سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 4

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 4

وہی سرسراتے پردے خوبصورت چھپر کھٹ نازک سا فانوس، ہر طرف خوشبوئیں اور خوشگوار سا اندھیرا
"بیٹھو میں لباس تبد یل کر لوں۔“ ملکہ شاطو قامران کو بٹھا کر پردوں کے پیچھے غائب ہوگئی۔ کچھ دیر بعد جب وہ برآمد ہوئی تو زرق برق لباس اور سرسے تاج غائب تھا۔ اس کے جسم پر ایک باریک سا گاؤن تھا اور بال کھلے ہوئے تھے۔ خوبصورت سیاہ اور لمبے بال۔ وہ ایک ادا سے قامران کی طرف بڑھی۔ پھر وہ چھپر کھٹ کے پاس پہنچ کر رک گئی۔ کامران اس کو بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہا تھا وہ اس کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے تھا۔

وہ چھپر کھٹ پر شان سے بیٹھی زلفوں کو جھک کر پیچھے کیا۔ "آجا۔‘ ملکہ شاطو نے خواہش بھری آنکھوں سے اسے بلایا۔ کامران بہت تیزی سے اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں سرخی بڑھتی جا رہی تھی۔" جب وہ چھپر کھٹ کے نزدیک پہنچا تو اس کا دہن لعاب سے بھر چکا تھا۔ وہ تھوڑا سا جھکا۔
"آخ تھو۔" ایک آواز خوابگاہ میں گونج گئی۔
کامران کے منہ سے نکلا ہوا ڈھیر سارا تھوک ملکہ کے جسم پر پڑا۔
"گندی عورت" کامران نے انتہائی نفرت سے کہا اور خوابگاہ سے نکل گیا۔ ملکه ناگن کی طرح بل کھا کر اٹھی۔ شیرنی کی طرح آواز والے طاق کی طرف گئی۔ طاق میں منہ دے کر زور سے کہا۔ ”قامران جانے نہ پائے‘‘
یہ حکم پورے محل میں گو نج گیا۔ دیواریں جو اب تک اپنے کانوں کے لیے مشہور میں اب بول اٹھیں
کامران کو سواروں نے جلدي قابو میں کر کے ملکہ کے سامنے پیش کر دیا ۔ ملکہ جو اب مہر نہیں قہر تھی اسے دیکھ کر پھنکاری
"اس خبیث کو صحرائے سرخ کے حوالے کر دو۔ ہاتھ پیر باندھنا نہ بھولنا۔ وہاں یہ ایسی ازيت اک موت مرے گا کہ آخری لمحے تک ملکہ شاطو کو یاد رکھے گا...........جاؤ اسے لے جاؤ"

ملکه حکم صادر کر کے ایک لمحے کو بھی نہ رکی۔ کامران اسے بڑے صبر سے ناگن کی طرح بل کھاتے ہوئے جاتے دیکھتا رہا۔ پھر ایک دم منظر بدلا۔ اسے ہر طرف ریت اڑتی ہوئی نظر آئی۔ چند لمحوں بعد اسں ریت کے بادل سے چاند کا برآمد ہوئی۔ وہ اونٹنی پر بڑی برق رفتاری سے سامنے کی طرف بڑھ رہی تھی۔ وہ نزدیک آ کر رک گئی۔ اس کے رکتے ہی ہر چیز ساکت ہوگئی۔
اب کامران کے سامنے چاندکا کی ساکت تصور کے سوا کچھ نہ تھا۔ اس ساکت تصویر میں جو خودبخود متحرک ہو جاتی تھی کامران اپنی زندگی کے کئی اہم لمحے دیکھ چکا تھا۔ یہ سب کیسے ہوتا ہے کیونکر ہو جاتا ہے یہ سوچنے سے وہ قاصر تھا۔
تصویر کے پردے پر وہ خود کو متحرک دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔ وہ باتیں جنہیں اس نے راز سمجھ رکھا تھا کہ نیلابو اور اس کے سوا کوئی اور ان سے واقف نہیں ریت کی دیوار ثابت ہوئی تھیں۔ کوئی اور بھی ان سے واقف تھا؟ اور بڑی اچھی طرح۔ وہ کون ہے؟ ........... اور اسے اس کے ماضی سے اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ یہ تھا وہ سوال جس کا جواب فوری درکار نہ تھا۔

چاندکا نے اسے بتایا تھا کہ وہ اس کی زندگی کے ایک ایک لمحے سے واقف ہے اور قدرت رکھتی ہے کہ اس کے ماضی کے کسی بھی حصے کو متحرک انداز میں دکھا سکے۔ یہ وہ ٹھیک کہتی تھی.....اس نے ایسا کر دکھایا تھا لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ چاندکا کو اس کے ماضی سے اتنی دلچسپی کیوں ہے وہ سوچتا ہوا کمرے سے باہر نکلا۔ اسے پوری امید تھی کہ اب اسے خیمہ نظر نہیں آئے گا۔ وہ اب تک غائب ہو چکا ہوگا لیکن ایسا نہ ہوا۔ تصویر والے کمرے کے باہر خیمہ ابھی تک موجود تھا اس کی تمام چزیں بدستور موجود تھیں۔ وہ بلی بھی ابھی وہیں آرام فرما تھی۔ کامران کو خیمے کے اندر آتے دیکھ کر بلی چونک کر اٹھی اور تیزی سے خیمے کے باہر نکل گئی۔ کامران نرم اور دبیز قالین پر لیٹ گیا۔ ای خیمے نے اس کا ذہن اس رات کی طرف موڑ دیا جبکہ ملکہ شاطو رات گئے اس کے خیمے میں چلی آئی تھی اور اس سے شعر سنانے کی فرمائش کی تھی۔
پھر جیسے اسے سب کچھ یاد آ گیا۔

غربان سے صحرائے سرخ تک سات دن کا سفر، سفر کی صعوبتیں اسے ایک ایک کر سب یاد آنے لگا۔ وہ خدا خدا کر کے صحرائے سرخ پہنچے تو یہاں سے ازیتوں کا ایک نیا سفر شروع ہو ظالم تو اسے ریت کی صلیب پر چڑھا کر چلے گئے ۔ ملکہ کو جب یہ اطلاع ملی ہوگی کہ اسے صحراے سرخ کے حوالے کر دیا گیا ہے تو کتنی خوش ہوئی ہوگی۔ اس کے کلیجے میں ٹھنڈک پہنچی ہوگی۔
صحرائے سرخ کے عذاب سے نکلنا آسان نہ تھا۔ وہ تو چاندکا فرشتۂ رحمت بن کر نازل ہوئی ورنہ اب تک گدھ اس کی بوٹی بوٹی چٹ کر چکے ہوتے۔ گدھوں کا خیال آتے ہی اس کے جسم میں جھرجھری سی پھیل گئی۔ وہ اس اذیت ناک خیال کا رخ موڑنے کے لیے نیالابو کو اپنے تصور لایا
نیلابو سے بچھڑے کافی دن ہو چکے تھے۔ جانے وہ کیسی ہوگی۔ اس کے بارے میں کیا سوچتی گی۔ ممکن ہے اس کے دل میں غلط فہمی پیدا ہوگئی ہو کہ وہ ملکہ شاطو کا ہی ہو کر رہ گیا۔ اس کے محل کی رنگینیوں میں کھو گیا۔ مرد آخر ایسے ہی ہوتے ہیں۔ اسے کیا معلوم کہ وہ کس کس عذاب سے گزرا ہے۔ نیلابو سے وفاداری کی قسم نے اسے کیسی کیسی اذیتوں سے ہمکنار کیا تھا۔
کامران خوش تھا کہ وہ ملکہ شاطو کی شر انگیز تر غیبات کے باوجود پاکیزگی کا دامن اپنے ہاتھ میں مضبوطی سے پکڑے رہا اور ایسا کرکے اس نے نیلابو پر ہرگز احسان نہیں کیا تھا۔ یہ ایک امتحان تھا اس سے وہ سرخرو گزرا تھا۔ سوچتے سوچتے اس کی آنکھوں میں نیند بھرنے لگی۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑ کر سوگیا۔ نیند میں اسے عجیب وغریب خواب دکھائی دیتے رہے۔ اس نے کبھی خود کو اپنے قبیلے میں، کبھی ملکہ کے محل میں گھومتے ہوئے محسوس کیا۔ کافی دیر بعد جب اس کی آنکھ کھلی تو ڈھیر سارے خوابوں میں سے ایک خواب سب پر حاوی تھا اور اسے یاد رہ گیا۔ اس نے نیلابو کو بڑی پریشانی کے عالم میں دیکھا وہ اسے کہہ رہی تھی۔
"تم یہاں پہ غفلت کی نیند سوئے ہو تمہیں معلوم ہی نہیں کہ تمہاری نیلابو کن اذیتوں سے گزری۔“
نہیں نیلابو نہیں ایسا نہیں ہوسکتا اگر تمہیں کچھ بھی ہوا میں اس دنیا کو آگ لگادوں گا, وہ اپنے آپ بڑبڑانے لگا۔ سائری دیوتا تمہیں اپنی امان میں رکھے۔ اچانک کامران کو محسوس ہوا جیسے کوئی خیمے میں داخل ہوا ہو۔ کنوارے بدن کی خوشبو ساتھ ہی تھی۔ "چاندکا"

"ہاں یہ میں ہوں لیکن تم نے مجھے کیسے پہچان لیا جبکہ میں ابھی تک ظاہر بھی نہیں ہوئی۔" چاندکا کی آواز آئی۔
"تم آتی ہو تو ایک خوشبو سی پھیل جاتی ہے۔ یہ خوشبو پھولوں کی مہک سے مختلف ہے۔ یہ تو کسی لڑکی کے کنوارے بدن سے اٹھتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ کیا تمہیں اس خوشبو کا احساس نہیں؟" کامران نے آواز کے اندازے سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
ہاں تم چاندکا ہو چاند ہو.....چاند بیچارے کو کیا معلوم کہ اس کے دم سے کتنی دنیائیں روشن ہیں"
"ہوگئی شاعری شروع۔" "چاندکا تم سامنے کیوں نہیں آتی؟ تم نے اپنے وجود کو پہلے ہی کالے لبادے میں لپیٹا ہے ۔ اب وہ وجود بھی غائب ہوگیا یہ تو ظلم ہے ظلم"
”لو“ یہ کہ کر چاند کا ظاہر ہوگئی۔ کامران نے دیکھا کہ وہ اس کے قریب ہی کالے لبادے میں لپٹی بیٹھی تھی۔ اتنے نزدیک کہ وہ اسے ہاتھ بڑھا کر چھو سکتا تھا۔
"میری طرف ہاتھ نہ بڑهانا" تنبیہ کی گئی ۔
"ایسی عادتیں نہیں مجھ میں" کامران نے اس کالے وجود کو دیکھتے ہوئے کہا۔
"بڑا اعتماد ہے خود پر“
"وہ تو ہے ... اور اس کی گواہ تم خود بھی ہو۔ تم جو میری زندگی کے لمحے لمحے سے واقف ہو"
"مرد پھر مرد ہوتا ہے۔" اسے بدلنے میں دیر نہیں لگتی
"نیلابو بھی یہی کہا کرتی تھی لیکن سات سال گزر جانے کے بعد اب وہ ایسا کہنے کے قابل نہیں رہی۔"
"تم نے واقعی اس پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ تم چاہتے تو اس سے پہلی ہی رات چھٹکارا

حاصل کر سکتے تھے۔ تم نے نہ صرف یہ کہ اسے چھوڑنا پسند نہیں کیا بلکہ اب تک زندگی بھی بڑی پاکیزگی سے گزاری ہے۔"
"نیلابو سے میں شدید محبت کرتا ہوں۔ یہ سب میں نے احسان جتانے کے لیے نہیں بلکہ محبت میں کیا ہے۔"
”تم واقعی قابل تعریف ہو تم پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔"
”چاندکا۔ میں غربان پہنچنا چاہتا ہوں۔ گھر سے نکلے ہوئے مجھے کافی دن ہو گئے ہیں۔" کامران نے کہا۔
"کیا تم مجھے وہاں تک پہنچانے کا بندوبست کرسکتی ہو؟"
"ہاں کیوں نہیں یہ کام تو میں چٹکیوں میں کر سکتی ہوں
"پھر چٹکی بجاؤ" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"آنکھیں بند کرو۔" چاندکا کی آواز میں مسکرا ہٹ تھی۔
"لو" ۔ اس نے آنکھیں بند کر کے گردن اوپر اٹھائی۔
تب اسے ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے اس کا سر پکڑ کر زور سے ہلا دیا ہو۔
اس نے چاند کا کے کہنے پر جب آنکھیں کھولیں تو خود کو ایک حوض کے کنارے کھڑا پایا۔
”حوض میں اترو" چاندکا نے حکم دیا
"سنو" چاند کا اتنا کہہ کر رک گئی
"۔ ہاں۔ سناؤ۔“ قامران بات سننے کے لیے بے تاب تھا۔
"اپنے علاقے میں پہنچ کر اگر تمہیں کوئی اندوہناک خبرسننی پڑے تو ہمت س کام لینا صبر کرنا......میں تمہارے ساتھ ہوں اور ہمیشہ رہوں گی۔ تم پریشان مت ہونا....اچھا اب جاؤ“ کامران ابھی کچھ جواب بھی نہ دے پایا تھا کہ اس نے محسوس کیا جیسے کوئی اس کی ٹانگ پکڑ کر گھسیٹ رہا ہے
وہ نیچے اور نیچے پانی میں ڈوبتا جا رہا تھا۔
یه کیفیت چند لمحوں تک رہی یا اس نے محسوس ہی ایسا کیا۔ اب اس کی ٹانگیں آزاد تھیں۔ اس نے تیزی سے اوپر اٹھنا شروع کیا۔ جب اس نے پانی سے سر ابھارا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہ اب جوض کے بجائے میٹھے پانی کے چشمے میں موجود ہے۔

وہ لپک جھپک میٹھے پانی کے چشمے سے نکلا اور اپنی بستی کی طرف تیر کی طرح چلا۔ اسے اپنی بستی سے نکلے اگرچہ زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا لیکن اسے محسوس ایسا ہو رہا تھا جیسے کئی ماہ سے وہ اپنی بستی سے غائب ہے
جب وہ بستی میں داخل ہوا تو قبیلے کے لوگوں کا رویہ بالکل مختلف پایا۔ وہ اپنے قبیلے کا پسندیدہ نوجوان تھا۔ ابلا پر سواری کر لینے کے بعد اس کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو گیا تھا۔ قبیلے کا ہر چھٹا بڑا شخص اسے عزت کی نگاہ سے دیکھتا تھا اور اسے دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ اب جبکہ وہ کافی دنوں بعد ان میں داخل ہوا تھا تو لوگ اسے دیکھ کر خوش ہونے کے بجائے کچھ عجیب سا رویہ اختیار کیے ہوئے ان کے چہروں پر جان و مال اور خوف کی سی کیفیت طاری تھی۔ ضرور کوئی بات ہوگئی ہے۔ کوئی حادثہ پیش آگیا ہے۔ چاندکا نے بھی کسی اندوہناک خبر سننے کی پیش گوئی کی تھی۔
"آخرتم لوگ بولتے کیوں نہیں ہو" قامران نے چیخ کرکہا۔ "کیا ہوا؟'' اس کی آمد کی خبر سن کر قبیلہ کے خاصے لوگ اکٹھا ہو گئے تھے۔ ان میں سے ایک بزرگ آگے بڑھا اور اس نے کامران کے قریب پہنچ کر اس کے سر پر تین بار مخصوص انداز میں ہاتھ پھیرا
اس طرح سے ہاتھ پھیرنا کسی موت کی علامت تھا اور تعزیت کا اظہار۔ کامران کے پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔
"بیٹا ہم سب مرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ صبر کر صبر کے سوا کوئی چارہ نہیں۔" وہ یہ کہہ پیچھے ہٹ گیا۔
پھر ایک ایک کر کے لوگ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے گئے اور تعزیتی کلمے کہنے لگے۔
ابھی تک قامران صرف اتنا جان سکا تھا کہ کسی کا انتقال ہوگیا ہے۔ کسی کی موت واقع ہوئی ہے
یہ اسے کوئی نہیں بتا رہا تھا۔ نیلابو اور نیلابو کے باپ کے سوا اس دنیا میں اس کا تھا ہی کون؟ کیا نیلا بو کا باپ انتقال کر گیا؟ لیکن تعزیت کرنے کا انداز یہ بتاتا تھا کہ کوئی اور المناک موت واقع ہوئی ہے۔ کیا نیلابو....اس سے آگے وہ نہ سوچ سکا۔ کامران اپنے سر کی طرف بڑھتے ہاتھ روکتا ' لوگوں کی بھیڑ چھانٹتا اپنے جھونپڑے کی طرف تیزی سے بھاگا۔ جھونپڑے کے قریب پہنچ کر وہ ایک لمحے کو دنگ رہ گیا۔

وہاں جھونپڑا نہ تھا۔ راکھ کا ڈھیر تھا اور اس راکھ کے ڈھیر پر کوئی جلا ہوا وجود لیٹا تھا۔ یہ وجود نیلا بو کے باپ کا تھا۔ نیلابو کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔
"بابا یہ سب کیا ہے؟ نیلا بو کہاں ہے؟“
قامران بے قراری سے بولا۔ نیلابو کے باپ نے بڑی مشکل سے اپنی آنکھیں کھولیں۔ اس کا جسم جگہ جگہ سے جھلسا تھا۔ وہ شدید زخمی تھا۔ کامران کو پہچان کر نیلا بو کے باپ نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکا۔ وہ نقاہت سے بولا
"قامران تم کہاں تھے؟ تمہارے جاتے ہی ایک رات ملکہ شاطو کے سواروں نے اس گھر کو آگ لگا دی۔ نیلا بو کو زندہ جلا دیا گیا۔ میں نے اسے بہت بچانے کی کوشش کی لیکن بچا نہ سکا۔ ملکه کے سواروں نے اسے بچانے نہ دیا ۔ وہ بڑی اذیت میں مری- کاش! اس کی جگہ میں مر جاتا۔ مرتے دم تک وہ تمہارا نام لے کر تمہیں مدد کے لیے پکارتی رہی تم کہاں تھے؟ تم ہوتے بھی تو کیا کر لیتے؟ ملکه شاطو کے سواروں کے آگے کس کی چلی ہے؟ نیلابو کا باپ جانے کیا کیا کہے جا رہا تھا لیکن قامران کو کچھ نہیں سنائی دے رہا تھا۔ اس کے ذہن میں آندھیاں چل رہی تھیں دھماکے ہورہے تھے۔ غم وغصہ اسے پاگل کیئے دے رہا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے نیلاہو کے جلے ہوئے وجود کی طرف بڑھا۔ اس نے کالی کوئلہ کی اس ہوئی اکڑی لاش کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور پاؤں زمین پر مار کر بولا ۔ "سائری دیوتا کی قسم اس ظلم کا بدلہ ضرور لوں گا۔"
جب قامران نے نیلابو کی لاش کو نیلابو کے باپ کے پاس رکھا تو نیلا بو کا باپ بھی اپنی موت کے پاس پہنچ چکا تھا ۔ "واہ بابا تم بھی ساتھ چھوڑ گئے"
یركان قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق دونوں لاشوں کو دفنا دیا گیا۔ تدفین کے بعد جب وہ قبیلے والوں کے ساتھ واپس لوٹ رہا تھا تو کئی نوجوانوں نے اپنی خدمات پیش کیں کہ وہ اگر ملکہ سے انتقام لینا چاہے تو وہ اس کے ساتھ ہیں۔ کامران نے ان کی اس پیشکش کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ اکیلا ہی ملکہ سے نمٹنے کی قسم کھا چکا ہے۔ ملکہ شاطو سے انتقام لینا آسان نہ تھا وہ خود مجسم انتقام تھی، قہر تھی، بلا تھی ۔

اس کے نام سے لوگوں پر لرزہ طاری ہو جاتا تھا لیکن کامران ملکه شاطو کو بہت قریب سے دیکھ چکا تھا۔ وہ اس کے جسم کے روئیں روئیں سے واقف تھا
اس پر ملکہ شاطو کی ذرا بھی ہیبت نہ تھی۔ مسئلہ صرف اتنا تھا کہ وہ شاہی محل تک پہنچنے کیسے یہ مسئلہ خودبخود حل ہو گیا
کامران کی آمد کی اطلاع آناً فاناً شاہی محل تک جا پہنچی۔ وہاں سے اس کی فوری گرفتاری کے احکامات جاری ہوئے اور ملکہ شاطو کے سوار تعمیل حکم کے لیے بستی آ پہنچے۔ ملکہ شاطو کے سواروں کے، بستی میں داخل ہوتے ہی بستی کے نوجوانوں نے کامران کو ہوشیار کر دیا۔
"کامران.......ملکہ شاطو کے کتے آ پہنچے ہیں اور تمہیں تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔"
"آنے دو۔" کامران نے بلا خوف و جھجک کہا۔
”میں تو خود گرفتار ہونا چاہتا ہوں کہ شاہی محل میں داخلے کا اس کے سوا کوئی حل نہیں۔"
"لیکن اگر یہ کتے تمہیں محل لے جانے کے بجائے راستے میں ہی موت کے گھاٹ اتار دیں تو پھر کیا ہوگا؟"
"نہیں ایسا نہیں ہوسکتا ملکہ شاطو مجھے مروانے سے پہلے ایک نظر دیکھنا ضرور چاہے گی کیونکہ صحراۓ سرخ سے زندہ سلامت واپسی کسی غیر انسان ہی کی ہوسکتی ہے۔" کامران نے مسکراتے نے کہا۔
"آؤ میرے ساتھ ہم خود ہی ان کتوں کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ شاطو کے سوار میرے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہیں۔"
بستی کے ایک موڑ پر شاہی سواروں اور کامران کی مڈبھیر ہوگئی۔ کامران کے ساتھ بستی کے قابل جوان تھے۔ "کون ہوتم لوگ؟“ ملکه شاطو کے ایک سوار نے پوچھا۔
"وہ جس کی تمہیں تلاش ہے۔" کامران اندھیرے میں سینہ تانے کھڑا تھا۔ جب ملکہ کا ایک سوار آگے بڑھا۔ اس نے مشعل کی روشنی میں کامران کا چہرہ دیکھا تو ایک لمحے کو اسے سانپ سونگھ گیا۔ یه وہی دستہ تھا جو اسے صحرائے سرخ کے حوالے کر کے آیا تھا۔
"تم واقعی زندہ ہو تم زندہ کیسے بچ گئے؟ ناممکن ہے یہ بات حیرت ہی حیرت۔"
کامران نے اس سرخ رومال والے سوار کے چہرے پہ بے یقینی کے آثار دیکھے۔ وہ مسکرایا ان کی حیرت بجا تھی۔ صحرائے سرخ سے واپسی اور وہ بھی اس صورت میں کہ آدمی بندھا ہوا ہو ناممکن تھا قطعی ممکن۔
ان سواروں پر اسے دیکھ کر ایک خوف کی سی کیفیت طاری ہوگئی تھی
"تمہیں...ہمارے ساتھ چلنا ہوگا۔" سرخ رومال والے نے کرخت لہجے میں کہا۔
"کہاں؟‘‘ کامران نے پوچھا ۔

"ملکہ شاطو کے حضور" سرخ رومال والے سوار نے اسے بتایا۔
"ٹھیک ہے چلو"
"کرچنا اس کے ہاتھ باندھ کر اسے گھوڑے پر بٹھا دو" حکم ہوا
"ہاتھ باندھنے کی ضرورت نہیں۔ میں کہیں نہیں بھاگوں گا۔ اگر فرار ہونا چاہتا تو تم میں کوئی میری گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتا تھا لیکن میں نے ایسا نہیں کیا"
"جو شخص صحرائے سرخ سے صاف بچ نکلے اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ تمہیں میرا حکم ماننا ہوگا۔" تنبیہہ کی گئی۔
کامران نے جواب میں خاموشی اختیار کی۔ کرچنا نے اس کے ہاتھ رسی سے باندھ دیئے پھر اسے ایک گھوڑے پر بٹھا کر لگام اس کے ہاتھ میں تھما دی۔ اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکه اسکے گھوڑے کی اگلی اور پچھلی ٹانگوں میں اس طرح رسی باندھ دی گئی تھی کہ وہ مخصوص رفتار سے زیادہ تیز نہ دوڑ سکے یوں یہ قافلہ محل کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ سرخ رومال والا سوار ملکه شاطو کے حضور پیش ہوا تو اس نے اسے قدم بوسی کی مہلت نہ دی۔ وه قامران کی گرفتاری کے سلسلے میں جلد سے جلد جان لینا چاہتی تھی۔ بے قراری سے بولی "کامران ہاتھ لگا؟"
"ملکہ شاطو...تیری قسم تیرے سوار تیرا حکم ماننے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔ وہ ہمارے ساتھ ہے۔"
سرخ رومال والے نے پوری فرمانبرداری سے کہا۔ ” قدم بوسی کی اجازت دے" سرخ رومال والے نے پورے احترام سے ملکہ شاطو کے قدم چومے اور آہستہ آہسته پیچھے ہٹا "حکم کر ملکہ شاطو"
"قامران کو کال کوٹھڑی میں ڈال دو۔" ملکہ شاطو نے اپنے ہونٹوں کو بھینچتے ہوئے کہا "اور کھانا پینا بالکل بند"
سرخ رومال والا ملکہ شاطو کا حکم سن کر الٹے قدموں واپس ہوا۔ باہر کھڑے سواروں کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کیا ۔ کامران سر جھکائے ان کے ساتھ چل دیا ۔ شرف باریابی نه دیئے جانے پر اسے حیرت تھی۔ سوارونے قامران کو داروغه زنداں کے حوالے کر کے ملکہ شاعطو کا حکم سنایا۔
داروغہ جو دیکھنے میں ایک لحیم شحیم شخص تھا اس نے قامران کو نیچے سے اوپر تک دیکھا اور بولا "ٹھیک ہے"
اس نے زنداں کا دروازہ کھولا اور کامران کو اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا کامران کے پاس حکم ماننے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
ملکہ شاطو کے سواروں کے جانے کے بعد جب اسے ایک اندھیری کوٹھڑی میں بند کیا تھا تو کامران نے داروغه زنداں سے کہا تھا۔
"میں ملکہ شاطو سے ملنا چاہتا ہوں صرف ایک بار"

"فی الحال تو تم اس کال کوٹھری کی سیر کرو اور ہوا کھاؤ ۔ داروغہ زنداں نے جھٹکے سے کا دروازو بند کیا اور تالہ لگا کر واپس ہوگیا۔ کامران نے گھوم پھر کر اس بار یک کوٹھڑی کا طول و عرض ماپا اس کی دیواروں کی مضبوتی اور پختگی کا اندازہ کیا
اور صبر شکر کر کے کوٹھڑی کے فرش پر بیٹھ گیا۔
یہ کوٹھڑی اتنی تنگ تھی کہ اس میں پاؤں پھیلا کر بھی نہیں لیٹا جا سکتا تھا۔
دوسرے دن شام کو اس کی کوٹھڑی کا تالہ کھولا گیا اور اسے باہر نکلنے کو کہا گیا۔ وہ باہر نکلا تو اسے زنداں کے ایک کشادہ کمرے میں بٹھایا گیا۔ ملکہ شاطوم اسے ملنے آرہی ہے ۔اسے بتایا گیا۔ چند ہی لمحوں میں ملکہ اپنے سواروں کے ساتھ آ پہنچی۔ وہ دھیرے دھیرے مسکراتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ کامران نے اسے نگاہیں اٹھا کر دیکھا. اس کا جی چاہا کہ ابھی اسی وقت ملکہ شاطو کا حساب کتاب چکتا کر دے لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا اس نے اندر کے کامران کوتھپکی دی ۔ ”ذرا صبر"
"تم نے نافرمانی کر کے خود کو مٹی میں ملا لیا۔" ملکہ شاطو کہہ رہی تھی تم نے دیکھا کہ ملکہ کا کہنا نہ مان کر تم نے اپنی بیوی اپنا گھر اپنی گھوڑی کو ہاتھ سے گنوا دیا اور خود صحرائے سرخ کی راہ میں مبتلا ہوئے۔ یہ تمہاری خوش قسمتی کہ تم صحرائے سرخ سے زندہ سلامت واپس آگئے اچھا ہوا۔ اب تمام عمر کال کوٹھڑی میں رہو گے اور ملکہ شاطو کا عذاب نازل ہوتا رہے گا۔" یہ کہہ کر وہ واپس مڑی اور تمکنت سے چلتی ہوئی زنداں سے نکل گئی۔
اس چیچک ذدہ شخص نے اسے اٹھنے کا اشارہ کیا اور کچھ ہی دیر میں پھر سے اسے تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بند کر دیا گیا۔ پھر پانچ دن تک کسی نے اس کا حال نہ پوچھا۔
بھوک پیاس نے اس نڈھال کر دیا تھا۔ کھڑا ہوتا تو چکرا کر زمین پر گر جاتا۔
سر اٹھاتا تو وزنی محسوس ہوتا۔ کانوں میں سیٹیاں سی بجتیں۔ ہر وقت شائیں شائیں کی آوازیں سنائی دیتی..

اور یہ احساس روز بروز بڑھتا جا رہا تھا کہ وہ کوٹھری کی بجائے کسی اندھے کنویں کی تہہ میں موجود ہو موت اس سے قریب سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔
چھٹی رات اس نے بہت سے قدموں کی آواز سنی ۔ یہ قدم کوٹھڑی کے سامنے آ کر رک گئے دروازہ کھولا گیا۔ مشعل کی روشنی میں کامران کو دیکھا گیا۔ اسے نڈھال دیکھ کر ملکہ شاطو کے ایک سوار نے اسے زور سے ہلایا۔
”اٹھو"
کامران نے بڑی مشکل سے اپنی آنکھ کھولی۔
" اٹھو ہم تمہیں لینے آئے ہیں۔ چل کر نہا لو تمہارے نہانے کا پانی گرم ہو چکا ہے۔"
اس کے قریب بیٹھ کر بتایا گیا۔
"نہا لوں میں۔؟ اس وقت کیا بجا ہے؟ اس پر نیم بے ہوشی طاری تھی
"بارہ بجے ہیں۔"
"رات کے یا دن کے؟"
"رات کے۔“ یہ کہہ کر ملکہ شاطو کے سواروں نے اسے سہارا دے کر اٹھایا۔
"مجھے کیوں نہلانا چاہتے ہو؟" قامران نے بھی نقاہت سے پوچھا۔
"شاید تمہارا آخری وقت آ پہنچا ہے۔“
داروغه زنداں نے بڑے پراسرار انداز میں کہا ۔
"یہ آخری وقت ہے؟" قامران بڑ بڑایا۔
کس کا آخری وقت آ پہنچا ہے؟ اس کا یا شاطو کا۔ وہ تو یوں مرنے کے لیے نہیں کہ مار کر مرنے کے لیے پیدا ہوا ہے۔ وہ ملکہ شاطو کو مار کر ہی مرے گا۔ اس نے خود اعتماری سے سوچا
ملکه شاطو کے سواروں نے اسے زنداں سے نکال کر کنیزوں کے حوالے کر دیا۔ کنیزوں نے اسے سہارا دے کر ایک کمرے میں بٹھایا۔ بھوک کے مارے اس کی جان نکلی جا رہی تھی۔ ہاتھ پاوں بے دم ہو چکے تھے ۔ ۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا تھا۔ لیکن اس نے رحم کی اپیل کرنا مناسب نہ سمجھی۔ اس نے کنیزوں سے کچھ کھانے پینے کو نہ مانگا۔ اس نے سائرری دیوتا سے دعا کی کہ وہ اس میں ہمت و جرات پیدا کردے .

اتنے میں کمرے کا بغلی دروازہ کھلا ۔ کامران نے دیکھا کہ دروازے پر ملکہ شاطو کی کنیز خاص کھڑی ہے ۔ اس کے ہاتھ می بڑی سی طشتری ہے جس پر ریشمی رومال پڑا ہے۔ کنیر خاص بڑی ادا سے مسکراتی ہوئی اس کی طرف آئی اور نزدیک آ کر اس سے پوچھا۔ "کیسے ہیں آپ؟“
"یہ کیا بکواس ہے" قامران کا ذہن پہلے ہی الجھا ہوا تھا۔ وہ اس سوال پر بگڑ اٹھا۔
"جناب والا بندی نے آپ کے مزاج پوچھے ہیں..........بکواس نہیں کی۔‘‘ عرض کی
"کسی کو بھوکا مار کر اس کی مزاج پرسی کرنا کہاں لکھا ہے؟‘‘ کامران غصے میں تھا۔
ناراض نہ ہوں بندی آپ کی بھوک کا سامان ہی لے کر حاضر ہوئی کچھ کھا پی لیں... پھر نہا دھو کر تازہ دم ہو جائیں۔ ملکہ شاطر آپ کو شرف باریالی بخشنا چاہتی ہے چلنے کے لیے تیار ہیں۔؟
کنیز خاص نے یہ کہہ طشتری سے رو مال اٹھالیا۔
کھانہ دیکھ کر کامران کا جی چاہا کہ بس ایک دم مع مشتری کے سب کچھ اپنے پیٹ میں اتار دے لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ارد گرد کھڑی کنیزیں اس کی اسی بے صبری سے لطف اندوز ہوں۔ اس نے اندر ہی اندر اپنے نفس پر کوڑے برسائے اور صابر ہونے کی تلقین کی۔ پھر اس نے ہدایت کے مطابق دو چار نوالے بھی بے نیازی سے کھائے اور آدھا پانی پیا اور پیچھے ہٹ گیا۔
ضبط نفس کا یہ نظارہ کنیز خاص اور دیگر کنیزوں کو حیرت میں ڈال گیا۔
"ملکہ شاطو کی قسم آپ کو دنیا کا کوئی آدمی زیر نہیں کر سکتا۔" کنیز خاص نے قامران سے کہا کہ کامران کے سوا کوئی اور نہیں سن سکا۔ کنیز خاص کا یہ خاص جملہ کامران میں بے پناہ قوت بڑھا گیا۔ قامران نے جواب میں اسے صرف ایک لمحے کو مسکرا کر دیکھا۔
"حمام بالکل تیار ہے۔" ایک کنیز نے کنیز خاص کو اطلاع دی۔
"چلیئے۔ غسل کرلیجئے" کنیز خاص نے اسے سہارا دینے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔
"نہیں۔ اب میں خود چلنے کے قابل ہو گیا ہوں" کامران نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ جھٹک دیئے۔
"بہت خوب تشریف لائیے۔" کنیز خاص نے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ شاہی محل کا یہ حمام سفید محل سے جدا تھا اور نہلانے کا طریقہ بھی تقریبا سفید محل کے جیسا تھا۔ نہاتے ہوئے اس نے کئی بار خود کو سفید محل کے حمام میں محسوس کیا۔
تب بھی اچانک اسے چاندکا کی یاد آ گئی۔ چاندکا کی یاد آتے ہی اس کے جسم میں سنسنی پھیل گئی جانے وہ اس وقت کہاں ہوگی؟ کون جانے اب اس سے دوبارہ ملاقات ہوگی بھی یا نہیں۔

اسے تو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ وہ کون تھی اور کیا تھی اور اس سے کیا چاہتی تھی؟
وہ تو سفیدمحل کے محل وقوع سے بھی واقف تھا۔ اب وہ اسے کیسے اور کہاں تلاش کرے اس کے جسم سے پھوٹتی خوشبو آج بھی اس کی سانسوں میں بسی ہوئی تھی اور اس کی باتیں اس کی یادیں دل و دماغ کے نرم گوشوں میں پیوست تھیں۔
نہلانے کے بعد کنیزوں نے اس کا لباس تبدیل کیا اور اس کے جسم کو خوشبوؤں میں بسایا نہلانے کے بعد اس کے جسم میں چستی پیدا ہوگئی تھی مگر بھوک نے شدت اختیار کرلی تھی۔
کامران کو خوشبو لگاتے ہوئے کنیز خاص نے بڑے پراسرار انداز میں ایک بات کی۔ "آج کی رات غربان کی حکمران پر بڑی بھاری ہے۔ وہ آج پھر آئے گا۔ اے لوگو ! ذرا ہوشیار رہنا۔" اس نے خود کلامی کی۔
"کون آئے گا؟‘‘ کامران نے اس کی بات سن کر پوچھا۔
"کوئی بھی نہیں۔“
"ابھی تم کیا کہہ رہی تھیں؟“
"کچھ بھی نہیں۔"
”یہ کیا مزاق ہے" کامران جھنجلا گیا۔
"آہستہ بولو...صبر سے کام لو...اور ہوشیار رہو۔“
تین ہدایتیں جاری کی گئیں۔
"اس کا کیا مطلب ہے؟" اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
"سب سمجھ میں آجائے گا....وقت کا انتظار کرو۔ اچھا میں جاتی ہوں اور ملکہ شاطو کو تمہاری کی اطلاع دیتی ہوں۔" کنیز خاص یہ کہہ کر رخصت ہوئی۔
دوسری کنیزیں پہلے ہی جا چکی تھیں۔ قامران پریشان کھڑا رہ گیا۔ آج کی رات کامران کے لیے بہت اہم تھی۔ وہ یہاں نیلابو کی موت کا انتقام لینے آیا تھا ایک لمحے کر بھی نہ بھولا تھا وہ ملکہ شاطو تک رسائی چاہتا تھا۔ سو وہ اسے خود بخود حاصل ہو گئی اگر چہ اس رسائی میں زنداں کی ازیتیں بھی شامل تھیں اور وہ اس نے بڑے صبر سکون سے طے کر لی تھیں
اب جبکہ اسے چند لمحوں میں شرف باریالی بخشا جا رہا تھا اور کچھ کر گزرنے کا وقت آ پہنچا تو وہ خود کو نہتا پا رہا تھا۔ اس کے پاس کسی قسم کا اسلحہ نہ تھا اور اس ماحول میں وہ مسلح رہ بھی نہیں سکتا بہرحال اس نے ملکہ شاطو کے قتل کا تہیہ کر لیا تھا اور اسلحہ کے بغیر ہی اسے موت کے گھاٹ اتارنے کا ارادہ تھا۔ ملکہ شاطو پر اسے اتنا شدید نہ تھا کہ اگر اس کا بس چلتا تو وہ اسے چار گھوڑوں سے باندھ کر چروا دیتا یا اس کے سر پر آراء چلا کر اس کے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتا۔ ملکہ شاطو اس سے کم سزا کی مستحق نہ تھی لیکن یہ سب اس کے بس سے باہر تھا۔ اختیار میں جو تھا وہ کر گزرنے کے لئے تیار تھا اور اس سلسلے میں اسے اپنی جان کی بھی پروا نہیں تھی.

اچانک دروازہ کھلا۔ کنیز خاص نے اطلاع دی۔ "ملکه شاطو آپ کی منتظر ہے۔ تشریف لے چلئے‘‘ کنیز خاص نے اطلاع دی ۔
”کیا تم جانتی ہو کہ اتنی رات گئے ملکه شاطو نے مجھے کیوں طلب کیا ہے۔ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہے۔" کامران نے آہستہ سے پوچھا۔
"آپ بھوکے ہیں؟ یہ سوال ہے یا جواب؟ یہ سوال ہے۔“
"ہاں بھوکا تو ہوں۔ تم جانتی ہو کہ میں نے پانچ دن سے کھانا نہیں کھایا ہے اور اس میں بھی تمہاری ہدایت کے مطابق تھوڑا سا ہی کھایا۔ اب نہایا تو بھوک نے اور شدت اختیار کر لی ہے۔"
"پر جان لو کہ بھوکے کو کھانا ملے گا۔“
”ملکہ شاطو اچانک مجھ پر مہربان کیسے ہوگئی؟"
ملکہ ایک عورت ہے اور آپ مرد ہیں..........جان لو کہ عورت مرد کے مقابلے میں پینترے باز ہوتی ہے۔"
'کوئی سازش؟"
"نہیں کوئی سازش نہیں..........میں ملکہ کی رگ رگ سے واقف ہوں۔ بس اتنا ہی کہ وہ پھر سے مہربان ہوگئی ہے۔ وہ نہیں جانتی کہ تباہی اس کے سامنے منہ کھولے کھڑی ہے۔"
کنیز نے بڑی راز داری سے کہا۔
” آیئے۔ اب چلیں۔ غربان کی حکمران آپ کی منتظر ہے“
کامران کنیز خاص سے بہت سی باتیں کرنا چاہتا تھا۔ اس سے بہت کچھ پوچھنا چاہتا تھا اس نے مزید گفتگو کا موقع ہی نہ دیا۔ وہ تیزی سے آگے بڑھتی چلی گئی۔ دروازے کے قریب جا کر کنیر خاص نے کامران کو ٹھہر نے کا اشارہ کیا۔
”آپ ذرا ٹھہریں میں باریابی کی اجازت لے لوں۔“
کنیز خاص اندر داخل ہوئی تو ملکہ شاطو بے چینی سے ٹہل رہی تھی رک گئی اور بے قراری سے بولی "کہاں ہے وہ؟" تیرے دروازے پر باریالی کا منتظر ہے"
" لے آؤ"
"جوحکم ملکه شاطو"
"اور سنو" کنیز کے قدم پتھر ہو گئے۔
"کھانے کا بھی انتظام کرو“
"بہتر" یہ کہہ کر کنیز خاص الٹے قدموں واپس ہوئی۔ "جایئے۔"
دروازے پہنچ کر اس نے پروانه راہداری عطا کیا اور خود تیزی سے محل کی بھول بھلیوں میں گم ہو گئی۔

کامران نے سائری دیوتا کا نام لے کر دروازے میں قدم رکھا۔
"آؤ کامران‘‘ ملکه شاطو دروازے کے سامنے اس کی منتظر کھڑی تھی۔ کامران نے جھک کر رسم کے مطابق اس کے قدم چومنے چاہے۔ "نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ اس وقت تم ہمارے مہمان ہو۔"
آؤ بیٹھو‘‘ ملکہ شاطو نے، ہاتھ پکڑ کر اٹھنے کا اشارہ کیا۔ کامران فوراً کھڑا ہو گیا تاکہ اس کے ہاتھ ملکه شاطو کے کرخت ہاتھوں میں زیاده دیر نه ره سکیں
"میں تمہاری منتظر تھی میں نے ابھی تک کھانا نہیں کھایا" پیار بکیھرا گیا۔
غربان کی حکمران اب تک بھو کی کیوں رہي؟“
سیدھا سادا سوال کیا گیا۔
"تمہارے ساتھ کھانے کا ارادہ تھا۔" ساتھ ہی نظروں سے گھورا گیا۔
"لیکن میں تو یہاں پانچ دنوں سے ہوں۔" بہت گھما کر طنز ہوا۔
"ہم جانتے ہیں۔" ملکہ شاطو نے اے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”اور ہم یہ بھی مانتے ہیں تمہیں اصلی تیروں کے ساتھ ساتھ جملوں کے تیر بھی چھوڑنے آتے ہیں اور وہ بھی ٹھیک ٹھیک"
"مجھ سے گستاخی ہوئی ملکه" کامران نے معذرت چاہی
"نہیں کوئی گستاخی نہیں ہوئی تم اپنی گستاخی کی کافی سزا پا چکے ہو‘‘ ملکه شاطو نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
"ملکه شاطو...ایک بات کہوں تو برا تو نہ مانے گی؟"
"کہو ہم مانیں گے بھی تو تمہیں کچھ نہ کہیں گے۔"
"تیری بات نہ مان کر میں نے غلطی کی تھی تو نے اس جرم کی پاداش میں مجھے صحرا سرخ کے حوالے بھی کر دیا تھا لیکن بصد احترام کے پوچھتا ہوں کہ میری بیوی نیلابو نے تیرا کیا بگاڑا تھا کہ اسے نذر آتش کر دیا گیا۔"
"وہ ہماری موت تھی"
"ملکہ شاطو تو موت کا مطلب سمجھتی ہے..؟" کھلی گستا خی کی گئی۔
"وہ تیری موت کدھر سے ہوئی؟"
"تم نے ہماری خواہش کا احترام نہ کر کے نیلابو سے وفا کی۔ یہ بات تم مانتے ہو گے۔“
”نانتا ہوں، پوری سچائی سے۔“
پھر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کر سکتے کہ تم نے دو کوڑی کی چھوکری کے لیے غربان کی حکمران کو ٹھکرا دیا۔ اب تم ہی بتاؤ کہ وہ ہماری رقیب ہوئی کہ نہیں۔ ہم نے اسے موت کہہ کر کیا گناه کیا... ہم نے تو تم دونوں کو اپنے تئیں نیست و نابود کر دیا تھا۔ اب تم پھر ہماری دنیا میں آگ لگانے اپہنچے۔ ہماری خواہشیں پھر سے جاگ اٹھی ہیں۔ اب تم ہمارا دامن جھٹک کر باہر نہیں جا سکوگے۔ یہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے۔“

"آخر تو مجھے پامال کرنے پر کیوں تلی ہوئی ہے؟"
"کون ظالم تمہیں پامال کرنا چاہتا ہے ہم تو تمہیں اپنی پلکوں پر بٹھانے کے لیئے بے قرار ہیں۔" ملکہ نے اپنی آنکھیں بند کر کے جواب دیا۔
(لیکن میں تمہیں تیر کی نوک پر بھی بٹھانے کے لیے تیار نہیں ہوں) کامران نے زبان سے کچھ نہ کہا۔
"کھانا تیار ہے ملکہ شاطو" کنیز خاص نے آکر اطلاع دی۔
آؤ قامران کھانا کھا لیں............باتوں کے لیے رات پڑی ہے۔"
ملکہ شاطو نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا
(لیکن میرے پاس آپ کی بکواس سننے کے لیے وقت نہیں) اس نے سوچا پر زبان سے نہ کہا
شاہی دسترخوان پر دنیا کی لزتیں بکھری پڑی تھیں۔ ان اقسام کے کھانے تو اس نے خواب میں بھی نہ دیکھے تھے۔ کھانوں کی خوشبو نے اس کے ضبط کے تمام بندھن توڑ دیئے۔ وہ دسترخوان بھوکے بھیڑیئے کی طرح ٹوٹ پڑا۔
ملکہ اپنے ہاتھ سے ایک ایک کر کے کھانے اس کی طرف بڑھاتی رہی اور وہ شکوہ کیئے بنا کھانے اپنے پیٹ میں اتارتا رہا
جب اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ کر پانی پیا تو اس نے محسوس کیا کہ وہ ضرورت سے زیادہ کھانا کھا گیا ہے۔ کھانا کھاتے ہی ان کا سر بھاری ہونے لگا۔ نشے کی سی کیفیت طاری ہونے لگی۔ نیند اس کے اعصاب پر چھانے لگی۔ پانچ دن کے بعد اس نے کھانا کھایا تھا اور وہ بھی اتنا بھر پور نشہ تو آنا تھا خمار تو چھانا ہی تھا۔ کھڑے کھڑے اس نے انگڑائی لی ملکہ شاطو اسے خمار میں ڈوبا یکھ کر خوابگاہ میں لے آئی اور اسے آرام کرنے کو کہا۔ وہ نرم گداز چھپر کھٹ پر شہتیر کی طرح لیٹا اور گرتے ہی نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

ملکه شاطو نے دھیرے سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیریں اس نے آنکھیں نہ کھولیں جراتیں اور بھی سوا ہوئیں۔
ملکہ شاطر جب اس کے چہرے پر جھکی تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ کسی نادیدہ ہاتھ نے اسکا چہرہ پھیر دیا
ملکہ نے کھڑے ہو کر چاروں طرف دیکھا لیکن اسے کوئی نظر نہ آیا۔
وہ پھر جھکی لیکن جھٹکا کھا کر پیچھے ہٹ گئی۔
وہ سناٹے میں آگئی۔ کامران اب بھی بڑے مزے سے نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔ ملکہ شاطر کچھ دیر کھڑی سوچتی رہی۔ وقت تیزی سے گزرتا جا رہا تھا اور اسے اپنے عزائم کامیاب ہوتے دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
ابھی وہ کوئی ترکیب سوچ ہی رہی تھی کہ اس نے خود پر نیند سوار ہوتے ہوئے محسوس کی اور باوجود کوشش کے خود کو نیند کے حملے سے نہ بچا سکی۔ وہ یہ سوچتے نیند کی آغوش میں چلی گئی کہ آخر اسے اتنی نیند کیوں آرہی ہے؟
تقریبا دو گھنٹے کی گہری نیند کے بعد کامران کی آنکھ کھلی۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں تو اسے یاد آیا کہ وہ ملکہ کی خوابگاه میں ہے اس نے اپنے سینے پر بوجھ محسوس کیا۔ دیکھا تو اس کے سامنے خوشبو دار زلفیں بکھری پڑی تھی جب اس نے ملکہ کو ایک طرف ہٹانے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا تو اس کا ہاتھ ریشمی بالوں میں پھسلتا چلا گیا۔
اس کے جسم میں سنسناہٹ پھیل گئی۔ یہ کیا ہوا؟.......ملکہ یہاں اس طرح کیوں پڑی ہے؟ وہ بہت آہستگی سے اس کے پہلو سے نکلا تمام احتیاط کے باوجود ملکہ کی نیند ٹوٹ گئی۔ اس نے اسے اٹھتے اٹھتے کامران کا ہاتھ تھام لیا اور بڑی لجاجت سے بولی۔
"کامران مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ"

"ذلیل عورت...ہوش میں آ" کامران نے اسے جھنجوڑ دیا۔
”تم چاہے مجھے گالیاں دو چاہے مارو ۔ میں سب برداشت کر لوں گی... ملکہ شاطو تمہاری دیوانی ہے۔ تم سے شدید محبت کرتی ہے ۔ وہ تمہارے پیار کے بدلے میں غربان کی حکومت تمہارے حوالے کرسکتی ہے۔ اب تو مان جاؤ
وہ جنون میں جانے کیا کیا کہے جا رہی تھی اور کامران اندر ہی اندر سلگ رہا تھا
اسی لمحے وہ خوابگاہ میں داخل ہوا اسے ملکہ شاطو دیکھ سکی نه قامران۔
ملکہ شاطو نے پھر زبردستی کرنی چاہی۔
اب معاملہ کامران کی برداشت سے باہر ہو گیا تھا۔ وہ ایک دم انتقام کی آگ میں بھن گیا۔
اس نے بڑھ کر ملکہ شاطو کا گلا دبوچ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ اس کا کام تمام کر دیتا اس نے ایک زبردست پھنکار کی آواز سنی۔
وہ زہریلا ناگ ملکہ شاطو کے سر پر کھڑا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس سانپ نے ملکہ شاطو کی دونوں آنکھوں پر حملہ کیا اور خاموشی سے چھپر کھٹ سے اتر کر خوابگاہ کے ایک کونے میں گم ہو گیا۔
یہ سب چند ساعتوں میں ہوا۔ کامران کی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی ملکه شاطو تڑپ کر بیٹھی وہ اندی ہو چکی تھی اور اس کی دونوں آنکھوں سے خون بہہ رہا تھا اور وہ درد سے کراہ رہی تھی تبھی کنیز خاص خوابگاہ میں داخل ہوئی۔ وہ اکیلی تھی اس کے ساتھ بہت سے مسلح آدمی تھے اور کنیز خاص کے تیور کنیزوں والے نہ تھے شاہانہ تھے۔

"بدکار عورت تیرا روز حساب آ پہنچا ملکہ شارو کے سوارو اس کمینی عورت کو زنجیروں سے جکڑ دو اور ان کے عوام کو بتا دو ظلم کی رات ختم ہوئی۔ اب ان پر کوئی ظلم نہ توڑے گا۔ ملکہ سب کی سنے گی اور پورا پورا انصاف کرے گی۔" کنیز خاص نے جو اب ملکه شارو بن چکی تھی حکم دیا ملکه شارو کے سواروں نے آناًفاناً اب اس کے حکم کی تعمیل کی۔ سابقہ ملکہ کو زنجیروں سے جکڑ دیا گیا۔
شاطو نے جواب میں ایک لفظ نہ کہا ۔ اس پر سکتہ سا طاری تھا۔"
"اسے لے جاؤ اور پورے غربان میں منادی کرا دو کہ شاطو قید کر لی گئی ہے۔ اسکے ظلموں کی فہرست تیار کرو ہم دو دن بعد اپنا فیصلہ دیں گے۔“
"جو حکم ملکه شارو... ہم تیرے غلام ہیں۔‘‘ ملکہ شارو کے جانثاروں نے بڑے مودبانه لہجے میں کہا اور شاطو کو دھکا دیتے ہوئے خوابگاہ سے نکل گئے۔ اب خوابگاہ میں ملکہ شارو اور کامران کے سوا کوئی نہ تھا۔
"شاطو نے تم پر بھی بہت ظلم کیے ہیں ۔ اس صورتحال ڈے اب تو تم خوش ہو گے۔" شارو نے مسکراتے ہوئے کہا
ملکہ شارو میں بہت خوش ہوں۔ مجھے امید ہے کہ تو اسے عبرتناک انجام سے گزار ایسا عبرتناک انجام کہ آئندہ آنے والے حکمران ظلم کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کانپیں"
"ملکه شارو اجازت ہو تو کچھ پوچھوں؟ میرے ذہن میں بہت سی باتیں بے لگام ہو رہی ہیں۔"
"ہاں پوچھو"
تو نے چند گھنٹے قبل ہی اس انقلاب کی نشاندہی کر دی تھی۔ اس کا مطلب ہے کہ تو آنے والے وقت کے بارے میں تمام باتوں سے واقف تھی۔"
کامران نے وضاحت چاہی
ہاں میں آنے والے وقت کے ایک ایک لمحے سے واقف تھی
تو نے اس کے آنے کی پیش گوئی بھی کر دی تھی کر دی تھی اور وہ تیری پیشگوئی کے مطابق آیا بھی اور شاطو کو اندھا کر کے چلا گیا تھا میں پوچھتا ہوں وہ کون تھا؟"
اس پر شاطو نے بڑے ظلم ڈھائے تھے اسے بڑے عرصے سے قید کر رکھا تھا۔ میں جانتی تھی کہ ایک نہ ایک دن وہ شاطو سے بدلہ ضرور لے گا اور آخر موقع ملتے ہی اس نے اسے اندھا کر ڈالا
"لیکن وہ تھا کون؟"
"وہ شاطو کا شوہر تھا۔“
"کیا شوہر؟‘‘ کامران پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے
"لیکن وہ ان حالوں کو کیسے پہنچا؟“
"شاطو نے ایک عامل کے ذریعے اسے ان حالوں پہنچایا اب اس عالم کا انتقال ہو چکا." شارو نے بتایا
مجھے یاد پڑتا ہے کہ شاطو نے ملکہ بننے سے پہلے اپنے شوہر کی موت کی خبر پھیلائی تھی۔"
"ہاں اس نے غربان کے عوام میں یہ خبر پھیلا دی تھی کہ اس کا شوہر شیر کا شکار کرتے ہوئے لقمہ اجل بن گیا۔ حالانکہ ایسا نہ تھا... شاطو بڑی عیاش طبع عورت تھی اور اس کا شوہر اس کے لیے کباب میں ہڈی کی طرح تھا۔"
"بیچارہ کیا وہ اب اپنی اصلی حالت میں نہیں آ سکتا؟"
"نہیں"
”اوہ‘‘ کامران نے دکھ سے کہا۔

”اچھا یہ بتا کیا تجھ پر بھی شاطو نے کوئی ظلم کیا؟‘‘
"مجھے اس نے اپنی ذاتی خادمہ بنا لیا تھا۔ حالانکہ میں اس کی سگی بہن ہوں اور اس کے بعد تخت و تاج ک وارث ہوں“
"اس نے اپنوں کو بھی نہ بخشا۔" کامران نے افسوس ظاہر کیا۔
"شاطو میں بڑی خوبیاں تھیں بڑی صلاحیتیں تھیں...کاش وہ اپنے ذہن کو سیدھے راستے پر رکھتی اور اپنی ذہانت کا فیض غربان کے غریب عوام کو پہنچاتی تو آج اسے پوجا جا رہا ہوتا۔ میں خود بھی زندگی بھر اسکی خادمہ بنی رہتی۔“ ملکہ شارو نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
”اچھا تم اب آرام کرو میں صبح ہونے کا انتظار کرتی ہوں۔"
ملکہ شارو کے جانے کے بعد وہ چھپر کھٹ پر آرام سے لیٹ گیا مگر نیند کہاں؟
اس صبح کا سورج غربان کے لیے ڈھیروں خوشیاں لایا۔
ملکہ شاطو کی گرفتاری کی خبر ہر جگہ پھیل گئی۔ جس نے سنا وہ خوشی سے رقص کیے بنا نہ رہ سکا۔
پورے دن غربان، میلے کا سماں رہا۔ جشن کی سی کیفیت رہی۔
آخر يوم حساب آ پہنچا۔ دو دن کے بعد ملکه شارو نے سابقہ ملکہ شاطو کو سرعام پھانسی دینے کا اعلان کیا اور یہ سزا اس کے ظلموں سے کہیں کم تھی۔ کامران نے سوچا
اور جب شاطو کو پھانسی دی گئی اس وقت شاید ہی کوئی ایسا شخص ہی ہوگا جو بستی میں رہ ہو گیا ہو۔

اس تاریخی واقعہ کو دیکھنے کے لیے غربان کا بچہ بچہ اس میدان میں امنڈ از تھا جہاں شاطو کو پھانسی دی جانے والی تھی۔ یرکان قبیلے کے لوگ بڑے پیش پیش تھے کیونکہ ملکہ شاطو کی گرفتاری میں ان کے قبیلے کے جوان قامران کا بڑا ہاتھ تھا۔ یرکان قبیلے کے لیے یہ بات بھی باعث فخر تھی کہ ان کے ایک نوجوان نے ظلم کی دیوار ڈھا دی تھی۔ ملکہ شارو کے سوار جب سرخ لباس میں میدان میں اترے اور انہوں نے پورے میدان کا بڑی تیزی سے چکر لگایا تو سب نے اندازہ لگا لیا کہ غربان کی نئی حکمران ملکه شارو اب ظہور پذیر ہو چکی
ملکہ شارو کے سواروں کو دیکھ کر غربان کے عوام نے ”ملکہ شارو زنده باد“ اور ”شاطو مردہ باد" کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ تھوڑی دیر بعد ملکه شارو سیاہ گھوڑی پر سوار سفید لبادے میں سادگی کا مرقع بنی میدان میں داخل ہوئی۔ اس کے پیچھے کامران تھا جو ابلا پر سوار تھا اور اردگرد ملکه شارو کے جانثار۔
ملکہ شارو کے میدان میں آتے ہی پھر سے فلک شگاف نعروں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہوگیا۔
”ملکہ شارو زنده باد“ کے ساتھ ہی’’کامران جیوے ہمارا جوان" کا نعرہ بھی سامنے آیا۔ ملکہ شارو نے دھیمی رفتار میں پورے میدان کا ایک چکر لگایا۔ عوام کو ہاتھ ہلا ہلا کر ان نعروں کا جواب دیا۔ غربان کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا۔ جب غربان کے عوام اپنے حکمران کو اتنے قریب سے دیکھ رہے تھے۔ ملکہ شارو چکر لگا کر اپنی مقررہ جگہ پر پہنچ کر گھوڑے سے اتر گئی۔ سیڑھیاں چڑھتی ہوئی اس چبوترے پر جا بیٹی جسے میدان کے ایک کنارے پر بنایا گیا تھا۔ ملکہ شارو چبوترے پر بیٹھ کر اپنا بایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا۔ چند لمحوں بعد ایک گھوڑا گاڑی میدان میں داخل اور میدان کے بیچوں بیچ ٹھہر گئی۔

گھوڑا گاڑی کے میدان میں داخل ہوتے ہی ملکہ شارو کے سینکڑوں سوار میدان کے چار اطراف میں پھیل گئے۔ بند گھوڑا گاڑی کا دروازہ کھولا گیا اور اس میں سے شاطو کو کھینچ کر باہر نکالا گیا۔ اب تک کی ظالم حکمران زنجیروں میں جکڑی بری حالت میں ریت پر پڑی تھی۔ شاطو کو دیکھ کر عوام بے قابو ہونے لگے۔ ہر آدرم اسے اپنے ہاتھ سے پھانسی دینے کا خواہشمند تھا۔ چند نو جوانوں نے میدان میں اترنے کی کوشش کی لیکن ملکہ شارو کے سواروں نے جلدی بپھرے عوام پر قابو پالیا۔ ملکہ شارو نے کھڑے ہو کر انہیں صبر کی تلقین کی۔ ملکہ کی تلقین کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ پھر چند لمحے کے لیے ٹھہراؤسا آ گیا۔ شاطو سر جھکائے بیٹھی رہی۔ ایک رات نے اسے کہاں سے کہاں پہنچا دیا تھا۔ وہ شاطو جو اب تم غربان کی حکمران تھی جس کے سواروں کی آمد بستی والوں کے دل دہلا دیا کرتی تھی اور جس کا نام بجلی بن کر لوگ کے پیروں پر گرتا تھا۔ جو مجسم قہر تھی آج ذلت و رسوائی کے اتھاہ سمندر میں ڈوب گئی تھی ذلیل و خوار ہو گئی تھی
ملکہ شارو کے اشارے پر ایک بزرگ صورت آدمی نے جو غربان کا مذہبی پیشوا تھا اور جسے پہلی بار پیشوائی عطا ہوئی تھی شاطو کے جرائم کا کچا چٹھا بیان کیا۔
اس کے ہر جرم پر ہاۓ ہاۓ اور تف تف کے نعرے بلند ہوتے رہے اور شاطو گھٹنوں میں سر دیے ٹپ ٹپ آنسو بہاتی رہی اور یہ آنسو شرمندگی کے نہ تھے اپنی بے بسی پر تھے۔ وہ اتنی بے یارو مددگار کیوں ہوگئی ۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ملکہ شارو کے ٹکڑے اڑادے۔ اس کا ذہن اب بھی شکست ماننے کو تیار نہ تھا۔ اسے امید تھی جلد ہی اس کے سوار باغیوں پر غلبہ پا لیں گے اور وہ پھر سے ملکہ بن جائے گی۔ کیا حسین فریب تھا یہ۔ فرد جرم ختم ہوئی تو ملکہ شارو نے شاطو کو ٹھکانے لگانے کا اشارہ کیا۔
ایک قوی ہیکل جلاد نے دو ریشمی رومال جن کے ایک ایک سرے پر لوہے کے چھلے بندے تھے شاطو کے گلے میں ڈالے اور رومال چھلوں سے گزارے اور پھر ایک ایک جھٹکا دے کر رومال کس دیئے

ملکہ شارو کے اشارے پر کامران میدان میں اترا اور ابلا کو تیزی سے دوڑاتا ہوا شاطو کے سر جا پہنچا۔ جلاد نے ایک رومال کا سرا اس کے ہاتھ میں تھما دیا اور دوسرا اپنے ہاتھ میں لے کر کھڑا ہوا مجمع پر اچانک سناٹا چھا گیا۔ لوگوں کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں۔ ملکہ شارو چبوترے سے اتر کر سیاہ گھوڑی پر سوار شاطو کے نزدیک پہنچی۔ ملکہ شارو نے اسے بتایا کہ اسے تھوڑی دیر میں پھانسی دے دی جائے گی۔ اتنی دیر میں وہ سائری دیوتا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے۔
"میں نے کوئی گناہ نہیں کیا... سائری دیوتا کی قسم ! میں بے قصور ہوں۔“ شاطو نے چیخ کر کہا
"آخری خواہش بتاؤ؟" شارو کی بچی میں تیرا کلیجہ چبانا چاہتی ہوں۔“ شاطو اپنے حواسوں میں نہ تھی۔ ملکہ شارو نے جواب میں کچھ نہ کہا وہ گھوڑی پر سوار ہو کر پھر سے چبوترے پر جانے لگی چبوترے پر کھڑے ہو کر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔ لوگ بالکل خاموش، شارو کے اشارے کے منتظر تھے۔ اشارہ ہوا۔ اشارہ لئے ہی کامران اور اس دیو ہیکل جلاد نے دو رومالوں کے سرے مخالف سمت میں کھینچے۔ رومالوں کی گرفت شاطو کی گردن پر تنگ سے تنگ ہوتی گئی۔
یہاں تک کہ سانسوں کی آمد و رفت منقطع ہوگئی۔ شاطو کانیچے کا سانس نیچے اور اوپر کا اوپر رہ گیا۔
چندلمحوں بعد شاطو کی گردن ایک طرف ڈھلک گئی۔ شاطو کی موت پر لوگوں نے تالیاں بجائیں خوشی سے نعرے لگائے۔ اتنے مجمعے میں ایک بھی آنکھ اس کے لیے نہیں روئی۔ ظلموں کے لیے کون روئے۔
شاطو کی لاش کو گھوڑا گاڑی میں ڈال کر مجمع کے گرد کئی چکر لگوائے گئے اور پھر اس کی لاش کو ایک درخت سے الٹا لٹکا دیا گیا۔ عہد ستم ختم ہوا ظلم کا انجام لوگوں کو دکھا دیا گیا۔ شاطو کی لاش بڑے عرصے تک عبرت بنی رہی۔ دوسرے دن کامران ملکه شارو سے اجازت لے کر اپنی بستی کی طرف روانہ ہوا۔ شاہی محل کی حدود سے ملا ہی تھا کہ اس نے اپنے پیچھے ٹاپوں کی آوازیں سنیں۔ پیچھے مڑ کر دیکھا گھڑ سواروں کو اپنے تعاقب میں پایا اور یہ سوار ملکه شارو کے نہ تھے شاطو کے تھے۔ پامران نے زور سے ایڑ لگائی ابلا ہوا سے باتیں کرنے لگی۔ کچھ دیر کے لئے شاطو کے سواروں اور کامران کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا لیکن کچھ دیر کے لیے ۔ ایک موڑ پر جب اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو انہیں بالکل اپنے نزدیک پایا۔ کامران اس علاقے کے ایک ہی راستے سے واقف تھا جبکہ شاطو کے سوار اس علاقے کے چپے چپے سے واقف تھے۔ وہ اس کے مقابلے میں مختصر راستہ اختیار کر کے اس کے سر پر آ پہنچے خطرہ بڑھتا جا رہا تھا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 5

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,