جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر8

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - قسط نمبر8
رائیٹر :انور صدیقی

اس کے بعد تجھے کسی پہاڑی گپھا میں منڈل میں بیٹھ کر شیو شنکر مہاراج کے لئے میرا بتایا ہوا جاپ کرنا ہو گا۔"
آتم تم مجھ سے کیا چاہتے ہو ؟“ میں نے عاجزی سے پوچھا۔ وہی جس کے کارن میں نے تجھے کھو جا ( تلاش کیا ہے، پرنتو ابھی اس کا سے نہیں
اگر جھرنا کو رحیم الدین کی خود کشی کی اصلیت معلوم ہو گئی تو کیا ہو گا؟ میں نے
بات بنانے کی کوشش کی۔ ”جب تک جوگی سیتا رام نہیں چاہے گا کوئی کچھ نہیں جان سکتا۔" وہ ٹھوس بھیجے میں بولا۔ بس اب اپنا بوریا بستر لپیٹ لے، آج کا دن اور گزار لے کل تجھے میرے ساتھ چلنا ہو گا۔"
” میری ملازمت کا کیا بنے گا؟"
نرکھ میں جھونک دے اپنی ملازمت کو۔" اس نے گرج کر کہا۔ ”مور کھ! میں تجھے دھرتی سے اٹھا کر آکاش پر لے جانے کی بات کر رہا ہوں اور تو پاتال میں ڈبکی لگانے کی سوچ رہا ہے۔ اب تو دوسروں کی نوکری چاکری نہیں کرے گا۔ دوسرے تیرے چرنوں میں سر جھکا ئیں گے، تجھے کسی بات کی چنتا نہیں ہو گی، تو جو چاہے گا وہ ملے گا جو سوچے گا وہ پورا ہو گا۔ جوگی نے جو کہہ دیا دہ اوش پورا ہو گا۔ اب دھرتی کی کوئی شکتی تیرا راستہ کھوٹا نہیں کر سکے گی پرنتو تُو نے جو وچن دیا ہے اسے بھول مت جانا ورنہ پھر تجھے کہیں شرن نہیں ملے گی۔ سناتو نے میں کیا کہہ رہا ہوں؟" ”ہاں۔ میں نے مردہ آواز میں چار و ناچار اقرار کر لیا۔ ” تم جیسا کہو گے میں ویسا ہی کروں گا۔"
” . "" سیتا رام خوشی میں نعرے لگانے لگا لیکن میرا ذہن بدستور چکرا رہا تھا۔ میری جگہ آپ ہوتے تو شاید آپ کی حالت بھی مجھ سے مختلف نہ ہوتی، خالی ڈینگیں مارنے سے کچھ نہیں ہو تا جس پر پڑتی ہے وہی اپنی کیفیت بہتر
جانتا ہے۔ دوسرے صرف خیالی پلاؤ پکاتے ہیں جس کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔ وہ خاصی دیر تک مجھے میرے مستقبل کے بارے میں سہانے خواب دکھاتا رہا میں اس کی بات سنتا رہا اور اس وقت کو کوستا رہا جب میں نے اپنے اوپر ہونے والے مظالم سے گھبرا کر زندہ رہنے کی خاطر سمجھوتہ کر لیا تھا۔ جھرنا کچن سے ناشتے کی خوبصورت ٹرالی گھسیٹتی ہوئی نمودار ہوئی تو جوگی سیتارام نظروں سے اوجھل ہو گیا، میں نے سکون کا سانس لیا لیکن وہ سکون زیادہ پائیدار نہیں تھا۔ کمرے میں آکر جھرنا نے مجھے تفکرات میں ڈوبا دیکھا تو اس نے حسن کا جادو جگانا شروع کر دیا۔ حسن کی حشر سامانیاں بڑی سکون بخش ہوتی ہیں، اس کے بدن کی خوشبو نے مجھے پھر بے نیاز کر دیا وہ میرے قریب بیٹھ کر چائے بنانے لگی، ہم دونوں نے ایک ساتھ ناشتہ کیا وہ اصرار کر کے مجھے کھانے پر اکساتی رہی میں کسی اور خیال میں ڈوب گیا۔ اس روز مجھے بڑی شدت سے اپنی تنہائی کا احساس ہو رہا تھا، مجھے کمال بنرجی کی یاد آ گئی، اس نے پہلی ملاقات میں مجھ سے میری شادی کے بارے میں استفسار کیا تھا پھر مجھے مشورہ دیا تھا کہ کوئی اچھی سی لڑکی دیکھ کر اپنا گھر بسالوں لیکن حالات نے مجھے اس کی اجازت نہیں دی، والدین کی حادثاتی موت نے میری کمر توڑ دی تھی۔ پہلے میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کرتا رہا تھا پھر غم روزگار کی فکر ستانے لگی۔ ملازمت ملی تو میری ایمانداری میرے راستے کی دیوار بن گئی۔ میرے نصیب میں شاید صرف پریشانیاں رقم کر دی گئی تھیں۔ میں نے تنگ آکر پٹنہ کو خیر باد کہہ دیا ڈپٹی بشیر علی نے مجھے سمجھانے کی کوشش بھی کی تھی کہ جب کہیں سے انسان کا دانہ پانی اٹھ جائے تو پھر قدم جمانا مشکل ہو جاتا ہے۔ میں سکون کی تلاش میں ڈھاکہ آگیا لیکن یہاں بھی حالات کے نشیب و فراز نے مجھے سنبھلنے کا موقع نہیں دیا۔ میں اسے قسمت کی بدنصیبی سے تعبیر دوں گا کہ میں نے جس قدر شرافت اور ایمانداری سے زندگی گزارنی چاہی اسی قدر گناہ کی راہ پر گامزن ہو تا چلا گیا۔ میں نے بار بار سنبھلنے کی کوشش کی لیکن ہر بار ایک نئی مصیبت نے میرا راستہ روک لیا اور اب جوگی سیتارام نے واضح الفاظ میں کہہ دیا تھا کہ مجھے متھرا جانا ہے۔ شرافت کی زندگی سے میرا رشتہ آہستہ آہستہ ترک ہوتا جا رہا تھا، سب سے پہلے سیتا رام نے میری زندگی میں داخل ہو کر کسی مکار مکڑی کی طرح اس طرح جالا بننا شروع کیا کہ مجھے خبر تک نہ ہوئی جب میں چونکا تو وہ مجھے اپنے جال میں پھانس چکا تھا، شاید وہ کافی وقت سے میرے سائے کے ساتھ ساتھ لگا تھا جب میں نے پٹنہ کو خیر باد کہا تھا۔ مجھے نہیں تها معلوم کہ وہ مجھ سے کیا توقع لگائے بیٹھا تھا، کیا چاہتا تھا؟ لیکن اتنا ضرور احساس تھا کہ اگر اس نے بروقت میری مدد نہ کی ہوتی تو شاید میں اپنے ایک ہاتھ اور ایک پاؤں سے
محروم ہو جاتا، سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہو تا شاید وہ حالات بھی اسی کی پراسرار شخصیت نے پیدا کئے تھے جس نے مجھے اس کے ساتھ سمجھوتہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔میرے دامن پر انسانی خون کے دھبے گہرے ہوتے گئے ، میں تین لاشوں کے داغ کو دھونے کی فکر میں تھا کہ سیتا رام نے میرے ہاتھوں سے رحیم الدین کی زندگی کا چراغ بھی گل کرا دیا، مجھے اس کی پھول جیسی معصوم بیٹی کی زلفوں میں الجھا کر دوسرا گناہ سرزد کرا دیا۔ جھرنا کی بات اور تھی، وہ مردوں سے اپنا انتقام لے رہی تھی، میں اس کی زندگی میں پہلا مرد نہیں تھا لیکن رحیم الدین کی بیٹی نے تو ابھی پوری طرح جوانی کی سرحدوں میں قدم بھی نہیں رکھا تھا کہ میں نے اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنا کر روند ڈالا اس میں بھی سیتارام کی چال تھی۔ وہ مجھے گلے گلے تک گناہوں کے دلدل میں پھنسانا چاہتا تھا۔ میں اس وقت جھرنا کے ساتھ ناشتہ کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ کاش میں نے اپنا گھر بسا لیا ہوتا کاش جھرنا کی جگہ اس وقت میری شریک حیات ہوتی تو میں اس کی آغوش میں سر رکھ کر اسے اپنی ساری رام کہانی کہہ دیتا وہ مجھے کوئی مشورہ دیتی' ہم سر جوڑ کر فرار کا کوئی راستہ اختیار کرنے کی ترکیبیں سوچتے کچھ اور نہ ہوتا تو کم از کم وہ میرے غم میں برابر کی
شریک ہوتی۔ میری نظریں بار بار جھرنا کی سمت اٹھ رہی تھیں، میرے ذہن میں سیتا رام کے جملے گونجے جھرنا کے ساتھ ایک دن اور موج میلا کر لے پھر تجھے جوگی کے ساتھ متھرا چلنا ہو گا، ڈھاکہ سے تیرا دانہ پانی اٹھ چکا ہے۔
میں محسوس کر رہی ہوں کہ تم اس وقت میرے پاس نہیں ہو ؟" جھرنا نے ناشتے سے فراغت پانے کے بعد مجھے گھورتے ہوئے شکوہ کیا۔ اور کہاں ہوں؟" میں نے زبر دستی مسکرانے کی کوشش کی۔
اس کا جواب تم ہی دے سکو گے لیکن میرا خیال ہے کہ تم ابھی تک رحیم الدین کی خود کشی کے بارے میں کسی فکر میں الجھے ہو؟" اب الجھنے سے ہو گا بھی کیا؟"
دوہی تو میں کہہ رہی ہوں کہ جو کچھ ہو گیا اسے بھولنے کی کوشش کرو۔ پیچھے پلٹ آگے کا راستہ اور مشکل ہو جائے گا۔ " اس نے بڑی بے تکلفی سے جواب دیا۔ ”میری مثال تمہارے سامنے ہے۔ میں بھی کبھی شرافت کی زندگی بسر کرنے کے خواب دیکھا کرتی تھی لیکن خواب کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے ، باپ کی موت نے میری ذمہ داریاں بڑھا دیں ، میں نے ایک دو چھوٹی چھوٹی ملازمتیں کیں لیکن وہاں مردوں کی اجارہ داری تھی، وہ مجھے بھوکی نظروں سے گھورتے تھے، میں نے ملازمت ترک کر کے موڈلنگ کے پیشے کو اپنا لیا، قدرت نے مجھے حُسن کی دولت سے نوازا تھا، پہلا اشتہار حاصل کرنے کی خاطر مجھے کئی اشتہاری کمپنیوں کے چکر لگانے پڑے، وہاں بھی شکاری گھات لگائے بیٹھے تھے لیکن میں نے ہمت نہیں ہاری پھر ایک سنجیدہ انسان نے مجھے ایک اشتہار کے لئے منتخب کر لیا۔ مجھے اس اشتہار میں مفت کام کرنا پڑا تھا لیکن اس اشتہار کے بازار میں آتے ہی چاروں طرف میری دھوم مچ گئی، قسمت کی دیوی مہربان ہو جائے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ جو کمپنی والے مجھے دھتکار چکے تھے وہ بھی میرے گھر کے چکر لگانے لگے پھر دو تین کام کرنے کے بعد میں نے وہ مقام حاصل کر لیا جو میری فیلڈ میں کسی دوسری ماڈل کو اتنی جلدی حاصل نہیں ہوا۔ میرے دروازے پر ہر وقت اشتہاری کمپنیوں کے کارندوں اور مالکان کا تانتا بندھا رہتا تھا میں بڑے سکون سے زندگی بسر کر رہی تھی کہ کرنل نے میری زندگی میں آکر زہر گھول دیا۔ بظاہر وہ مجھے ایک بردبار اور شریف انسان لگا تھا لیکن اس نے میرے ساتھ دھو کا کیا، میری زندگی برباد کر دی، میں نے مجبوراً اس کے ساتھ شادی کرلی، میری ماں کو اصلیت کی بھنک ملی تو وہ مجھے چھوڑ کر کلکتہ چلی گئی
اور میں... جھرنا نے ایک طویل سرد آہ بھر کر کہا۔
میں آج بھی کرنل کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں لیکن میں اس سے جو انتقام لے رہی ہوں وہ بھی اس سے واقف ہے، پہلے وہ بڑا خوش ہوا کرتا تھا لیکن جب اسے میرے بارے میں خبریں ملنی شروع ہو ئیں تو اس نے پہلے مجھ سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی مگر میں نے اس کے خلاف جو مواد اکٹھا کر رکھا تھا اسے دیکھ کر وہ سکتے میں آ گیا اس نے خاموشی اختیار کرلی' اس کا حلقہ احباب جو کبھی بہت وسیع ہوا کرتا تھا گھٹ کر بڑا محدود ہو گیا۔ جھرنا نے حقارت سے مسکرا کر کہا۔ ”ہم ایک دوسرے سے شدید نفرت کرتے ہیں، ایک ہی چھت کے نیچے میاں بیوی کی حیثیت سے رہتے ہیں لیکن ایک دوسرے کی موت کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ ہے نا عجیب بات؟" جھرنا کی باتیں مجھے اکسا رہی تھیں کہ میں بھی حالات سے سمجھوتہ کر لوں کسی موقع کی تلاش میں رہوں ، کوئی ایسا سنہری موقع جو مجھے جوگی سیتارام کے چنگل سے ہمیشہ کے لئے نجات دلا دے۔
میں عورت ہو کر طوفانوں کے سامنے خم ٹھونکے کھڑی ہوں اور تم مرد ہو کر اتنی جلدی ہمت ہار رہے ہو۔" اس نے میرے گلے میں اپنی مرمریں بانہیں ڈال دیں ، گنگناتے ہوئے بولی۔ "سن رہے ہو میں کیا کہہ رہی ہوں؟ کچھ مت سوچو جتنا سوچو گے اور الجھتے جاؤ گے۔ خود کو موجوں کے بہاؤ پر ڈال دو جب کوئی کنارہ نظر آئے تو پھر
سنبھلنے کی کوشش کرنا۔" جھرنا کی تجویز مجھے پسند آئی میں نے اسے اپنی آغوش میں سمیٹ لیا اس کے قرب کی لذتوں نے مجھے ہر غم سے بے نیاز کر دیا، بڑی دیر تک ہم ایک دوسرے میں مدغم رہے پھر وہ اصرار کر کے مجھے اپنے ساتھ شاپنگ پر لے گئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے لئے پورا بازار خرید لائے، میں نے بڑی مشکلوں سے اسے روکا۔ دو چار لباس ضرور خریدے ، کچھ روزمرہ کی ضرورت کی چیزیں لیں پھر واپس آگیا۔ اس روز وہ بہت خوش تھی اسکا خیال تھا کہ میں جلدی اس کا ساتھ نہیں چھوڑوں گا۔ میں صرف ایک رات کا مہمان رہ گیا تھا۔ شام تک وہ میرے ساتھ رہی پھر واپس چلی گئی۔ اسی رات جو گی سیتارام مجھے اپنے ساتھ متھرا لے گیا۔ راستے بھر وہ کسی گہرے خیال میں ڈوبا رہا میں بھی آئندہ زندگی کے بارے میں سوچتا رہا۔ سفر کے دوران ہمارے درمیان جو مختصر باتیں ہوئیں وہ قابل بیان نہیں ہیں، میں دوسری تفصیل سے بھی گریز کروں گا صرف اتنا بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ڈھاکہ سے متھرا کے درمیان سفر کرتے وقت مجھے اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ میں شاید آسانی سے اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکوں گا۔ متھرا پہنچ کر میں نے ایک رات ہوٹل میں گزاری پھر دوسرے دن جوگی سیتارام مجھے ساتھ لے کر کالی کے بڑے مندر کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس روز اس نے خاص طور پر بڑا اہتمام کیا تھا۔ بدن پر بھبھوت ملا ماتھے پر چندن کی لہریے دار لکیریں بنائیں، گلے میں پڑی مالاؤں کو کسی خاص بوٹی کی دھونی دی تھی پھر جسم پر گیروے رنگ کی دھوتی لپیٹ کر
چل پڑا تھا۔ اس کے مجبور کرنے پر میں نے بھی دھوتی اور کرتہ پہن لیا تھا۔
ہم کالی کے مندر کے قریب ہوتے جا رہے تھے میری الجھن اور پریشانی ۔ اس روز سے پیشتر میں نے کبھی کسی مندر میں جھانکنے کی کوشش بھی
نہیں کی تھی البتہ بتوں اور کالی کی عجیب و غریب اور بے ہنگم مورتیاں ضرور دیکھ رکھی تھیں، ہم بڑے بازار سے گزرنے لگے تو مجھے سیتارام کی اہمیت کا احساس ہوا راستے میں جتنے پنڈت پجاری، سادھو اور ان کے چیلے ملے سب ہاتھ باندھ باندھ کر سیتارام کو پر نام بے گرو دیو رام رام مہاراج اور اس کے علاوہ جس عقیدت کا اظہار کرتے تھے اس سے ہی اندازہ ہوتا تھا کہ سیتارام پنڈت پجاریوں میں نہ صرف جانا پہچانا جاتا ہے بلکہ اسے کوئی بڑا مقام بھی حاصل رہا ہو گا۔ میں اپنی سوچوں میں گم تھا، میں نے کئی بار سوچا کہ کسی بچھڑے کی طرح رسی چھڑا کر سرپٹ دوڑ لگا دوں لیکن میں نے اپنے ارادے پر عمل نہیں کیا میں سیتارام کی پر اسرار شیطانی قوتوں کا تماشہ دیکھ چکا تھا۔ اس دھیان کو اب من سے نکال دے بالک!" اس نے میرے دل کا حال بھانپ کر سنجیدگی سے کہا۔ ”تو نہیں جانتا کہ تیرے بھوش میں کیا لکھا ہے، پر سیتارام جانتا ہے کہ کالی تجھے اوش سوئیکار کر لے گی۔ اس کے بعد تیرے جیون میں ایسا انقلاب آئے گا کہ بڑے بڑے مہان پنڈت اور پجاری بھی تیرے چرنوں میں ڈنڈوت کرنا اپنے لئے بڑا مان سمجھیں گے۔ دیوداسیاں اور پجار نیں تیرا من بہلانے کے سپنے دیکھیں گی، بڑے بڑے بھگت بھی تیرے آگے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے رہیں گے، تیری ساری منوں کا منائیں (خواہشات پوری ہوں گی، تو ایسی شکتی پراپت کرے گا جس کے حاصل کرنے کے لئے اب تک نہ جانے کتنے سر پھرے اپنا جیون بھینٹ دے چکے ہیں، پر کوئی سپھل (کامیاب) نہیں ہوا۔ "
میں تمہاری بات مان چکا ہوں لیکن تم نے ابھی مجھے اپنے دل کا بھید نہیں بتایا ؟" کیا جانتا چاہتا ہے؟" " تم نے میرے ساتھ جو سمجھوتہ کیا ہے اس کا کوئی نہ کوئی مقصد تو ضرور ہو گا؟" جوگی سیتارام میری بات سن کر ہونٹ کاٹنے لگا۔ میں نے پہلی بار اسے الجھتے دیکھا تھا اس کی پیشانی پر ابھرنے والی شکنیں اس بات کی ترجمانی کر رہی تھیں کہ اسے کوئی گہری حق تھی، اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی خلا ایسا ضرور تھا جو پُر نہیں ہو سکا تھا۔ کہیں سوی ضرور پھنس گئی تھی۔ کوئی گتھی الجھ گئی تھی جس کو سلجھانے کی خاطر اسے میری ضرورت پیش آئی ہو گئی، وہ پراسرار قوتوں کا مالک تھا جب چاہتا نظروں سے

ه
اوجھل ہو جاتا جب چاہتا سامنے آ جاتا وہ دلوں کی باتیں بھی پڑھ سکتا تھا پاتال میں جھانکنے کا دعوی بھی کر چکا تھا، پھر اسے میری کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ ایسا کیا کام تھا جو وہ خود انجام نہیں دے سکتا تھا؟
تیرے من میں جو جوار بھاٹا اٹھ رہا ہے میں اسے بھی دیکھ رہا ہوں۔" اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ ” تو جو سوچ رہا ہے وہ غلط بھی نہیں ہے، کبھی ہاتھی نکل جاتا ہے لیکن اس کی دم انکی رہ جاتی ہے۔ جو آنکھوں کے اشارے سے چٹانوں کو سرمہ بنا دینے کی مهان شکتی رکھتے ہیں، کبھی وہ ایک ناریل توڑنے کی خاطر کسی اور کا سہارا لیتے ہیں۔ تو ابھی بالک ہے، تو ان باتوں کو نہیں سمجھ سکے گا۔ ابھی وہ سے تیرے جیون میں نہیں آیا جب منش آنکھ بند کر کے دنیا کے ایک سرے سے دوسرے کونے میں پہنچ جاتا ہے لیکن وہ سہمے آئے گا ضرور تو میرا انمول رتن ہے. رتن دیپ ایسا چراغ ہے جس میں . ہزاروں ہیرے موتی جڑے ہیں پر نتو میرے سوا کوئی اور ان کا اصل مول نہیں جانتا۔" وہ دیر اپنی زبان میں کچھ بد بدا تا رہا پھر اس کی آنکھیں کسی خیال سے چمکنے لگیں، وہ میرا ھاتھ تھام کر بڑے جوش سے بولا۔ بالک! آج سے تو میرا رتن ہے . رتن کمار میں تجھے اسی شجھ نام سے یاد
کروں گا۔"رتن کمار" میں نے بُرا سامنہ بنایا۔ "یہ کیا نام ہے ؟" کیول رتن کمار نہیں۔" اس نے خوشی سے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ رتن کمار مہاراج جس کی شکتی اپرم پار ہو گی۔" نہیں سیتارام" میں نے سنجیدگی سے کہا۔ ” مجھے کم از کم نام کا تو مسلمان رہنے پھر دھرم کرم کے بکھیڑوں میں الجھ گیا ؟"
تم جو چاہے سمجھ لو لیکن میں نے کچھ کہنا چاہا وہ میری بات کاٹ کر بولا۔ اپنے پرکھوں کی کہی ہوئی بات یاد کر مورکھ! اس مہمان شکتی دان نے بھی یہی کہا تھا کہ ترا نام تیرے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، پرنتو تب سمے بیت چکا تھا لیکن اب سے پھر تیری مٹھی میں ہے، میرا کہا مان لے بالک! مہان جوگی تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، ایک بار اپنا نام بدل کر دیکھ لے کہ تیرے بھاگ (قسمت) میں کیا
لکھا ہے ، یہ سمے بھی ہاتھ سے نکل گیا تو پھر اور چکروں بھٹکتا پھرے گا۔" مجھے سیتارام کی بات سن کر پھر دادا جان کی کہی ہوئی باتیں یاد آگئیں ، انہوں نے بھی پہلے یہی مشورہ دیا تھا کہ جتنی جلدی ممکن ہو میرا نام آذر سے تبدیل کر کے کچھ اور کر دیا جائے، پھر انہوں نے وقت گزر جانے کی بات بھی کی تھی اور اب سیتارام کہہ رہا تھا کہ وقت پھر میری مٹھی میں آگیا ہے۔ میرا ذہن الجھنے لگا میری ماں کی بھی یہی خواہش تھی کہ میرا نام بدل دے لیکن موت نے اسے دل کی حسرت پوری کرنے کی مہلت نہ دی، میں ماضی میں گم ہو کر غوطے لگا رہا تھا جب میرے ذہن میں دیوانے ملنگ کا خیال ابھرا اس نے بھی اشارے کنایوں میں ایک بار کہا تھا کہ بندر سے مچھندر بن جا دم دبا کر دم سادھ لے میں نے سنجیدگی سے غور کرنا شروع کیا پھر قبل اس کے کہ میں کچھ کہتا
جوگی سیتارام نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ اب سوچ بچار کرنا چھوڑ دے مورکھ! آذر کو اپنے اندر دفن کرلے، رتن کمار بن
جا اسی میں تیری مکتی ہے۔" لیکن رتن کمار ہی کیوں؟" میں نے سوچا۔ کیا میرا نام مسلمانوں جیسا نہیں ہو سکتا؟ اسی لمحے سیتا رام نے میرے بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر لی مجھے ایسا لگا جیسے میرے سوچنے سمجھنے کی قوت تیزی سے زائل ہو رہی ہو، اس کی پراسرار قوت نے مجھے پھر بے بس کر دیا۔ سامنے کالی کے مندر کا چمکتا ہوا کس نظر آ رہا تھا، سیتا رام نے کوئی اشلوک پڑھنا شروع کر دیا' میرے دل کی حالت غیر ہونے لگی، میرا ذہن ماؤف ہو رہا تھا، مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے میں سوتے میں چل رہا ہوں، مندر کی سیڑھیاں سامنے آئیں تو میں ایک لمحے کو ہچکچایا لیکن سیتارام کی گرفت اور مضبوط ہو گئی' وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا
سیڑھیاں عبور کرتا ہوا کالی کے بڑے مندر میں داخل ہو گیا۔
بڑے مندر کے چبوترے پر پنڈت پجاریوں کی ٹولیاں ادھر اُدھر جمع تھیں، ان میں نوجوان بھی تھے، ادھیڑ عمر والے تھے اور کچھ ایسے بوڑھے بھی تھے جو قبروں میں پائے بیٹھے تھے۔ چبوترے کے اطراف کچی زمین پر بڑے بڑے پھل پھول دار درخت کے پاکھوں کے ساتھ قسم قسم کی مورتیاں رکھی نظر آ رہی تھیں، بائیں جانب ایک درت لان تھا جس پر پجاری میں اور دیوداسیاں بیٹھی کھسر پھسر کر رہی تھی جوگی سیتارام کو دیکھ کر مندر کے اندر بھی ایک ہلچل سی مچ گئی، ہر شخص اس کی پذیرائی میں پیش پیش تھا سب کی نظریں میری طرف اٹھ رہی تھیں، میں سیتارام کے ساتھ نہ ہوتا تو شاید وہ مجھے پر شبہ بھی کرتے ، میرا لباس ان سب سے الگ تھلگ تھا میں وہاں کے آداب سے بھی ناواقف تھا جو الگ پہچانا جا رہا تھا۔
سیتارام کو لوگوں نے گھیر لیا اس کی خیریت دریافت کرنے لگے۔ اس کے پیروں کو چھونے لگے مندر کا بڑا پجاری بھی باہر آگیا وہ ایک ہٹا کٹا اور بھاری بھر کم شخص تھا، اس پجاری نے بھی سیتارام کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر پر نام کیا تو مجھے اس کی بڑائی کا اندازہ ہوا۔
” بڑے دنوں بعد درشن دیئے جو گی مہاراج!" بڑے پجاری نے بڑی عقیدت سے کیا۔ ”اب آئے ہو تو کچھ عرصہ دیوی کے چرنوں میں بھی ٹک کر بیٹھنا۔" بھی کچھ کام کاج باقی رہ گیا ہے، مجھے کہیں دور جاتا ہے۔" سیتا رام نے میری سمت کھوں سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ ” سمے ملا تو دوبارہ اطمینان سے آؤں گا۔" ایک دو روز تو سیوا کرنے کی موقع دو گے؟" بڑے پجاری نے اصرار کیا تو سیتارام نے صرف ایک دن کی ہامی بھر لی پھر میرا تعارف کرانے لگا بڑے پجاری نے پہلے بار مجھے
دھیان سے دیکھا پھر بولا۔ "تمہاری بات ہی کچھ اور ہے مہاراج! اس نے سانس بھر کر کہا۔ "تم جس کے سر
پر اپنا ہاتھ رکھ دیتے ہو وہ کندن بن جاتا ہے۔" میں اس ماحول سے اکتانے لگا تھا۔ ان کی بھانت بھانت کی بولیاں میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ کپڑے پھاڑ کر مندر سے بھاگ جاؤں لیکن سیتارام کا خوف طاری تھا جس نے میرے قدم روک رکھے تھے۔ میں اپنا دل بہلانے کی خاطر ادھر ادھر دیکھ رہا تھا جب میری نظر ایک پجاری پر جا کر تھم گئی، وہ چبوترے کے دائیں جانب ایک ستون سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا وہ شاید واحد پجاری تھا جو جوگی سیتارام کے استقبال کو کھڑا ہوا نہیں تھا، اس کی عمر تیس بتیس سے زیادہ نہیں رہی ہو گی لیکن وہ با نیرو تار لگ رہا تھا اس کی آنکھوں کی چمک میں کوئی بات ایسی ضرور تھی جو اس کی کر کرتی تھی۔ اتفاقا میری اور اس کی نظریں چار ہوئیں تو اس نے اپنی جگہ خالی کر دیا۔ اس کی تجربے کار نگاہیں میرے وجود کے اندر جھانکتی محسوس ہو رہی
تھیں۔ اس کی طرف دیکھ کر ایسا لگتا تھا جیسے وہ منفرد شخصیت کا مالک ہو، وہ مجھے ٹکنکی باندھے دیکھ رہا تھا، اس کی آنکھوں کے رنگ بار بار بدلتے محسوس ہو رہے تھے، مجھے ہنسی آگئی، شاید سیتارام کی طرح اس نے بھی میرے میں جھانک لیا تھا جو اتنے غور سے
دیکھ رہا تھا۔ سیتا رام بڑے پجاری سے باتوں میں مشغول تھا جب میں نے اسے اچانک چونکتے دیکھا۔ ایسا لگا تھا جیسے اس نے اپنے آس پاس کوئی خطرہ محسوس کیا ہو ، پھر اس نے پلٹ کر اس پجاری کی طرف دیکھا جو میری شخصیت میں دلچسپی لے رہا تھا۔ بڑے پجاری کی نظریں بھی اس کی جانب گھوم گئیں ، شاید وہ پجاری بھی محتاط ہو گیا تھا جو اس نے بڑی تیزی سے میری طرف سے اپنی توجہ ہٹائی، سانس کھینچ کر اس نے اپنی آنکھیں بند کرلی تھیں انداز ایسا تھا جیسے یوگا کے کسی خاص آسن کی مشق کر رہا ہو۔ میرے اندر تجس بیدار ہونے لگا۔ سیتارام کا چونک کر اس پجاری کی طرف دیکھنا پجاری کا میری طرف سے یکلخت بے نیاز ہو کر سانس کھینچ کر آنکھیں بند کر لینا۔ یہ باتیں محض اتفاق نہیں ہو سکتی تھیں۔ کوئی نہ کوئی بات ضرور تھی جس نے سیتارام کے چہرے پر تفکرات پیدا کر دیئے تھے۔ یہ گھمنڈی ابھی تک کالی کے چرنوں سے لگا بیٹھا ہے؟" سیتا رام نے مدھم آواز
میں بڑے پجاری کو مخاطب کیا۔ دو مہینے پہلے اجودھیا کی طرف گیا تھا پھر واپس آگیا۔“ بڑے پجاری نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔ "تم اسے گھمنڈی کہہ رہے ہو مہاراج! تو پھر ٹھیک ہی ہو گا پرنتو میں
تم اس کے من کے بھید نہیں دیکھ سکتے میں دیکھ رہا ہوں۔" سیتا رام نے بے حد
سنجیدگی سے کہا۔ ” جانتے ہو اس سے اس نے اپنا دم کیوں سادھ رکھا ہے؟" تبت سے واپسی کے بعد مہاویر نے یوگا کی بیٹھکیں لگانی شروع کر دی ہیں۔“ بڑا پجاری بولا۔ ایک ایک گھنٹے تک اسی طرح دم سادھے پتھر کی مورتی بنا رہتا ہے۔" تم بھی اسے مہاویر کہتے ہو ؟" سیتارام نے بڑے پجاری سے سوال کیا۔ آپ بھی اسے اسی نام سے یاد کرتے ہیں۔ " بڑے پجاری نے پوچھا۔ ” تم کیا سوچ
ہو اس کے بارے میں؟؟ پہلے یہ کیول مہندر ناتھ تھا کبھی میری بھگتی بھی کیا کرتا تھا لیکن ہنومان ک
جاپ کرنے کے بعد سے مہاویر بن گیا۔ " سیتا رام نے برا سا منہ بنا کر جواب دیا۔ ”اب مجھے دیکھ کر کترانے لگا میری کھوج میں لگا رہتا ہے، میں سمجھتا ہوں اس سے بھی اس کے من میں کوئی کھد بد ہو رہی تھی، میں اس کے من میں نہ جھانک سکوں اسی لئے اس نے دم سادھ لیا ہے۔ بہت چتر چالاک اور چنٹ بننے کی کوشش کرتا ہے۔ " سیتارام کے آخری جملوں سے مہاویر کے لئے اس کی نفرت کا احساس جھلک رہا تھا۔
شما کر دو مہاراج!" بڑے پجاری نے کہا۔ ”ابھی جوان ہے، شریر میں گرم گرم خون روڑ رہا ہے، جب سوجھ بوجھ آ جائے گی تو یہ بھی تمہارے چرنوں میں ڈنڈوت کرے گا
تمہارا اس کا کیا مقابلہ ۔" سیتارام نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن میں محسوس کر رہا تھا کہ مہاویر کو دیکھنے کے بعد اس کی طبیعت مکدر ہو گئی تھی ، بڑا پجاری بھی اس کی کیفیت بھانپ چکا تھا وہ اصرار کر کے مجھے اور ستیارام کو مندر کے اندر لے گیا جہاں کالی کی قد آور مورتی موجود تھی، یہ لمحے بڑے صبر آزما تھے لیکن میں نے ضبط سے کام لیا۔
مندر کے بڑے پجاری نے کالی کے چرنوں میں بیٹھ کر اشلوک پڑھا پھر سیتا رام نے میرا ہاتھ تھام کر مورتی کے قدموں میں بٹھا دیا، میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں لیکن میرے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا۔
بالک" سیتارام نے بڑی گھمبیر آواز میں مجھے مخاطب کیا۔ دیوی کے سامنے ہاتھ باندھ لے، سچے من سے وچن دے کہ تو کبھی میرے ساتھ دھوکا نہیں کرے گا ہمیشہ میری
آگیا کا پالن کرے گا۔" میرا جی اٹھنے لگا ایک مورتی کے سامنے ہاتھ باندھنا اس کو گواہ بنا کر عہد و پیمان کرنا وہ سب کچھ مجھے عجیب لگ رہا تھا لیکن میں سیتارام کی پراسرار قوتوں کے جال میں پھنس چکا تھا میں نے جلدی اس کے کہے ہوئے الفاظ دہرائے پھر اٹھ کھڑا ہوا۔ دھن ہو بالک رتن کمار!" بڑے پجاری نے میرے سر پر ہاتھ رکھ کر آشیر باد دیا۔ "جوگی مہاراج نے تجھے اپنے چرنوں میں جگہ دی ہے، تیرے سر پر ہاتھ رکھ دیا ہے ۔ پر ایک بات کا دھیان رکھنا اب پلٹ کر پیچھے کی اور (طرف) کبھی نہیں کرنا اسی میں تیری مکتی ہے۔"
پجاری نے آشیر باد دینے کے بعد پیتل کے برتن سے گندھا ہوا صندل اور
جانے کیا شے اٹھا کر میرے ماتھے پر لگائی اس کے بعد مجھے ویسے ہی گیروے رنگ کا لباس پہنایا گیا جو دوسرے پنڈت پجاریوں نے پہن رکھا تھا۔ دن بھر ہماری آؤ بھگت ہوتی رہی، بڑے پجاری کے کہنے پر مندر کی پجارنوں نے بھی میرے رتن کمار بنے پر کالی کے سامنے جمع ہو کر بھجن گائے۔ پجاریوں اور پنڈت کی نگاہیں ان کے جسموں پر گدھ کی طرح منڈلاتی رہیں لیکن ان سب کی نگاہیں بار بار میرے چہرے کی جانب اٹھ رہی تھیں۔ وہ مجھے نیا پکھیرو ( پنچھی) جان کر مجھ پر اپنی اداؤں کے جال پھینک رہی تھیں، نگاہوں نگاہوں میں باتیں کر رہی تھیں، میں مجبوراً خاموش بیٹھا خون کے گھونٹ پیتا رہا لیکن نہ جانے کیوں اس وقت بھی میرے ذہن کے ایک گوشے میں پجاری مہاویر کا تصور رہ رہ کر بیدار ہو رہا تھا۔
اس رات سیتارام بڑے پجاری کا مہمان تھا رات کے کھانے کے بعد وہ بڑے پجاری کے ساتھ مندر کے اندر چلا گیا۔ میرے لئے مہمان خانے میں ایک کمرے کا بندوبست کر دیا گیا میں رخصت ہونے لگا تو سیتا رام نے قریب آکر دبی زبان میں کہا۔ یہ کالی کا پوتر مندر ہے بالک! یہاں کوئی بھول نہ کر بیٹھنا اور پنڈت پجاریوں سے بھی دور دور ہی رہنا ہم سویرے ہی نکل چلیں گے۔" سیتارام کی بات میری سمجھ میں صرف اسی حد تک آسکی کہ میں کسی دیوداسی یا پجارن کو رات اپنے کمرے میں بسر کرنے کی اجازت نہ دوں، میں یوں ہی اثبات میں سر ہلا انبار کر ایک پجاری کے ساتھ اپنے کمرے میں آگیا۔ وہ رات میری زندگی کی سب سے بھاری رات تھی، مندر کے ماحول میں مجھے گھٹن کا احساس ہو رہا تھا، مجھے اپنے والدین بڑی شدت سے یاد آرہے تھے دادا جان کی باتیں میرے ذہن میں گونج رہی تھیں، ملنگ کے کہے ہوئے جملے ابھر رہے تھے۔ میں نے ان کے بارے میں بہت غور کیا لیکن ان کا مفہوم سمجھنے سے قاصر رہا۔ میں بستر پر لیٹا کروٹیں بدل رہا تھا جب ایک کمسن پجارن تنگ چولی اور گھاگھرے میں اپنے حُسن کا جادو جگاتی کمرے میں داخل ہوئی اس کے ہاتھ میں دودھ کا گلاس تھا، گداز ہونٹوں پر زندگی سے بھری مسکراہٹ کھیل رہی تھی، اس کے انگ انگ میں بجلی بھری تھی، میں جلدی سے اٹھ گیا۔میرا نام یشودھا ہے، بڑے پجاری کے چرنوں کی دھول ہوں۔“ اس نے مجھ پر اپنی قاتل نظر جماتے ہوۓ کہا تمہارے لیے دودھ کا گلاس لائی ہوں

میں نے اس کی بات مان لی وہ زہر بھی دیتی تو شاید میں انکار نہ کرتا اس کی آمد نے میرے ذہن پر طاری سارا بوجھ اتار دیا تھا، اس کے حُسن کا نکھار قابل دید تھا، اس کا گد رایا ہوا جسم قیامت تھا، اس کی بادامی آنکھوں میں بجلیاں کوند رہی تھیں۔ چولی اور گھاگھرے کے درمیان اس کا کھلا ہوا جسم مجھے بہکانے لگا وہ رحیم الدین کی معصوم بیٹی سے زیادہ کمسن اور الھڑ تھی۔ میرا دل چاہا کہ اسے اپنی بانہوں میں گھسیٹ لوں، رتن کمار بننے کے بعد اس کے نام کو یشودھا کے وجود سے نتھی کر دوں لیکن سیتارام کے خوف نے میرے قدم تھام
لئے۔میں نے ایک ہی گھونٹ میں دودھ کا گلاس اپنے وجود میں انڈیل لیا، اس کے حلق کے نیچے اترتے ہی مجھ پر سرور کی کیفیت طاری ہونے لگی، میں چونکا میرے ذہن میں بھنگ کا تصور ابھرا میں نے کہیں سنا تھا کہ مندروں میں بھنگ گھوٹی جاتی ہے جسے دیوتاؤں کا مشروب سمجھ کر پیا جاتا ہے ، شاید انہوں نے یشودھا جیسی ادھ کھلی کلی کا انتخاب اس لئے ہے، کیا تھا کہ میں اس کی آنکھوں کی مستی میں ڈوب کر عقل و خرد سے بیگانا ہو جاؤں، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے تھے، دودھ میں بھنگ یا کوئی اور نشہ آور چیز ملا کر انہوں نے میرے ایمان کو اور آلودہ کر دیا تھا۔ یہ دیوتا کا سوم رس ہے۔ " یشودھا اٹھلا کر بولی۔ ”صرف قسمت والوں کو ملتا
اسے پی کر منش بہک بھی جاتا ہے۔" ۔"
، اس کے بدن کی سوندھی سوندھی مہک میرے وجود کو گر گرانے لگی، اس کی نگاہوں میں بھی رنگ برنگے ڈورے تیرنے لگے ' وہ میری باتوں کا مفہوم سمجھ گئی تھی۔ تمہیں جانے کی جلدی تو نہیں ہے؟" میں نے بہکے ہوئے لہجے میں سرگوشی کی۔ کوئی کام ہے کیا؟" اس نے شوخ نظروں سے مجھے دیکھا ان نگاہوں میں آمادگی کا اظہار تھا
مینے سیتارام کی تمام نصیحتوں کو بالائے طاق رکھ دیا۔ ہاتھ بڑھا کر یشودھا کی مرمریں کلائی تھام لی، وہ لہراتی بل کھاتی میری آغوش میں سمانے لگی لیکن اسی وقت دروازے پر دستک کی مدھم آواز ابھری تو وہ کسی خوفزدہ ہرنی کی طرح مچل کر میری بانہوں سے نکل گئی۔ میرے حلق میں کانٹے چھنے لگے ، میرا دل دھڑ کا شاید سیتارام کی پراسرار نظروں نے میرے ارادوں کو دور رہ کر بھی بھانپ لیا تھا وہ غالبا مجھے سرزنش کرنے کی خاطر آیا ہو گا، میں سنبھل کر بیٹھ گیا لیکن یشودھا کے جانے کے بعد جو شخص میرے کمرے میں داخل ہوا وہ پجاری مہاویر کے سوا کوئی اور نہیں تھا۔ میرے دل کی دھڑکنیں تیز
ہونے لگیں۔ "تم" میں نے اسے وضاحت طلب نظروں سے گھورا۔ میرا نام مہاویر ہے، مجھے اپنا متر (دوست) سمجھو۔" اس نے مدھم آواز میں کہا۔تمہیں ایک دو ضروری باتیں سمجھانے آیا ہوں۔" لیکن جوگی سیتارام" میں نے کچھ کہنا چاہا وہ میری بات کاٹ کر بولا۔ اس کی چنتا مت کرو میں جانتا ہوں کہ وہ من کے اندر بھی جھانک سکتا ہے لیکن مینے کچھ دیر کے لئے منڈل کھینچ دیا ہے، وہ اس منڈل کے اندر نہیں دیکھ سکے گا۔ " ایسی کیا بات ہے جو تم سیتا رام کی موجودگی میں نہیں کر سکتے ؟" میں نے اسے
ٹولنے کی خاطر دریافت کیا۔
میرے پاس سمے کم ہے، میری دو باتیں گرہ سے باندھ لو۔" اس نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ "پنڈت رام کشن سے پنجہ لڑانے کی بھول کبھی مت کرنا۔" میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا؟" "جوگی سیتا رام نے جان لیا ہے کہ اس دھرتی پر کیوں تم ہی ایک ایسے منش ہو جو اس کا کام کر سکتے ہو، اس کا رن وہ تم سے پینگ بڑھا رہا ہے۔" مہاویر نے ادھر اُدھر دیکھ کر کہا۔ ”وہ جس چیز کی کھوج میں ہے اسے تمہارے سوا کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا۔“ کیا پنڈت رام کشن جوگی سیتا رام سے زیادہ طاقتور ہے؟" میں نے پوچھا۔
برابر کا جوڑ سمجھ لو
نہیں کہہ سکتا۔
ہو سکتا ہے سیتارام ہی اس پر بھاری پڑ جائے،
وہ چیز کیا ہے؟" میں نے سنجیدگی سے دریافت کیا۔
جواب میں مہاویر کچھ کہنا چاہتا تھا کہ اچانک فضا میں ایسے دھماکے ہوئے جیسے دو
قوتیں آپس میں ٹکراگئی ہوں۔ مہاویر نے مجھے اشارے سے خاموش رہنے کی تاکید کی پھر پلٹ کر تیزی سے باہر نکل گیا میں خاموشی سے بستر پر لیٹ چکا تھا جب ایک دراز قد پچاری لپکتا ہوا کمرے میں داخل ہوا۔
کیا بات ہے؟" میں نے لا پرواہی سے پوچھا۔
"جوگی مہاراج نے کہا تھا کہ میں تمہارا دھیان رکھوں۔" اس نے کمرے میں ادھر اُدھر نظریں دوڑاتے ہوئے کہا۔
"کون ہو تم؟" میں نے دریافت کر لیا۔
مہاراج کا پرانا سیوک ہوں۔" وہ ہاتھ باندھ کر بولا۔ ”تم قسمت کے دھنی ہو کہ تمہیں مہاراج کا آشیر باد مل گیا میں برسوں سے سیوا کر رہا ہوں لیکن ابھی تک خالی جھولی
لئے پھر رہا ہوں۔" سیوا جاری رکھو، تمہارا نمبر بھی آجائے گا۔ " میں نے لا پرواہی سے کہا پھر جماہی لے کر کروٹ بدل لی۔ میرے ذہن میں مہاویر کے جملے گونج رہے تھے، اس کی بات رہ گئی تھی، شاید سیتا رام کو اس کے منڈل کی بھنک مل گئی تھی، اسی لئے اس نے کی پجاری کو میرے کمرے کی سن گن لینے کو بھیجا تھا۔ میں خاصی دیر تک اس چیز کے بارے میں سوچتا رہا جس کے حصول کی خاطر جوگی کی شیطانی قوتیں میرے گرد جال بن رہی تھیں۔ میرے ذہن میں مختلف سوالات گڈمڈ ہو رہے تھے۔ وہ کیا قیمتی شے تھی جسے سیتا رام کی ماورائی قوتیں بھی حاصل نہیں کر سکتی تھیں ۔۔۔۔ پنڈت رام کشن کون تھا سیتا رام اور پنڈت رام کشن کا اس شے سے کیا تعلق تھا جسے مہاویر کے کہنے کے مطابق میرے سوا کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا تھا؟ مہاویر نے مجھے اس بات سے . کیوں باخبر کیا تھا؟ اسے مجھ سے کیا ہمدردی تھی؟ کیا خود وہ بھی اس شے کی تلاش . میں تھا؟ میں کسی آخری نتیجے کی تلاش میں تھا لیکن یشودھا نے مجھے دودھ میں جو نشیلی چیز پلائی تھی وہ تیزی سے اپنا کام کر رہی تھی، چنانچہ میں زیادہ دیر تک بیدار نہ رہ سکا۔ دوسری صبح میری آنکھ دیر سے کھلی، میں چاہتا تھا کہ کالی کے مندر سے جانے سے پہلے ایک بار اور مہاویر سے ملاقات کر لوں لیکن مجھے اس کا موقع نہیں ملا۔ ناشتے سے کے بعد جوگی سیتا رام نے مندر کے بڑے پجاری سے اجازت لی اور میرا ہاتھ تھاما ۔ میں نے آخری وقت تک اِدھر اُدھر دیکھا لیکن مہاویر کہیں سامنے موجود نہیں تھا، میرا ذہن پھر اٹھنے لگ
ہمارا سفر بڑا طویل تھا۔ ہم ڈھاکہ سے کلکتہ گئے وہاں سے بنارس الہ آباد اور امرتسر ہوتے ہوئے ہمالیہ کی برف پوش پہاڑیوں کی طرف نکل گئے۔ سیتا رام بڑا سخت جان جوگی تھا، سفر کے دوران بھی وہ پوری طرح چاق و چوبند نظر آ رہا تھا۔ شروع شروع میں میری حالت غیر رہی میں سفر سے اکتا جاتا لیکن پھر میں بھی ڈھیٹ بن گیا۔
میں مذہب سے جتنا دور ہوتا جا رہا تھا اتنا ہی میرے اندر کا غبار بڑھتا جا رہا تھا۔ راستے بھر سیتا رام مجھے اپنی زندگی کے عجیب و غریب قصے کہانیاں سناتا رہا۔ دیوی دیوتاؤں کے بارے میں جان کاری کراتا رہا، اس نے مجھے کئی جاپ یاد کرائے، وہ مجھے بار بار بادر کراتا تھا کہ دنیا میں سب سے بڑی چیز طاقت ہے۔ دیوتا کا جاپ جس کی مختلف مدت ہوتی ہے انسان کو فولاد بنا دیتا تھا ہے، وہ کندن ہو جاتا ہے پھر اسے کسی چیز کی حاجت نہیں رہتی وہ جو چاہتا ہے پلک جھپکتے میں مل جاتا ہے، منتر کے بیر اس کی خواہش کو پورا کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ میں سیتارام کی باتوں سے الجھنے لگا مگر ایک دن میں نے طے کر لیا کہ جب اوکھلی میں سر دے ہی دیا ہے تو پھر دھماکوں سے کیا ڈرنا میرے اندر بار بار یہ جذبہ سر ابھارتا تھا کہ میں اتنی طاقت حاصل کرلوں کہ سیتارام کو نیچا دکھا سکوں۔ آج میں اس کے اشارے پر چل رہا ہوں کل اسے اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دوں۔ دل میں اس خواہش کے بیدار ہونے کے بعد میں جوگی سے کرید کرید کر کالی در گا، ادیتی دیوی، وشنو اور دوسرے دیوی دیوتاؤں کے بارے میں پوچھتا رہتا۔ سیتارام خوش تھا کہ میں پوری طرح اس کی مٹھی میں ہوں، میں کوئی اور خواب دیکھ رہا تھا۔ سفر کے دوران بھی مجھے مہاویر کی بات یاد آتی رہی میں نے متعدد بار سیتا رام سے معلوم کرنے کی کوشش کی کہ وہ میرے ذریعہ کیا کام کرانا چاہتا ہے لیکن وہ مجھے ہر بار ٹال دیتا یا گفتگو کا رخ بدل کر اپنی رام کہانی شروع کر دیتا۔
ہمالیہ کی برف پوش پہاڑیوں پر پہنچ کر اس نے میرے لئے ایک محفوظ گفھا تلاش کی اں اس کے بتائے ہوئے طریقوں سے منڈل کھینچ کر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ جو منتر مجھے سیتا رام نے بتایا تھا وہ میں نے یاد کر لیا تھا وہ جاپ کالی کے لئے تھا جس کی مدت چالیس
دن تھی، چالیس دن تک کسی پہاڑ کے غار میں بھوکے پیاسے بیٹھا رہنا ایک دشوار گزار مرحلہ تھا لیکن اب مجھے زندگی کی پرواہ نہیں رہی تھی، انتقام کا ایک جذبہ تھا جو جنون کی شکل اختیار کرتا جا رہا تھا۔ اسی جنون نے مجھے کامیاب کیا۔ دو چار روز تک میں اس ویرانے اور موسم کی بدلتی کیفیتوں سے پریشان رہا، کئی بار میرے دل میں خیال آیا کہ منڈل سے کی نکل کر جس طرف سینگ سائے بھاگ کھڑا ہوں، کسی بلند پہاڑی سے اپنے وجود کو آنکھ بند کر کے نیچے کی طرف گرا دوں' سارا قصہ ایک ہی دفع میں پاک ہو جائے لیکن پھر مجھے خیال آتا کہ اگر مرنا ہی تھا تو میں نے جوگی سیتارام کی بات اس وقت کیوں قبول کی جب ڈھاکہ کے عقوبت خانے میں مجھے پولیس کے مظالم برداشت کرنے پڑ رہے تھے، میں سیتارام کے ساتھ کوئی سمجھوتہ کرنے سے سختی سے انکار کر دیتا تو بات اتنی آگے نہ بڑھتی لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ ایک ہفتے کی جان لیوا مشقت کے بعد میں منتر پڑھنے کا عادی ہو گیا موسموں کی تبدیلیاں بھی میرے اوپر اثر انداز ہونے سے گریز کرنے لگیں، شاید میرے اندر پیدا ہونے دحشتیں دیکھ کر وہ بھی مجھ سے کترانے لگی تھیں، میں منڈل میں بیٹھا کالی کا جاپ کرتا رہا سیتا رام نے کہا تھا کہ جاپ کے دوران شیطانی اور گندی قوتیں مجھے بھیس بدل بدل کر پریشان کریں گی لیکن اگر منڈل کے اندر رہا تو وہ مجھے گزند نہیں پہنچا سکیں کی مگر میرے ساتھ ایسا کوئی قابل ذکر حادثہ بھی پیش نہیں آیا شاید کالی دیوی کو بھی میرا روپ پسند آ گیا تھا وہ مجھ پر مہربان ہو گئی تو پھر ساری مشکلات دور ہو گئیں
چالیس روز میں میری حالت عجیب ہو گئی تھی، میرا پورا جسم پتھر بن چکا تھا گرد و غبار اور سردی کے تھپیڑوں نے میرے چہرے کی رنگت بھی بدل ڈالی تھی، میرے سر اور داڑھی کے بال بھی خودرو جنگلی جھاڑ جھنکار کی طرح بڑھ چکے تھے لیکن میری زبان کسی مشین کی طرح اس منتر کے بول دہراتی رہی جو سیتا رام نے مجھے یاد کرائے تھے۔ اس نے کہا تھا کہ مجھے دنوں کے شمار کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی یا تو چالیس روز مکمل ہونے کے بعد وہ خود مجھے لینے آئے گا یا کوئی اور علامت ایسی ظاہر ہو گی جو مجھے میری کا ملالہ کا احساس دلا دے گی۔
بیٹھ کر جاپ کرنے کے دوران مجھے کسی گندی قوتوں نے ڈرانے کی کوشش نہیں کی البتہ ایک بار جب جاپ مکمل ہونے میں شاید کچھ دن باقی رہ گئے تھے
مجھے دادا جان سامنے کھڑے نظر آئے۔ ان کے نورانی چہرے پر اس وقت جلال کی کیفیت کے طاری تھی ، وہ مجھے قہر آلود نظروں سے گھور رہے تھے اور پیچ و تاب کھا رہے تھے۔ ملعون کیوں اپنی عاقبت خراب کر رہا ہے؟ اب بھی وقت ہے حصار توڑ کر باہر آجا۔ انہوں نے گرجدار آواز میں کہا۔ ”بڑے میاں! میں نے اسے کسی شیطان کا بدلا ہوا روپ سمجھ کر اس کا مذاق ا اڑایا۔ ”اگر تم میرے دادا جان ہو تو پھر حصار کے اندر آجاؤ۔” میری بات مان لے بدبخت، ابھی نجات کا راستہ تیرے اپنے ہاتھ میں ہے، بچے دل سے توبہ کر لے ورنہ تیری مٹی بُری طرح پلید ہو گی۔ " دادا جان کی شکل والے نے تلملا ۔کر کہا۔
تم ایک بار منڈل میں قدم رکھ کر دیکھو، تمہاری مٹی مجھ سے پہلے پلید ہو جائے گی ۔
جل کر خاک ہو جاؤ گے۔" اہنجار !" وہ غصے میں لرزنے لگا۔ ” جانتا ہے تو کس سے بات کر رہا ہے؟" ہاں تم کسی شیطان کی بد روح ہو جو مجھے میرے ارادے سے روکنے آئی ۔ ہے۔" میں نے غرا کر کہا۔ "جا چلا جا پھر دوبارہ ادھر کا رخ نہ کرنا ورنہ جل کر راکھ ہو جائے گا۔ " پھر میں نے آنکھیں بند کر لیں اور پوری توجہ سے منتر پڑھنے لگا کچھ دیر بعد میں نے دوبارہ آنکھ کھولی تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ مجھے نہ وقت کا احساس تھا نہ میں دنوں کا شمار کر رہا تھا لیکن وہ شام آج بھی یاد ہے جب غار میں ملگجی اندھیرا پھیلنا شروع ہوا تھا تاریکی اپنا دامن پھیلا رہی تھی اندھیرے تیزی سے پھیل رہے تھے، جب میں نے روشنی کا ایک دائرہ نمودار ہو کر اپنی طرف بڑھتے دیکھا، اس دائرے کے اندر ایک حسین عورت اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ کھڑی مسکرا رہی تھی، اس کا حُسن میری نگاہوں میں چکا چوند پیدا کرنے لگا وہ آہستہ آہستہ روشنی کے دائرے کے ساتھ میری طرف قدم بڑھا رہی تھی، اس کے مچلنے کا انداز بھی غضب کا تھا۔ میں نے اتنی خوبصورت اور بھرپور عورت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ میرا ذہن بٹنے لگا سیتارام کی آواز میرے کانوں میں ابھری۔
" بالک! ایک بات کا دھیان رکھنا اگر تو نے جاپ پورا ہونے سے پہلے باہر نکلنے کی تو اچھا نہیں ہو گا، پلید آتما ئیں تجھے روپ بدل بدل کر تیرے ارادے سے روکی
گی پر تو ان کی طرف دھیان نہ دیتا۔ اگر تو ڈر گیا تو سارا کیا کرایا ستیاناس ہو جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تیرا دماغ پلٹ جائے تو دیوانہ ہو جائے، تجھے اپنے جیون کے بارے میں کچھ بھی یاد نہ رہے۔ جب کوئی ایسا سے آئے تو منتر کے بول اونچی آواز میں پڑھنا شروع کر دینا گندی آتھمائیں تیری نظروں سے اوجھل ہو جائیں گی۔ تو نے جو منڈل کھینچا ہے اس میں کوئی منش یا شیطانی شکتی قدم نہیں رکھ سکتی ورنہ جل کر بھسم ہو جائے گی۔ میری
بات گرہ سے باندھ لئے جاپ کے آخری دن بڑے کٹھن ہوتے ہیں۔"میں نے منتر کے بولوں کو بلند آواز میں پڑھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔ منتر کے بول مجھے یاد نہیں آ رہے تھے، میری نظریں اسی حسین عورت پر مرکوز تھیں جس کے دونوں شانوں پر دو ناگئنیں کنڈلی مارے بیٹھی لہرا رہی تھیں، اس کے سر پر روشنی کے جھماکے ہو رہے تھے، وہ میرے منڈل کے قریب آکر کر گئی اس کی نظریں میرے چہرے پر مرکوز تھیں، اس کے ہونٹ پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ "خبردار!" میں نے سارے جسم کی قوت جما کر کے یہ مشکل مخاطب کیا۔ منڈل
میں قدم رکھنے کی غلطی مت کرنا ورنہ جل کر راکھ ہو جائے گی۔"تمہارا نام رتن کمار ہے نا۔" اس کے ہونٹوں پر جنبش ہوئی تو فضا میں نقرئی گھنٹیوں کی سحورکن آذوا زیں گونجنے لگیں۔ ہاں میں رتن کمار ہوں۔" میں نے اسے گھورتے ہوئے پوچھا۔ تو کون ہے؟
کس کی شکتی پراپت کرنے کے کارن دھونی جمائے بیٹھا ہے؟" وہ میرا سوال نظر انداز کر کے بڑے پروقار انداز میں بولی۔ "کس کے لئے جاپ کر رہا ہے؟" رفع ہو جا یہاں سے ورنہ میں تجھے بھسم کر دوں گا۔ " میں نے پینترا بدل کر اسے
للكارا تم مجھے اچھے لگے رتن کمار! اس لئے پیر بلاؤں نے تمہیں ڈرانے کی کوشش نہیں کی۔ وہ قدم آگے بڑھاتے ہوئے ایک ادا سے بولی۔ " تم جس کالی کے لئے جاپ کر رہے ہو میں اس کا دوسرا روپ ۔ درگا ہوں۔ تم قسمت کے دھنی ہو جو میرا درشن کر . رہے ہو اٹھو رتن کمار ! منڈل سے باہر آکر میرا سواگت کرو۔"میں لڑکھڑانے لگا۔ سیتارام کی نصیحتیں میرے پیش نظر تھیں لیکن اس حسینہ
اور کافر ادا کا حسن مجھے اپنی طرف کھینچ رہا تھا، میں مخمصے کی کیفیت سے دوچار تھا جب اس کے یاقوتی ہونٹوں کو دوبارہ جنبش ہوئی۔ میں تمہارے من کا حال سمجھ رہی ہوں۔" اس نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہے۔ ہوئے کہا۔ "تم اس سمے ہمارے سیوک جوگی سیتارام کے بارے میں سوچ بچار کر رہےہو اس نے تمہیں منع کیا تھا کہ منڈل سے باہر نکلنے کی بھول نہ کرنا۔ " ہاں ہاں۔" میری زبان لڑکھڑانے لگی۔ "اس نے یہی کہا تھا۔" ٹھیک ہے۔" وہ بڑی موسیقیت سے بولی۔ " تم منڈل سے باہر مت آؤ میں منڈل کے اندر آجاتی ہوں۔" اس کے قدم اٹھنے لگے، میرا وجود ڈگمگانے لگا، مجھے خوف تھا کہ وہ جل کر راکھ ہو ۔ جائے گی، میں نے اسے روکنے کی خاطر چلانے کی کوشش کی۔ ہڑ بڑا کر اٹھنے کی کوشش لیکن میری زبان جنبش نہ کر سکی میں اپنی جگہ بت بن گیا وہ منڈل میں میرے قریب آکر رک گئی۔ میری آنکھیں حیرت سے پٹ پٹانے لگیں، وہ یقیناً کوئی بدروح نہیں تھی ورنہ سیتارام کے کہنے کے مطابق جل کر خاک ہو جاتی' اس نے جو کچھ کہا تھا وہ شاید ٹھیک ہی اسے تھا وہ کالی کا دوسرا روپ درگاہی رہی ہو گی، مجھے اپنی خوش نصیبی پر رشک آنے لگا میں نے کیسے اس کے سراپا کو غور سے دیکھا پھر اس کے سامنے سر جھکا دیا الفاظ خود میری زبان سے ادا ہونے لگے میں بڑی روانی سے سیتارام کی زبان بولنے لگا تیری بڑی کرپا جو تو نے اپنے سیوک کی بھگتی کو سوئیکار کر لیا ورنہ میں تیرے چرنوں کی دھول بھی نہیں۔"تمہارا من اجلا ہے رتن کمار ! تمہارے اندر کوئی کھوٹ نہیں ہے، اسی کارن میں نے درگا کا روپ دھارا ہے۔ کالی کے روپ میں تمہارے سامنے آتی تو تم چیخ مار کر ہوش و حواس کھو بیٹھتے۔"
" یہ بھی تیری کرپا ہے" میں نے عقیدت کا اظہار کیا۔درگا جانتی ہے کہ تمہارے من میں کیا ہے"
مجھے آشیرباد دے کہ میں اپنی منزل کو پا لوں۔" میں نے ہاتھ باندھ کر کہا
تو اپنی بھاوناؤں میں اوش سپھل ہو گا رتن کمار! اس نے میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر چھپکی دی۔ دھرتی کی کوئی شکتی تیرا راستہ کھوٹا نہیں کر سکتی ' پرنتو اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے تجھے وشنو کے لئے اکیس روز تک پھر آلتی پالتی مار کر بیٹھنا ہو گا لیکن اس کی خبر ہمارے سیوک اور تیرے گرو جوگی سیتا رام کو نہیں ہونی چاہئے۔" وہ من کے بھید جھانکنے کی شکتی رکھتا ہے۔" میں نے اپنا خدشہ ظاہر کیا۔ ”میں اس کی مہان شکتیوں کا توڑ نہیں کر سکتا۔" رتن کمار ! اس نے مجھے بازو تھام کر کھڑا کرتے ہوئے بڑے نرم لہجے میں مخاطب کیا۔ " تم پجاری مہاویر کو بھول رہے ہو، اس کی شکتی سیتارام سے آدھک (زیادہ) نہیں ہو ہے لیکن اس نے دم سادھنے کا گر سیکھ لیا ہے۔"
تو میرے حال پر کرپا کر دے میں تیرا احسان سارا جیون یاد رکھوں گا۔" در گانے مجھے گھور کر دیکھا، اس کے چہرے پر کئی رنگ بدلنے لگے ، وہ کسی سوچ میں تھی، میں اس پر نظریں جمائے رہا کئی ساعتیں خاموشی سے گزر گئیں ، اس کے ہیجان امیز جسم سے پھوٹنے والی خوشبو میرے دل و دماغ پر طاری ہو رہی تھی میں ایک نجیب نے کیفیت ایک عجیب سحر میں مبتلا تھا جب اس کے ہونٹ دوبارہ ہے۔
میں دیکھ رہی ہوں کہ تمہارے بھوش میں کیا لکھا ہے۔ " اس نے سپاٹ لہجے میں کہا۔ "اگر میں کالی کے روپ میں آتی تو تمہاری بنتی کو سیتارام کے مقابلے میں ٹھکرا دیتی ہیں لیکن در گا کے روپ میں میں تمہیں نراش نہیں کروں
.گئ۔" در گانے اپنی بات ختم کرنے کے بعد اپنے بالوں میں گندھا ہوا ایک پھول نکال کر مجھے کھانے کو کہا میں نے اس کے حکم کی تعمیل میں کسی ہچکچاہٹ کا مظارہ نہیں کی اب سیتارام تمہارے من کی ساری باتیں نہیں جان سکے گا۔" ساری باتوں سے تیری کیا مراد ہے؟" میں نے ڈرتے ڈرتے وضاحت چاہی۔ کیول وہ باتیں جو تو اس سے چھپانا چاہتا ہے۔ پر ایک بات کا دھیان رکھنا، کبھی اسکی طرف سے تیرے دل میں کوئی میل آیا تو پھر مجھے تیرے لئے بھی کالی کا روپ لینا پڑے گا۔ دھرم کے نام پر میں تیرے ساتھ کوئی رعایت نہیں کروں گی۔ رتن کمار کہ میں تم سے کیا کہہ رہی
میں تیری باتوں کا دھیان رکھوں گا۔ میں نے جلدی سے ہامی بھر لی۔ وشنو مہاراج کا جاپ کرنے کے بعد تو مہان شکتی پراپت کرلے گا لیکن اس شکتی کو
تو سیتارام کو نشٹ کرنے کے لئے کبھی استعمال نہیں کرے گا۔ " میں تجھے وچن دیتا ہوں کہ سیتارام کو کوئی ایسا کشت نہیں دوں گا جو تیری مرضی کے خلاف ہو۔"
پھر در گانے میرا ہاتھ تھام لیا، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے ایک لمحے کو میری آنکھ بند ہو گئی ہو، دوسرے لئے آنکھ کھلی تو میں کسی گھنے جنگل میں موجود تھا وہ جنگل بھی کسی بلند پہاڑ پر واقع تھا۔
یہ استھان وشنو مہاراج کے جاپ کے لئے ٹھیک رہے گا۔" در گانے مجھے جاپ کرنے کے لئے منتر کے بول بتائے، میں منڈل کھینچ کر بیٹھنے لگا تو اس نے کہا۔
رتن کمار! تو بڑاقسمت والا ہے جو میں سیتارام کے مقابلے میں تیرے ہاتھ مضبوط کر رہی ہوں، تجھے وشنو مہاراج کے جاپ کے بعد جو شکتی پراپت ہو گی تو نے کبھی سپنوں میں بھی اس کے بارے میں نہیں سوچا ہو گا۔“ میں محسوس کر رہا ہوں کہ اگر تو سیوک پر دیا نہ کرتی تو میں کبھی سپھل نہ ہوتا، میرے پاس وہ شبد نہیں جو تیرے ابکار (احسان) کا مول ہو سکیں۔ " میں نے کچھ سوچ کر اس کی شان میں قصیدے پڑھتے ہوئے کہا۔ " پر تو کچھ باتیں ایسی ہیں جو مجھے بیا کل کر
رہی ہیں۔"
درگا جانتی ہے کہ تیری پریشانی کا کارن کیا ہے لیکن ابھی تجھے سمے کا انتظار کرنا پڑے گا۔"
پجاری مہاویر نے متھرا میں جو بات کی تھی میں اس کے بارے میں جاننا چاہتا
ہوں؟" میں نے کھل کر اپنا مقصد بیان کیا۔نہیں رتن کمار! نہیں۔“ اس نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ ”ابھی میں زبان نہیں کھول سکتی لیکن میرا آشیر باد تیرے ساتھ ہے، مہاویر نے جو کہا تھا وہ کچھ سوچ بچار کرنے کے بعد ہی کہا تھا۔ تو وشنو مہاراج کا جاپ پورا کر لے گا تو کٹھن راستے تیرے لئے آسان ہو جائیں گے۔! میں ایک پرارتھنا اور کروں گا۔" میں نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ "اگر تیرا یہ سیوک تجھے سچے من سے یاد کرے تو کیا تو اس کی سانتا کرے گی؟" میں نے کہا نا کہ میرا آشیر باد تیرے ساتھ ہے پرنتو میں نے جو کچھ کہا ہے اس کا دھیان بھی رکھنا۔ "درگا نے معنی خیز مسکراہٹ سے جواب دیا۔ ”یہ نہ بھول جانا کہ جوگی سیتا رام ہمارا پرانا سیوک ہے۔" میں کچھ اور کہنا چاہتا تھا لیکن درگا میری نگاہوں سے اجھل ہو گئی، اس کی معنی خیز مسکراہٹ اور آخری جملہ میری سمجھ میں پوری طرح نہیں آسکا میں کچھ دیر غور کرتا رہا پھر منڈل میں بیٹھ کر وشنو مہاراج کا جاپ شروع کر دیا۔
کئی دنوں تک درگا کا تصور میرے ذہن میں جاگتا رہا پھر میں اپنے جاپ میں اتنا غرق ہو گیا کہ ہر بات سے بے نیاز ہو گیا۔ در گانے جب مجھے وشنو مہاراج کا جاپ کرنے کا مشورہ دیا تھا تو مجھے حیرت ہی ہوئی تھی، جوگی سیتارام نے بھی مجھے وشنو مہاراج کے جاپ کے بارے میں بتایا تھا کہ جو شخص اس جاپ کو مکمل کر لے اس کے بدن میں مہمان شکتیوں کا ساگر ٹھاٹھیں مارنے لگتا ہے لیکن پھر اس نے مجھے یہ بھی سمجھایا تھا کہ میں اس جاپ کرنے سے گریز کروں اس نے کہا تھا کہ بڑے بڑے پنڈت پجاری بھی اس عمل میں ناکام ہو کر دربدر ہو چکے ہیں۔ شاید اس نے وہ سب کچھ مجھے ڈرانے کو کہا تھا۔ وہ یہ کبھی نہ چاہتا ہو گا کہ میں اس سے زیادہ طاقتور بن جاؤں، شاید اسی لئے اس نے مجھے اس جاپ کے منتر کے جو بول بتائے تھے وہ بھی اس سے مختلف تھے جو در گانے یاد کرایا تھا۔ کالی کا جاپ مکمل کرنے کے بعد بھی میں نے اپنے اندر کچھ تبدیلیاں محسوس کی تھیں لیکن درگا کے آجانے کی وجہ سے میں انہیں آزما نہیں سکا تھا، سیتا رام جو باتیں کرتا تھا وہ بھی نا قابل یقین تھیں لیکن میں بذات خود اس کے پراسرار اور حیرت انگیز کارناموں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا تھا۔ ہندی مائتھالوجی (Hindi Mythology) کی عجیب و غریب کہانیاں بھی کچھ کم حیرت انگیز نہیں ہیں۔ گنیش کا وجود بھی کالی کے بدن سے اترے ہوئے میل کچیل کا مرہون منت ہے
یہ دنیا بھی ایک عجائب خانہ ہے۔ مختلف قبیلوں کے رسم و رواج بھی مختلف ہوتے ہیں لیکن میں ان پر بحث کرنے سے گریز کروں گا۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ یہ وہی بہتر جانتا ہے جس نے تخلیق کائنات کی ہے۔ میں اپنے جاپ میں مگن تھا درگا کی آمد میرے لئے نیک شگون تھا اس نے کہا تھا کہ میں خوش نصیب ہوں جو اس کے درشن کر لئے ورنہ بڑے بڑے پنڈت پجاری اس حسرت کو دل میں لئے دنیا سے کوچ کر چکے ہیں۔ اس نے بھی یہی دعویٰ کیا تھا کہ وہ میرے مستقبل کے بارے میں جانتی ہے لیکن اس موضوع پر اس نے زبان نہیں کھولی تھی۔ اس نے مہاویر کی کمی ہوئی باتوں کی وضاحت بھی نہیں کی تھی، جوگی سیتارام کے مقابلے پر اس نے مجھے وشنو مہاراج کا جاپ کرنے کا مشورہ دیا تھا، یہ بھی کہا تھا کہ اس کی خبر سیتارام کو نہ ہو۔ یہ بھی تاکید کی تھی کہ میں اپنی شکتی کو کبھی سیتارام کے خلاف اس درجہ استعمال نہ کروں کہ اس کا کریا کرم ہی ہو جائے۔ بہت سی باتیں سمجھ میں آتی تھیں، بہت سی تشریح طلب تھیں لیکن میں نے درگا کے کہنے پر وشنو مہاراج کا جاپ شروع کر دیا تھا۔
ایک بار پھر مجھے پیٹ پر پتھر باندھ کر حالات کا مقابلہ کرنا پڑ رہا تھا موسم کے تغیرات میرے لئے بے معنی ہو چکے تھے ، اندھیرے اجالوں سے مجھے کوئی سروکار نہیں تھا۔ میرے جسم پر میل کی موٹی موٹی تمہیں تم رہی تھیں، میرا لباس گلنے لگا تھا میرے جسم پر جگہ جگہ گنجان بالوں کا جنگل اگ رہا تھا، ایسے میں کوئی جنگلی جانور بھی اگر میری حالت دیکھ لیتا تو شاید وہ بھی خوفزدہ ہو کر دم دبا کر بھاگ لیتا۔ مجھے دنوں کا حساب کتاب بھی یاد نہیں رہا تھا۔ دو مہینوں تک شب و روز جاگتے رہنا بچوں کا کھیل نہیں ہے، دو روز کھانا نہ ملے تو انسان پر وحشت طاری ہونے لگتی ہے لیکن میں اپنی دھن میں مست تھا کہ مجھے کسی بات کا ہوش نہیں تھا پھر ایک دن میرے کانوں میں درگا کی مانوس آواز گونجی۔ میں نے درگا کی آواز سن کر اپنی آنکھیں کھول دیں، وہ پہلے کے مقابلے میں مجھے زیادہ حسین اور سندر نظر آرہی تھی، اس کے انگ انگ سے مستی پھوٹ رہی تھی، میری نظریں اس کے جسم کے نشیب و فراز پر پھسل رہی تھیں جب اس نے سنجیدگی سے مجھے کہا
سنبھلو رتن کمار ! تم اس سمے درگا کے درشن کر رہے ہو؟

اس کی آواز میں تنبیہہ کا پہلو نمایاں تھا، میں نے جلدی سے اپنی نگاہیں جھکا کر کہا۔ تیرے درشن کے سوا میرے من میں کچھ اور نہیں تھا ! پھر بھی اگر تیرے
سیوک سے کوئی بھول چوک ہو گئی ہو تو شما کر دیتا۔"
دیوی نے کوئی جواب نہیں دیا، اس کے بدن کی خوشبو میرے وجود میں سما رہی تھی میں اس کے جواب کا منتظر رہا، جب دیر ہو گئی تو میں نے پھر نگاہیں اٹھانے کی جسارت کی۔ درگا کی جگہ جوگی سیتارام کو دیکھ کر میں چونکا پھر میں نے قرب و جوار پر نظر ڈالی تو مجھے دوبارہ حیرت ہوئی، در گانے مجھے ہاتھ تھام کر جس پہاڑی جنگل میں چھوڑا تھا میں اس وقت وہاں نہیں تھا بلکہ ہمالیہ کی برف پوش پہاڑیوں کی اس گچھا میں موجود تھا جہاں مجھے سیتارام چھوڑ گیا تھا۔
میں سیتا رام کو دیکھتا رہا' اس کی نگاہوں میں خوشی اور حیرت کے ملے جلے تاثرات
نظر آ رہے تھے۔

جوگی - پارٹ 9

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,