سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 19

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 19

شیر کی دھاڑ سن کرہی راجہ کڑوچ کی گھگی بندھ گئی۔
کامران نے اپنی زندگی میں ایسا ڈر پوک سربراہ نہ دیکھاتھا۔
"کورام کے مالک ہوشیار شیر آ پہنچا ہے۔" کامران نے بڑے پراسرار انداز میں کہا۔
"ہاں ہاں...........میں اس کی دھاڑ سن رہا ہوں۔“ راجہ کڑوچ کی آواز میں لرزش تھی۔
شیرکی دھاڑ سن کر بکرا بھی گم سم ہوگیا تھا جیسے اس پر سکتہ طاری ہو گیا ہو۔ تب اچانک ہی چھلانگ لگا کر شیر جھاڑیوں سے برآمد ہوا اور چاروں طرف سناٹا دیکھ کر شاہانہ چال چلتا بکرے کی طرف بڑھا۔
شیر کو دیکھتے ہی بکرا خوف کے مارے درخت کے تنے سے چمٹ گیا اور رحم طلب نگاہوں سے جنگل کے آقا کو دیکھنے لگا۔
اس وقت شیر کامران کے نشانے پر تھا۔ اگر وہ چاہتا تو چار پانچ تیر لگا تار چلا کر اسے زمین بوس کردیتا لیکن ابھی اس کا وقت نہیں آیا تھا۔ ابھی اس شیر سے بھی بڑا ظالم مچان پر موجود تھا اور اس کا خاتمہ زیادہ ضروری تھا
ادھر شیر نے بکرے کو دبوچا۔ ادھر قامران نے خوف سے کانپتے ہوئے راجہ کو اپنی گرفت میں لے لیا اور اس سے پہلے کہ راجہ اس کے خطرناک عزائم سے آگاہ ہوتا اس نے اسے مچان سے اچھال دیا
ایک زبردست چیخ فضا میں گونجی۔ شیر کا اٹھا ہوا پنجہ ساکت ہوگیا۔ وہ چھلانگ لگا کر جھاڑیوں میں چلا گیا۔ وہاں سے اس نے اس چیخنے والی شے کا معائنہ کیا۔
راجہ کڑوچ اتنی اونچائی سے گرنے کے باوجودگی صحیح سالم تھا۔ وہ گرتے ہی فورا اٹھا۔ ادھر شیر نے زکند لگائی اور راجہ کے سامنے آ پہنچا۔
جنگل کے راجہ اور انسانوں کے راجہ نے ایک دوسرے کو غور سے دیکھا۔ جنگل کے راجہ کو اس کی مداخلت اچھی نہ لگی۔ اس نے ایک زور دار تھپٹر راجہ کڑوچ کو رسید کیا۔ راجہ کا چہرہ ادھڑ گیا۔
شیر کی ابھی تسلی نہ ہوئی تھی۔ اس نے ایک بار اپنا خونخوار پنجہ اور چلایا جس کے نتیجے میں راجہ کی آنکھیں باہر آ گئیں۔ پھر شیر نے اسے جگہ جگہ سے چبا ڈالا اور اس کے جسم سے نکلنے والا گرم خون اپنی زبان سے چاٹنے لگا۔
اب تیر چلانے کا وقت آ گیا تھا۔ قامران نے کمان سیدھی کی اور لگاتار کئی تیر چلا کر شیر کے کے نازک حصوں کو چھید ڈالا۔ شیر کی دہاڑوں سے پورا جنگل گونج اٹھا۔ تھوڑی دیر میں اس نے راجہ کڑوچ کے نزدیک لیٹ کر جان دے دی۔
ایک ساتھ دو ظالموں کو ختم کر کے کامران پھولا نہ سمایا۔ اس نے خوشی سے نعرے لگائے اور مچان سے نیچے اتر آیا۔
پھر وہ بھاگتا ہوا دریا کی طرف بڑھا کہ وہاں پہنچ کر سالار کو خوشخبری سنا سکے۔
ابھی وہ مچان سے خاصے فاصلے پر تھا کہ سالار نے اسے آتا ہوا دیکھ لیا۔ اس نے دور ہی سے ہاتھ ہلایا اور جب کامران درخت کے نیچے پہنچا تو وہ بے قراری سے بولا۔
"نو جوان۔۔۔! کیا ہوا؟"
"نیچے آؤ سالار پھر بتاتا ہوں کہ کیا ہوا؟"
"ابھی آیا۔“ یہ کہہ کر سالار بڑی پھرتی سے درخت سے اترنے لگا۔
اس نے بے قراری سے خاصی اونچائی سے چھلانگ لگا دی اور ہانپتا ہوا کامران کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
"اب بتاؤ نوجوان شیر کی دھاڑوں سے تو میرا دل بیٹھ گیا تھا کیا تم نے راجہ کے ساتھ اسے بھی ختم کرڈالا؟"
کامران نے زبان سے کچھ کہنے کے بجائے اس کا ہاتھ پکڑا اور تیزی سے جائے واردات کی طرف بھاگنے لگا۔ سالار سے اتنی تیز بھاگنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایک جگہ وہ ٹھوکر کھا کر زمین پر دھاڑ سے گرا۔
کامران نے سہارا دے کر اسے اٹھایا اور پھر اسے اپنے ساتھ کھنچتا ہوا لے چلا۔
"نو جوان کیا کچھ گڑ بڑ ہوئی ہے" سالا اس کے پیچھے گھسیٹتا ہوا بولا۔
"یہ تو تمہیں جائے واردات پر پہنچ کر ہی پتہ چلے گا۔" کامران نے بھی اسے تنگ کرنے کی قسم کھالی تھی۔
ابھی وہ جائے واردات سے تھوڑے سے فاصلے پر تھے کہ وہ دونوں بھاگتے بھاگتے اچانک رک گئے۔
ایک شیرنی ان کا راستہ روکے کھڑی تھی۔
شیرنی کو دیکھ کر قامران بھونچکا رہ گیا جبکہ سالار کی سٹی گم ہوگئی۔ کامران کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ جنگل کے راجہ کی رانی بھی کہیں آس پاس ہی ہے ورنہ وہ سالار کو وہیں صورت حال سے آگاہ کردیتا اور ادھر پلٹ کر نہ آتا۔
قامران تو اسے چشم خود راجہ کی موت کا دیدار کروانے لایا تھا۔ لیکن جائے واردات پر اچانک ہی صورتحال تبدیل ہوگئی تھی اور یہ تبدیلی بھی سنگین نوعیت کی تھی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ ان دونوں نے شیرنی کو ذرا فاصلے سے دیکھ لیا ورنہ وہ اب تک لقمہ اجل بن چکے ہوتے۔
"آؤ" سالار کو بلاتا ہوا کامران تیزی سے پیچھے ہٹا اور پھر ایک اونچے درخت پر بندر کی طرح چھلانگیں لگاتا اوپر چڑھنے لگا۔
سالار نے بھی پھرتی دکھائی پھر وہ دونوں جلد ہی محفوظ مقام پر پہنچ گئے۔
شیرینی مردہ شیر کے گرد طواف کر رہی تھی اور اس کی دھاڑیں جن میں غم و غصہ تھا بڑھتی جا رہی تھی۔
"کیا کروں؟‘‘ کامران کمان سیدھی کرتا ہوا بولا- ’’جانے دوں یا ٹھکانے لگا دوں۔"
"نوجوان........... ! اسے فورا مار دو ورنہ یہ ہمیں ٹھکانے لگا دے گی۔" سالار نے بڑی بے چینی سے کہا۔
"اچھا..." کامران نے یکے بعد دیگرے دو تیر چلائے جو اس کے بھیجے میں پیوست ہو گئے ۔ وہ چکرا کر گری اور مسلسل چکراتی رہی۔
تب تامران نے تاک تاک کر تیر چھوڑے جو اپنے نشانوں پر ٹھیک ٹھیک لگے۔ آخر ان تیروں کی تاب نہ لا کر شیرنی چل بسی ٹھنڈی ہوگئی۔
جب خاصی دیر تک شیرنی کے جسم میں ہلچل نہ ہوئی تو کامران نے سالار کو نیچے اترنے کا اشارہ کیا۔
سالار درخت سے اتر کر آگے آگے اس طرح چلا جیسے یہ سارا کارنامه اسی کا ہو۔ اس نے جائے واردات کا بڑی گہری نظر سے معائنہ کیا۔ پھر اس نے راجہ کی لاش کو پکڑ کر گھسیٹا جیسے اس کی موت کی تصدیق چاہی ہو۔
کورام کے عوام نے یہ خبر بڑی حیرت سے سنی کہ ان کے راجہ کو شیر کھا گیا۔ کسی کو اس خبر پر کیا اعتراض ہوسکتا تھا بھلا۔ ویسے وہ یہ سن کر خوش ہوئے کہ حملہ آور شیر اور اس کے بعد شیرنی کو بھی مار گرایا گیا اور یوں کامران کا تذکرہ بچے بچے کی زبان پر آگیا۔ کورام کے کونے کونے میں اس کی دھوم مچ گئی۔
سالار نے راج محل پہنچتے ہی اپنے راجہ ہونے کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی رسم تاج پوشی کی تاریخ مقرر کردی۔
تیسرے دن سالار کورام کا باقاعدہ راجہ بن گیا۔ راجہ بننے کے بعد اس نے کامران کو سالار بنا دیا اپنا وعدہ نہ بھولا۔
کورام کے عوام کو کامران کے سالار بنائے جانے کی بے حد خوشی ہوئی۔ وہ اسے اس کی پرکشش شخصیت اور زبردست نشانچی ہونے کی وجہ سے بے حد پیار کرنے لگے۔
کامران کے منصوبے کا ایک اہم حصہ جس میں راجہ کڑوچ کو عبرتناک انجام سے دوچار کرنا تھا خود به خود انجام ہو چکا تھا اور حالات نے ایسا پلٹا کھایا تھا کہ راجکمار سلارا کی واپسی کی راہ ہموار کرنا کوئی مشکل نہ رہا تھا۔
کامران نے سب سے پہلے راج محل کے مالی اور ان سپاہیوں کو جن کی ڈیوٹی سرنگ کی تھی اور اس محافظ کو جس کو سلارا نے کوڑے سے مارا تھا، نئے راجہ کو کانوں کان خبر ہوئے بغیر گرفتار کروا کے جیل میں ڈلوادیا۔
پھر اس نے کورام کے چند بااثر افراد کو جو راجکمار سلارا سے ہمدردی رکھتے تھے اپنے اعتماد میں لیا اور ان پر پوری سازش آشکارا کردی۔
وہ لوگ قامران کی بات سن کر حیران رہ گئے۔ پھر ان کی حیرانی طیش میں تبدیل ہوگئی۔ راجہ کڑوچ تو خیر اپنے انجام کو پہنچ ہی چکا تھا لیکن موجودہ راجہ یعنی سابقہ سالار ابھی زندہ تھا وہ لوگ اسے فوراً قتل کرنے کے در پے ہو گئے۔
کامران نے انہیں سمجھا بجھا کر رام کیا۔ انہیں بتایا کہ ابھی انتقام لینے کا وقت نہیں آیا ہے۔ جب آئے گا تو وہ ان لوگوں کا پورا پورا خیال رکھے گا۔ پھر کامران نے ان بااثر لوگوں سے درخواست کی کہ وہ اس کہانی کو کورام کے بچے بچے تک پہنچا دیں۔
پھر کامران نے راتوں رات گھوڑا گاڑی نکالی چند سپاہیوں کو اپنے ساتھ لیا اور اس مہرے کی طرف چل دیا جس نے اس سازش میں سب سے اہم کردار ادا کیا تھا۔
اجالا پھیلنے سے پہلے قامران نے سنگ تراش کی جھونپڑی پر چھاپا مارا لیکن وہ جھونپڑی خالی دیکھ کر پریشان ہوگیا۔ جھونپڑی کی تمام چیزیں اپنی جگہ رکھی تھیں۔ ان چیزوں سے کسی حادثے کے آثار ظاہر نہ ہوتے تھے۔ پھر وہ سنگ تراش اتنی صبح کہاں چلا گیا۔ کامران نے سوچا کہ ممکن ہے ضروری کاموں سے فارغ ہونے کے بعد ادھر ادھر گیا ہو۔ لہذا کچھ دیر انتظار کر لینا چاہیے۔ اس نے اس اثناء میں جھونپڑی کی ایک ایک چز کھنگال ڈالی لیکن کوئی خاص چیز ہاتھ نہ لگی۔
خاصے انتظار کے باوجود جب وہ جب وہ سنگ تراش واپس نہ آیا تو کامران نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر وہ گھوڑا گاڑی دوڑاتا سلارا کی طرف چلا۔ جب قامران سالار کے لباس میں گھوڑا گاڑی سے اترا تو یہ منظر سلارا اور ریماں درخت کی اوٹ میں چھپے دیکھ رہے تھے۔ پہلے تو وہ یہی سمجھے کہ کورام کے سپاہی ان کی تلاش میں آ پہنچے ہیں۔ جب سلارا نے سالار کو غور سے دیکھا اور اسے ادھیڑ عمر آدمی کے بجائے ایک نوجوان سالار کا لباس پہنے نظر آیا تو وہ خوشی سے جھوم اٹھا اور ریماں کا ہاتھ پکڑ کر درختوں کی اوٹ سے نکل آیا۔ پھر وہ دونوں بھاگتے ہوئے قامران کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔
کامران نے ریماں کا ہاتھ سلارا کے ہاتھ میں دیکھا تو اس کے چہرے پر خوشی پھیل گئی۔ سلارا اور کامران دونوں ہی خوش تھے۔ اس لیے اس خوشی میں دونوں ہی ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور خاصی دیر تک لپٹے رہے۔
"تم کورام کے سالار کیسے بن گئے؟‘‘ تب سلارا نے پوچھا۔
"پہلے یہ بتاؤ کہ ریماں کا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں کیسے آ گیا....؟" قامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
یہ سن کر ریماں نے فورا اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور شرما کر ایک طرف ہوئی۔
"اس کا مطلب ہے کہ ریماں کو اپنی غلطی کا احساس ہوگیا۔" کامران نے ریماں کو دیکھتے ہوۓ کہا۔
"قامران۔۔۔۔! اس سب میں اس کا قصور نہیں یہ مجبور تھی۔ یہ سب کیا دھرا اس کے باپ کا تھا۔
تب تامران کو فوراً ہی وہ سنگ تراش یاد آیا جس کی تلاش میں وہ یہاں تک آیا تھا اور اسے اپنی گرفت میں نہ لے سکا تھا۔
"ریماں کا باپ تو ادھر نہیں آیا، وہ مجھے اپنی جھونپڑی میں نہیں ملا۔" قامران نے پوچھا۔
"پھر وہ کہاں گیا....….؟" سلارا نے ریماں کی طرف چونک کر دیکھا۔
"میرا خیال تھا کہ شاید وہ ریماں کی تلاش میں ادھر آ نکلا ہو لیکن یہاں تو میدان صاف ہے۔“ پھر کامران نے سوچتے ہوئے کہا۔ "کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ریماں کی گمشدگی سے پریشان ہوکر کورام چلا گیا ہو“
"ہاں ایسا ہوسکتا ہے" "لیکن وہ مجھے راستے میں کہیں نہیں ملا.." کامران بولا۔
"کیا تمہارے باپ کے پاس کوئی سواری تھی.....؟" سلارا نے ریماں سے پوچھا۔
”ہاں...........اس کے پاس ایک مریل سا ٹٹو تھا۔"
"پھر وہ یقینا کورام چلا گیا۔‘‘ سلارا نے بڑے وثوق سے کہا "تم ادھر سے نکلے ہو گے اور وہ ادھر پہنچا ہو گا۔“
"اچھا اب ایک خبر سنو میں نے ان تمام لوگوں کو جیل میں ڈال دیا ہے جنہوں نے ریماں کے دکھائی نہ دینے کی شہادت دی تھی۔" کامران نے کہا۔
"لیکن سالار اور چچا کڑوچ نے ایسا کیسے ہونے دیا؟"
"کون سالار....؟" قامران ہنستا ہوا بولا۔ "کورام کا سالار تو تمہارے سامنے کھڑا ہے۔
"یہ چند دنوں میں تم نے کیا تہلکہ مچا دیا کہ چچا کڑوچ تمہیں سالار بنانے پر مجبور ہو گئے۔"
"اب ایک اور زور دار خبر سنو؟“ تامران نے براہ راست اس کا جواب نہ دیا۔
"چچاکڑوچ سے متعلق۔۔۔۔؟" سلارا نے پوچھا۔
"ہاں...قامران نے اثبات میں گردن ہلائی۔ اب تمہارے چچا کورام کے راجہ نہیں رہے۔"
یہ خبر لارا کے لیے اتنی غیر متوقع تھی کہ چند لمحوں کے لیے اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
"اتنے حیرت زدہ نہ ہو ابھی ایک خبر اس سے زیادہ حیرت میں ڈالنے والی ہے میرے پاس۔" کامران نے پٹارے سے ایک اور سانپ نکالا۔
”وہ کیا؟“
"تمہارے چچا کو شیر کھا گیا"
"شیر کھا گیا.....؟“
اس مرتبہ سلارا حیران ہونے کے بجائے پریشان ہوگیا۔
"لیکن وہ تو بہت بزدل واقع ہوئے تھے شیر کے شکار پر کیسے چلے گئے؟"
تب جواب میں کامران نے تمام رام کہانی کہہ سنائی۔ راجہ کڑوچ کی موت کی اطلاع نے سلارا کو سرشار کر دیا۔ وہ تشکر آمیز لہجے میں بولا۔
"کامران......! تم نے میرے لیے اتنا کچھ کیا ہے کہ میں اپنی زندگی بھی تمہارے پاس گروی رکھ دوں تب بھی تمہارے احسانات ختم نہ ہوں گے۔"
"اچھا اب تم دونوں کورام چلنے کے لیے تیار ہو جاؤ‘‘ کامران نے فورا موضوع بدلا۔
"کیا میرا وہاں جانا مناسب ہوگا؟‘‘ سلارا نے پوچھا۔ ”میرا خیال ہے کہ ہمارے لیے ابھی واہاں کی فضا سازگار نہیں۔"
"سازگار نہیں.......تو ہو جائے گی....میں تم دونوں کی آمد خفیہ رکھوں گا.....تمہیں ضرورت کے وقت ہی کو رام کی عوام کے سامنے لایا جائے گا اور جب تم سامنے آؤ گے تو وہ دن تمہارے دشمنوں کا آخری دن ہوگا۔" قامران نے سلارا کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔ ”بس آؤ اب دیر نہ کرو۔"
تب سلارا ریماں کو لیے تیزی سے کامران کے ساتھ چلا۔
سپاہیوں نے اپنے راجکمار کو ردیکھا تو جھک کر سلام کیا۔ سلارا ان کے سلام کا جواب دیتا ہوا گھوڑا گاڑی پر سوار ہوگیا۔ شام سے پہلے ہی ان کی گھوڑا گاڑی کورام میں داخل ہوگئی۔
کامران نے سلارا اور ریماں کو کورام کے ایک امیر نے گھر چھوڑا۔
ان کی آمد کو خفیہ رکھنے کی تنبیہہ کی اور پھر وہ راج محل کی طرف روانہ ہوگیا۔ راج محل کے دروازے پر گاڑی رکتے ہی دو سپاہیوں نے اسے اطلاع دی کہ اس کے جا تے ہی ایک آدمی اس سے ملنے آیا تھا۔
"کون تھا وہ؟‘‘ کامران نے گاڑی سے چھلانگ لگاتے ہوئے پوچھا۔
"وہ خود کو سنگ تراش کہتا تھا اور سالار سے ملنے کے لیے بضد تھا۔ ہم نے اسے کہا کہ سالار اس وقت کورام میں موجود نہیں ہیں کل شام تک آئیں گے اگر وہ چاہے تو ان کی آمد تک انتظار کرے"
"کیا وہ چلا گیا؟"
"نہیں اس نے کہا کہ میں انتظار کروں گا۔۔۔۔۔تو اسے مہمان خانے میں ٹھہرادیا گیا۔
”اوہ تم لوگوں نے بہت اچھا کیا........آؤ میرے ساتھ۔“
قامران جب مہمان خانے میں داخل ہوا تو سنگ تراش کو کھڑکی سے باہر جھانکتے ہوئے پایا۔ کامران کی طرف اس کی پشت تھی۔ بھاری قدموں کی آواز نے اس کی محویت توڑ دی۔ وہ بے قراری سے پیچھے مڑا اور تیزی سے چلتا ہوا کامران کی طرف بڑھا۔
"غضب ہوگیا سالار۔" اس نے گھبرائے لہجے میں کہا۔ ”میری لڑکی......"
پھر بقیہ بات اس کے گلے میں ہی رہ گئی سالار کے لباس میں اس وقت جو آدمی اس کے سامنے تھا اس سے ایسی بات نہیں کی جاسکتی تھی۔
"میں سالار سے ملنا چاہتا ہوں۔‘‘ سنگ تراش نے کسی قدر سہمے ہوئے لہجے میں کہا۔
"میں تمہیں سالار نہیں دکھائی دیتا کیا؟‘‘ کامران درشت لہجے میں بولا۔
پھر اس سے پہلے کہ وہ کوئی جواب دیتا کامران نے اپنے پیچھے کھڑے سپاہیوں کو حکم دیا۔ "گرفتار کر لو اس بوڑھے کو اور ڈال دو اسے جیل میں"
اس حکم نے سنگ تراش کو حیرت میں ڈال دیا وہ چیختا رہا۔ "اصل سالار کہاں ہے۔ اسے بلاؤ........... ہائے...! یہ کیا ہو گیا۔“
یہ سارے کام بڑے خفیہ انداز میں ہو رہے تھے اور ان گرفتاریوں کو خفیہ رکھنے میں ان عہدیداروں کا بڑا ہاتھ تھا جو راجکمار کو تخت شاہی پر دیکھنا چاہتے تھے۔ راجہ کڑوچ کے ظلم کی کہانیاں اب ایک ایک کر کے سامنے آرہی تھیں۔ خود سابقہ سالار جو اب راجہ بن بیٹھا تھا لوگوں کی نظر میں مشکوک تھا۔ راجہ بننے کے بعد اس کی عیش پرستیی دن بدن بڑھتی جارہی تھی۔ اسے بدکردار عورتوں کا ساتھ بہت پسند تھا
اسے معلوم ہی نہ تھا کہ کامران کورام میں کیا گل کھلاتا پھر رہا ہے۔ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ ایک سیلاب بلا اپنے خونخوار پنجوں کے ساتھ اس کی طرف بڑھ رہا ہے۔
کامران نے کمال ہوشیاری سے راجہ کے گرد ایسے نوجوان سپاہی تعین کر دیئے تھے جو مضبوط تو تھے ہی لیکن ان کی وفاداریاں راجکمار کے ساتھ تھیں۔ ان سپاہیوں نے بڑے غیر محسوس طریقے پر راجہ کو محاصرے میں لے لیا تھا۔ اب وہ کسی بھی طرح فرارنہیں ہوسکتا تھا۔
کامران کی تیاریاں پایہ تکمیلکو پہنچ چکی تھی خفیہ ڈرامے میں کام کرنے والے کردار اب اس کی گرفت میں تھے۔ اب صرف عوام کے سامنے ان کی رونمائی ہونی تھی۔
قامران نے اس سلسلے میں اپنے ساتھیوں سے مشورہ کیا۔ سب نے ایک عوامی جشن منانے کی رائے دی۔ یہ سب سے محفوظ طریقہ تھا۔ کامران نے راجہ سے بات کی۔ اے بھلا جشن پر کیا اعتراض ہو سکتا تھا اس نے فوراً منظوری دے دی۔ کامران نے راجہ کو یہ پٹی پڑھائی تھی کہ یہ جشن اس کی تاجپوشی کے سلسلے میں منایا جا رہا ہے۔ کورام کے عوام اپنے راجہ کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔
کامران نے جشن کی تاریخ مقرر کر کے گلی گلی محلے محلے جشن کا اعلان کروا دیا۔
کورام کے سب سے بڑے میدان میں جشن کی تیاریاں شروع کر دی گئیں۔ یہ بڑا میدان جشن والے دن راجہ کے لیے شر کا میدان بن گیا۔
جشن والے دن مقررہ وقت پر راجہ بڑی شان سے چلتا ہوا بڑے سے چبوترے پر جا بیٹھا۔ اس کی گردن اکڑی ہوئی تھی اور آنکھوں میں کٹی رات کا رنگین فسانہ تھا۔ راجہ کے بیٹھتے ہی سپاہیوں نے اسے اپنے نرغے میں لے لیا اور کامران کے حکم کا انتظار کرنے لگے۔
تب قامران کھڑا ہوا اس کے سامنے انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ اتنا بڑا مجمع اس نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔
شاید کورام کا بچہ بچہ اس جشن میں شرکت کے لیے آ پہنچا تھا۔ قامران کو دیکھتے ہی لوگوں نے نعرے بازی شروع کردی۔
وہ "راجکمار زنده باد" کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔
چند لمحوں بعد "مرده باد" ہونے لگا۔
تب قامران نے ہاتھ اٹھا کر لوگوں کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔
ادھر راجہ بھی "مردہ باد" کے نعرے سن کر بھڑک اٹھا تھا۔ وہ جھلا کر کوئی حکم دینے والا تھا کہ کامران نے اسے زرا صبر سے کام لینے کو کہا۔ چند لمحوں بعد مجمع پر سکتہ طاری ہوگیا۔
"کورام کے لوگو...!" قامران کی آواز دور تک پھیلتی چلی گئی۔
چند لمحےتوقف کے بعد وہ پھر بولا۔ ”اگر میں تمہارے راجہ کو گرفتار کرلوں تو تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں“
"نہیں بالکل نہیں۔“ کورام کے عوام نے بیک زبان ہو کر جواب دیا۔
تب راجہ کو اچانک محسوس ہوا کہ کامران اس کے ساتھ غضب کی چال چل گیا لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
اس نے جھلا کر مسند سے اٹھنا چاہا لیکن اس کے آس پاس کھڑے سپاہیوں نے اسے آہستہ سے پکڑ کر بٹھا دیا۔
تب راجہ نے آگ بھری آنکھوں سے کامران کو دیکھا۔ اور قامران کے ہونٹوں پر شرارت آمیز مسکراہٹ تھی
"دیکھا کورام کے لوگو.
۔۔۔۔! یہ راجہ اپنی گرفتاری پر کیسا سیخ پا ہے حالانکہ یہ بھی ایسا ہی کر چکا ہے۔ اس نے سالار ہو کر راجہ کڑوچ کو مروا دیا تھا لیکن میں نے سالار ہو کر اسے قتل نہیں کیا صرف گرفتار کیا ہے۔ یہ اپنی حکومت چھن جانے پر کس قدر برہم ہے کیا میں نے اس کی حکومت ختم کر کے برا کیا لوگو‘‘
کامران نے عوامی رائے مانگی۔
"نہیں بہت اچھا کیا۔"
مجمع سے آواز آئی۔
"ہمارا راجکمار ہمارا اصل راجہ کہاں ہے اسے بلاؤ“ پھر کئی گوشوں سے مطالبہ ہونے لگا
"راجکمار کو لایا جائے۔" قامران نے حکم دیا۔
تھوڑی دیر کے انتظار کے بعد راجکمار ریماں کا ہاتھ پکڑے بڑی شان سے چبوترے کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا دکھائی دیا۔ راجکمار کو دیکھ کر لوگوں نے اس کے حق میں پرجوش نعرے لگائے۔ راجه نے راجکمار کے ساتھ ریماں کو دیکھا تو اس کے چہرے پر زردی پھیلنے لگی۔ اس کی پیشانی عرق آلود ہوئی۔
"ان مہروں کو بھی لاؤ‘‘ کامران نے راجکمار کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا۔
جلد ہی ان گرفتار شدہ لوگوں کو جن میں ریماں کا باپ، مالى، محافظ اور سپاہی شامل تھے بیڑیوں میں جکڑا ہوا مجمع کے سامنے لایا گیا۔
مجمع نے ان سازشیوں کی صورتیں دیکھ کر ان پر لعنت بھیجی اور ان کے خلاف زور دار نعرے لگائے۔
اب چبوترے پر ناٹک کے تمام کردار جمع ہو چکے تھے وقت آ گیا تھا کہ ہر اداکار کے کردار پر روشنی ڈالی جائے۔ تب قامران اپنی جگہ کے اٹھا اس نے ریماں کا ہاتھ پکڑا اور اسے آگے کی طرف لایا
پھر اس نے اس کا رخ مجمع کی طرف کیا اور چلا کر بولا "کورام کے لوگو....! کیا یہ لڑکی تمہیں نظر آرہی ہے"
"ہاں کیوں نہیں۔" مجمع پرجوش ہو کر بولا۔
تب قامران اسے لے کر محافظ اور سپاہیوں کی طرف بڑھا اور انہیں مخاطب کرتا ہوا بولا: "کیا تمہیں بھی یہ لڑکی دکھائی دے رہی ہے...؟" کامران کے اس سوال نے ان سب کی گردنیں جھکا دیں۔
وہ کیا بولتے؟ وہ اقرار کر سکتے تھے نہ انکار
"اب کیوں نہیں بولتے... اب کیوں نہیں کہتے کہ راجکمار ہمیں یہ لڑکی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ تم لوگوں نے تو بھرے مجمع میں اپنی شهادت دی تھی کہ ہم نے کوئی لڑکی نہیں دیکھی جبکہ راجکمار کو۔ چاروں طرف لڑکیاں ہی لڑکیاں دکھائی دیتی ہیں وہ پاگل ہو گیا ہے۔"
کامران گرج رہا تھا ۔ "اونٹ کے بچو.....! اب ذرا وہ بات دہرا کر دیکھو...اب کہو یہ لڑکی تمہیں نہیں دکھائی دے رہی ہے۔" کامران نے ان جھوٹے گواہوں کی بھی گردنیں ایک ایک کر کے اوپر اٹھائیں جو انہوں نے فوراً ہی نیچی کر لیں۔
ان میں ہمت نہ تھی کہ وہ کامران سے نظریں ملاتے۔
قامران انہیں چھوڑ کر سابقہ سالار اور حالیہ راجہ کی طرف بڑھا۔
"اے سازشی انسان کھڑے ہو جا"
راجہ نے کامران کی طاقت کا اندازہ کر لیا تھا اس لیے وه بلا پس و پیش اپنی مسند سے اٹھ گیا
راجہ کے اٹھتے ہی کامران نے راجکمار سے مسند سنبھالنے کو کہا اور راجہ کو لے کر مجمع کی طرف بڑھا۔
"کورام کے لوگو.....! یہ ہے وہ شخص جس نے سب سے پہلے تمہارے راجکمار کی آنکھوں میں دھول جھونکی۔ اس نے راجہ کڑوچ کے ایما پر انتہائی گہری سازش کی۔ راجکمار کے خلاف بڑی مہارت سے جال بنا۔
اقتدار کی ہوس نے انہیں اندھا کردیا تھا۔ راجہ اور سالار نے راجہ بننے کے شوق میں حق دار کو جنگل میں چھڑوا دیا اسے پاگل بنا دیا...یہ کیسے ہوا....اے لوگو......! میں تمہیں بتاتا ہوں۔"
کامران نے چند لمحے توقف کیا پھر ایک گہرا سانس لے کر کہنا شروع کیا۔
"کھنڈرات سے جو مجمسمہ برآمد ہوا وہ برآمد نہیں ہوا بلکہ برآمد کروایا گیا۔ پھر اسے صدیوں پرانے مجسمے کو راجکمار کو دکھانے کے لیے خاص اہتمام کیا گیا۔ مجسمه واقعی خوبصورت تھا اور کیوں نہ ہو اس لیے کہ اصل اس سے کہیں خوبصورت تھی۔ بہرحال اس صدیوں پرانے مجسمے سے بڑے ڈرامائی انداز میں چھن چھن کرتی اس کی اصل برآمد ہوئی جسے دیکھ کر ہمارا راجکمار غش کھا گیا اس پر دل و جان سے فریفتہ ہو گیا اور کیوں نہ ہوتا وہ تھی ہی اسی قابل۔
جب راجکمار اسے پکڑنے دوڑا تو وہ ایک خفیہ سوراخ میں سمٹ کر بیٹھ گئی۔ راجکمار اوپر آیا۔ سالار سے لڑکی کے برآمد ہونے اور اوپر آنے کا ذکر کیا لیکن سالار نے بھی صفائی سے کسی لڑکی کے وجود کا انکار کر دیا۔ وہ خود راجکمار کے ساتھ واپس آیا اور اس لڑکی کو صرف انہی جگہوں پر تلاش کیا جہاں سے اس کے برآمد ہونے کے امکانات نہ تھے۔ پھر راجکمار کے جانے کے بعد اس لڑکی کو جس کا نام ریماں ہے اور جو یہاں موجود ہے سوراخ سے نکال لیا گیا۔ ریماں کئی روز تک کورام میں رہی اور اسے بڑے شاطرانہ انداز میں راجکمار کے سامنے لایا گیا۔ ایک بار وه باغ میں نظر آئی لیکن اس شاملو کے بچے نے اسے دیکھتے ہوئے بھی دیکھنے سے انکار کر دیا۔ یہاں باغ میں راجکمار کی نظروں سے اوجھل ہونے کے بعد مالی کے مکان میں رہی۔ پھر ریماں راجکمار کو سیر کرتے ہوئے دکھائی دی۔ پہلے سے تیاری کر کے راجکمار کو سیر کے لیے بھیجا گیا اور گھوڑا گاڑی کو اس مقام سے گزارا گیا جہاں سے ریماں کا نظارہ کروانا مقصود تھا۔ راجکمار نے ریماں کو دیکھ کر چھلانگ لگانی چاہی لیکن یہ محافظ آڑے آ گیا۔
یہاں راجکمار کو پھر یہ باور کرایا گیا کہ یہ لڑکی صرف اسے ہی دکھائی دیتی ہے۔ اس بات کو بڑے موثر طریقے سے کورام کے عوام یعنی لوگوں تک پہنچایا گیا کہ راجکمار کو ہر وقت مجسمے والی لڑکی نظر آتی ہے وہ پاگل ہو گیا ہے اور یہ بات ایسی تھی کہ ہر آدمی اس پر ایمان لے آیا۔ میں بھی اگر کورام میں ہوتا تو راجکمار کو پاگل ہی سمجھتا۔ جب یہ بات اچھی طرح پورے کورام میں پھیل گئی تو راجکمار کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کی عدم موجودگی میں جھوٹی گواہیاں تم لوگوں کے سامنے پیش کر کے کڑوچ کورام کا راجہ بن بیٹھا۔ ریماں راج محل میں راجکمار کو آخری جھلک دکھا کر واپس اپنے باپ کے پاس آ گئی۔ ریماں کا باپ بہت اچھا سنگ تراش ہے۔ اس نے بڑی محنت سے اپنی بیٹی کا ایک مجسمہ بنایا تھا۔ یہی مجسمہ سالار نے حاصل کر کے اسے کورام کے کھنڈرات سے نکلوا دیا۔ ایک عام آدمی کی سمجھ میں یہ بات کسی طرح نہیں آ سکتی تھی کہ یہ مجسمہ صدیوں پرانا نہیں اور یہ کہ ملنے والی بھی حیات ہے۔ کورام کے لوگ اسے دیکھتے تو شاید پہچان بھی لیتے لیکن ریماں تو یہاں سے کافی فاصلے پر اپنے باپ کے ساتھ تنہا رہتی ہے اسے پہلے کورام کے کسی آدمی نے نہ دیکھا تھا۔ جب سنگ تراش سےاس کا بنایا ہوا مجسمہ اور مجسمے والی کو سالار نے راجہ کڑوچ کے حکم اورخطیر رقم کے عوض مانگا تو سنگ تراش اور ریماں دونوں کو یہ بات معلوم نہ تھی کہ ان سے کیا ہونے والا ہے۔
اس ناٹک میں ریماں نے اپنا کردار محظ تفریح سمجھ کر کیا
اسے نہیں معلوم تھا کہ اس کے کتنے سنگین نتائج نکلیں گے۔ جب بعد میں اسے پوری داستان معلوم ہوئی راجکمار پر کیے جانے والے مظالم کا پتہ چلا تو وہ بہت شرمندہ ہوئی اور ابھی تک شرمندہ ہے۔" کامران نے مسکراتے ہوئے ریماں کی طرف دیکھا اور پھر کورام کے عوام سے مخاطب ہوا
"راجکمار نے ریماں کو معاف کردیا ہے اور وہ ہے بھی معاف کیے جانے کے لائق...اب ان دونوں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں کے اور کورام کے لوگو.....! اس ملاپ پر تمہیں تو کوئی اعتراض نہیں؟"
"نہیں یہ ملاپ ضرور ہونا چاہیئے" نیچے سے عوامی رائے آئی۔
"اے لوگو....! اب ان سازشیوں کے بارے میں بھی فیصلہ کرو اگرچہ یہ سب راجکمار کے مجرم ہیں پر راجکمار بھی تو تمہارا ہے"
"ہاں راجکمارا ہمارا ہے ہمیں دل سے پیارا ہے۔" مجمع سے آواز آئی۔
های این بی
"پھر کیا کیا جائے" کامران نے پوچھا۔
"انہیں اسی وقت قتل کیا جائے۔" مجمع سے متفقہ فیصلہ آیا۔
"کیا ریماں کے باپ کو بھی............؟ میرا خیال ہے کہ سنگ تراش کو معاف کردیا جائے اس لیے کہ وہ اس سازش میں براہ راست ملوث نہ تھا۔ اگر اسے یہ معلوم ہوتا کہ اس مجسمے کے درپے کسی کا تخت و تاج چھین لیا جائے گا تو وہ ہرگز اس سازش میں شریک نہ ہوتا پھر کیا فیصلہ ہے لوگو....؟
"راجکمار سے پوچھو" مجمع سے آوازیں آئیں۔
تب قامران نے راجکمار سے پوچھا۔ "کیوں راجکمار کیا کہتے ہو؟“
"میں اسے معافی دینے کے لیے تیار ہوں۔" راجکمار نے کہا۔
"راج کمار سنگ تراش کو معافی دینے کے لیے راضی ہے۔" کامران نے راج کمار کا فیصلہ عوام تک پہنچایا۔
"پھر ہماری طرف سے بھی معافی ہے "مجمع سے متفقہ فیصلہ آیا۔
"ٹھیک ہے مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے سے پہلے یہ ضروری ہے کہ راجکمار کی رسم تاج پوشی ادا کر دی جائے۔۔۔کورام کے لوگو....! راجکمار بطور راجہ تمہیں قبول ہے....؟"
"قبول ہے سو بار قبول ہے۔" مجمع سے پر جوش آوازیں آئیں۔
پھر کامران نے کورام کے سب سے بزرگ شخص کو چبوترے پر بلایا اور راجہ کے سر سے تاج اتار کر اس بزرگ کے ہاتھ میں دیا اور بولا۔ ”دیوتا کا نام لے کر راجکمار کو تاج پہنا دو۔"
اس بزرگ نے فورا حکم کی تعمیل کی۔
راجکمار کے سر پر تاج رکھے جاتے ہی مبارک سلامت کا شور اٹھا۔ لوگوں نے خوشی کے گیت گائے جھوم جھوم کر رقص کیا۔ جب خاصا شور غل ہوگیا تو کامران نے کورام کی رعایا سے خاموش رہنے کی اپیل کی جسے فوراً ہی مان لیا گیا۔ چند لمحوں میں مجمع پر پھر سے سنجیدگی طاری ہوگئی۔
”جلاد بلائے جائیں۔" کامران نے حکم دیا۔
تھوڑی دیر بعد دو جلاد ہاتھوں میں کلہاڑیاں لیئے چبوترے کی طرف آتے دکھائی دیئے۔
"سب سے پہلے راجہ کو رسیوں سے جکڑ کر زمین پر بٹھاؤ" قامران نے سابقہ راجہ کو تیز نظروں سے دیکھے ہوئے کہا۔
یہ عجیب بات تھی کہ اس سازش کے عیاں ہونے کے بعد اس کے منہ سے ایک لفظ نہ نکلا تھا اس پر سکتہ طاری تھا ۔ رسیوں سے جکڑے جاتے وقت بھی وہ کچھ نہ بولا۔
پھر کامران نے اس سے اس کی آخری خواہش پوچھی تو وہ ایک دم پھٹ پڑا۔
"ذلیل.............کتے...میں نے تجھے اس وقت کے لیے سالار بنایا تھا۔‘‘ وہ اور جانے کیا کیا بڑبڑاتا رہا۔
تب تامران نے جلادوں کو اشارہ کیا۔ اشارہ ملتے ہی جلادوں نے اسے درمیان سے تقسیم کر دیا۔ پھر جسم کی تقسیم کا یہ عمل باقی مجرموں پر بھی یکے بعد دیگرے آزمایا گیا۔ آخر تمام مجرم بخیر و خوبي اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے۔
پھر راجہ سلارا نے انتہائی سادگی سے اپنی شادی کی۔ اس نے ہر طرح کے جشن شورشرابے اور ناچ رنگ سے پرہیز کیا۔ شادی کی رسم ادا ہونے کے بعد راجہ سلارا کی طرف سے پورے کورام کی رعایا میں کپڑے اور پھل تقسیم کیے گئے۔
ریماں تو شکل وصورت کی پہلے کی رانی تھی لیکن رانی بن کر اس کا حسن اور بھی نکھر آیا تب قامران نے سوچا راجہ سلارا ٹھیک ہی اس کے لیے پاگل ہوا تھا۔
راجہ سلارا کی شادی کی تقربیات انتہائی وقار اور سادگی سے شام تک انجام کو پہنچیں۔
بات کا اندھیرا کامران کے لیے مسحور کن خوشبو کے ساتھ ایک خوشخبری لے کر آیا.... چاندکا اس کے سامنے بیٹھی کہہ رہی تھی۔
"کورام میں اب تمہارا کام ختم ہوا۔ صبح ہوتے ہی یہاں سے نکلنا ھوگا"
"مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے۔ تم کہو تو ابھی کورام چھوڑ دوں۔"
"نہیں۔ اب اتنی فرماں برداری کی بھی ضرورت نہیں۔" چاندکا نے ہنستے ہوئے کہا۔
"پھر کوئی نیا سفر....؟" کامران نے سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔
"ہاں سفر تو ہے لیکن نیا نہیں۔“
"یہ کیسے ہوسکتا ہے؟"
"ہوسکتا ہے جب واپسی کا ارادہ ہو؟“
"اوہ....! تو کیا اب میری واپسی شروع ہوئی؟" قامران خوش ہوتے ہوئے بولا...! "سائری دیوتا کا شکر ۔"
"واپسی کا ذکر سن کر بہت خوش ہوئے؟"
"ہاں" کامران نے اثبات میں گردن ہلائی۔ "اب سفر ختم ہونے کی کچھ امید بندھی۔ ویسے تم واپسی کی منزل بتا سکتی ہو؟"
”ہاں کیوں نہیں، میں تمہیں تمہاری منزل ہی نہیں بتاؤں گی بلکہ آینده پیش آنے والے واقعات سے بھی آگاہ کروں گی...............سنو اور غور سے۔" چاندکا نے اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا
کامران فوراً ہی ہمہ تن گوش ہو گیا۔ تب چاندکا نے وہ سب کچھ قامران کے گوش گزار کرنا شروع کیا جس کی اسے ضرورت تھی یا ضرورت پڑ سکتی تھی۔
پھر ہدایات جاری کرنے کے بعد چاندکا کچھ دیر اور کامران کے ساتھ رہی اس سے ادھر ادھر کی باتیں کیں پھر وہ جدا ہوئی فضا میں تحلیل ہوگئی۔
کمرے میں کنوارے بدن کی خوشبو کے سوا کچھ نہ رہا۔
چاندکا، کامران کو جانے کیا نوید دے گئی تھی کہ وہ بے حد مسرور تھا باوجود اس کے کہ چاندکا جا چکی تھی۔
جبکہ چاند کا کی جدائی اسے ہمیشہ ملول کر جاتی تھی۔ وہ بڑی پھرتی سے اٹھا اور غسل خانے میں داخل ہو کر گنگنانے لگا۔ ٹھنڈا ٹھنڈا پانی اور عشقیہ اشعار کی خوشبو اس کے غسل کو مزے دار اور پرکیف بنا رہی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ بڑا تروتازہ ہوکر غسل خانے سے برآمد ہوا۔ پھر کھانے کے لیے اسے زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا۔ ملازم خاص بڑے صحیح وقت پر گرم گرم اور لذیز کھانا لے کر آ پہنچا۔
کھانا کھا کر وہ کچھ دیر کے لئے اپنے کمرے سے باہر نکلا اور سارے انتظامات کر کے جلدی واپس آ گیا اور آرام سے چھپرکھٹ پر ٹانگیں پھیلا کر سوگیا۔
کل سورج راجہ سلارا کے لیے حیرت لے کر طلوع ہوا۔ کامران اپنے کمرے سے غائب تھا۔ اسٹیل میں اس کی گھوڑی بھی نہ تھی۔ ملازمین کی زبانی معلوم ہوا کہ کامران صبح تڑکے ہی راج محل سے نکلا تھا اور جاتے جاتے راجہ سلارا کے نام پیغام دے گیا تا کہ میرا انتظار نہ کریں۔
اس پیغام نے راجہ سلارا کو الجھن میں ڈال دیا تھا۔ کامران کی اچانک روانگی باوجود سوچنے کے اس کی سمجھ میں نہ آ سکی۔
راجہ سلارا کے لیے کامران کی شخصیت پہلے ہی دن سے مشکل ثابت ہوئی تھی۔ اس کی شخصیت کے خم اسراریت کچھ بتا کر بہت کچھ چھپانے کی ادا اور غیر متوقع عمل کو باوجود کوشش کے نہ سمجھ سکا تھا
ادھر کامران ہونٹوں پر مسکراہٹ لیے ابلا پر سوار سورج سے آنکھ مچولی کھیلتا ہوا کے دوش پر اڑا جا رہا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ راجہ سلارا اس کا پیغام سن کر حیرت میں پڑ جائے گا اور ممکن ہے کہ افسردہ بھی ہو جائے۔ لیکن کامران کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ اگر وہ اسے بتا کر رخصت ہوتا تو اتنی جلد اسے چھوڑنے کو کون تیار ہونا تھا۔
راجہ سلارا اسے کسی قیمت پر کورام سے نہ نکلنے دیتا۔ اس نے خاموشی سے نکل کر عقل مندی کا ثبوت دیا تھا۔
سورج کی آنکھ مچولی جاری تھی۔ گھنے درخت ختم ہوتے ہی سورج اچانک اس کے سامنے آجاتا لیکن صرف چند لمحوں کے لیے گھنے درختوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو جاتا تو وہ ان کی اوٹ میں چلا جاتا۔
وہ بڑی برق رفتاری سے مشرق کی طرف بڑھ رہا تھا۔ سورج کے اٹھتے اٹھتے وہ دریا پر جاپہنچا۔ یہاں سے اس نے بائیں جانب جانا تھا۔ وہ فوراً ہی بائیں جانب مڑگیا۔ ابھی وہ تھوڑی دور آگے کیا ہو گا کہ اچانک اس نے سامنے سے ریت کا بگولہ اٹھتا ہوا دیکھا۔
یہ چھوٹا سا بگولہ پھیلتے پھیلتے آندھی کی سی شکل اختیار کر گیا۔
کامران نے جلد ہی خود کو اس بگولے کے حصار میں پایا۔ ریت سے بچنے کے لیے اس نے اپنی آنکھیں بند کیں تو ابلا نے اپنی رفتار کم کرنے کے بجائے اور تیز کردی۔
تیز اور تیز.......پھر کامران نے اپنی گھوڑی کو ہوا میں اڑتے ہوئے محسوس کیا۔
جب اس کی نظروں کے سامنے سے ریت ہٹی تو اس کے اردگرد کا منظر یکسر بدلا ہوا تھا۔ دور تک ہریالی کا نام نہ تھا۔ وہ جنگل نہ پہاڑی گھاس کے بڑے بڑے میدان دور تک کی دریا کا بھی نام و نشان نہ تھا۔ اس کے سامنے تاحد نظر ریت ہی ریت پھیلی ہوئی تھی۔
تب اچانک ہی کامران پر یہ منکشف ہوا کہ وہ صحرائے سرخ کے کنارے آ پہنچا ہے۔
صحراے سرخ............ اذیت ناک، ہولناک، وحشتناک.........جس کے ریت کے ذروں میں مرچیں بھری تھیں۔ اس صحرائے سرخ پر کامران نے کیا اذیت ناک وقت گزارا تھا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 20 آخری قسط

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,