حضرت خالدبن ولیدؓ - قسط 7 آخری

 urdu font stories


حضرت خالدبن ولیدؓ۔
اسلام کے عظیم سپہ سالار کے حالات زندگی
  قسط 7 آخری

دمشق کی جنگ کے دوران کچھ اور غیر معمولی واقعات بھی رونما ہوتے ہیں۔ مدینہ میں خلیفہ اوّل امیر المومنین سیدنا حضرت ابو بکر صدیقؓ کا انتقال ہوگیا اور سیدنا عمر فاروقؓ ان کی جگہ خلیفہ مقرر ہوئے۔دمشق کی جنگ کے دوران ہی حضرت عمر فاروقؓ نے ایک مکتوب حضرت ابوعبیدہؓ کو لکھا کہ جس میں حضرت خالد بن ولیدؓ کی کمانڈر انچیف کی حیثیت سے معزولی کے احکامات تھے اور یہ حکم بھی دیا گیا تھا کہ حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ مسلمانوں کے نئے سپہ سالار اعلیٰ ہونگے۔ ابو عبیدہؓ اس خط سے بہت دکھی ہوئے، لیکن امیر المومنین کا حکم تھا کہ جس کی تعمیل لازم تھی۔ یہاں پر سیف اللہؓ کا کردار دیکھیے۔ جب ان کو یہ کہا گیا کہ آپؓ کو معزول کرکے ایک عام سپاہی بنایا جارہا ہے، تو کیا آپؓاس حکم کو سر آنکھوں پر تسلیم کرتے ہیں؟ اس کے جواب میں حضرت خالدؓ اطمینان سے کہتے ہیں کہ اگر میں عمرؓ کے لیے لڑتا تھا تو اب نہیں لڑوں گا ،لیکن اگر میں اللہ رب العزت کے لیے لڑتا تھا، تو اسی طرح ایک سپاہی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سرانجام دیتا رہونگا! اور پھر تاریخ نے دیکھا کہ خالدؓ کی تلوار اسی طرح چلتی رہی کہ جس طرح ایک مجاہد اور اللہ کے سپاہی کی تلوار چلتی ہے۔
آج اگر ہمارے جرنیلوں کا یہ کردار ہو کہ سپہ سالاری سے راتوں رات اس کو سپاہی بنادیا جائے اور پھر بھی اس کے جذبہ ایثار و قربانی میں کمی واقع نہ ہو، جب اس طرح کے لشکر ہوں کہ رات کے عبادت گزار اور دن کے شہسوار ہوں اور جب ضرارؓ جیسے سپاہی ہوں، تو پھر نئی تاریخ رقم ہوتی ہے، نئی جنگی حکمت عملی مرتب کی جاتی ہے، نئے جنگی مسودے لکھے جاتے ہیں اور پھر وہی تاریخ بنتی ہے کہ جس طرح روم اور فارس کے خلاف اس وقت کے مسلمانوں نے رقم کی تھی۔
خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراحؓ کے مابین گہری محبت تھی اور جب خالدؓ نے ان سے یہ پوچھا کہ اب میرے لیے اگلا حکم کیا ہے، تو ابو عبیدہؓ نے اگلا حکم یہ دیا کہ آپؓ میرے نائب ہیں اور نائب کی حیثیت سے جنگ کی کمان آپؓ سنبھالیں گے۔ یعنی سیدنا عمر فاروقؓ کے حکم کی تعمیل بھی ہوگئی اور حضرت ابو عبیدہؓ نے جنگی حکمت عملی اور سپہ سالار کی حیثیت سے جو فیصلہ کیا،وہ میدان جنگ کی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے امت کے اعلیٰ ترین مفاد میں بھی تھا۔
خالدؓ کی معزولی سے مسلمانوں کو دکھ و ملال ضرور ہوا، لیکن حضرت عمرؓ کے پیش نظر ایک حکمت تھی اور آپؓ نے بعد میں اس کی وضاحت بھی کہ لوگوں کو شاید یہ خیال ہونے لگا تھا کہ مسلمانوں کو فتح خالدؓ کی وجہ سے ہوتی ہے اور ان کا اللہ پر توکل و یقین کمزور پڑ رہا ہے۔ اس لیے انہوں نے یہ قدم اٹھایا ،ورنہ انکے دل میں ذاتی طور پر حضرت خالدؓ کے لیے کوئی برائی یا بدگمانی نہیں تھی۔ ان کے مابین جو معاملات ہوتے ،اللہ کے دین کے لیے ہوتے نہ کہ ذاتی بغض و عناد کی بناء پر مبنی، اور کبھی کوئی ایسا اختلاف نہ ہوا کہ جس سے کوئی فتنہ یا فساد کا اندیشہ ہوتا۔ دونوں ہی حضرات کرشماتی شخصیت کے مالک تھے اور اپنی اپنی جگہ امت کی مضبوط چٹانیں۔
دمشق فتح ہونے کے بعد اب بازنطینی حکمران ہر قل کو یہ یقین ہو چلا تھا کہ ملک شام ان کے ہاتھ سے نکلنے والا ہے۔ اب ان کے دل میں مسلمانوں کی ایسی دہشت و ہیبت گھر کر گئی تھی کہ وہ عرب کہ جن کو کچھ عرصے پہلے تک وہ صرف مال و دولت کے لالچ سے خرید کر یاڈرا دھمکا کر بھگادیا کرتے تھے، اب حالات یہ تھے کہ ان کی اپنی سلطنت کا سب سے زرخیز صوبہ انہی عربوں کے ہاتھ میں جانے والا تھا۔ لیکن قسطنطنیہ میں رومی بازنطینی سلطنت اب بھی پورے شان و شوکت کیساتھ اپنی جگہ قائم تھی۔ تمام عیسائی دنیا اور بازنطینی سلطنت میں اعلان جنگ کردیا گیا اور دنیا کے ہر کونے سے عیسائی لشکر شام پہنچنا شروع ہوگئے ۔یہ تاریخ کی پہلی باقاعدہ صلیبی جنگ کی تیاری تھی۔اب بیت المقدس خطرے میں تھا کہ جو عیسائی دنیا کے لیے بھی انتہائی متبرک جگہ ہے۔ ان کو یہ معلوم تھا کہ اگر مسلمانوں نے دمشق پر قبضہ کرلیا ،تو جلد ہی بیت المقدس بھی ان کے قبضے میں ہوگا۔ اس طرح ہر قل نے ایک عام جنگ کا اعلان کردیا اورایک بہت بڑا لشکر جرار تیار کیا گیا کہ جوتقریباً ڈھائی لاکھ کیل کانٹے سے لیس سپاہ پر مشتمل تھا۔ اس جنگ کو تاریخ جنگ یرموک کے نام سے یاد کرتی ہے۔
بلا شبہ آج کی مرتب شدہ جدید انسانی تاریخ کی بنیاد جنگ یرموک سے ہی پڑتی ہے۔ اگر جنگ یرموک میں بازنطینی ریاست اور صلیبی جنگجو کہ جو پوری دنیا سے اکٹھے ہو کر مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہوئے تھے، کامیاب ہو جاتے تو ان کا اگلا ہدف یقینی طور پر مدینہ کی اسلامی ریاست ہوتی اور یہ بات مسلمان بخوبی جانتے تھے۔یرموک کی یہ لڑائی اسلامی ریاست کیلئے بھی بقاء کا سوال تھی۔ لہذا جب یرموک میں غیر مسلموں نے اپنے آپکو متحدکرنا شروع کیا ،تو مدینہ تک کے مسلمان بے چین ہوگئے۔ حضرت عمرؓ نے تمام مسلمان علاقوں سے مجاہدین طلب کرکے یرموک کی جانب روانہ کیے۔ان مجاہدین کی قیادت حضرت ابوعبیدہؓ کے کہنے پر حضرت خالدؓ نے سنبھال لی تھی۔
دوسری جانب صلیبیوں کو بھی معلوم تھا کہ اگر جنگ یرموک میں انکوشکست ہوتی ہے تو پھر شام کا پورا صوبہ اور بیت المقدس کا شہر بھی انکے ہاتھ سے نکل جائیگا اور اسکے بعد صرف مصر ہی ان کے پاس باقی بچے گا ۔ شام پر وہ اپنا کنٹرول تقریباً کھو چکے تھے۔ جنگ یرموک ہی اب ان کی آخری امید تھی اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے بھی ایک فیصلہ کن جنگ کیلئے اتنا بڑا لشکر تیار کیا۔
دریائے یرموک کے کنارے لڑی جانے والی اس جنگ نے تاریخ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ رومیوں کو اپنی تعداداور عسکری قوت پر اتنا غرور اور گھمنڈ تھا کہ انہوں نے جنگی حکمت عملی کے حوالے سے ایک فاش غلطی کر ڈالی۔ انہوں نے پڑاؤ کیلئے یرموک کے میدان کا انتخاب کیا کہ جس کے تین اطراف میں دریا تھے، جبکہ صرف ایک طرف میدان تھا۔وہاں مسلمان فوج نے آکر اپنا پڑاؤ ڈال لیا۔ اسکے علاوہ خشکی کا صرف ایک چھوٹا سا راستہ تھا کہ جو رومی فوج کی پشت کی جانب تھا۔
رومیوں کا خیال تھا کہ ڈھائی لاکھ کے لشکر کے ساتھ چالیس ہزار مسلمانوں کا مقابلہ کرنا کوئی مشکل بات نہیں اور ان کی نظر میں شکست اور پسپائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ کی جنگی حکمت اس قدرعمدہ اور جدید تھی کہ اُس وقت کے مروجہ اصول اور قوانین اس جنگی ذہانت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ظاہراً چالیس ہزار کی فوج ڈھائی لاکھ کے لشکر کو شکست نہیں دے سکتی،اور یہی وہ عددی برتری کا تکبر ہے کہ جو بڑی بڑی فوجوں کو چھوٹی فوجوں سے مقابلے کے وقت ہوتا ہے۔
مسلمانوں نے یرموک کی طرف روانگی سے پہلے ایک حیرت انگیز کام کیا کہ جس کی تاریخ انسانی میں مثال نہیں ملتی۔چونکہ جنگ یرموک کیلئے تمام علاقوں سے مسلمانوں کو جمع کیا گیا تھا ،لہذا مسلمانوں نے اس وقت یہ محسوس کیا کہ اب وہ شاید ان تمام علاقوں کی حفاظت نہ کرسکیں کہ جو وہ اس سے پہلے شام میں فتح کرچکے تھے۔ لہذا اانہوں نے حمص کے عیسائیوں کو یہ کہہ کر جزیہ واپس کردیا کہ ہم آپ کی حفاظت نہیں کرپائیں گے اور معاہدے کے تحت لی گئی رقم واپس لوٹا دی گئی۔ آج تک تاریخ انسانیت میں ایسا نہیں ہوا کہ ایک فاتح قوم، مفتوح قوم کے غریب اور مسکین لوگوں کے ساتھ اس قدر غیرت اور عزت کا برتاؤ کرے۔حمص کے عیسائی مسلمانوں کے اخلاق اور کردار سے اتنے متاثر ہوئے کہ دعا کرنے لگے کہ مسلمان جلد فتح یاب ہو کر واپس لوٹیں۔یہ واقعہ یقیناً مسلمانوں کے عظیم اخلاقی کردار کی ایک زندہ تصویر ہے۔
یرموک کی جنگ چھ دن تک جاری رہی۔ یہ اس لحاظ سے بھی ایک منفرد جنگ تھی کہ یہ پہلا موقع تھا کہ جب مسلمانوں نے قبائلی بنیادوں پر اپنی صف بندی کی، جو کہ ایک انتہائی غیر معمولی بات تھی۔حضرت خالدؓ کی اس حکمت عملی کی نفسیاتی وجہ یہ تھی کہ وہ یہ چاہتے تھے کہ اس گھمسان کی جنگ میں ہر شخص اپنے قریبی عزیز، رشتے دار یا بھائی کے ساتھ کھڑے ہو کر جنگ کرے کہ جس سے ان کے حوصلے میں اضافہ ہوتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہر قبیلہ اپنی جگہ بہادری اور شجاعت کے الگ جوہر دکھائے تاکہ اسے دوسرے قبیلوں کے آگے ہزیمت نہ اٹھانی پڑے۔
جنگی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ اس نفسیاتی حکمت عملی کی وجہ یہ تھی کہ مسلمان شدیدذہنی دباؤ کا بھی شکار تھے، کیونکہ ڈھائی لاکھ کا لشکر مد مقابل تھا۔ اگرچہ سپہ سالارِ اعلیٰ (Army Chief) ابو عبیدہؓ ہی تھے، لیکن وہ جان چکے تھے کہ اس موقع پر فوج کی کمان خالدؓ ہی کرسکتے ہیں۔ یعنی آج کی اصطلاح میں خالدؓ اس لشکر کے تھیٹر کمانڈر(Theatre Commander) تھے ۔ حضرت خالدؓ نے چالیس ہزار کی فوج کو ایک ایک ہزار کے چالیس دستوں( (Unit میں تقسیم کیا اور ہر دستے کا ایک کمانڈر مقرر کیا۔ ہر اول اور محفوظ اضافی دستے الگ الگ کیے۔ میمنہ(Right Flank)، میسرہ(Left Flank) اور قلب(Center) کو از سر نو ترتیب دیا، فوج کے یہ تینوں اہم حصے گھڑ سوار دستوں پر مشتمل تھے۔ اور پھر ایک ایسی جنگ کی تیاری شروع کردی کہ جو اس سے قبل خود خالدؓ نے بھی نہ لڑی تھی۔
مسلمانوں کی چالیس ہزار فوج میں ایک ہزار کے قریب صحابہ کرامؓ تھے کہ جن میں ایک سو کے لگ بھگ وہ صحابہؓ بھی تھے کہ جو جنگ بدر میں بھی شرکت کرچکے تھے۔جزیرہ نما عرب سے باہر کسی اور جنگ میں بدری صحابہ کرامؓ کی اتنی بڑی تعداد اب تک شامل نہیں ہوئی تھی۔ اس جنگ میں عکرمہؓ بن ابو جہل، کہ جو ابو جہل کے بیٹے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو ایمان کی دولت سے سرفراز کیا تھا، بھی مسلمان فوج میں کمانڈر کی حیثیت سے متعین تھے۔حضرت ضرارؓ،ابو عبیدہؓ ، خالدؓ ، قیس بن ہبیرہؓ، سعید بن زیدؓ، معاذ بن جبلؓ، عمرو بن العاصؓ، یزید بن ابی سفیانؓ، شرحبیل بن حسنہؓ، غرض یہ کہ اسلام نے اپنے تمام جگر گوشے اس جنگ کیلئے میدان میں بھیج دیئے تھے۔ اسی وجہ سے مسلمانوں کو یہ خطرہ لاحق تھا کہ اگر اس جنگ میں مسلمانوں کو شکست ہوئی تو رومی بدلہ لینے کیلئے مدینہ منورہ کو اگلا ہدف بنائیں گے۔
مسلمانوں کے پاس گھڑ سوار فوج کم تھی، تقریباً بارہ ہزار۔ پیادہ فوج زیادہ تھی۔ مسلمان تبھی کامیاب ہوسکتے تھے کہ جب گھڑسوار فوج کو بہت ہی منظم طریقے سے استعمال کیا جاتا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے یہاں پرایک نئی حکمت عملی اپنائی۔ اس سے پہلے گھڑ سوار فوج کو اس طرح کسی اور جنگ میں استعمال نہیں کیا گیا تھا۔حضرت خالدؓ کی حکمت عملی کی بنیاد گھڑ سوار دستوں کی تیز رفتار حر کت،دشمن فوج کے پہلوؤں پر حملہ کرنا،اپنی پیادہ فوج پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو روکنا اوردشمن کے قلب کو کمزور کرنا تھا۔
رومیوں اور مسلمانوں کے مابین گھمسان کی جنگ ہوئی۔ تیسرے دن حالت یہ تھی کہ رومیوں کے دباؤ کی وجہ سے مسلمان میسرہ، قلب کی جانب سمٹ گیا۔اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آرمینی اور رومی سپاہی بڑی تعداد میں مسلمان لشکر کی پشت میں موجود، مسلمان عورتوں کے خیموں تک پہنچ گئے۔ یہ بہت نازک موقع تھا،کیونکہ اس موقع پر تھوڑا سا مزید دباؤ مسلمانوں کو شکست سے دوچار کرسکتا تھا۔ شام میں لڑی جانے والی جنگی مہمات میں پہلی مرتبہ مسلمان شکست کے اتنا قریب آئے تھے ،لیکن اللہ کے فضل و کرم سے رومی جرنیل اس موقع سے بھرپور فائدہ نہ اٹھا سکے اور دشمن کی گھڑ سوار فوج وقت پر اپنی پیادہ فوج کی کمک نہ کرسکی اور نتیجتاً مسلمانوں نے دشمن کے اس حملے کا دباؤ توڑ دیا۔
اس موقع پر ایک اور غیر معمولی واقعہ ہوا۔ مسلمان عورتوں نے اپنے خیموں سے ڈنڈے نکال لیے اور ان مسلمان فوجیوں کو مارنا شروع کردیا کہ جو دشمن کے دباؤ کی وجہ سے پیچھے ہٹ رہے تھے۔یوں انہوں نے مجاہدین کو غیرت دلائی کہ جاؤ اور مردوں کی طرح لڑو۔اب فیصلہ کن مرحلہ آن پہنچا تھا۔
عکرمہؓ بن ابو جہل نے زور سے آواز لگائی اور کہا کہ ’’کون ہے کہ جو موت پر میرے ساتھ بیعت کرتا ہے؟‘‘ یعنی حالات اس نہج پر پہنچ چکے تھے کہ اب جانثاری کا وقت آن پہنچا تھا۔مسلمان فوج کے ۴۰۰ مجاہدین نے عکرمہؓ کی آواز پر لبیک کہا اور پھر نہایت سرفروشی اور جانبازی سے میدان جنگ میں کود پڑے۔ تب تاریخ نے دیکھا کہ جنگ کا پانسہ پلٹنا شروع ہوگیا اور مسلمان کہ جو پسپا ہو رہے تھے، دشمن کو واپس پیچھے دھکیلنے لگے۔اب پہلی مرتبہ جنگ کی بازی مسلمانوں کے حق میں پلٹنے لگی تھی۔
اس موقع پرحضرت خالدؓ نے اپنی فوج کو از سر نو ترتیب دیا اور اپنے گھڑ سوار دستوں کا استعمال شروع کیا۔یوں دشمن کی فوج دباؤ کا شکار ہوگئی۔ دشمن کی گھڑ سوار فوج جب مسلمانوں کو روکنے کیلئے آگے بڑھی، تو مسلمان گھڑ سواروں نے ان کا راستہ روک کر انہیں پیچھے ہٹانا شروع کیا۔ جب دشمن کے گھڑ سوار دستے پیچھے ہٹنے لگے، تو مسلمانوں کی پیادہ فوج آگے بڑھنے لگی اور مسلمان گھڑ سوار دستوں نے دشمن کی پیادہ فوج پر شدید حملے شروع کردیئے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے ان حربوں نے دشمن کو ششدر کرکے رکھ دیا۔ ان کی صفیں ایک ایک کرکے اکھڑناشروع ہوگئیں۔ اس سے ایک دن قبل کچھ اور واقعات بھی ہوچکے تھے۔ مسلمان جنگی شوریٰ میں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ دشمن کا مقابلہ کس طرح کیا جائے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ نے غسانی ڈویژن کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا تاکہ مسلمان فوج پر دباؤ کم کیا جاسکے۔ غسانی ڈویژن ساٹھ ہزار عرب عیسائیوں پر مشتمل تھا کہ جو رومیوں کا ساتھ دے رہے تھے اوران کو الگ تعینات کیا گیا تھا۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے۳۰ مجاہدین کو ساتھ لیا اور مقابلہ کرنے چل دیئے۔جنگی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ ساٹھ ہزار کے مقابلے میں ۳۰ مجاہدین کم ہیں، آپؓ ۶۰ مجاہدین لے جائیں ! ۶۰ مجاہدین ساٹھ ہزار عیسائیوں کو قتل تو نہ کرسکے، مگر انہوں نے کفار کو نفسیاتی دباؤ کا شکار کردیا کہ جس نے آئندہ دنوں میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔
جنگ کے پانچویں دن رومی فوج تھک کر چور ہو چکی تھی اور ان کے جرنیل ہمت ہار چکے تھے۔ اس کا اندازہ مسلمانوں کو اس بات سے ہوا کہ دشمن کے جرنیل نے حضرت ابو عبیدہؓ کو یہ پیغام بھیجا کہ ہم جنگ کو چند دنوں کیلئے روکنا چاہتے ہیں تاکہ امن معاہدے کی شرائط طے کی جاسکیں۔حضرت خالد بن ولیدؓ نے دشمن کی اس کمزوری کو بھانپ لیا اور صلح کے مشورے کو فوراً رد کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اب اس قضیے کو ختم کرنے میں جلدی کرنی چاہیے، لہذا اب وقت ضائع نہیں کیا جاسکتا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کو اندازہ ہوچکا تھا کہ اب فیصلہ کن جنگ کا وقت آن پہنچا ہے۔ آپؓ نے اپنے تمام گھڑ سوار دستوں کو ایک جگہ جمع کیا۔ آٹھ ہزار مسلمان گھڑ سوار ایک صف میں آگئے۔ آپؓ نے پانچ ہزار گھڑ سوار رومیوں کی پشت کی جانب روانہ کردیئے۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کو یہ یقین ہوچلا تھا کہ وہ اگلے دن اس جنگ کو پایہء تکمیل تک پہنچادیں گے اور رومی یقینی طور پر فرار کا راستہ اختیار کریں گے۔ ان کے تین اطراف میں دریا تھا، اور پشت پر صرف ایک طرف خشکی کا راستہ تھا کہ جہاں پر اب حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضرت ضرارؓ کو پانچ ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ تعینات کردیا تھا، تاکہ دشمن کے فرار کے تمام راستے مسدود کردیئے جائیں۔
جنگ کے شروع ہونے سے قبل ہی اس تعیناتی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت خالد بن ولیدؓ کے اندازے کس قدر صحیح اور مکمل تھے۔ پھر وہی ہوا کہ جس کی توقع تھی۔ چھٹے دن جب ’’اللہ کی تلوار‘‘ چلنا شروع ہوئی تو رومی اس کے حملے کو سہہ نہ پائے۔پہلی مرتبہ ساری رات لڑائی جاری رہی۔آنے والے طویل عرصے تک مسلمانوں میں اس خوفناک رات کے قصے عام رہے۔ ہزاروں کی تعداد میں دشمن کے سپاہی قتل ہوئے۔ حتٰی کہ انکا سپہ سالار بھی اس جنگ میں مارا گیا۔حضرت خالد بن ولیدؓ اور تمام مسلمانوں نے بے دریغ دشمنوں کا قتل عام کیا اور رومی فوج کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ اب عام پسپائی کا آغاز ہوچکا تھا۔ جنہوں نے بھی فرار ہونے کی کوشش کی ان کیلئے حضرت ضرارؓ اپنے پانچ ہزار گھڑ سواروں کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے بھی فرار ہونے والے سپاہیوں کو تہہ تیغ کرنا شروع کردیا۔
حضرت ابو عبیدہؓ نے جب حضرت خالد بن ولیدؓ کو جیت کی مبارکباد دی تو انہوں نے اس فتح کو’’فتح الفتوح‘‘ یعنی فتوحات کی فتح کہا۔ یقیناً یہ سچ تھا کیونکہ جب سے مسلمانوں نے اپنی سرحدوں سے باہر جنگی مہمات شروع کی تھیں، تب سے لیکر اب تک، مسلمانوں نے اتنی خونریز جنگ پہلے کبھی نہ لڑی تھی۔اگرعکرمہؓ بن ابو جہل کی پکار پرچارسو مجاہدین موت پر بیعت نہ کرتے تو شاید مسلمانوں کو اتنی فیصلہ کن فتح حاصل نہ ہوتی۔حضرت عکرمہؓ اور ان کے بیٹے شدید زخمی تھے اور بعد میں ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھی شہید ہو گئے۔
فتح کی خوشخبری جب مدینہ پہنچی تو سب مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور انہوں نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔اب شام کا کوئی قلعہ مسلمانوں کیلئے رکاوٹ نہیں تھا۔ بازنطینی حکمران ہرقل نے جب اپنی شکست کا احوال سنا تو اپنے اہل و عیال اور سازو سامان کے ہمراہ قسطنطنیہ فرار ہوگیا اور جاتے جاتے شام کی زمین سے مخاطب ہو کر کہا :’’ اے شام! تجھے جدائی پانے والے کا سلام، تجھے الوداع کہنے والے کا سلام کیونکہ دکھائی نہیں دیتا کہ وہ کبھی لوٹ کر تیری طرف آئے گا۔کوئی رومی کبھی تیری طرف نہیں لوٹے گا، مگر ڈرتے ہوئے۔ اے شام ! تجھ پر سلام۔ کتنا اچھا ہے یہ ملک جو دشمن کے ہاتھ لگا ہے!‘‘
اب آخری قلعہ بیت المقدس تھا کہ جسے مسلمانوں کو فتح کرنا تھا۔تمام مسلمان دستے حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ اور حضرت خالد بن ولیدؓ کی قیادت میں بیت المقدس پہنچے۔ مسلمانوں نے بیت المقدس کا محاصرہ کرلیا، مگر وہاں کے لوگوں نے جان لیا تھا کہ اب جنگ محال ہے، لہذا انہوں نے امن کی شرائط طے کرنا شروع کردیں۔ انہوں نے یہ شرط عائد کی کہ حضرت عمرؓخود مدینہ سے آکر بیت المقدس کا قبضہ اپنے ہاتھ میں لیں۔مسلمانوں نے یہ شرائط تسلیم کرلیں۔
حضرت عمرؓ ایک غلام اور اپنے اونٹ کو ساتھ لے کرمدینہ سے بیت المقدس کی جانب روانہ ہوئے۔ اسی موقع پر وہ مشہور واقعہ پیش آیا کہ آدھے راستے حضرت عمرؓ خود اونٹ پر سواری کرتے اور آدھے راستے ان کا غلام اونٹ پر سوار ہوتا اور وہ پیدل چلتے۔جب آپؓ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حالت یہ تھی کہ آپؓ کی پیدل چلنے کی باری تھی اور آپؓ کا غلام اونٹ پر سوار تھا۔اس شان سے مسلمانوں کے خلیفہ اور سپہ سالار اعظم ، شام اور عراق کے فاتح، بیت المقدس میں داخل ہوئے۔ عیسائیوں کی کتابوں میں بھی یہ درج تھا کہ جو شخص بیت المقدس فتح کرے گا، وہ اسی شان سے شہر میں داخل ہوگا کہ وہ پیدل اور اسکا غلام اونٹ پر سوار ہوگا۔ پھر انتہائی امن و امان سے پورا شہر حضرت عمرؓ کے حوالے کردیا گیا۔
حضرت عمرؓ ایک گرجے میں داخل ہوئے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ پادری نے آپؓ سے کہا کہ آپ ادھر ہی نماز ادا کرلیں۔ آپؓ نے انکار فرماتے ہوئے کہا کہ آج اگر میں نے یہاں نماز ادا کرلی تو مسلمان اس گرجا گھر کو مسجد میں تبدیل کردیں گے۔ پھرحضرت عمرؓ نے گرجا گھر سے باہر آکر نماز ادا کی اور وہ جگہ کہ جہاں آپؓ نے نماز پڑھی، وہاں بعد میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی کہ جو آج بھی مسجد عمر کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔ کئی سوسال بعد کہ جب عیسائیوں نے صلیبی جنگوں کے دوران مسلمانوں سے بیت المقدس دوبارہ چھینا تو مسجد عمر ہی وہ مقام تھا کہ جہاں مسلمانوں کا اتنا قتل عام کیا گیا کہ مسلمانوں کا خون عیسائیوں کے گھوڑوں کے گھٹنوں تک جا پہنچا ۔
اسکے برعکس جب حضرت عمرؓ نے بیت المقدس فتح کیا تھا تو ہر شخص کو امان دے دی گئی تھی۔جن مقامی لوگوں نے قسطنطنیہ جانے کی خواہش ظاہر کی، ان کے لیے سمندر تک تمام راستوں پر پہرے بٹھا دیئے گئے تاکہ کوئی بھی ان کا مال و اسباب نہ لوٹ سکے اور نہ ہی ان کی عزت پر ہاتھ ڈال سکے۔جو امن کی شرائط کے تحت جانا چاہتے تھے،ان تمام لوگوں کو شان سے رخصت کردیاگیا۔بیت المقدس کی فتح کے بعد صرف حمص کا شہر ہی باقی بچا تھا، جوبہت جلد ہی مسلمانوں نے دوبارہ فتح کرلیا۔ حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ نے حمص کو ہی اپنا مرکز بنایا۔
حضرت عمرؓ بیت المقدس کی فتح کے بعد واپس مدینہ تشریف لے آئے۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد ایک اور فتنہ کھڑا ہوگیا۔رومیوں نے دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ مصر کی طرف سے شام پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی۔ ان کا ہدف حمص کا شہر تھا کہ جہاں حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت ابو عبیدہ بن جراحؓ اپنے چھوٹے سے لشکر کے ساتھ قیام پذیر تھے۔ مسلمانوں میں گھبراہٹ اور پریشانی پیدا ہوگئی۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے جنگی شوریٰ طلب کی اور وہاں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پوری سلطنت سے مدد طلب کی جائے۔ خلیفہ کو بھی خط لکھے گئے۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ قلعہ بند ہو کر لڑا جائے گا۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے سامنے جب یہ فیصلہ رکھا گیا تو وہ جلال میں آگئے۔ آپؓ نے قسم کھائی کہ ہم کبھی بھی قلعہ بند ہو کر لڑائی نہیں کریں گے اور حضرت ابو عبیدہؓ سے اجازت مانگی کہ ہم میدان میں جا کر دشمن کا مقابلہ کریں ۔ ہم اس سے پہلے بھی بڑے بڑے لشکروں کو شکست دے چکے ہیں،یہ تو معمولی بات ہے۔ تمام شہ سواروں نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا۔حضرت ابو عبیدہؓ نے ان کو کھلے میدان میں جانے کی اجازت دے دی، لہذا مسلمانوں نے حمص سے باہر نکل کر اپنی صفیں ترتیب دینا شروع کیں۔ حضرت خالد بن ولیدؓ کو ’’مقدمتہ الجیش‘‘ یعنی ہر اول دستے کے ساتھ آگے بھیجا گیاتا کہ آگے جا کر دشمن کی نقل و حرکت کاپتہ لگائیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ اپنے چھوٹے سے ہر اوّل دستے کے ساتھ صرف صورتحال کا جائزہ لینے گئے تھے، مگر پھر اس طرح دشمن پر ٹوٹ پڑے کہ دو لاکھ کے لشکر کو مٹا کر رکھ دیا۔ جب حضرت ابو عبیدہؓ دشمن سے مقابلے کے لیے صفیں ہی ترتیب دے رہے تو حضرت خالدبن ولیدؓ نے انہیں واپس آکر اطلاع دی کہ دشمن کا صفایا کیا جاچکا ہے ۔حضرت ابو عبیدہؓ اللہ کے حضور سجدے میں گر گئے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ ’’سیف اللہ نے ایک بار پھر دین کی آبرو بچالی‘‘
حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کے بعد حمص میں ہی قیام فرمایا مگر نائب کمانڈر کی حیثیت سے ان کا عہدہ ابھی بھی برقرار تھا۔ آپؓ چونکہ اعلیٰ ظرف تھے، یتیموں، مسکینوں اور بیواؤں کی مدد کرنے والے تھے،لہذاآپؓ مال غنیمت میں سے اپنا حصہ بھی تقسیم کردیا کرتے ، لیکن کچھ لوگوں نے حضرت عمرؓ سے آپؓ کی شکایت کردی کہ حضرت خالدؓ مال خرچ کرنے میں اسراف کرتے ہیں۔
اس سے پہلے بھی جب حضرت خالد بن ولیدؓ کی شکایتیں حضرت عمرؓ تک پہنچی تھیں تو آپؓ نے ان کو سپہ سالاری کے عہدے سے معزول کردیا تھا۔ اس معزولی کی وجہ یہ بھی تھی کہ لوگ حضرت خالد بن ولیدؓ پر بہت زیادہ یقین کرنے لگے تھے۔ حضرت عمرؓ نے یہ سوچ کر ان کو سپہ سالاری کے عہدے سے معزول کردیا کہ کہیں اللہ پر بھروسے اور توکل میں کمی نہ آجائے۔اس مرتبہ بھی شکایت کے بعد حضرت عمرؓ نے ان کو جنگی خدمات ادا کرنے سے منع فرمایا اور مدینہ طلب کیا ،تاکہ ان سے اس معاملے پر باز پرس کی جاسکے۔ اس سے مسلمانوں میں کافی اختلاف پیدا ہوگیا، لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ نے ہر موقع پر خلیفہ کے حکم کی اطاعت کی۔ آپؓ نے اپنی باقی زندگی حمص میں گزارنے کا فیصلہ کرلیا۔۲۱ ہجری میں آپؓ نے حمص میں ہی انتقال فرمایا۔آپؓ کے انتقال کی خبر جب مدینہ منورہ پہنچی تو ہر گھر میں کہرام مچ گیا۔حضرت عمرؓ خود بھی بہت رنجیدہ ہوئے اور اہل مدینہ کو بھی سوگ منانے کی اجازت دی۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کے ترکے میں صرف ہتھیار، تلواریں، خنجر اور نیزے ہی تھے۔ ان ہتھیاروں کے علاوہ ایک غلام تھا کہ جو ہمیشہ آپؓ کے ساتھ رہا کرتا ۔اللہ کی یہ تلوار کہ جس نے دو عظیم سلطنتوں ( رومی اور ایرانی) کے چراغ بجھائے،وفات کے وقت ان کے پاس کچھ بھی نہ تھا۔ آپؓ نے جو کچھ بھی کمایا،وہ اللہ کی راہ میں خرچ کردیا۔ ساری زندگی میدان جنگ میں گزار دی۔حضرت خالدؓ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سارے بیٹوں اور بیٹیوں سے نوازا تھا، مگر آپؓ کی اولاد کا بڑا حصہ آپؓ کے انتقال کے بعد شام میں طاعون کی بیماری کے باعث شہید ہوگیا۔حضرت ابوعبیدہؓ بھی اسی طاعون کی بیماری سے شام میں شہید ہوئے تھے۔
حضرت خالدؓ کی جنگی فتوحات کے بارے میں صحابہؓ نے گواہی دی کہ ان کی موجودگی میں ہم نے شام اور عراق میں کوئی بھی دو جمعے ایک شہر میں نہیں پڑھے اور اگلا جمعہ نئے فتح کیے ہوئے شہر میں ادا کرتے، یعنی ہر دو جمعوں کے درمیانی دنوں میں ایک شہر ضرور فتح ہوتا تھا۔ بڑے بڑے جلیل القدر صحابہؓ نے حضورﷺ سے حضرت خالدؓکے روحانی تعلق کی گواہی بھی دی۔ حضرت ابو طلحہؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کی وفات کے بعد صحابہؓ کو واقعہ سنایا کہ آپؓکو ایک بار چالیس مجاہدین کے ساتھ رومیوں کے علاقے میں بھیجا گیا۔ وہ سب رومیوں کے بہت بڑے لشکر کے نرغے میں آگئے۔ صورتحال بہت کشیدہ ہوگئی ۔ اس موقع پر حضورﷺ حضرت ابو عبیدہؓ کے خواب میں تشریف لائے اور فرمایا کہ فلاں جگہ خالد بن ولیدؓ پریشانی میں ہیں، جاؤ ان کی مدد کرو۔حضرت ابو عبیدہؓ اپنے لشکر کے ہمراہ وہاں گئے اور ان کی مدد کی۔ یہ حضورﷺ کے ساتھ آپؓ کے روحانی تعلق کی صرف ایک مثال ہے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے حضورﷺکے بال مبارک کہ جو آپؓ نے حج کے موقع پر سنبھال لیے تھے ،کواپنی ٹوپی میں پرو رکھا تھا۔ یوں حضورﷺ کا لمس ہمیشہ آپؓ کے ہمراہ رہا۔ وہی لمس ان کی اصل طاقت تھی کہ جس کا وہ خود بھی اعتراف کرتے تھے ۔
حضرت خالد بن ولیدؓ کی زندگی پر نظر دوڑائی جائے اور اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ کون سے عوامل تھے کہ جن کی وجہ سے قبیلہ قریش کا ایک جنگجو، عالم اسلام کا ایک عظیم سپہ سالار، کمانڈر اور عسکری حکمت ساز بنا ،تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کی جنگی حکمت عملی بہت غیر معمولی تھی۔ انہوں نے جو جنگی طریقہ اختیار کیا وہ اس زمانے کے لحاظ سے کئی سو سال آگے کاتھا۔ ان کی جنگی حکمت عملی اس وقت کے اعلیٰ ترین اذہان بھی نہیں سمجھ پاتے تھے ۔ان کی ذاتی دلیری، جرأت، شجاعت، بہادری، خطرات میں کود پڑنے کی عادت، جنون اور عشق کی حد تک یہ شوق کہ وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں، وہ تمام عوامل تھے کہ جنہوں نے آپؓ کو ’’سیف اللہ‘‘ بنا دیا۔ بعض کتابوں میں تو یہ بھی لکھا ہے کہ آپؓ صاحبِ کشف و کرامت مجاہد تھے۔ اس سے بڑی کرامت اور کیا ہوسکتی ہے کہ انہوں نے ۶۰ مجاہدین کے ساتھ ۶۰ ہزار کے لشکر پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ کونسے ایسے راز تھے کہ جو ان لوگوں کو معلوم تھے اور آج کے تاریخ دان ان سے ناواقف ہیں؟ وہ کونسی ایسی قوتیں تھیں کہ جو ان کے ساتھ کام کرتیں، مگر آنکھوں سے نظر نہیں آتی تھیں! اگر ایسی قوتوں کا کوئی وجود نہ ہو تو بظاہر ۶۰ ہزار کے لشکر کے مقابلے میں ۶۰مجاہدین لے کر جانے کا فیصلہ مجذوبیت کے سوا کچھ نہیں ہوسکتا۔ لیکن حضرت خالد بن ولیدؓ کو معلوم تھا کہ ان کی پشت پر کونسی روحانی قوتیں کارفرما ہیں۔
اسکے بعد کی اسلامی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو وہ تمام غازی کہ جن کے تاریخ میں نام سنہرے حروف سے لکھے گئے اور جنہوں نے سلطنتوں کو فتح کیا ،وہ صرف ظاہری اسباب پر بھروسہ نہیں کرتے تھے ،بلکہ کچھ غیر معمولی روحانی قوتیں بھی ان کا ساتھ دیتی تھیں ۔یہی عنصر جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کرتا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ وہ پہلے مجاہد تھے کہ جنہوں نے عالم اسلام کی سرحدیں جزیرہ عرب سے باہر پھیلانے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ آپؓ کے بعد آنے والے سینکڑوں غازی آپؓ کے نقش قدم پر چلے۔ یوں عالم اسلام کی سرحدیں وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی گئیں۔ ان تمام لوگوں کے ساتھ جنگی حکمت عملی، دلیری، بہادری اور شجاعت جیسی خصوصیات وابستہ تھیں۔ ایک اور قدرمشترک’’ روحانی قوت‘‘ تھی کہ جو ان کو مزید پر اسرار بناتی تھی۔
عالم اسلام میں آج بھی اگر کوئی وجود تبدیلی لانا چاہتا ہے تو جب تک کہ اس کے وجود میں وہ پر اسرار عنصر شامل نہیں ہوگا کہ جس کا علامہ اقبالؒ نے ذکر کیا ہے وہ یہ کام سرانجام نہیں دے سکے گا۔
یہ غازی، یہ تیرے پر اسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے را

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

حضرت خالدبن ولیدؓ اردو کہانی

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,


hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں,ج, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,