جوگی (انور صدیقی) - قسط نمبر 14

Urdu Novel PDF Download

Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online

قسط وار کہانیاں
جوگی - آخری قسط 14
رائیٹر :انور صدیقی
 
رتن کمار! اس نے میری طرف گہری نظروں سے دیکھ کر کہا۔ ”تو کچھ دیر کمر سیدھی کرلے میں آسن جما کر ذرا دیکھ لوں کہ شمشان گھاٹ کے اوپر جو کالے بادل منڈلا رہے ہیں وہ کس کی چتا کی آگ سے اٹھ رہے ہیں۔ کمرے سے باہر جانے کی بھول نہ کرنا۔"
گر و آسن جمانے سے پہلے میری ایک بات بھی سن لو میں نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ ” تم پنڈت رام کشن سے کٹھی حاصل کر لو اس کے بعد میرا تمہارا نا تا ختم ہو جائے
گا۔ تم نے بھی یہی کہا تھا۔ " میں نے یہ بھی کہا تھا کہ تو کبھی من میں جوگی کو جُل دینے کا دھیان بھی نہ لانا ورنہ دھرتی پر کہیں سر چھپانے کا ٹھکانہ نہیں ملے گا۔ یاد ہے تجھے ؟" اس کے لہجے میں تمھنی گھلنے لگی، نگاہوں کے زاویے تبدیل ہونے لگے۔ ”اب تمہارا کیا فیصلہ ہے؟" میں نے محتاط انداز میں سوال کیا۔ ایک بار کنٹھی میرے ہاتھ میں آجانے دے پھر بتاؤں گا کہ کیا کرنا
نہیں۔ میں نے فیصلہ کن لہجے میں جواب دیا۔ ”اگر تم نے اپنی بات سے پھرنے کی تو میں بھی سارے وعدے توڑ دوں گا۔"
کس کی شکتی پر اچھل رہا ہے؟" اس کے غلیظ ہونٹوں پر پڑی زہریلی مسکراہٹ کھیلنے لگی۔ کون جوگی کے مقابلے میں تیری سائتا کرے گا؟ مجھے بھی اس کا شجھ نام بتا
دے۔”سوچ لو۔" میں نے آخری حربہ استعمال کیا۔ ”میں رام کشن سے تمہاری من پسند کٹھی لینے کے بعد اسے تمہیں دان کرنے سے انکار بھی کر سکتا ہوں۔" جواب میں سیتارام کی آنکھوں سے شعلے اپنے لگے۔ وہ اس طرح مجھے خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے اسے اپنے کانوں پر اعتبار نہ آ رہا ہو۔ میں اپنی جگہ قدم جمائے بیٹھا رہا، سیتارام کے تیور خطرناک ہو رہے تھے ، میں نے بھی طے کر لیا کہ اگر مرنا ہی ہے تو پھر گیدڑ کی نہیں شیر کی موت مرنا پسند کروں گا۔ بزرگ نے بھی ایک موقع پر یہی کہا تھا کہ میں نے موت سے ڈر کر زندگی بچانے کی خاطر سیتا رام سے جو سودا کیا تھا وہ ٹھیک نہیں تھا۔
سیتارام مجھے قہر آلود نظروں سے گھورتا رہا وہ رک رک کر گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہا تھا میرا خیال تھا کہ اس کا اگلا قدم بڑھا جارحانہ ہو گا لیکن اس کے اندر کا تناؤ بتدریج کم ہونے لگا کچھ دیر وہ نچلا ہونٹ دانتوں تلے بھینچتا رہا پھر اس نے اچانک آسن جما کر نگاہیں بند کر لیں، اس کے ہونٹ متحرک ہو گئے وہ کسی منتر کے جاپ میں محو ہو گیا۔ میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہونے لگیں، سیتارام کی اچانک خاموشی کسی آنے والے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی تھی، پنڈت امر ناتھ نے اس سے تنہائی میں کوئی ایسی بات ضرور کہہ دی تھی جسے سن کر وہ اس قوت کا سراغ لگانے پر بند ہو گیا تھا جس نے ہمارے درمیان پردے کی ایک دیوار کھڑی کر دی تھی، وہ درگا بھی ہو سکتی تھی، سفید ریش بزرگ کی ذات بھی ہو سکتی تھی۔ جس انداز میں وہ آسن جمائے بیٹھا تھا اس سے بھی یہی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ خود کو کسی معرکے کے لئے پوری طرح آمادہ کر رہا تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے تک سیتارام کسی منتر کے جاپ میں پوری طرح مستغرق رہا پھر اس نے آنکھیں کھول دیں، اس کے چہرے کے تاثرات کسی گہرے سمندر کی طرح ٹھہرے ہوئے نظر آ رہے تھے ، اس نے دوبارہ گھڑی پر نظر ڈالی پھر تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا۔ چل بالک؟" اس نے مجھے بڑے سلجھے ہوئے لہجے میں مخاطب کیا۔ "شمشان گھاٹ زیادہ دور نہیں ہے، ہم چار بجے تک وہاں پہنچ جائیں گے۔"
گرو! تم نے میرے بارے میں کیا فیصلہ کیا؟" میں نے اسے پھر سنجیدگی سے ٹولنے
کی کوشش کی۔ ٹھیک ہے۔" وہ کچھ توقف سے بولا۔ کنٹھی مجھے دان کرنے کے بعد تو آزاد ہو
جائے گا، پھر جو تیرا من چاہے وہی کرنا۔"
ہم نے دھرم شالہ سے نکل کر سواری پکڑی اور شمشان گھاٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔ سیتا رام نے ہر چند کہ میرا مطالبہ تسلیم کر لیا تھا لیکن اس کی خاموشی مجھے کھل رہی تھی، میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ اس نے میرے سوال کے جواب میں جو جملہ ادا کیا تھا اس میں الفاظوں کے ہیر پھیر کی گنجائش ضرور رکھی ہو گی لیکن میں نے اسے مزید کریدنا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ ہم ٹھیک چار بجے شمشان گھاٹ پہنچ گئے جہاں ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔ دریا کے کنارے ایک پرانا مندر بھی اداس کھڑا دکھائی دے رہا تھا۔ شاید چناؤں کو جلانے کے بعد وہاں مرنے والوں کی آتماؤں کی خاطر اشلوک پڑھا جاتا ہو۔ مندر کے ساتھ ہی ایک برگد کا بوڑھا درخت تھا، پنڈت رام کشن اسی درخت کے قریب کسی ستون کی طرح جما کھڑا
تھا۔ہم نے سواری کچھ دور چھوڑ دی تھی، سیتارام کی نظریں رام کشن پر جمی تھیں، جیسے جیسے درمیانی فاصلہ گھٹ رہا تھا میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ رتن کمار !" سیتارام نے مجھے مدھم آواز میں مخاطب کیا۔ اس بات کو دھیان میں رکھنا کہ تیرا نام رتن کمار ہی ہے ہمارے درمیان زیادہ بولنے کی کوشش مت کرنا میں کنٹھی ایک بار حاصل کر لوں پھر تو آزاد ہو گا۔"اپنا وچن یاد رکھنا گرو! میں نے ٹھوس لہجے میں کہا۔ رام کشن بھی ہمیں قریب آتا دیکھ کر محتاط ہو گیا تھا، وہ اسی حلئے میں تھا جس میں پہلی بار گنیش کے مندر میں نظر آیا تھا البتہ ایک سرخ رنگ کی مخملی پوٹلی کا اضافہ ضرور ہو گیا تھا جو سرخ ڈور کے ساتھ ہی اس کے گلے میں پڑی ملاؤں کے بیچ نظر آ رہی تھی۔ بوگی سیتارام دس قدم کے فاصلے پر پہنچ کر رک گیا۔ اس کی نظریں بدستور رام کشن کے چہرے پر مرکوز تھیں۔ رام کشن بھی اپنی جگہ پوری طرح محتاط دکھائی دے رہا تھا' اس نے قریب پہنچنے پر صرف ایک بار مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھا، سیتارام کو گھورنےگا
ہم اپنے وعدے کے انوسار ٹھیک چار بجے آگئے ہیں۔ " سیتا رام نے بڑے گھمبیر لہجے میں گفتگو کی ابتدا کی۔ ” مجھے وشواس ہے کہ تو بھی اپنے وچن کو پورا کرنے کے کارن
وہ کنٹھی اوش ساتھ لایا ہو گا؟" رام کشن ہمیشہ سے اپنی ذات میں کھرا رہا ہے۔" پنڈت نے سنجیدگی سے جواب دیا۔ جو کھرا ہو اس کے من میں کھوٹ نہیں ہو تاکہ " تو نے جو دوسری شرط رکھی ہے وہ بھی بتا دے کھرے کھوٹے کا فیصلہ بھی ہو جائے گا۔ سیتارام بل کھا کر بولا۔۔ کنٹھی کی بات کیول میرے اور تیرے درمیان ہوئی تھی۔" رام کشن نے کہا۔ میں اپنے ساتھ کسی سنگی ساتھی کو نہیں لایا۔ تو بھی اپنے سیوک کو واپس بھیج دے، میں اپنا وچن پورا کرنے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔ " یہی ہے تیری دوسری شرط ؟" سیتارام کے اندر تناؤ کی صورت پیدا ہونے لگی۔ ہاں۔“ رام کشن نے بڑے اعتماد سے جواب دیا۔ ”تیرے سیوک کے جاتے ہی کٹھی پوٹلی سے نکال کر تیری ہتھیلی پر دھروں گا۔“ میں
سیتارام نے اس بار کوئی جواب نہیں دیا، کینہ توز نظروں سے رام کشن کو گھورنے لگا، میں بھی کسمسانے لگا۔ مجھے یقین تھا کہ پنڈت کی دوسری شرط سیتارام کے لئے قابل قبول نہیں ہو گی۔ مہاویر نے یہی کہا تھا کہ جوگی سیتارام کو جس انمول رتن کی تلاش ہے اسے میرے سوا کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا ، خود سیتا رام نے بھی یہی کہا تھا کہ میں اس شے کو پانے کے بعد خوشی خوشی اسے دان کردوں گا۔ اب رام کشن نے مجھے درمیان سے ہٹانے کی شرط عائد کر دی تھی۔ "آخر اس کنٹھی میں ایسی کیا خاص بات تھی جو سیتارام اسے براہ راست حاصل کرنے سے کترا رہا تھا؟" میرا ذہن پھر الجھنے لگا کس وچار میں گم ہو گیا جو گی!" رام کشن نے چبتے ہوئے لہجے میں سوال کیا۔ "کون سی دیدها پیش آرہی ہے تجھے ؟ تو نے اس کنٹھی کے کارن اپنا جیون داؤ پر لگا رکھا تھا اب آخری سمے میں کیوں پچر پچر کر رہا ہے ؟تو کھرا پنڈت ہے تو پھر پنڈتوں جیسی بات بھی کر۔ سیتارام نے نچلا ہونٹ چباتے
جواب دیا۔ ”بچوں جیسی شرطیں کیوں باندھ رہا ہے؟"
کھرا پنڈت ہوں اسی کارن تو سوچ سمجھ کر بات کی ہے۔" رام کشن کا لہجہ معنی خیز ہو گیا۔ "اگر تو مجھے بالک سمجھ رہا ہے تو خود مرد بن کر میری شرط مان لے۔" کوئی اور شرط نہیں ہو سکتی؟" سیتارام نے پہلو بدل کر کمزور آواز میں کہا۔ چل تیری یہ اچھا (خواہش بھی پوری کئے دیتا ہوں، تو بھی کیا یاد رکھے گا کہ ایک پنڈت نے تیرے ساتھ یہ اپکار بھی کیا تھا۔“ رام کشن کے لہجے میں اور پختگی آ گئی۔ سیتارام کو تیز نظروں سے گھورتے ہوئے بولا۔ ”تو کالی کی سوگند اٹھا کر مجھے اپنے سیوک کا اصلی نام بتا دے میں اپنے دیئے ہوئے وچن سے منہ نہیں موڑوں گا۔" سیتارام کسی زخمی سانپ کی طرح تلملا رہا تھا، اس کی قہر آلود نظریں رام کشن کے گلے میں جھولتی سرخ پوٹلی پر جمی ہوئی تھیں۔ اب کیا مصیبپ آن پڑی تیرے اوپر جو دم سادھے کھڑا ہے؟" رام کشن کے لہجے میں بڑا گہرا طنز تھا۔
” میری بھی ایک بات کان کھول کر سن لے پنڈت!" سیتا رام نے کینچلی بدل کر سرسراتے لہجے میں کہا۔ ”میں یہاں سے خالی ہاتھ واپس جانے کے لئے نہیں آیا ہوں۔" تو بہت بھاگ دوڑ کر چکا جوگی! پرنتو تیرے ہاتھ کیا آیا؟" رام کشن کی آواز میں بادلوں کی گھن گرج شامل ہو گئی۔ "آج میری باری ہے۔ آج تو جانا بھی چاہے تو میں تجھے نہیں جانے دوں گا۔ آج اس شمشان گھاٹ سے کیول ایک ہی واپس جائے گا دوسرے کا کریا کرم یہیں پورا ہو گا۔" رام کشن کے جملے نے جیسے بارود کو چنگاری دکھا دی، سیتارام کی آنکھیں شعلہ اگلنے لگیں، میں نے موقع غنیمت جان کر دبی زبان میں کہا۔ "پنڈت کی بات مان لو کرو! میں چلا جاتا ہوں۔ تم نے جس کٹھی کے کارن اتنے باہر پہلے میں اگر وہ ہاتھ سے نکل گئی تو پھر سارا جیون ہاتھ ۔
تو اپنی زبان بند رکھ مورکھ!" سیتا رام نے مجھے غضبناک نظروں سے گھورا۔ ”اب آواز مت نکالنا، آخری فیصلہ تجھے نہیں، مجھے کرنا ہے۔" اس ابھاگی پر کیوں آنکھیں نکال رہا ہے؟" رام کشن کے اندر بھرا ہوا لاوا ابلنے لگا دیوی دیوتاؤں نے فیصلہ اسی دن کر دیا تھا جب تیری پلید شکتیاں تیرے کسی کام نہیں آی۔ یاد ہے تجھے؟ تو نے اس پوتر گنٹھی کو حاصل کرنے کے کارن اپنے جنتر
منتر کے بیروں کے زور پر چور اچکوں کو ایک پریوار کو نشٹ کرنے پر تیار کیا تھا۔ نتیجہ کیا نکلا؟ دو بے گناہ جیون سے ہاتھ دھو بیٹھے پر نتو جس بالک کے گلے میں کنٹھی پڑی تھی وہ ان لٹیروں کو بھی نظر نہیں آسکا تو بھی پتا نہیں کر سکا۔ تیرے بھاڑے کے ٹٹو بھی پرلوک سدھار گئے۔ اس سورگ باشی دھرماتما کی مہان شکتی نے سب کو اندھا کر دیا تھا۔""پنڈت!" سیتا رام حلق کے بل چیخا۔ "چپ ہو جا بہت بول چکا تو۔ اب زبان سے ایک شبد بھی نہ نکالنا ایک بات یاد رکھ، میں نے کنٹھی کو پانے کے کارن جہاں اتنے
سارے جتن کئے ہیں وہاں تجھے بھی اپنے راستے سے ہٹانے میں دیر نہیں لگاؤں گا۔" دیر تو مجھ سے ہو گئی سیتارام" رام کشن بھی آپے سے باہر ہونے لگا۔ ”جس دن تو گنیش کے مندر میں مہاراج کرم چندر کا جھوٹا سوگ منانے آیا تھا اگر میں کنٹھی نکال کر اسی دن تیرے منہ پر مار دیتا تو تیری آتما بھی تیرے شریر کے ساتھ ہی جل کر بھسم ہو جاتی کھیل ختم ہو جاتا۔ پرنتو میں نے ایسا نہیں کیا۔ میں نے آج تک اس پوتر کنٹھی کو کبھی ہاتھ نہیں لگایا جس کے اندر ہزاروں چمتکار چھپے ہیں، تو بھی جانتا ہے کہ تو نے اسے پانے کے کارن کس کا دھرم بھرشٹ کیا ہے؟ میں بھی سمجھ گیا ہوں کہ تو نے کیا ناٹک رچایا ہے؟" میرے وجود میں آندھیوں کے تیز و گرم جھکڑ چلنے لگے۔ میرے ذہن میں ایک بار پھر کرب میں ڈوبی ہوئی سچ کی آوازیں گونجنے لگیں، زندگی اور موت کے درمیان ہونے والی وہ اعصاب شکن کشمکش چنگھاڑتی ہوئی گولیوں کی ہولناک آوازیں، تڑپتے ہوئے لاشوں سے ابلنے والے خون کے فوارے ، ڈاکوؤں کے فلک شگاف قہقہے اور لوٹ مار، وہ سب کچھ میرا وہم نہیں تھا۔ میری زندگی کا وہ خوفناک المیہ تھا جس کا ایک ایک منظر میری یادداشت میں محفوظ تھا' میرے دل و دماغ پر نقش تھا۔ میں اب اتنا بچہ بھی نہیں تھا کہ پنڈت رام کشن نے کنٹھی کے بارے میں جو دلخراش کہانی سنائی تھی اسے سننے کے بعد بھی اپنے والدین کے اس گم شدہ قاتل کا چہرہ نہ شناخت کر سکتا جو اس وقت جوگی سیتارام کی شکل میں میری نظروں کے سامنے موجود تھا۔ میرے سینے میں دبی ہوئی انتقام کی چنگاریاں شعلوں کا روپ اختیار کرنے لگیں، طویل عرصے سے خاموش آتش فشاں کا لاوا پھٹ پڑنے کو جوش مارنے لگا میرے وجود میں گرم ہواؤں کے سلگتے ہوئے سنگریزے نشتربن کر جلنے لگے، میری رگوں میں دوڑ تے لہو کی گردش تیز ہو میں نے اس انمول شے کے راز کو پا لیا جس کے حصول کی خاطر سیتارام کی شیطانی

قوتوں نے مجھے آذر سے رتن کمار بنا دیا تھا صراط مستقیم سے ہٹا کر گمراہی کے ان راستوں پر قدم اٹھانے کو مجبور کر دیا تھا جو کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آئے تھے۔ میں نے کسی آدم خور کی نظروں سے سیتارام کو گھورا جو بدستور رام کشن سے مخاطب تھا۔
تو اگر میرا ناٹک سمجھ گیا ہے تو یہ بھی جان لے کہ تیرا انت تیرے سر پر منڈلا رہا ہے۔ اس نے بڑے سفاک لہجے میں کہا پھر اس کا سیدھا ہاتھ برق رفتاری سے فضا میں بلند ہوا۔ وہ فیصلہ کن لہجے میں غرایا۔ "اگر مکتی چاہتا ہے تو کٹھی گلے سے اتار کر میری طرف پھینک دے اور دم دبا کر جیون کی طرف واپس لوٹ جاور نہ ایسا سراپ دوں گا کہ نرک کی اگنی بھی تجھے سوئیکار کرنے سے منہ پھیر لے گی۔" دشت اپرادھی گھمنڈی۔ " رام کشن نے حقارت سے جواب دیا۔ ”تو جوگی ہو کر ایک پنڈت کو آنکھیں دکھا رہا ہے، موری کی اینٹ ہو کر چوہارے چڑھنے کے سپنے دیکھ رہا
سیتارام غصے میں تھر تھر کانپنے لگا اس کے ہونٹ متحرک ہو گئے وہ کسی منتر کا جاپ ا شروع کر چکا تھا جب میں نے غصے میں آکر وشنو مہاراج کا نام لے کر الٹے ہاتھ کی تیسری انگلی اٹھا دی، میں نے سیتارام کو مارنے کا قصد نہیں کیا تھا، صرف دل میں یہ سوچا تھا کہ اس کی زبان پر تالے پڑ جائیں، وہ کسی جنتر منتر کا ورد نہ کر سکے لیکن میری انگلی فضا میں اٹھی کی اٹھی رہ گئی، درگا کی سرسراتی آواز میرے کانوں میں گونجی۔
نہیں رتن کمار! اس سے وشنو مہاراج کی شکتی تمہارے کسی کام نہیں آسکے گی ہم دھرم کے معاملے میں تمہاری کوئی سائتا نہیں کر سکتے۔ " درگا! تو جانتی ہے کہ جوگی نے میرے جیون کی ساری خوشیاں چھین لی ہیں، اس نے میرے سر سے ماتا پتا کا سایہ بھی چھین لیا جبکہ میں نردوش تھا۔ اس نے میری زندگی میں زہر گھولا ہے کیا یہ انیائے نہیں ہے؟" نیائے اور انیائے کی بات مت کرو۔ " درگا کالسجہ سرد ہو گیا۔ "ہم تمہارے من میں اٹھنے والے بھونچال کو دیکھ رہے ہیں، م۔ تم وشنو مہاراج کی سمائنا چاہتے ہو تو اس سمے ہمارے دو سیوکوں کے درمیان آنے کی بھول مت کرنا۔ ہم نے کہا تھا کہ سیتارام ہمارا پرانا سیوک ہے، ہم اس کے سے خلاف تمہاری پرارتھنا سوئیکار نہیں کریں گے۔ ہاں اگر تم نے ہمارا کہا مان لیا تو ... سب جھوٹ ہے . مکر و فریب ہے۔" میں چیخ اٹھا۔ ”تو نے صرف یہ وچن لیا تھا کہ وشنو کی شکتی کو سیتارام کو مارنے کی خاطر استعمال نہیں کروں گا لیکن تو اگر من کا بھید جانتی ہے تو یہ بھی دیکھ رہی ہوگی کہ میرے اندر کیسا طوفان جوش مار رہا ہے۔" در گا نے کوئی جواب نہیں دیا البتہ سیتا رام نے میری طرف خونخوار نظروں ۔ گھورتے ہوئے بے حد غضبناک اور حقارت آمیز لہجے میں کہا۔ تو درمیان سے ہٹ جا مسلے! درگا نے مجھے سب بھید بتا دیا ہے۔ اب وہ میرے مقابلے میں تیری کوئی سائتا نہیں کرے گی۔ تیری اوقات اب میرے سامنے ایک چیونٹی سے زیادہ نہیں ہے، کالی کی شکتی نے بھی تجھ سے منہ موڑ لیا ہے، اب تیرا انت (خاتمہ) بھی تیرے سر پر منڈلا رہا ہے۔" مجھے اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہوا میں اندر ہی اندر تڑپ کر رہ گیا، میرے والدین کا قاتل، میری خوشیوں کا دشمن میری نظروں کے سامنے کھڑا مجھے للکار رہا تھا اور در گانے میری قوت چھین لی تھی۔ بالک!" پنڈت رام کشن نے د بنگ آواز میں مجھے دلاسا دیا۔ تو چنتامت کر میں ! نے تیرے سورگ باشی دادا کو وچن دیا تھا کہ اگر تیرے اوپر کوئی کٹھن گھڑی آئی تو میں تیری رکھشا کروں گا۔ میں نے اس مہا پرش سے بہت کچھ پراپت کیا تھا، ہمیشہ گرو سمان اس کی بھگتی کرتا تھا اس نے پنڈت پر جو دیا کی تھی وہ میں بھولا نہیں ہوں۔ آج میں تجھے بچانے کی خاطر اپنا جیون بھی بھینٹ کر دوں گا۔ تو ایک طرف ہو جا بالک! میں دیکھتا ہوں کہ جوگی کتنے پانی میں ہے، تو بھی اپنے من کی بھڑاس نکال لینا پر تو ابھی سمے تیرے حق میں نہیں ہے کچھ دیر اور انتظار کرلے۔"
رام کشن کی توجہ میری طرف مبذول ہوئی تو سیتارام موقع سے فائدہ اٹھا کر اپنا کام کر گیا۔ اس نے کوئی خطرناک جنتر پڑھ کر پھونکا تو بھڑکتی ہوئی آگ کے شعلوں نے رام کشن کو لپیٹ میں لے لیا۔ اس کے جسم کی رنگت سیاہ پڑ گئی، جگہ جگہ آبلے پڑ گئے۔ سیتارام نے دوسرا وار کرنے کی خاطر زمین سے مٹی اٹھا کر اس پر کوئی منتر پڑھ کر اچھالا لیکن رام کشن سنبھل چکا تھا اور کترا کر ایک طرف ہو گیا پھر وہ قدم جما کر کھڑا ہو گیا، بلند آواز میں بولا۔ چھچھورے، اب بھی سمے ہے، میرے سامنے گھٹنے ٹیک دے، پنڈت کا ہاتھ بھی اٹھ گیا تو پھر رکے گا نہیں۔"
سیتارام نے جواب میں زمین پر لوٹ لگائی اور شیش ناگ کا روپ دھار کر برق رفتاری سے رام کشن کی طرف لپکا ایک لمحے کو پنڈت کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں پھر وہ تلملا کر بولا۔
"سیتارام میں کہتا ہوں رک جا پاپی ! میں اب جان گیا ہوں کہ مہاراج کرم چندر کا اصلی قاتل کون ہے؟ تو اتنا نیچ ہو جائے گا یہ میں نے سپنوں میں بھی نہیں سوچا تھا۔ دوشی تو ہے اور سزا غریب پجاری پنا لال کو بھوگئی پڑ رہی ہے۔“
سیتارام شیش ناگ کے روپ میں لہراتا رام کشن کے قریب پہنچ گیا پھر اس نے غضبناک انداز میں پھن کاڑھ کر ڈسنے کی کوشش کی لیکن اسے کامیابی نہیں ہوئی۔ اس کا پھن کسی نادیدہ رکاوٹ سے ٹکرا کر زخمی ہو گیا۔ شاید رام کشن نے اپنے گرد کوئی ایسا منڈل کھینچ رکھا تھا جسے عبور کرنا سیتا رام کے بس کی بات نہیں تھی۔
میں اپنی جگہ کھڑا پیچ و تاب کھا رہا تھا۔ پھر شیش ناگ نے زمین پر لوٹ پوٹ کر دوبارہ سیتارام کی شکل اختیار کرلی اس بار اس نے اپنے گلے میں پڑی ہوئی ایک مالا اتار کر رام کشن کی طرف پھینکی۔ فضا میں شعلوں کا ٹکراؤ بڑا بھیانک ثابت ہوا، غالباً اس کی شیطانی قوتوں نے منڈل کا چکر توڑ دیا تھا، اسی لمحے سیاہ ذرات کی بارش شروع ہو گئی لیکن رام کشن پھرتی سے قلابازی کھا کر سیاہ ذرات سے بچ نکلا۔ اس نے پھر چیخ کر کہا۔ "سیتا رام! میں آخری بار تجھے گنیش کے نام پر ایک موقع اور دے رہا ہوں، تو نہیں جانتا کہ میں تجھے کسی کارن ڈھیل دے رہا ہوں۔ ادیتی کا جاپ کرنے کے بعد میں نے کھیل تماشے کرنے سے منہ موڑ لیا تھا پر تو مجھے مجبور کر رہا ہے۔" سیتا رام نے جواب دینے کے بجائے اگلا وار کیا۔ اس بار اس جگہ کی زمین اپنی جگہ سے پھٹ گئی جہاں پنڈت رام کشن کھڑا تھا میرا خون جوش مارنے لگا رام کشن ایک لمحے تک فضا میں معلق رہا پھر وہ اوندھا ہو کر زمین میں نمودار ہونے والے گڑھے میں گر کر نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ہو گیا ستیا ناس۔ " سیتارام خوشی سے چیخاکہ مورکھ جوگی سیتارام سے ٹکرانے کے خواب دیکھ رہا تھا۔"
سیتا رام کے جملے کا مفہوم بہت واضح تھا، رام کشن اتنی آسانی سے زمین میں زندہ دفن ہو جائے گا یہ بات میرے خواب و خیال میں بھی نہیں آسکتی تھی اور ایسی صورت میں جبکہ اس کے گلے میں دادا جان کی کراماتی تسبیح پوٹلی میں موجود تھی، میرے دل کی دھڑکنیں تیز ہو رہی تھیں۔ جب سیتا رام نے مجھے قہر آلود نظروں سے گھورا پھر انتہائی ذلت آمیز لہجے میں بولا۔ مسلے ! تو نے جوگی سیتا رام سے جان چھڑانے کی بات کی تھی یاد ہے تجھے ؟" ہاں۔" میں نے سینہ تان کر جواب دیا۔ "مجھے یاد ہے اور میں اب بھی اپنے عہد پر قائم ہوں لیکن جانے سے پہلے میں اپنے والدین کے قاتل کو زندہ نہیں چھوڑوں گا جوگی سیتارام کو مارے گا ۔ ہاہا ۔ ہاہا۔ سیتارام نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے بڑے گھمنڈ سے کہا۔ ”کیوں ہنسانے کی بات کر رہا
ہے؟"
میرے اندر کا آتش فشاں پھٹ پڑا، درگا نے کہا تھا کہ اس نے ناراض ہو کر مجھ سے وشنو اور کالی دونوں کی ساری شکتی چھین لی تھی، مجھے سیتارام کی اصلیت کا علم ہو جانے کے بعد اب ان قوتوں کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ شاید اس لئے کہ ایمان کی سب سے بڑی قوت ابھی میرے دل میں باقی تھی جو بڑی تیزی سے میرے وجود کے گھپ اندھیروں میں روشنی کی کرن بن کر پھوٹ رہی تھی، میں نے صدق دل سے خدا کا نام لے کر کہا
سیتا رام ! تم غلطی پر ہو میں تمہیں ہنسانے کی بات نہیں، یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہوں کہ تم نے جو کچھ ہویا تھا اب اسے کاٹنے کا وقت بھی آگیا ہے۔ آج دنیا کی کوئی شکتی تمہارے کام نہیں آئے گی۔" اچھا۔ اس نے میرا مذاق اڑانے کی کوشش کی۔ ”رسی جل گئی پر بل ابھی
تک باقی ہے۔"
دیل بھی چلا جائے گا لیکن اس سے پہلے میں تمہارا سارا کس بل بھی نکالنے سے دریغ نہیں کروں گا۔ " میں تیزی سے سیتارام کی سمت لپکا لیکن جواب میں سیتارام نے منتر پڑھ کر پھونک ماری تو میں اوندھے منہ زمین پر گرا پھر اس سے پیشتر کہ میں اٹھ پاتا مجھ پر کھولتے ہوئے گرم پانی کی بارش شروع ہو گئی۔ میں تکلیف کی شدت سے
بلبلانے لگا میرے جسم پر بڑے بڑے آبلے نمودار ہونے لگے، میرا دم گھٹنے لگا میں نے ہاتھ پاؤں مارنے کی کوشش کی لیکن سیتارام کی گندی شیطانی قوتوں نے مجھے پوری طرح جکڑ رکھا تھا، میں اپنی جگہ سے ایک انچ بھی جنبش نہ کر سکا میرے حلق سے نکلنے والی کربناک چیخیں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ جوگی سیتارام سے پنجہ لڑانے کے سپنے دیکھ رہا تھا پاپی . گندی نالی کے بدبودار کیڑے سیتا رام نے سرد اور سفاک آواز میں کہا۔ "وشنو مہاراج کا جاپ کرنے کے بعد میرے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے لگا تھا، میں نے کہا تھا نا بالک کہ جوگی کا حساب کتاب کبھی غلط نہیں ہوتا۔ آج تیری ساری ہیکڑی نکل گئی۔ وہ بھی دھرتی میں دفن ہو گیا جو تیری رکھشا کا و چن نبہانے کی بات کر رہا تھا۔ کنٹھی بھی اس پاپی کے ساتھ گئی تو اب تو دھرتی پر رہ کر کیا کرے گا؟ تو بھی نرک میں چلا جا حرام کے بیج۔" سیتا رام نے مجھے بڑی گندگی گالی دی تھی لیکن میں جواب میں بلبلا کر رہ گیا میرا سارا وجود کھولتے ہوئے پانی کی بارش میں جھلس رہا تھا جب سیتارام کا ہاتھ فضا میں بلند ہوا اس کی آنکھوں میں شعلوں کا رقص جاری ہو گیا۔ مسلے کوئی آخری اچھا (خواہش) ہو تو وہ بھی بتا دے۔“ سیتارام گرج کر بولا۔ جیون کی بھکشامت مانگنا میں تجھے جیون دان نہیں کروں گا۔ ہاں اگر تو رتن کمار بن کر مرنا پسند کرے تو میں گرو ہونے کے ناتے تیری چتا کو آگ ضرور دکھا سکتا ہوں۔ جلدی سوچ بچار کرلے، یہ سمے بھی بیت گیا تو پھر تیری وہی مثال ہو گی کہ دھوبی کا کتا نہ گھر
کا نہ گھاٹ کا۔" میں لعنت بھیجتا ہوں تیرے رتن کمار پر۔" میں نے بمشکل چیخ کر جواب دیا۔ حرامزادے! یہ بھی کان کھول کر سن لے کہ میں نے آذر کو بھی دفن کر دیا، اب تیرے سامنے برکت علی زندہ ہے۔ دھرم شالہ میں بکروں کی قربانی میں نے کسی کالی پہلی کے نام پر نہیں، خدا کے حضور پیش کی تھی۔" سیتا رام نے میرا جواب سن کر نفرت سے ققہہ بلند کیا پھر اس نے دوسرا جنتر پڑھ کر پوہنکا کھولتے ہوئے پانی کی بارش رک گئی، میرے چاروں طرف زمین سے بچھو نکل نکل کر میرے جسم سے لیٹ گئے ، میرے جوڑ جوڑ میں نشتر پیھلنے لگے وہ بڑی تیزی سے کھا رہے تھے، میرے وجود کا سورج غروب ہونے کا وقت قریب آ رہا تھا میں نے ہونٹ سختی سے بھینچ لئے سچے دل سے خدا کو یاد کر کے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے لگا سیتا رام میرے سامنے سینہ تانے کھڑا قہقہے لگا رہا تھا جب ایک آواز میرے کانوں میں گونجی۔ برکت علی! تو نے اس قادر مطلق کو آواز دی جو اپنے کسی نیک بندے کو مایوس نہیں کرنا اس کا نام لے کر اپنے جسم پر ہاتھ پھیر لے تیری ساری اذیتیں دور ہو جائیں گی۔ صرف اس کی قوت لازوال ہے، باقی سب غریب ہے۔ وہی غیب سے تیری مدد کرے گا میں نے سچے دل سے خدا کا نام لے کر اپنے جسم پر ہاتھ پیرا تو سیتارام کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ خود مجھے بھی ایسا محسوس ہوا جیسے میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں، میرے جسم کی رنگت بحال ہو چکی تھی، آبلوں کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہ گیا میری رگوں میں خون کی گردش پھر بحال ہو گئی، میں تیزی سے اٹھ کھڑا ہوا آدم خور چیونٹے اور بچھو جل کر راکھ ہو چکے تھے۔ کیوں سیتارام! اب کیا خیال ہے تمہارا؟" میں نے جوگی کو نفرت سے گھورتے ہوئے کہا۔ ”کیا اب بھی تم ایک مسلمان کی برتری کو تسلیم نہیں کرو گے؟" یہ تو نہیں بول رہا ہے۔" اس نے بل کھا کر جواب دیا۔ ”وہ شکتی بول رہی ہے جس نے میرے تیرے درمیان اندھیرے کی دیوار کھڑی کر دی تھی پرنتو آج میں اس کو بھی کھوج لوں گا۔" تم دس جنم اور لے لو تب بھی اس پاک ذات کی قوتوں کا بھید نہیں پا سکو گے اس
لئے کہ تم سر تا پا گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہو۔" گرو کو بھاشن دے رہا ہے مسلے!" سیتارام نے حقارت سے کہا پھر اس کے ہونٹ دوبارہ کسی منتر کا جاپ کرنے لگے لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ نا قابل یقین تھا۔ سیتارام مجھے صفحہ ہستی سے مٹانے کی خاطر کسی خطرناک جنتر منتر میں مصروف تھا جب میں نے اس کی پشت پر اچانک پنڈت رام کشن کو کھڑا دیکھا، وہ زمین میں دفن نہیں ہوا تھا، شاید وقتی طور پر نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔ ممکن ہے ادیتی نے اسے جوگی کی نظروں سے غائب کر دیا ہو۔ بہرحال اب وہ سیتا رام کی پشت پر کھڑا اسے قہر آلود نظروں سے گھور رہا تھا۔ سیتا رام نے ایک بار پھر کچھ پڑھ کر میری طرف پھونکا میرے چاروں
طرف ناگ زمین سے اگنے لگے لیکن قبل اس کے وہ میرے قریب آتے، مجھے کوئی گزند پہنچاتے ، رام کشن نے الٹا پاؤں اٹھا کر زمین پر مارا ناگ تڑپ تڑپ کر مرنے لگے پھر جل کر راکھ ہو گئے۔ سیتارام اپنے بیروں کا انجام دیکھ کر چونکا پھر اس نے تیزی سے پلٹ کر پشت کی جانب نظر ڈالی تو ایک لمحہ کو اس کو بھی شدید حیرت سے دوچار
ہونا پڑا۔ تو نے بہت اچھل کود کر لی مورکھ ! اب پنڈت کی باری ہے۔" رام کشن کا لہجہ بڑا سرد اور سفاک تھا۔ اس نے اپنا جملہ ختم ہوتے ہی ہاتھوں کو فضا میں بلند کر کے اس طرح گھمانا شروع کیا جیسے کسی چیز کو الٹ پلٹ رہا ہو۔ میری نظریں جوگی سیتا رام پر ہم کر رہ گئیں جو زمین پر قلابازیاں کھا رہا تھا، اس کے حلق سے کربناک چیخوں کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں، وہ شدید اذیتوں سے دوچار تھا۔ رام کشن خاصی دیر تک ہاتھ کے اشاروں سے سیتارام کو پٹخنیاں دیتا رہا پھر اس نے ہاتھوں کی حرکت بند کی تو سیتارام مجھے زمین پر چاروں خانے چت پڑا نظر آیا اس کا چہرہ اور جسم بری طرح لہولہان ہو رہا تھا۔ میں نے تیزی سے آگے بڑھنا چاہا کہ اپنے دشمن کو اپنے ہاتھوں سے کیفر کردار تک پہنچا سکوں لیکن مجھے میرے ارادوں میں کامیابی نہیں ہوئی۔ کسی غیر مرئی قوت نے جیسے میرے قدم جکڑ رکھے تھے۔ میں اپنی کیفیت پر غور کر رہا تھا کہ پنڈت رام کشن کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ نہیں بالک! نہیں تو اس دشت اور پانی کے گندے شریر کو ہاتھ لگائے یہ تجھے شوبھا نہیں دیتا، اس پاپی کے لئے تو اس مہان پیش کی کنٹھی ہی بہت ہے جس کو پانے کے کارن یہ پاگل ہو رہا تھا۔" پنڈت رام کشن نے سرخ پوٹلی گلے سے اتار کر میری طرف اچھال دی، جوگی سیتارام زمین پر پچھاڑیں کھا رہا تھا، پنڈت کا ایک ہی عمل اس کے لئے بہت کافی ثابت ہوا۔ میں نے پوٹلی کھول کر دیکھی تو آبدیدہ ہو گیا۔ میں نے اس متبرک تسبیح کو پہچان لیا جس میں گہرے عنابی رنگ کے تین امام نظر آ رہے تھے، اسی تسبیح کی کرامت نے اللہ کے حکم سے ان لٹیروں کو بھی اندھا کر دیا تھا جنہوں نے میرے والدین کا خون کیا تھا۔ رام کشن کی آواز دوبارہ میرے کانوں میں گونجی۔ بالک! آج پنڈت نے اپنا وچن پورا کر دیا۔ تو اس کنٹھی کا چمتکار دیکھنا چاہے تو اسے جوگی کے پلید شریر پر ڈال دے تیرے من کی آشا بھی پوری ہو جائے گی۔" میں نے رام کشن کا کہا ماننے سے انکار نہیں کیا، خدا کا نام لیا اور تسبیح کو عقیدت سے بوسہ دے کر سیتارام کی طرف اچھال دیا، اس کے بعد میری نگاہوں نے جو منظر دیکھا اسے میں معجزہ ہی کہوں گا۔ تسبیح جوگی کے جسم سے ٹکرائی تو اس کے جسم سے شعلے بلند ہونے لگے اس کا پورا جسم اس طرح شدید جھٹکے کھانے لگا جیسے اسے بجلی کے نگے تاروں میں باندھ کر کرنٹ چھوڑ دیا گیا ہو پھر اس کا وجود جل کر کوئلہ ہو گیا۔ میں نے اطمینان کا سانس لیا۔ مجھے گمراہ کرنے والا دنیا سے بڑے عبرتناک انداز میں ہمیشہ کے لئے منہ موڑ چکا تھا۔ پنڈت رام کشن نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگالیا۔ اس کی آنکھوں میں عقیدت کے آنسو تھر تھرا رہے تھے۔ میں نے بھی اس قادر مطلق کے سامنے سر جھکا لیا جس نے ایک کافر کے ہاتھوں سے میری گلو خلاصی کی تھی۔
(ختم شد) 

جوگی - تمام اقساط کے لیے یہاں کلک کریں

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for kids, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories, urdu font stories,new stories in urdu, hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, ,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں