| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 19
رائیٹر :ایم اے راحت
کام ختم ہو گیا۔ نوشاد اور بھگوتی پرشاد چلے گئے۔ کالی داس نے مجھے محل کے خادموں کے حوالے کر دیا۔ حویلی یا محل کے بغلی حصے میں بنے ہوئے مہمان خانے میں مجھے جگہ دے دی گئی تھی۔ ہر طرح کا خیال رکھا گیا، پھل، سبزیاں وغیرہ کھانے میں دی گئیں۔ میرے دماغ میں بہت سے خیالات تھے مگر بے سکونی نہیں تھی۔ وہم میں الجھ کر سکون برباد کرنے سے آج تک تو کچھ حاصل نہیں ہو سکا تھا اب میں نے ہر طرح کے حالات میں جینا سیکھ لیا تھا۔
رات خوشگوار گزری، دوسرا دن بھی گزر گیا، کوئی ایسی بات نہ ہوئی جو قابل ذکر ہوتی۔ شام کو کالی داس آیا۔ اس نے مجھے دیکھتے ہی کہا۔ ’’تم حاجی فیاض الدین کے آدمی ہو نا؟‘‘
’’جی دیوان جی۔‘‘
’’رانی مہاوتی تمہیں کچھ ڈیزائن دینا چاہتی ہیں، بہت بڑا کام ہو گا، تمہیں اس کے لئے کئی دن رکنا پڑے گا۔ کوئی جلدی تو نہیں ہے تمہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’ارے جب سے آئے ہو اندر گھسے رہتے ہو، تم مہمان ہو قیدی نہیں۔ محل بہت بڑا ہے گھومو پھرو۔ اس جگہ رہنا پسند نہ ہو تو جہاں چاہو بندوبست کر دیا جائے۔‘‘
’’نہیں دیوان جی۔ یہاں ہر طرح کا آرام ہے۔‘‘
’’کیا نام ہے تمہارا؟‘‘
’’مسعود۔‘‘
’’ایں…‘‘ کالی داس چونک پڑا۔
’’مسعود احمد۔‘‘ میں نے اسے دوبارہ نام بتایا۔ اس کے چہرے پر پھر شک کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ پھر وہ بولا۔
’’مسلمان ہو؟‘‘
’’جی بالکل۔‘‘
’’اچھا…‘‘ وہ حیرت سے بولا۔ مجھے دیکھتا رہا پھر ایک دم واپس پلٹ آیا۔ کچھ سوچ کر دروازے میں رکا۔ میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا۔ ’’یہاں داسیاں باندیاں بھی بہت سی ہیں، کسی کو کسی سے ملنے پر پابندی نہیں۔ ہنسی خوشی سمے گزارو۔ تم مہاوتی کے مہمان ہو، کسی ایرے غیرے کے نہیں۔ میں تمہارے پاس سندری کو بھیجتا ہوں، تمہیں پسند آئے گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔
میں دروازے کو گھورتا رہ گیا۔ الٰہی کیا ماجرا ہے۔ اس دنیا میں رہنے والے کیا تمام لوگ میری ہی طرح پراسرار واقعات سے دوچار ہوتے رہتے ہیں۔ کیا سبھی کو زندگی میں قدم قدم پر ایسے انوکھے واقعات پیش آتے ہیں۔ کبھی سنا تو نہیں، یہاں تو طویل عرصہ سے ایسا ہی ہو رہا تھا۔
کچھ دیر کے بعد دروازے سے ایک سندری داخل ہوئی۔ سندری ہی تھی۔ بڑا جاذب نگاہ چہرہ تھا۔ اندر آ گئی اور مسکراتی نظروں سے مجھے دیکھ کر بولی۔ ’’میرا نام سندری ہے۔‘‘
’’جی۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
’’کیسی ہوں؟‘‘ وہ شوخی سے بولی۔
’’جی…؟‘‘ میری گھبرائی ہوئی آواز ابھری۔
’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’مسعود۔‘‘
’’سچ بتا دونا!‘‘ وہ ناز بھرے انداز میں بولی۔
’’تعجب ہے، تم میری بات کو جھوٹ کیوں سمجھ رہی ہو۔‘‘ میں نے کہا اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ پھر بولی۔
’’آئو باہر چلیں۔ باہر بڑی سندر ہوا چل رہی ہے۔ تمہیں پھول پسند ہیں؟‘‘
’’پھول کسے پسند نہیں ہوتے۔‘‘
’’اور پھول وتی۔‘‘ وہ پھر اسی طرح کھلکھلا کر ہنسی اور آگے بڑھ کر میرا ہاتھ پکڑتی ہوئی بولی۔ ’’آئو میں تمہیں پھول کنڈ لے چلوں… آئو نا…!‘‘ میں نے آہستہ سے اس سے ہاتھ چھڑا لیا مگر اس کے ساتھ باہر نکل آیا۔ میرے اس طرح ہاتھ چھڑانے پر اس نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا مگر کچھ بولی نہیں۔ میں اس کے ساتھ باہر آ گیا۔ وہ مجھے محل کے عقبی حصے میں لے آئی جہاں گھاس کا فرش بچھا ہوا تھا، ہر طرف ہریالی تھی، جگہ جگہ حوض، فوارے بنے ہوئے تھے، ان کے گرد سنگی مجسمے استادہ تھے۔ انتہائی حسین سنگی مجسمے جنہیں بڑی مہارت سے تراشا گیا تھا۔ یہ سب مختلف شکلیں رکھتے تھے۔ ویسے اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ ان مجسموں نے باغ کا حسن بڑھا دیا تھا۔ محل کے عقبی حصے میں یہ علاقہ بے حد خوبصورت تھا۔ ابھی مدھم مدھم روشنی بکھری ہوئی تھی لیکن شام تیزی سے جھکتی چلی آ رہی تھی۔ ہوا چل رہی تھی اگر موسم اور ماحول کے لحاظ سے دیکھا جاتا تو یہ جگہ انتہائی حسین کہی جا سکتی تھی، عجیب و غریب خوشبوئیں چاروں طرف بکھری ہوئی تھیں، ایک موڑ مڑنے کے بعد میں نے جو منظر دیکھا وہ ناقابل یقین سا تھا۔ انسانی ہاتھوں کا کارنامہ تو معلوم ہی نہیں ہوتا تھا، پھول جیسے دیواروں میں لگائے گئے تھے، کہیں بلند، کہیں پست، کہیں اونچے، کہیں نیچے۔ سب کے رنگ مختلف تھے اور پھول کے بیچوں بیچ مجسمے اس طرح آویزاں تھے جیسے کوئی پھولوں کے درمیان چلتے چلتے رک گیا ہو۔ ایک چوکور حوض اس طرف بنا ہوا تھا جس کے کنارے بیٹھنے کی جگہ بھی تھی۔ اسے مجسموں کا علاقہ کہا جاتا تو غلط نہ ہوتا۔ شوقین لوگ ایسے سنگی مجسمے آویزاں کرتے ہیں لیکن اتنی تعداد میں نہیں۔ بہرحال عام لوگ راجہ اور رانی بھی تو نہیں ہوتے۔
سندری مجھے لئے ہوئے اس سمت آ گئی۔ حوض کے پاس رک کر اس نے مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور بولی۔ ’’یہ ہے ہمارا پھول کنڈ…‘‘
’’بہت خوبصورت جگہ ہے۔‘‘ میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔
’’راجہ چندر بھان جی پھولوں کے رسیا ہیں، بس یوں سمجھ لیں کہ انہوں نے اس حصے کو پھولوں سے آراستہ کرنے کے لئے اتنی دولت خرچ کی ہے کہ اس سے ایک گائوں بسایا جا سکتا تھا۔‘‘
’’راجہ چندر بھان جی؟‘‘ میں نے سوالیہ نگاہوں سے سندری کو دیکھا۔
’’مالک ہیں ہمارے، اس محل کے مالک ہیں۔ رانی مہاوتی جی انہی کی تو دھرم پتنی ہیں۔ یہ میں اس لئے بتا رہی ہوں کہ تم بنارس سے آئے ہو، جانتے نہ ہو گے بھٹنڈا کے بارے میں۔‘‘
’’ہاں ایسی ہی بات ہے۔‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’بیٹھو… بیٹھ جائو نا۔ تم مجھے کچھ عجیب سے لگ رہے ہو، گھبرائے گھبرائے سے۔ کیا مجھ سے پریشان ہو؟‘‘
’’نہیں… نہیں۔‘‘ میں نے نرم لہجے میں کہا۔
’’میں نے ہاتھ پکڑا تھا تمہارا، تم نے ایسے چھڑا لیا جیسے، جیسے…‘‘ وہ جملہ ادھورا چھوڑ کر خاموش ہو گئی۔
’’راجہ چندر بھان جی کو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
’’لو آئے ہوئے سمے ہی کتنا بیتا ہے تمہیں۔ ویسے بھی وہ بیمار ہیں۔‘‘
’’او اچھا۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی۔ پھر بولی۔ ’’بہت کم بولتے ہو تم۔ ویسے کیا تم سچ مچ مسلمان ہو؟‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا۔
’’نہیں میرا مطلب ہے، میں نے مسلمان نہیں دیکھے۔ شروع ہی سے یہاں پلی بڑھی ہوں۔ اسی محل میں پیدا ہوئی، اسی میں پروان چڑھی اور یہیں رہتی ہوں۔‘‘
’’مسلمانوں کے سینگ نہیں ہوتے، جیسے تم لوگ ہوتے ہو، ویسے ہی ہم۔‘‘
’’ہاں اب تو یہی اندازہ ہوتا ہے مجھے۔‘‘ وہ بات بات پر ہنسنے کی عادی تھی۔ پھر بولی۔ ’’اچھا اب یہ بتائو کیا پیو گے؟‘‘
’’کچھ نہیں…‘‘
’’واہ ایسا خوبصورت موسم، چاروں طرف بکھرے ہوئے پھول، میں دارو منگواتی ہوں تمہارے لئے…؟‘‘
’’سنو، سنو رک جائو، ایسی کوئی شے ہم مسلمان نہیں پیتے۔ یقینی طور پر اس محل میں رہ کر تمہیں یہ بات بھی معلوم نہیں ہوئی ہوگی۔‘‘
’’تو پھر میں کیا کروں تمہارا۔ ادھر دیوان کالی داس جی ہیں جو کہتے ہیں کہ مہمان کو کوئی تکلیف نہ ہو، اس کا دل بہلائو، اس سے باتیں کرو، وہ جو چاہے اس کی ہر سیوا کرو اور تم ہو کہ ٹھیک سے بول بھی نہیں رہے مجھ سے۔‘‘ اس نے ادا سے منہ بنایا اور میں نے گردن جھٹکتے ہوئے کہا۔
’’نہیں سندری جی ایسی کوئی بات نہیں ہے، بس یہ جگہ بہت پیاری ہے، مجھے بڑی پسند آئی اور کیا باتیں کروں آپ سے۔‘‘ وہ کچھ سوچنے لگی۔ پھر بولی۔
’’اچھا رکو، میں ابھی آتی ہوں۔ گھبرائو گے تو نہیں۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا۔
’’جانا بھی نہیں یہاں سے، میں یہ گئی اور وہ آئی۔‘‘ وہ پھر ہنسی اور پھر آگے بڑھ گئی۔ میں اسے جاتے دیکھتا رہا۔ جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی تو میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا۔ رات کی دھندلاہٹیں پھیل گئی تھیں۔ پھولوں کے رنگ ماند پڑتے جا رہے تھے۔ بڑا طلسمی ماحول تھا۔ ہر طرف ایک پراسرار اداسی فضا پر چھائی ہوئی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے کچھ ہونے والا ہے، اچانک ہی کچھ ہو جائے گا۔ پھولوں کا سکوت، ان کے درمیان خاموش کھڑے مجسمے۔ سب کسی انہونی بات کے منتظر تھے یا پھر اس ماحول نے یہ احساس میرے دل میں پیدا کر دیا تھا۔ کچھ عجیب سے حالات تھے۔ وہ لڑکی یاد آئی جو املی کے درخت سے اتری تھی اور میرے دل پر ایک عجیب سا نقش چھوڑ گئی تھی۔ رجناوتی تھا اس کا نام۔ باتیں بڑی عجیب تھی اس کی۔ ہو سکتا ہے پاگل ہو، یہ بھی ہو سکتا ہے اس انداز میں نہیں سوچا تھا۔ اچانک اچھل پڑا۔ ’’شی‘‘ کی ایک آواز سنائی دی۔ بالکل ایسی آواز جیسے کوئی کسی کو مخاطب کرتا ہے۔ آواز صاف سنی تھی،
وہم نہیں تھا۔ دوسری بار وہ آواز دو مرتبہ سنائی دی۔ ’’شی۔ شی…‘‘ میں اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ یقینا کوئی رازداری سے مجھے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتا تھا مگر کون۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا مگر خاموشی، پھولوں اور پتھریلے مجسموں کے سوا اور کوئی نظر نہیں آیا۔
اچانک کچھ فاصلے پر روشنی ابھری اور میرے حلق سے آواز نکل گئی۔ اس روشنی میں، میں نے دو انسانی سائے دیکھے تھے۔ میں نے ان پر نظریں جما دیں۔ وہ روشنی کے پاس سے ہٹ گئے اور کچھ دیر کے بعد مجھے ان سایوں کا راز معلوم ہو گیا۔ محل کے ملازم تھے جو جگہ جگہ لوہے کے پول میں لگے ہوئے کاربائیڈ کے شیشے والے لیمپ روشن کرتے پھر رہے تھے۔ یہ لیمپ رنگین شیشوں والے تھے اور ان کے روشن ہونے سے اس جگہ کا حسن بڑھنے لگا تھا۔ ملازم اپنا یہ کام کرتے ہوئے میرے قریب سے گزرے۔ انہوں نے رک کر مجھے دیکھا پھر معنی خیز نظروں سے ایک دوسرے کو اور پھر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئے۔ خدایا… خدایا یہ سب کیا ہے۔ یہ محل، یہ حویلی کوئی حقیقت ہے یا ویسا ہی کوئی طلسم جیسا میں نے رمارانی کے سلسلے میں دیکھا تھا۔ وہاں بھی تو ایک دنیا آباد تھی۔ سب کچھ تھا۔ مکمل زندگی تھی لیکن پورنی کی ہلاکت کے بعد وہاں جھاڑو پھر گئی۔ سب کچھ طلسم ثابت ہوا۔ دھوکا ثابت ہوا۔ اصل لوگ اپنی جگہ تھے مگر یہاں ذرا مشکل ہے۔ نوشاد حقیقت تھا، بھگوتی پرشاد جی حقیقت تھے۔
اس بار میں تنہا نہیں تھا… پھر… پھر…!
رات کی تاریکیوں نے اس ماحول کو نگلنا چاہا مگر ان روشنیوں نے رات کا منصوبہ ناکام بنا دیا بلکہ رنگین شیشوں نے اس ماحول کو اور خواب ناک بنا دیا تھا اور اب ہر چیز کو صاف دیکھا جا سکتا تھا۔ انہی سوچوں میں گم تھا کہ ’’شی شی‘‘ کی آواز دوبارہ ابھری اور میرے اعصاب تن گئے پھر ایک سرگوشی ابھری۔
’’ادھر… اس طرف… اس طرف…! بائیں سمت…!‘‘ میں بے اختیار بائیں سمت گھوم گیا۔ میری بائیں سمت پھولوں کے درمیان سنگ مرمر کا ایک بے جان مجسمہ ایستادہ تھا۔ پتھریلا اور ساکت۔
’’ہاں ٹھیک ہے۔ میرے پاس آ جائو… سنو جلدی کرو ورنہ سندری آ جائے گی۔‘‘ آواز مجسمے سے ہی ابھری تھی۔
لاکھ خود کو سنبھالا، ہمت کرنے کی کوشش کی لیکن پورے بدن میں تھرتھری سی دوڑ گئی۔ میں دہشت بھری نظروں سے اس مجسمے کو دیکھنے لگا۔ اس کے پتھریلا ہونے میں کوئی شک نہیں تھا مگر وہ بول رہا تھا۔
بھٹنڈہ میں داخل ہوتے ہی جن واقعات سے سابقہ پڑا تھا، وہ احساس دلاتے تھے کہ یہاں بھی سنسنی خیز واقعات نے میرا پیچھا نہیں چھوڑا ہے۔ آہ! کیسی آرزو تھی دل میں، کیسا جی چاہتا تھا کہ کچھ وقت ایسا گزر جائے جس میں کچھ نہ ہو۔ جیسے دوسرے لوگ زندگی گزارتے ہیں، ویسے ہی میں بھی گزاروں۔ سادہ سادہ عام لوگوں جیسی زندگی…! لیکن ایسا نہیں ہوتا تھا، ہر طرح کی کوشش کرلی تھی۔ ملازمت اس لئے کررہا تھا کہ محنت کی روٹی ملے۔ کبھی کسی کے در پر جا پڑتا تھا، کبھی کسی کے! پیٹ بھر جاتا تھا مگر دوسروں کے رحم و کرم کی وجہ سے…! ان دنوں جی کچھ خوش تھا مگر تقدیر کو یہ گوارہ نہیں تھا۔ پھر کسی جال میں آپھنسا تھا۔ نہ جانے اب کیا ہوگا۔ عام آدمی مجسمے کی آواز پر اس کے پاس جانے کا تصور بھی نہ کرتا بلکہ خوف سے ہوش ہوجاتا مگر میں…! آہستہ قدم اٹھاتا ہوا اس کے قریب پہنچ گیا۔ نوجوان آدمی کا بت تھا، پتھریلا بے جان! پھر اس کے ہونٹوں سے آواز ابھری۔
’’بھاگ جائو یہاں سے! بھاگ جائو! یہ کال نگر ہے، کایا جال پڑ گیا ہے تم پر…! ایک بار جال اوڑھ لیا تو پھر کبھی نہ جاسکو گے۔ بھاگ جائو یہاں سے، بھاگ جائو!‘‘
’’تم کون ہو…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’بھاگ جائو! جلدی بھاگ جائو۔ دیکھو وہ آگئی۔‘‘ مجسمہ خاموش ہوگیا۔ میں نے گردن گھما کر دیکھا۔ سندری آرہی تھی۔ اس کے ساتھ کچھ اور لڑکیاں بھی تھیں۔ چھ، سات لڑکیاں تھیں۔ مجسمہ خاموش ہوگیا تھا۔
’’تم کون ہو…؟ مجھے بتائو، وہ ابھی دور ہیں۔‘‘ میں نے سوال کیا مگر مجسمے کی آواز دوبارہ نہ سنائی دی۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ اب نہ بولے گا۔
سندری قریب آگئی۔ دوسری لڑکیاں کچھ فاصلے پر رک گئیں۔ وہ بہت خوبصورت جھلملاتے لباس پہنے ہوئے تھیں۔ ان کے پیروں میں بجنے والے زیور تھے اور ہاتھوں میں پھلوں اور میووں کے تھال! میں انہیں دیکھتا رہا۔ انہوں نے پھولوں کے درمیان گھاس کے فرش پر چاندنی بچھا دی، تھال سجا دیئے۔ سندری بولی۔
’’آئو بیٹھو! کیسی لگی یہ جگہ…؟ کیا یہ سنسار کا سورگ نہیں ہے؟ تم نے کہیں ایسا دیکھا؟‘‘
’’یہ مجسمے کس نے بنائے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’سنگ تراش نے! جس طرح چندر بھان مہاراج نے یہاں پھول لگوائے ہیں، اسی طرح مجسمہ سازوں نے یہاں یہ بت تراشے ہیں۔ کیسے لگے تمہیں…؟‘‘ سندری نے پوچھا۔
’’بالکل جیتے جاگتے!‘‘ میں نے کہا اور وہ پھر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔ اپنی مخصوص ہنسی جو ذہن کو گرفت میں لیتی تھی۔ کم بخت بڑے پراسرار طریقے سے ہنسنا جانتی تھی۔ انسان کے ذہن پر نغمگی کی ایک لہر سی دوڑتی محسوس ہوتی تھی اور ذہن اس کی گرفت میں جانے کے لئے بے چین ہوجاتا تھا۔ ہنس کر بولی۔ ’’اصلی ہی تو ہیں۔‘‘
’’کیا مطلب؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’بس! پتھر کے بت بنانے والوں نے انہیں اصلی جیسا ہی بنایا ہے۔ آئو بیٹھو، ہوا میں پھیلی خوشبو لگ رہی ہے تمہیں… آئو نا!‘‘ اس نے ناز سے میرا ہاتھ پکڑا اور میں نے اس سے بڑی آہستگی سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا۔ آگے بڑھا اور چاندنی پر جا بیٹھا۔ سامنے رکھے ہوئے میووں کے تھال میں سونے کے گلاس اور سونے ہی کی صراحی رکھی ہوئی تھی۔ اس نے میرے سامنے دوزانو بیٹھ کر ان گلاسوں میں کوئی رنگین مشروب انڈیلا اور مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ وہ لڑکیاں جو اس کے ساتھ آئی تھیں، قطار بنا کر بیٹھ گئیں۔ ان میں سے کسی کے ہاتھ میں بربط تھا تو کسی کے ہاتھ میں طنبورہ…! ایک خوبصورت نغمے کی دھن چھیڑ دی گئی۔ ماحول ویسے ہی رنگینیوں سے رنگا ہوا تھا۔ خوشنما اور خوشبوئیں بکھیرتے ہوئے پھول، آسمان پر مدھم مدھم دھندلاہٹیں، ستاروں کی ٹمٹماہٹ، نیچے رنگین شیشوں سے ابلتی ہوئی روشنی کی شعاعیں جو مخصوص زاویوں سے ان لڑکیوں کو سحرانگیز بنا رہی تھیں۔ سامنے سندری اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا، ایک انسان پر قدرتی طور پر سحر طاری کرنے کیلئے کافی تھیں لیکن صرف اس انسان پر جس کا واسطہ زندگی میں پہلی بار کسی سحر سے پڑا ہو، میں تو سحر زدہ تھا ہی ایسے ایسے وار ہوئے تھے مجھ پر کہ سنبھلنا ممکن نہیں تھا۔ پتا نہیں کون کون سی قوتیں ایک دوسرے سے برسرپیکار تھیں جو میں بال بال بچ جاتا تھا۔
یقینی طور پر ان قوتوں کا تعلق نہ میری قوت ارادی سے تھا، نہ میری ذہنی پاکیزگی سے! بس یوں لگتا تھا جیسے کوئی مجھے بچا لیتا ہو اور جب بھی یہ خیال دل میں آتا، بڑی ڈھارس ملتی، بڑا سہارا ملتا۔ نجانے کیا کیا کچھ یاد آجاتا۔ درشہوار ہی کا معاملہ تھا۔ اس سے پہلے کشنا کا معاملہ تھا۔ انسان ہی تھا ایک لمحہ بھٹک جانے کیلئے کافی ہوتا لیکن بچایا گیا تھا۔ مجھے بچایا گیا تھا اور اس وقت اس وقت بھی ماحول کا یہ سحر میرے حواس پر فطری طور پر نہیں چھایا تھا اور میں مسلسل خود کو سنبھالے ہوئے تھا۔ نغمے کی دھن آہستہ آہستہ تیز ہوتی گئی۔ سندری نے گلاس اٹھایا اور میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔
’’یہ امرت جل ہے۔ میرے ہاتھ سے پی لو اور امر ہوجائو۔‘‘ میرے ہونٹوں پر ایک تلخ مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’میں تمہیں بتا چکا ہوں سندری کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’دین دھرم سارے کھیل کایا کے کھیل ہیں۔ انسان تو ہو، اس سمے، اس ماحول میں جب بھگوان نے تمہیں یہ سب کچھ دے دیا ہے تم دین دھرم کے جال میں الجھے ہوئے ہو۔ تھوڑی دیر کیلئے سب کچھ بھول جائو۔ یہ نغمہ سنو، اسے اپنے دل میں اتارو، امرت جل پیو اور امر ہوجائو… میں تمہاری ہوں۔‘‘ اس نے جھک کر اپنی پیشانی میری پیشانی سے ٹکرائی اور گلاس میرے ہونٹوں کے نزدیک لانے کی کوشش کی۔ میں نے آہستہ سے اس کے گلاس پر ہاتھ رکھتے ہیوئے کہا۔
’’نہیں سندری! تمہاری بدقسمتی ہے یا میری کہ میں اپنے دین کو نہیں بھول سکتا اور میرے دین میں یہ سب کچھ جائز نہیں ہے۔‘‘ وہ ایک دم پیچھے ہٹ گئی۔ اس نے عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی۔ ’’تو میں کیا کروں، مجھے بتائو میں کیا کروں…؟‘‘ اس کے لہجے میں جھلاہٹ تھی۔
’’خود کو ناکام تصور کرلو سندری! اور اگر ہوسکے تو مجھے یہ بتائو کہ تم یہ سب کیوں کررہی ہو؟‘‘ سندری نے ہونٹ سکوڑ کر گلاس واپس تھال میں رکھ دیا اور بولی۔ ’’میں کیوں کرتی یہ سب کچھ! بس مجھے تو حکم دیا گیا تھا کہ مہمان کا جی خوش کروں، اسے بہلائوں اور ذرا بھی اداس نہ ہونے دوں۔ میں تو یہی سوچ رہی تھی کہ امرت جل کے دو گلاس پی لو تم تو میں تمہیں ناچ دکھائوں۔‘‘
’’جن لوگوں نے یہ سب کچھ کیا ہے سندری! انہیں واپس جاکر یہ بتادو کہ بدقسمتی سے ایک مسلمان ان کے جال میں پھنسا ہے اور اسے ان تمام چیزوں سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ نہ امرت جل پی کر امر ہونا چاہتا ہے، نہ رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہوکر اپنا ایمان کھونا! بس اس سے زیادہ مجھے اور کچھ نہیں کہنا تم سے!‘‘میں اپنی جگہ سے اٹھا۔ خوف تھا کہ کہیں اس کی ضد پر کوئی قدم بہک نہ جائے چنانچہ یہاں سے چلے جانا ہی زیادہ اچھا تھا۔ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا آگے بڑھا اور مہمان خانے کے قریب پہنچ گیا۔ پلٹ کر نہیں دیکھا تھا لیکن اندازہ ہورہا تھا کہ وہ سب بری بری نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی ہیں۔ ہنسی آگئی۔ کم بخت ایک کے بعد ایک مصیبت گلے آپڑتی ہے۔ بھلا اس میں بھی کوئی شک کی بات تھی کہ یہ سب کچھ… یہ سب کچھ ایک گہری چال تھی، کوئی گہرا جال تھا اور اس کارروائی کے عقب میں ہوسکتا ہے بھوریا چرن وہیں بیٹھا ڈوریاں ہلا رہا ہو۔ امکانات تھے اس بات کے! مکمل طور پر امکانات تھے۔
میں اپنے کمرے میں آگیا۔ یہاں کا ماحول بدل گیا تھا۔ غالباً بستروں پر نئی چادریں بچھائی گئی تھیں، کچھ اور چیزیں بھی لا کر رکھی گئی تھیں۔ ایک طرف ایک فریم دیوار پر ٹنگا ہوا تھا اور اس فریم میں ایک تصویر آویزاں تھی۔ یہ تصویر ایک عجیب و غریب چہرے کی تھی۔ قدیم طرز کا کوئی راجپوت یا ایسا سورما جو جنگ و جدل میں حصہ لیتا رہا ہو۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں خون کی آمیزش تھی اور یہ آنکھیں درحقیقت بڑے جاندار رنگوں سے بنائی گئی تھیں۔ بالکل اصلی اور گھورتی ہوئی محسوس ہوتی تھیں۔ ایک لمحے کیلئے ذہن اس تصور میں بھی الجھ گیا کہ یہ تبدیلیاں کیوں رونما ہوئی ہیں۔ بہرحال سب کچھ ہوسکتا تھا، سب کچھ…! میں بھلا کر ہی کیا سکتا تھا۔ دروازہ بند کرلیا۔ یہ احساس دل میں تھا کہ ہوسکتا ہے سندری پھر اندر آجائے اور مجھے پریشان کرنے کی کوشش کرے حالانکہ میں نے اب وہ راستہ تو نہیں چھوڑا تھا کہ وہ میری جانب رخ کرے لیکن اندازہ یہ ہوتا تھا کہ اس کی ڈور بھی کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے۔
کافی وقت گزر گیا سندری نے دروازہ نہیں بجایا اور پھر میں سونے کی کوشش کرنے لگا۔ مدھم مدھم روشنی کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، پوری طرح اندھیرا نہیں تھا۔ یوں ہی اتفاقیہ طور پر تصویر پر نظر جا پڑی اور میں لیٹے لیٹے اٹھ کر بیٹھ گیا۔ یہ نظر کا دھوکا نہیں تھا، آنکھوں کی کوئی خرابی بھی نہیں تھی اور نہ ہی ذہن کا کوئی انتشار…! لیکن فریم میں لگی ہوئی تصویر بے شک بدل گئی تھی۔ یہ تصویر اب مجھے کچھ اور ہی شکل میں نظر آئی تھیں۔ آنکھیں حیرت سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ بستر سے کود کر تصویر کے نزدیک آیا۔ رانی مہاوتی کی تصویر تھی۔ وہ سورما تصویر کے فریم سے غائب ہوگیا تھا جسے میں نے پہلے دیکھا تھا۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے ادھر ادھر دیکھا اور کوئی تصویر بھی نہیں تھی۔ پھر گہری سانس لے کر اپنے بستر کی جانب آگیا اور اس کے بعد بھلا نیند آنکھوں میں کہاں آتی۔ کبھی کبھی پلکیں جھپک جاتیں پھر آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر تصویر کی جانب دیکھنے لگتا۔ اب اندازہ ہورہا تھا کہ یہ تبدیلیاں بلاوجہ رونما نہیں ہوئی تھیں۔ ایک بار پھر پلکوں پر جھپکی سی آگئی اور اچانک ہی تصویر کا تصور ذہن میں آیا تو چونک کر اسے دیکھا۔
اف میرے خدا… میرے خدا! میں نے دونوں ہاتھوں سے سر پکڑ لیا۔ تصویر پھر بدل چکی تھی اور اگر میری آنکھیں دھوکا نہیں کھا رہی تھیں تو یہ تصویر کالی داس کی تھی۔ ہاں… دیوان کالی داس کی! فریم میں بار بار تصویریں بدل رہی تھیں اور اب یہ بات دعوے سے کہہ سکتا تھا کہ یہ تصویریں نہیں تھیں۔ یہ وہ خبیث روحیں تھیں جو تصویری شکل میں آآ کر میرا جائزہ لے رہی تھیں، مجھے دیکھ رہی تھیں، میرے بارے میں اندازے لگا رہی تھیں۔ دل چاہا کہ دروازہ کھول کر باہر بھاگ جائوں، کس طلسم خانے میں آپھنسا۔ نوشاد اور بھگوتی پرشاد تو جا چکے تھے اور مجھے اس عذاب میں گرفتار کرگئے تھے۔ کیا کروں، کیا کروں یا تو لاپروا ہوکر آنکھیں بند کرلوں اور گہری نیند سو جائوں۔ زیادہ سے زیادہ میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے لیکن انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ بھلا اس عالم میں نیند آسکتی تھی؟ آہ کیسے اس طلسم خانے سے بھاگ جائوں۔ اگر یہ سب کچھ چھوڑ کر چلا جاتا ہوں تو حاجی صاحب کے کام میں مداخلت ہوتی ہے۔ رانی مہاوتی آخر ہیں کیا چیز…! اندازہ تو اسی وقت ہوگیا تھا جب دیوان کالی داس نے مجھے مشتبہ نگاہوں سے دیکھا تھا اور اس کے بعد میرے یہاں قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ڈیزائن لینے کیلئے بھگوتی پرشاد بھی ہوسکتا تھا، نوشادبھی! لیکن اشارہ میرے لئے کیا گیا تھا۔
گویا اب یہ طے شدہ بات تھی کہ پھر کوئی جال مجھ پر ڈالا جارہا تھا۔ باغ میں سجے ہوئے مجسمے کے الفاظ یاد آئے۔ ’’یہ کال نگر ہے، کال نگر…!‘‘ میں اس کی بات سے پوری طرح متفق ہوگیا۔ بستر پر بیٹھ کر نجانے کتنی دیر سوچتا رہا کہ اب کیا کروں؟ خاموشی سے بھاگ بھی سکتا تھا لیکن دل نے ڈھارس دی اور کہا کہ مسعود! دیکھ تو سہی آگے کیا ہوتا ہے؟ تیرا آج تک کسی نے کیا بگاڑ لیا جو اب بگاڑ لے گا۔ ذرا ان رانی مہاوتی جی کا کھیل بھی دیکھ لے۔ ان تمام تصورات کے ساتھ ایک بار پھر نظر اس فریم پر ڈالی لیکن وہاں ہر بار کوئی ایسا منظر نظر آتا تھا جو دل کو مٹھی میں جکڑ لیتا تھا۔ اس بار تصویر کا فریم خالی تھا۔ سب جا چکے تھے، سب جا چکے تھے۔ میرے حلق سے ایک ہذیانی سا قہقہہ نکل گیا۔ میں نے غرائی ہوئی آواز میں کہا۔
’’اجازت ہو تو اب سو جائوں؟‘‘ اور اس کے بعد میں نے بستر پر لیٹ کر کروٹ بدلی اور آنکھیں مضبوطی سے بھینچ لیں۔ غالباً کوئی ایسا عمل خودبخود ہوگیا تھا جس نے مجھے نیند کی آغوش میں پہنچا دیا اور نیند بھی ایسی پرسکون کہ صبح کو سورج کی روشنی ہی نے جگایا۔ کرنیں کمرے کے مختلف کونوں کھدروں سے رینگتی ہوئی اندر آگئی تھیں اور مجھے دیکھ رہی تھیں۔ منتظر تھیں کہ میں اپنی جگہ سے اٹھوں اور زندگی کے پراسرار معاملات پھر سے جاری ہوجائیں۔ پہلی شکل سندری ہی کی نظر آئی تھی۔
’’جاگ گئے مہاراج…؟‘‘
’’ہاں سندری…! تم ٹھیک ہو؟‘‘
’’خاک ٹھیک ہوں۔ تم میری کوئی بات مانتے نہیں ہو، سب میرا مذاق اڑا رہے ہیں۔‘‘
’’رانی مہاوتی جی سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور وہ چونک پڑی۔ ’’کیوں…؟‘‘
’’میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مجھے یہاں کب تک رہنا پڑے گا۔ میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اوہ…!‘‘ اس نے گہری سانس لے کر کہا جیسے وہ مطمئن ہوگئی ہو۔ پھر اس نے کہا۔ ’’کوئی جلدی ہے؟‘‘
’’سندری! میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’مہاوتی جی تو صبح ہی صبح کہیںگئی ہیں۔ دیوان جی بھی ان کے ساتھ ہی گئے ہیں۔ ان سے پوچھے بنا تمہارا جانا اچھا نہیں ہوگا۔‘‘
’’تمہیں پتا ہے وہ کب تک آجائیں گے؟‘‘
’’مالک، نوکروں کو بتا کر نہیں جاتے۔ ویسے میرا خیال ہے کہ شام تک ضرور آجائیں گے۔ تم یہاں کسی گوشے میں بیٹھ کر اپنے دین کی پوجا کرو پجاری… ہونہہ!‘‘ اس نے کہا اور وہاں سے چلی گئی۔
چلچلاتی دوپہر تھی، دھوپ حد سے زیادہ تیز، ماحول بڑا سنسان تھا۔ دن کی روشنی میں میں نے ان مجسموں کو دیکھا تھا، چھو کر دیکھا تھا سب کے سب انسانی ہاتھوں کی تراش معلوم ہوتے تھے۔ کوئی شبہ نہیں تھا اس بات میں مگر پچھلی رات کی بات بھی وہم نہیں تھی۔ میں نے اس مجسمے کو بھی دیکھا تھا جو مجھ سے بولا تھا مگر وہ صرف پتھر تھا۔ دور تک نکل گیا۔ واقعی یہ عمارت بڑے وسیع احاطے میں تھی۔ جگہ جگہ تعمیرات تھیں۔ سرخ پتھروں سے بنی ہوئی ایک عمارت کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ایک جھروکے سے آواز ابھری۔
’’سنو… سنو…! ارے… ادھر ادھر!‘‘ میں رک گیا۔ یہ اندازہ فوراً ہوگیا تھا کہ آواز جھروکے سے آرہی ہے مگر جھروکا اونچا تھا۔ میں اس میں نہیں جھانک سکتا تھا۔ ’’سیدھے چلتے ہوئے دائیں سمت مڑ جائو۔ دروازے سے اندر آجائو، وہ گہری نیند سو رہا ہے۔‘‘ آواز پھر ابھری۔
’’کون ہو تم…؟‘‘
’’ڈرو مت، تمہارے جیسا انسان ہوں۔‘‘
’’یہاں کیا کررہے ہو؟‘‘
’’ہمت کرو، اندر آجائو، ڈرو مت! اس وقت کوئی خطرہ نہیں ہے۔ آئو جلدی کرو، آجائو۔‘‘
’’آرہا ہوں، تمہیں بھی دیکھ لوں۔‘‘ میں نے طنزیہ آواز میں کہا اور آگے بڑھ گیا۔ اس کا کہنا درست تھا۔ آگے چل کر بائیں طرف مڑا تو دروازہ نظر آگیا۔ اندر سے بند نہیں تھا۔ میں نے دھکا دیا تو کھل گیا۔ دوسری طرف ایک وسیع چبوترہ بنا ہوا تھا۔ اس کے تین طرف کمرے تھے۔ چبوترہ بھی سرخ پتھر سے بنا ہوا تھا۔ ان کے بیچوں بیچ پیپل کا درخت تھا جو باہر سے بھی نظر آتا تھا۔ ایک گوشے میں پیپل کے سوکھے پتوں کے انبار لگے ہوئے تھے۔ ان کے قریب جھاڑو بھی پڑی ہوئی تھی۔ وہ کمرہ بھی اس عمارت میں دائیں سمت کا ہوسکتا تھا۔
کمرہ اختتامی دیوار کے ساتھ تھا، چنانچہ میں اس کے قریب پہنچ گیا۔ باہر سے لوہے کی مضبوط کنڈی لگی ہوئی تھی۔ میں نے بہ آہستگی اس کنڈی کو کھولا اور پھر آہستہ سے دروازے کے کواڑ کو دھکا دیا۔ چرچراہٹ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھل گیا۔ اندر تاریکی نہیں تھی، روشندان سے دھوپ پڑ رہی تھی۔ دھوپ نے کمرے کو روشن کردیا تھا۔ کمرہ چونکہ کسی قدر بلندی پر تھا اس لئے اس شخص نے مجھے دیکھ لیا تھا جسے میں باہر سے نہ دیکھ سکا تھا۔ وہ ایک توانا آدمی تھا۔ اچھے قدو قامت کا مالک! مگر اس کے پیروں میں زنجیریں بندھی ہوئی تھیں۔ ایک زنجیر کمر سے بھی بندھی ہوئی تھی اور یہ تمام زنجیریں موٹے آہنی کڑوں سے بندھی ہوئی تھیں۔
’’کون ہو تم…؟‘‘
’’اگر تمہاری آنکھوں میں روشنی ہے تو مجھے دیکھ لو۔ غور سے دیکھو، کون ہوں میں؟‘‘ اس نے کہا۔
’’میں تمہیں نہیں جانتا۔‘‘
’’نہیں جانتے… کیوں…؟‘‘ وہ حیرت سے بولا۔ میں نے پھر اسے غور سے دیکھا۔ اس کا حلیہ بہت خراب تھا۔ کپڑے چیتھڑوں کی شکل میں جھول رہے تھے، چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں پر زخموں کے کھرنڈ تھے۔
’’تمہاری بات کا کیا جواب دوں میں…؟‘‘
’’بے وقوف…! میں چندر بھان ہوں… چندر بھان!‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں اچھل پڑا۔
’’اس نے مجھے بیمار مشہور کردیا ہے۔ لوگ مجھے بیمار سمجھتے ہیں۔ بھگوان کی سوگند میں پاگل نہیں ہوں۔ میں تمہارا مہاراج ہوں۔ میں تمہارا مہاراج ہوں سمجھے! میں تمہارا ان داتا ہوں۔ میں تمہارا مہاراج ہوں سمجھے…!‘‘
’’تم چندر بھان ہو… مہاوتی کے شوہر…؟‘‘
’’ہاں! میں وہی بدنصیب ہوں۔ سنو میری مدد کرو۔ بس ایک بار… صرف ایک بار مجھے یہاں سے آزادی دلا دو، جیون بھر تمہارا احسان مانوں گا۔ ارے بھائی! ایک بار، بس ایک بار!‘‘ اس کے لہجے میں بڑا درد تھا۔ وہ امید بھری نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔
سمجھ میں آنے والی تو خیر کوئی بات تھی ہی نہیں۔ یہاں آنے کے بعد جو کچھ دیکھا تھا، ان میں سے ایک دو باتیں ہی سمجھ میں آئی ہوں تو آئی ہوں، ورنہ کچھ نہیں سمجھ پایا تھا۔ چندربھان کی کمر سے بندھی ہوئی زنجیر اور اس کے پیروں میں پڑے ہوئے زنجیروں کے کڑوں کو دیکھا۔ موٹے موٹے لوہے کے کڑے تھے جن میں انتہائی مضبوط زنجیریں باندھ کر انہیں دیواروں میں لگے ہوئے کڑوں سے باندھ دیا گیا تھا۔ میں نے ان کڑوں اور زنجیر کی مضبوطی کا اندازہ لگایا اور چاروں طرف دیکھنے لگا۔ کوئی ایسی چیز نہیں تھی جن سے ان کڑوں کو توڑنے کی کوشش کی جائے اور پھر یہ منظر انتہائی حیران کن تھا کہ چندر بھان مہاراج یہاں پر قیدی تھے اور رانی مہاوتی ان کے نام پر اس شاندار محل میں راج کررہی تھی۔ وہ عورت تو مجھے ایک نگاہ میں ہی پراسرار لگی تھی اور اب اس کے بعد جو واقعات پیش آئے تھے، انہوں نے کوئی شک نہیں چھوڑا تھا۔ میں نے افسوس بھرے انداز میں کہا۔
’’مگر چندر بھان جی! میرے پاس تمہاری زنجیروں کو توڑنے کیلئے تو کوئی چیز نہیں ہے۔‘‘
’’بھگوان کیلئے… بھگوان کیلئے کچھ بھی کرو۔ جو تمہارا من…!‘‘ چندر بھان نے ابھی اتنا ہی کہا تھا کہ دفعتاً اس کے چہرے پر خوف کے آثار پھیل گئے۔ اس کی نگاہیں میرے عقب میں کھلے ہوئے دروازے پر جم گئیں۔ میں نے بھی تیز روشنی میں ایک سایہ سا محسوس کیا۔ پلٹ کر دیکھا تو حلق سے ایک دہشت بھری آواز نکل گئی۔ لمبے چوڑے بدن کا مالک تھا وہ، انسان کہنا اس کو غلط تھا۔ ہاں انسان نما چیز ضرور تھی۔ خوفناک لمبے لمبے بال اس کے پورے چہرے، گردن اور کھلے ہوئے بازوئوں پر نظر آرہے تھے۔ باقی جسم پر لباس تھا، آنکھیں بے حد خوفناک اور ضرورت سے زیادہ بڑی بڑی! ناک کے بارے میں بھی کوئی صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا تھا کہ وہ بھی تقریباً کانوں تک ہی پھیلی ہوئی تھی اور دہانہ بہت چھوٹا! وہ خونخوار نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ غراتا ہوا دو قدم آگے بڑھا اور میں ایک دم پیچھے ہٹ گیا۔ لیکن جیسے ہی اس کی نگاہ میری آنکھوں سے ٹکرائی، دفعتاً وہ اس انداز میں پیچھے ہٹ گیا جس انداز میں آگے بڑھا تھا۔
اس کے دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بھنچ گئی تھیں اور وہ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس کے حلق سے خونخوار غراہٹیں نکلنے لگیں اور وہ اپنی جگہ کھڑا کھڑا اچھلنے لگا۔ اس نے اپنی موٹی انگلی سے میرے سینے کی جانب اشارہ کیا اور پھر اس انگلی کو کھلے ہوئے دروازے کی جانب لے گیا۔ جیسے کہہ رہا ہو کہ باہر نکل جائو۔ میں خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا اور یہ اندازہ لگا رہا تھا کہ یہ انوکھی مخلوق انسان ہے بھی یا نہیں…! پھر اس کے حلق سے ایک چنگھاڑ سی نکلی اور وہ اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے بال نوچنے لگا۔ سر کے بالوں کے گچھے کے گچھے اس نے اکھاڑ کر پھینک دیئے۔ جسم کے بالوں کو بھی نوچنے لگا۔ اس کے حلق سے غراہٹیں نکل رہی تھیں اور وہ ادھر سے ادھر دوڑ رہا تھا۔ کبھی اس طرف کی دیوار سے ٹکراتا اور کبھی دوسری طرف کی دیوار سے! پھر وہ زمین پر گر کے زمین پر لوٹنے لگا۔ جگہ جگہ سے اس نے اپنا جسم کاٹنا شروع کردیا اور میں نے اس کے جسم سے خون ابلتا ہوا دیکھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس پر یہ کس قسم کا دورہ پڑ گیا ہے لیکن ایک اندازہ میں نے ضرور لگا لیا تھا کہ وہ شدید غصے کے عالم میں مجھ سے باہر نکل جانے کیلئے کہہ رہا تھا اور اپنی بوٹیاں چبائے جارہا تھا البتہ اس کے منہ سے ایک لفظ بھی نہیں نکل پایا تھا۔ بالکل گونگوں کا سا انداز تھا۔ شاید وہ گونگا تھا۔ چند لمحات کے بعد چندر بھان ہی نے کہا…‘‘
’’دیر کردی، دیر ہوگئی اب…! اب ساری بلا مجھ پر ہی آئے گی۔ تم سے یہ کچھ نہیں کہہ رہا مگر… مگر مجھ سے بدلہ لے گا۔ جائو… جائو باہر نکل جائو، پتا نہیں اس نے تم پر حملہ کیوں نہیں کیا؟ اپنا غصہ کیوں ضبط کررہا ہے۔‘‘
’’یہ گونگا ہے…؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’کون ہے یہ…؟‘‘
’’آ… آ… آ…!‘‘ چندر بھان کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اپنے الفاظ کو آہوں میںتبدیل کرکے رہ گیا۔ پھر اس نے کہا۔ ’’جائو… جائو نکل جائو۔ ہوسکے تو دوبارہ مجھ مظلوم کی طرف رخ کرنا۔ کسی کو میرے بارے میں بتا دینا۔ لوگوں سے کہہ دینا کہ چندر بھان… چندر بھان!‘‘ دفعتاً ہی نیچے لیٹا ہوا آدمی ہولناک آواز میں چیخا۔ یہ آواز اس کمرے میں اس طرح گونجی تھی کہ کانوں کے پردے پھٹتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ اس کے بعد اس نے چندر بھان کی طرف چھلانگ لگائی اور چندر بھان بھی خوف زدہ ہوکر پیچھے ہٹ گیا تھا مگر اس شخص نے چندر بھان پر بھی حملہ نہیں کیا۔ پھر میری جانب مڑا اور دروازے کی جانب اشارہ کرکے آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ اب وہاں رکنا حماقت تھی، ظاہر ہے اس بھونچال سے مقابلہ کرنے کا تو تصور بھی نہیں کرسکتا تھا اور پھر مقابلہ کس بنیاد پر کرتا!
کچھ بھی تو معلوم نہیں تھا مجھے، ایک اور انوکھی چیز دیکھی تھی میں نے یہاں، اور پھر میں حیران دروازے سے باہر نکل آیا تھا۔ باہر کا منظر وہی تھا۔ چلچلاتی دھوپ، سنسان اور ویران راستے! وہ میرے پیچھے پیچھے آیا تھا اور اس نے میرے باہر نکلتے ہی یہ دروازہ بھی بند کردیا تھا جبکہ چندر بھان کے کمرے کا دروازہ وہ پہلے ہی بند کر آیا تھا۔ میں ایک لمحہ کھڑا اس بند دروازے کو دیکھتا رہا۔ پھر گردن جھٹک کر وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ لعنت ہے… لعنت ہے اس زندگی پر! جو کچھ بھی نظر آتا ہے، ایسا ہی نظر آتا ہے جس کا سر پیر سمجھ میں ہی نہ آئے۔
وہاں سے واپس پلٹ پڑا اور ادھر ادھر گھومنا بیکار سمجھ کر اپنی رہائشگاہ میں آگیا۔ دیر تک اس سارے قصے کے بارے میں سوچتا رہا اور اس کے سوا اور کوئی اندازہ نہیں لگا سکا تھا کہ مہاوتی پُراسرار اور خطرناک عورت ہے۔ وہ کیا ہے اور کیا کررہی ہے، اس کے بارے میں ظاہر ہے مجھے کچھ معلوم نہیں تھا اور نہ ہی ان سارے گورکھ دھندوں کے بارے میں میری کوئی معلومات۔ حالانکہ طویل عرصے سے اس جال میں پھنسا ہوا تھا۔ پھر میں نے سوچا کہ حاجی صاحب نے مجھے اس لئے تو یہاں نہیں بھیجا کہ مہاوتی کے بارے میں معلومات حاصل کروں۔ مہاوتی بس حاجی صاحب کی ایک پارٹی تھی اور حاجی صاحب نے اسے ساڑھیاں فروخت کی تھیں جن کا معاوضہ انہیں مل گیا تھا۔ اگر آج شام تک مہاوتی مجھے وہ ڈیزائن نہیں دے دیتی اور حاجی صاحب کیلئے نیا آرڈر نہیں دے دیتی تو میں یہاں سے واپس چلا جائوں گا۔ حاجی صاحب سے کہہ دوں گا کہ وہاں کچھ ایسے عجیب و غریب حالات کا سامنا کرنا پڑا جن کی وجہ سے میں وہاں نہیں رک سکا۔ حاجی صاحب اچھے آدمی ہیں، اس بات کا برا نہیں مانیں گے۔
بہرحال میں اپنی جان تو خطرے میں نہیں ڈال سکتا تھا۔ یہ دوسری بات ہے کہ مجھے اپنی جان کی کوئی پروا نہیں تھی۔ سب کچھ ہورہا تھا، سب کچھ! پورے سکون کے ساتھ کررہا تھا لیکن نقطۂ نظر ابھی تبدیل نہیں ہوا تھا۔ اپنی ذات کے ساتھ بھلا اس وقت تک کیا دلچسپی ہوسکتی تھی جب تک کہ ماں، باپ اور بہن، بھائی نہ مل جائیں۔ ان کیلئے ہی تو زندگی لٹا دی تھی۔ جو کھو گیا تھا، اسے پانے کی آرزو میں ہی تو جی رہا تھا۔ اگر یہ آرزو ختم ہوجائے اور دل اس بات کا یقین کرلے کہ اب وہ زندگی میں کبھی نہیں آئیں گے تو پھر ایک لمحے بھی میرے لئے جینا بیکار تھا۔ کیا فائدہ اس طرح تنہا جینے سے۔ ملنے کو تو بہت کچھ مل جائے گا لیکن سب سے بڑی طلب ماں، باپ کی تھی۔ سب سے بڑی حسرت انہی کی تھی اور اس حسرت، اس کسک کو دل میں دبائے جہاد کررہا تھا اپنے آپ سے اور کوششیں کررہا تھا کہ مجھے میری کھوئی ہوئی ہستی واپس مل جائے۔ اگر ایسا ہوگیا تو اس کے بعد ایک معمولی انسان کی حیثیت سے اپنے ماں، باپ کے قدموں میں زندگی بسر کرنا دنیا کی سب سے بڑی عبادت سمجھوں گا۔
شام ہوگئی۔ سورج کی قہر سامانیاں ختم ہوگئیں اور جب سورج چھپا تو نجانے کہاں سے بند ہوائیں چل پڑیں اور ماحول پر ایک فرحت انگیز کیفیت طاری ہوگئی۔ سندری دوبارہ میرے پاس نہیں آئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد سے مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مجھ سے روٹھ گئی ہو۔ میں لعنت بھیجتا تھا ایسی سندریوں پر لیکن شام کو جب میرے لئے کھانے پینے کی چیزیں آئیں اور میں انہیں کھانے میں مصروف ہوگیا تو کھانا لانے والے ملازم نے کہا۔
’’مہاراج! آپ تیار ہیں، کالی داس جی نے کہا ہے کہ کھانے سے فراغت حاصل کرنے کے بعد آپ کو رانی مہاوتی جی سے ملنا ہے۔‘‘
’’رانی جی آگئیں؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’ٹھیک ہے تم بھی انہیں میرا یہ پیغام دے دو کہ میں فوراً ہی ان سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘
میں نے کھانے سے جلدی جلدی فراغت حاصل کی اور انتظار کرنے لگا کہ رانی مہاوتی مجھے بلائیں۔ آنے والا کالی داس ہی تھا۔ وہی کالا بھجنگ جو اب مجھے انسان سے زیادہ شیطان معلوم ہونے لگا تھا۔ خصوصاً اس وقت سے جب سے میں نے اسے تصویر سے غائب ہوتے ہوئے دیکھا تھا۔ مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ ایک معنی خیز مسکراہٹ تھی اس کے ہونٹوں پر، پھر وہ بولا۔
’’آیئے مہاراج…! رانی مہاوتی آپ کو ڈیزائن دینا چاہتی ہیں۔‘‘ میں خاموشی سے اس کے ساتھ آگے بڑھ گیا۔ وہ مجھ سے چند قدم آگے چل رہا تھا۔ مختلف غلام گردشوں اور راہداریوں سے گزار کر وہ مجھے محل کے اندرونی حصے میں لے گیا۔ بڑے سے چوبی دروازے کو کھولا اور اندر داخل ہوگیا۔ وسیع و عریض کمرہ تھا جس میں شاندار اور قیمتی فرنیچر سجا ہوا تھا۔ رانی مہاوتی ایک بہت قیمتی اور چوڑی کرسی پر بیٹھی ہوئی تھیں۔ قیمتی ساڑھی پہنے ہوئے، چہرے پر وہی پروقار کیفیت جسے دیکھ کر یہ احساس ہوتا تھا کہ کوئی کسی رانی ہی کے سامنے ہے۔ مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور کہنے لگیں۔ ’’آئو… آئو آگے آئو، رک کیوں گئے؟ کالی داس! ہمارے مہمان کو کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی تمہارے گھر میں؟‘‘
’’کوشش تو یہی کی ہے مہارانی کہ آپ کے مہمان کو کوئی تکلیف نہ ہونے پائے۔‘‘ کالی داس کے لہجے میں ایک تمسخر چھپا ہوا تھا۔
’’ان کی خاطر مدارات بھی کی…؟‘‘
’’ہاں…! مگر سندری کہتی ہے کہ یہ سندرتا کو پسند نہیں کرتے۔‘‘ کالی داس نے جواب دیا۔
’’تم بھی بدھو ہو نرے کالی داس جی! جس کے چرنوں میں اندر سبھا سجتی ہو، اسے سندری کی سندرتا سے کیا لگائو ہوگا مگر پورن بھگت ہمیں بھگنتی کا سبھائو نہیں دے رہے۔ کیوں پورن مہاراج؟‘‘ رانی نے دل موہ لینے والی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا۔ رانی جو کچھ کہہ رہی تھی، وہ سمجھ میں آرہا تھا۔ پھر اس نے کہا۔ ’’ہم سے بولو گے نہیں مہاراج…؟‘‘
’’حکم دیجئے رانی جی!‘‘ میں نے کہا۔
’’اپنے بارے میں بتائو گے نہیں؟‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’ایک مسلمان کے ہاں نوکری کررہے ہو، نام بھی مسلمانوں جیسا، روپ بھی ان کا سا، ایسا کیوں ہے؟‘‘
’’اس لئے کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘
’’کوئی مسلمان پورن نہیں ہوسکتا یا کوئی پورن مسلمان نہیں رہ سکتا۔‘‘ رانی نے کہا۔
’’آپ کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آرہی ہیں رانی جی! مجھے یہاں بہت وقت گزر چکا ہے۔ میں جانا چاہتا ہوں۔ حاجی صاحب میرا انتظار کررہے ہوں گے۔‘‘
’’آپ ایسے کہاں جائیں گے پورن مہاراج! ہمیں کچھ دیتے جایئے۔ ایسے ہی تھوڑی روکا ہے آپ کو! چلیں ٹھیک ہے آپ کی بات ہی سہی۔ دیکھئے ہمیں ایسے سو دوشالے بنوانے ہیں، بنارسی کڑھائی میں یہ ڈیزائن بنوا دیں ہمیں! دکھائو کالی داس! سورج لیکھا دکھائو پورن مہاراج کو!‘‘ کالی داس نے گردن جھکائی۔ ایک طرف بڑھا پھر پلٹا اور اس کے بعد اس نے ایک سرخ دوشالا کھول دیا۔ دوشالے پر جگمگاتے تاروں سے کچھ نشان کڑھے ہوئے تھے۔ صاف لگتا تھا کہ ان تاروں سے کچھ لفظ لکھے ہوئے ہیں۔ میں نے انہیں دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے رانی جی! آپ یہ مجھے دے دیں۔‘‘
’’اس کے بدلے آپ ہمیں کیا دیں گے؟‘‘ رانی نے مسکرا کر پوچھا۔
’’یہ آپ کو واپس مل جائے گا دیوی جی!‘‘
’’نہیں آرہے یہ ہمارے قابو میں شمبھو مہاراج! آپ ہی آیئے۔ پورن جی پردہ کررہے ہیں ہم سے…!‘‘ کمرے میں بنے ہوئے دوسرے دروازے سے ایک کریہہ المنظر بوڑھا باہر نکلا۔ دبلا پتلا بانس کی طرح سوکھا، ہاتھ، پائوں بے ترتیب! اوپری بدن ننگا، نیچے دھوتی باندھے ہوئے وہ بھی نہایت مختصر! گردن میں باریک باریک سانپ مالائوں کی طرح پڑے ہوئے جو کلبلا رہے تھے، زبانیں نکال رہے تھے۔ داڑھی، مونچھوں اور سر کے بال کیچڑ میں لپٹے ہوئے، بدن سے بدبو کے بھبکے اٹھ رہے تھے۔
’’جے مہاکالی!‘‘ اس نے ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔ میں اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔ ’’جے مہاکالی!‘‘ اس بار اس نے گرجتی آواز میں کہا۔ میں نے پھر بھی کچھ نہ کہا تو وہ کڑک کر بولا۔ ’’سارے دیاس یہاں سے شروع ہوتے ہیں، یہاں ختم ہوجاتے ہیں۔ جے مہا کالی! کیا تو کالی داس نہیں ہے؟‘‘
’’مجھے جانے دیں رانی جی!‘‘ میں نے کہا۔
’’شمبھو مہاراج سے بات کریں پورنا!‘‘ وہ بولی۔
’’میرا نام مسعود احمد ہے۔‘‘
’’نام مسعود احمد ہے پھر پورنیاں کیسے مل گئیں تجھے؟ اوہو سمجھا دیکھ یہ ایک‘ اس نے ہاتھ اٹھا کر نیچے کیا اور کالے رنگ کا ایک لکڑی کا ٹکڑا نیچے گر پڑا۔ دو تین چار وہ گنتا رہا اور چھ ٹکڑے زمین پر آگئے سات…! اس نے ہاتھ اٹھایا مگر کوئی ٹکڑا نیچے نہ گرا۔ سات… سات… سات…! وہ بار بار ہاتھ اٹھا کر نیچے گراتا رہا مگر ساتواں ٹکڑا نیچے نہ گرا۔ ’’ارے ساتویں کہاں گئی، ساتویں کہاں گئی۔ ساتویں کہاں ہے…؟ ساتویں نہیں ہے۔‘‘ اس نے آخری الفاظ مہاوتی کو مخاطب کرکے کہے۔
’’کھوج لگائیں مہاراج…!‘‘ مہاوتی پریشان لہجے میں بولی اور شمبھو زمین پر بیٹھ گیا۔ اس نے آسن جما لیا اور آنکھیں بند کرلیں۔ تب میں نے اس کی گردن میں پڑے ہوئے باریک باریک سانپوں کے بل کھلتے دیکھے۔ ان میں سے دو اس کی ناک کے دونوں نتھنوں میں گھسنے لگے، دو کانوں کی طرف بڑھ گئے اور کانوں کے سوراخ تلاش کرکے ان میں بدن سمیٹنے لگے۔ بھیانک منظر تھا۔ سانپوں کے چمکیلے بدن اس کی ناک اور کانوں کے سوراخوں میں گم ہوتے جارہے تھے اور میرے دیکھتے ہی دیکھتے سارے سانپ غائب ہوگئے۔ میں اکتائی ہوئی سانسیں لے رہا تھا اور رانی اور کالی داس بدستور مسکراتی نظروں سے میرا جائزہ لے رہے تھے۔ کچھ دیر کے بعد شمبھو مہاراج نے آنکھیں کھول دیں۔ خوفناک سرخ آنکھیں! پھر انہوں نے منہ کھولا اور بے چین سانپ بلبلاتے ہوئے ان کے منہ سے باہر آنے لگے۔ کچھ رینگتے ہوئے ان کی گردن تک پہنچ گئے، کچھ اس کوشش میں نیچے گر پڑے تو شمبھو مہاراج نے انہیں خود اٹھا کر گردن میں ڈال لیا۔ پھر وہ مجھے گھورتے ہوئے بولے۔ ’’کچھ پتا نہیں چل رہا ساتویں کہاں ہے۔‘‘
’’نہیں پتا چل رہا مہاراج…؟‘‘ مہاوتی بولی۔
’’بڑا بگڑا ہوا کھیل ہے مہاوتی! یہ خود ہی بتائے تو پتا چلے۔ اس کا شروع بھی پتا نہیں چلتا۔ شنکھا بھی نہیں ہے یہ کہ کھنڈولا بن جائے مگر پورنا ضرور ہے، ساتوں پورنیاں رکھنی ہوتی ہیں، مگر ساتویں کہاں گئی؟ بول رے پورنا! ساتویں کہاں گئی ورنہ شمبھو ہے میرا نام…!‘‘
’’بتا دو پورنا مہاراج! بتا دو۔‘‘ کالی داس بولا۔
’’رانی مہاوتی! میں آپ کا احترام کرتا ہوں۔ یہ کیا ہورہا ہے میرے ساتھ! یہ کیا ہورہا ہے؟‘‘ میں نے احتجاج کیا۔
’’تم بھی تو ضد کررہے ہو پورنا! بتا دو شمھبو مہاراج کو! نہیں تو مصیبتوں میں پھنس جائو گے۔‘‘
’’آپ مجھے جانے دیں۔ میں جارہا ہوں۔‘‘ میں نے دروازے کی طرف قدم بڑھا دیئے۔ اسی وقت شمبھو اچھل کر کھڑا ہوگیا۔
’’رک جا پورنا…! رک جا۔‘‘ اس نے گلے سے ایک سانپ اتار کر ہاتھ میں لے لیا۔
’’میں جارہا ہوں اور اب میں محل میں نہیں رکوں گا۔ سمجھے تم لوگ!‘‘ میں نے کہا اور شمبھو نے سانپ مجھ پر اچھال دیا۔ سانپ میری گردن میں آپڑا۔
اس سے خوف زدہ ہونا اور چھٹکارا پانا فطری کوشش تھی۔ میں نے اسے مٹھیوں میں جکڑ لیا مگر اس نے دوسرا سانپ پھینکا جو میری کلائیوں پر آکر پڑا اور اس نے میری دونوں کلائیوں پر بندش کرلی۔ میرے حلق سے دہشت بھری چیخیں نکلیں اور میں نے بدحواسی کے عالم میں دروازے کی طرف چھلانگ لگائی لیکن ایک اور سانپ نے میرے پیروں کو بھی جکڑ لیا۔ میں اوندھے منہ نیچے گرا اور پوری قوت سے سانپوں کے جسموں سے قائم کی ہوئی بندشوں سے نکلنے کی جدوجہد کرنے لگا لیکن ان گھنائونی لچکدار رسیوں نے مجھے ایسا جکڑا کہ میں ہل بھی نہ سکا اور ادھر سے ادھر لڑھکنے لگا۔
شمبھو نے کچھ اور پھینکا اور گردوغبار کا ایک بڑا مرغولہ میرے گرد چھا گیا۔ میری آنکھیں بند ہوگئیں، جدوجہد رک گئی اور بدن ساکت ہوگیا۔ کھانسی اٹھ رہی تھی۔ عجیب سی گرد تھی۔ میں نے سختی سے آنکھیں بھینچ لیں اور کھانستا رہا۔ کچھ دیر کے بعد احساس ہوا کہ گرد کم ہوگئی ہے۔ آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔ دھند سی چھائی ہوئی تھی پھر وہ دھند بھی چھٹ گئی۔ ایک نگاہ میں ہی معلوم ہوگیا تھا کہ منظر بدل گیا ہے۔ نہ محل ہے، نہ بھٹنڈہ، نہ کالی داس ہے، نہ شمبھو! بلکہ ایک اجاڑ جنگل ہے، سوکھے ہوئے پتوں سے بے نیاز درخت کھڑے ہوئے ہیں۔ چند گز کے فاصلے پر بدنما چٹانوں اور پہاڑوں کا سلسلہ ہے۔ ایک اونچے ٹیلے کے دامن میں ایک سیاہ غار کا دہانہ منہ کھولے مجھے تک رہا ہے۔ سانپ بدستور میرے بدن سے لپٹے ہوئے ہیں اور میں ان کی قید میں ہوں۔ ان سانپوں سے مجھے دہشت بھی ہورہی تھی، گھن بھی آرہی تھی۔ بے چینی سے پورے بدن کا زور لگایا تو دوسری طرف لڑھک گیا تب ادھر کا منظر نظر آیا۔ لاتعداد بیر گردن نیہوڑاتے گھٹنوں میں سر دیئے، اداس بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ میرے بیر تھے۔
پورنیوں کے بیر…! ان سے کوئی دو گز کے فاصلے پر درخت کے ایک کٹے ہوئے تنے پر بھوریا چرن پائوں لٹکائے بیٹھا ہوا تھا اور بھوریا چرن کے پیروں کے پاس ایک نسوانی بدن رسیوں سے بندھا پڑا تھا۔ میں پتھرا گیا۔ یہ سب کچھ بہت سنسنی خیز تھا مجھے اپنی طرف دیکھتے پا کر بھوریا چرن اپنی جگہ سے اٹھا اور میرے قریب آکر میرے پائوں چھوتا ہوا بولا۔
’’پائے لاگوں مہاراج دین دیال… بڑے دھرم دیوتا ہیں آپ! مان گئے آپ کو۔‘‘ اس کی آواز میں طنز کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
’’بھوریا چرن تم…؟‘‘
’’کتا ہے آپ کا… کیڑا ہے آپ کے سامنے رینگنے والا…!‘‘
’’کیوں کیا حال ہے؟‘‘
’’بس حال نہ پوچھو مہاراج! ہم نے بڑے بڑے دھرم دیال دیکھے ہیں مگر تم جیسا دھرم کا بائولا نہیں دیکھا…‘‘
’’سچ کہتے ہو بھوریا چرن…!‘‘
’’نہیں! جھوٹ بول رہے ہیں کیا؟‘‘
’’تمہارا شکریہ تم نے مجھے یہ اعزاز اپنے منہ سے دیا ہے۔ یہی تو میں چاہتا ہوں بھوریا چرن کہ لوگ مجھے میرے دین کیلئے پاگل سمجھیں۔‘‘
’’ستیاناس ہو تمہارا! کتے کی موت مر جائو۔ ہمارا کریا کرم کیوں کردیا تم نے۔ ارے سارا جیون ختم کردیا تھا۔ کھنڈولا بننے کیلئے کتنی محنت کی تھی، سب خاک میں ملا دی۔ خیر ہم تو خاک میں ملے ہی ہیں مگر تمہارا بھی کریا کرم ہی کرکے چھوڑیں گے سمجھے! دیوانے، پاگل، پاپی! اب بھی مان لے ہماری بات، اب بھی مان لے۔ تیرے ذریعے ہمارا ایک اور ایسا کام ہوسکتا ہے جو سارے بگڑے ہوئے کام بنا دے۔ اگر تو ہمارے رنگ میں رنگ جائے تو اب بھی سن لے، خود بھی عیش کرے گا اور ہمیں ہماری منزل مل جائے گی۔ بتائے دے رہے ہیں تجھے، تو ہے مسلمان کا چھوکرا، مسلمان بنے رہنا۔ ہم انکار نہیں کریں گے، مسلمانوں میں گھس جانا، دین دیوتا بن جانا، لوگوں کے کام نکالتے رہنا اور سب کو دھوکا دیتے رہنا۔ ایک ایسا لڑکا تلاش کرلینا جو ہمارا کام کردے۔ ارے ہم اب بھی اسی پھیر میں پڑے ہوئے ہیں کہ کبھی تجھے عقل آجائے اور تو ہمارا یہ کام کردے۔ وہ سارے وعدے جو ہم نے تجھ سے کئے ہیں، اب بھی پورے کریں گے ہم! اب بھی پورے کریں گے۔ مان لے ہماری بات، سنسار میںعیش ہی عیش کرے گا تو…!‘‘میں ہنس پڑا اور میں نے کہا۔
’’تم بھی دھن کے پکے ہو بھوریا چرن! مگر تم نے یہ کہہ کر میری روح خوش کردی ہے کہ تو نے مجھ جیسا دین کا متوالا نہیں دیکھا۔ ایمان نہیں چھوڑوں گا بھوریا چرن! کبھی ایمان نہیں چھوڑوں گا۔ عہد ہے ہزاروں بار۔ مارنا چاہتے ہو تو تمہیں کھلی چھٹی ہے۔ تم کتے کی موت کہہ رہے ہو، میں کہتاہوں کہ تم ان سانپوں کو حکم دو جو میرے بدن سے لپٹے ہوئے ہیں کہ یہ مجھے آہستہ آہستہ ڈسیں، اپنا زہر میرے جسم میں اتار دیں۔ میرے جسم میں آگ لگ جائے، پانی بن کر بہہ جائوں۔ میں خوشی سے تیار ہوں اس کیلئے لیکن مروں گا اپنے ہی دین کا نام لیتے ہوئے۔ سمجھے بھوریا چرن! میں بھی تمہیں ایسا ٹکرایا ہوں کہ تمہیں مزہ آگیا ہے اور ابھی اور بھی بہت سے مزے آئیں گے۔‘‘
’’بیٹا! مزے تو تجھے بھی آئیں گے۔ تو کیا سمجھتا ہے۔ ٹھیک ہے ڈٹا رہ اپنے دھرم پر۔ اس دھرم پر جس کے نام پر تو عبادت بھی نہیں کرسکتا سمجھا۔ تجھ سے بھی تو بہت کچھ چھن گیا ہے۔ اتنا کچھ چھن چکا ہے تجھ سے کہ تو بہت اچھی طرح سمجھتا ہے۔ تو بھی تو اب لکیر ہی پیٹ رہا ہے۔ بہت شوق ہے نا تجھے لکیر پیٹنے کا تو پیٹتا رہ…‘‘
’’بہت بڑی بات ہے بھوریا چرن! میرے لئے یہ بھی بہت ہی بڑی بات ہے کہ لکیر ہی میرے ہاتھ میں ہے۔‘‘ بھوریا چرن نے غصے سے آگے بڑھ کر کئی لاتیں میرے جسم کے مختلف حصوں پر ماریں اور میں قہقہے لگاتا رہا۔ وہ دیوانگی کے عالم میں لاتیں اور گھونسے مجھے مارتا رہا اور میں پٹتا رہا اور ہنستا رہا۔ پھر وہ خود ہی تھک گیا اور دور ہٹ کر خونخوار نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ اس کے منہ سے خوفناک غراہٹیں نکلنے لگی تھیں۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ بہت تھک گیا ہو…!
’’نہیں مرے گا تو، نہیں مرے گا۔ مر گیا تو پھر مزہ ہی کیا آئے گا۔ کیا سمجھا؟ بول مانے گا میری بات…؟‘‘
’’کون سی بات بھوریا چرن…؟‘‘
’’دیکھ ادھر دیکھ! وہ کون ہے سامنے…!‘‘
’’مجھے نظر نہیں آرہی، کوئی عورت ہے۔‘‘
’’سندری ہے یہ سندری! مہاوتی کی نوکرانی پائل ہے۔ سمجھ رہا ہے۔ یاد آگیا تجھے؟ کیا کہا تھا میں نے پائل کیلئے۔ دیکھ وہ چھری بھی رکھی ہے اور برتن بھی! گردن کاٹ اس کی اور اس کا خون پی لے۔ بس اتنا ہی کرنا ہے تجھے، اتنا ہی کرنا ہے۔ اس کے بدن کا سارا خون پی لے، بات بن جائے گی۔‘‘
’’ناممکن! تیری ایک بھی ناپاک خواہش پوری نہیں کروں گا بھوریا چرن!‘‘
’’حرام خور… ناشکرے!‘‘ بھوریا چرن نے دانت کچکچا کر ایک لات میرے پیٹ پر رسید کی اور کہا۔ ’’اتنا کچھ اگر ہم کسی اور کو دے دیتے تو جیون بھر تلوے چاٹتا ہمارے… اس چمار شمبھو نے تجھے ناگوں سے باندھ دیا ہے۔ چرنوں کی دھول بھی نہیں ہے تیری وہ۔ اپنے بیروں کو حکم دے تو مہاوتی کے محل کو پھونکوں سے اڑا دیں وہ! ایک ایک کو کچا چبا جائیں مگر تیرا دھرم چلا جائے گا ان سے کوئی کام لے کر۔ یہی بات ہے نا…؟‘
’’ہاں! یہی بات ہے بھوریا چرن…!‘‘
’’تو پھر ہم کیا کریں۔ جا پڑ گھور پاتال میں، تیرا ستیاناس!‘‘
’’مجھے ان سے چھٹکارا کیسے ملے گا بھوریا چرن…؟‘‘
’’بیروں کو پکار یا مجھ سے وعدہ کر کہ اس پائل کا خون پی لے گا…!‘‘
’’نہیں بھوریا چرن! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ جیئوں گا ہر طرح کے حالات میں جیئوں گا۔ ان سے رابطہ کرکے تو میں اپنے ماں، باپ سے بھی مل سکتا تھا جن سے ایک بار ملنے کی آرزو میں، میں جی رہا ہوں مگر ان سے کام لینے کا مطلب ہے کہ میں نے انہیں قبول کرلیا۔ ایسا میں کبھی نہیں کروں گا بھوریا چرن! کبھی نہیں…!‘‘ بھوریا چرن کچھ چونک سا پڑا تھا۔ وہ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ ہنسا۔ پہلے آہستہ سے پھر زور سے اور پھر وہ قہقہے لگانے لگا۔ ہنستا ہوا بولا۔
’’ارے واہ… ارے واہ…! یہ ہوئی نا بات، بڑھیا بات! یہ ہوئی نا… میری اس کھوپڑی میں ہی نہیں آئی تھی۔ تو نے خود بتائی ہے۔ تو نے خود ہی بتائی ہے۔ تیرے ماتا، پتا، بہن، بھائی…! ارے واہ!‘‘
’’کیا بک رہا ہے…؟‘‘
’’بتاتا ہوں… بتاتا ہوں۔‘‘ وہ خوشی سے اچھلتا ہوا بولا۔ ’’اب تیرے ماتا، پتا ہی تجھے میری بات ماننے پر مجبور کریں گے۔ وہی تجھ سے میرا کام کرائیں گے۔ تو نے خود ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔‘‘
’’تو ہے ہی بھنگی بھوریا چرن! میں تو ان کے قدموں کی خاک ہوں۔ میرا ایمان تو بہت کمزور ہے ان کے مقابلے میں تو کیا اور تیری اوقات کیا…! تو ان کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔‘’’سمے بتائے گا بالک…! اب جیون ان کیلئے نرکھ بن جائے گا تیری وجہ سے۔ صرف تیری وجہ سے اور… اور تجھے بھی دکھائیں گے ہم، اب دوسرا راستہ پکڑیں گے ہم، چلتے ہیں۔ چل ری تو یہاں کیا کرے گی مرکر… ارے بھاگ جائو تم بھی سب! رے کیوں سر پھوڑ رہے ہو اس ترکھی سے، چلو جائو، بھاگ جائو۔‘‘ اس نے بیروں سے کہا اور وہ سب اٹھ کھڑے ہوئے۔ آہیں بھرتے ہوئے وہاں سے آگے بڑھ گئے۔ بھوریا چرن نے سندری کو اٹھا کر کندھے پر ڈالا۔ وہ شاید بے ہوش تھی۔ پھر اس نے میری طرف رخ کرکے تھوکا اور سندری کو کندھے پر لادے آگے بڑھ گیا۔ کچھ دیر کے بعد وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا۔
میرا دل گھبرانے لگا، دماغ میں سنسناہٹ ہونے لگی۔کیا مجھ سے غلطی ہوگئی، کیا مجھے اس سے اپنے ماں، باپ کا تذکرہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ آہ! کیا غلطی ہوگئی… خدا… ان کا حامی و ناصر ہو۔ خدا انہیں اپنے تحفظ میں رکھے۔ آنکھوں کی کوروں سے آنسو ٹپکنے لگے۔ عقب سے کچھ آہیں ابھریں پھر سرگوشیاں…! ’’چلا گیا؟‘‘
’’ہاں چلا گیا…!‘‘
’’آئو…!‘‘
میں چونک پڑا۔ یہ کون ہو سکتا ہے، سمجھ میں نہیں آیا تھا لیکن وہ دونوں سامنے آ گئے۔ میں نے انہیں پہچان لیا۔ شمبھو اور کالی داس تھے۔ دونوں میرے سامنے آ کھڑے ہوئے۔ پھر شمبھو بیٹھ گیا۔ وہ غور سے مجھے دیکھ رہا تھا پھر اس نے گہری سانس لے کر کہا۔
’’اور تو کہتا ہے تو کچھ نہیں ہے۔‘‘ میں نے آنکھیں بھینچ بھینچ کر آنسوئوں سے صاف کیں اور آہستہ سے کہا۔
’’ہاں وہ شمبھو۔ میں کچھ بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’من تو چاہتا ہے کہ ایک بڑا سا پتھر پہلے تیرے سر میں مار کر اسے کچل دیں پھر اپنے سر میں مار کر خود بھی ختم ہو جائیں۔ تیرے بیر بیٹھے ہوئے تھے، ایک اشارہ کرتا انہیں تو وہ تباہی مچا دیتے یہاں، تجھے کھول دیتے۔ تو نے ایسا بھی نہیں کیا۔‘‘
’’تو نے دیکھا شمبھو، میں نے ایسا نہیں کیا۔‘‘
’’کیوں۔ آخر کیوں؟‘‘
’’اس لئے کہ میں مسلمان ہوں۔ نہ تمہارے کالے جادو پر یقین رکھتا ہوں، نہ اس سے کوئی مدد لینا چاہتا ہوں۔ میرے دین میں یہ سب ناپاک ہے، غلیظ ہے۔ مجھے ہمیشہ اپنے خدا پر بھروسہ رہا ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ انسان ہوں، کچھ غلطیاں کر بیٹھا ہوں لیکن جب تک زندگی ہے اس سے مدد مانگتا رہوں گا۔ کسی ناپاک قوت کو آواز نہیں دوں گا۔‘‘
’’ارے تو پھر تو اس کالے سنسار میں کیسے آ پھنسا؟‘‘
’’تجھے یہ سب بتانا ضروری نہیں سمجھتا۔‘‘
’’ضد مت کر، یہ بتانا تیرے لئے فائدہ مند بھی ہو سکتا ہے۔ چھ پورنیاں تیرے چرنوں میں ہیں، یہ سات ہوتی ہیں۔ ساتویں کا پتا ہی بتا دے اور یہ بتا دے کہ اتنا بڑا کام تو نے کیسے کر لیا۔ ابھی جو تجھ سے باتیں کر رہا تھا وہ شنکھا تھا۔ شنکھا بھی انہی کے پاس آتے ہیں جو خود بہت کچھ ہوتے ہیں۔ یہ سب کیا بھائو بھید ہیں۔ تو پورنا ہے، تو خود کو مسلمان کیوں کہتا ہے۔ ارے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا ہمارے، کالی داس ارے کیا کریں ہم…‘‘ شمبھو نے سر پر دو ہتھڑ مارتے ہوئے کہا۔
’’آپ کیا ہیں شمبھو جی۔ آپ خود کیا ہیں…؟‘‘
’’ہم کالکے ہیں، سمجھا کالی مائی کے چیلے، سب جانتا ہو گا تو پاپی۔ پھیر کر رہا ہے ہمارے ساتھ۔‘‘
’’کالکے کیا ہوتے ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’کالے علم کے آٹھ درجے ہوتے ہیں۔ چار کلکتے والی کے اور چار چنڈولوں کے اور چنڈولے بیس ہوتے ہیں۔ بیس کے بیس مل کر چنڈول بھرتے ہیں، ان کا ویاس گودردھن سے ہے۔ سری کرشن جی نے جب اپنے دشمن راجہ کنس کو قتل کر کے اس کے باپ راجہ اوگر سین کو تخت پر بٹھا دیا تو راجہ کنس کی ارتھی کی راکھ ایک چنڈولی میں بھر دی گئی اور مونگرہ پہنچا دیا۔ مونگرہ میں کنس کی پوجا کرنے والے موجود تھے۔ انہوں نے عقیدت سے وہ راکھ گائے کے گوبر میں ملا کر اس کا ایک بت بنایا اور اس کو اپنا راجہ سمجھنے لگے۔ پھر ایک دن کنس جی گیا اور اس نے مونگرہ والوں کو جادو سکھایا اور اس سے اپنے دشمنوں پر مٹھ مارنے لگا۔ جادو کے سارے منتر اس کے پاس تھے مگر کلکتے کی کالی نے ان سے چار مندھر کھینچ لئے اور وہ انہیں لے نہ سکے۔ تب سے چار کالی کے اور چار چنڈولوں کے جو اصل میں مونگرہ والے تھے، ان کے چار ہی درجے ہوتے ہیں جن میں آخری درجہ کھنڈولا کا ہوتا ہے۔ کالکوں کے درجے الگ الگ ہوتے ہیں اور ان کا کوئی انت نہیں ہوتا جسے جو مل جائے۔‘‘
’’رانی مہاوتی کیا ہے؟‘‘
’’وہ درگامتی ہے اور لونا چماری اس کے قبضے میں ہے۔‘‘
’’اور تم…؟‘‘
’’میں مٹھا ہوں۔‘‘ وہ غور سے دیکھتا ہوا بولا۔
’’خدا کی لعنت ہو تم سب پر…!‘‘ میں نے کہا اور وہ پھر اچھل پڑا۔ اس کی آنکھوں میں پھر غصے کے تاثرات جاگ اٹھے۔ اس نے دیوانوں کی طرح ناچتے ہوئے کہا۔
’’میں نے تجھے یہ سب اس لئے بتایا تھا کہ تو مجھے اپنے بارے میں بتا دے گا مگر کتے کی دم کی طرح تو ٹیڑھے کا ٹیڑھا رہے گا۔ میں ایک اشارہ کروں تو یہ سارے ناگ تیرے بدن میں زہر ہی زہر بھر دیں، اتنا ڈسیں تجھے کہ… کہ… ارے او کالی داس…!‘‘
’’جی مہاراج…‘‘
’’اندر لے چل اسے۔ ارے اسے اندر لے چل۔ یہ ایسی زبان نہیں سمجھے گا۔ لے چل رے اسے اندر…‘‘
’’مہاراج۔ اس کے بندھن نکال دیں۔‘‘ کالی داس نے کہا اور شمبھو نے آگے بڑھ کر سانپ میرے بدن سے کھینچ لئے۔ میری بندشیں کھل گئیں اور کالی داس نے میرا بازو پکڑ لیا۔ سانپوں نے اس طرح مجھے جکڑا ہوا تھا کہ دوران خون رک گیا تھا اور بدن کے وہ حصے سن ہو گئے تھے جہاں بندشیں تھیں۔ کالی داس نے مجھے بغلوں میں ہاتھ ڈال کر غار کے اس دہانے کی طرف گھسیٹا جو سامنے نظر آ رہا تھا۔ وہ بہت طاقتور تھا، با آسانی مجھے اندر لے گیا۔ شمبھو پیچھے پیچھے چل رہا تھا۔ مجھے اپنی کمزوری پر غصہ آنے لگا مگر پائوں زمین پر ٹک ہی نہ رہے تھے۔ دہانے کے دوسری طرف ایک تاریک سرنگ تھی جو کافی لمبی لگ رہی تھی۔ میرا دوران خون بحال ہونے لگا تھا تاہم جھنجھناہٹ برقرار تھی۔ البتہ میں نے اپنا وزن کالی داس پر ڈالے رکھا تاکہ وہ یہی سمجھے کہ میں مفلوج ہوں۔ اسے دھوکے میں رکھ کر کچھ کیا جا سکتا تھا مگر یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ کیا کروں۔ لمبی کالی سرنگ کے دوسرے دہانے پر سرخ روشنی نظر آ رہی تھی بالکل یوں لگ رہا تھا جیسے آگ روشن ہو۔ دوسرا سرا قریب آتا جا رہا تھا۔ پھر وہ مجھے لئے ہوئے اس سرخ دہانے سے اندر داخل ہو گئے۔ بہت بڑا غار تھا۔ یوں لگتا تھا جیسے کوئی پہاڑ اندر سے کھوکھلا ہو۔ جگہ جگہ دیواروں میں چٹانیں ابھری ہوئی تھیں۔ ایک طرف لکڑیاں سلگ رہی تھیں اور یہ انہی کی روشنی تھی جو پورے غار کو سرخ کئے ہوئے تھی مگر اس میں آگ کی تپش بالکل نہیں تھی اس کے برعکس غار میں ٹھنڈک پھیلی ہوئی تھی۔ پورے غار میں جگہ جگہ نہ جانے کیا کاٹھ کباڑ پھیلا ہوا تھا۔ ان میں انسانی جسم کی ہڈیوں کے انبار بھی تھے۔ لاتعداد انسانی کھوپڑیاں بکھری ہوئی تھیں۔ میلے کچیلے پھٹے پرانے رنگین کپڑے اور نہ جانے کیا کیا۔ میرے کان ایک آواز سن رہے تھے۔ چپڑ چپڑ کی آواز جیسے کوئی بڑا جانور کچھ کھا رہا ہو۔
’’چھوڑ دے اس پاپی کو یہاں… مہاوتی جانے اور یہ…‘‘ شمبھو نے کالی داس سے کہا اور اس نے مجھے چھوڑ د یا۔ میں بے جان شہتیر کی طرح نیچے گر پڑا۔ اب بھی میں مفلوج ہونے کا اظہار کر رہا تھا۔
’’اب کیا کریں مہاراج…؟‘‘
’’پڑا رہنے دے اسے یہاں۔‘‘
’’جو آ گیا…‘‘ کالی داس نے کہا۔
’’ آ جا…!‘‘ شمبھو بولا اور وہ دونوں غار سے باہر نکل گئے۔ میں اسی طرح زمین پر پڑا رہا۔ میری نگاہیں پورے غار کا جائزہ لے رہی تھیں اور دل لرز رہا تھا۔ کیا ہولناک جگہ تھی۔ غار کی بلندی ناقابل یقین تھی، اس کی چھت تو نظر ہی نہیں آ رہی تھی۔ ابھرے ہوئے چٹانی پتھروں میں موٹے موٹے تاروں والے مکڑیوں کے جالے لگے ہوئے تھے البتہ مکڑیاں نظر نہیں آئی تھیں اور پھر وہ آواز، چپڑ چپڑ کی آواز… یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے۔ کیسی بھیانک آواز ہے نہ جانے۔ پھر یوں لگا جیسے کوئی چیز گھسیٹی جا رہی ہو اور اس کے بعد زمین میں ابھرے ایک کوہان کے عقب سے ایک ہولناک چیز باہر نکلی۔ آہ میرا دل کانپ کر رہ گیا۔ چٹانی کوہان کے پیچھے سے ایک سیاہ انسانی جسم برآمد ہو رہا تھا۔ ایک تنومند انسانی جسم جو کسی عورت کا تھا۔ اس کا عقبی حصہ نگاہوں کے سامنے آیا تھا۔ گھٹنوں کے بل جھکی ہوئی تھی اور یوں لگتا تھا جیسے کسی شے کو گھسیٹ رہی ہو۔ پھر سیاہ جسم کوہان کے عقب سے مکمل طور پر باہر نکل آیا اور وہ ہولناک منظر میری آنکھوں کے سامنے نمایاں ہو گیا جسے دیکھ کر دل کی دھڑکنیں بند ہو جائیں۔ سیاہ رنگ کی تنومند عورت جس چیز کو گھسیٹ کر پیچھے ہٹ رہی تھی وہ بھی ایک نسوانی بدن تھا۔ خون میں نہایا ہوا، بے جان … خونخوار عورت کے لمبے سیاہ بالوں سے دوسرے جسم کا کچھ حصہ ڈھکا ہوا تھا، خود اس کا چہرہ بھی اس کے بالوں میں چھپا ہوا تھا۔ وہ بلی کی طرح دونوں ہاتھوں پیروں کے بل پیچھے کھسک رہی تھی اور یقینی طور پر دوسرے مردہ جسم کو دانتوں میں دبوچے ہوئے تھی۔ میں سانس روکے اسے دیکھتا رہا۔ سیاہ رنگ کی ہولناک بلا نے اپنے کام سے فارغ ہو کر رخ بدلا اور پھر انسانوں کی طرح بالوں کو زور سے پیچھے جھٹک کر انہیں ہاتھوں سے سنوارنے لگی۔ بالوں کے پیچھے ہٹ جانے سے اس کا چہرہ نمایاں ہو گیا۔
کیا بھیانک چہرہ تھا۔ مکمل طور پر انسانی نقوش اور شاید جانے پہچانے۔ بس رنگ کا فرق تھا ورنہ وہ سو فیصدی مہاوتی تھی۔ رانی مہاوتی… سیاہ چہرے پر جگہ جگہ خون کے چھینٹے پڑے ہوئے تھے اور آنکھیں… اس کی بڑی بڑی آنکھوں کی سفیدی نمایاں تھی۔ کالی پتلیوں کی جگہ ایک سیدھی سبز روشن لکیر نظر آ رہی تھی۔ تیز سبز روشن لکیر… ہونٹ گہرے سرخ ہو رہے تھے۔
مجھ پر شاید اس کی نظر نہیں پڑی تھی چنانچہ وہ پھر ہاتھوں اور گھٹنوں کے بل جھک کر منہ سے اس انسانی بدن کو ٹٹولنے لگی۔ وہ اسے جگہ جگہ سے سونگھ رہی تھی۔ پھر اچانک اس نے ایک غراہٹ جیسی آواز نکالی اور مردہ جسم کے سینے میں دانت گاڑھ دیئے۔ وہ ہاتھوں پر وزن سنبھال کر شاید لاش کا سینہ کھول رہی تھی اور اس پر دانتوں سے قوت صرف کر رہی تھی۔ اس کے منہ سے خوفناک غراہٹیں نکل رہی تھیں۔ پھر شاید وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی البتہ اس کوشش میں لاش کا چہرہ میری طرف ہو گیا، گردن شاید پہلے چبا لی گئی تھی مگر چہرہ محفوظ تھا اور گردن کے ساتھ لگے ہوئے کھال کے کسی ٹکڑے سے جھول رہا تھا۔ میں نے اسے دیکھا اور بے اختیار میرے حلق سے چیخ آزاد ہو گئی۔ وہ رجنا وتی تھی۔ وہی معصوم لڑکی جو املی کے درخت پر چھپی ہوئی تھی اور بھوک سے بے تاب ہو کر کھڑکی کے راستے اندر آئی تھی۔ اسے زندگی کا خطرہ تھا۔ آہ اسے اپنی جان کا خوف تھا اور وہی ہوا۔ اس نے کچھ اس طرح کے الفاظ کہے تھے۔ میری آواز پر لاش سے لپٹی ہوئی مہاوتی نے گردن اٹھا کر سیدھی پتلیوں سے مجھے گھورا۔ اس کے منہ سے خون ٹپک رہا تھا پھر اس نے ہونٹ سکیڑ کر دانت نکالے۔ خون میں ڈوبے ہوئے نوکیلے دانت۔ وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔
(جاری ہے)
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
کالا جادو - پارٹ 20
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
