سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 15

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 15

تھوڑی دیر بعد کامران سردار کاکڑ کی رہائش گاہ کے ایک کمرے میں بیٹھا ہوا تھا۔ جبکہ سردار کا کڑ اندر گیا ہوا تھا۔ آخر سردار کاکڑ کچھ بڑبڑتا ہوا اندر داخل ہوتا ہے جسے کامران نہ سمجھ سکا اس نے پوچھا: " کیا ہوا سردار............ ؟"
"رنگی کہتی ہے کہ اگر رنگا کو کچھ ہو گیا تو میں بھی زندہ نہ رہوں گی۔" سردار کاکڑ نے غم سے بتایا۔ قامران یہ سن کر زیر لب مسکرایا۔ ”سردار! تم نے کیا سوچا ہے۔ کیا رنگا کو مروا دو گے؟“
"میری سمجھ میں نہیں آتا کیا کروں کبھی جی چاہتا ہے کہ رنگی کو بھی اس کے ساتھ زندہ گاڑ دوں۔“
"کیا تم اتنے پتھر دل ہو سکتے ہو؟
"نہیں یہ ممکن نہیں۔“
"پھر میری ایک بات مانو....... رنگی کورنگا کے حوالے کردو"
"یہ بھی نہیں ہوسکتا۔“
"فرض کرو تم نے رنگا کو زندہ دفن کروا دیا اس کے بعد اگر رنگی نے زندگی سے منه موڑ لیا تو تم کیا کرو گے۔۔۔ تم کچھ نہیں کرسکو گے۔اپنی نازک اور پھول سی بیٹی سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ہاتھ دھو بیٹھو گے جبکہ دوسری صورت میں تم جب چاہو گے رنگی سے مل سکتے۔ وہ رنگا کی ہونے کے ساتھ ساتھ تمہارے آس پاس رہے گی......میرا خیال ہے کہ تم اسے اپنی انا کا مسئلہ نہ بناؤ اور اپنی بیٹی کو خوشی خوشی رنگا کے حوالے کردو" قامران نے اسے راہ راست پر لانے کی کوشش کی۔
"مر کر بھی نہیں،" سردار کاکڑ بالکل ہھتے سے اکھڑ گیا۔
" اگر میں اس بات کو بطور شرط پیش کروں تو۔"
"میں سمجھا نہیں‘‘
"اگر میں یہ کہوں کہ تمہیں سونا صرف اسی صورت میں ملے گا جب تم رنگی کو رنگا کے حوالے کرو گے تو۔"
"نو جوان....! یہ کہہ کر تم مجھے الجھن میں ڈال رہے ہو" سردار کاکڑ کا چہرہ سیاہ پڑنے لگا "میری سمجھ میں نہیں آیا کہ تمہیں ان دونوں سے اتنی دلچسپی کیوں ہے۔ ان دونوں کے ملاپ سے تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا؟"
"سردار کاکڑ میں تاجر نہیں ہوں سیاح ہوں جو نفع نقصان کی سوچوں سیاح کے تجربات ہوتے ہیں جو اس راه راست میں کئے جاتے ہیں ویسے بھی میں محبت کو انسانیت کی معراج سمجھتا ہوں۔ رنگا اور رنگی میرے لیے قابل احترام ہیں۔ ان پر میں دنیا جہان کی دولت نچھاور کر سکتا ہو تو صرف تھوڑا سا سونا ہے۔"
"سردار کاکڑ کو پہلی بار کسی کی باتوں نے اتنا متاثر کیا ہے۔ نوجوان میں اتنا تو کر سکتا ہوں کہ رنگا کو سزائے موت سے بچالوں لیکن رنگی کو اس کے حوا لے کرنا میرے لیے بہت مشکل ہے"
"سردار کاکڑ تمہاری بیٹی اس کی زندگی ہے وہی نہ ملی تو پھر موت اور زندگی اس کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ بہتر ہوگا کہ تم اسے مروا دو اور مجھے بھی اجازت دو۔ مجھے افسوس ہے کہ سونا میں تمہارے حوالے نہ کرسکوں گا۔“ قامران یہ کہہ کر کھڑا ہوگیا۔ ”تم مت سمجھنا کہ تم نے کیوں کہ وہ جگہ دیکھ لی اس لیے میرے بغیر آسانی سے سونا وہاں سے نکال لو گے۔ یاد رکھو۔۔۔! میرے بغیر تمہیں وہاں کچھ نہ ملے گا...اچھا میں چلتا ہوں۔“
کامران کو جاتے دیکھ کر سردار کا کڑ بے قرار ہو گیا۔ وہ بے چینی سے اٹھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا کامران کے نزدیک جا پہنچا۔ "کامران۔۔۔! میری بات تو سنو۔“
کامران رک گیا۔ اس نے پلٹ کر سوالیہ نگاہوں سے سردار کاکڑ کی طرف دیکھا۔ مجھے کچھ سوچنے کا موقع دو
" ہاں۔۔۔! سوچ لو لیکن وہ گڑھا جو رنگا کے لیے کھودا جا رہا ہے اس دوران وہ تو گہرا ہوتا جائے گا۔
"میں ابھی کھدائی بند کروا رہا ہوں۔“ سردار یہ کہہ کر باہر جانے لگا ۔
’’رنگا کو رسیوں سے بھی آزاد کرنا ہوگا۔“ کامران نے جاتے جاتے اس سے کہا۔ ”وہ فرار نہیں ہوگا.......اگر ہو گا تو میں اسے پاتال میں سے بھی پکڑ لاؤں گا"
کامران کی اس یقین دہانی نے سردار کاکڑ کو مطمئن کر دیا۔ وہ گردن ہلاتا ہوا باہر نکل گیا۔ چند لمحوں بعد ہی وہ واپس پلٹا اور بولا۔ "میں نے اپنا پیغام وہاں بھیج دیا ہے۔ رنگا تھوڑی دیر بعد تمہارے سامنے ہوگا۔“
کامران سردار کاکڑ کی اس تبدیلی پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے سوچا کہ یہ چمک دار دولت انسانی زندگی میں کیا خوب تماشے کرتی ہے۔ دولت کی ہوس انسان کو اس کی اپنی انا کی سلیب پر چڑھا دیتی ہے اور وہ اس کے لیے سب کچھ برداشت کرلیتا ہے۔ ہائے رے انسان کی کمزوریاں۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ دومشنڈے رنگا کو اپنے ساتھ لیے اندر داخل ہوئے۔ رنگا حیران تھا ان کو تجسس بھری نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ وہ دونوں مشٹنڈے پریشان تھے اور سردار کاکڑ کو الجھی ہوئی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے.............کیونکہ فیصلوں کا یہ طلاطم ان کے کیئے دھرے پر پانی پھیر گیا تھا۔
رنگا آیا تو کامران نے اسے اپنے نزدیک بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ”آؤ بیٹھو"
رنگا اور حیران ہوا کہ سردار کاکڑ کی موجودگی میں کامران نے اسے اپنے پاس ہی بیٹھنے کو کہا اور سردار کی پیشانی پر تیوری نہ پڑی....کامران نے سردار پر ایسا کیا جادو پڑھ کر پھونک دیا ہے۔۔۔؟ رنگا خاموشی سے اس کے نزدیک آ کر بیٹھ گیا۔
کامران نے رنگا کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور ہنستے ہوئے بولا۔ ’’ تم خوش نصیب ہو نوجوان........... ! سردار نے سزائے موت کا حکم واپس لے لیا تم چاہو تو اپنی رسم کے مطابق سردار کا شکریہ ادا کر سکتے ہو۔" رنگا فورا اٹھا اور اسی کے قدموں میں گر پڑا۔ اس نے سردار کاکڑ کے پاؤں چومے اور بڑی عقیدت سے بولا۔ ”مجھے زندگی بخشنے کا شکریہ سردار“
سردار کاکڑ نے جواب میں کچھ نہ کہا۔ ویسے ہی کیا کم تھا کہ سردار نے اسے اپنے پاؤں کے بوسے لینے دیئے تھے۔
"پھر سردار...تم نے کیا سوچا۔۔۔؟‘‘ قامران نے سوال کیا۔
سردار نے جواب دینے میں ہچکچاہٹ محسوس کی۔
کامران نے ہچکچاہٹ کی وجہ جان کر رنگا سے کہا۔ "نوجوان....! میں سردار سے بات کرنا چاہتا ہوں کچھ دیر کے لیے تم باہر بیٹھو"
رنگا نے فورا حکم کی تعمیل کی۔
رنگا کے جانے کے بعد سردار کاکڑ نے کہا۔ ”مجھے کچھ سوچنے کی مہلت دو"
"کتنی مہلت چاہتے ہو۔۔۔۔؟“
"دو دن"
"نہیں.......... دو دن تو نہیں مل سکتے۔ ایک رات ضرور مل سکتی ہے۔" کامران نے اسے کہا۔
"آج رات تم سکون سے لیٹ کر مسئلے کے ہر پہلو پر غور کر لو صبح ہوتے ہی مجھے اس سے مطلع کردینا۔ میں اس نوجوان کے ساتھ اس کی بستی میں جا رہا ہوں...........اگر فیصلہ میرے حق میں ہو کہ رنگی کو اس نوجوان کے حوالے کرنا چاہو تو مجھے پیغام نہ بھیجا بلکہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر آ جانا۔۔۔ سورج چڑھنے تک نہیں آئے تو سمجھ لوں گا کہ تمہیں سونے کی ضرورت نہیں، پھر میرا فرض ہوگا نوجوان کو تمہارے حوالے کر جاؤں....اچھا میں اب جاتا ہوں...کل دن کی روشنی میں تمہارا انتظار کروں گا“ یہ کہہ کر قامران ایک لمحے کو نہ رکا۔ اس نے سردار کا کڑ کا جواب سننے کی کوشش بھی نا کی دروازے سے باہر نکلا۔ باہر کھڑے رنگا کا ہاتھ پکڑا اور اپنی گھوڑی کی طرف بڑھنے لگا۔ اتنے میں تین چار مشٹنڈوں نے انہیں گھیرلیا اور راستہ روک کر بولے ” تم رنگا کو نہیں لے نا سکتے"
"مجھے رنگا کو لے جانے سے کوئی نہیں روک سکتا، جاؤ پہلے اپنے سردار سے بات کرو پھر میرا راستہ روکنا۔‘‘ قامران نے قدرے غصے سے کہا۔
یہ سن کرمشٹنڈوں کا رویہ فورا بدل گیا۔ وہ فورا پیچھے ہٹ گئے۔ ایک مشٹنڈہ سردار كی رہائش گاہ کی طرف بھاگا۔ ابھی اندر نہیں جا پایا تھا کہ سردار کاکڑ دروازے پر نمودار ہو گیا۔ اس نے طرف آتے ہوئے منڈے کو ہاتھ کے اشارے سے وہیں روک دیا اور پھر کامران کو چلے جانے کا اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہي مشٹنڈے کائی کی طرح پھٹ گئے۔
"رنگا تمہارا گھوڑا کہاں ہے؟" قامران نے پوچھا۔
"انہی لوگوں کے پاس ہے۔" پھر کامران نے ان مشٹنڈوں سے اس کا گھوڑا لانے کو کہا جسے فوراً ہی رنگا کے حوالے کر دیا گیا۔
اب وہ دونوں بستی کی طرف اڑے جا رہے تھے۔ اندھیرا پھیلتے پھیلتے ان دونوں نے برق رفتاری کا مظاہرہ کر کے بتسی کو جالیا۔ رنگا کے باپ نے دونوں کو گھر کے سامنے رکتے دیکھا تو بھاگ کر ان کے نزدیک پہنچا اور پر تشویش لہجے میں بولا۔
"کیا تو آج بھی اس چڑیل سے ملنے گیا تھا۔“
"بابا میں چڑیل سے تو نہیں البته رنگی سے ضرور ملنے گیا تھا۔“ رنگا نے دبی دبی مسکراہٹ سے کہا
"پھر تو زندہ کیسے واپس آيا"
"یہ کارنامه قامران کا ہے" رنگا نے اس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
رنگا کے باپ کو یہ سن کر بڑی حیرت ہوئی۔ ایک مسافر نے اسے کس طرح بچا لیا۔۔۔۔؟ کاکڑ تو بڑی ظالم چیز ہے وہ اس نوجوان کے ہاتھوں کس طرح رام ہوگیا۔
”قامران۔۔۔۔! یہ کیسے ہوا۔۔۔۔؟ رنگا کا باپ اس سے مخاطب تھا۔
"یہ تو کچھ بھی نہیں.............دیوتا نے چاہا تو کل صبح تم اپنے گھر کے دروازے پر سردار کاکڑ کو دیکھو گے اور اس کے ساتھ رنگی بھی ہوگی۔‘‘ کامران نے ہوشربا انکشاف کیا۔
"نہیں...یہ کیسے ہوسکتا ہے۔" رنگا کے باپ نے اسے مذاق جانا۔
"فرض کرو اگر ایسا ہو جائے کل صبح سردار کاکڑ اپنی بیٹی کو یہاں لے کر آ جائے اور رنگا سے اپنی بیٹی بیاہنے کی درخواست کرے تو کیا تم انکار کر دو گے۔۔۔؟"
"میں ہرگز انکار نہیں کروں گا کیونکہ اس کا بذات خود آنا ہی تمام کوہتائیوں کی تلافی کر جائے گا اس پر میرے بیٹے کو من چاہی بیوی مل جائے گی۔ اس سے زیادہ خوشی کی بات میرے لیے کیا ہوسکتی ہے۔" رنگا کا باپ خوشدلی سے بولا۔
"لیکن کل تو تم نے بڑی سختی سے اس رشتے کی مخالفت کی تھی۔"
میں دراصل اس لڑکی کو اس کے دل سے اتارنا چاہتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ یہ اگر رنگی سے ملتا رہا تو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔“
پر اسی طرح کی گفتگو کرتے ہوئے ان تینوں نے کھانا کھایا۔ رنگا اور رنگا کے باپ کی نظروں میں کامران کی قدر و منزلت اور بھی سوا ہوگئی۔ گفتگو کے دوران رنگا کے باپ نے وہ منتر معلوم کرنا چاہا جسے پھونک کر قامران نے سردار کاکڑ کو اپنے بس میں کر لیا تھا۔ کامران نے اس منتر کو بتانے سے گریز کیا۔ اس نے ہنس کر بات کا رخ کسی اور طرف پھیر دیا۔
رات دھیرے دھیرے گزرتی رہی۔ کامران نے اگرچہ رنگا اور اس کے باپ سے سردار کاکڑ آمد کا ذکر کردیا تو اسے امید بھی تھی کہ سونے کا لالچ اسے یہاں ضرور کھینچ لائے گا۔ اس کے باوجود کامران کبھی کبھی مزترب ہو جاتا تھا۔ ممکن ہے سردار کاکڑ اپنی انا کے آگے ڈھیروں سونے کی لالچ کو مار دے۔ انسان سے کسی بھی وقت غیر متوقع حرکت سرزد ہوسکتی ہے۔ جذبات کا پتلا جو ٹھہرا۔ قامران یقین اور غیریقینی کی حالت میں جانے کیا کیا سوچتا آخر نیند کی آغوش میں جا پہنچا۔
ادھر رنگا پر یہ رات بڑی بھاری تھی۔ وہ بار بار کروٹیں بدل رہا تھا اور جانے کیا کیا الا بلا سوچ رہا تھا۔ کچھ خواب بنتے تھے کچھ مٹتے تھے۔ کبھی امید خوشیوں کا ہار لے کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی کبھی وہ مایوسی کا بھیانک چہرہ دیکھتا۔
کبھی موت دبے پاؤں اس کے سرہانے کھڑے ہو کر قہقہے لگاتی۔ کبھی رنگی اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر زندگی کی نوید دیتی۔ صبح کے وقت بڑی مشکل سے اس کی آنکھوں میں نیند اتری۔ ابھی وہ اچھی طرح سی سو نہ پایا تھا کہ اس کے باپ نے اسے اٹھا لیا "اٹھو............. بیٹا صبح ہوگئی۔"
کوئی اور دن ہوتا تو رنگا کروٹ لے کر پھر سو جاتا۔ باپ کے بار بار اٹھانے پر آنکھیں نہ کھولتا لیکن آج تو کچھ معاملہ ہی اور تھا۔ باپ کے ایک دفعہ کہنے ہی سے وہ اٹھ کر بیٹھا اور چہرے پر ناگواری بھی نہ تھی۔ رنگا کا باپ رنگا کواس پھرتی سے اٹھتا دیکھ کر مسکرائے بنا نه رہ سکا باپ کے جانے کے بعد رنگا باہر نکل آیا۔ قامران ابھی سوتا پڑا تھا ۔ اس نے اسے نہ جگایا۔
مشرق لال ہو رہا تھا۔ سورج کی آمد آمد تھی۔ ٹھنڈی ہوا جسم کو گدگدا رہی تھی۔ پرندے چہچہاتے پھر رہے تھے۔ زندگی کروٹیں لے کر اٹھ رہی تھی۔ دھیرے دھیرے اجالا پھیلتا جا رہا تھا۔ رنگا نے اپنی بانسری اٹھائی اور گھر کے سامنے ایک بڑے سے پتھر پر بیٹھ گیا۔ چند لمحوں بعد رنگا نے ان کے منہ پر اپنے لب رکھے اور اس نازک بدن پر اس کی انگلیاں رقص کرنے لگیں۔ بانسری سے ایک ساز پھوٹ پڑا ایک ایسا نغ
ہ جس میں خوشیوں کے موتی تھے۔ زندگی کا جوش تھا دریا کا بہاؤ تھا اور مست ہواؤں کا رچاؤ تھا۔
کامران کے کانوں میں بانسری کی آواز شہد بن کر بوند بوند ٹپکنے لگی۔ فورا ہی اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کچھ دیر بے حس و حرکت پڑا بانسری کے دل کی پکار سنتا رہا۔ پھر وہ اٹھا اور باہرنکل گیا جہاں رنگا ایک پتھر پر بیٹھا آنکھیں بند کیئے ایک نئے راگ کی تخلیق میں مصروف تھا۔
کامران خاموشی سے اس کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ اسے پتہ ہی نہ چلا............اسے تو اس وقت بھی پتہ نہ تھا۔ جب قامران بہت احتیاط سے کہ آواز نہ ہو اس کے قریب پڑے ایک دوسرے پتھر پر بیٹھ گیا اور پوری توجہ سے فضا میں چھاۓ اس نغمے کو سننے لگا۔
اور اس کی محویت اس وقت ٹوٹی جب اس نے سامنے سے کافی فاصلے پر ریت اڑتی دیکھی۔ چند گھڑ سوار بڑی تیزی سے بستی کی طرف آرہے تھے۔ قامران انہیں دیکھ کر فورا کھڑا ہوگیا سردار کاکڑ آ پنچا؟
ابھی تو سورج اچھی طرح نکل بھی نہیں پایا تھا اگر یه سردار کاکڑ ہے تو اس نے آنے میں بڑی جلدی کی بڑی پھرتی دکھائی۔ جب وہ گھڑ سوار قریب آگیا کہ کامران انہیں پہچان سکے تو قامران نے انہیں فوراً پہچان لیا۔ یہ سردار کاکڑ ہی تھا۔ اس کے برابر رنگی تھی اور اس کے پیچھے باقی گھڑ سوار وہ تعداد میں پائنچ تھے۔ سردار کا مڑ کے ساتھ رنگی کو دیکھ کر کامران خوشی سے جھوم اٹھا...اس نے فوراً رنگا کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ رنگا نے چونک کر اپنا چہرہ اٹھایا اور آنکھیں کھول کر کامران کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگا۔
”میرے فنکار....!‘‘ کامران نے ہنستے ہوئے اس کا چہرہ دوسری طرف گھمایا ”وه سامنے دیکھو“
اب وہ اتنے نزدیک آ چکے تھے کہ کسی شک کی گنجائش نہ تھی لیکن رنگا انہیں دکھ کر سکتے میں آ گیا، شک میں پڑ گیا۔
"کیا یہ ممکن ہے۔۔۔۔؟ رنگی سردار کاکڑ کے ساتھ آرہی ہے۔۔۔۔؟ یہ کوئی خواب تو نہیں۔۔۔۔؟ یہ کیا دیکھ رہا ہوں۔۔۔؟ کیا میں زندہ ہوں...؟“ رنگا خوابناک لہجے میں جانے کیا کیا بڑبڑائے جا رہا تھا۔ کامران اس کے پاس سے ہٹ گیا........وہ بڑی تیزی سے بھاگ کر سردار کاکڑ کے پاس پہنچا اس کے گھوڑے کی لگام تھام کے بڑی خوش دلی سے بولا "خوش آمدید سردار کاکڑ" پھر اس نے رنگی کی طرف نگاہ اٹھا لی۔ رنگی اسے دیکھ کر مسکرائی۔ فضا میں کئی کلیوں کے چٹکنے کی آواز آئی۔ اس کی مسکراہٹ میں بڑی جان تھی۔
پھر کامران نے اس کے گھوڑے کی بھی لگام پکڑ لی اور دونوں گھوڑوں کے درمیان بھاگتا ہوا اسکی طرف بڑھا۔
رنگا کا باپ چہرے پر خوشی لیے بڑی دہ
دلچسپی سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا جبکہ رنگا پتھر پر بیٹھا سونے جاگنے کی آزمائش میں مبتلا مبہوت بیٹھا تھا۔
قامران نے اس کے نزدیک پہنچ کر اس کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ نچا اور زور سے بولا ”جاؤ اپنی رنگی کو گھوڑے سے اتار لو"
رنگا پھر بھی خاموش بیٹھا تھا ایک دم ساکت.......پلک بھی نہ جھپکی۔ چہرے پر کوئی رنگ نہ آیا
تب تامران نے اسے پکڑ کر ہلایا...اور یہ بھی اچھا ہوا کہ اس نے اسے فورا ہی پکڑ لیا ورنہ اس بار وہ پتھر سے گر جاتا۔ وہ اس کے ہلاتے ہی زمین بوس ہو گیا تھا۔
کامران نے گھبرا کر اسے زمین پر لٹا دیا اور اس کا جسم مڑنے لگا۔ رنگا کی آنکھیں ابھی تک حیران بنی ہوئی تھیں اور اس کا جسم ٹھندا ہوگیا تھا۔
رنگا کو زمین پر گرتے دیکھ کر سردار کاکڑ اور رنگی نے اپنے گھوڑوں سے چھلانگیں لگا دیں۔ رنگی پریشان ہوکر رنگا کی طرف جانے لگی سردار کا کڑ نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے سمجھاتے ہوئے بولا۔ ”صبر سے کام لو رنگی۔"
پر رنگی کہاں رکنے والی تھی۔ وہ ہاتھ چھڑا کر رنگا پر جھپٹ پڑی۔ اس نے اس کا سر اٹھا کر ذانو پر رکھ لیا اور "رنگا رنگا" پکار نے لگی۔
رنگا کا باپ الگ پریشان تھا......وہ پاگلوں کی طرح ادھر سے ادھر ٹہل رہا تھا اس کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا کرے کیا کہے۔
سردار کاکڑ سختی سے ہونٹ بھینچے رنگا کی طرف بڑھا۔ اس نے زمین پر بیٹھ کر رنگا کا ہاتھ پکڑا اس کی نبض ٹٹولنے لگا۔ باوجود کوشش کے اس کی نبض نہ ملی۔ ہوتی تو ملتی۔ اس کی نبض تو ڈوب چکی تھی
سردار کاکڑ نے مایوسی سے گردن ہلا کر اس کے دل پر ہاتھ رکھا۔ اس کا دل بھی اس کی نبض کی طرح خاموش ہو چکا تھا ل۔ تب سردار کاکڑ افسردگی کے ساتھ اٹھا اور رنگا کی طرف پشت کر کے کھڑا ہوا۔ جو اس بات کی علامت تھا کہ رنگا اب اس دنیا میں نہیں رہا۔
"نہیں نہیں، یہ نہیں ہوسکتا۔" رنگی چیخ مار کر رو پڑی۔ رنگا کے باپ کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا پھیل گیا۔ وہ لرزتے قدموں سےزمین پر گرا اور ہوش گنوا بیٹھا۔
کامران نے ایک گہری ٹھنڈی سانس لی اور بڑی بے قراری سے اس کی نبض دل کی دھڑکن گننی چائی لیکن نتیجے میں اداسیاں ہی ملیں... وہ ہے نور آنکھوں سے سردار کاکڑ کو دیکھنے لگا
سردار کاکڑ پلٹا اس نے جھک کر رنگا کی کھلی ہوئی آنکھیں بند کرنی چاہیں لیکن آنکھیں پتھر ہو چکی تھیں بند نہ ہوئی۔
پھر اس نے اس کی مٹھی سے بانسری نکالنی چاہی لیکن وہ ایسا بھی نہ کر سکا۔ مٹھی بھی بڑی سختی سے بند تھی۔
رنگی بدستور روئے جا رہی تھی۔
تھوڑی دیر بعد رنگا کے باپ نے اچانک آنکھیں کھول دیں اور لیٹے لیٹے سردار کو گھورنے لگا۔ معاً اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ وہ اچھل کر کھڑا ہوا اور سردار کاکڑ کی گردن سے جھولتا ہوا بولا"سردار........تو نے میرے بچے کو مار دیا....زندہ دفن کرنے کی دھمکی دیتا تھا کرلے دفن............مرتے مرتے میرا بیٹا تیری خواہش پوری کرگیا.."
سردار کاکڑ نے بہت نرمی سے اس سے اپنی گردن چھڑائی اور اس کے کہے کا بالکل برا نہ منایا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس حالت میں کوئی بھی باپ اپنا دماغی توازن برقرار نہیں رکھ سکتا۔
کامران نے رنگا کے باپ کو پکڑ لیا اور اسے صبر کی تلقین کرنے کا۔
”قامران میرا اکلوتا بیٹا زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھا اور تم کہتے ہو کہ صبر کروں صبر نہیں ہوتا قامران نہیں ہوتا۔" یہ کہہ کر رنگا کا باپ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑا۔
رنگا کی موت کی خبر سیلاب کے پانی کی طرح پوری بستی میں پھیل گئی۔ آنا فانا بستی والے رنگا کے گھر پر ہجوم کر آئے۔ پوری بستی کو رنگا کے دل کا حال معلوم تھا۔ انہیں سردار کاکڑ کے ظلموں کا بھی علم تھا۔ اب جو انہوں نے سردار کا کڑ کو رنگا کے گھر پر دیکھا تو بگڑ اٹھے کچھ نے فورا منہ موڑ لیے۔ بعض غصے سے اسے دیکھنے لگے۔ فضا پر اچانک گہرا سکوت چھا گیا جو کسی طوفان کا پیش خیمہ لگا
کامران نے نفرت کی فضا پید اہوتے دیکھ کر حالات کو قابو میں رکھنے کی ٹھانی بڑے سے پتھر پر کھڑا ہو گیا جس پر کچھ دیر پہلے رنگا، رنگی کا آخری نغمہ چھیڑ کر چل بسا تھا اور پھر لوگوں سے مخاطب ہوا۔
"بستی کے لوگو میں بھی اگر اس بستی کا ہی ہوتا تو میرے بھی وہی جذبات جو اس وقت تمہارے ہیں، میں اس وقت سردار کاکڑ کی حمایت میں نہیں کھڑا ہوا ہوں بلکہ غلط فہمی پیدا ہونے سے پہلے میں تمہیں حقیقت حال سے آگاہ کردوں۔ رنگا کی موت میں سردار کالکڑ کا بلکل ہاتھ نہیں، وہ تو خلاف توقع اپنی بیٹی کا ہاتھ دینے آیا تھا۔ شایہ یہ خوشی رنگا سے برداشت نہ ہو سکی۔اتنی حقیقت جان لینے کے بعد اب تمہیں اختیار ہے کہ سردار کاکڑ کے ساتھ عزت سے پیش آؤ یا ذلت سے۔“
اتنا کہہ کر قامران پھر سے نیچے اتر آیا۔ حقیقت حال سے واقفیت کے بعد بستی والوں کا انداز فکر ایک دم تبدیل ہوگیا...اب ان کی توجہ سردار سے ہٹ کر رنگا کے کریا کرم کی طرف مبذول ہوگئی۔
بستی کی روایت کے مطابق گھر کے سامنے ہی گڑھا کھودا جانے لگا۔ جب گڑھا خاصی گہرائی اور رنگا پہ کالے دریا کا پانی ڈالا گیا اور پھر اسے زمین کے حوالے کرنا تھا
اس کے باپ کی حالت اس قابل نہ تھی کہ وہ آخری رسومات ادا کر سکتا۔ تب یہ کام بستی والوں کو سونپا گیا۔
کچھ دیر بعد جب رنگا کو گڑھے میں اتارا جانے لگاتو رنگی نے دہائی مچادی۔
"میں بھی اس کے ساتھ جاؤں گی۔" بڑی مشکل سے رنگی پر قابو پایا گیا۔
پھر جلدی جلدی رنگا کو گھڑے میں ڈال کر مٹی پھینکی جانے لگی۔ کچھ دیر میں مٹی برابر ہوگئی۔ قاران ہاتھ جھاڑتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
ابھی اس نے کمر سیدھی بھی نہ کی تھی کہ اس کے دل کے کسی گوشے سے وہ مترنم آواز سنائی دی جو اچھے اچھے سازوں کو پیچھے چھوڑ جاتی تھی۔ ساتھ ہی اس کے آس پاس کنوارے بدن کی وہ خوشبو پھیلی ہزاروں گلوں پر بھاری تھی۔ قامران اس کی بات سن کر بری طرح چونک پڑا اور خود کلامی کے انداز میں بولا: "نہیں ایسا نہیں ہو سکتا"
وہ بات ہی ایسی تھی جس پر چونکے بنا نہیں رہا جاسکتا تھا۔ چاند کا نے کہا تھا.... "قامران۔۔۔! رنگا زندہ ہے...........اسے فورا گڑھے سے نکال لو۔“
"تم اب تک کہاں تھیں...؟" کامران نے دل ہی دل میں سوال کیا۔ "ذرا پہلے نہیں آسکتی تھی اسے دفن کرنے کی نوبت ہی نہ آتی"
"ہاں آنے میں مجھے دیر ہوگئی لیکن کیا کروں میں مجبور تھی“ چاندکا کا جواب آیا۔ اس کے لہجے میں ندامت تھی
"چاندکا بھی لفظ مجبوری سے آشنا ہے؟‘‘ قامران کے لہجے میں ہلکا سا طنز تھا۔
"چاندکا دیوتا تو نہیں۔" مترنم ہنسی سنائی دی۔
”دیوی تو ہے۔۔۔؟"
"ہاں صرف تمہارے من کی دیوی"
"اچھا اب کیا کروں؟“ قاصران اصل مسئلے کی طرف آیا۔
"رنگا کو گڑھے سے نکالو............وہ مرا نہیں ہے۔"
"لیکن میں کیسے نکالوں، کیا کہہ کر نکالوں۔" کامران الجھن میں پڑ گیا۔
کامران کے لیے واقعی یہ مسئلہ تھا جس نے اپنے ہاتھوں مٹی ڈال کر دفن کیا تھا اب وہ کیسے کہ سکتا تھا کہ رنگا زندہ ہے۔ اسے فورا نکالو۔ ظاہر ہے چاندکا سے ہونے والی گفتگو تو لوگوں پر ظاہر نہیں کی جاسکتی تھی۔
ابھی قامران سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کرے اتنے میں اسے ایک سفید ریش بزرگ آگے بڑھتے دکھائی دیئے۔ آخر انہوں نے کامران کے پاس آ کر دم لیا اور اپنی کڑکتی آواز میں بولے "ارے خوش بخت کس کو دفن کر دیا تو نے...؟" کامران نے ایک گہرا سانس لے کر اس بزرگ کا اوپر سے نیچے تک جائزہ لیا وه آم کی طرح کہیں اوپر سے آ ٹپکے تھے۔ تب کامران کو اسے پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ چاندکا رخ تو بدل آئی تھی لیکن کنوارے بدن کی خوشبو پر شاید اسے اختیار نہ تھا۔ "ارے مجھے کیا دیکھتا ہے نکال اس کو کوئی زندوں کو بھی دفن کرتا ہے۔"
"کیا رنگا زندہ ہے؟‘‘ قامران نے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔
"ارے کیا سوال جواب ہی کئے جائے گا...کیا اسے سچ مچ میں مار دے گا نکالا اس کو جلدی" بزرگ نے ڈانٹ کر کہا۔
تب سب سے پہلے رنگی اٹھی اور اس نے اپنے ہاتھوں رنگا کی قبر کھودنی شروع کر دی۔ دیکھا دیکھی بستی کے دوسرے لوگوں نے بھی اس کا ساتھ دینا شروع کردیا دیکھتے دیکھتے لاش گڑھے سے نکل کر اوپر آ گئی۔
تب وہ سفید ریش بزرگ آگے بڑھے۔ انہوں نے رنگا کی لاش کا جائزہ لیا اور منفی انداز میں گردن ہلا کر بولے۔ "سکتے میں آگئے بیٹا محبوبہ سے ملاپ کی خوشی برداشت نہ ہو سکی۔"
رنگا یونہی خاموشی سے لیٹا رہا۔ وہ کیا جواب دیتا۔ وہ بزرگ آہستہ سے جھکے۔ رنگا کے بائیں پیر کا انگوٹھا پکڑ کر زور سے تین بار جھٹکا ہر جھٹکے پر "اٹھ" کہنے لگے۔
جب تیسرے جھٹکے پر انہوں نے کہا"اٹھ" تو رنگا مسکراتا ہوا سچ مچ اٹھ بیٹھا۔
مردے کو زندہ ہوتے دیکھ کر مجمع ایک دم بھر اٹھا جذبات قابو میں نہ رہے لوگ دیوانے ہوکر رنگا کی طرف جھپٹ پڑے۔ ہر شخص نے اسے ہاتھ لگا کر دیکھا۔
پھر اچانک اس بزرگ کا خیال آیا جس نے مردہ کو زندہ کر دیا تھا لیکن لوگوں کی تلاش کے باوجود اس کا کہیں پتہ نہ چلا۔
وہ مجمع کو بے قابو ہوتے دیکھ کر ہی چپکے سے کہیں کھسک لیے تھے۔ رنگا کا لوگوں نے پیچھا چھوڑا تو اسے رنگی دکھائی دی۔ وہ بے اختیار اس کی طرف بھاگا اور اسکے دونوں ہاتھ پکڑتا ہوا ہو بولا "رنگی تو آگئی۔"
"ہاں رنگا میں آگئی اور ہمیشہ کے لیے“
پھر رنگا کو سردار کاکڑ کا خیال آیا۔ وہ تیزی سے اس کی طرف بھاگا اور اس کے قدموں میں با تشکر کے طور پر اس کے پاؤں چومے۔ سردار کاکڑ نے اسے اپنے قدموں سے اٹھا کر سینے سے لگا لیا اور پوری سنجیدگی سے بولا۔ "میری بیٹی تمہاری ہوئی۔“
کہیں سے کامران کا پرکشش چہره رنگا کے سامنے آ گیا۔ وہ سردار کا کڑ کو چھوڑ کر قامران کے پاس پہنچا اور بہت کچھ کہنے کے باوجود کچھ نہ کہہ سکا اس کی زبان گنگ ہوگئی۔
ان آنکھوں میں خوشی کے موتی اور لرزتے ہونٹوں نے بہت کچھ کہہ دیا۔ کامران نے اس کے گالوں پر دمکتے آبگینوں کو اپنی انگلی کے پوروں سے صاف کیا اور کہا "تمہارا عشق رنگ لے آیا...رنگی تمہیں مل گئی مبارک ہو"
رنگا نے جواب میں کچھ کہنا چاہا لیکن وفور جذبات نے قوت گویائی سلب کر لی وہ ہونٹ بھینچے چپ ہو گیا۔
پھر کامران سردار کاکڑ کی طرف بڑھا اور اس سے مخاطب ہوا۔ "کیا خیال ہے۔ شادی کی تیاری کی جائیں؟"
" مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ رنگی کو میں تمہاری خواہش کے مطابق رنگا کو سونپ دی"
"تم عظیم ہو، سردار کاکڑ واقعی تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ مجھ پر ہی نہیں رنگا اور رنگی پر بھی احسان ہوا ہے۔ تم قابل ستائش ہو سردار کاکڑ" قامران نے سچے دل سے کہا۔
پھر کامران نے رنگا کے باپ سے کہا کہ "جتنی جلد ہو سکے شادی کی رسم ادا کر دی جائے۔"
رنگا کے باپ نے اثبات میں گردن ہلا کر وہاں موجود بستی کے لوگوں کے سامنے رنگا رنگی کی شادی کا اعلان کیا۔ جس پر بستی والوں نے خوشی سے نعرے لگائے تالیاں بجائیں اور مبارکباد دی۔ اس طرح شادی کی رسموں کی ابتدا ہوئی۔
پهر رنگا کو بستی کے لڑکوں اور رنگی کو بستی کی لڑکیوں کے حوالے کردیا گیا تا کہ لڑکے رنگا کو اور لڑکیاں رنگی کو سجائیں۔
بستی کے باہر میدان میں شادی کے انتظامات کیے جانے لگے۔ آخر وہ وقت بھی آیا جب بستی کے نوجوان لڑکے لڑکیاں رنگا اور رنگی کو گاتے بجاتے سجا کر لائے۔
ان دونوں کو کیلوں کے پتوں پر بٹھایا گیا۔ رنگی کے جسم پر پھول ہی پھول تھے وہ پھولوں میں ڈھلی پھولوں سے لدی شاخ گل کی طرح لگ رہی تھی۔
رنگا کے گلے میں پھولوں کا صرف ایک ہار تھا۔ پیشانی پر سرخ پٹی بندھی ہوئی تھی اور جسم پر پتے ہی پتے تھے۔
پھر ایک تھال میں بڑا سا ناریل لایا گیا۔
تھال رنگا کے سامنے آیا تو اس نے ملناریل اٹھا کر اپنی پیشانی سے لگایا اور پھر اسے رنگی کی طرف بڑھایا۔ اس نے بھی اسے اپنی پیشانی سے لگا کر رنگا کو واپس کردیا۔
پھر رنگا نے ناریل تین بار فضا میں اچھال کر توڑا اور اس سے نکلنے والے پانی کو پیا پھر رنگی کو پلایا۔
اس رسم کے ادا ہوتے ہی مبارک سلامت کا شور ہوا ڈھولک پر تھاپ پڑی
رنگا سمیت سب نے ناچنا شروع کردیا۔ آخر کامران کو بھی اس رقص میں گھسیٹ لیا گیا اور یوں وہ بخیر و عافیت رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے۔
جب یہ شور و غوغا ختم ہوا رقص شادی اپنے انجام کو پہنچا، شادی کی رسومات کا اختتام ہوا تو سردار کاکڑ مضبوط قدموں سے چلتا ہوا کامران کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
"نو جوان....! میں نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے اب تم کیا کہتے ہو؟“ وہ اسے گہری رکھتا ہوا بولا۔
"اگر تم نے اپنا وعدہ پورا کردیا ہے تو کامران کو اپنے وعدے سے کب انکار ہے" قامران مسکراتا ہوا بولا۔ "سردار تمہیں کھنڈرات کا علم ہے تمام خزانہ تمہارا ہے جب چاہے لے لو۔"
"پھر چلو" سردار کاکڑ نے کہا۔
” ابھی۔۔۔؟‘‘ کامران نے وضاحت چاہی۔
"ہاں ابھی۔"
"ٹھیک ہے۔ابھی چلتے ہیں۔" کامران اٹھتا ہوا بولا
رنگ اور رنگی تک جب قامران کے جانے کی اطلاع پہنچی تو وہ دونوں رسمی پابندی کے باوجود بھاگے چلے آئے۔
"کامران تم کہاں جا رہے ہو؟“ رنگا ہانپتا ہوا بولا۔
"اور کیوں جا رہے ہو۔۔۔؟“ رنگی کانپتی ہوئی بولی۔
"میں سردار کاکڑ کے ساتھ جا رہا ہوں اپنا وعده نبھانے، اس لیے تم دونوں سے رخصت چاہتا ہوں۔"
"کیا واپس لوٹ کر نہیں آؤ گے" رنگا کی آنکھیں نم ہونے لگیں۔
"مسافروں کو آگے ہی آگے جانا ہوتا ہے اور میں تو ایک ایسا مسافر ہوں جس کی کوئی منزل نہیں، مجھے حکم ملا ہے کہ میں سفر کرتا رہوں کب اور کہاں تک یہ مجھے معلوم نہیں............ تو سفر کے لیے جا رہا ہوں اور تم جانتے ہو کہ سفر آگے کی طرف ہوتا ہے۔ پھر واپسی کا سوال ہی کیا۔" کامران نے اتنا کہہ کر اپنی بانہیں کھول لیں، رنگا آگے بڑھا لیکن وہ اس کے گلے لگنے کے بجائے قدموں میں گر پڑا۔ اپنے محسن کے قدم چومنے کے لیے۔
تب کامران نے فوراً ہی رنگا کو اپنے قدموں سے اٹھا لیا اور اپنے گلے سے لگاتے ہوئے کہا "میرے قدموں میں گر کر مجھے اذیت نہ دو آؤ میرے گلے لگ جاؤ، دیوتا کا شکر ہے کہ میں کامیاب ہو گیا۔ میں تم دونوں کو دیکھ کر بہت خوش ہوں۔ اس خوشی کے موقع پر کیا تم میری ایک فرمائش پوری کرو گے.....؟"
آج میں تم دونوں کو اکٹھا دیکھ کر بے انتہا خوش ہوں، اس خوشی کے موقع پر کیا تم میری فرمائش پوری کرسکو گے۔"
"ایک نہیں کئی سینکڑوں بلکہ ہزاروں تم اپنی خواہش تو ظاہر کرو“ رنگا نے بڑے خوش کن انداز میں کہا۔
"میں چاہتا ہوں کہ تم میرے لیے ایک بار بانسری بجاؤ اور کوئی ایسا ساز چھیڑو جو میری روحمیں بس جائے، جس میں جوش ہو، سوز ہو، رنگ ہی رنگ ہوں، امن ہو، سکون ہو، زندگی کی امنگ ہو..........ایک ایسا ساز جو تا ابد میری ساعت سے ٹکراتا رہے جسے میں بھول نہ سکوں۔“
"میں تمہارے لیے ضرور بانسری بجاؤں گا اور کوش کروں گا کہ تمہیں وہ سب دے سکوں جس کی تم خواہش رکھتے ہو“ یہ کہہ کر رنگا واپس مڑا اور اس کا ہاتھ پکڑا ہوا بولا ”آؤ میرے ساتھ“
پھر رنگا اس پتھر پر بیٹھا جس پر بیٹھے بیٹھے وہ سکتے میں آ گیا تھا۔ اس نے مسکراتے ہوئے بانسری اپنے لبوں سے لگائی رنگی اس کے قدموں میں بیٹھ گئی۔ کامران قریب ہی پڑے ایک پتھر پر دراز ہو گیا۔ سردار کاکڑ کو بانسری سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن اسے بھی کامران کا ساتھ دینا پڑا۔
تب بانسری کے جسم سے نغمہ پھوٹا یہ نغمہ رنگا نے اپنے خون جگر سے سینچا تھا۔ اس کی انگلیاں بانسری کے بدن پر بڑی مہارت سے چل رہی تھیں اور دھیرے دھیرے اس کی آنکھوں میں نشہ چھا رہا تھا وہ بند ہوتی جارہی تھیں۔ کامران دم سادھے بانسری کی آواز میں گم تھا۔ اس کی روح میں ارتعاش پیدا ہو چکا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے رنگ بکھرنے لگے تھے۔ کبھی وہ خود کو پھولوں کی سیج پر لیٹا ہوامحسوس کرتا کبھی خوشبوئیں اس سے لپٹ جاتی، کبھی وہ خود کو بادلوں میں اڑتا ہوا محسوس کرتا، بھیگے بادلوں سے جب اس کا جسم مس ہوتا تو ایک شبنمی لہر اس کے رگ و پے میں سرایت کر جاتی، کبھی چاند اس کی گود میں اتر آتا کبھی سورج اس کے سر پر چمکنے لگتا تپش سے بے نیاز ٹھنڈا
اور تب تامران نے اچانک ہی اپنے سر کو جھٹکا۔وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے ہوش گم ہوں
ہوش گم ہونے سے پہلے ہی وہ خود کو ہوش میں لے آیا۔ اس نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو سب کو بے خود پایا۔ یہاں تک کہ سردار کاکڑ پر بھی سحر طاری تھا۔ کامران اپنی جگہ سے اٹھا۔ اس نے سردار کاکڑ کو ہلایا۔ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگا۔ "چلو" کامران نے اسے چلنے کا اشارہ کیا۔
سردار نے غیرارادی طور پر رنگا کی طرف دیکھا۔ وہ آنکھیں بند کیے حال اور مستقبل سے بالا تر ہو کر روح میں اتر جانے والا نغمہ چھیڑے جا رہا تھا۔ رنگی اس کے گھٹنوں پر سررکھے بے سدھ بیٹھی تھی۔ پھر اس نے کامران کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں سوال تھا۔ کامران نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کھنچتا ہوا دور تک لے آیا۔ اور پھر بولا ۔ سردار کاکڑ.......میں اس نغمے کو ختم ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ میں اسے ہمیشہ کے لیئے روح میں اتار لینا چاہتا ہوں....اب جتنی جلدی مکن ہو یہاں سے نکل چلو"
پھر وہ دونوں اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر آہستہ روی سے آگے بڑھے گئے ۔ قامران کی سماعت سے بانسری کی آواز دور تک ٹکراتی رہی۔ پھر ایک وقت آیا کہ وہ نغمہ دھیرے معدوم ہوگیا لیکن کامران کے کانوں میں وہ آواز مستقل رس گھولتی رہی۔
رنگا کا چھیڑا ہوا نغمہ واقعی اس کی روح میں رچ بس گیا تھا جسے وہ ذرا سی توجہ دے کر جب چاهے سن سکتا تھا۔
کالا در یا نظر آتے ہی کامران جو پہلے ہی گھوڑی کو برق رفتاری سے چلاتا آرہا تھا اور بھی تیر ہو گیا سردار کاکڑ نے بھی اپنے گھوڑے کو اور تیز چلنے کا اشارہ کیا۔ جلد ہی وہ کھنڈروں میں پہنچ گئے۔ تہہ خانے کے نزدیک آ کر کامران نے ابلا کی پیٹھ خالی کر دی۔ سردار کاکڑ نے اس کی تقلید کی۔
"سردار کا کڑ اب تم خزانے کے نزدیک آ پہنچے ہو لیکن یہ تو بتاؤ کہ تم یہاں سے سونا کس طرح سے لے جاؤ گے۔" کامران نے تہہ خانے کی سیڑھیاں اترتے ہوئے پوچھا۔
"فی الحال میرے پاس چمڑے کا ایک بڑا سا تھیلا ہے سونا اس میں لے جاؤں گا باقی بعد میں دیکھا جائے گا۔"
"تمہارے دونوں ہاتھ خالی ہیں....تھیلا کدھر ہے؟‘‘ تامران بولا۔
"میری ایک ٹانگ سے لپٹا ہوا ہے" یہ کہہ کر اس نے ٹانگوں سے لباس ہٹا کر دکھایا۔ "یہ دیکھو“ جب سردار کا کڑ نے نیچے اتر کر سونے کے بت دیکھے تو اس کا ہاتھ فوراً اپنی پنڈلی کی طرف گیا۔ تھیلا چو سردار کا کڑ اپنی پنڈلی کے گرد لپیٹے ہوۓ ہے تو وہ اس کی توقع سے کہیں زیادہ لمبا نکلا۔ "اس میں خاصا سونا لے جایا جاسکتا تھا۔" "سردار کاکڑ یہ جو تم بتوں کے چاروں طرف دلدل دیکھ رہے ہو یہ دلدل بہت گہری ہے اگر اس دلدل میں آدمی پھنس جائے تو پھر اس کی موت یقینی ہے۔‘‘ کامران نے اسے سمجھانا شروع کیا
"ان بتوں تک پہنچنے کا ایک مخصوص راستہ ہے جو اس دلدل کے نیچے چھپا ہوا ہے۔ میں تمہیں دکھاتا ہوں جہاں سے وہ بالشت بھر چوڑی دیوار شروع ہوتی ہے۔ یہ دیوار بتوں والے چبوترے کی سیڑھیوں پر ختم ہوتی ہے۔"
پھر کامران نے دیوار کو تلاش کر کے سردار کاکڑ سے اپنی نشانی لگانے کو کہا۔ سردار کاکڑ نے اس جگہ ایک بڑا سا پتھر لا کر رکھ دیا۔ اب قامران نے دلدل کے نیچے ایک پاؤں سے اس دیوار کو ٹٹولا۔ جب اس کا پاؤں دلدل میں کسی ٹھوس چیز پر ٹک گیا تو اس نے ایک قدم آگے بڑھایا اور سردار کاکڑ کو اپنے پیچھے آنے کا کہا "آؤ...........سردار مگر احتیاط سے"
سردار کاکڑ نے بھی کامران جیسا عمل دوہرایا۔ جلد ہی اس نے راستے کو پالیا اور پھر وہ دونوں محتاط انداز میں قدم جماتے ہوۓ آگے بڑھنے لگے۔
سردار کاکڑ کے نزدیک جا کر کامران نے چھلانگ لگائی اور تیزی سے سیڑھیاں پھلانگتا ہوا چبوترے پر پہنچ گیا...سردار کاکڑ بھلا کیوں پیچھے رہتا اس نے بھی زقند بھری اور چبوترے پر۔
پھر اس نے درمیان والے بت کا چاروں طرف سے جائزہ لیا اور اسے جگہ جگہ سے ٹھوک کر دیکھا۔
"اس بت کو توڑنا آسان نہیں۔“ سردار کاکڑ فکر مند ہوگیا۔
"ابھی دیکھتے جاؤ میں کیا کرتا ہوں....یہ بت خودبخود ٹوٹے گا اور سارا سونا تمہارے قدموں میں ہوگا۔“
یہ کہہ کر قامران تیزی سے بت پر چڑھنے لگا۔ اس دیو قامت بت کے کندھے پر بیٹھ کر قامران نے اس کا ایک کان پکڑ کر گھمایا اور کان گھماتے ہی سونا زمین پر گرنے لگا۔ سونے کے جمع ہوتے ڈھیر کو دیکھ کر سردار کی باچھیں کھل گئیں۔ اس پر نشہ سا طاری ہو گیا۔ پھر کامران نے دوسرے بتوں کا سونا بھی زمین پر ڈھیر کر دیا۔ سونے کے اتنے بڑے بڑے پا ڈھیر دیکھ کر سردار کاکڑ کی حالت غیر ہوگئی۔ وہ ادھر ادھر بولایا پھرنے لگا۔
پھر اچانک اس پر ہنسی کا دورہ پڑا۔
وہ کبھی سونے کے اس ڈھیر پر بیٹھتا اور کبھی اس ڈھیر پر لیٹتا ہذیانی انداز میں چیختا جا رہا تھا
تب قامران نے سردار کا کڑ کو جھنجوڑ دیا اور زور سے بولا: "سردار کاکڑ ہوش میں آ"
سردار کاکڑ کی ہنسی اچانک رک گئی اور اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے قاعمران کو گھورا اور وہ درشت لہجے میں بولا ’’ کیا کہا ہوش میں آؤ۔"
"سردار کاکڑ سونا جلدی سے تھیلے میں بھرو اور یہاں سے نکل چلو۔ ہم یہاں زیاده دیر نہیں ٹھہریں گے۔" کامران نے اس کے لہجے کی درشتی کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا۔
”کیا یہ سارا سونا میرا نہیں؟‘‘ سردار کا کڑ نے ایک عجیب سوال کیا وہ واقعی بہک گیا تھا ۔
"سب تمہارا ہے ؟‘‘ کامران نے اسے اطمینان دلایا۔
"پھر جانے کی جلدی کیوں..؟ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں ایک تھیلا سونا لے جاؤں اور میرے جانے کے بعد بقیہ پر تم ہاتھ صاف کر جاؤ"
"سردار کاکڑ مجھے اس سونے سے کوئی غرض نہیں یہ سونا میں تمہیں دے چکا ہوں۔ اس پر میرا کوئی حق نہیں۔ اس کے علاوہ میں نے دلدل پار کرنے والا راز تمہیں بتا دیا ہے اور یہ راز میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں جانتا اور میں یہاں رہوں گا انہیں اپنے سفر پر نکل جاؤں گا۔ پھر تم پر ہے کہ جب چاہے یہاں سے سونا لے جاسکتے ہو اور فرض کرو کوئی غیر آدمی تہہ خانہ پار کر کے اندر آ بھی جائے گا تو وہ یہاں سے سونا نہیں لے جا سکے گا۔“
”میں کسی اور کی نہیں تمہاری بات کر رہا ہوں۔“ سردار کاکڑ کے لہجے میں بے یقینی تھی۔
"اب میں تمہیں کس طرح یقین دلاؤں کہ وعدہ خلافی اور دھوکا دہی میری سرشت میں نہیں تمہارے سامنے ہی یہاں سے خالی ہاتھ نکلوں گا پھر یہاں لوٹ کر آنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا“
”مجھے یقین نہیں آتا“
"پھر تم نے غلطی کی اپنے ساتھ چند آدمی لے آتے اور سارا سونا میرے سامنے ہی یہاں سے اٹھا کر لے جاتے...پھر کوئی جھگڑا ہی باقی نہ رہتا۔“
"میں اتنا بے وقوف نہیں کہ کسی اور کو اس راز میں شامل کر کے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماروں میں اکیلا ہی بہت ہوں یہ سارا سونا میرا ہے اور اسے اپنا ہی رکھنا چاہتا ہوں۔“
”پھر ایسا کرتے ہیں کہ ہم دونوں مل کر یہاں سے سونا کسی اور جگ منتقل کر دیتے ہیں........سارا سونا تمہارے قبضے میں آ جائے گا اور میں اپنا سفر اختیار کرنے کے لیے آزاد ہو جاؤں گا۔" قامران نے ایک اور تجویز پیش کی۔
"اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہم جہاں سونا منتقل کریں گے وہاں سے تم اس سونے کو لے اڑو گے...ظاہر ہے میں ہر وقت تو اس جگہ کا پہرہ نہیں دے سکوں گا۔ میرے لیے یہ جگه ہی سب سے محفوظ ہے۔ اب تمہیں اپنے بارے میں فیصلہ کرنا ہوگا۔“ سردار کاکڑ نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
"تم کیا چاہتے ہو؟"
"اس دنیا میں اس سونے کا راز صرف ایک آدمی کو معلوم ہے۔“ سردار کاکڑ نے خباثت سے ہنستے ہوئے کہا۔
"یہ کیسے ممکن ہے؟" "تمہیں مرنا ہو گا،" سردار کاکڑ کی آنکھوں میں زہر بھرنے لگا تھا۔
”کیا کہا؟“ عمران حیرت زدہ رہ گیا۔
"ہاں۔۔۔ اب تم یہاں سے زندہ کر نہیں جاؤ گے"
یہ کہہ کر سردار کاکڑ نے کامران پر جست لگائی۔ کامران تیزی سے پیچھے ہٹا....وہ اس کی زد سے بچ گیا لیکن سردار کاکڑ نے اسے کمان سیدھی کرنے کی مہلت نہ دی۔
اب وہ ایک دوسرے سے دست و گریباں تھے۔ کامران کو سردار کاکڑ نے کیکڑے کی طرح اپنی گرفت میں لے لیا تھا۔ وہ باوجود کوشش کے خود کو چھڑوا نہیں پا رہا تھا۔
وہ سردار کاکڑ کی طاقت دیکھ کر حیران ہو رہا تھا۔ ایک پتلے سے سوکھے آدمی میں اتنی جان ہوگی کہ وہ اس کے مقابلے میں کم عمر اور صحت مند ہونے کے باوجود اس کی گرفت ڈھیلی نہ کر پائے گا۔
کامران نے ایک بار پھر خود کو چھڑانے کی کوشش کی جواباً سردار کاکڑ کی انگلیاں لکڑی کی میخوں کی طرح اس کے گوشت میں گھسنے لگیں۔
پھر اچانک سردار کاکڑ نے پلٹا کھایا اور اب اس کے فولادی ہاتھ کامران کی گردن کو اپنی گرفت میں لے چکے تھے۔
اور کامران بے بس تھا اس کی ساری زور آزمائی بے کار جا رہی تھی۔ وہ مہلت کے چند لمحے چاہتا تھا لیکن سردار کاکڑ اسے ایک لمحے کی بھی مہلت دینے کو تیار نہ تھا۔ اس کی گرفت قامران گردن پر سخت ہوتی جا رہی تھی۔
دباؤ کی وجہ سے کامران کا چہرہ سرخ ہوا جا رہا تھا۔ گردن میں شد ید تکلیف تھی۔رنگوں میں خون جمنے لگا تھا۔ آنکھوں کے آگے تارے ناچ رہے تھے۔ سردار کا کڑ کا خبیث چہرہ اس کے سامنے تھا۔ اس کے چہرے پر شیطانی مسکراهٹ رقصاں تھی۔
"نوجوان۔۔۔۔! تم نے مجھے اتنے بڑے خزانے سے نوازا اس کے لیے میں تمہارا ممنون ہوں لیکن مجھے افسوس ہے کہ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑ سکتا لہذا مرنے کے لئے تیار ہو جاؤ اور۔۔۔"
ابھی سردار کاکڑ کی بات پوری نہ ہوئی تھی کہ کامران کے ذہن میں ایک خیال آیا اور اس نے اس خیال کو ایک لمحہ ضائع کیے بنا عملی جامہ پہنادیا۔
تب سردار کاکڑ کی بات پوری نہ ہو سکی اس کے پیٹ پر کامران کی بھر پور لات پڑی اور جسم کے نازک حصے پر اس شدید ضرب کو وہ برداشت نہ کر سکا۔ کامران کی گردن فورا ہی آزاد ہوئی۔ کامران نے ان لمحات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بندر کی طرح چھلانگیں لگائیں اور ایک بت کے اوپر چڑھ گیا ۔
بت کے بازو پر بیٹھ کر اس نے اپنی کمان سیدھی کی۔ اتنی دیر میں سردار کاکڑ خود پر قابو پا چکا تھا اور وہ بڑی تیزی سے بت پر چڑھ رہا تھا۔ اتنی تیزی سے کامران کو کمان پر تیر چڑھانا بھی دوبھر ہو گیا۔ کامران نے بغیر نشانہ لیے محض اندازے سے تیر چھوڑا کہ نشانہ لینے کا وقت نہ تھا۔ اندازه غلط ثابت ہوا۔ تیرنشانے پر نہ لگا وہ سردار کاکڑ کے بازو کو چھیلتا ہوا ضرور گزر گیا۔ سردار کاکڑ نے اپنے زخمی بازو کی بالکل پروا نہ کرتے ہوئے کامران کی ٹانگ پکڑ لی اور ایک زور دار جھٹکا دیا۔ قامران اس بت کے بازو پر بے سہارا بیٹھا تھا اس غیر متوقع حملے کی تاب نہ لا سکا۔
پھر وہ دونوں ایک دوسرے پر لڑھکتے ہوئے سونے کے ڈھیر پر آگرے۔ اس سے پہلے کہ قامران خود کو سنبھالتا، کھڑا ہو کر سردار کا کڑ پر حملہ آور ہوتا کہ سردار کاکڑ نے برق رفتاری کا مظاہرہ کیا۔ سونے کے ڈھیر پر گرتے ہی فوراً سنبھل کھڑا ہوا اور جست لگا کر کامران کے اوپر۔ اسی اثنا میں کامران ترکش سے ایک تیر نکال چکا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ تیر اس کے سینے میں اتار دے لیکن سردار کاکڑ نے تیروالا ہاتھ اپنی گرفت میں لے لیا تھا اور اب وہ دونوں زور آزمائی میں معروف تھے۔
کامران کی کوشش تھی کہ وہ تیر کسی طرح اس کے دل کے نزدیک پہنچ جائے جبکہ سردار کاکڑ اس تیر کا رخ کامران کے سینے کی طرف کر دینا چاہتا تھا لیکن دونوں میں سے کوئی بھی اپنی کوشش میں کامیاب نہ ہوسکا۔
تب اچانک سردار کاکڑ نے جانے کیا داؤ استعمال کیا کہ کامران اوپر اٹھتا چلا گیا اور تیر اس کی گرفت سے نکل گیا۔
اس سے پہلے کہ کامران کچھ سوچتا کہ اس پر کیا گزرنے والی ہے سردار کاکڑ نے اسے دونوں ہاتھوں پر اٹھا لیا۔ بھاگ کر وہ چبوترے کے کنارے پر پہنچا اور اس نے پوری قوت سے قامران کو دلدل میں پھینک دیا۔ کامران دلدل پر چاروں شانے چت گرا اور آہستہ آہستہ اندر دبنے لگا۔
سردار کاکڑ کے ہزیانی قہقہے اس کی سماعت سے ٹکرا رہے تھے اور وہ جانتا تھا کہ اس دلدل سے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں۔ اب تو اسے موت سے ہم آغوش ہونا پڑے گا۔
اس سے پہلے کہ قامران دلدل میں غرق ہوتا چاندکا مدد کو آ پہنچی۔ اب وہ دلدل میں دھنسنے کے بجائے آہستہ آہستہ اوپر اٹھتا جا رہا تھا۔ اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ کسی تختے پر لیٹا ہو۔
اوپر اٹھتے اٹھتے وہ اتنا بلند ہو گیا کہ دیوقامت بت بھی چھوٹے دکھائی دینے لگے۔ فضا میں معلق لیٹے لیٹے اس نے نیچے نگاہ کی۔ سردار کاکڑ کی ہذیانی ہنسی اب ختم ہوچکی تھی۔ وہ بڑے غور سے اس جگہ کو دیلھ رہا تھا جہاں اس نے کامران کو پھینکا تھا۔ وہاں اب کچھ نہ تھا۔ دلدل کی سطح اب ہموار ہو چکی تھی
"کیا اسے میں نہیں دکھائی دے رہا؟‘‘ کامران نے چاندکا سے سوال کیا۔
"نہیں یہ سمجھ رہا کہ تم دلدل میں دفن ہو چکے۔‘‘ جواب آیا۔
"کیا............میں زندہ ہوں؟“ تامران نے ایک اور سوال کیا۔
"میرے ہوتے ہوئے تمہیں کون مار سکتا ہے؟‘‘ چاند کا کی آواز میں بڑا فخر اور بڑی اپنائیت تھی
"میرے مرنے میں کیا کسر رہی تھی....تم چند لمحے اورنہ آتی تو میں تو دلدل میں دفن ہو چکا تھا۔" کامران کے لہجے میں شکایت تھی۔
"قامران...یہ تو دلدل ہے تم اگر پاتال میں بھی ہوتے تو تمہیں وہاں سے نکال لاتی۔ تم میری صدیوں کی تلاش ہو قامران یہ کیوں بھول جاتے ہو۔“
"اچھا اب میں فضا میں کب تک معلق رہوں گا؟" قامران نے سردار کاکڑ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جو بڑے اطمینان سے تھیلے میں سونا بھر رہا تھا۔
"کیا تمہیں اس کیڑے کے سامنے اتار دوں؟" چاندکا نے پوچھا۔
"نہیں، فی الحال تو میری تیرکمان ذرا مجھے اٹھا دو"
"سردار کاکڑ کو مارو گے۔۔۔؟"
"ظاہر ہے۔ اس بدبخت کو میں کسی قیمت پر زندہ نہیں چھوڑوں گا"
"ارے کیوں....خواہ گلمخواہ اپنے ہاتھ خون سے رنگتے ہو ذرا تماشا دیکھو۔
"چلو ٹھیک ہے تماشا دکھاؤ پر مجھے تو نیچے اتار دو۔“
”لو“ چاندکا کی آواز آئی اور ساتھ ہی کامران دھیرے دھیرے نیچے جانے لگا۔
جب وہ چبوترے کے نزدیک پینچ گیا تو اس نے اوپر سے چھلانگ لگادی۔ وہ دھڑام سے چبوترے کے فرش پر گرا۔ اس نے فورا سردار کاکڑ کی طرف مڑ کر دیکھا۔ وہ اسی طرح محو تھا اور پورے اطمینان سے تھیلے میں سونا ڈالے جا رہا تھا۔
تب قامران بڑے آرام سے چلتا ہوا اس کی طرف بڑھا اور اس کے قریب پہنچ کر آہستہ سے سردار کاکڑ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ سردار کاکڑ تو بری طرح چونک اٹھا۔ اس نے چاروں طرف دیکھتے ہوئے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا مگر وہاں کوئی چیز ہوتی تو زمین پر گرتی۔ پھر اپنے دل کا وہم سمجھ کر دوبارہ سونا بھرنے میں مصروف ہوگیا۔ کامران بالکل اس کے سر پر کھڑا تھا اور اسے دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔ یہ تجر قامران کے لیے بڑا مزے دار تھا۔
پھر اس نے سردار کاکڑ کا کان بڑے زور سے مروڑا اور دور جا کر کھڑا ہوگیا۔ سردار پریشان ہو کر ایک دم کھڑا ہوگیا۔ اس نے چاروں طرف گھوم کر دیکھا ۔ ایک ہاتھ سے وہ راہ اپنا انه سہلا رہا تھا ۔ اس مرتبہ بھی اسے نظر نہ آیا۔ پھر وہ چبوترے کی اس سمت بڑھا جہاں سے اس نے کامران کو دلدل میں پھینکا تھا۔ دلدل اپنی جگہ ہموار تھی۔ اس دلدل سے کامران کے نکل جانے کا امکان نہ تھا۔
سردار کاکڑ نے ایک مرتبہ پھر اسکا کان سہلایا اور اس خیال کو زہن سے جھٹکنے کی کوشش کرنے لگا کہ کسی نے اس کا کان مروڑا تھا۔
چند لمحوں بعد وہ پھر سونے کے ڈھیر پر آ بیٹھا اور بھرے ہوئے تھیلے کو اور بھرنے لگا۔
جب تھیلا ٹھسا ٹھس بھر گیا اور اس میں مزید سونا ڈالنے کی گنجائش نہ رہی تو وہ مجبورا اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے تھیلے کو ایک مرتبہ اٹھا کر وزن کا اندازہ کیا۔ ضرورت سے زیادہ سونا تھیلے میں بھر جانے کی وجہ سے تھیلا بے حد وزنی ہو گیا تھا لیکن اس نے وزن کی پروا نہ کی اور اپنی تمام طاقت جمع کر کے آخر تھیلا کمر پر لاد ہی لیا۔ پھر وہ سونے کے بوجھ تلے دبا دھیرے دھیرے قدم بڑھاتا سیڑھیوں کی طرف بڑھا۔
کامران نے سوچا کہ اس کے ساتھ کوئی شرارت کرے لیکن چاندکا نے اسے روک لیا اور دھیرے سے بولی۔ "اس کے ساتھ شرارت تو ہوچکی اب مزید کسی شرارت کی ضرورت نہیں۔“
سردار کاکڑ به مشکل سیڑھیوں سے اترا۔ پھر اس نے اپنا ایک پاؤں دلدل میں ڈال کر اس کے نیچے چھپی بالشت بھر چوڑی دیوار تلاش کی۔ اس تلاش میں کئی بار اس کا توازن بگڑا۔ آخر اس نے دیوار تلاش کر ہی لی۔
پھر وہ پوری احتیاط سے دیوار پر چلنے لگا۔ سردار کاکڑ نے اپنی کمر پر ناقابل برداشت بوجھ لاد رکھا تھا۔
اتنے وزن کو لے کر چلنا ہی آسان نہ تھا کہ ایسے پرخطر راستے سے گزرنا۔ سونے کی چمک نے اسے اندھا کر دیا تھا۔ دولت کی ہوس نے اس کی عقل سلب کر لی تھی۔ وہ دو چار قدم چل کر ہی ایسا لڑکھڑایا کہ پھر اس دیوار پر اس کے پاؤں جم نہ سکے۔ گرتے گرتے بھی اسی نے تھیلے کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ پکڑنے کی کوشش نے اسے مزید لڑکھڑا دیا اور جس سونے کو اس نے زندگی سمجھا تھا وہ اس کے لیے بھاری موت بن گیا۔ سردار کاکڑ غڑاپ سے دلدل میں گرا اور ایک لمحے میں دلیل کے اندر دھنس گیا۔
کامران نے دلدل کی سطح ہموار ہوتے دیکھ کر ایک گہری سانس لی۔
"اس سونے کو دنیا کا کوئی آدی یہاں سے نہیں لے جاسکتا" چاندکا اس کے پیچھے کھڑی کہہ رہی تھی۔
"کیوں؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"یہ کسی کی تحویل میں ہے۔" چاندکا نے بتایا۔
”کس کی“ یہ میں نہیں بتا سکتی۔ چاندکا نے نرمی سے مسکراتے ہوئے کہا۔
پھر کامران نے مزید سوال کرنا مناسب نہ سمجھا۔
چند لمحوں بعد چاندکا کا دایاں ہاتھ فضا میں بلند ہوا اور اس نے بلند آواز میں حکم دیا "تم جہاں تھے وہیں چلے جاؤ۔"
اس حکم کے نشر ہوتے ہی سونے کے پانچوں ڈھیروں میں حرکت ہوئی اور سونے کی ڈلیاں بتوں کے اندر جانے لگیں۔
"وہ دیکھو" اچانک چاندکا نے ایک طرف اشارہ کیا۔ کامران نے اس طرف دیکھا تو دلدل سے اس تھیلے کو ابھرتا پایا۔ پھر وہ تھیلا دلدل سے نکل کر فضا میں بلند ہوا درمیان والے بت کے قدموں میں گرا اور اس سے سونا یوں نکلا جیسے کسی نے خود پکڑ کر الٹ دیا ہو...سونا زمین پر گرنے کے بجائے سیدھا بت کے پیٹ میں چلا گیا جبکہ تھیلا زمین پر پڑا رہا
چند لمحوں بعد پانچوں بت اپنی اصل حالت میں آگئے۔ تب قامران نے زمین پر بکھرے اپنے تیروں کو سمیٹا۔ پھر کمان اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی اور چاند کا کی طرف بڑھتے ہوئے بولا
"اب کیا حکم ہے؟"
"قامران کیا تمہیں کبھی سفید محل بھی یاد آتا ہے؟"
"ہاں آتا ہے۔ میں اسے کیسے بھول سکتا ہوں.... اسراروں کا جہاں، جہاں میں نے تمہیں پایا۔ سفید محل تو میری زندگی کا اہم حصہ ہے لیکن تم نے کیوں پوچھا۔“
"ویسے ہی۔" چاندکا کے ہونٹوں پر دلفریب مسکراہٹ تھی۔
"جانتے ہو اس وقت تم سفیدمحل سے کتنی دور ہو...؟"
"نہیں"
"اگر تم سالوں اور وہ بھی مسلسل اپنی گھوڑی پر سفر کرو تو وہاں پہنچو"
"اوہ میں سفر کرتا ہوا اتنی دور نکل آیا ہوں۔“ قامران نے حیرت زدہ انداز میں کہا۔
"آؤ....اب یہاں سے نکلیں" چاندکا سیڑھیوں کی طرف بڑھتی ہوئی بولی۔
کامران نے بلا پس و پیش اس کا ساتھ دیا وہ بھی سیڑھیوں کی طرف چلا۔ چاندکا سیڑھیاں اترتے اترتے فضا میں تحلیل ہوگئی۔ کامران نے گھبرا کر چاروں طرف اسے تلاش کیا تو وہ دلدل کے اس پار اسے کھڑی دکھائی دے گئی۔ وہ دور کھڑی اسے اپنے پاس بلا رہی تھی۔ کامران نے جلدی سے دلدل میں چھپا راستہ تلاش کیا اور بڑے محتاط انداز میں چلتا ہوا آگے بڑھا۔ جب اس نے کنارے پر قدم رکھا تو اپنے پیچھے ایک زور دار گڑگڑاہٹ کی آواز سنی۔ اس نے پلٹ کر دیکھا ایک حیران کن مینظر اس کے سامنے تھا۔ وہ چبوترہ جس پر وہ پانچوں بت ایستادہ تھے دھیرے دھیرے دلدل میں دھنستا جا رہا تھا
کامران نے چاندکا کی طرف دیکھا اور اس سے بولا ”یہ کیا ہو رہا ہے؟"
"کچھ نہیں جس کی چیز تھی اس کو لوٹائی جا رہی ہے۔" چاندکا نے بڑی سنجیدگی سے کہا
"تمہاری باتیں میری سمجھ میں نہیں آتیں۔"
"تمہیں ضرورت بھی کیا ہے خواہ مخواہ اپنا دماغ الجھانے کی۔ یہ کائنات کے راز ہیں میں انہیں چھپانے پر مجبور ہوں آؤ آگے بڑھیں۔" چاندکا مسکراتی ہوئی آگے جانے لگی۔
کامران کے چلتے چلتے وہ پانچوں بت گردن تک دلدل میں دھنس چکے تھے۔ جب وہ تہہ خانے کے دروازے پر پہنچا اور اس نے پیچھے نگاہ کی تو دلدل کے سوا کچھ نہ دکھائی دیا۔ کامران تیزی سے چاندکا کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتا تہہ خانے سے باہر آ گیا۔
سامنے سردار کا کڑ کا گھوڑا اور اس کی ابلا کھڑی تھی۔ کامران نے ابلا کے نزدیک پہنچ کر اس کی پیٹھ تھتھپائی سردارکا کڑ کے گھوڑے کے منہ سے لگام نکال کر اسے آزاد کردیا۔ "جاؤ............بیٹا عیش کرو۔“
"اب کہاں جانا ہے؟‘‘ کامران نے چاندکا کی طرف رخ کیا۔
"کیوں کہیں جانا ضروری ہے کیا؟" چاندکا نے سوال کا جواب سوال سےدیا۔
"ہانلں کہیں نہ کہیں ضرور جانا چاہیے۔ اب تو سفر کی عادت ہوگئی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ رکاب سے پاؤں نہ ہٹیں میں آگے ہی آگے بڑھتا جاؤں۔ نئے نئے چہرے دیکھتے عجیب عجیب نت نئے تجربات کرتے سفر کسی قدر پرکشش ہوتا ہے تم کیا جانو؟‘‘ کامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
"اچھا۔" چاندکا نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں حیرت سے پھاڑیں اور پھر ایک پتھر پر بیٹھتی ہل ہوئی بولی "تمہیں بھوک نہیں لگتی"
" لگ ہو رہی ہے۔" کامران نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
"پھر کچھ کھا لو"
"کیا کھاؤں پتھر؟‘‘ کامران نے ایک پتھر پر براجمان ہوتے ہوئے پوچھا۔
"ارے...! پتھر کھائیں تمہارے دشمن چاندکا نے اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کرتے ہوئے کہا "کھانا آئے‘‘ اس حکم کے نشر ہوتے ہي قامران کے سامنے ایک بڑا سا تھال حاضر ہو گیا جس میں کھانے کو بہت کچھ تھا
"کھاؤ" چاندکا نے تھال کی طرف اشارہ کیا۔
کامران کی بھوک اچانک شدت اختیار کر گئی۔
وہ تھال پر بڑی بے قراری سے ٹوٹ پڑا کھانا بے حد لذیذ تھا۔ اس نے خوب سیر ہو کر کھایا۔
کھانے کے بعد مسکرا کر بولا۔ "اب کوئی مشروب بھی ہو جائے۔"
"کیوں نہیں ایسا مشروب کہ تمہارے ہوش اڑا دے۔"
یہ کہہ کر چاند کا نے پھر اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا اور تحکمانہ انداز میں بولی۔ "ہوشربا مشروب" چند ساعتوں بعد کامران نے اپنے تھال میں مشروب سے بھرا پیالہ دیکھا۔ وہ اسے گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔ وہ واقعی ایک بے حد مزے دار اور خمار پیدا کرنے والا شربت تھا۔ کامران اسے پیتے پیتے اپنے ہوش گنوا بیٹھا۔ اس کا دماغ چکرانے لگا۔ وہ روئی کے گالوں میں خود کو دھنستا محسوس کر رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھائے جا رہا تھا۔ پھر اس کا سر جھکا اور پتھر پر لگ کر جانے وہ کب تک غفلت کی نیند سوتا رہا جب اس کا خمار اترا............. ! جب اس کی آنکھ کھلی تو وہاں کچھ نہ تھا
چاندکا کا دور دور تک پتہ نہ تھا۔۔۔پتھروں کی جگہ گھاس نے لے لی تھی۔اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی ابلا ںھی غائب تھی یہ کیا ہوا۔۔۔۔؟ چاندکا اسے نشہ آور مشروب پلا کر کہاں چھوڑ گئی۔۔۔۔؟ اب وہ کہاں جائے۔۔۔۔۔؟ کیا کرے۔۔۔۔؟ قامر ان سوچ میں پڑ گیا۔
قریب ہی کسی بستی کے آثار موجود تھے۔ کامران سائری دیوتا کا نام لے کر اٹھ بیٹھا۔ پھر کمان درست کی ترکش کو سنبھالا اور تیز قدموں سے بستی کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اس نے کسی کو سامنے سے آتے دیکھا۔ جوں جوں وہ قریب آتا جا رہا تھا قامران کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 16

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,