Urdu Novels PDF - Urdu Novels Online
| قسط وار کہانیاں |
میرے آنکھیں چاروں طرف دیکھنے کی شکتی رکھتی ہیں، اگر میری زبان عدالت میں کھل گئی ، موہنی کا نام درمیان میں آگیا تو ایک نیا تماشہ اٹھ کھڑا ہو گا۔"
موہنی کا نام سیتارام کی زبان سے سن کر کیلاش ناتھ سمندر کی جھاگ کی طرح بیٹھنے لگا اس نے انسپکٹر اور چاروں سنتریوں کو باہر جانے کا اشارہ کیا پھر جب کمرے میں ہم تینوں رہ گئے تو کیلاش ناتھ نے اپنا سروس ریوالور نکال کر تیزی سے اٹھتے ہوئے بڑے سفاک لہجے میں سیتارام کو مخاطب کیا۔ تم کس موہنی کی بات کر رہے ہو ؟“
اسی سندر نار ی جس کا تیرے ساتھ ناجائز سمبندھ تھا۔" سیتا رام نے معنی خیز انداز میں کہا۔ تو اس کے کومل شریر کو کھلونا سمجھ کر کھیلتا رہا اپنا من بھاتا رہا لیکن جب اس کے پیٹ میں تیرا حرام کا بچہ پلانے لگا تو تجھے اپنی اس لکشمی کا دھیان آگیا جس کے ساتھ تُو نے پوتر اگنی کے پھیرے کاٹے تھے ، تو اسے نہیں چھوڑ سکتا تھا اس لئے تُو نے موہنی کو مجبور کیا کہ وہ بچہ گردا دے، اس نے تیری بات نہیں مانی تو تو نے اسے اپنے آدمیوں سے ختم کرا دیا .. اور بھی کچھ سنے گا؟"
تم کیا کرتے ہو۔ " کیلاش ہاتھ حلق کے بل چلایا۔ ”میں کسی موہنی کو نہیں جانتا، تم کچھ ثابت نہیں کر سکو گے، عدالت ثبوت کے بغیر تمہاری کسی بات پر دھیان
نہیں دے گی۔" ”جب بات نکلے گی تو پھر بہت سارے ثبوت بھی سامنے آجائیں گے۔“ سیتارام نے اسے تیز نظروں سے گھورتے ہوئے جواب دیا۔ ”تجھے یاد ہو گا کہ تو نے بات پھیلنے کے ڈر سے اس ابھاگن کی چتا کو آگ بھی نہیں لگنے دی، خاموشی سے دھرتی میں دبا دیا اس کی لاش برآمد ہو گئی تو تیرے سارے کس بل نکل جائیں گے۔ جس وردی پر اکڑر رہا ہے، یہ بھی اتر جائے گی۔" سیتا رام نے بڑی حقارت سے کہا۔ ” تم لوگوں نے جوگی سیتارام کو چھیڑ کر اچھا نہیں کیا۔ " کیلاش ہاتھ نے فوراً ہی کوئی جواب نہ دیا، موہنی کے بارے میں تفصیل جاننے کے بعد اس کے چہرے کا سارا کلف اتر گیا تھا کچھ دیر تک وہ خاموش کھڑا سیتارام کو گھورتا رہا پھر کمزور آواز میں بولا۔
پجاری پنا لال میرے کسی حکم سے انکار نہیں کر سکتا، میں اسے بیان بدلنے پر بھی مجبور کر سکتا ہوں لیکن
ویکن نہیں، تیرے ساتھ کوئی سودے بازی نہیں ہو گی۔" سیتا رام ہاتھ اٹھا کر بولا۔ ” رہا پنالال تو میں اس کی چال بھی سمجھ رہا ہوں، وہ ایک تیر سے دو نشانے لگانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس نے کسی اور سے انتقام لینے کے کارن مجھ پر جھوٹا الزام لگایا ہے، قانون کی نظروں میں دھول جھونک کر وہ کوئی اور ہی کھیل کھیلنے کے سپنے دیکھ رہا ہے۔ اگر تجھے میرا بیان لکھنا ہے تو کیوں اتنا ہی لکھ لے تاکہ تیرے پاس بھی ایک ثبوت رہے اور سمے آنے
پر تیرے کام آوے۔" میں سمجھا نہیں تمہاری بات؟" کیلاش ناتھ نے پلکیں جھپکاتے ہوئے پوچھا۔ "کیا
تم نے اس کے چہرے پر مکتی چاہتا ہے تو آنکھ بند کر کے وہی کر جو جوگی سیتارام کی زبان بول رہی ہے ، کل کیا ہونے والا ہے اس کی کھوج ابھی سے مت کر، میری آگیا کا پالن کر ایک طرف خاموشی سے بیٹھ کر تماشا دیکھتا رہے۔ جب میری بات سمجھ آئے تو پھر درمیان میں کود پڑنا تیری ترقی بھی ہو جائے گی۔" سیتارام نے ڈی ایس پی کیلاش ناتھ کی نجی زندگی کا ایک کمزور پہلو تلاش کر لیا تھا یہ میرے لئے کوئی تعجب خیز بات نہیں تھی۔ میں جانتا تھا کہ وہ دلوں میں جھانک کر اندر کی باتیں کھنگالنے کی طاقت رکھتا تھا لیکن جو کچھ وہ پجاری پنا لال کے بارے میں کہہ رہا تھا وہ بات میری سمجھ میں نہیں آسکی۔ شاید اس لئے کہ میں نے اپنی نظروں سے سیتارام کو ایک شیش ناگ کا سر چباتے اور پنا لال کے منہ پر تھوکتے دیکھا تھا۔ کیلاش ہاتھ کی گوٹ پھنس چکی تھی، وہ ایک گھاگ پولیس آفیسر تھا اس نے گہرائی کا اندازہ بھی لگایا تھا اس لئے وہی بیان لکھا جو سیتا رام لکھواتا رہا پھر سیتارام کے انگوٹھے کا نشان حاصل کر کے خاموشی سے واپس چلا گیا ہمیں دوبارہ حوالات میں پہنچا دیا گیا۔
گرو" میں نے تنہائی ملنے کے بعد دبی زبان میں پوچھا۔ " تم نے جو بیان ڈی ایس پی کو لکھوایا ہے وہ میری سمجھ میں بھی نہیں آیا۔ پجاری پنا لال ایک تیر سے دو شکار کر رہا ہے، تم نے اس بات پر زور کیوں دیا؟“ بالک! دھیرج۔" وہ معنی خیز انداز میں مسکرانے لگا۔ ایک بار سچے من سے
جوگی کا ہاتھ تھام کر دیکھے، دھرتی کے نیچے اور آکاش کے اوپر کیا ہے، سب کچھ تجھے بھی نظر آنے لگے گا۔"
میں ہونٹ چبا کر رہ گیا سیتارام بھی پاؤں پسار کر اطمینان سے لیٹ گیا۔ دوپہر کو ہمیں کھانا دیا گیا لیکن سیتا رام نے کھانے سے انکار کر دیا۔ رات کے کھانے کو بھی اس نے ٹھوکر مار کر الٹ دیا، مجھے بھی بھوکا رہنا پڑا۔ اس کی باتیں میری سمجھ میں نہیں آ رہی تھیں۔ سیتارام کسی گہری سوچ میں غرق تھا اس لئے میں نے اسے کریدنا مناسب نہیں سمجھا البتہ میرا ذہن بار بار مجھے یقین دلانے کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ کوئی خطرناک جال بننے میں مصروف ہے۔ رات بھیگنے لگی تو سیتارام کے خراٹوں کی آواز حوالات میں گونجنے لگئی، وہ کمبل تانے بڑے سکون سے سو رہا تھا، میں نے بھی سونے کے ارادے سے ا اپنی جگہ بنائی پہرے پر موجود پولیس والے بھی اونگھنے لگے تھے، بھوک کی شدت مجھے نڈھال کر رہی تھی لیکن دانشوروں کا یہ قول غلط نہیں ہے کہ تھکے ماندے انسان کو پھانسی کے پھندے پر بھی نیند آجاتی ہے، میں بھی کچھ دیر کروٹیں بدلنے کے بعد نیند کی وادیوں میں گم ہو گیا۔" میں کتنی دیر بے خبر رہا مجھے یاد نہیں لیکن اس وقت میرا ذہن دوبارہ بیدار ہو گیا
جب سفید ریش بزرگ کی مانوس آواز میرے کانوں میں گونجی۔ "برکت علی! تمہاری آزمائش کا وقت قریب آ رہا ہے، آنکھیں کھلی رکھنا، غافل ہو گئے تو پھر نجات کا کوئی راستہ باقی نہیں رہے گا۔" میں سمجھا نہیں میرے عزیز! میں نے عاجزی سے درخواست کی۔ میں نے پہلے بھی گڑ گڑا کر یہی کہا تھا کہ آپ ہاتھ تھام کر سیدھے راستے پر لگا دیجئے۔"” میرے پاس وقت کم ہے۔"
آپ نے نظریں پھیر لیں تو میں اندھیروں میں بھٹکتا رہوں گا۔"اب بھی تم اندھیروں میں ہی بھٹک رہے ہو۔" بزرگ نے کہا۔ ”ایک بار صراط مستقیم سے انسان کے قدم ہٹ جائیں تو پھر سنبھلنا مشکل ہوتا ہے لیکن تمہارے پاس ایک آخری موقع ہے ، اگر تم نے دور اندیشی سے کام نہ لیا' اسے بھی گنوا دیا تو پھر تاریکی ہی تمہارا مقدر بن جائے گی۔"
میں اب بھی نہیں سمجھ سکا۔" میں نے انکساری سے کام لیا۔ ”آپ خدا کے برگزیدہ بندے ہیں، میں آپ سے رہنمائی کی التجا کرتا ہوں۔"”مولوی فراست علی اور ان کی نوازشوں کو یاد رکھنا۔ بزرگ نے میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے کہا۔ ”میں فی الحال اس کے سوا اور کچھ نہیں کہہ سکتا۔" "میرے محترم! میں نے تیزی سے کہا۔ ”مجھے یاد ہے، ایک بار کسی دیوانے ملنگ نے بھی اشاروں کنایوں میں یہ بات کہی تھی کہ دادا جان میری مدد کو ضرور آئیں گے لیکن وہ اپنے آنے پائی اور تولہ ماشہ رتی کے حساب میں الجھ گئے ہیں۔" وہ بھی خدا کا ایک محبوب بندہ تھا، اس نے غلط نہیں کہا تھا۔" بزرگ نے تسبیح کے دانوں پر انگلیاں پھیرتے ہوئے سنجیدگی سے جواب دیا۔ کبھی کبھی بزرگوں کے قدم بھی لڑکھڑا جاتے ہیں، ایک رتی برابر بھول بھی انسان کے نامہ اعمال میں لکھ دی جائے تو اس کا بھی حساب کتاب ہوتا ہے۔ مولوی فراست کی روح تمہاری مدد کو نہیں آسکی تو اس کی بھی یہی وجہ ہے۔ میں ان ہی کی ایما پر تمہیں ثابت قدم رہنے کی تلقین کر رہا ہوں لیکن مجھے کھل کر کچھ کہنے کی اجازت نہیں ہے۔"
اور آپ کے اشارے میری سمجھ میں نہیں آرہے۔ " میں الجھنے لگا۔ . میری بات پر غور کرنا آگے جو اس کی مرضی۔“ بزرگ نے آسمان کی سمت دیکھ کر کہا پھر بولے۔ وہ کسی بھی وقت آجائے گا اس کی موجودگی میں مجھے کراہت کا احساس ہوتا ہے۔"
.." آپ ۔ آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟ میں نے تیزی سے پوچھا۔ بزرگ نے جواب میں کچھ کہنا چاہا لیکن پھر اچانک نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں کر جاگ اٹھل۔ بزرگ کا ایک ایک جملہ میرے ذہن پر گونج رہا تھا۔ انہوں نے خاص دادا جان کی نوازشوں کو یاد رکھنے کا حوالہ دیا تھا۔ میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اپنے ماضی کو کرید نے لگا لیکن کوئی نتیجہ اخذ نہ کر سکا۔ پہرے پر موجود صرف ایک سپاہی دیوار سے ٹیک لگائے لمبی لمبی جماہیاں لے کر خود کو بیدار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا، باقی ادھر اُدھر پڑے خراٹے لے رہے تھے میرا ذہن الجھنے لگ حالات نے مجھے غلط راستوں پر ڈال دیا تھا۔ میں نے سیتارام اور درگا کے اکسانے پر کالی اور وشنو مہاراج کے جاپ بھی کئے تھے ، مہمان شکتی بھی حاصل کر لی تھی، آذر سے گیا تھا لیکن میری روح پوری طرح آلودہ نہیں ہوئی تھی، آلودہ ہو گئی ہوتی تو
میں رتن کمار سے دوبارہ برکت علی کبھی نہ بنتا۔
طاقت کا نشہ دنیا کے ہر نشے ۔ سے زیادہ تیز ہوتا ہے، میں پوری طرح بھٹک گیا ہو تا تو سفید ریش بزرگ نے بھی میری رہنمائی کی کوشش نہ کی ہوتی۔ جن کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جن پر توبہ کے دروازے بند ہو جاتے ہیں وہ گمراہی کے دلدل سے نکلنے کے بارے میں غور بھی نہیں کرتے، خدا کے وجود سے بھی منکر ہو جاتے ہیں لیکن میرے سیہ خانہ دل میں نور کی ایک شمع کہیں ضرور ٹمٹما رہی تھی جو بزرگ کی آمد سے بھڑکنا شروع کر دیتی تھی۔ میری سرگزشت پڑھنے والے گواہ ہیں کہ میں نے جوگی سیتارام کو دل سے گرو نہیں مانا تھا ایک دو موقعوں پر اس کو مار کر چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش بھی کی تھی درگا درمیان میں نہ آگئی ہوتی تو شاید میں غلاظتوں کے دلدل سے باہر نکل چکا ہوتا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعد میں طاقت کا نشہ مجھے اور گمراہ کر دیتا۔ کیا ہوتا، کیا نہ ہوتا؟ یہ حالات اور میری قسمت پر منحصر تھا لیکن اس وقت میرا ذہن بزرگ کے اشاروں کو حل کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھا۔
اچانک میرے ذہن میں بزرگ کے کے ہوئے آخری جملے گونجے میں کچھ سوچ کر آگے بڑھا میں نے جوگی سیتارام کے کمبل کو اٹھا کر دیکھا، وہاں کوئی بھی نہیں تھا میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے حوالات کے ایک ایک چپے پر نظر دوڑائی لیکن سیتارام کا کوئی سراغ نہ ملا۔ میں نے پلٹ کر حوالات کے دروازے کی سمت دیکھا جہاں ایک کے بجائے دو دو قفل بند نظر آ رہے تھے۔ میرا دل شدت سے دھڑکنے لگا میں نے خود کو سیتارام کی گمشدگی کا یقین دلانے کی خاطر کمبل جھاڑ کر بھی دیکھ لیا' میرے دماغ میں کئی سوالات گونجنے لگے کیا ڈی ایس پی کیلاش ناتھ میرے سونے کے بعد دوبارہ آیا اور خاموشی سے سیتا رام کو نکال لے گیا، مگر کیوں ؟ کیا وہ سیتارام کو مار کر اپنا راستہ صاف کرنا چاہتا تھا؟ وہ حوالات میں آیا ہو گا، سیتارام کو نکال کر لے گیا ہو گا تو کسی نہ کسی نے تو اسے ضرور دیکھا ہو گا؟ سیتارام مجھے چھوڑ کر کس طرح جا سکتا تھا؟ اس نے خود بھی تسلیم کیا تھا کہ وہ جس شے کی تلاش میں تھا اسے میرے سوا کوئی اور حاصل نہیں کر سکتا تھا؟ کیا اس نے کوئی متبادل راستہ تلاش کر لیا تھا؟
.
میرے ذہن میں مختلف سوالات گڈیڈ ہو رہے تھے۔ بزرگ کا خواب میں آنا اور ستارام کا غائب ہو جانا کیا معنی رکھتا تھا؟ بزرگ نے کہا تھا کہ وہ کسی بھی وقت آ سکتا ہے'
اس کی موجودگی میں مجھے کراہت کا احساس ہوتا ہے۔ وہ جملہ کس لئے کہا گیا تھا؟ کیا بزرگ کا اشارہ جوگی سیتارام کی طرف تھا جو جیل کی بند سلاخوں سے پہرے پر موجود سنتریوں کو جبل دے کر چھو منتر ہو گیا تھا؟
میں ان ہی خیالات سے الجھ رہا تھا جب میں نے اپنے دائیں جانب کوئی بجھی سی شے سرسراتے دیکھی، میں تیزی سے پلٹا' میری آنکھوں کی پتلیاں ساکت ہو گئیں ، دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہونے لگیں۔ وہی سیاہ ناگ جسے میں نے سیتارام کے ہاتھوں لقمہ اجل ہوتے دیکھا تھا، بڑی تیزی سے بل کھاتا ہوا کمبل کے اندر جا رہا تھا، پھر جب وہ پوری طرح کمبل میں داخل ہو گیا تو میں نے کمبل کو پھولتے دیکھا، میں ابھی حالات کے اسرار کو سمجھنے کی تگ و دو کر رہا تھا جب کمبل سے سیتا رام نے سر باہر نکال کر مجھے تیز نظروں سے گھورا اس کی آنکھوں میں چنگاریاں چیخ رہی تھیں۔تو کب سے جاگ رہا ہے؟" اس نے سرسراتے لیجے میں دریافت کیا شاید اس وقت اسے میرا جاگنا اچھا نہیں لگا تھا۔ مچھر پریشان کر رہے تھے گروا اس لئے آنکھ کھل گئی۔" میں نے دروغ گوئی سےکام لیا۔
سو چالیٹ کر۔ سیتا رام نے جماہی لیتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا۔ ”خود بھی جاگ رہا ہے اور میری نیند بھی خراب کر رہا ہے، مچھر کاٹ رہے ہیں تو کمیل میں منہ ڈھانپ کر دبک جا۔"
سیتارام کے لہجے میں ایسی کاٹ تھی کہ مجھے دوسری کوئی بات کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ میں نے لیٹ کر کمبل چہرے تک تان لیا لیکن میرا ذہن جاگتا رہا۔ میں سیتارام کے میں سوچتا رہا جو شیطانی قوتوں کا مالک تھا، وہ کسی وقت کچھ بھی کر سکتا تھا، اس نے کیلاش ناتھ کو بھی اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ڈی ایس پی کا خیال ذہن میں ابھرا تو مجھے سیتا رام کا وہ بیان بھی یاد آگیا جو اس نے اپنی مرضی سے لکھوایا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ پجاری پنا لال ایک تیر سے دو نشانے لگانے کے چکر میں ہے۔ اس نے کیلاش ناتھ کو اس کی ترقی کا بھی یقین دلایا تھا۔ ان سب باتوں کے پیچھے جوگی کی کوئی خطرناک سازش ضرور جنم لے رہی ہو گی۔ وہ سازش کیا تھی؟ وہ رات کے پچھلے پر سانپ کا روپ اختیار کر ک کہاں گیا تھا؟ کس کو اپنے راستے سے ہٹا کر خاموشی سے لوٹ آیا تھا ؟ کیا پنا لال کی باری آگئی تھی یا رام کشن کو ڈس کر اس نے اپنا راستہ صاف کر لیا تھا؟ کیا جوگی نے وہ شے میری مدد کے بغیر حاصل کرلی تھی جس کی خاطر اس نے سارا بکھیڑا پھیلایا تھا؟ میں کمبل میں دبکا اپنے خیالوں میں گم تھا، سیتارام لمبے لمبے خراٹے لے کر حوالات کے عملے کو حوالات میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ پھر ذہنی قلابازیاں کھاتے کھاتے کب میری آنکھ لگی مجھے کچھ یاد نہیں۔ دوسری صبح میری آنکھ دیر سے کھلی، میں نے کمبل سے سر نکال کر دیکھا تو سیتارام حوالات کی دیوار سے ٹیک لگائے بڑے پرسکون انداز میں بیٹھا تھا میں بھی دو چار انگڑائیاں لے کر اٹھ گیا۔ سیتارام کچھ دیر تک میرے چہرے پر نظر جمائے رہا پھر بڑے پیار سے بولا۔ رتن کمار! تجھے بھی میرے کارن کشٹ بھوگنا پڑ رہا ہے، پرنتو چنتا مت کر میرا من
کہتا ہے کہ اب بادل چھٹنے میں دیر نہیں لگے گی۔" " چنتا کس بات کی گرو! میں نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ "تم ساتھ ہو تو پھر غم کس
بات کا؟ سچ کہہ رہا ہے یا دل کے پھپھولے پھوڑ رہا ہے؟" اس نے مسکرا کر سوال کیا۔ جواب میں میں بھی مسکرا دیا، سیتار ام اس بات کا اندازہ لگانے کی فکر میں تھا کہ میں رات حوالات سے اس کے جانے اور پھر واپس آنے کے کے راز سے کس حد تک واقف ہوں۔ میں نے طے کر لیا تھا کہ جب تک اس کے راز کو نہ پالوں گا زبان نہیں کھولوں
گا۔"میں دیکھ رہا ہوں بالک کہ اب تو سدرھتا جا رہا ہے۔" وہ میرا ہاتھ تھام کر بڑے جوشیلے انداز میں بولا۔ اگر اسی طرح گرد کی سیوا کرتا رہا اس کے اشاروں پر چلتا رہا تو ایک دن تو بھی ضرور نام پیدا کرے گا۔ چندہ کی مانند دھرتی پر چاروں اور تیرے نام کا اجالا کیے
پھیلا ہو گا۔"اب شاید تم میرا مذاق اڑانے کی کوشش کر رہے ہو؟“ میں نے اسے چھیڑنے کی کوشش کی۔
ایسا مت بول مورکھ!" وہ یکلخت سنجیدہ ہو گیا۔ گرو جو بات کرتا ہے اس میں وزن بھی ہوتا ہے کچھ سمے اور بیت جانے دے پھر تجھے بھی وشواس آ جائے گا۔" میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
" ابھی تجھے گرو کی باتیں کڑوی لگتی ہوں گی لیکن جب تو بلوان ہو گا تو تجھے مانا پڑے گا کہ سیتارام جو بولتا تھا سچ بولتا تھا۔" "تم نے رام کشن کے بارے میں کیا سوچا ہے؟" میں نے موضوع بدل کر اس کو ٹولنے کی کوشش کی۔ کب تک اسے ڈھیل دیتے رہو گے ؟"
تو اتنا کیوں بیا کل ہو رہا ہے، رام کشن کے بارے میں۔" اس نے مجھے تیز نظروں سے گھورا پھر معنی خیز انداز میں بولا۔ "میں ٹھنڈا کر کے کھانے کا عادی ہوں ، گرم گرم کھانے سے منہ بھی جلتا ہے اور کھانے کا سواد بھی نہیں آتا۔"
تمہاری باتیں بڑی گہری ہوتی ہیں، آسانی سے سمجھ میں نہیں آتیں۔" ”ابھی میرے تیرے بیچ فاصلہ بھی تو دھرتی اور آکاش جتنا ہے۔" وہ زیر لب مسکرایا۔ ”تیرے پنکھ بھی پوری طرح نہیں نکلے، جب نکل آئیں گے تو تو بھی اونچے آکاش پر لمبی اڑان لگانا سیکھ جائے گا۔ جوگی سیتا رام بننے کے لئے ابھی تجھے بڑے پاپڑ بیلنے پڑیں گے۔ دیو تاؤں کے من میں جگہ بنانے کے کارن اپنے آپ کو مارنا پڑتا ۔ ہے، دھرتی سے ناتا توڑ کر کیول دیوی دیوتاؤں کے لئے جیون تیا گنا پڑتا ہے۔ برسوں ویرانوں میں بھوکا پیاسا رہ کر بیٹھکیں لگانی پڑتی ہیں، جاپ کرنے ہوتے ہیں تب کہیں جا کر کچھ پراپت ہوتا ہے۔" "کیا میں بھی کامیاب ہو جاؤں گا؟“ میں نے دلچسپی کا اظہار کیا۔ ہو بھی سکتا ہے۔ ہے اور نہیں بھی۔"
بات کیا بنی؟" میں نے کسمسا کر وضاحت چاہی۔ رتن کمار!" سیتارام نے تھوڑے توقف سے کہا۔ ”پہلے مجھے وشواس تھا کہ تُو سچے من سے قبول کر لے گا لیکن اب وہ کچھ کہتے کہتے خاموش ہو اب کیا ہو گیا؟" میں نے دھڑکتے ہوئے دل سے پوچھا۔
اب ڈور کہیں بیچ میں پھنس گئی ہے۔" وہ سنجیدگی سے بولا۔ ابھی میں نے کھوجنے کی نہیں ٹھانی لیکن میں پورے وشواس سے کہہ سکتا ہوں کہ کہیں نہ کہیں کوئی دراڑ ضرور آگئی ہے، کوئی شکتی ہے جس نے تجھے اپنی شرن میں لے رکھا ہے۔" پھر اکیس دنوں کے ہیر پھیر میں الجھ گئے۔ " میں نے مسکرا کر اسے ٹالنے کی کوشش کی
ٹھٹھول کر رہا ہے جوگی سیتا رام کے ساتھ ؟" وہ بل کھا کر بولا۔ بار بار اکیس دن کی بات دہراتا ہے؟ گرو کا امتحان لینے کی کوشش کرتا ہے؟" تم غلط سمجھے، میرا مطلب
بس کر...چپ ہو جا۔ " سیتارام کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا پھر بڑے اعتماد سے بولا۔ ایک بات کان کھول کر سن لے، میرا حساب کبھی غلط نہیں ہوا، میرے منہ سے جو بات نکلتی ہے وہ پتھر کی لکیر ہوتی ہے، تو من کا بھید نہیں بتانا چاہتا' نہ تھا لیکن میں سمجھ رہا ہوں کہ کسی دیوی دیوتا یا گیانی کا ہاتھ تیرے سر پر ضرور ہے، ہو سکتا ہے کہ تو بھی اس
شکتی سے پوری طرح جانکاری نہ رکھتا ہو۔"
تم کیا کہہ رہے ہو گرو! میری سمجھ میں خاک نہیں آ رہا۔ " میں نے پھر انجان بنے کی بھر پور اداکاری کی، مجھے یقین تھا کہ درگا کا راز سیتارام کو کبھی معلوم نہ ہو سکے گا خود در گا اسے آگاہ کر دیتی تو اور بات تھی۔ بزرگ کے سلسلے میں مجھے کوئی خدشہ نہیں تھا الله کاره برگزیده بنده سیتارام کی پہنچ سے یقیناً بہت بلند تھا۔
مجھے ذرا رام کشن کی کھٹیا کھڑی کر لینے دے، جس چیز کی تلاش ہے وہ ایک بار میرے ہاتھ آجائے پھر میں تیرے ہر سوال کا جواب آنکھ موند کر دے سکتا ہوں۔" کیا مجھے اب بھی اس چیز کے بارے میں کچھ نہیں بتاؤ گے ؟" میں نے پہلو بدل کر پوچھا۔
وہ سامنے آ جائے گی تو مجھے کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں پڑے گی بالک! سیتارام کے ہونٹوں پر بڑی پراسرار مسکراہٹ پھیل کر گہری ہوتی چلی گئی۔ ”وہ آپ اپنے منہ سے تجھے سب کچھ بتا دے گی۔ میں نے تجھ سے ایک بار کہا تھا کہ یہ جیون ایک گورکھ دھندا ہے، یہاں جیت اسی کی ہوتی ہے جو آنکھیں کھلی رکھتا ہے... یاد ہے تجھے یا جھرنا کے کومل شریر سے گھتم گتھا ہو کر سب کچھ بھلا بیٹھا۔"سیتارام کی باتوں نے مجھے پھر الجھا دیا، جھرنا کا نام لے کر اس نے میرے ماضی کو جنجھوڑ دیا تھا۔ میں اس کی باتوں سے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا جب کو توالی میں اچانک ڈی ایس پی کیلاش ناتھ کے آنے سے ہلچل بنچ گئی، وہ ماتحتوں کے سیلوٹ کا جواب دیتا ہوا سیدھا ہماری طرف آ رہا تھا، اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ بہت جوش میں ہے اور وہ جوش کسی خوشی کا سبب تھا
میرے علاوہ سیتا رام نے بھی اسے نظر گھما کر دیکھا پھر دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ وہ خود کو لا تعلق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کیلاش ناتھ کو صبح ہی صبح نازل ہوتا دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ حوالات کا دروازہ کھلنے تک انسپکٹر آن ڈیوٹی بھی لپکتا ہوا آگیا لیکن کیلاش ناتھ نے ان سب کو آہنی سلاخوں سے دور رہنے کی ہدایت کی پھر وہ سیتارام کے قریب آکر بیٹھ گیا
سیتارام نے آنکھیں بند کرلیں۔ مہاراج کیلاش ناتھ کی زبان سے سیتارام کے لئے مہاراج کا لفظ جس عقیدت
سے کہا گیا اس نے بھی میرے کان کھڑے کر دیئے۔ سیتارام آنکھ بند کئے بیٹھا رہا انداز ایسا ہی تھا جیسے اس نے کیلاش ناتھ کی آواز
سرے سے سنی ہی نہ ہو۔
مجھ سے ایک بار بھول ہو گئی تھی، اب نہیں ہو گی۔" کیلاش ناتھ نے دبی زبان
میں کہا پھر اپنا سیدھا ہاتھ سیتارام کے قدموں پر رکھ دیا۔ سیتا رام نے آنکھیں کھول دیں، ایک لمحے تک ڈی ایس پی کو ایسی نظروں سے گھورتا رہا جیسے ابھی تک اس کی آمد سے بے خبر رہا ہو پھر اس کے ہونٹوں پر معنی خیز مسکراہٹ پھیلنے لگی، تھوڑے توقف کے بعد مدھم آواز میں بولا۔تو آ گیا میں ابھی تیرے ہی بارے میں سوچ بچار کر رہا تھا۔" "مہاراج! تم نے جو کہا تھا وہ سچ ثابت ہوا میں ابھی
دھیرج رکھ بالک!" سیتارام نے ہاتھ اٹھا کر بزرگوں کے انداز میں اسے خاموش رہنے کی تلقین کی۔ ”کچھ جوگی کو بھی بول لینے دے۔
کہو مہاراج! میں سن رہا ہوں۔ کیلاش ناتھ نے بڑی عقیدت سے کہا۔ جو بات تو مجھے بتانے آیا ہے وہ میں دور بیٹھے بیٹھے ہی جان چکا ہوں، میری نظریں صرف من کے بھید ہی نہیں دھرتی کے کونے کونے میں دیکھنے کی شکتی رکھتی ہیں۔" سیتا رام نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ "پر تو تو ایک بھول کر رہا ہے۔"وہ کیا مہاراج!"
ایسی باتیں سب کے سامنے نہیں کی جاتیں۔" اس نے میری طرف پلٹ کر دیکھا، مجھے بھی سیتارام کی بات بری لگی لیکناس نے بڑی جلدی مسکرا کر دوسرا جملہ بھی ادا کر دیا۔
رتن کمار کی طرف کیا دیکھ رہا ہے؟ یہ میرا بالک ہے، میرا سیوک ہے میں تجھے تیرے بھلے کی سمجھا رہا تھا، آئندہ ایسی غلطی بھول کر بھی نہ کرنا دیواروں کے بھی کان
ہوتے ہیں۔"ٹھیک ہے۔ کیلاش ناتھ نے بڑی عقیدت سے اپنی غلطی تسلیم کر لی۔ ”اب دھیان رکھوں گا۔"
میں جانتا ہوں کہ تو ابھی کہاں سے آ رہا ہے۔ " سیتارام سنجیدگی سے بات جاری رکھتے ہوئے بولا۔ ”جو ہوا وہ اچھا نہیں ہوا پر بھاگ کے لکھے کو کوئی مٹا نہیں سکتا، وہ بڑا گیانی دھیانی تھا بڑا بلوان تھا، اس کی شکتی بھی اپرم پار تھی پر جب سمے آ جائے تو منش ہاتھ پر ہاتھ دھرے رہ جاتا ہے۔ اس کا گیان دھیان بھی کسی کام نہیں آتا، بھگوان ا کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں۔ ایک دن سب کو چتا کی آگ میں جل کر راکھ ہوتا ہے، مجھے اس بات کا دکھ سارا جیون رہے گا کہ میں الہ آباد میں ہوتے ہوئے بھی اس کے سوگ میں شریک نہیں ہو سکا۔" میں پوری طرح ہمہ تن گوش تھا، سیتارام بڑے ڈرامائی انداز میں کسی گیانی دھیانی کی موت کا ذکر کر رہا تھا میں نے بھی یہی نتیجہ اخذ کیا تھا کہ وہ رات شیش ناگ کی شکل میں کسی کی زندگی کا چراغ گل کر کے واپس آیا ہو گا لیکن وہ تھا کون؟ میرا ذہن پھر قلابازیاں - کھانے لگا۔
"میرے ہوتے تم کسی بات کی چنتا کیوں کرتے ہو ؟" کیلاش ناتھ نے تیزی سے کہا۔ اس کی ارتھی آج شام کو اٹھے گی مہاراج! مجھے آگیا دو میں تمہیں اپنے ساتھ لے
جا سکتا ہوں کوئی اعتراض نہیں کر سکے گا۔" نہیں بالک! ایسی بھول نہ کرنا۔ " سیتا رام سنجیدگی سے بولا۔ " مجھے دو روز اور یہاں اسے پڑا رہنے دے اس کے بعد دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا میں دور بیٹھا رہا تو اس ۔ میں تیری بھی بچت ہے اور ان کو بھی وشواس آ جائے گا کہ جو ابھی تک اس کے گن گاتے کا .. تو میری بات سمجھ رہا ہے نا؟ اس نے کیلاش ناتھ کو تیز نظروں سے گھورا۔ ”میں تیرے ان وردی والے یار دوستوں کی باتیں کر رہا ہوں جو پنا لال کے لنگوٹیا تھے تو میں بھی اسے اچھا سمجھتا تھا۔ پر نتیجہ کیا نکلا آج اس دوشی کو تیرے ہی ہاتھوں گرفتار ہونا پڑا
میں ٹھیک سمے پر نہ پہنچا تو وہ اپنا کام کر کے نکل گیا ہو تا۔ " کیلاش ناتھ نے جوشیلے انداز میں کہا۔ "ہسپتال کے اس میل نرس کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے جو پنا لال کی دیکھ بھال پر تعینات تھا وہ بھی نہیں بچ سکے گا سزا سے۔"
نہیں۔ سیتا رام نے تحکمانہ انداز میں کہا۔ ”اسے چھوڑ دے وہ نردوش ہے۔“ جو آگیا مہاراج کیلاش ناتھ نے بڑی انکساری نے کہا پھر بولا۔ "آئی جی کے علاوہ منتری صاحب بھی چل کر مندر پہنچے تھے ، سب نے میری تعریف کی ہے، منتری صاحب نے آئی جی سے میری ترقی کی بات بھی کی تھی۔"
وہ نہ کرتا تو بھی تیری ترقی ضرور ہوتی۔ " سیتارام سرسراتے لہجے میں بولا۔ "جوگی کی زبان سے جو بات نکل جائے وہ ضرور پوری ہوتی ہے۔ یہ بھی کان کھول کر سن لے کہ اب بھری عدالت میں پنا لال اپنی زبان سے قتل کا اقرار کرے گا اور یہ بھی بیان دے گا کہ اس نے میرے اوپر جھوٹا کیس بنانے کی کوشش کی تھی۔" پر ایک بات سمجھ میں نہیں آتی مہاراج!" کیلاش ہاتھ نے دبی زبان میں پوچھا۔
اس نے تمہارے خلاف پرچی کٹوانے کی بھول کیوں کی تھی؟"تو نہیں سمجھ سکے گا لیکن میں جانتا ہوں۔ " سیتارام نے پھر ڈرامائی انداز اختیار کیا۔ بات میری سمجھ میں بھی دیر سے آئی، پہلے آ جاتی تو پنڈت کرم چندر مہاراج کا یہ سیوک راستے کی دیوار بن جاتا۔ پنالال کی گھٹیا چال کبھی کامیاب نہ ہوتی۔
سیتارام کی زبان سے کرم چندر کا نام سن کر میں چونکا اس نے ایک تیر سے دو شکار کا والی بات بہت سوچ کر کھی تھی، شکاری پنا لال نہیں بلکہ خود جوگی سیتا رام تھا جس نے سہی سمے گرفتاری پیش کر دی تھی اور جیل میں بند ہونے کے باوجود اس نے اپنی قوتوں کے ذریعہ نہ صرف پجاری پنا لال کو سولی تک پہنچا دیا تھا بلکہ اپنے راستے کے اس سب سے بڑے کانٹے پنڈت کرم چندر کو اتنی خوبصورتی سے موت کے گھاٹ اتارا ہو گا کہ اس کی روح بھی حیران رہ گئی ہو گی۔ تو اب میرے لئے کیا آگیا ہے؟" کیلاش ہاتھ نے بڑی عقیدت سے کہا۔ "تم جیل میں ہو مہاراج اور میں سب کر سکتے ہوئے بھی تمہاری کوئی سیوا نہ کر سکوں یہ بات ٹھیک نہیں۔ میں چاہوں تو آج ہی پنا لال کا بیان لے کر ...
نہیں.. سیتا رام نے سختی سے کہا۔ ابھی میرے بارے میں کچھ مت سوچ عدالت نے جو سے دیا ہے اسے پورا ہو لینے دے۔ مجھے تیری سائتا کی ضرورت بھی نہیں ہے۔ جوگی سیتا رام جانتا ہے کہ کل کیا ہونے والا ہے۔“
تم منع کرتے ہو تو میں چپ رہوں گا لیکن"
گنیش کے مندر کے بڑے پنڈت پجاری کیا بچار کر رہے ہیں، مہاراج کی اچانک موت کے بارے میں؟" سیتارام نے ڈی ایس پی کی بات کاٹ کر پوچھا۔وہ بھی حیران ہیں ، بات کسی کے سمجھ میں نہیں آ رہی۔ “ کیلاش ناتھ نے جواب دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پجاری پنا لال ہر روز سورگ باشی پنڈت کرم چندر ہے کے چرن چھونے آیا کرتا تھا، بڑی سیوا کرتا تھا مہاراج کی پھر اچانک اس نے مہاراج کی ہتیا
کیسے کردی؟"
سب دنیا دکھاوے کی باتیں تھیں .... ڈھکوسلا تھا۔"
لیکن...
میں بتاتا ہوں۔" سیتارام پھر بات کاٹ کر سرسراتے لہجے میں بولا۔ ”پنا لال نے پنڈت رام کشن سے بھی ساتھ گانٹھ رکھی تھی، کرم چندر کے بعد اگر رام کشن مندر کا انتظام سنبھال لیتا تو پنا لال کے زیادہ کام آ سکتا تھا " سمجھ رہا ہے میری بات؟ پر اب ایسا کچھ نہیں ہو گا پنڈت رام کشن کو بھی اس کے کالے کرتوتوں کی سزا اوش ملے گی، دیوی دیوتا ۔ اسے بھی شما نہیں کریں گے۔"
میں حیرت سے اچھل پڑا سیتا رام نے جو جال بنا تھا وہ یقیناً بڑا مضبوط تھا اپنے مقصد میں کامیاب ہونے کی خاطر اس نے بڑی گہری سازش مرتب کی تھی۔ کیلاش ناتھ کو بھی اپنا ہمنوا بنا لیا تھا اور اب بڑی دیدہ دلیری سے رام کشن کے بارے میں پیشگوئی کر رہا تھا، میں اندر ہی اندر تلملا کر رہ گیا۔کیلاش ناتھ دیر تک بیٹھا باتیں کرتا رہا، وہ چلا گیا تو میں نے دبی زبان میں پوچھا۔ گر وا اگر کہیں پنڈت کرم چندر کے پوسٹ مارٹم کی ضرورت پیش آگئی تو کیا ہو گا؟" سیتارام نے مجھے بڑی خونخوار نظروں سے گھورا ان شعلہ اگلتی نظروں میں رحم کی کوئی گنجائش موجود نہیں تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ تو نے رات کو مچھر کاٹنے کی بات مجھے اندھیرے میں رکھنے
کے کارن کسی تھی ؟ جوگی سیتا رام نے اتنے خطرناک لہجے میں مجھے مخاطب کیا کہ میں کانپ کر رہ گیا۔ اس کا وہ بھیانک روپ میری نظروں میں پہلی بار آیا تھا۔
گرو! میں نے بات بنانے کی خاطر کوئی بہانہ تراشنے کو سوچا لیکن اس نے پھر میری بات کاٹ دی۔
اگر سب کچھ دیکھ چکا ہے اور جان چکا ہے تو اپنی زبان بند ہی رکھنا۔" اس نے بدستور سرد اور سفاک انداز میں کہا۔ "جوگی سیتارام اپنے راستے میں کوئی رکاوٹ پسند نہیں کرتا سن رہا ہے، میں کیا کہہ رہا ہوں؟" میں نے جواب میں کچھ کہنا چاہا لیکن سیتا رام نے تیزی سے آنکھیں بند کر کے ٹھوڑی سینے پر نکالی' اس کے ہونٹ تیزی سے ملنے لگے، وہ کسی منتر کے جاپ میں مصروف ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے ہونٹ سختی سے بھینچ لئے ، جوگی سیتا رام کا لب ولہجہ اس وقت مجھے پسند نہیں آیا لیکن درگا کی وجہ سے میں اس کے خلاف کوئی جارحانہ قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔
ڈی ایس پی کیلاش ناتھ کی وجہ سے پوسٹ مارٹم کی نوبت نہیں آئی، پنڈت کرم چندر کی چتا کی کڑیاں بھی جل کر راکھ ہو گئیں تو سیتا رام اپنے مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو گیا۔ اس دوران سیتارام اور میرے درمیان زیادہ گفتگو نہیں ہوئی، وہ ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھنے میں مصروف رہتا تھا، میں سمجھ رہا تھا کہ وہ اپنے طاغوتی جال کا پھیلاؤ آہستہ آہستہ پھیلا رہا ہو گا۔ میں نے اسے زیادہ چھیڑنا مناسب نہیں سمجھا۔ ریمانڈ کی مدت پوری ہونے کے بعد سیتارام اور مجھے عدالت میں پیش کیا گیا۔ پنا لال نے کرم چندر کے قتل کے سلسلے میں اقرار جرم کر لیا تھا اس نے کھل کر بات نہیں بتائی تھی لیکن واضح الفاظ میں یہ بیان دیا تھا کہ کسی پرانی دشمنی کی وجہ سے و ایک عرصہ سے کسی موقع کی تلاش میں تھا، موقعہ واردات پر موجود مندر کے دوسرے گواہوں کے چشم دید بیان کے بعد عدالت نے اس پر فرد جرم عائد کر دی تھی۔ جوگی سیتارام کے سلسلے میں بھی اس نے اقرار کر لیا کہ اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنے چہرے پر تیزاب کے چھینٹے پھینک کر سیتارام کے خلاف اس لئے پر ٹک تھی کہ اسے موقع پاکر کرم چندر کے قتل میں ملوث کر سکے لیکن کامیاب نہیں ہو سکا۔
مجھے جوگی سیتا رام کی طاقت کا اندازہ ہو چکا تھا، عدالت کے کمرے میں بھی وہ اس وقت مجرموں کے کٹہرے میں سینہ تانے کھڑا تھا جب پجاری پنا لال کا بیان شروع ہوا سیتارام کی نظریں کسی شکاری عقاب کی مانند پنا لال کے چہرے پر اس وقت تک مرکوز رہیں جب تک اس کا بیان مکمل نہیں ہو گیا۔ ہمیں باعزت طور پر بری کر دیا گیا تو سیتارام کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی، انداز ایسا ہی تھا جیسے اسے اپنی بے گناہی کا یقین پہلے سے رہا ہو، ہم عدالت سے باہر نکلے تو کیلاش ناتھ گاڑی لئے موجود تھا۔ اس نے کسی سیوک کی طرح سیتا رام کے قدم چھو کر اسے رہائی کی مبارکباد دی خود اپنے ہاتھوں سے سیتارام کے گلے میں گیندے کے پھول کے گجرے ڈالے ، بڑی دیر تک گلے لگا رہا پھر بولا۔ اب کہاں کا ارادہ ہے مہاراج!" دھرم شالہ جا کر گنگا جل سے اشنان کروں گا پھر سیدھا گنیش کے مندر جاؤں گل مهاراج کرم چندر کے لئے بھگوان سے پرارتھنا بھی کرنی ہے۔ سیتارام نے بناؤٹی سوگ کا اظہار اتنی سنجیدگی سے کیا کہ میں بھی ششدر رہ گیا۔ سیوک کو موقع نہیں دو گے مہاراج!" کیلاش ناتھ ہاتھ باندھ کر بولا۔ "میرے ہوتے تم دھرم شالہ میں ٹھہرو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" ابھی ضد مت کر بالک! نام سنیاسی لوگ محلوں کے بجائے کٹیا میں رہنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ " سیتا رام نے اسے خوبصورتی سے ٹالتے ہوئے پوچھا۔ " تیری ترقی کا کیا بنا؟" منتری جی نے فائل پر دستخط کر دیئے ہیں، تمہاری کرپا سے دو چار روز میں آرڈر بھی ہو جائیں گے۔"اوش ہوں گے۔ سیتا رام نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ”جو گی سیتارام کی زبان سے نکلی ہوئی بات پتھر کی لکیر ثابت ہوتی ہے۔ چنتا مت کر تجھے اور بھی اوپر جانا ہے پر اس میں کچھ سمے لگے گا۔" تمہارا کرموں والا ہاتھ میرے سر پر ہے مہاراج تو پھر چنتا کس بات کی۔" بہت جلدی چرنوں میں جھک گیا۔ " سیتارام نے معنی خیز انداز میں مسکرا کر کہا۔ یاد ہے کیلاش ناتھ ! جب تو میرا بیان لینے کو توالی آیا تھا تو کیسا گرگٹ کی طرح لال پیلا ہو رہا تھا، پیچھے پر ہاتھ نہیں رکھنے دے رہا تھا۔"
شما کر دو مهاراج!" کیلاش ناتھ نے ہاتھ باندھ کر ندامت کا اظہار کیا۔ ”تب میں تمہیں پہچان نہیں سکا تھا۔"
کیلاش ناتھ کے اصرار کے باوجود سیتارام نے اس کا مہمان بننے سے انکار کر دیا البتہ اس کی گاڑی پر دھرم شالہ تک جانا منظور کر لیا، میں خاموش تماشائی کی طرح سب کچھ دیکھ رہا تھا۔
دھرم شالہ پہنچ کر سیتا رام نے گنگا جل سے اشنان کیا، کچھ دیر پنڈت پجاریوں سے باتیں کرتا رہا جو اس کو بدھائی دینے آئے تھے پھر جب دھرم شالہ کا مالک بھی کمرے سے چلا گیا تو سیتا رام نے میری طرف بہت غور سے دیکھا۔ تو کہاں ہے بالک! کن وچاروں میں الجھ رہا ہے؟" جوگی کے لیجے میں تلوار کی سی کاٹ تھی۔ سب اپنی اپنی بول گئے پر تو نے ابھی تک گرو کو مبارک باد نہیں دی؟" میں نے اپنی بدھائی سنبھال کر رکھی ہے۔ " میں نے سنبھل کر جواب دیا۔ ” تم جس کارن بازی جما رہے ہو اس میں بھی سپھل ہو جاؤ پھر میں دل کھول کر تمہاری پوجا کروں گا۔"
” سچے من سے کہہ رہا ہے؟“ اس نے میری نظروں میں جھانکنے کی کوشش کی۔ رو" میں نے اس کی بات کاٹ کر پوچھا۔ "تم نے گنیش کے مندر جانے کی بات
کی تھی؟"
تجھے اچنبھا کس بات پر ہے؟" سیتارام کی نگاہوں میں تجس جاگ اٹھا۔ کیا اتھل
پھل ہو رہی ہے تیرے اندر ؟ "
گنیش کے مندر میں تمہارا آخری شکار پنڈت رام کشن بھی ضرور ہو گا۔ میں نےپیترا- بدل کر کہا۔ ”بات کہیں بگڑ نہ جائے؟“ رتن کمار!" اس نے بل کھا کر کہا۔ "میں ابھی تک تجھے پوری طرح کھوج نہیں سکا لیکن گرو ہمیشہ گرو رہتا ہے، تو بھی سیوکوں کی ریکھا پار کرنے کی بھول کبھی نہ کرنا۔" سیتارام کے لہجے میں میرے لئے کھلا چیلنج تھا، مینے دل پر جبر کر کے دور اندیشی سے کام لیا۔
ہو
تمہارے من میں میری طرف سے جو گانٹھ پڑی ہے اسے کھول ڈالو گرو!" میں نے جوگی کو رام کرنے کی خاطر کہا۔ " اب تک تم نے جو چاہا ری ہو تا رہا ہے، آئندہ بھی وہی ہو گا جو تم چاہو گے، میں نے اپنا راستہ بدل لیا ہے تو تم بھی ادھر اُدھر بھٹکنے کی بھول کیوں کرتے ہو؟ تم اب اگر میرے اندر نہیں جھانک سکتے تو اس میں میرا کیا دوش ہے؟ ہو سکتا ہے کالی کو میرا جاپ کرنے کا انداز بھا گیا ہو۔ وہ مجھ پر مہربان ہو گئی ہو، اس نے دیا کھا کر میرے اوپر کوئی حصار کر دیا ہو . . ........ اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے بالک!" سیتارام میری بات کاٹ کر بولا۔ ”ابھی سمے نہیں آیا' میں رام کشن سے دو دو ہاتھ کرلوں پھر اطمینان سے بیٹھ کر بات کروں گا۔" جیسی تمہاری مرضی" میں نے شانے اچکا کر لا پرواہی سے جواب دیا، پھر کچھ سوچ
کر بولا۔ گنیش کے مندر سے تمہاری واپس کب تک ہو گی؟؟ کیا مطلب ہے تیرا؟" اس نے مجھے چھیتی ہوئی نظروں سے گھورا۔ کیا تو گرو کے ساتھ نہیں چلے گا؟" سر کے بل چلوں گا پر اس بار تمہیں ایک بات میری بھی مانی پڑے گی۔" میں نے سنجیدگی سے کہا۔ "پنڈت رام کشن کی موجودگی میں تم مجھے کسی بات سے روکنے کی کوشش نہیں کرو گے۔" اپنی شکتی آزمانا چاہتا ہے؟" سیتا رام نے عجیب انداز میں مسکرا کر جواب دیا۔ ٹھیک ہے، میں تجھے روکوں گا نہیں پر تو ایک بات یاد رکھنا میں نے تجھے کھونے کے لئے نہیں پایا ہے، جب تک میرا کام پورا نہیں ہوتا ، وہ انمول رتن جوگی سیتارام کے ہاتھ نہیں آ جاتا جس کے کارن میں نے تجھے کھو جا ہے، اس وقت تک تجھے میری ہر آگیا کا پالن کرنا ہو گا۔" اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ” گنیش کے مندر میں جو قدم بھی اٹھانا سوچ سمجھ کر اٹھانا تیری ایک ذراسی بھول میرا سارا کھیل بگاڑ دے گی، ایسا کوئی موقع آیا تو میں تیرا ہاتھ ضرور تھام لوں گا، کسی تیسرے کی موجودگی میں گرو کے آگے سر اٹھانے کی غلطی بھی نہ کرنا۔" مجھے منظور ہے۔" میں نے ہامی بھر لی۔
سیتارام مجھے خاصی دیر تک سولتی نظروں سے دیکھتا رہا، مجھے یقین تھا کہ وہ درگا کے کہنے کے مطابق میرے دل کا بھید نہیں پا سکے گا پھر بھی میں نے حفظ ماتقدم کے طور پر وشنو کا نام لے کر ایک منتر پڑھ کر اپنے گرد منڈل کھینچ لیا۔
دھرم شالہ سے نکل کر ہم نے ایک سواری پکڑی اور گنیش کے مندر راستے میں ہمارے درمیان زیادہ باتیں نہیں ہوئیں۔ ستیا رام کے چہرے پر گہری سنجیدگی مسلط تھی، میں سمجھ رہا تھا کہ وہ کسی آخری معرکے کو سر کرنے کی خاطر خود کو پوری طرح اپنے تمام داؤ پیچ سے لیس کر رہا ہو گا۔ اس نے ابھی تک کھل کر مجھے اس شے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا جس کو حاصل کرنے کی خاطر اس نے اپنی شیطانی قوتوں کے بل پر مجھے آذر سے رتن کمار بننے پر مجبور کر دیا تھا لیکن میرا دل گواہی دے رہا تھا کہ یا تو وہ انمول شے پنڈت رام کشن ہی کے پاس ہو گی یا پھر رام کشن کا اس سے کوئی گہرا تعلق ضرور ہو گا۔ نہ ہوتا تو سیتارام جیسا گھاگ جوگی اس شے کے پیچھے جانے کے بجائے رام کشن سے محض کوئی پچھلا حساب چکتا کرنے میں اپنا قیمتی وقت کبھی برباد نہ کرتا۔ مجھے سفید ریش بزرگ کے وہ جملے بھی یاد آ رہے تھے جو انہوں نے دادا جان کے بارے میں وقتاً
فوقتاً مجھ سے کہے تھے۔
میں پوری طرح محتاط تھا، گنیش کے پرشکوہ مندر کی سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میری نظریں ایک ایک پنڈت پجاری کا جائزہ لے رہی تھیں، سیتا رام کے اندر تکبر کا احساس جاگ اٹھا تھا، سامنے آنے والا کوئی پرانا واقف کار پنڈت یا پجاری اسے مہاراج کہہ کر پر نام کرتا تو اس کا سینہ فخر سے کچھ اور کشادہ ہو جاتا، میں بھی قرب وجوار سے بے فکر نہیں تھا۔ آدھی سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہم ایک کشادہ چبوترے پر پہنچے تو سیتا رام نے مجھے روک کر کہا۔
رتن کمار! آنکھیں کھلی رکھنا، یہاں کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔" "تم چنتا مت کرد گرو! میں ہر پریکشا میں پورا اتروں گا۔" میں نے ٹھوس لہجے میں اپنے اعتماد کا اظہار کیا۔ "بہت سوچ بچار کرنے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھانا۔ " اس نے مجھے تاکید کی۔ "جو لوگ اوپر سے چھلے نظر آتے ہیں کبھی کبھی وہ بھی بھرتے سمندر کے انوسار گرے ہوتے ہیں، ان کی کوئی تھاہ نہیں ہوتی، سر سے پاؤں تک ڈوبے ہوتے ہیں، آنکھ اٹھا کر دیکھ لیں تو ان کی ترچھی نگاہ ہرے بھرے درختوں کو بھی پل بھر میں جلا کر راکھ کر دیتی ہے۔" میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں، بے فکر رہو، میں جو کچھ کروں گا سوچ سمجھ کرہی کرونگا
ایک بار پھر میری بات کان کھول کر سن لے۔ پنڈت رام کشن بھی تیرے لئے کسی سنگلاخ چٹان سے زیادہ مضبوط ثابت ہو گا، اس سے پنجہ لڑانے کی بھول نہ کر بیٹھنا۔" میں اسے پہچانوں گا کیسے؟" میں نے پوچھا۔
”میری نظروں سے۔" سیتارام سانپ کی طرح پھنکار کر بولا۔ ”جسے دیکھ کر میری آنکھوں میں خون ابلنے لگے سمجھ لینا کہ وہی میرا اصلی شکار ہے۔"
میرے ذہن میں پھر خیال ابھرا کہ کیوں نہ موقع غنیمت جان کر اس پراسرار اور انمول شے کے بارے میں بھی پوچھ لوں جو سارے فساد کی جڑ تھی لیکن میں نے اپنا ارادہ ترک کر دیا اس وقت میں سیتا رام کو چھیڑ کر اپنی طرف متوجہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔ ہم نے دوبارہ سیڑھیاں چڑھنی شروع کیں، مندر کا صحن قریب آ رہا تھا جب پجارنوں کا ایک غول ہرنیوں کی طرح کلیلیں کرتا نیچے اتر تا نظر آیا۔ بیشتر پجاریوں کی نظریں جھکنے لگیں۔ میں نے بھی ان پر نظر ڈالی تو ٹھٹک کر رک گیا۔ پجارنوں کے بیچ جھرنا بھی موجود تھی، مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا میں جھرنا کے جسم کے ایک ایک انگ سے واقف تھا اس کے بدن کی خوشبو میرے وجود میں رچی بسی تھی، مجھے تعجب ہوا کہ جھرنا پجارن کیسے بن گئی؟ کیا جوگی سیتا رام نے اسے پھر کوئی مشکل کام سونپ دیا تھا؟ ایک بار اس نے جھرنا کے خوبصورت بدن کو جال بنا کر مجھ پر پھینکا تھا، میرے قدم لڑکھڑا گئے تھے، میں گناہ میں سر تا پا لتھڑ گیا تھا۔ ہو سکتا ہے اس نے ایک بار پھر جھرنا کو کسی خاص مقصد کے لئے استعمال کرنے کی ٹھان لی ہو ؟ میرے ذہن میں فوری طور پر یہی خیال ابھرا۔ میں اپنی جگہ کھڑا اسے دیکھتا رہا جب اس کی نظریں بھی اچانک میری طرف انھیں وہ بھی بھونچکا سی رہ گئی، اس کی آنکھوں میں اپنائیت کا احساس جاگ اٹھا وہ تیر کی طرح اپنے جھنڈ سے الگ ہو کر میری طرف بھاگتی ہوئی آئی۔ تم؟" اس نے میرے قریب آکر حیرت سے پوچھا۔ ” تم یہاں کیا کرنے آئے
ہو؟"یہی سوال میں تم سے بھی کر سکتا ہوں؟" میں نے دبی زبان میں کہا۔ میں یہاں ایک ضروری کام سے آئی ہوں۔"
پجارنوں کے روپ میں؟" ہاں۔ اس کے لیجے میں جذبات امڈ آئے، میری نظروں میں نظریں ڈال کر بڑے
دلربانہ انداز میں بولی۔ کسی نے کہا تھا کہ اگر میں پجارنوں کا روپ سجا کر گنیش سے کچھ مانگوں تو وہ میری دعا ضرور قبول کر لیں گے۔“
اور تم نے یہ بات مان لی ؟" میں نے اسے حیرت سے دیکھا۔
ہاں۔" اس کی غزالی آنکھوں میں مستیوں کے جام ٹکرا گئے۔ " تمہیں پانے کے لئے میں ہر راستہ اختیار کر سکتی ہوں، میں نے کرنل کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیا ہے، تم میرا ہاتھ تھام لو تو میرے خوابوں کی تکمیل ہو سکتی ہے۔"
”میرے بارے میں تم ابھی کچھ نہیں جانتیں۔“ میں نے اس کی بانہیں تھام لیں۔میں وہ نہیں ہوں جو نظر آتا ہوں۔" تم کوئی بھی ہو ۔ میرے لئے وہی ہو۔" اس کی آواز میں مندر کی گھنٹیوں کا کر گھلا ملا تھا والہانہ لہجے میں بولی۔ " وی آذر جس نے کرنل کے نگار خانے میں میری روح کو سچی تسکین پہنچائی تھی۔ تم حکم دو۔" اس نے پجارنوں کی طرح ہاتھ باندھ کر کہا۔ میں تمہارے لئے کوئی رنگ بھی اختیار کرلوں گی۔" کہاں رہتی ہو؟" میں نے دبی زبان میں پوچھا۔
اسی مندر میں۔" وہ سسکنے لگی۔ "تمہیں پا کر مجھے یقین آ رہا ہے کہ گنیش نے تمہاری جھرنا کی پکار سن لی ہے۔" میں سیڑھیوں پر کھڑا اس سے باتیں کر رہا تھا قریب سے گزرتے ہوئے پنڈت پجاری بھی کنکھیوں سے ہمیں دیکھ رہے تھے، میں نے سیتارام کو تلاش کرنے کی خاطر ادھر ادھر نظریں دوڑائیں وہ کہیں نظر نہیں آیا۔ شاید اپنی دھن میں اتنا مست تھا کہ قدم بڑھاتا مندر کی سیڑھیاں عبور کر گیا تھا۔ ”میرے ساتھ میری کئی میں چلو۔“ اس نے میرے ہاتھوں پر ہلکا دباؤ ڈال کر معنی خیز انداز میں کہا۔ "مجھے تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔" میں نے انکار کرنا چاہا لیکن اس کی سحر آلود شخصیت مجھے بہکا رہی تھی۔ میں اس کے
ساتھ جانے کو تیار ہوا تو ایک مانوس آواز میرے کانوں میں گونجی۔ سنبھلو برکت علی، جسے تم جھرنا سمجھ رہے ہو وہ تمہاری آنکھوں کا فریب ہے، وہی معون جس نے تمہاری عاقبت خراب کر دی پھر تمہیں دھوکا دے رہا ہے۔"میں رک گیا۔ میرے ذہن میں جوگی سیتارام کی شیطانی قوتوں کا خیال ابھرا
شاید اس نے میرے دل کے اندر جھانکنے کی خاطر پھر جھرنا کے روپ میں کوئی سنہری جال بنا تھا، بزرگ کی آواز کانوں میں نہ گونجتی تو شاید میرے قدم پھر رپٹ جاتے۔ "کیا بات ہے آذر! تم رک کیوں گئے؟" میں اب تمہارا آذر نہیں رہا۔" میں نے ہونٹ چہاتے ہوئے اپنی کشمکش کا اظہار کیا۔ میں رتن کمار بن چکا ہوں، جوگی سیتارام کا انمول رتن۔"
نہیں۔"کون سیتارام کون جوگی ؟" جھرنا نے حیرت سے سوال کیا۔ میں سمجھی نہیں
.تم ابھی مجھ سے دور رہو جھریا!" میں نے ادھر اُدھر دیکھ کر رازداری سے کہا۔ اس وقت میں جلدی میں ہوں ، دوبارہ ملوں گا تو تفصیل سے گفتگو کروں گا۔" جھوٹ تو نہیں بول رہے ہو ؟" اس نے میری آنکھوں میں جھانکا۔
نہیں۔" میں نے دبی زبان میں پھر اسے دوبارہ ملنے کا یقین دلایا تو وہ اداس ہو گئی مجھے جوگی سیتا رام پر ہنسی آنے لگی، میں نے جھرنا سے ہاتھ چھڑا کر پھر سیڑھیاں چڑھنی شروع کر دیں، مندر کے صحن میں داخل ہوا تو سیتارام مجھے سامنے ہی نظر آگیا' میں تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے قریب پہنچ گیا۔
کہاں رک گیا تھا بالک!" سیتارام نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔ ایک پجارن نے راستہ روک لیا تھا۔" میں نے مبہم انداز اختیار کیا۔ اسے جل
دے کر آ رہا ہوں۔" سیتارام نے مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھا پھر وہ میرا ہاتھ تھام کر مندر کے بڑے پجاری کے ٹھکانے کی طرف بڑھ رہا تھا جب ایک بھاری بھر کم پجاری نے سامنے آکر ہمارا راستہ روک لیا اس کی نگاہوں میں سیتارام کے لئے نفرت ہی نفرت موجود تھیں کیا بات ہے مہاشے!" سیتارام نے اسے ناگوار نظروں سے گھورا۔ ”کیا چاہتا ہے جوگی ستیا رام سے جو اس کے راستے میں آگیا ؟" میں تم سے ایک بنتی کرنے آیا ہوں جو گی مہاراج! اس کے کھردرے لہجے میں طنر کی آمیزش تھی۔ "اگر تم اس گنیش کے مندر سے واپس لوٹ جاؤ تو تمہاری بڑی کرپا
ہوگی۔"
کون ہے تو ؟ سیتا رام نے اسے تیز نظروں سے دیکھا
میں پنڈت رام کشن مہاراج کا ایک پرانا سیوک ہوں۔" اس نے اپنی بات مکمل کرنے کے بعد سرسراتی آواز میں کہا۔ "تم نے میری بنتی سن لی؟ میں تمہارا جواب سننا
چاہتا ہوں۔" سیتا رام کی نظریں شعلہ اہلنے لگیں، پجاری کے انداز گفتگو سے اس کی بات کا مفہوم ظاہر ہو گیا تھا، وہ شاید پنڈت رام کشن کی طرف سے سیتارام کو یہ پیغام دینے آیا تھا کہ جوگی نے گنیش کے مندر میں آکر غلطی کی ہے۔ یہ بھی ممکن تھا کہ وہ سیتارام کو پہچان کر خود ہی اس کے اور رام کشن کے درمیان دیوار بننے کی کوشش کر رہا ہو۔ " گھمنڈ کر رہا ہے مورکھ!" سیتارام کے تیور بدلنے لگے۔ "جوگی سیتارام کا کیول نام ہی سنا ہے کسی پاپی کی زبان سے یا میرے بارے میں کوئی جانکاری بھی رکھتا ہے؟"
میں تمہیں جانتا ہوں لیکن تم شاید مجھے نہیں جانتے۔ " اس نے سیتارام کے جملے سے مرعوب ہوئے بغیر بڑی گھمبیر آواز میں جواب دیا۔ "مندر جیسے پوتر استھان پر من میں کسی کے خلاف میل لے کر آنا اچھا نہیں ہوتا۔ تم بلوان ہوتے تو اتنی بات تمہاری بدھی (عقل) میں اوش آگئی ہوتی۔"
:
میرا خیال تھا کہ سیتارام اس کی بات سن کر اچانک ہی آپے سے باہر ہو جائے گا لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس نے خود پر قابو پاتے ہوئے بھاری بھر کم پجاری کو پر پکارتے ہوئے کہا۔ "بری بات ہے بالک! جب بات دو بڑوں کی ہو تو چھوٹوں کو ہاتھ باندھ کر ایک طرف ہو جانا چاہئے لیکن تو مورکھ لگتا ہے جو درمیان میں آنے کی بھول کر بیٹھا۔ جا بالک! چلا جا ابھی تیرے کھیلنے کودنے کے دن ہیں، دوسروں کے جھمیلوں میں کیوں ٹانگ پھنسانے کی بھول کر رہا ہے؟ میرا ہاتھ اٹھ گیا تو دھرتی پر کہیں کوئی ٹھکانہ نہیں ملے گا " کبھی کبھی چیونٹی بھی بڑے ڈیل ڈول رکھنے والے ہاتھی کی موت کا کارن بن جاتی وہ زہر خند سے بولا۔ ” تم نے پسکوں (کتابوں) میں گیانیوں اور سیانوں کی یہ کہاوت پڑھی ہو گی۔" سیتارام اس کے جواب پر بل کھا کر رہ گیا، میں نے بھاری بھر کم پجاری کو غور سے دیکھا، ڈیل ڈول میں وہ سیتارام کے مقابلے میں زیادہ تھا لیکن شاید وہ پوری طرح اس کی شیطانی قوتوں سے واقف نہیں تھا۔ سیتا رام جن نظروں سے اسے گھور رہا تھا اس سے اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں تھا کہ وہ خود کو بڑی مشکلوں سے سنبھالنے کی کوشش کر رہا تھا، گنیش کے مندر میں شاید وہ بھی دنگا فساد کے ارادے سے نہیں آیا تھا لیکن پجاری
اسے اکسانے کی بات کر بیٹھا تھا۔ تم نے ابھی تک اپنا تعارف نہیں کرایا پجاری جی! میں درمیان میں بول پڑا۔ سیوک کو پجاری من موہن کہتے ہیں۔ " اس نے مجھے بھی تلخ لہجے میں جواب دیا۔"تم کون ہو ؟"
نام من موہن ہے تو بات بھی من موہنے والی کرو۔" میں نے مسکرا کر کہا۔ ”مندر میں کھڑے ہو کر تن پر اکڑنا کسی پجاری کو شوبھا نہیں دیتا۔" میں اسے غصہ دلانا چاہتا تھا مجھے اپنے ارادے میں مایوسی نہیں ہوئی۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے۔ وہ اچانک آپے سے باہر ہو گیا۔ ”اور اگر یدھ ہی لڑنی ہے تو پھر مندر سے باہر چلو۔" میں نے اسے بات مکمل کرنے کا موقع نہیں دیا، میں نے کالی کے علاوہ درگا کے مشورے پر وشنو مہاراج کا اکیس دنوں کا جاپ بھی کر رکھا تھا، در گانے مجھے اس جاپ میں کامیاب ہونے کے بعد بہت سے جنتر منتر یاد کرائے تھے، میں نے درگا ہی کے بتائے ہوئے ایک منتر کو پڑھ کر من موہن کی طرف پھونک ماری، میرے جنتر کے بیروں نے پلک جھپکتے میں اسے اٹھا کر فرش پر اوندھے منہ گرا دیا‘ من موہن نے فرش سے اٹھنے میں بڑی تیزی کا مظاہرہ کیا لیکن میں نے دوبارہ پھونک ماری تو وہ فرش پر تیزی سے لڑھکتا ہوا جا کر ایک ستون سے ٹکرا گیا۔ اس کے سر سے خون جاری ہو گیا۔ صحن میں کھڑے ہوئے پنڈت پجاری بھی چونکے میں تیسری پھونک مارنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ سیتارام نے میرا ہاتھ تھام لیا، اس کی آنکھوں میں میرے لئے حیرت ہی حیرت تھی، وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن اسے موقع نہیں ملا۔
من موہن پر جو بیتی تھی اس کی اطلاع آنا فانا بڑے پجاری تک پہنچ گئی۔ وہ بھی مندر سے نکل کر سامنے آگیا، سیتا رام کو دیکھ کر سیدھا اسی کی طرف آیا۔ سیتا رام کسی آہنی چٹان کی طرح اپنی جگہ جما کھڑا تھا۔
جوگی مہاراج!" بڑے پجاری نے قریب آکر کہا۔ ”بڑے عرصے بعد تمہارے درشن ہو رہے ہیں، یہاں کیوں کھڑے ہو ، آؤ میرے ساتھ اندر چلو۔" تمہارے ہی پاس آ رہا تھا کہ یہ مورکھ راستے میں آگیا۔ سیتا رام نے من موہن
کی طرف حقارت سے دیکھا۔
شما کر دو مہاراج!" بڑے پجاری نے عقلمندی کا مظاہرہ کیا۔ ” ابھی بالک ہے، سیکھ رہا ہے، جوانی کے جوش میں آکر کوئی بھول کر بیٹھا ہو گا۔" " مجھے مہاراج کرم چندر کے دیہانت (موت) کی خبر ملی تھی اس کی آتما کی شانتی کے لئے پرارتھنا کو چلا آیا۔“ سیتا رام نے اس بار سلجھے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔ سب ہی کو دکھ ہوا ہے۔ " بڑے پجاری نے ہونٹ چہاتے ہوئے کہا۔ ”جانے اس
پنا لال کے من میں کیا آئی کہ اس نے مہاراج جیسے مہاپرش کی ہتیا کر ڈالی۔" بڑے پجاری کے آجانے سے معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ من موہن کے سنگی ساتھی اسے اٹھا کر ایک طرف چلے گئے میں پوری طرح چوکس تھا۔ میری نظریں بار بار سیتا رام کی طرف بھی اٹھ رہی تھیں، مجھے یقین تھا کہ اب تک پنڈت رام کشن کو بھی جوگی سیتارام کے مندر میں آنے کی اطلاع ضرور مل چکی ہو گی، من موہن کے بارے میں سن کر اس کی پیشانی پر بھی سلوٹیں ضرور ابھری ہوں گی لیکن وہ ابھی تک سامنے نہیں آیا تھا آگیا ہو نا تو سیتارام کی آنکھوں میں خون ابلنے کی علامت ضرور نظر آتی۔ہم نے بڑے پجاری کے ساتھ گنیش کی قد آدم مورتی کے ساتھ بیٹھ کر پنڈت کرم چندر کے لئے دعا کی۔ میں سمجھ رہا تھا کہ سوگ کا اظہار محض ایک ڈھونگ تھا۔ سیتارام کرم چندر کو راستے سے ہٹانے کے بعد اور شیر بن گیا تھا۔ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے ، ہونٹ ہل رہے تھے لیکن آنکھیں رہ رہ کر ادھر اُدھر بھٹک رہی تھیں، اسے بھی رام کشن کی تلاش تھی۔ یہ خدشہ بھی ضرور لاحق رہا تھا کہ کہیں وہ خاموشی سے آکر پشت سے وار نہ کر بیٹھے میں بھی خود کو کیل کانٹوں سے لیس کئے پوری طرح تیار تھا لیکن رام کشن سامنے نہیں آ رہا تھا، ممکن ہے کسی مصلحت نے اسے روک رکھا ہو، یہ بھی ممکن تھا دوربیٹھا کوئی جال بن رہا ہو کسی مناسب موقع کی تلاش میں ہو۔ ہم پندرہ میں منٹ تک گنیش کے بت کے سامنے بیٹھے رہے پھر سب سے پہلے سیتا رام منہ پر ہاتھ پھیر تا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس کے قدم دوبارہ صحن کی جانب اٹھے تو بڑے
پجاری نے پوچھا۔ دو گھڑی رکھو گے نہیں جو گی مہاراج! کچھ جل پانی کر لیتے؟" اطمینان سے آؤں گا، ابھی ایک دو ضروری کام اور نمٹانے ہیں۔"

