سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 20 آخری قسط

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 20 آخری قسط

ملکه شاطو کے سوار اسے ریت کی صلیب پر چڑھا کر اپنے وحشی پن کا مظاہرہ کرتے اس کی آنکھوں سے اوجھل ہو گئے تھے اور یہ سارا عذاب ملکہ شاطو کی اک ذرا سی بات نہ ماننے پر آیا تھا۔
بات نہ ماننے کا، اپنا دامن اس سے نہ الجھانے کا اس نے کسی قدر وحشیانه انتقام لیا تھا۔ وہ تو بھلا ہو چاندکا کا جو عین وقت پر جب وہ لب دم تھا، فرشتہ بن کر نازل ہوئی تھی اور اس نے اسے صحرائے سرخ کے عذاب سے نکال لیا تھا۔ اس کے ایک اشارے پر ہاتھ پاؤں کی رسیاں خود بخود کھلتی چلی گئی تھیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ملکہ شاطو کا کلیجہ کامران کو صحرائے سرخ کے حوالے کر کے بھی ٹھنڈا نہ ہوا بلکہ اس نے اپنا انتقام اس کی بیوی نیلابو سے بھی لیا تھا۔ اس شر پسند ملکہ نے اسے زندہ جلوا دیا۔
نیلابو.......حسین اور معصوم۔
کامران کی بچپن کی محبت ان دونوں نے ساتھ جینے مرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ جب نیلا بو کا سوئمبر رچایا گیا تو اس کے باپ نے یرکان قبیلے کے نوجوانوں کو ابلا جیسی خونخوار گھوڑی پر سواری کی شرط رکھ کر پریشان کر دیا تھا لیکن کامران نے ہمت نہ ہاری۔ وہ بڑے پر عزم انداز میں ابلا کی طرف بڑھا اور بالآخر اس نے اس پر سوار ہو کر سوئمبر جیت لیا۔
سوئمبر جیتنے کی خوشی میں اسے ابلا بھی انعام میں ملی اور نیلابو بھی۔
پھر وہ بھیانک رات کامران بھی نہ بھلا سکا جب اسے اپنی بیوی کے ناکارہ ہونے کا پتہ چلا۔ وہ رات آہوں اور آنسوؤں کی چھاؤں میں گزری۔ نیلا بو کے ناکارہ ہونے کے باوجود اس نے اسے نہ چھوڑا جبکہ وہ قبیلے کی رسم کے مطابق بغیر سوئمبر کے بستی کی کسی بھی لڑکی کا ہاتھ پکڑ سکتا تھا لیکن اس نے جسمانی آسودگی کوقطعی اہمیت نہ دی اور ایک طویل عرصہ اس سوکھی ندی کے ساتھ گزار دیا یہاں تک کہ وہ ملکہ شاطو کے انتقام کا نشانہ بن گئ
نیلابو کی جلی ہوئی لاش دیکھ کر اس نے سائری دیوتا کی قسم کھائی کہ وہ ملکہ شاطو سے اس ظلم کا بدلہ لے کر رہے گا۔
ماضی کو یاد کر کے کامران کی آج بھی غصے سے مٹھیاں بھینچ گئیں۔ اس نے صحرائے سرخ سے اپنی گھوڑی کا رخ موڑا اور زور سے ایڑ لگائی۔ ابلا حسب معمول اپنے دو پاؤں پر کھڑی ہوئی اور جب اس کے پاؤں زمین پر پڑے تو کامران نے صاف محسوس کیا کہ اس کے قدم ریت پر نہیں پڑ رہے وہ خلا میں تیر رہی تھی۔ چند لمحوں بعد جب پھر سے اس کے قدم ریت پر پڑنے لگے تو کامران نے ایک مرتبہ پھر اپنے سامنے منظر بدلا ہوا پایا۔ اب صحرائے سرخ غائب ہو چکا تھا اور سفید محل
کی بلند عمارت اس کے سامنے تھی۔
سفید محل ایک عجیب و غریب پراسرار عمارت جہاں قدم قدم پر حیرتیں دم توڑتی تھی جہاں چپے چپے پر عجائبات کی دنیا آباد تھی۔
اسی سفید محل کے ایک کمرے میں اس نے چاندکا کی وہ تصویر دیکھی تھی جو دیکھتے ہی دیکھتے متحرک ہو جاتی تھی۔ اس تصویر میں کامران نے خود کو مجسم دیکھا تھا
اسی تصور میں اسے اپنی زندگی کے ایسے چھپے گوشے نظر آئے تھے جن سے دنیا کا کوئی اور آدمی واقف نہ تھا۔
پھر ایک دن یہ تصور کامران کی زندگی کی تمام جھلکیاں دکھا کر ٹوٹ گئی تھی۔ ادھر تصویر چکنا چور ہو کر زمین پر گری اور چاندکا کا ظہور ہوا۔ کامران نے پہلی بار اپنی محسنہ کو بے نقاب دیکھا۔ اس کے بے مثال حسن اور کنوارے بدن کی خوشبو نے اسے بے خودکردیا۔ پھر ایک دن چاندکا نے اپنی کہانی سنائی۔ تب کامران کو معلوم ہوا کہ چاندکا ایک روح ہے جو صدیوں سے بھٹک رہی ہے۔ ایک ایسے مرد کی تلاش میں جس نے کسی ناکارہ عورت سے شادی کی ہو اور شادی کے بعد اسے چھوا نہ ہو اور اپنا دامن کسی بھی غیر عورت کے ساتھ نہ الجھایا ہو........صدیوں کی تلاش کے بعد اسے روئے زمین پر ایک ایسا مرد دکھائی دیا جس نے ایک ناکارہ عورت کے ساتھ انتہائی پاکیزگی سے زندگی گزاری۔ غیر عورتوں کی تمام تر ترغیبات کے باوجود اس نے اپنا دامن آلودہ نہ ہونے دیا..............اور وہ تھا قامران۔
خود چاندکا صدیوں پہلے ایک ایسے سوداگر کے ساتھ بیاہی گئی جو صرف دیکھنے کا مرد تھا۔ چاندکا نے قسمت کے اس بھیانک کھیل کو بڑے صبر وشکر کے ساتھ قبول کر لیا۔ اس نے اپنے شوہر کو بتا دیا کہ وہ اپنے ناکارہ ہونے کا غم نہ کرے وہ اسی طرح پوری زندگی ہنسی خوشی اس کے ساتھ گزار دے گی اور اس نے ایسا ہی کیا لیکن اس کا شوہر آپ ہی آپ اس غم میں گھلتا گیا یہاں تک کہ اس جذباتی پن نے اس کی جان لے لی۔
خود چاندکا جب اپنی طبعی عمر گزار کر ملک عدم سدھاری تو اس کی بے قرار روح نے اپنے آئیڈئیل کی تلاش شروع کردی۔
اس کی نظر سے ہزاروں مردگزرے۔ ان میں ایسے مردتو تھے جو اپنی ناکارہ بیویوں کے ساتھ کسی لالچ کی بنا پر رہتے تھے لیکن ان کی غیر عورتوں سے آشنائی بھی تھی۔
کامران جیسا مرد صدیوں بعد ملا جسے اپنی بیوی سے کوئی لالچ نہ تھا......اس کے باوجود اس نے پورے خلوص اور پوری پاکیزگی کے ساتھ نیلابو کے ساتھ زندگی بسر کی۔
سفید محل میں کامران کو طرح طرح کے عجائبات سے واسطہ پڑا۔ انہی عجائبات میں سے ایک عجوبہ وہ بھی تھا جب وہ چاندکا کے کہنے پر سفید محل کے تالاب میں داخل ہوا تو اس نے خود کو اندر کی طرف کھنچتا ہوا محسوس کیا جیسے کوئی اس کی ٹانگ پکڑ کر بڑی تیزی سے پانی میں گھسیٹ رہا ہو۔ جب اس کی ٹانگ چھٹی تو اس نے خود کو اپنی بستی کے چشمے میں پایا۔
صحرائے سرخ سے زندہ سلامت واپسی ملکہ شاطو کو حیرت میں ڈال گئی۔ اس نے کامران کر پھر گرفتار کروایا اور اسے طرح طرح کی اذیتوں سے گزارا۔ اس نے ایک مرتبہ پھر اسے اپنی طرف مائل کرنے کی کوشش کی۔ ملکہ شاطو بڑی پراسرار عورت تھی اس کے اسرار بعد میں کھلے۔ اس نے اپنے شوہر کو عمل کے زور پر سانپ کے قالب میں ڈھال رکھا تھا۔ آخر اسی سانپ نے اس کی آنکھیں پھوڑ دیں۔ ملکہ شاطو کی جگہ اس کی چھوٹی بہن شارو نے سنبھال لی۔ ملکہ شاطو نے اپنی چھوٹی بہن کو کنیز بنا رکھا تھا۔ ایک ایک کرکے ملکہ شاطو کے ظلم سامنے آتے گئے۔ انہی مظالم کی بنیادوں پر اسے پھانسی دے دی گئی اور یہ پھانسی بھی کامران نے خود اپنے ہاتھوں سے دی۔ اس طرح اس نے نہ صرف اپنی بیوی نیلابو کا انتقام لے لیا بلکہ ملکہ شاطو جی خبیث عورت سے اس علاقے کے لوگوں کو نجات بھی دلا دی۔
کامران ماضی کی انہی یادوں میں گم تھا کہ سفید محل کے دروازے کو خود بخو کلتھا دیکھ کر چونک گیا
وہ پورے اطمینان سے دروازے میں داخل ہوا۔ سفید محل اندر سے بالکل سنسان پڑا تھا۔ وہاں کوئی نا تھا آدم نه آدم زاد۔
کامران ابلا کی پیٹھ سے کود پڑا اور ایک جگہ سیڑھیوں پر بیٹھ کر سستانے لگا... یادیں پھر سے ہجوم کر آئیں۔ وہ یادوں کی سیڑھیوں پر آہسته خرامی سے چلنے لگا۔
پھر چاندکا نے اسے ایک طویل اور انجانے سفر پر ڈال دیا یہ کہہ کر کہ یہ سفر بلاآخر ہمارے لیے خوشیاں لے کر آئے گا۔ ہمارے لیے ملاپ کا راستہ مل جائے گا۔
چاندکا کو حاصل کرنے کی خوشی میں کامران نے بلا چوں و چرا اس کی ہدایات پر عمل کرنے کی ٹھان لی اور کمر کس کر سفر کے لیے نکل کھڑا ہوا
اس سفر میں اسے کیسی کیسی بستیوں سے گزرنا پڑا۔ کیسے کیسے لوگوں سے پالا پڑا۔ اب سارے لوگ ساری بستیاں ایک ایک کرکے اسے یاد آرہی تھیں۔ وہ چشمان قبیلہ جہاں ہر بالغ مرد کی زبان کاٹ لی جاتی تھی جہاں لوگوں کو بولنے کے حق سے محروم کردیا گیا تھا۔ کامران نے اس بستی میں بپہنچ کر سردار کاچاک کا کام تمام کیا اور گونگی قوم کو پھر سے اس کی زبان دلوا دی۔
پھر اسے حامنا یاد آیا جسے لائی چامہ نے اپنے عمل سے اپنے قبضے میں کر رکھا تھا اور اس سے ہر رات ایک لڑکی منگواتا تھا۔ حامنا اس گندے کام سے سخت نالاں تھا لیکن کچھ کرنے سے مجبور تھا۔ تب قامران اس کی مدد کے لیے آگے بڑھا۔ جلد ہی اس نے لائی چامہ کو نیست و نابود کر کے حامنا کو آزادی دلا دی۔
اور وہ اس جنگل کی بلا جو ہر روز بستی سے ایک بچہ اٹھا لے جاتی تھی۔ کیسی خوفناک تھی وہ۔ سردار دونشا کی بستی والے اس سے کسی قدر پریشان تھے اور وہ سردار ونشا کی بیٹی سباتا جو اپنے رسم و رواج کے مطابق رات کی تنہائی میں اس کی خدمت اور دل بہلانے کے لیے چلی آئی تھی۔ وہ بھی کیا دلچسپ تجربہ تھا۔ آخر کامران اس ظالم بلا کوختم کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ اسی خوشی میں بستی میں ابھی جشن یی منایا جا رہا تھا کہ سرخ چہرے والے لٹیروں نے بستی پر حملہ کردیا۔ بستی کو بری طرح لوٹا اور بہت سی لڑکیوں کو اٹھا کر لے گئے۔ صبح کو وہ ساری لڑکیاں بستی کے باہر مردہ پائی گئیں۔ انہوں نے زہریلے پھول کھا کر اپنے کنوارے جسموں کو تباہ ہونے سے بچالیا تھا۔ کامران نے ان ظالموں کا تعاتب کیا اور انہیں جہنم واصل کر کے نئے سفر پر نکلا
اب وہ چاندکا کے ایما پر شکران پہنچا جہاں دیوتا کا گھر تھا۔ اس گھر پر پجاریوں کا ایک شیطانی ٹولہ قابض تھا۔ وہ بستی کی کنواری لڑکیوں کو دیوتا کی داسی بنانے کے بہانے انہیں تہہ خانے میں لے جاتے۔ پھر وہ لڑکی زندگی بھر تہہ خانے سے نہ نکل پاتی اور ان کی ہوس کا نشانہ بنتی رہتی۔ کامران نے بستی کی ایسی بے شمار لڑکیوں کو ان موذیوں کے چنگل سے چھڑایا اور ان کو ان کے انجام تک پہنچایا۔
یہاں سے نکلا تو کامران اندھوں کی بستی میں جا پہنچا۔ اس بستی کے تمام لوگوں کو چند ٹھگوں نے سورج گرہن دکھا کر اندھا کر دیا تھا۔ کامران نے ان ٹھگوں کا پتہ چلایا اور ٹھگوں کے پورے قبیلے کو دلدل میں غرق کردیا۔
پھر اس بانسری کی آواز نے اس کا دل موہ لیا۔ وہ آواز کے سہارے بانسری والے تک پہنچا۔ رنگا اور رنگی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار تھے لیکن رنگی کا باپ کسی قیمت پر اپنی بیٹی رنگا کے حوالے کرنے کو تیار نہ تھا۔ قامران نے حسب عادت اس مسئلے کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ لوگوں نے دیکھا کہ رنگی کا باپ خود اپنی بیٹی لے کر رنگا کے قبیلے میں پہنچا اور یوں کامران نے دو محبت بھرے دلوں کو ملا دیا اور اس بستی سے رخصت ہوا۔
ابھی کامران کی آزمائش ختم نہ ہوئی تھی۔ اس مرتبہ اسے بے لباسوں کی بستی میں بھیجا گیا۔ مقصد بستی کے کسی بھی فرد کو کپڑے پہنانا تھا۔ یہ کام بظاہر آسان دکھائی دیتا تھا لیکن بے حد مشکل ثابت ہوا۔ کامران کی ذہانت اور چاندکا کی مدد نے آخر اس مشکل مسئلے کو بھی حل کردیا۔ وہ اس ننگوں کی بستی کی ایک لڑکی کو کپڑے پہنانے میں کامیاب ہو گیا۔ آخر اس بستی میں دیوتا کا قہر نازل ہوا اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ہی تباہ و برباد ہو گئی
پھر اس کی کورام کے راجکمار سلارا سے ملاقات ہوئی جس کے چچا نے سازش کر کے اس کا تخت و تاج چھین لیا تھا اور اسے پاگل قرار دے کر کورام سے نکال باہر کیا تھا۔ کامران نے اس راجکمار کی مدد کرنے کی ٹھان لی۔ چاندکا مدد کو آئی اور یوں دھیرے دھیرے مسئلہ حل ہوتا گیا۔ کامران نے بالاخر راجکمار کو راجہ بنا دیا اور اس کی شادی ریماں سے ہوگئی۔
ابھی کامران اس مشن سے فارغ ہو کر راج محل پہنچا ہی تھا اور آرام کرنے کی غرض سے چھپرکھٹ پر لیٹا ہی تھا کہ چاندکا نے سفر ختم ہونے کی نوید سنا دی۔
پھر وہ صحرائے سرخ سے ہوتا ہوا سفید محل پہنچا۔ جہاں جہاں سے گزرا یادوں کے چراغ جلتے گئے۔
"کیا سوچ رہے ہو؟“ اچانک ہی کہیں سے مترنم آواز آئی۔
"آں۔" کامران چونک اٹھا۔
اس نے گردن گھما کر دیکھا تو اپنے قریب ہی چاندکا کو پایا۔
”اوہ اس قدر محو تھے کہ میری آواز سن کر چونک اٹھے۔“ چاندکا نے ہنستے ہوئے کہا۔ "کہاں کھوئے ہوئے تھے؟"
"کہیں نہیں بس صحراۓ سرخ کو دیکھ کر ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے لگا تھا...........ایک ایک لمحے کا حساب کتاب کر رہا تھا۔ سوچ رہا تھا کہ میں کیا تھا، کیا ہو گیا۔ کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔"
" تم کیا تھے؟" چاندکا نے سوال کیا۔
"یرکان قبیلے کا ایک معمولی سا نوجوان جس نے ابھی اپنا علاقہ گھوم کر نہ دیکھا تھا۔ اسے ایک طویل سفر پر نکلنا پڑا اور کیسے کیسے دلچسپ تجربات سے گزرا اور کیسے کیسے عجیب وغریب واقعات سے دوچار ہوا۔ پھر یہ کہ تم مل گئیں۔ قدم قدم پر تمہاری محبت اور مدد حاصل رہی۔ آج اگر میں اپنے قبیلے کے کسی آدمی کو اپنی آپ بیتی سناؤں تو کیا وہ یقین کر لے گا۔
ہرگز نہیں....! میری پوری کہانی سن کر اسے مجھ سے ہمدردی ہو جائے گی وہ مجھے پاگل گردانے گا۔"
"پاگل تو تم ہو؟“ چاندکا نے بڑی ادا سے کہا۔
"وہ کیسے؟‘‘ سوال ہوا۔
"محبت کرنے والے ہمیشہ پاگل ہوتے ہیں..........اگر عقل درمیان میں رہے تو کوئی کسی سے محبت نہیں کرسکتا“
"ہاں ان معنی میں تو پاگل ہوں کہ تم سے محبت کر بیٹھا"
"گویا ایک پاگل آدمی ہی مجھ سے محبت کرسکتا ہے؟" چاندکا نے ترچھی نگا ہوں سے اسے دیکھا۔
"نہیں وہ بات نہیں جوتم سمجھی ہو میں کہنا یہ چاہتا ہوں کہ تمہاری محبت نے مجھے دیوانہ بنا دیا ہے۔ میں تو تمہاری بات کی تائید کر رہا تھا۔“
"میں سب جانتی ہوں۔" چاندکا نے ہنستے ہوۓ کہا۔
"چاند کا کیا تم میرے اس طویل سفرکا مقصد بتا سکتی ہو؟“
"ہاں کیوں نہیں.............. اب میں تمہیں بہت کچھ بتا سکتی ہوں۔“
"پھر بتاؤ“
"تمہارے سفر کا مقصد دیوتا کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔“
"میں سمجھا نہیں.......... وہ کیسے؟"
"وہ ایسے کہ تم نے روئے زمین پر گھوم کر معصوم لوگوں کو ظالموں کے شکنجے سے آزاد کروایا ہے۔ تم ظلم کے خلاف لڑے ہو اور ہر جگہ ظلم کا قلع قمع کرنے میں کامیاب رہے ہو۔ دیوتا تمہاری اس بات سے بہت خوش ہیں۔ ویسے خوش تو تم نے انہیں پہلے ہی کر رکھا تھا لیکن اس سفر نے تمہارے درجے بہت بڑھا دیئے ہیں اور یہی میں چاہتی تھی۔"
"تم جو چاہتی تھیں وہ تو ہو گیا اب میں جو چاہتا ہوں وہ کیسے ہوگا؟‘‘ کامران نے اسے گہری نگاہوں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
"تم کیا چاہتے ہو؟‘‘ چاندکا نے اپنا ہونٹ کاٹتے ہوۓ کہا۔
"یہ بات تم پوچھ رہی ہو تم جو میری زندگی کے ایک ایک گوشے سے واقف ہو۔ تم جو میری زندگی کا ہر ہر لمحہ مجسم کر کے دکھانے کی سکت رکھتی ہو تمہیں تو کم از کم یہ سوال زیب نہیں دیتا۔"
عورت کی فطرت بڑی عجیب ہوتی ہے قامران وہ سب جان کر بھی انجان بن جاتی ہے۔ اسے مرد کی زبان سے چاہت کے دو بول سننا بڑا پسند ہوتا ہے۔"
"لیکن مجھے تو کہنا نہیں آتا۔ میں تو عملی آدمی ہوں۔" قامران نے اس کی طرف شرارت سے دیکھا اور ذرا سا اس کے نزدیک کھسک آیا۔
"بس بس وہیں بیٹھے رہو۔" چاندکا دور ہٹتے ہوئے بولی۔
"ورنہ بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ یہی نہ" کامران نے اس کی بات دہرائی۔ایسے موقعوں پر وہ ہمیشہ یہی کہا کرتی تھی۔
"ہاں بالكل"
آخر یہ دھکیاں تم مجھے کب تک دیتی رہوگی صبر کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔" قامران نے تیز لہجے میں کہا۔
"لیکن صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔"
”یہ تو چکھ کر ہی بتایا جاسکتا ہے۔"
"تم کہتے ہو کہ تمہیں کچھ کہنا نہیں آتا لیکن میں کہتی ہوں کہ تم اپنے لب و لہجے کے اتار چڑھاؤ ہونٹوں کی جبنش اور آنکھوں کی حرکت سے وہ کچھ کہہ جاتے ہو کہ ان مطالب کا لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔" چاندکا یہ کہتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔
"کہاں چلیں" قامران بھی اٹھتا ہوا بولا
"وقت کم ہے اور کام بہت یوں کرو کہ وہ سامنے کمرے کا بند دروازہ دیکھ رہے ہو"
”ہاں دیکھ رہا ہوں۔" کامران نے جواب دیا۔
سائری دیوتا کا نام لے کر اس کمرے کی طرف بڑھو۔" اس حکم کے ساتھ ہی چاندکا نے چند وضاحتیں کی چند ہدایتیں دیں۔
کامران ہدایتیں اور وضاحتیں پا کر آگے بڑھا۔
تب چاندکا نے رخصت ہوتے ہوئے کہا۔ "اچھا اب میں چلتی ہوں اب ملیں گے تو تمہارے سارے گلے شکوے مٹ جائیں گے۔"
"دیوتا کرے ایسا ہی ہو۔" کامران نے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر دیکھتے ہی دیکھتے چاندکا فضا میں تحلیل ہوگئی۔ اس کے کنوارے بدن کی خوشبو کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔
کامران چاندکا کے بتاۓ ہوئے دروازے کی طرف بے قراری سے بڑھا۔ دروازے پر پہنچ کر اس نے کواڑ پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ خود بخود کھلتا چلا گیا۔ دروازہ کھلتے ہی کامران اچھل کر پیچھے ہٹ گیا اور حیرت سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
وہ تعداد میں بے شمار تھے اور نکلتے ہی چلے آتے تھے۔
قامران سفید کبوتروں کو بڑی محویت سے دیکھنے لگا جو بادلوں کی طرح دروازے سے امنڈتے چلے آتے تھے۔ ان کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔ سینکڑوں ہزاروں پھر لاکھوں۔ کامران منتظر تھا کہ وہ ختم ہوں تو وہ دروازے میں داخل ہو لیکن وہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہے تھے۔
دروازے سے نکلتے ان دلفریب کبوتروں کا نظارہ بڑا دلفریب تھا۔ کبوتروں کا دروازے سے نکلنا، ان کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ بڑی تسکین آمیز تھی۔
قامران نے پھر ایک عجیب بات محسوس کی۔ وہ دروازے سے نکل کر تھوڑی دیر اڑتے ہوئے دکھائی دیتے اور پھر ہوا میں تحلیل ہوتے غائب ہو جاتے۔
طویل انتظار کے بعد کبوتروں کی آمد کا سلسلہ ختم ہوا۔
تب قامران پھر سے دروازے کی طرف بڑھا۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی جس چیز پر سب سے پہلے اس کی نظر پڑی وہ ایک بے حد خوبصورت چھپرکھٹ تھا جو کمرے کے درمیان پڑا ہوا تھا۔ اس چھپر کھٹ پر چاندکا کا بے جان جسم رکھا تھا
کمرے میں ایک لطیف خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ وہ ایک بے حد صاف ستھرا کمرہ تھا۔ اس کا فرش کبوتروں کی بیٹ سے بالکل پاک تھا۔ کمرے میں ان لاکھوں کبوتروں کے بسیرے کا نام ونشان بھی نہ تھا
کامران نے حیرت سے چاروں طرف کمرے میں نظر ڈالی لیکن وہ ان لاکھوں کبوتروں کی موجودگی کا کوئی سراغ نہ پاسکا۔
چاندکا کے بے جان جسم کے اردگرد گلاب کے پھولوں کے ڈھیر تھے اور یہ پھول بالکل باسی نہ تھے، سوکھے نہ تھے چاندکا کے چہرے کی طرح تروتازہ تھے۔
کامران کو معلوم تھا کہ چاندکا کا یہ جسم صدیوں سے یہاں رکھا ہے لیکن اسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے چاندکا ابھی لیٹے لیٹے سوگئی ہے۔
چاندکا کے زرق برق لباس پر بھی صدیاں گزرنے کا سایہ نہ تھا۔ اس کے لباس کی چمک دمک ایسی تھی کہ جیسے یہ لباس آج ہی زیب تن کیا گیا ہو۔
حیرتیں بڑھتی ہی جاتی تھیں۔
تب تامران نے چاندکا جسم چھو کر دیکھا۔ وہ بے حد ٹھنڈا تھا۔
پھر اسں نے چاندکا کے بے جان اور بے حد ٹھنڈے جسم کو اپنے کندھے پر ڈال لیا اور دروازے کی طرف بڑھا۔
تب کہیں سے مردانہ آواز آئی۔
"نہیں............ادھر نہیں۔“
قامران چلتے چلتے رک گیا اور سوالیہ نگاہوں سے چاروں طرف دیکھنے لگا ۔
"پهر کدھر"
”وہ ادھر“ آواز آئی اور اس کے ساتھ ہی کمرے میں موجود اندرونی دروازہ آپ ہی آپ کھل گیا اور بیرونی دروازہ خود بخود بند ہوگیا۔
قامران پورے اطمینان سے اندرونی دروازے کی طرف بڑھا۔
پھر اس نے سائری دیوتا کا نام لے کر سیڑھی پر قدم رکھا اور بڑی احتیاط سے نیچے اترنے لگا۔
ابھی اس نے چند سیڑھیاں ہی پار کی تھیں کہ اس نے نیچے سے آتی ہوئی قدموں کی آواز سنی۔ قامران چوکنا ہوگیا۔
چند ہی لمحوں بعد اس کے سامنے ایک بے حد لمبا چوڑا آدمی تھا جو جھومتا ہوا سیڑھیاں چڑھتا اوپر آرہا تھا۔ دونوں کی نظریں بیک وقت چار ہوئیں۔ کامران کو دیکھتے ہی اس لمبے چوڑے آدمی کے چہرے پر زردی پھیل گئی۔ وہ گھبرا کر واپس پلٹا اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا نیچے اتر گیا
کامران بغیر ناک کان کی اس مخلوق کو پہلے بھی سفید محل میں دیکھ چکا تھا۔ اس کی گھبراہٹ کامران کے لیے تعجب خیز تھی۔
کامران جو اس بغیر ناک کان والے انسان کو دیکھ کر سیڑھیوں پر رک گیا تھا اب پھر سے نیچے اترنے لگا۔
اسے اترتے ہوئے خاصی دیر ہوگئی تھی لیکن سیڑھیوں کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے کو نہیں آرہا تھا
پھر اس وقت کامران کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی جب خاصی دیر کے بعد اسے نیچے ایک دروار دکھائی دیا۔ کامران فورا سائری دیوتا کا شکر بجالایا۔
دروازے کے نزدیک پہنچا تو اسے پھرسیڑھیاں دکھائی دیں لیکن یہ سیڑھیاں نیچے کے بجائے اوپر جارہی تھیں اور خاصی روشن تھیں جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ آسمان زیادہ دور نہیں۔
چند سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہی وہ کھلی فضا میں آ گیا۔ اس نے خود کو کسی سرسبز و شاداب وادی میں پایا
ہر طرف دلفریب مناظر بکھرے پڑے تھے۔ پھولوں سے لدی ٹہنیاں اور پھلوں سے جھکی ڈالیاں ان پر چہچہاتے رنگ برنگے پرندے ابر آلود آسمان فلک بوس حسین پہاڑیاں اسے لگا جیسے وہ جنت میں داخل ہوگیا ہے۔
ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کس سمت چلے کہ اسے دور سے لڑکیاں آتی دکھائی دی ان لڑکیوں کا رخ قامران ہی کی طرف تھا۔
ان لڑکیوں کے ہاتھوں اور بالوں میں گجرے سجے تھے۔ گلے میں پھولوں کی مالائیں تھیں۔ گہرے رنگ کے نیم عریاں لباسوں میں وہ اپسرائیں دکھائی دے رہی تھیں۔ وہ ہنستی مسکراتی چہلیں کرتی کامران کی طرف بڑھی آرہی تھیں۔
پھر وہ اس کے نزدیک آکر رک گئیں۔ کامران انہیں بغور دیکھنے لگا۔ اس کی نگاہوں میں سوال تھا۔ ان لڑکیوں نے لب نہ کھولے اشارے سے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔
کامران کو بھلا کیا اعتراض ہوسکتا تھا۔ وہ چاندکا کا بے جان جسم اپنے کندھے پر لادے ان کے ساتھ ہولیا۔
کچھ دور چلنے کے بعد وہ ایک تاریک غار میں داخل ہو گئے۔
”پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آنکھیں بند کر کے پورے اطمینان سے چلتے رہو راسته بالکل صاف ہے۔“ ان لڑکیوں میں سے کسی نے کہا۔
کامران ہدایت پر بغیر پریشان ہوئے چلتا رہا اسکی آنکھیں خودبخود بند ہوگئی تھیں اور رفتار میں بھی کمی آ گئی تھی۔
تھوڑی دور چلنے کے بعد اس کے کانوں میں گرتے پانی کی آواز آنے لگی۔ شاید نزدیک ہی کوئی آبشار تھی۔
تاریک غار سے نکلتے ہی اس کے خیال کی تصدیق ہوگئی۔
وہ آبشار بے حد اونچائی سے زمین پر گر رہا تھا۔ اس کا پانی ایک دم سفید تھا اور جہاں جھرنا گر رہا تھا وہاں صرف جھاگ ہی جھاگ دکھائی دے رہی تھی۔
تب تامران کو جھرنے کے مقابل ایک اونچے سنگ مرمر کے چبوترے پر چڑھنے کو کہا گیا
کامران نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔ اس نے چاندکا کا بے جان جسم پوری احتیاط سے سنگ مرمر کی چوکی پر لٹا دیا اور خود اس کے جسم کے نزدیک ہی دوزانو ہوکر بیٹھ گیا۔
"اس مقدس مرنے پر اپنی نظریں جما دو اور اس آواز کو سنو جو صرف خوش قسمتوں کو سنائی دیتی ہے۔"
یہ کہہ کر وہ لڑکیاں واپس پلٹیں اور سیڑھیاں اترتی ہوئی ایک طرف چلی گئیں۔
ان لڑکیوں کے غائب ہوتے ہی فضا میں ایک ہیبت والی آواز گونجی۔
"یرکان قبیلے کے پر عزم نوجوان سائری دیوتا تم سے مخاطب ہے۔“
آواز سن کر کامران نے چاروں طرف گھوم کر دیکھا۔ پھر اس کی نظریں خود بخور مقدس جھرنے پر ٹھہر گئیں۔ تب اس نے ایک عجب نظارہ دیکھا گرتے آبشار کے پیچھے اسے کوئی بیٹھا دکھائی دیا لیکن یہ شبیہہ سی تھی کوئی واضح غورت اسنے نہ تھی۔ جھرنے کا پانی پوری قوت سے زمین پر گر رہا تھا
"ہم تم سے بہت خوش ہیں نوجوان تم نے زمین پر وہ کام انجام دیئے ہیں جنہیں ہمارے اوتار بھی نہ کر پائے۔ تم نے مظلوموں کی حمایت اور ظالموں کا قلع قمع کر کے ہمارا دل موہ لیا ہے۔ تم نے پاکیزگی کی مثال قائم کر کے دنیا کے مردوں کی لاج رکھ لی ہے ہمارا خیال ہے۔ کہ تم اس دنیا کے پہلے اور آخری مرد ہو اگر تم جیسا مرد آینده پیدا ہوگا بھی تو یُگوں کے بعد پیدا ہوگا چاندکا ہماری سب سے چہیتی داسی ہے۔ اس کے اختیار میں بہت کچھ تھا اور بہت کچھ ہوگا...."
آکاش وانی جاری تھی اور کامران بڑی عقیدت سے گوش بر آواز تھا۔ کبھی کبھی اس کی نظر کے پانی کے پیچھے جھلملاتی شبیہہ پر ٹھہر جاتی تو اس پر فوراً ہی لرزہ طاری ہو جاتا۔ وہ اپنی گردن جھکا لیتا۔
"ہم نے چاند کا جسم ہمیشہ کے لیے محفوظ و مامون کردیا تھا۔ اب جبکہ تم اس کا جسم لے کر آئے ہوتو خوش خبری سن لو کہ ہم نے چاندکا کو تمہاری پاکیزگی کے عوض تمہیں بخشا۔ اب وہ تمہاری داسی ہوئی اور اپنے جسم کے پھول تمہارے قدموں میں نچھاور کرے گی.......ابلتے پانی کا اشنان تمہارے جسموں کو نئی زندگی عطا کرے گا۔ اب تم دونوں ایک طویل عرصے تک پرمسرت زندگی گزارو گے۔ سفید محل تمہارا مسکن ہوگا۔ جہاں زندگی کی تمام نعمتیں میسر ہوں گی۔ اب اٹھو اور ابلتے پانی کے اشنان کی تیاری کرو۔“
اس آواز کے تھمتے ہی ایک شور سا اٹھا تب کامران کو احساس ہوا کہ سائری دیوتا کے خطاب کے دوران ایک دم خاموشی چھا گئی تھی۔ حتی کہ آبشار بھی بند ہوگئی تھی۔
خطاب ختم ہوا تو ہر شۓ حرکت میں آ گئی۔ جھرنے کی آواز تیز ہوگئی۔ پرندوں نے کچھ زیادہ ہی چہچہانا شروع کردیا جیسے مل کر کامران کی کامرانی پر مبارک باد دے رہے ہوں۔
کامران نے جب مقدس جھرنے پر نظر ڈالی تو وہاں اس نے سائری دیوتا کی شبیہہ نہ پائی۔ وہ غائب ہو چکی تھی۔ کامران کے جسم پر اب بھی لرزہ طاری تھا۔
اس کے وہم و گمان میں بھی یہ بات نہ تھی کہ وہ ساری دیوتا کی جھلک اور آواز سن سکے گا۔
پھر چاندکا سے ملنے کی خوشی، اس پر لرزہ طاری نہ ہوتا تو اور کیا ہوتا
پھر قامران نے چند لڑکیوں کو سیڑھیوں پر چڑھتے دیکھا۔ یہ وہی لڑکیاں تھیں جو کچھ دیر پہلے اسے یہاں چھوڑ گئی تھیں۔
ان سب کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ بے حد خوش نظر آرہی تھیں۔ انہوں نے آتے ہی ایک ایک کر کے قامران کے ہاتھ چومے اور نئی زندگی عطا ہونے کی مبارکباد دی۔
کامران بھی جواباً مسکرایا اور ان سب کا بیک وقت شکریہ ادا کیا۔
"اب چلنا ہوگا۔“ ان میں سے ایک لڑکی نے کہا۔
”میں تیار ہوں۔“ یہ کہ کر کامران کھڑا ہو گیا اور چاندکا کے بے جان جسم کی طرف دیکھنے لگا۔ پھر ان لڑکیوں سے مخاطب ہوا
”کیا اسے بھی اٹھا لوں؟"
”ہاں یہ بوجھ تو اب تمہیں زندگی بھر اٹھانا پڑے گا“ ایک لڑکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
”میں اس نازک بدن کو یُگوں تک اٹھانے کے لیے تیار ہوں۔ تم ایک زندگی کی بات کرتی ہو‘‘ قامران نے بڑے ٹھہرے انداز میں کہا۔
”تم سے یہی امید تھی چاندکا واقعی خوش قسمت ہے۔“ وہ لڑکی پھر بولی۔
کامران نے بڑی آہستگی سے جھک کر چاندکا کا بے جان جسم اٹھایا اور سوالیہ نگاہوں سے ان کو دیکھنے لگا۔
”آؤ ہمارے ساتھ“ تب وہ لڑکیاں مڑ گئیں اور سیڑھیاں اترنے لگیں۔
کامران نے ان کی تقلید کی۔
تھوڑی دیر بعد وہ پھر سے اس تاریک غار میں تھا جس سے پہلے گزر کر آیا تھا.....اب وہ بڑے اطمینان سے آگے بڑھتا جا رہا تھا۔
جب وہ تاریک غار سے باہر آیا تو باہر کا منظر بدلا ہوا تھا۔ یہ وہ جگہ نہ تھی جہاں سے وہ پہلے غار میں داخل ہوا تھا۔ اب اس کے سامنے سرسبز و شاداب درختوں کی بجائے ایک بڑا سا تالاب تھا۔ تالاب سے دھواں سا اٹھ رہا تھا اور پانی کے بلبلے بن کر پھوٹ رہے تھے۔
اس ابلتے پانی کو دیکھ کر کامران کے جسم میں جھرجھری سی دوڑ گئی۔
ان لڑکیوں کے اشارے پر کامران نے چاندکا کے بے جان جسم کو تالاب کے کنارے رکھ دیا۔
اتنے میں ایک لڑکی بھاگتی ہوئی ایک طرف گئی اور تھوڑی دیر میں کوئی چیز اپنے ہاتھ میں لٹکائے ہوئے چلی آئی۔
کامران نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں ایک مردہ بلی تھی جسے اس لڑکی نے دم سے پکڑا ہوا تھا
پھر اس لڑکی نے کامران کی طرف مسکرا کر دیکھا۔ کامران کی سمجھ میں اس مسکراہٹ کا مطلب نہ آیا۔ وہ خاموشی سے لڑکی کی طرف دیکھنے لگا۔
اس لڑکی نے اس بلی کو تالاب کے کنارے پہنچ کر آہستہ آہستہ پانی میں ڈالا۔ ابھی اس بلی کا منہ اور اس کی دو ٹانگیں پانی میں گئی تھیں کہ اس نے اپنا ہاتھ اوپر اٹھاليا۔
اب تامران کو اس لڑکی کی مسکراہٹ کا مطلب سمجھ میں آگیا تھا۔ اسے پانی نے چند لمحوں میں ہی بلی کا جسم چاٹ لیا تھا۔ اس کا دھڑ اب منہ اور ٹانگوں سے ہے نیاز تھا۔
لڑکی کے اس عمل نے کامران کو خوفزدہ کر دیا۔ وہ سوچنے لگا کہ کیا اس کا حشر بھی بلي جيسا ہونے والا ہے
پھر اس لڑکی نے بلی کو تالاب میں اچھال دیا۔
بلی کی لاش چند لمحوں میں ریزہ ریزہ ہوگئی۔
کامران ایک مرتبہ پھر کانپ اٹھا۔
پروہی لڑکی مسکراتی ہوئی قامران کی طرف بڑھی اور ہنستے ہوئے بولی۔
"ڈرے تو نہیں۔“
”نہیں، بالکل نہیں۔“ کامران نے اندر ہی اندر کا نپتے ہوئے کہا۔
”آؤ پھر دیوی چاندکا کو اٹھاؤ۔“
کامران نے اس لڑکی کے حکم کی تعمیل میں چاندکا کے بے جان جسم کو اپنے ہاتھوں پر الٹھا ليا اور اس کے نزدیک جا کھڑا ہوا۔
"سائری دیوتا کا نام لے کر دیوی چاندکا کا جسم اس ابلتے پانى کے حوالے کر دو۔“ اس لڑکی نے کہا۔
کامران تالاب کے کنارے کھڑا ہوا، ایک نظر اس نے ابلتے اور اچھلتے پانی کو دیکھا۔ پھر آنکھیں بند کرکے سائری دیوتا کا نام لیا اور جی کڑا کر کے چاندکا کا جسم ہوا میں اچھال دیا۔
چند ساعتوں بعد چاندکا کا جسم پانی میں گرا اور گرتے ہی ریزہ ریزہ ہو گیا پانی میں تحلیل ہوگیا گھل گیا۔
کامران نے ایک گہری سانس لی اور تالاب کے ابلتے اور اچھلتے پانی کو بغور دیکھنے لگا۔
تب ایک لڑکی نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کنارے سے اتار لیا اور مسکراتے ہوئے بولی۔
”آؤ، ہمارے ساتھ“
کامران اس وقت ان لڑکیوں کے ہاتھ کٹھ پتلی بنا ہوا تھا....وہ جیسا کہہ رہی تھیں کر رہا تھا۔ وہ خاموشی سے ان کے ساتھ ہولیا۔
اس مرتبہ پھر اسے تاریک غار سے گزارا گیا۔
جب وہ روشنی میں آیا تو اس نے اپنے اردگرد پھر شادابی کو پایا۔
ان لڑکیوں نے اسے ایک بڑے درخت کے نیچے لا بٹھایا۔
پھر دو لڑکیاں اس کے نزدیک ہی دائیں بائیں بیٹھ گئیں اور باقی لڑکیاں ”ہم ابھی آتے ہیں۔‘‘ کہہ کر درختوں کے جھنڈ میں غائب ہوگئیں۔
تھوڑی دیر بعد وہ واپس آئیں تو ان کے ہاتھ میں ایک بڑا سا برتن تھا ایک کے ہاتھ میں تیز دھار کا خنجر تھا۔ جس درخت کے نیچے کامران بیٹھا تھا اسی درخت کے تنے میں ایک لڑکی نے بڑی مہارت سے شگاف ڈالنا شروع کردیا۔
ابھی وہ شگاف زیادہ گہرا نہ ہوا تھا کہ اس سے سرخ سرخ خون جیسی چیز رسنے لگی لڑکی نے تیز تیز وار کر کے شگاف خاصا گہرا کر دیا۔
اب وہ سرخ سیال درخت کے تنے سے تیزی سے نکلنے لگا۔
یہ سرخ سیال اس بڑے سے برتن میں جمع کیا جانے لگا۔
تھوڑی ہی دیر میں برتن سرخ سیال سے بھر گیا۔
پھر ایک لڑکی نے ریت مٹھی میں بھر کر اس میں ڈال دی۔ ریت کے پڑتے ہی سیال کا نکلنا فوراً بند ہوگیا۔
کامران لڑکیوں کی ان حرکتوں کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
پھر وہ دونوں لڑکیاں اٹھیں جو اس کے دائیں بائیں بیٹھی تھیں۔
انہوں نے دوسری لڑکیوں سے سرخ سیال سے بھرا برتن اپنے ہاتھ میں لیا اور کامران سے کہا۔ ”ليٹ جاؤ“
کامران بلا چوں چرا نرم نرم گھاس پر اس درخت کے سائے میں جس کے تنے سے خون نکالا گیا تھا لیٹ گیا۔
کامران کے لیٹتے ہی باقی لڑکیاں وہاں سے چلی گئیں سوائے ان دو لڑکیوں کے جن کے قبضے میں خون سے بھرا پیالہ تھا۔
ایک لڑکی نے خنجر پیالے میں ڈبویا اور اس ”خون“ بھرے خنجر کو قاعمران کی پیشانی پر رکھا اور پھر ایک عمودی خط کھینچا۔ خط کھینچے وقت وہ زیرلب کچھ پڑھ رہی تھی۔
ایک مرتبہ پھر اس نے خنجر پیالے میں ڈبو کر اس کی پیشانی پر خط کھینچا اور زیرلب کچھ پڑھا۔
اس عمل کو اس نے بار بار دہرایا۔
یہاں تک کہ کامران کی پیشانی سرخ سیال سے کشیده خطوں سے بھر گئی۔
”اپنا سینہ کھولو۔“ پیشانی پر خط کھینچنے کے بعد کم ہوا۔
کامران نے اپنے اوپری لباس کے بند کھول دیئے۔ اس کا سرخ سینہ عریاں ہوگیا۔
اس لڑکی نے پھر اپنا خنجر سرخ سیال میں ڈبویا اور اس کے سینے پر کچھ پڑھتے ہوۓ خط کشید کرنے لگی۔
اس نے اس عمل کو صرف تین بار دہرایا۔ پھر یہی عمل اس کی ہتھیلیوں کی پشت اور پاؤں کے تلوؤں پر بھی کیا گیا۔
تب اس سے کہا گیا کہ کھڑے ہو جاؤ اور اپنا منہ درخت کے تنے کی طرف کرلو۔
کامران بڑی سعادت مندی سے کھڑا ہوا اور اپنا منہ درخت کے تنے کی طرف کر لیا اور دوسرے حکم کا انتظار کرنے لگا۔
تب حکم ہوا۔ ”اپنے جسم کو تمام پردوں سے آزاد کردو"
کامران کے لیے اس حکم پر فورا عمل کر لینا آسان نہ تھا۔ وہ یوں ہی بے حس و حرکت کھڑا رہا۔
”کیا سوچنے لگے۔“ اس لڑکی کے لہجے میں تنبیہہ تھی۔
”کیا اس کے سوا کوئی اور چارہ کار نہیں؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
”نہیں۔“ سخت لہجے میں جواب ملا۔
”مت بھولو کہ تم سائری دیوتا کے گھر میں ہو۔ اس دیوتا کے گھر میں جس نے تمہیں چاندکا جیسی دیوی بخشی ہے....اگر وقت ضائع کرو گے نقصان اٹھاؤ گے۔ ہم سے مت شرماؤ ہمیں پتھر کا جانو۔“
اتنا سسنے کے بعد اب کامران کے پاس کوئی چارہ کار نہ تھا۔ وہ پتھر کی ان لڑکیوں کےسامنے بے لباس ہوگیا۔
تب قامران نے اپنی پشت پر خنجر کی نوک محسوس کی۔ خط کھینچے جانے لگے یہ عمل اس کی پیٹھ کے مختلف حصوں پر آزمایا گیا۔ اتنے میں باقی لڑکیاں بھی آ گئیں تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں پھولوں سے بھری ٹوکریاں تھیں۔ اس کے جسم کو پھولوں سے ڈھک دیا گیا۔ کامران نے سکون کا سانس لیا
ابھی اس کے جسم کی زیبائش جاری تھی کہ چارنوجوان ایک خالی ڈولی لیے وہاں پہنچے۔ کامران کو اٹھا کر اس ڈولی میں بٹھایا گیا اور وہ چاروں نوجوان اسے ڈولی میں بٹھا کر روانہ ہوئے۔ پیچھے پیچھے وہ لڑکیاں تھیں۔ تاریک غار سے گزرنے کے بعد پھر وہی ابلتے تالاب کا منظر اس کے سامنے آ گیا۔ کامران نے تالاب کے ابلتے اور اچھلتے پانی کو دیکھ کر ایک گہرا سانس لیا۔ کامران کی ڈولی کو تالاب کے کنارے رکھ دیا گیا اور اس سے کہا گیا کہ وہ ڈولی سے باہر نکل آئے۔
کامران ڈولی سے باہر نکل آیا۔
تب حکم ہوا ۔ ”سائری دیوتا کے نام پر اس ابلتے پانی میں چھلانگ لگا دو اور ایک نئی زندگی کا آغاز کرو"
کامران نے ایک لمحے کے بعد آنکھیں بند کیں۔ اس کے سامنے مقدس جھرنے کا منظر ابھر گیا سائری دیوتا اس سے مخاطب تھا۔
”ہم نے چاندکا کو تمہاری پاکیزگی کے عوض تمہیں بخشا..... اب وہ تمہاری داسی ہوگی اور اپنے جسم کے پھول تمہارے قدموں میں نچھاور کرے گی۔ ابلتے پانی کا اشنان تمہارے جسموں کو نئی زندگی عطا کرے گا۔ تم دونوں ایک طویل عرصے تک پرمسرت زندگی گزارو گے۔“
تب تامران کے دل سے خوف کافور کی طرح اڑ گیا۔ اس نے آنکھیں کھول کر بڑی حقیر نظروں سے ابلتے پانی کو دیکھا اور سائری دیوتا کا نام لے کر تالاب میں چھلانگ لگا دی۔
پانی میں گرتے ہی اس نے اپنا وجود پگھلتا ہوا محسوس کیا۔ اس کے سر میں دھماکے سے ہونے لگے بجلیاں سی کودنے لگیں سب کچھ تاریکی میں ڈوب گیا۔ اس کا جسم ریزہ ریزہ ہوکر پانی میں شامل ہو گیا۔
پھر اچانک ہی کامران کے کانوں میں ایک مقدس گانے کی آواز آنے لگی۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اس نے اپنے اردگرد بے شمار لڑکیوں کو پایا۔ یہ تمام لڑکیاں گیروے رنگ کے عریاں لباسوں میں تھیں اور اپنے ہاتھ پر ایک چراغ رکھے ہوئے بڑے انہماک سے مقدس گیت گانے میں مگن تھیں۔ اس گیت میں دیوتاؤں گی تعریف کی گئی تھی۔
تب تامران کو یاد آیا کہ اس نے تو اسے پانی کے تالاب میں چھلانگ لگائی تھی۔ وہ یہاں کیسے آ گیا ۔
یہ ایک بہت بڑا کمرہ تھا پورے کمرے میں چراغ روشن تھے جشن کا سماں تھا اور اس کے جسم پر ایک نرم و ملائم پوشاک موجود تھی جس سے بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی۔ وہ ایک خوبصورت چھپرکھٹ پر لیٹا تھا۔
کامران کو آنکھیں کھولتے دیکھ کر ان لڑکیوں کی آواز میں جوش بھر گیا۔ وہ چہروں پر خوشی سجائے اونچی لے میں گانے لگیں۔
مقدس گیت ختم ہوا تو ایک ایک لڑکی اس کے نزدیک آتی گئی اور اس کے سر سے مخصوص طریقے سے چراغ کو گھما کر پیچھے ہٹتی رہی۔
کامران خاموشی سے بیٹھا ان اپسراؤں کو دیکھتا رہا۔ جلد ہی اس نے کمرے میں خود کو اکیلا بیٹا محسوس کیا۔
تمام لڑکیاں کمرے سے جا چکی تھیں۔
پھر اچانک ہی سامنے والا دروازہ کھلا۔ قامران نے نگاه اٹھائی تو دیکھتا رہ گیا۔
گوشت پوست کی چاندکا اس کے سامنے مو جود تھی۔ اس کے حسین وجود پر نگاہ ٹهہرتی ہی نہ تھی۔
چاندکا نے بھی شرمیلی نگاہوں سے قامران کو دیکھا۔ پھر وہ ذرا آگے بڑھی۔ اس کے پیچھے بہت سی لڑکیاں تھیں وہی اپسرائیں جو خود کو پتھر کا کہتی تھیں۔
کامران چاندکا کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا۔
بہت سی لڑکیاں اس کی طرف بڑھیں۔ انہوں نے کامران کو چاندکا کے نزدیک لاکھڑا کیا اور پھر ایک بڑی سی پھولوں کی مالا دونوں کے گلے میں ڈال دی گئی۔
مقدس مالا کے گلے میں ڈالے جاتے ہی لڑکیوں نے رقص شروع کر دیا............ دونوں درمیان میں کھڑے تھے اور ان کے چاروں طرف لڑکیاں ناچ گا رہی تھیں۔
تھوڑی دیر کے بعد رقص ختم ہو پھر لڑکیوں نے باہر نکلنے کا اشارہ کیا۔ کامران اور چاندکا اشاره پاتے ہی دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔
دروازے کے باہر تیس گھوڑوں کی ایک بے حد خوبصورت گاڑی کھڑی تھی۔ تب وہ ساری لڑکیاں دروازے سے گاڑی کے درمیانی فاصلے میں اس طرح لیٹ گئیں کہ ان کے نرم ملائم بالوں کا یہاں سے وہاں تک نرم و ملائم بستر بچھ گیا۔
کامران اور چاندکا ان اپسراؤں کی زلفوں پر چلتے ہوئے گاڑی کی طرف بڑھے۔
گاڑی کے نزدیک پہنچ کر دونوں بیک وقت اس میں سوار ہو گئے۔
لڑکیوں نے کھڑے ہو کر ایک مرتبہ پھر مقدس گیت گایا۔ گیت ختم ہونے کے بعد ایک لڑکی نے کوڑا فضا میں لہرا کر زور سے بجایا تو گھوڑا گاڑی حرکت میں آ گئی۔
اس گاڑی کی رفتار اتنی تیز تھی کہ بابر کا منظر صاف نظر نہ آتا تھا۔
ان دونوں نے محسوس کیا کہ گاڑی زمین پر چلنے کے بجائے فضا میں تیر رہی ہے۔ کچھ دیر بعد اس کی رفتار دھیمی ہوئی تو کامران کے کانوں میں پھر وہی مقدس گیت پڑا۔
قامران نے گاڑی سے باہر جھانک کر دیکھا تو خود کو سفید محل کے دروازے پر پایا...سفید محل کا دروازه بے شمار چراغوں سے جھلملا رہا تھا۔
وہدونوں گھوڑا گاڑی سے اتر آئے اور سفید محل کے دروازے میں داخل ہوئے۔ سفید محل کے اندر ہر طرف چراغاں تھا۔
راستے میں پھول بچھے ہوئے تھے اور ادھر ادھر بے شمار باندیاں کھڑی ہوئی تھیں۔
جب کامران اور چاندکا پھولوں پر چلتے ہوئے آگے بڑھے تو باندیوں نے ان پر گلاب کا پانی پھینکا اور برابر مقدس گیت گاتی رہیں۔
یہاں تک کہ وہ دونوں خواب گاہ کے دروازے پر آ گئے۔
تب دو باندیوں نے آگے بڑھ کر ان دونوں کے گلے سے مالا اتار لی اور مودبانہ انداز میں آگے جانے کا اشارہ کیا۔
وہ دونوں خواب گاہ میں داخل ہوئے۔ ان دونوں کے داخل ہوتے ہی ان باندیوں نے دروازه باہر سے بند کردیا۔
یہ ایک بے حد شاندار خواب گاہ تھی۔
دھیمی دھیمی خواب ناک روشنی، بھینی بھینی خوشبو فضا میں بسی ہوئی، سرسراتے ریشمی پردے، نہایت آرام دہ بستر، قالین اور فانوں اور ان سب سے بڑھ کر کنوارے بدن کی خوشبو جو کامران کو مست بنا دیا کرتی تھی۔
دروازہ بند ہوتے ہی چاندکا بھاگ کر چھپر کھٹ پر بیٹھ گئی اور اپنے سرخ سفید ریشمی ہاتھوں سے اپنا چاند جیسا چہرہ چھپالیا۔
کامران دھیرے دھیرے اس کی طرف بڑھا۔ ہونٹوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں خواب سجائے۔
وہ اس کے نزدیک آ کر خاموشی سے کھڑاہوگیا۔ قامران کی موجودگی محسوس کر کے چاندکا اور سمٹ گئی۔ لجاگئی اور اپنا چہرہ مضبوطی سے چھپالیا۔
کامران نے اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور بولا "آج تو چھونے کی اجازت ہے....؟“
یہ سن کر چاندکا تڑپ کر اٹھی اور امربیل کی طرح کامران کے ساتھ لپٹ گئی۔ تب قامران نے محسوس کیا کہ اس کے ریشمیں جسم میں لرزہ طاری ہے۔ پھر اس نے چاندکا کے سسکنے کی آواز سنی۔
کامران نے اس کا چہره اوپر کیا تو اس کی آنکھوں سے موتی ٹپکتے دیکھے۔
"رو رہی ہو چاندکا؟‘‘ قامران بے قراری سے بولا۔
”خوشی کے آنسو ہیں قامران...! میں صدیوں سے تمہاری منتظر تھی قامران....! مجھے اپنی مضبوط بانہوں میں چھپا لو کہ میری روح تک سیراب ہو جائے۔“
تب تامران اسے مضبوط بانہوں کی گرفت میں لے لیا۔ اسے اتنی زور سے بھینچا کہ چاندکا سرشار ہوگئی اس پر بے خودی چھا گئی۔
پھر کامران دھیرے دھیرے اس کے چہرے پر جھکنے لگا۔ آرزوئیں مچلنے لگی سرشاریاں بڑھیں منہ بند کلیاں چٹک چٹک کر پھول بننے لگیں۔
جسم و روح پر ایک کیف سا چھا گیا۔ خوشیاں ناچنے لگیں۔ جذبات کی بجلیاں کوندنے لگیں۔ خواب گاه لذت آمیز سسکیوں سے بھر گئی۔
مسرت آمیز زندگی کی سحر ہونے لگی۔
چاندکا، چاندکا نہ رہی۔
قامران، قامران نہ رہا۔
صدیوں سے پیاسے جسم اپنا وجود بھلا بیٹھے ایک ہوگئے۔
☆☆☆☆☆☆☆
( ختم شد )

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,