سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 2

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 2

اس نے دیکھا کہ ایک دوشیزہ اس کے سامنے دوزانو بیٹھی ہے۔ ہاتھ میں خوبصورت سی صراحی ہے۔ وہ دھیرے دھیرے سے اس کا سراٹھا کر نازک سی صراحی اس کے منہ سے لگا دیتی ہے۔
"پیو" وہ مسکرا کر کہتی ہے۔
وہ بے تابی سے صراحی سے منہ لگا دیتا ہے اور غٹ غٹ پینے لگتا ہے۔ صراحی میں پانی نہ تها کوئی شربت قسم کی چیز تھی لیکن یہ شربت اس رس سے زیادہ مزیدار اور لطیف تھا جو اس نے شادی کی رات پیا تھا۔
اس نے جلدی جلدی ساری صراحی خالی کر دی ۔ اور پیو گے ؟ دوشیزہ نے اپنی نازک انگلیوں سے اس کے ہونٹ صاف کرتے ہوئے کہا "بس اور نہیں" ۔
اس نے ضرورت سے زیادہ پی لیا تھا۔ "اچھا میں چلتی ہوں۔“
وہ اٹھنے لگی ۔ "تم__ تم کون ہو ؟" کامران بولا " تم نے میری پیاس بجھائی ہے تو ایک مہربانی اور کرتی جاؤ
”بولو"۔ اس نے اپنے شیریں لبوں کا دائرہ بنایا۔
مجھے اس قید سے رہائی دلا دو۔ کامران نے درخواست کی۔ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔ یہ کہہ کر وہ اٹھ گئی۔
" ٹھہرو‘‘وہ بڑے زور سے چیخا۔
تب ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے چاروں طرف بدستور الاؤ سا دہکا ہوا تھا۔
سایہ اور بادلوں کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔ فضا میں کنوارے بدن کی خوشبو ابھی تک موجود تھی اور ایک حیرت انگیز بات تھی کہ اسے پیاس بالکل محسوس نہ ہو رہی تھی جبکہ کچھ دیر پہلے وہ پیاس کی شدت سے بے ہوش ہو گیا تھا۔ پھر یہ سب کیا تھا ....... خواب یا حقیقت ....... وہ کچھ نہ سمجھ سکا۔
شام تک وہ بڑے آرام سے سورج کے غصے کو برداشت کرتا رہا۔ اسے ذرا بھی پیاس نہ لگی البته گرمی ضرور محسوس ہوتی رہی لیکن یہ گرمی برداشت کی حدود میں تھی۔

رات ہوئی تو چاند نے سر ابھارا۔ صحرا کا پنڈا ٹھنڈا ہونے لگا۔
ٹھنڈی ہوا نے گرم ہوا کے جھونکوں کو مار بھگایا۔
چاند کے چڑھتے چڑھتے اس پر غنودگی طاری ہو گئی۔
وہ اطمینان سے سو گیا اور پوری رات بڑے سکون سے گزری۔
صبح صبح اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس نے کوئی بھیا نک آواز سنی تھی۔
اس نے آسمان پہ نظر کی تو اوپر ایک گدھ اڑتا ہوا دکھائی دیا۔
اس گدھ نے اپنے پر سمیٹے اور نیچے اترنا شروع کیا۔ جب وہ زمین سے تھوڑے فاصلے پر رہ گیا تو اس نے اپنے پر پھڑپھڑاۓ اور کامران کے اوپر سے گزرتا ہوا ریت پر جا بیٹھا۔ وہ اس سے بیس گز دور بیٹھا تھا اور بھیانک آواز میں چیخ رہا تھا
پھر آسمان پر ایک گدھ اور نمودار ہوا۔ اس نے بھی وہی عمل دہرایا اور دوسرے گدھ کے پاس جا بیٹھا۔ اب دونوں نے بھیانک آواز میں چیخنا شروع کیا۔ ان دونوں کی چیخیں سن کر ایک گدھ اور کہیں سے آٹپکا ۔ آدھ گھنٹے میں کامران کے گرد گدھ ہی گدھ جمع ہو گئے۔ یہ گدھ دائرے کی صورت میں بیٹھے تھے۔ درمیان میں کامران تھا۔ ان گدھوں نے چیخنا چلانا بند کر دیا تھا۔ اگر یہ سارے گدھ بیک وقت اس پر حملہ کر دیں تو مشکل سے پانچ منٹ اسی کی تکا بوٹی ہونے میں لگیں گے۔
ایک خوف کی لہر نیچے سے اوپر تک اس کے جسم میں پھیل گئی۔ اس نے جھر جھری لی۔

ایک گدھ سب سے موٹا اور بوڑھا تھا وہ آہستہ آہستہ کامران کی طرف بڑھا۔ دو قدم چلنے کے بعد رک گیا۔ گردن اٹھا کر اس نے کامران کی طرف دیکھا اور منہ سے ایک بھیا نک چیخ ماری اور اپنے پروں کو پھڑ پھڑایا ۔ پھر ایک ایک کر کے سارے گدھ آگے بڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ چکر پورا ہو گیا
اور . تامران کے گرد حلقہ تنگ ہوتا گیا ۔ یہ عمل مسلسل دہرایا گیا ۔ پہلے وہ بوڑھا گدھ دو قدم آگے بڑھ کر رک جاتا کامران کو دیکھتا اور پھر ایک بھیانک چیخ مار کر پروں کو پھڑ پھڑا کر دوسرے گدھوں کو آگے ہونے کا اشارہ دے دیتا۔
یہ عمل دوسرا گدھ دہراتا۔ اس طرح ایک چکر پورا ہو جاتا۔
حلقہ تنگ سےتنگ تر ہوتا جا رہا تھا۔
اس مرتبہ ایک نئی مصیبت نے اس کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان آدم خور درندوں سے اپنی جان کس طرح بچائے۔
اس نے سوچا کہ پہلے ان گدھوں کو اپنے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کرے ۔ ابھی تک وہ بے حس و حرکت پڑا تھا۔
کہیں اس سے ان گدھوں نے یہ اندازہ کر لیا ہو کہ یہ کسی لاوارث کی لاش ہے۔
اس نے کولہے کے بل ادھر ادھر زور سے ہلنا شروع کیا ۔ بالکل رقص کے انداز میں۔ گدھوں نے اس ہلتے دیکھا تو ایک جگہ جم کر رہ گئے۔ پھر اس بوڑھے گدھ نے ایک بھیانک چیخ ماری ۔
چیخ کی آواز سنتے ہی کامران نے بہت سے پروں کی پھر پھڑاہٹ سنی ۔ اس کے سر پر ایک لمحے کو اندھیرا سا چھا گیا۔
گدھ اڑتے ہوئے اس کے سر پر سے گزر رہے تھے۔ کچھ دیر یہ گدھ حلقہ بنا کر آسمان پر اڑتے رہے ۔

پھر یکا یک انہوں نے تیر کی طرح زمین پر اترنا شروع کیا ۔ کامران سے کچھ فاصلے پر وہ ایک ایک کر کے پھر جمع ہونے شروع ہوگئے ۔ اس مرتبہ انہوں نے کامران کے گرد گھیرا نہیں بنایا بلکہ گروہ کی صورت میں ایک جگہ اکٹھے ہو گئے تھے ۔
ایسا معلوم ہوا تھا جیسے وہ پنچایت کر رہے ہوں ۔ وہ جس آدی کو مردہ سمجھ رہے تھے وہ ابھی زندہ تھا اور زندوں سے کس طرح نمٹا جائے اس پر غور و خوض جاری تھا ۔
کچھ دیر بعد ایک جوان سا گدھ ٹانگوں کے بل اچھلتا ہوا آگے بڑھا۔
وہ دو دو قدم پر رکتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا۔ کامران نے گدھ کو اپنی طرف آتے دیکھ کر زور زور سے ہلنا شروع کر دیا ۔
وہ گده اچانک اڑا اور ٹانگوں پر ٹھونگ مارتا ہوا اس کے سر سے گزر گیا ۔ اس کے بعد دو گدھ اور مجمعے سے نکلے وہ بھی کامران کو چھوتے ہوئے ان کی طرف چلے گئے
پھر ایک گده نے اس کی آنکھوں پہ حملہ کیا ۔ اگر اس نے بروقت گردن نہ موڑی ہوتی تو اب تک اس کی آنکھیں اس گدھ کے پنجوں میں دکھائی دیتیں۔
ایک گدھ نے پھر اس کی آنکھوں کو نشانہ بنایا۔ کامران نے اسے اپنے قریب دیکھ کر زوردار چیخ ماری تو گدھ اس آواز کو سن کر پریشان ہو گیا۔ وہ فورا پلٹ گیا۔
پھر کئی گدھوں نے ایک ساتھ حملہ کیا لیکن اس کے ہلنے اور چیخ مارکر ریت کی طرف منہ کر لینے کی وجہ سے وہ اس کی آنکھوں کو نشانہ بنانے میں ناکام رہے۔ ہاں ایک گدھ اس کی ران نوچتا ہوا ضرور گزر گیا ۔
اب حملہ کرنے والے گدھوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔
بہت دور سے ایک گھنٹی کی آواز سنائی دی ۔
گھنٹی کی آواز بھی تیزی سے اس کے نزدیک آتی جا رہی تھی۔ کامران نے گردن موڑ کر اس آواز کی طرف دیکھا تو اسے دور سے ایک ریت کا بادل اڑتا ہوا نظر آیا۔
وہ کوئی اونٹنی سوار تھا جو تیر کی طرح اس کی طرف آرہا تھا ۔ اونٹنی سوار کے نزدیک آتے ہیں سارے گدھ اچھلتے ہوۓ اڑ گئے ۔ اونٹنی سوار اس کے نزدیک آ کر رکا ۔

وہ سرسے پاؤں تک کالے لبادے میں تھا۔ اس کا چہره یہاں تک کہ آنکھیں بھی نہیں دکھائی دے رہی تھیں۔
سوار کے نزدیک آتے ہی فضا میں وہی مانوس سی کنوارے بدن کی خوشبو پھیل گئی۔ اس اونٹنی سوار نے دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا اور کہا۔
.کھل جا. اور یہ آواز کسی مرد کی تھی ۔
کھل جا “ کی آواز کے ساتھ ہی کامران نے محسوس کیا کہ وہ ہر قید و بند سے آزاد ہو رہا ہے ۔ اس کے ہاتھ پاؤں کی رسیاں ہل رہی تھیں۔
بڑی تیزی سے جیسے کوئی مشتاق ہاتھ سے اپنے فن کا مظاہرہ کر رہا ہو ۔ کامران حیرت و استعجاب میں ڈوبا اس اونٹنی سوار کو دیکھ رہا تھا جو رحمت بن کر اس پر نازل ہوا تھا۔
"چل اٹھ" اس اونٹنی سوار کا دایاں ہاتھ پر فضا میں بلند ہوا ۔
کامران نے محسوس کیا جیسے چار پانچ آدمیوں نے بیک وقت پکڑ کر اسے کھڑا کر دیا ہو ۔ وہ اپنے پاؤں پر زیادہ دیر کھڑا نہیں رہ سکا ۔ بندھے بندھے اس کے ہاتھ پاؤں اکڑ گئے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ چکرا کر ریت پر ڈھیر ہوتا اونٹنی سوار کا ہاتھ پھر فضا میں بلند ہوا ۔
” زرا سنبھل " اس "ذرا سنبھل" میں جانے کیا جادو تھا کہ کامران کے جسم میں زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی ۔ لمحے میں اس کی کایا پلٹ گئی ۔ وہ خود کو بڑا چاق و چوبند محسوس کرنے لگا ۔ . تم کون ہو ؟ " چاق و چوبند ہوتے ہی کامران نے سوال کر دیا ۔

میں کون ہوں ؟ “ ایک کھنکتی ہوئی ہنسی ہوا کے دوش پر دور تک پھیل گئی ۔
تمہارا نام کیا ہے ؟ ایک اور سوال ہوا ۔
"ابھی تمہیں تمہارے پہلے سوال کا جواب نہیں ملا تھا کہ تم نے ایک سوال اور کر دیا۔
تم مردوں کو جانے کا اتنا مرض کیوں ہوتا ہے۔ پہلے پوچھا کون ہوں میں ؟ میرا نام جاننے کی فرمائش کرلی۔ اگلے لمحے میری صورت دیکھنے کی خواہش ظاہر کی جائے گی اور پھر....... پھر بات وہاں تک پہنچے گی کہ عورت کو شرمانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہے گا۔ تم مردوں کو زرا کی ڈھیل دے دی جائے تو بڑھتے جاتے ہو ۔ پھیلتے ہی جاتے ہو ۔ آخر تم مرد عورت کے معاملے میں اتنے حریص کیوں ہوتے ہو ؟ “ اونٹنی سوار نے کہا ۔
جب اونٹنی سوار بول رہی تھی تو کامران کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ساری عمر بولتی رہے اور وہ اس کی مترنم آواز سے بھی لطف اندوز ہوتا رہے لیکن اس کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی ۔ اچانک فضا میں ٹھہراؤ پیدا ہوگیا۔
ابھی کامران اس کی بات کا جواب بھی نہ دے پایا تھا کہ موسیقی سی فضا میں سنائی دینے لگی
"ناراض ہوئے بغیر فی الحال میرا نام جان لو" وہ کہہ رہی تھی۔ "میرا نام چاندکا ہے۔"
"چاندکا" ۔ کامران نے اس کا نام دہرایا ۔ "بہت خوبصورت ۔"
اگلے لمحے کامران کو سرخ ریت کا بادل اڑتا ہوا دکھائی دیا -
چاندکا جاتے جاتے اسے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر گئی تھی۔
وہ اونٹنی بڑی برق رفتار تھی۔
اسے پکڑنا یا اس کے ساتھ چلنا آسان نہ تھا۔
پھر بھی اس نے بھاگنا شروع کیا۔ بھاگتے بھاگتے اس نے محسوس کیا کہ اس کے پاؤں ریت پر نہیں پڑ ہے۔ وہ فضا میں تیر رہا ہے اور دھیرے دھیرے چاندکا کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔ جانے کتنی دیر تک کامران نے سفر کیا اور کتنا فاصلہ طے کیا۔ اس کا انداز وہ نہ کر سکا۔ وہ اس وقت چونکا جب اس نے لق و دق صحرا میں ایک سفید محل کھڑا دیکھا اور کے دروانے پر چاندکا کو پایا۔

حیرت سے کبھی چاندکا کو کبھی اس محل کو دیکھتا تھا۔
اس کی عقل حیران تھی کہ ایسے لق و دق صحرا میں یہ کس نے محل بنایا اور کیوں بنایا ؟ اور یہاں رہتا کون ہے ؟ . چاند کا ہاتھ فضا میں بلند ہوتے ہی محل کا دروازہ کھل گیا اور وہ مع اونٹنی کے دروازے میں داخل ہوگئی۔
جب تک کامران محل کے دروازے تک پہنچا دروازہ بند ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے دروازہ ہلانے کی کوشش کی مگر اس نے جبنش بھی نہ کھائی۔
اس نے دروازے میں لگی بھاری زنجیر کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ہلایا لیکن زنجیر کی آواز سن کر بھی کسی نے دروازہ نہ کھولا ۔ اچانک ہی اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ زور سے ان کا نام لے "چاندکا" ۔ آخر وہ اپنی اس خواہش پر قابو نہ پا سکا ۔ اس نے پکارا ۔ "چاندکا"
چاندکا کے نام میں جانے کیا جادو تھا کہ اس کا نام لیتے ہی دروازہ دھیرے دھیرے کھلنا شروع ہوا ۔ ابھی کامران نے کھلے دروازے میں قدم رکھا ہی تھا کہ کہیں سے شیر کے دھاڑنے کی زور دار آواز آئی ۔ کامران ٹھٹھک کر رک گیا ۔ وہ سوچنے لگا کہ اندر جا کر کہیں مصیبت میں نہ پھنس جائے لہذا یہاں سے الٹے قدموں بھاگ نکلنا ہی بہتر ہے ۔
" ڈر مت آجا۔" فضا میں کہیں دور سے چاندکا کی آواز سنائی دی لیکن وہ خود کہیں نہیں دکھی محل کا دروازه اب پورا کھل چکا تھا۔
شیر کے دھاڑنے کی آوازیں بھی آنی بند ہوگئی تھی۔ اس نے سائری دیوتا کا نام لے کر اندر قدم رکھا۔

اس کے اندر آتے ہی دروازا خود بخود بند ہونا شروع ہوگیا۔ چندلمحوں بعد اس نے مڑ کر دیکھا تو درواز مکمل طور پر بند ہو چکا تھا اور وہ اس سنسان محل میں قید ہو گیا تھا ۔ کامران نے ڈرتے ڈرتے پورا محل چھان مارا لیکن اسے کہیں بھی شیر نہ دکھائی دیا ۔ شیر کیا چاندکا کا بھی کہیں پتہ نہ تھا ۔ وہ بمع اونٹنی کے جانے کہاں غائب ہوگئی تھی ۔ پورا محل ویران پڑا تھا ۔ کوئی بشر نہ کوئی چرند نہ کوئی پرند ۔ کامران گھومتا گھامتا محل کے ایک ایسے کمرے میں جا پہنچا جہاں ایک بہت بڑی تصور لگی ہوئی تھی۔
اتنی بڑی تصویر کہ اس میں بنا گھوڑا اصلی دکھائی دے رہا تھا ۔ اس گھوڑے پر ایک سوار بیٹھا تھا اور چاروں طرف ریت پھیلی ہوئی تھی ۔ کامران نے جب گھڑ سوار کے چہرے پر نگاہ ڈالی تو چونک اٹھا ۔
گھڑ سوار ہو بہو اس کی شکل کا تھا
کامران نے گھڑ سوار کوغور سے دیکھنا شروع کیا تو ایک عجیب بات ہوئی ۔ تصویر حرکت میں آ گئی۔
گھوڑا ریت پر سرپٹ دوڑ رہا تھا اور دور ہوتا جا رہا تھا۔ یہاں تک کہ ریت کا غبار ہی غبار رہ گیا ۔ گھڑ سوار غائب ہو گیا۔
پھر منظر بدلا ۔ ریت چھٹی تو کامران نے اپنی بستی کی ایک جھلک دیکھی بستی میں جانے پہچانے چہرے نظر آرہے تھے ۔ اچانک اسے اپنا گھر دکھائی دیا ۔
شادی کی رات کا منظر تھا۔ نیلا ہو اور وہ ایک پیالے سے قیمتی جڑی بوٹیوں کا رس بڑی احتیاط ے پی رہے تھے اور کامران تصویر میں دکھائی دینے والے کامران کو بڑی حیرت سے دیکھ رہا تھا_"

سب کچھ ویسا ہی تھا اس جھونپڑے نما مکان میں شیر کی چربی کا چراغ جل رہا تھا یہ روشنی صرف آج کی رات کے لیے تھی۔ شیر کی چربی کا حصول اتنا آسان نہ تھا۔ رس پینے کے بعد کامران نے پیالہ ایک طرف پھینکا اور نیلا بو کر اپنی آغوش میں لے لیا
دھیرے دھیرے بات بڑھتی گئی۔ اسرار کھلتے گئے اور بات وہاں پہنچی جہاں کسی کو کسی کی خبر نہیں ہوتی۔ اور یہی لمحے اس کی زندگی میں زہر پھیلا گئے۔ قامران کے تصور میں بھی نہ تھا کہ اس کی شریک زندگی صحیح معنوں میں شریک زندگی ثابت نہ ہو سکے گی۔ خود بیچاری نیلا بو کو بھی پتہ نہ تھا اور اسے پتہ ہوتا بھی تو کیسے ؟ آزمائش کی گھڑی تو اب آئی تھی اور وہ اپنے شوہر کو خوش کرنے میں ناکام ہوگئی تھی۔ نیلابو در اصل ناعورت تھی۔
یرکان قبیلے کے رسم و رواج کے مطابق وہ صبح ہی قبیلے کے سرکردہ لوگوں کو ساری صورتحال سے آگاہ کر کے نیلابو سے چھٹکارا حاصل کر سکتا تھا۔ ایسی عورتوں کو قبلے والے ایک لمحے کو بھی برداشت نہ کرتے تھے۔ اسے دوسرے ہی دن قبیلے کے تمام لوگوں کے سامنے تیروں سے چھید کر کے ختم کر دیا جاتا تھا اور لاش خونخوار کتوں کے حوالے کر دی جاتی تھی۔ اور اس کے شوہر کو بستی کی کسی بھی لڑکی سے شادی کی اجازت دے دی جاتی تھی بغیر سوئمبر ہے ۔ گویا ایسے مرد کی قسمت کھل جاتی تھی ۔ اسے سوئمبر کی کڑی آزمائش سے گزرے بغیر اپنی پسند کی ایک اور لڑکی ہاتھ لگ جاتی تھی۔ اس رات نیلابو کامران کے پیروں پر سر رکھے ساری رات روتی رہی تھی اور کامران بھیگی آنکھیں لیے جانے کیا کیا سوچتا رہا تھا ۔ نیلابو اس کی محبت تھی جسے اس نے بڑے جتن سے حاصل کیا تھا ۔ اب وہ اسے خونخوار کتوں کے حوالے نہیں کرسکتا تھا لیکن یہ مسئلہ پوری زندگی کا تھا۔ پہاڑ سی زندگی پھیکے اور بے رس رفیق کے بغیر کس طرح گزرے گی ؟
یہ سوال جو اس رات دونوں کو رلاتا رہا۔
وقت سحر کامران کی آنکھ لگ گئی جبکہ نیلا ہو اٹھ کر جا چکی تھی ۔ میٹھے پانی کے چشمے کی طرف۔

دن چڑھے نیلا بو کے باپ نے قامران کو جگایا۔
کامران اٹهو ............ملکہ شاطو کے سوار باہر کھڑے ہیں“
"ملکہ شاطو کے سوار؟ ..... وہ یہاں کیا کر رہے ہیں؟
کامران نے اٹھتے ہوئے کہا ۔
تمہارے لیے ملکہ کا پیغام لائے ہیں۔ جلدی کرو
"ملکہ شاطو کے سوار جب کسی کے گھر آتے ہیں تو قہر لاتے ہیں یا مہر
"یہ سوار میرے لیئے کیا لائے ہیں؟" کامران نے تیر کمان سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
"مجھے نہیں معلوم وہ کیوں آئے ہیں؟“ نیلابو کے باپ نے اسے راستہ دیا۔
”سائری دیوتا اپنا رحم کرے۔ " نیلابو کہاں ہے ؟ قامران نے چاروں طرف نگاہ دوڑاتے ہوئے پوچھا۔ وہ میٹھے چشمے کی طرف گئی ہے
"کامران باہر نکلا تو ملکہ شاطو کے دو سوار اس کے منتظر تھے۔ اسے باہر آتے دیکھ کر مونچھوں والا سوار آگے بڑھا اور اپنی کرخت آواز میں بولا
” تم قامران ہو؟"

"ہاں" قامران نے انتہائی مختصر جواب دیا۔ اس بڑی مونچھوں والے سوار نے پیچھے ہاتھ کا اشارہ کیا۔ تب قامران نے دیکھا کہ سوار کے ساتھ ملکہ شاطو کی منہ زور گھوڑی ابلا بھی ہے جسے وہ رات زیر کر چکا تھا۔ ابلا کو دیکھ کر قامران کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ وہ اسے بڑے پیار سے دیکھنے لگا۔ دوسرا سوار اپنے گھوڑے سے اترا اور ابلا کی لگام قامران کے ہاتھوں میں دے کر پیچھے گیا
ملکہ شاطو نے یہ گھوڑی تمہارے نام کر دی ہے۔
بڑی مونچھوں والا سوار کہہ رہا تھا ۔۔ "قبول کرو ۔"
"میں ملکہ شاطو کا شکرگزار ہوں۔" قامران نے ابلا کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔" "شاطو کا ایک کام اور بھی ہے"
"وہ کیا؟" اس نے پوچھا۔ " تم جب چاہو ملکہ کے خاص سواروں میں شامل ہو سکتے ہو۔"
یہ کہہ کر وہ بڑی مونچھوں والا پلٹا اور گھوڑے کو ایڑ دے کر آناً فاناً ہوا ہو گیا۔ قامران دور تک ان دونوں سواروں کو جاتا دیکھتا رہا۔
سامنے سے نیلابو آرہی تھی اس نے سواروں کو اپنے گھر سے واپس پلٹتے دیکھ لیا تھا۔
وہ بھاگ کر قامران تک پہنچی اور اس سے پوچھا۔
کیا ہوا؟ اس نے چڑھتی سانوں پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
"کچھ نہیں۔" نیلابو کے باپ نے قامران کے کچھ بولنے سے پہلے کہا۔
" کیا تم ابلا کو دیکھ رہی ہو؟ ملکہ شاطو نے اسے قامران کو بخش دیا ہے اور ساتھ ہی ملازمت کی پیشکش کی ہے"
اسے خاص سواروں میں شمولیت کی پیش کش کی ہے۔
یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ قامران نے اس بستی کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔ نیلا ہوتم بہت خوش قسمت ہو جسے قامران جیسا شوہر نصیب ہوا۔
اپنی خوش نصیبی کا ذکر سن کر نیلا بو کو رات کی بات یاد آ گئی۔ ضبط کے باوجود اس کی آنکھو سے آنسو پھوٹ پڑے۔

کامران نے اس کی آنکھوں میں آنسو دیکھے تو دل مسوس کر رہ گیا۔
”رومت“ وہ اسکے آنسو صاف کرتی ہوئے بولا
”آنسو تو میری قسمت بن گئے ہیں قامران کیا کروں؟“ وہ روتی ہوئی کمرے میں چلی گئی۔
”یہ نیلا بوکو کیا ہوا ؟“ نیلا بو کا باپ حیران تھا۔ ایسے خوشی کے موقع پر بدشگونی کی باتیں قامران کیا جواب دیتا۔
اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ ہاں ! سوالات ان گنت تھے۔ رات ہوئی تو نیلابو نے قامران سے کہا۔ ”قامران تم دوسری شادی کر لو“
دوسری شادی کا مطلب جانتی ہو ؟“
”ہاں جانتی ہوں۔ مجھے بستی والے تیروں سے ہلاک کر دیں گے اور میری لاش کتوں کے حوالے کر دی جائے گی۔ مجھے اس انجام کی کوئی پروا نہیں ہے۔
میں ہوں ہی اس قابل ۔ میرے ساتھ یہی کچھ ہونا چاہیئے“
"چپ ہو جاؤ ... نيلابو میں تمہیں بستی والوں کے حوالے نہیں کرسکتا۔ میں تیروں اور کتوں کے تصور ہی سے کانپ جاتا ہوں۔ آخر تمہیں کس بات کی سزا دوں؟"
"میرے ناکارہ ہونے کی۔" نیلاہو نے کہا۔
"اس میں تمہارا کیا قصور یہ سب دیوتاؤں کے کام ہیں۔
تمہیں سائری دیوتا نے ایسا ہی بنایا ہے۔ میں تم سے شدید محبت کرتا ہوں نیلابو۔ سائری دیوتا کی قسم مجھے دوسری عورت کی ضرورت نہیں۔ ہم تم اسی طرح زندگی گزار دیں گے۔ تم پریشان مت ہو۔" قامران نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
"میرے ساتھ رہ کرتم جیتے جی مر جاؤ گے قامران۔" نیلا بوفکر مند تھی۔
"تم نہ رہیں تب بھی میں مر جاؤں گا۔ مجھے تمہاری جدائی برداشت نہیں"
"قامران جذباتی نہ بنو... ذرا سوچو عقل سے کام لو۔“
پر ہوش تھا کہاں؟

"سب سوچ لیا ہے سجھ لیا ہے۔" شاید تھا
"تم مرد ہو۔ معلوم نہیں یہ سوال تھا یا جواب۔" "ہاں میں مرد ہوں۔" کامران نے اپنے مرد ہونے کی تصدیق کی۔
"آج نہیں تو کل کل نہیں تو پرسوں اپنے کیے پر پچھتاؤ گے۔" اسے ڈرایا گیا۔
"میں بغیر پچھتائے تمہارے ساتھ صدیاں گزار سکتا ہوں۔ ایثار کی بات چلی تو کہاں تک پہنچی
"یہ صرف خیال ہے۔ مرد میں ضبط نفس کم ہوتا ہے۔ فطری بات ہے۔ سال دو سال ممکن ہے عورت کے بغیر گزار لو لیکن پوری زندگی نہیں۔"
"نیلابو تمہیں مجھ سے کتنی محبت ہے؟" سیدھا سیدھا سوال ہوا۔
اتنی کہ اگر تمہاری جگہ کوئی اور سوئمبر جیت لیتا : میں زہریلا تیر اپنے دل میں پوست کر لیتی
"اگر آج تمہاری جگہ میں نا کارہ نکل آتا تو.......؟"
پھر کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا۔ میں پوری زندگی تمہارے ساتھ گزار دیتی۔ عورت میں بڑا ضبط ہوتا ہے قامران۔ اسے اگر اپنے شوہر کی سچی محبت مل جائے تو پھر دنیا کا کوئی مرد اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا۔ وہ مٹنا پسند کرتی ہے لیکن اپنے شوہر کا نام مٹانا پسند نہیں کرتی۔“
"مرد مرد، اور عورت عورت میں فرق ہوتا ہے دنیا کی ہرعورت اور ہر مرد یکساں نہیں ہوتا۔ میں سائری دیوتا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں زندگی بھر کسی دوسری عورت کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھوں تو دیوتا کا عذاب مجھ پر نازل ہو جائے۔ میں مر جاؤں۔“
"قامران" نیلابو بے قابو ہوکر چیخی۔
”یہ تم نے کیا کہا تم نے سائری دیوتا کی قسم کیوں کھا لی تم نے خود کو جیتے جی ماردیا"

" میں نے قسم اس لیے کھائی ہے کہ......."
"تم نے بہت برا کیا قامران تم نے میرا دکھ اور بڑھا دیا۔ میں تمہاری زندگی خراب کرنا نہیں چاہتی تھی تم نے مجھے غلط سمجھا۔ میری خواہش تو یہ تھی کہ تم مجھے موت کے حوالے کر کے دوسری شادی کر لیتے لیکن تم نے سائری دیوتا کی قسم کھا کر سارے راستے بند کر دیئے۔ میں نے سوچا تھا کہ...."
"نیلابو چھوڑو ان باتوں کو اور مجھ سے وعدہ کرو کہ آئندہ تم مجھ سے کبھی جدا ہونے کی بات نہیں کرو گی۔“ "سائری دیوتا کی قسم میں کبھی دوسری شادی کا ذکر نہیں کروں گی۔ اگر کروں تو دیوتا کا عذاب مجھ پہ نازل ہو۔ میں زندہ نہ رہوں۔“
پھر اس دن کے بعد اس موضوع پر کبھی کوئی بات نہ ہوئی۔ زندگی اپنے محور میں تیزی سے گردش کرتی رہی۔ رات دن بدلتے رہے۔ موسم آتے جاتے ہے۔ اسی طرح کئی سال بیت گئے۔ کامران کے پیار میں کوئی کمی نہ آئی۔
نیلابو نے تو خیر ایسے پیارے انسان پر مر مٹنے کی ستم کھا رکھی تھی۔
دونوں خوش تھے۔ بستی والوں کی نظر میں وہ بڑا خوش و خرم جوڑا تھا۔
لوگ ان کی محبت کی قسمیں کھاتے تھے۔
رات کو نیالابو کبھی کبھی قامران کو کروٹ بدلتے دیکھتی تو اس کے دل میں ایک ٹیس اٹھتی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے
کیسی کمی تھی یہ کیسا ظلم تھا۔ اب تو نیلابو اپنے دکھ کا اظہار بھی نہ کر سکتی تھی۔
قامران نے اس کی آنکھوں سے آنسو لڑهکتے دیکھے تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ وہ خوامخواہ خوش فہمی میں مبتلا تھا کہ اس نے نیلابو کا دکھ بانٹ لیا ہے۔ اسے روتے دیکھ کر وہ بے اختیار اس کی طرف بڑھا لیکن اس کے قریب پہنچنے سے پہلے تصویر دھندلا گئی۔ اب اس نے پھر سے ریت اڑتی ہوئی دیکھی اور اس میں سے اس کا ہم شکل گھڑ سوار نکلا اور قریب آ کر رک گیا۔
اب تصویر پہلے کی طرح ساکت ہو چکی تھی اور وہ حیرانی سے اس گھڑ سوار کو تک رہا تھا پھر اس نے آگے بڑھ کر اس تصویر کو چھو کر دیکھا۔ وہ تصور ہی تھی۔ اس میں کہیں سے بھی حرکت کے آثار نظر نہ آئے۔
پھر اس نے ابھی جو اپنی زندگی کے اہم واقعات کو پردے پر جیتے جاگتے دیکھا تھا وہ سب کیا تھا؟

کیا اس نے جاگتے میں خواب دیکھا تھا؟
اس کی سمجھ میں کچھ نہ آیا۔
تب یی کسی نے پشت سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اس نے پلٹ کر دیکھا۔ وہاں کوئی نہ تھا۔ پہلی بار اس نے خوف محسوس کیا۔ وہ الٹے پاؤں کمرے سے نکلا اور تیزی سے دروازے کی طرف بھاگا دروازه بدستور بند تھا۔
اس نے دروازے کو زور لگا کر کھولنا چاہا لیکن وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔
"دروازہ کھولو، دروازہ کھولو۔" اس نے چیخ کر کہا۔
محل میں اس کی آواز گونج گئی۔
بڑی دیر تک "دروازہ کھولو دروازہ کھولو" کی آوازیں بازگشت کرتی رہیں۔
یہ آوازیں قامران کی نہ تھیں۔ یہ آوازیں بہت باریک سی تھیں۔ جیسے کوئی بچہ قامران کی نقل اتار رہا ہو۔
"دروازہ کھولو۔“ ایک دفعہ اس نے پھر زور سے کہا۔
جواب میں پھر بچے کی آواز گونجی "دروازه کھولو"
اس نے چاروں طرف گھوم کر دیکھا کچھ نظر نہ آیا۔
"یہاں کون ہے؟" کامران نے ذرا جی کڑا کر کے کہا۔
جواب میں پہلے بچگانہ قہقہا گونجا۔ پھر "یہاں کون ہے؟یہاں کون ہے؟" کی آوازیں آنے لگی
چندلمحوں بعد خاموشی چھا گئی۔ ایسی خاموشی کے قامران اپنے دل کی دھڑکن کو سن سکتا تھا۔ پھر کہیں سے کھٹ کھٹ کی آوازیں آنے لگیں۔ جیسے کوئی لاٹھی ٹیکیتا ہوا دروازے کا طرف آرہا ہو۔ کھٹ کھٹ کی آواز لمحہ بہ لمحہ نزدیک ہوتی جا رہی تھی۔ کامران نے ایک ستون کی آڑے لی تھی اور آنکھیں پھاڑ کر ادھر دیکھ رہا تھا جہاں سے آواز آرہی تھی۔ کامران نے دیکھا کہ ایک کالی بھجنگ بڑھیا جس کے چار ہاتھ تھے۔ گز بھر کی زبان جو پیٹ تک آرہی تھی ہاتھ میں لاٹھی تھامے چلی آرہی ہے۔

وہ اس کے قریب سے گزرتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھ گئی ۔ اس کے قریب سے گزرتے ہی قامران نے اپنا سانس روک لیا اور کس کر ناک پکڑ لی۔ پھر بھی بدبو کا ایک سخت بھبکا اس کے پھیپھڑے میں اتر گیا۔
وہ چار ہاتھ والی بڑھیا آہستہ آہستہ چلتی ہوئی دروازے کے نزدیک پہنچی اور دروازہ کھولے بنا ہی دروازے میں سے گزر کئ
وہ عمر دھوئیں کی بنی ہوئی ہوں کامران حیرت زدہ رہ گیا۔
ابھی اس کی حیرت کم نہ ہوئی تھی کہ دروازے میں سے ایک سقہ آتا دکھائی۔
وہ بھی اسی کی طرح دروازہ کھولے بغیر مع مشک کے اس طرح اندر داخل ہو گیا جیسے دروازہ لکڑی کا نہ ہو
اس سقے کی صورت بھی بھیا کی تھی۔ اس کے ناک اور کان نہ تھے۔ ایک کان کے صرف سوراخ تھے۔
کمر پر چمڑے کی ایک بڑی سی مشک بھری ہوئی تھی اور مشک کا منہ اس نے ایک ہاتھ میں تھاما ہوا تھا اور مشک سے جو چیز بوند بوند ٹپکتی جارہی تھی .. وہ پانی نہ تھا .... سرخ سرخ خون تھا۔ قامران لرز اٹھا ....
وہ سقہ خون کی بوندیں ٹپکاتا اس کے نزدیک سے گزر گیا۔
وہ ابھی ستون کی اوٹ سے باہر نکلنے کی سوچ ہی رہا تھا کہ بھاری قدموں کی آوازیں آنے لگیں۔ جیسے بہت سے آدمی دروازے کی طرف آرہے ہوں۔
وہ پھر سے ستون کی آڑ میں چلا، آنے والے دو بھاری بدن کے مرد تھے۔ ناک اور کان ان کے بھی نہ تھے۔

دروازے کے نزدیک کردہ دونوں رک گئے اور نامانوس سی آواز میں انہوں نے کچھ کہا۔ دروازه فوراً ہی کھل گیا۔
وہ دونوں ٹہلتے ہوئے باہر نکل گئے۔ قامران نے موقع غنیمت جانا۔ دروازہ بھی کھلا ہوا تھا۔ اس نے بھاگ کر دروازے سے نکل جانا چاہا لیکن وہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ سکا۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے ہاتھ ستون سے چپک گئے ہوں اور پاؤں زمین نے پکڑ لیے ہوں۔ اس نے لاکھ کوشش کی زور لگایا مگر وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہو سکا۔
دروازه زور دار آواز کے ساتھ خود بخود بند ہو رہا تھا اور قامران بڑی حسرت سے بند ہوتے دروازے کو تک رہا تھا۔ یہاں تک کہ دروازہ مکمل بند ہوگیا۔ ادھر دروازہ بند ہوا اور قامران کے ہاتھ پاؤں آزاد ہو گئے۔ وہ تڑپ کر دروازے طرف بھا مگر بے سود۔ دروازہ اندر سے بند تھا اور اب سر پکڑنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔
ابھی وہ دروازے پر مایوسی سے ہاتھ ہی پھیر رہا تھا کہ اس کے کانوں میں گھنٹیوں کی آوازیں آنے لگیں۔ گھنٹیوں کی آوازیں جیسے جیسے نزدیک ہوتی جارہی تھیں کنوارے بدن کی خوشبو بڑھتی گئی ۔ ”چاندکا؟“
اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ جواب میں صرف مترنم ہنسی سنائی دی۔
”چاندکا............تم ہو؟“ ”ہاں..! یہ میں ہوں۔“
"تم کہاں ہو چاندکا..؟"
"میں یہاں ہوں قامران“

کامران کو ایک ستون کے پیچھے کالا لباده لہراتا نظر آیا۔ وہ بے اختیار اس کی طرف لپکا۔ فوراً ہی کسی چیز سے ٹکرایا اور اوندھے منہ نیچے جا گرا۔ گھنٹیاں بجنے کی آواز آئی صرف ایک لمحہ کو۔ غالبیا وہ اونٹنی سے ٹکرا کر نیچے گرا تھا جو اسے دکھائی نہیں دے رہی تھی لیکن موجود تھی وہاں۔
"ذرا سنبھل کر" چاندکا کی ہنستی مسکراتی آواز آئی۔
"کیا خاک سنبھل کر" کامران نے اٹھتے ہوۓ کہا۔
” مجھے کچھ دکھائی دے تو سنبھلوں"
"اوہ... مجھے خیال نہیں رہا۔ اب دیکھو“
قامران کو اچانک ہی وہ اونٹنی دکھائی دینے لگی جو اس کے قریب ہی بیٹی بڑے آرام سے جگالی میں مصروف تھی۔
"اب تم بھی دکھائی دو...." چاندکا سے فرمائش کی گئی۔
"میں چاندکا ہوں...کوئی چاند تو نہیں کہ مجھے دیکھ کر کسی جشن کی تیاری کرو" انداز دکھایا گیا
عورت بھی چاند کی طرح ہوتی ہے۔ حسین اور سکون پہنچانے والی اور چاند کے چہرے پر کوئی نقاب نہیں ہوتا پھر تمہارے چہرے پر نقاب کیوں ہے؟“
"بہت خوب شاعری بھی آتی ہے تمہیں۔"
"آتی تو نہیں تمہیں دیکھنے کی خواہش کہیں شاعر نہ بنا دے۔"
"قامران کیا تم بھول گئے کہ تم نے نیلابو کے سوا کسی اور عورت کو نہ دیکھنے کی قسم کھارکھی ہے"
چاندکا تم بہت تیز ہو۔ تم نے میری قسم کو کیا معنی پہنا دیئے۔
حالانکہ میں نے جو قسم کھائی ہے اس کا مطلب...."
"میں سارے مطلب جانتی ہوں اتنی بدھو نہیں قامران" وہ زور سے ہنسی۔
چاندکا...یہ تو بتاؤ کہ تمہیں میرا نام کیسے معلوم ہوا..؟"
"تم نام کی بات کرتے ہو میں تمہاری زندگی کے ایک ایک لمحے سے واقف ہوں اور اس بات پر قدرت رکھتی ہوں کہ جب چاہوں تمہیں بیتی ہوئی زندگی کے واقعات زندہ کر کے دکھا دوں"
تم ٹھیک کہتی ہو تمہاری اس قدرت کا عملی مظاہرہ میں تصویر والے کمرے میں دیکھ چکا۔
"ابھی تم نے کچھ نہیں دیکھا۔ ذرا اپنی آنکھیں بند کرو"
” یہ لو" قامران نے آنکھیں بند کر لیں۔ آنکھیں بند کرتے ہی قامران نے ایک لمحے کے لیئے ایسا محسوس کیا جیسے کسی نے اسے پکڑ کر گھوما دیا ہو۔
"اب آنکھیں کھول سکتے ہو" چاندکا کی آواز آئی
"اچھا" قامران نے آنکھیں کھولیں تو دیکھتا ہی رہ گیا۔
وہ کسی شاہی خوابگاہ میں کھڑا تھا۔ بھینی بھینی خوشبو فضا میں پھیلی ہوئی تھی۔ مہین پردے ہوا کے زور پر دھیرے دھیرے سرسرا رہے تھے۔ منقش چھت میں ایک منقس فالوس لگا ہوا تھا۔ خوابگاہ کے درمیان میں ایک بہت بڑا چھپر کھٹ بچھا ہوا تھا اور اس پر نرم ملائم بستر تھا۔ خوابگاہ میں ایک لطیف اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔
"کہو کمرہ پسند آیا؟" چاندکا کسی پردے کے پیچھے چھی بولی۔

"بہت حسین ایسی خوابگاہ تو میں خواب میں بھی تصور نہیں کرسکتا تھا"
"اب کچھ دیر آرام کرو۔ تم نے تپتی ریت پہ کئی دن گزارے ہیں۔"
تپتی ریت کا ذکر سن کر اس کا جسم نڈھال سا ہو گیا۔ وہ فورا چھپر کھٹ پر لیٹ گیا اور لیٹتے ہی نیند کی دیوی نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔
وہ کافی در تک بڑے آرام سے سوتا رہا اپنے گردو پیش کے ماحول سے بے خبر۔ کامران کو اس دوشیزہ کا بھی پتہ نہ چلا جو دبے پاؤں چھپر کھٹ کی طرف بڑھتی اب اس کے سامنے کھڑی تھی۔ اس کے نازک ہاتھ میں ایک نازک سا چاندی کا بنا گل پاش تھا جس میں گلاب کی نرم ملائم پھول کی پتیوں کا عرق بھرا ہوا تھا۔ دوشیزہ نے گل پاش کو ایک ادا سے حرکت دی۔ چند قطرے نکل کر قامران کی آنکھوں اور رخساروں پر پڑے۔ قامران گہری نیند میں تھا اسے پتہ نہ چلا۔
دوشیزہ تھوڑا سا آگے اور بڑھی اور گل پاش سے تیزی سے گلوں گی مہک قامران کے چہرے پر منتقل ہونے لگی۔ یہاں تک کہ کامران کے جسم میں جنبش ہوئی اور اس نے کسمسا کر آنکھیں کھول دی
بھاری فانوس کی روشنی میں جب ایک زرق برق دوشیزہ کو کھڑا پایا تو نیند کا خمار یکدم ہوا ہو گیا۔ وہ تیر کی طرح سیدھا ہوگیا۔
"تم چاندکا ہو؟“
"نہیں....چاند کا بہت عظیم ہے ہم تو اس کی خاک ہیں۔ اس کی باندیاں ہیں۔" دوشیزه نے لب کھولے۔
کامران نے سنا کہ جب چاندکا کی باندیوں کا یہ عالم ہے کہ ان پر نظر نہیں ٹهہرتی تو پھر چاندکا کا کیا عالم ہوگا؟ جانے کب اس کے دیدار ہوں گے؟
ایک خواہش مچلی اور ہوا میں تحلیل ہوگئی۔ قامران غسل کرکے حمام سے باہر گیا تو پانچ باندیوں نے اسے زرق برق پوشاک پہنانے میں مدد کی۔ وہ لباس سے زیادہ ان باندیوں کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ پانچوں ہم شکل تھیں۔ ان میں بال برابر بھی فرق نہ تھا۔ کامران کو جب لباس پہنا کر آئینے کے سامنے کھڑا کیا گیا تو وہ خود کو شہزادے سے کم دکھائی نہ دیا۔

انہوں نے قامران کو کھانا کھلا کر اس کا لباس پھر تبدیل کیا اور اسے خوابگاہ میں چھوڑ گئیں۔ پھر ایک باندی ساز اٹھا لائی اور اس کے قریب بیٹھ کر ساز چھیٹر نے گی۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا مترنم موسیقی
اور لزیذ کھانے کے نشے نے ایک بار پھر اس کے ہوش گم کر دیے۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو سحر ہو چکی تھی۔
آ نکھ کھلتے ہی اس نے اپنے چہرے پر بدبودارتنفس محسوس کیا۔ وہ بھاری بھرکم وجود اس کے سرہانے بیٹھا اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا اوراس کے حلق سے خرخر کی آوازیں نکل رہی تھیں۔ قامران نے جب اور نظریں اٹھائیں تو لرز کر رہ گیا۔ اس کے سرہانے ایک خونخوار ریچھ بیٹھا تھا۔
سفید محل کی پراسراریت نے قامران کو بوکھلا کر رکھ دیا۔ یہاں ہر گھڑی منظر تبدیل ہوتا تھا۔ کس وقت کیا ہو جائے کچھ پتہ نہ تھا۔ وہ اچھا خاصا کھانا کھا کر سویا تھا اور اٹھتے ہی اسے توقع تھی کوئی نہ کوئی باندی اے سرہانے بیٹھی ملے گی لیکن یہاں تو بازی ہی الٹ گئی تھی۔
وہ کالا بھیانک ریچھ اس کے سرہانے بیٹھا اپنی تھوتھنی نیچے کیے قامران کو تک رہا تھا۔
قامران بے حس و حرکت لیٹا تھا۔ اس نے آنکھیں بھی بند کر لی تھیں اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ بس کچھ ہی لمحوں کی بات تھی۔ جب ریچھ اپنے بڑے بڑے ناخنوں والا پنجہ کامران کے چہرے میں گاڑ کر اس کا چہره ادھیڑنے والا تھا۔ صورتحال اتنی سنگین تھی کہ وہ کسی کو مدد کے لیے بھی نہیں پکارسکتا تھا کیونکہ ذرا سی حرکت ریچھ کو حملے کے لیے اکسا سکتی تھی۔
چند لمحوں بعد ریچھ نے حرکت کی وہ سرہانے سے اٹھا اور اس کے سینے پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔

اس کے بوجھ سے کامران کو اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا۔ یہ بھی اچھا تھا کہ ریچھ کا رخ اس مرتبہ کامران کی طرف نہ تھا۔ في الحال اسے اس کے بدبودار سانس سے نجات مل گئی تھی اور اب وہ کچھ سوچنے کے قابل ہو گیا تھا۔
اتنے میں دروازے سے ایک باندی داخل ہوئی اور قامران کے سینے پر ریچھ کو سوار دیکھ کر الٹے قدموں واپس ہوگئی۔ کامران نے وقت نہ ضائع کرتے ہوئے ریچھ کو ہلکا سا دھکا دیا۔
پھرتی سے اٹھا اور ریچھ کی بغلوں میں ہاتھ دے کر اس کی گردن دبوچنی رہی لیکن ہاتھ اوچھا پڑا اور بھاری بھرکم خونخوار ریچھ اس کی گرفت سے نکل گیا۔
اب وہ دونوں چھپرکھٹ سے اتر آئے تھے اور ایک دوسرے کے مقابل کھڑے تھے۔ قامران نے بڑی تیزی سے خوابگاہ کا جائزہ لیا مگر اسے کوئی ایسی چیز نظر نہ آئی جس سے وہ اپنا بچاؤ کرتا اس وقت اسے تیر کمان کی اشد ضرورت تھی۔ تیر کمان کیا کہ اگرکوئی خنجر باتھ لگ جاتا تب بھی کام بن سکتا تھا۔ ریچھ اچانک ہی غزاتا ہوا اس پر حملہ آور ہوا۔ وہ دونوں گتھم گتھا ہوتے ہوئے زمین پر آرہے
"چلاکو" ایک زوردار آواز خواباہ میں گونجی۔
ریچھ نے فورا ہی قامران کو چھوڑ دیا اور اچھلتا ہوا دروازے کی طرف بڑھا جہاں بغیر ناک كان والا ایک لحیم شحیم آدمی کھڑا تھا۔ ریچھ اس کے قریب جاکر اس کے 
سامنے مودبانہ بیٹھ گیا۔“
"چلا کو کے بچے تو نے یہاں آنے کی جرأت کیسے کی؟ "
بغير ناک کان والا آدمی دھاڑا اس نے ذرا پیچھے ہٹ کر ریچھ کی کمر میں زور دار لات جمائی اور کہا۔ ”چل بھاگ"
ریچھ لات کھا کر سر جھکائے دروازے سے نکل گیا۔
اس کے پیچھے پیچھے وہ بھیانک آدمی بھی چلا گیا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 3

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,