نہیں، بھوکی تھی بے چاری۔ میں نے باتیں کرنے کی کوشش کی تو جھلا گئی۔ کہنے لگی میں بھوکی ہوں اور مجھ سے بولا نہیں جا رہا اور تم سوال ہی سوال کئے جا رہے ہو۔‘‘
’’تو پھر چڑیل نہیں ہو گی استاد وہ۔ بھلا ان بھوت پریتوں کو کھانے پینے سے کیا دلچسپی اور اگر ہو بھی تو ان کے لئے کیا مشکل، جہاں سے جو دل چاہے حاصل کر لیں۔ ارے باپ رے پتہ نہیں۔ کم بخت بھگوتی پرشاد کب واپس آئے گا۔ آئو کم از کم دروازے پر تو بیٹھتے ہیں۔‘‘ نوشاد واقعی خوفزدہ نظر آ رہا تھا۔ میں صرف اس کی وجہ سے باہر نکل آیا، ورنہ بھلا اس قسم کی باتوں میں خوف سے کیا تعلق۔ بھگوتی پرشاد بھی ساڑھے بارہ بجے کے قریب آیا تھا اور کھانے پینے کا انتظام کر کے لایا تھا۔
’’جیتے رہو میرے لال، جیتے رہو۔ کم از کم کام کی باتیں کر کے آتے ہو۔ چلو یہ کھانے کا بنڈل مجھے دے دو، ہمارے لئے لائے ہو نا…؟‘‘
’اچھا۔ اچھا ابھی سے کھا بھی لیا؟‘‘ نوشاد نے کہا۔
’’دیوان کالی داس نے مجبور کر دیا تھا اور کہا تھا کہ کھانا کھا کر جائو۔‘‘
’’اچھا ملاقات ہو گئی ان لوگوں سے؟‘‘
’’ہاں دیوان کالی داس ہی سے ملاقات ہو گئی۔ ساڑھے چار بجے ہمیں محل پہنچ جانا ہے مع سامان، پھر دیوان کالی داس کی نگرانی میں یہ ساڑھیاں سجانی ہوں گی پھر رانی مہاوتی ساڑھے چھ بجے ان کا جائزہ لیں گی اور اپنی پسند کا اظہار کریں گی۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کام آج ہی ہو جائے گا۔‘‘ میں نے کہا۔
’’بھئی بھگوتی پرشاد۔ اس گھر کے علاوہ اور کوئی جگہ نہیں ہے ہمارے ٹھہرنے کے لئے… اگر بعد میں بھی اس گھر میں ٹھہرنا پڑا تو کم از کم میں تو نہیں رکنے کا، واپس چلا جائوں گا۔‘‘
’’کیوں اس گھر میں کیا ہو گیا۔‘‘ بھگوتی پرشاد نے نوشاد کو گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’بیٹا رات کو ہمارے کمرے میں سوتا تو پتہ چلتا کہ اس گھر میں کیا ہو گیا۔ چڑیلیں گھس آتی ہیں املی کے درختوں سے نیچے اتر کر۔‘‘ نوشاد نے کہا۔
’’نانو شاد جی مہاراج ایسی کوئی بات نہیں ہے، ہم بہت سی بار یہاں اکیلے سو چکے ہیں تم تو دو ہو۔‘‘

’’تو خود بھی کسی بھوت سے کم نہیں ہے۔ خیر دیکھا جائے گا ہم تو ویسے بھی چڑیلوں سے خاصی انسیت رکھتے ہیں۔‘‘ نوشاد نے مجھے دیکھ کر آنکھ ماری لیکن میں نے اس کی باتوں میں کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ اس لڑکی کی بے بسی کا احساس اس وقت بھی میرے دل میں موجود تھا۔ بے چاری کھانا بھی نہیں کھا سکی تھی اور اسے خوفزدہ ہو کر بھاگنا پڑا تھا۔ نہ جانے کیا قصہ تھا اس کا۔ ساڑھے چار بجے سب لوگ تیار ہو گئے، سامان بڑی خوبصورتی سے پیک کیا گیا اور ہم اسے لئے ہوئے محل چل پڑے۔
زمانۂ قدیم میں محلوں کا کیا تصور ہوتا ہوگا، وہ ایک الگ بات تھی، مگر میں نے محل وغیرہ کم ہی دیکھے تھے۔ یہ محل بھی، بس محل کیا تھا البتہ اسے ایک حویلی کہا جا سکتا تھا، وہی پرانی طرز کی تعمیر کی ہوئی، بہت خوبصورت اور صاف ستھری، ذرا ملازمین وغیرہ بھی زیادہ تھے۔ ویسے یہ سچ تھا کہ ریاستیں بے شک ختم ہو گئی تھیں لیکن ان کی باقیات آج بھی اسی شان و شوکت کی حامل تھی۔ حویلی میں ملازموں کی جیسے پوری فوج موجود تھی۔ چاروں طرف سے نکل رہے تھے۔ ہمیں فوراً ہی خوش آمدید کہا گیا۔ ملازمین نے ہمارا سامان اٹھایا اور اس کے بعد ایک بہت ہی خوبصورت ہال میں پہنچا دیا گیا۔ گہرے سرخ رنگ کا قالین بچھا ہوا تھا، دیواروں پر بہت ہی خوبصورت تصاویر آویزاں تھیں، سنگی مجسمے سجے ہوئے تھے، قدآدم تصویریں یقینی طور پر اس خاندان کے پرانے بزرگوں کی تھیں۔ میں نے گہری نگاہوں سے اس پہلے محل کا جائزہ لیا جو میں نے دیکھا تھا لیکن نوشاد کے اشارے پر ہم لوگ جلدی جلدی اپنے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ دیوان کالی داس جی ابھی ہمارے پاس نہیں آئے تھے۔ لیکن اس وقت جب ہم ساڑھیوں کو بڑے خوبصورت انداز میں سجا رہے تھے، دروازہ کھلا اور دیوان جی اندر آ گئے۔ نوشاد نے انہیں گردن خم کر کے تعظیم دی تھی۔ میں اپنے کام میں مصروف رہا۔ بھگوتی پرشاد میرا ساتھ دے رہا تھا۔ نوشاد کہنے لگا۔ ’’حضور ہم آپ کے حکم کے مطابق وقت پر پہنچ گئے ہیں۔‘‘
’’میں نے رانی صاحبہ سے بات کر لی ہے، وہ بس شام کو ساڑھے چھ بجے یہاں پہنچ جائیں گی۔‘‘
میں نے اس آواز کو سن کر گردن گھمائی اور اتفاق سے اس وقت کالی داس نے بھی میری طرف دیکھا۔ کالی داس ہی تھا، بالکل کالی رنگت، اتنا کالا کہ شاید اندھیرے میں نظر بھی نہ آئے، بڑی بڑی مونچھیں جو اس کے رخساروں سے بھی نکلی ہوئی تھیں، بہت خاص قسم کا لباس پہنے ہوئے، آنکھیں گہرے سیاہ چہرے پر بالکل سفید سفید نظر آ رہی تھیں لیکن چہرہ پر رعب۔ اس نے مجھے دیکھا اور دفعتاً ہی میں نے اس کے چہرے پر ایک تغیر محسوس کیا۔ اس کی تیز آنکھیں میرا جائزہ لینے لگیں۔ بس ایک نگاہ دیکھنے کے بعد میں پھر اپنے کام میں مصروف ہو گیا لیکن دماغ میں ایک خلش سی پیدا ہو گئی۔ اس کے چہرے پر چونکنے کا سا انداز تھا، نہ جانے کیوں نہ جانے کیوں… لیکن اس نے کچھ کہا نہیں بلکہ خاموشی سے ہمیں کام کرتے دیکھتا رہا۔ نوشاد سے اس کی مسلسل باتیں ہو رہی تھیں۔

’’مہاراج آپ بھی ایک نظر ڈال لیں اور ذرا ہمیں بتائیں کہ ہم نے جو محنت کی ہے وہ رانی صاحبہ کو پسند آئے گی یا نہیں…؟‘‘
’’یہ میرا کام نہیں ہے، تم اپنا کام کرو خاموشی سے۔‘‘ دیوان کالی داس کی آواز بھی بڑی بھرپور تھی۔ میں نے اپنے کام سے فراغت حاصل کر کے ایک بار پھر دیوان کالی داس کو دیکھا اور مجھے پھر اسی کیفیت کا احساس ہوا۔ اس کی آنکھوں میں شک کے سے تاثرات تھے، ویسے کالا رنگ ہونے کے باوجود اسے بھیانک شکل کا مالک نہیں کہا جا سکتا تھا، لیکن نہ جانے وہ مجھے کچھ عجیب سا لگا تھا۔ جب ہم نے اپنا کام کر لیا تو کالی داس کہنے لگے۔ ’’اب تم باہر جا کر آرام سے بیٹھو یا ابھی کچھ کام باقی ہے؟‘‘
’’آپ کا جو حکم مہاراج، جیسا آپ کہیں ویسا کریں گے۔‘‘ نوشاد نے کہا۔
’’تو پھر آئو باہر آ جائو، میں یہاں تالا لگوائے دیتا ہوں۔ تم بیٹھو، کھائو پیو اور اس کے بعد ٹھیک ساڑھے چھ بجے رانی مہاوتی جی یہاں پہنچ جائیں گی۔‘‘
ہمارا کام ختم ہو گیا تھا۔ چنانچہ ہم تینوں باہر نکل آئے۔ دیوان کالی داس نے ملازمین کو حکم دیا کہ ہمیں آرام سے بٹھایا جائے اور ہماری خاطر مدارات کی جائے۔ جس کمرے میں یہ سامان سجایا گیا تھا وہاں سے تھوڑے ہی فاصلے پر ایک جگہ ہم بیٹھ گئے اور ملازمین نے ہمارے سامنے پھل وغیرہ لا کر رکھ دیئے۔ نوشاد نے کہا۔ ’’کہو لطف آ رہا ہے یا نہیں؟‘‘ میں نے چونک کر نوشاد کو دیکھا اور پھر آہستہ سے کہا۔ ’’یہ دیوان کالی داس تھا…؟‘‘
’’صورت سے نہیں لگتا تھا۔‘‘ نوشاد نے کہا اور ہنس پڑا۔ بھگوتی پرشاد بولا۔ ’’نہیں مہاراج ایسی باتیں نہ کہیں اگر کسی کے کانوں تک پہنچ گئیں تو شامت آ جائے گی ہماری۔ بے شک اب ریاستیں نہیں رہیں لیکن ان لوگوں کی شان و شوکت وہی ہے، ذرا سی دیر میں گردنیں اتروا دیا کرتے ہیں۔‘‘
’’تو میں نے کیا کہہ دیا بھگوتی پرشاد، مہاراج ایک بات ہی تو کہی ہے، ویسے یہ سمجھ لو مسعود کہ کالی داس جی کا نام ان کی پیدائش کے بعد ہی کالی داس رکھا گیا ہو گا۔ ظاہر ہے نام تو پیدائش کے بعد ہی رکھے جاتے ہیں، لیکن سوچنے والوں کو ذرا بھی دقت پیش نہیں آئی ہو گی۔ ان کی شکل دیکھی اور فوراً ہی کالی دیوی کا تصور ذہن میں آ گیا۔ سو کالی داس مہاراج کالی داس بن گئے۔‘‘
’’تمہاری مرضی ہے جو دل چاہے کہے جائو، اپنی بات کے ذمہ دار خود ہو گے۔‘‘ بھگوتی پرشاد پھر بولا۔

’’ابے تو یہاں کون سن رہا ہے، تیری تو جان ہی نکلی جا رہی ہے۔‘‘ نوشاد نے ہنستے ہوئے کہا اور پھر ایک بڑا سا خوبصورت سیب اٹھا کر اسے دانتوں سے کترنے لگا۔
میں کچھ بے چین سا تھا، کیا بات ہے۔ آخر کیا بات ہو سکتی ہے۔ کالی داس کا انداز چونکا ہوا کیوں تھا۔ وہ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہا تھا جیسے اسے میری ذات پر کوئی شک ہو۔ مگر نوشاد سے اس بارے میں کیا کہنا ویسے بھی وہ غیر سنجیدہ اور لاابالی سا آدمی تھا۔ رانی مہاوتی کو ساڑھے چھ بجے ہی آنا تھا مگر وہ پونے چھ بجے آ گئیں اور ملازم ہمارے پاس دوڑتے ہوئے آئے تھے اور انہوں نے کہا۔ ’’ہوشیار ہو جائو، رانی جی آ رہی ہیں۔‘‘
کئی افراد تھے، ان کے بیچ رانی مہاوتی آ رہی تھی۔ میں بھی، نوشاد اور بھگوتی پرشاد کے ساتھ کھڑا ہو کر اس شان و شوکت کو دیکھنے لگا۔ کچھ خادمائیں، کچھ خادم ساتھ میں کالی داس بھی تھا جو الگ ہی نظر آ رہا تھا۔ مہاوتی دراز قامت اور نہایت خوبصورت عورت تھی۔ سرخ و سفید سیب جیسی رنگت، بال گھٹائوں جیسے اتنے کہ یقین نہ آئے۔ چہرے پر ایک انوکھا بانکپن اور آنکھوں میں بجلیاں سی کوندتی ہوئی۔ بڑے وقار سے ایک ایک قدم رکھتی ہوئی وہ آگے آئی اور میں نے محسوس کیا کہ کالی داس آہستہ سے کچھ بدبدا رہا ہے جس کے جواب میں رانی مہاوتی نے خصوصاً مجھے دیکھا۔ پھر اس کی نظریں میرے ہی چہرے پر گڑی رہی تھیں اور مجھے یوں لگا تھا جیسے کچھ انگلیاں میرے چہرے کو ٹٹول رہی ہوں۔ بے اختیار جی چاہا کہ چہرہ ٹٹول کر دیکھوں لیکن پھر خود کو سنبھال لیا۔ وہ بالکل قریب آ گئی اور میں نے اس سے نظریں ملائیں۔ اس نے بے اختیار دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگا دیئے۔ اس کی پُر شوق نظریں مسلسل میرے چہرے پر جمی ہوئی تھیں۔ کالی داس نے کہا۔ ’’دروازہ کھولو بھگوتی۔‘‘
’’جی مہاراج۔‘‘ بھگوتی پرشاد نے نوشاد کو دیکھا اور نوشاد نے دروازہ کھول دیا۔ رانی بھی جیسے سنبھل گئی۔ پھر پہلے وہ اور اس کے بعد ہم سب اندر داخل ہو گئے۔ رانی ہماری لائی ہوئی ساڑھیاں دیکھنے لگی۔ مگر اس کے انداز میں لاپروائی تھی۔ وہ بار بار میری طرف متوجہ ہو جاتی تھی۔ پھر اس نے کہا۔
’’تمام ساڑھیاں بہت اچھی ہیں، بڑی خوبصورت، ہمیں پسند آئیں۔ کالی داس؟‘‘
’’جی رانی جی۔‘‘ کالی داس دو قدم آگے بڑھ آیا۔
’’ہمیں تمام ساڑھیاں پسند آئی ہیں۔ ان سب کو سنبھال کر رکھوا دو اور تاجروں کو ان کی منہ مانگی قیمت ادا کر دو۔ تمہارا نام بھگوتی پرشاد ہے نا۔‘‘ رانی مہاوتی نے بھگوتی پرشاد کی جانب انگلی اٹھا کر کہا اور بھگوتی پرشاد دونوں ہاتھ جوڑ کر جھک گیا۔ ’’جی مہارانی جی۔‘‘

’’بھگوتی پرشاد یہ لوگ بہت اچھی ساڑھیاں بناتے ہیں۔ میں ان سے کچھ اور کام کرانا چاہتی ہوں اور اس کام کے ڈیزائن میں بنوا کر ان کے حوالے کرنے کی خواہش مند ہوں، تم لوگ ساڑھیوں کی قیمت اور اپنا انعام وصول کرو، ان میں سے ایک آدمی کو میرے پاس چھوڑ دو، وہ یہاں ہمارا مہمان رہے گا اور بعد میں ہمارا نیا حکم لے کر واپس پہنچے گا۔ اس آدمی کو یہاں چھوڑ دو، اس کے لئے یہیں قیام کا بندوبست کر دیا جائے گا۔‘‘ رانی مہاوتی نے میری جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ بھگوتی پرشاد ایک بار پھر ہاتھ جوڑ کر جھک گیا۔ ’’جو حکم مہارانی جی۔‘‘
مہاوتی فوراً ہی گھومی اور پلٹ کر دروازے سے باہر نکل گئی۔ اس کا حکم آخری حکم تھا اور اس میں کسی ردوقدح کی گنجائش نہیں تھی لیکن میں ساکت رہ گیا تھا۔ کالی داس نے ہم تینوں سے کہا۔
’’تم لوگ احتیاط کے ساتھ یہ ساڑھیاں پیک کروا دو اور تم میں سے ایک، بھگوتی پرشاد تم میرے ساتھ چلے آئو اور ان کی قیمتوں کی بات کر کے مجھ سے رقم وصول کر لو، آئو۔ تم دونوں براہ کرم یہ کام کر ڈالو۔‘‘ دیوان کالی داس جی بھی بھگوتی پرشاد کو لے کر باہر نکل گئے اور نوشاد نے آگے بڑھ کر مجھے گلے سے لگا لیا۔
’’یار یوں سمجھ لو تقدیر چمک گئی۔ حاجی صاحب تو اتنے خوش ہوں گے کہ تم اندازہ نہیں لگا سکتے مگر یہ کمینہ بھگوتی پرشاد ان ساڑھیوں کی قیمت کیا مانگے گا، یار کہیں یہ گڑبڑ نہ کر جائے۔‘‘
’’کیا اسے ان کی قیمتوں کا اندازہ نہیں ہے۔‘‘
’’خیر ایسی بات نہیں۔ آدمی تو وہ بہت سیانا ہے اور مجھ سے زیادہ کاروباری گُر جانتا ہے۔ بنیئے کی اولاد ہے اور تم سمجھتے ہو بنیئے کتنے تیز ہوتے ہیں لیکن کہیں بیچ میں ٹانکا نہ لگا جائے۔ چلو اسے بھی سنبھال لیں گے۔ ویسے اسے قیمتیں معلوم ہیں، وہ ہمارا مستقل ایجنٹ ہے، یہ بات تو رہی اپنی جگہ۔ یار ذرا یہ ساڑھیاں اٹھوائو، دیر کرنا مناسب نہ ہو گا۔‘‘ نوشاد میرے ساتھ ساڑھیاں اٹھوانے میں مصروف ہو گیا۔ پھر بولا۔ ’’ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ یہ سب کچھ تو جو ہے سو ہے مگر تم نے رانی صاحبہ کی نظروں میں کچھ محسوس کیا؟‘

’’کیا…؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’ساڑھیاں کم دیکھ رہی تھیں، تمہیں زیادہ دیکھ رہی تھیں۔‘‘ نوشاد آنکھ دبا کر بولا۔
’’بیکار باتیں ہیں۔‘‘ میں نے جھینپے ہوئے لہجے میں کہا اور نوشاد قہقہہ لگا کر ہنس پڑا پھر بولا۔’’نہیں بھائی یہ رانیاں، مہارانیاں ایسی ہی ہوتی ہیں، کسی کی تقدیر ساتھ دے جائے تو سمجھ لو کہ وارے نیارے ہو جاتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ اب جب تم واپس بنارس آئو گے تو نہ جانے کیا بن کر آئو گے۔‘‘
’’نوشاد میں یہاں نہیں رکنا چاہتا۔‘‘
’’ارے باپ رے۔ کیسی خوفناک باتیں کر رہے ہو۔ بھلا رانی صاحبہ کا حکم اور اس کی تعمیل نہ ہو۔ انہوں نے پوچھنے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی کہ تم رکنا چاہتے ہو یا نہیں۔ اور پھر حماقت کی باتیں مت کرو، میں نے تو تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ راج محلوں کی کہانیاں ذرا مختلف ہوتی ہیں اور تقدیر بننے میں دیر نہیں لگتی۔ ہو سکتا ہے یہ میری غلط فہمی ہی ہو لیکن چانس لینے میں کیا حرج ہے۔‘‘
’’کیا یہ نہیں ہو سکتا نوشاد کہ تم یہاں رک جائو۔‘‘
’’آہ کاش! ایسا ہو سکتا مگر جسے پیا چاہے وہی سہاگن، ہمیں بھلا کون پوچھتا ہے۔ چلو ٹھیک ہے بہرطور تمہیں یہاں رہنا ہو گا بس ذرا احتیاط رکھنا، بس ان لوگوں کے دماغ پھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ دولت اچھے اچھوں کا ستیاناس کر دیتی ہے۔ یہ لوگ اپنے آپ کو اس دنیا کا باسی نہیں سمجھتے۔ بس تھوڑی سی احتیاط، رانی صاحبہ کے احکامات کی تعمیل اور پھر یار یہ تو خوش بختی ہے۔ کتنی حسین ہیں وہ، عمر کتنی ہی ہو لیکن کیا شان ہے، کیا انداز ہیں، چلو بھیا عیش کرو، ہماری طرف سے پیشگی مبارکباد۔‘‘

میں الجھا ہوا تھا ویسے تو مجھے کوئی ایسی خاص پریشانی نہیں تھی۔ رانی صاحبہ مجھے لقمۂ تر سمجھ کر نگل تو نہیں جائیں گی لیکن بس الجھن تھی۔ ایسی کیا بات پائی ہے انہوں نے مجھ میں اور بات اگر رانی صاحبہ ہی کی ہوتی تو چلو مان لیتا کہ نوشاد کا کہنا درست ہے لیکن اس سے پہلے مہاراج کالی داس نے بھی مجھے چونک کر ہی دیکھا تھا۔ کیوں، آخر کیوں؟

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 19

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,