سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 16

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 16

آنے والے کے بدن پر ایک کپڑا نہ تھا اور وہ کوئی نوجوان لڑکی تھی۔ وہ بڑے اطمینان سے کامران کی طرف بڑھتی آرہی تھی۔ جب کامران نے اسے دیکھ لیا تو اس نے بھی کامران کو دیکھ لیا ہوگا لیکن وہ ایسے بلا جھجک بغیر شرمائے اس کی طرف بڑھی چلی آ رہی تھی۔ کامران اس بے لباس لڑکی کو دیکھ کر اندر ہی اندر سمٹا جا رہا تھا۔ اسے شرم آرہی تھی۔
یہ کیسی بستی ہے۔۔۔؟ وہ کہاں آ پہنچا۔۔۔۔؟ نوجوان لڑکی بے لباس کیوں ہے۔۔۔۔؟ اس کا دماغ چکرانےلگا۔ جب وہ لڑکی اس کے برابر سے گزرنے لگی، خاموشی سے، اس نے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں تو قامران بولے بنا نہ رہ سکا۔ وہ اس سے پوچھ بیٹھا۔ ”اے لڑکی...! تم ننگی کیوں ہو؟“
یہ بات سن کر لڑکی کا چہرہ سرخ ہوگیا شرم سے نہیں غصہ سے۔ وہ چلتے چلتے رک گئی اور غصے سے بولی "ننگے ہوگے تم"
پھر وہ تیزی سے مڑی اور تیز قدموں سے چلتی آگے بڑھ گئی۔
یہ جواب سن کر کامران سناٹے میں آ گیا۔ ایک لمحے کو اس نے خود کو برہنہ محسوس کیا لیکن ایسانہیں تھا اس کے جسم پر کپڑے موجود تھے۔ پھر وہ آگے بڑھا۔ ابھی وہ کچھ دور ہی چلا ہوگا کہ ایک اور آفت اس پر نازل ہوتی دکھائی دی۔ یہ کوئی نوجوان لڑکا تھا۔ وہ بھی بے لباس تھا اور پورے اطمینان سے آگے بڑھتا آرہا تھا۔ جب وہ لڑکا اس کے نزدیک آگیا تو کامران نے اسے روک لیا اور اس سے پوچھا "دوست تم ننگے کیوں ہو؟“
”میں کیوں ہوتا ننگا، ننگے ہوگے تم..." اس نے بھی غصے سے کہا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا
کامران بھی انگشت بدنداں رہ گیا۔
مارے گئے۔۔۔۔؟ وہ حیران و پریشان آگے بڑھا۔ کچھ دور چلنے کے بعد اسے ایک ادھیڑ عمر آدمی اپنی طرف آتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے ساتھ چھوٹا بچہ تھا جس نے اس کی انگلی پکڑ رکھی تھی اور وہ دونوں بھی فطری لباس میں تھے اور بڑے اطمینان سے ہنستے کھیلتے آگے بڑھے چلے آرہے تھے۔ جب وہ ادھیڑ عمر آدی بغیر اس سے مخاطب ہوئے اس کے برابر سے گزرنے لگا جیسے اس نے کامران کو دیکھا نہ ہو تو پھر کامران سے رہا نه گیا اس نے پیچھے سے آواز دی۔ ” ذرا سنو"
وہ آدمی چلتے چلتے رک گیا اور سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا۔
"کیا تم یہ بتانا پسند کرو گے کہ تم ننگے کیوں ہو؟‘‘ کامران نے جھجکتے ہوئے سوال کیا۔
”یہ کیا بکواس ہے کون ہے ننگا۔۔۔؟ ننگے ہو گے تم؟"
وہ بھی غصے میں آ گیا اور قدم بڑھا کر آگے بڑھ گیا۔
کامران اس ادھیڑ عمر آدمی اور بچے کو بڑی دیر تک حیرت سے دیکھتا رہا۔ کبھی اپنے اوپر نظر ڈالتا کبھی انہیں جاتے ہوئے دیکھتا۔ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ یہ لوگ خود کو ننگا کہلوانے سے کیوں کترارہے ہیں۔
"ہاں بھئی۔۔۔! ننگے ہو گے تم"
تب اچانک قامران کو چاندکا کی آواز سنائی دی ساتھ ہی کنوارے بدن کی خوشبو کا جھونکا آیا
چاندکا یہ سب کیا ہے اور یہ لوگ ننگے کیوں گھوم رہے ہیں؟" کامران نے ہلبڑی بے تابی سے سوال کیا۔
"کامران....! جس بستی میں جھوٹ، سچ کہلاۓ، بے ایمانی، ایمان بن جائے، بے حجابی، حجاب بن جائے۔ اس بستی کے لوگ خود ننگے ہو کر اگر تمہیں ننگا کہہ رہے ہیں تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے... وہ ٹھیک کہتے ہیں... ان کی بے لباسی اب ان کے لیے بے لباسی نہیں رہی۔۔۔پردہ بن گئی ہے۔کامران۔۔۔۔! یہ روئے زمین کی سب سے ترقی یافتہ بستی ہے جو خود کو دن رات مهذب کہتے نہیں تھکتے اس بستی کی دنیا اپنے محور پر الٹی گھوم رہی ہے۔ یہاں الٹا ہی چکر چلتا ہے۔ ایسا چکر کہ انسان چکرا کر رہ جائے۔ تم سامنے درختوں کے جھنڈ دیکھ رہے ہو۔۔۔؟"
”ہاں۔۔۔! دیکھ رہا ہوں۔‘‘ کامران نے سامنے درختوں پر نظر جماتے ہوئے کہا۔
”ان درختوں کے پیچھے یہ بستی موجود ہے تم اس بستی میں صرف اسی صورت میں داخل ہو سکتے ہو کہ خود کو لباس سے آزاد کرلو۔"
"میں اس کے لیے تیار نہیں میں غیر مہذب ہی اچھا ہوں۔“
"لیکن میں تمہیں اس بستی میں بھیجنا چاہتی ہوں۔"
"کیوں آخر؟"
"اس میں تمہاری اور میری بھلائی پوشیدہ ہے۔"
"وہ کیسے"
"بحث کیئے بنا اگر تم میری بات مان لو تو اچھا ہے۔" چاندکا نے سنجیدگی سے کہا۔
"چلو مان لیتا ہوں لیکن یہ بتاؤ تم مجھے اس بستی میں کسی خاص مقصد سے بھیجنا چاہتی ہو؟"
"ہاں........مقصد خاص ہے اور اہم بھی....اور تمہارے لیئے دلچسپ بھی۔“
"کیا آخر۔۔۔؟"
"ان بے لباسوں کی بستی میں اگر تم ایک آدمی کو بھی لباس پہنا دو تو دیوتا تم سے خوش ہونگے اور ہماری منزل آسان ہو جائے گی قریب آجائے گی۔" چاندکا نے اس مرتبہ اسے انوکھی آزمائش میں ڈال دیا۔
"تم نے مجھے عجیب مخمصے میں پھنسا دیا چاندکا...اس بستی کے کسی آدمی کو لباس پہنانے کے لیئے مجھے خود بے لباس ہونا پڑے گا کہ بستی میں داخلے کی یہی شرط ہے اور یہ شرط ماننے کے لیے میں کسی قیمت پر تیار نہیں۔“
"اس کی فکر مت کرو میں تمہیں اس بستی میں داخل کردوں گی اور تم بے لباس بھی نہیں ہوگے"
"زرا وضاحت کرو"
"میں تمہیں ابھی سرخ پتھر کی ایک گولی دیتی ہوں۔ اس گولی کو جیسے ہی تم اپنے بائیں کان میں ڈالو گے تو آدم زاد کی نظروں سے اوجھل ہو جاؤ گے۔ اس طرح تم آسانی سے ان بے لباسوں کی بستی میں گھوم پھر سکتے اٹھ بیٹھ سکتے۔ ان کے ساتھ ہی رہو گے اور انہیں کچھ نہ پتا چلے گا تم یہ گولی اپنے کان سے نکالو کے لوگوں پر ظاہر ہو جاؤ گے۔ اب تو تم جانے کے لیے تیار ہو؟" چاندکا نے اپنی لازوال مسکراہٹ بکھیرتے ہوۓ کہا۔
"ٹھیک ہے میں تیار ہوں........... لاؤ گولی“
تب چاندکا نے اپنا دایاں ہاتھ فضا میں بلند کیا اور تحکمانہ انداز میں بولی۔ "سرخ گولی۔"
چند ساعتوں بعد کامران کے سامنے ایک چھوٹی سی سرخ پتھر کی گولی رقص کرنے لگی۔ کامران نے اسے پکڑ لیا اور اپنے کان میں لگا کر دیکھا۔ وہ گولی بڑی آسانی سے اس کے کان میں آگئی۔ "اس گولی کو کان میں لگا کر میں تو ویسے کا ویسا ہی ہوں۔“ قامران نے چاندکا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ”کیا میں اب تمہیں نظر نہیں آرہا"
"مجھے تو نظر آرہے ہو میری بات اور ہے مجھ سے بھلا تم کہاں چھپ سکتے ہو؟ البته کسی آدم زاد کو نظر نہیں آسکتے......"
"اچھا ٹھیک ہے پھر میں اپنی مہم پر چلتا ہوں۔ میرے لیے دعا کرنا۔‘‘ کامران نے جاتے ہوۓ کہا۔
چاندکا کے فضا میں تحلیل ہونے کے بعد کامران دل تھام کر بے لباسوں کی بستی کی طرف آیا۔ درختوں کا جھنڈ پار کرتے ہی کامران کو ایک اونچی دیوار دکھائی دی۔ یہ دیوار پتھروں یا مٹی کی نہیں تھی اس دیوار کے آر پار دیکھا جاسکتا تھا۔ وہ شیشے کی دیوار تھی۔ اس دیوار کے پیچھے اسے بہت سی عورتیں اور بچے چلتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے۔ اس دیوار میں ایک جگہ بڑا سا دروازه دکھائی دے رہا تھا۔ کامران اس دروازے کے نزدیک آکر رک گیا اور دیوار پر ہاتھ رکھے اندر جھانکنے لگا ہے۔
ابھی وہ اندر کا حال اچھی طرح دیکھ نہ پایا تھا کہ دروازہ اچانک کھلا اور دس بارہ آدمی سرعت سے اندر سے نکلے اور اسے گھیرے میں لے لیا۔ کامران نے دیکھا ان بے لباسوں کے ہاتھوں میں ایک چھوٹا سا نالی دار ہتھیار تھا جسے انہوں نے اس کی طرف تانا ہوا تھا۔
پھر ان میں سے ایک نے بڑے تحکمانہ لہجے میں کہا۔ ”خبردار...! اگر ذرا بھی حرکت کی گولی مار دی جائے گی۔"
گولی کا ذکر سن کر قامران کو اچانک ہوش آ گیا۔ چاندکا کی دی ہوئی گولی اس کے ہاتھ میں تھی وہ اسے کان میں رکھنا بھول گیا تھا۔ کامران نے فوراً ہاتھ اٹھا کر بھول کا ازالہ کرنا چاہا۔ جیسے ہی کان میں گولی رکھنے کے لیے ہاتھ اوپر اٹھایا تو فوراً ہی نالی دار ہتھیار سے ایک شعلہ سا لپکا گولی نکلتی ہوئی اس کے پاؤں کے نزدیک ریت میں دھنس گئی۔
"اگر اب ہاتھ اوپر اٹھایا تو یہ گولی تمہارے دل میں اتار دی جائے گی........اپنے ہاتھ نیچے کرو اب ہاتھ پیچھے کر لو...ٹھیک ہے اب اپنا منہ بستی کی طرف کر لو۔“
کامران نے بڑی فرمانبرداری سے اپنا منہ دروازے کی طرف کر لیا۔
پھر ایک بے لباس آدمی اسکی طرف بڑھا۔ اس نے کامران سے ترکش اور کمان چھین لیے۔ کامران دونوں ہاتھوں کی مٹھیاں بند کیئے دم سادھے کھڑا رہا۔ ان لوگوں کی توجہ اس کے ہاتھوں کی طرف نہ گئی۔ تب کسی نے اسے پیچھے سے ھکا دیا اور بولا "آگے بڑھو"
قامران آگے بڑھا تو بند دروازه خود بخود کھل گیا۔ وہ اندر داخل ہوا اس کا خیال تها جیسے ہی اندر داخل ہوگا تو اسے دیکھ کر بستی کے لوگ اس کے گرد جمع ہو جائیں گے کہ اسی ننگی بستی میں یہ لباس والا جانور کہاں سے گھس آیا، لیکن ایسا نہ ہوا جو جس کام میں مصروف تھا مصروف رہا کامران پر کسی نے خاص توجہ نہ دی۔ بس ایک نظر اسے دیکھا اور سر جھکا کر اپنے کام میں مصروف ہو گئے کامران جوں جوں آگے بڑھتا رہا اس کی حیرت میں اضافہ ہوتا رہا۔
بستی میں اس نے جتنے مکان دیکھے سب شیشے کے تھے اور ان کے اندر بیٹھے ہوئے مکین باہر سے صاف نظر آتے تھے مکانوں میں اسے زیادہ تر عورتیں نظر آئیں اور وہ بھی کاموں میں مشغول مرد اکا دکا ہی مکانوں میں دکھائی دیئے۔
سورج ڈھل چکا تھا۔ شام گہری ہو رہی تھی اور وہ بے لباس آدمی قامران کو نالی دار ہتھیار کی زد میں لیے آگے بڑھے جارہے تھے۔ تب اچانک قامران کو ایک تیز سیٹی کی آواز سنائی دی۔ سیٹی کی آواز سنتے ہی بستی کے لوگ اپنا کام چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور گھروں سے عورتیں باہر آنے لگیں۔ ان لوگوں کے ہاتھ کھانے کا برتن تھا۔ وہ سارے کامران کے برابر سے تیز تیز گزرنے لگے۔ پہلے عورتیں گزری پھر مد گئے اس کے بعد بچے۔
یہ سارے مرد عورتیں اور بچے کہاں گئے کامران یہ نہ دیکھ سکا کیوں کہ مخالف سمت میں چلنے کا اشارہ کیا گیا۔ اندھیرا ہونے تک آخر وہ ایک بڑے مکان کے سامنے جا کر رکے۔
مکان کے اندر روشنی موجود تھی اور اس کی تمام دیواریں سفید کے بجائے سرخ تھیں۔ ان سرخ دیواروں کے پیچھے اسے موٹا سا آدمی بیٹھا دکھائی دے رہا تھا۔ کامران کو چند ساعتوں بعد اس موٹے آدمی کے سامنے پیش کیا گیا۔ وہ موٹا تازه آدمی جو ایک پتھر کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ کامران کو دیکھ کر آگ بگولا ہوگیا۔
پہلے اس نے زہریلی آنکھوں سے کامران کی طرف دیکھا اور پھر انتہائی نفرت سے بولا۔ "اس جنگلی لڑکے کو مہذب دنیا میں رہنے کا سلیقه سکھاؤ"
یہ سن کر دو آدمی آگے بڑھے۔ کامران ان کا ارادہ بھانپ کر پریشان ہو گیا اور ایک قدم پیچھے ہوتاہوا بولا "نہیں نہیں"
قامران جانتا تھا کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ لیکن وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کی مرضی سے بے لباس ہو جائے۔ وہ جنگلی بھلا تھا، غیر مہذب اچھا تھا۔ وہ مہذب دنیا کا کوئی سلیقہ نہیں سیکھنا چاہتا تھا۔ اس کی "نہیں نہیں" نے سب کو چونکا دیا۔
اس معصومانہ "نہیں، نہیں" پہ سب کھلکھلا کر ہنس پڑے کہ شرم کے معاملے میں وہ عورتوں سے دو ہاتھ آگے تھا۔ کامران کے لیئے یہ لمحے بڑے غنیمت تھے اس نے بڑی پھرتی سے وہ سرخ گولی اپنے کان میں رکھ لی۔ گولی کان میں رکھتے ہی وہ آدم زاد کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ اسے غائب ہوتے دیکھ کر ان کا قہقہہ ایک دم رک گیا۔ ان کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اور وہ پتھر کی کرسی پر بیٹھا موٹا آدمی پریشان ہو کر کھڑا ہوگیا۔
تب تامران کو اس گولی کے اثرات کا پتہ چلا۔ وہ بڑے مزے سے چلتا ہوا دروازے کی بڑھ رہا تھا جبکہ وہ سارے وہیں کھڑے آپس میں چہ میگوئیاں کر رہے تھے۔ اس کے غائب ہو جانے پر سب حیرت زدہ تھے۔ وہ انہیں حیران پریشان چھوڑ کر پورے اطمینان سے دروازے باہر نکلا اور ایک طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اس نے کچھ عورتوں اور بچوں کو کھانے کا برتن اٹھائے سامنے سے آتے ہوئے۔ کامران بھی اس سمت چل پڑا جدھر سے وہ عورتیں اور بچے اسے آتے ہوئے دکھائی دیے تھے۔
چلتے چلتے آخر وہ ایک بڑے میدان میں پہنچ گیا۔ اس میدان کے بالکل وسط میں ایک شیشے کا مکان تھا اور اس میں چاروں طرف بڑی بڑی کھڑکیاں تھیں۔ ان کھڑکیوں میں آدمی کھڑے تھے اور ان کھڑکیوں کے سامنے مرد عورتوں اور بچوں کی کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ایک آدمی ہلتا تو دوسرا آدمی خاموشی سے اپنا برتن کھڑکی پر رکھ دیتا اور کھڑا ہوا آدمی فوراً ہی اس میں کھانا ڈال دیتا اور وہ اپنا برتن اٹھا کر آگے بڑه جاتا۔ کھانے کی تقسیم کا یہ کام منظم انداز میں ہو رہا تھا۔ اتنا بڑا مجمع ہونے کے باوجود کوئی شوراور ہنگامہ نہ تھا۔ لوگ بڑے اطمینان سے قطار میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے حتی کہ بات چیت کی آواز بھی میدان میں سنائی دے رہی تھی۔ خاموش ہونٹ سلے لبوں پر مہر جیسے میدان میں کھانا پینے نہ آئے ہوں کسی کا کام کرنے آئے ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کھانے کی تقسیم اپنے انجام کو پہنچی۔ میدان عورتوں مردوں اور بچوں سے خالی ہوگیا۔
کامران پھر بستی کی طرف پلٹ پڑا۔ نالی دار ہتھیار والے پوری بستی میں کتوں طرح اس کی بو سونگھتے پھر رہے تھے۔ ہر طرف قامران کا چرچا تھا اس کا ذکر تھا۔ ان کی زندگی میں یہ پہلا واقعہ پیش آیا تھا کہ کوئی آدمی اس طرح آنکھوں آنکھوں میں غائب ہو گیا تھا۔ کامران کان میں گولی لگائے بڑے مزے سے لوگوں کی باتیں سنتا رہا تھا اسے اپنا ذکر سن کر بڑا لطف آرہا تھا۔ دو نوجوان حسین لڑکیوں کی زبانی اپنا ذکر سن کر......ان کے نزدیک کھڑا ہوگیا اور ان کی رازدارانہ گفتگو سننے لگا۔
"ایسا کیسے ہوسکتا ہے؟ ان لوگوں کو ضرور کوئی غلطی ہوئی ہے۔"
"کورا...کیا تو یہ کہنا چاہتی ہے کہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔" دوسری بولی۔
"ہاں نوکا.... میں یہی کہنا چاہتی ہوں۔" کورا نے پر یقین لہجے میں کہا۔
"لیکن میں نے خود اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اور وہ اب بھی میری آنکھوں میں بسا ہوا ہے ۔ وہ جانے کہاں سے آیا تھا۔ سجیلا نوجوان ایسا نوجوان ہماری بستی میں ایک نہیں...........کاش....! کوئی ہوتا" نوکا ٹھنڈی سانس لے کر بولی۔
"تو نے اگر اپنی آنکھ سے دیکھا تو میں یقین کیئے لیتی ہوں۔ اس کا وجود مان لیتی ہوں۔ لیکن وہ دیکھتے دیکھتے غائب کیسے ہوگیا۔ کیا وہ انسان نہ تھا کیا وہ کسی اور دنیا کی مخلوق تھا؟‘‘ کورا کی عقل واقعہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ تھی۔
"اس نے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔‘‘ نوکا نے انکشاف کیا۔
"کپڑے" کوریا نے انتہائی نفرت سے اپنی ناک سکوڑی " پھر تو وہ کوئی بوسیده انسان تھا انتہائی غیر مہذب" "مجھے تو وہ کوئی فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔" نوکا نے مسکراتے ہوئے کہا۔
"کیا تمہیں ایسی احمقانہ باتوں پر یقین ہے کیا تم نہیں جانتی کہ ہمارا صرف زمین سے ناتا ہے آسمان ہمارے لیے فریب نظر کے سوا کچھ نہیں“
"لیکن میری نظریں جانے کیوں بار بار آسمان کی طرف اٹھتی ہیں۔ مجھے وہاں کوئی او طاقت بیٹھی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ایسی قوت جو ہمیں ہماری اور بلاتی ہے۔‘‘ نوکا کالہجہ عجیب تھا۔
"شیشے کی بستی میں رہ کر انتہائی غیر مہذبانہ باتیں کرتی ہو انتہائی دقیانوسی خیالات رکھتی ہو اگر یہ بات مقدم بمن تک پہنچ گئی تو تمهارا انجام بہت برا ہوگا تم میری دوست ہو میں تمہیں زندہ دیکھنا چاہتی ہوں بہتر ہوگا کہ تم ان فرسودہ خیالات سے جلد از جلد چھٹکارا پالو۔“ یہ کہہ کر کورا تیزی سے ایک طرف چلی گئی۔
نوکا چند لمحے تو کورا کو جاتے دیکھتی رہی۔ پھر اس کے ہونٹوں پر آپ ھی آپ مسکراہٹ آگئی۔ وہ پر اعتماد انداز میں واپس مڑی اور دھیرے دھیرے آگے بڑھنے لگی۔ کامران فورا اس کے راستے سے ہٹ گیا۔ اس کے آگے جانے پر وہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔ تھوڑا سا آگے جا کر وہ ایک شیشے کے مکان میں داخل ہوئی۔ اس مکان میں دوسرے مکانوں کی طرح کوئی دروازہ نہ تھا۔ اندر جا کر اس نے کھانے کا برتن ایک طرف رکھا اور ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئی۔
کامران بھی اسی کے ساتھ اندر آ چکا تھا۔ اس نے کھانے کے برتن کو غور سے دیکھا۔ اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کس قسم کا کھانا تھا۔
پھر وہ جھکا اور اس کے کھانے کو سونگھ کر دیکھا۔ اس میں سے عجیب خوشبو آ رہی تھی۔ کچھ دیر آرام کرنے کے بعد وہ بے لباس لڑکی اٹھی اور برتن اٹھا کر بڑے آرام سے کھانا کھانا شروع ہو گئی۔ ابھی وہ کھانا کھا ہی رہی تھی کہ دو ہتھیار بند آدمی اندر داخل ہوئے۔
"کیا بات ہے بہادرو....!‘‘ نوکا نے لقمے منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
"تم نے اس غیر مہذب انسان کے بارے میں سن ليا؟‘‘ ایک ہتھیار بند بہادر نے کہا
"ہاں جسے تم نے پکڑا اور جو بڑی آسانی سے تمہارے ہاتھوں سے نکل گیا۔" نوکا نے ہنستے ہوئی رک رک کر کہا۔ "بهادرو....! یہ تو بتاؤ کیا وہ آ دمی ہی تھا۔"
"ہم کچھ نہیں کہہ سکتے. وہ کون تھا...؟ بہرحال ہم تمہیں یہ بتانے آئے ہیں کہ ذرا چوکنا رہنا اگر تمہیں وہ کہیں دکھائی دے جائے تو فورا سیٹی بجا دینا۔"
نوکا نے جواب میں کچھ نہ کہا۔ صرف اثبات میں گردن ہلائی اور پورے انہماک سے کھانے میں مصروف ہوگئی۔
تب وہ دونوں ہتھیار بند بہادر واپس چل دیئے۔ جاتے جاتے ایک بہادر دروازے پر پہنچ کر رکا اس نے مسکرا کر نوکا کی طرف دیکھا اور بڑے خبیث لہجے میں بولا "تم کب تک سن بلوغ کو پہنچ رہی ہو؟“
"کیوں بہادر....! تمہیں میری کیا فکر ہے۔ ویسے اپنی معلومات میں اضافے کے لیے سن لو مجھے موٹے پیٹ کے مرد بالکل پسند نہیں۔‘‘ نوکا نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔
"اچھا اچھا۔“ اس بہادر نے اپنے موٹے پیٹ پر ہاتھ پھیرا اور جھینپتا ہواچلا گیا۔
"کتے" نوکا نے انتہائی حقارت آمیز انداز میں کہا اور پھر چپڑ چپڑ نوالے چبانے لگی۔
کھانے سے فارغ ہو کر اس نے برتن صاف کیا پھر اسے اپنے ٹھکانے پر رکھ کر مکان سے باہر نکل گئی۔ کامران اس کے تعاقب میں چلا گیا۔ نوکا اپنے گھر سے نکل کر برابر والے دروازے میں ٹھہرگئی۔ کامران نے اس مکان میں بھی ایک لڑکی کو دیکھا۔ وہ لڑکی بھی ابھی کھانے سے فارغ ہوئی تھی نوکا کو اندر آتا دیکھ کر وہ مسکرائی پھر اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے اپنا برتن صاف کرنے لگی۔
کامران ٹہلتا ہوا آگے بڑھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھ رہا تھا اسے ہر مکان میں ایک ہی لڑکی دکھائی دے رہی تھی اور وہ بھی جوانی کی حدود میں قدم رکھتی ہوئی۔ کامران کی سمجھ میں یہ بات نہ آئی کہ ان مکانوں میں یہ لڑکیاں تنھا کیوں ہیں جبکہ شام کو اس نے ایسے مکان بھی دیکھے تھے جہاں لڑکیوں کے ساتھ بچے بھی موجود تھے اور ایک آدھ مکان میں مرد بھی دکھائی دیے تھے۔
قامران ابھی اس ترقی یافتہ بستی میں گھوم ہی رہا تھا کہ اسے ایک تیز سیٹی کی آواز سنائی دی جو بہت دور سے آرہی تھی اور یہ سیٹی شام والی سیٹی سے مشابہ تھی، جس کی آواز سن کر بستی کے لوگ برتنوں سمیت باہر نکل پڑے تھے۔ اس سیٹی کی آواز سنتے ہی تمام گھروں کی روشنیاں بجھنے لگی... دیکھتے ہی دیکھتے ہر سو اندھیرا پھیل گیا۔ کامران اندازے سے نوکا کے گھر کی طرف بڑھا۔ اندھیرا ہونے کے بعد سارے گھر یکساں نظر آرہے تھے اور ان میں سے نوکا کا گھر تلاش کر لینا آسان نہ تھا۔
اسے اتفاق کہیئے یا قامران کی قسمت کی خوبی کہ چلتے چلتے کامران کو ایک لمحے کے لیے روشنی دکھائی دی۔ اس روشنی میں نوکا کو پہچاننے میں ذرا بھی دقت نہ ہوئی۔ نوکا نے کسی ضرورت کے تحت ایک لمحے کو بتی جلائی تھی اور پھر فورا ہی بجھا دی تھی۔ کامران نوکا کا گھر پہچان کر پورے اطمینان سے اس کی طرف بڑھا اس نے دروازے پر ہی کوئی ہیولا سا دیکھا۔ نزدیک پہنچنے پر اس نے نوکا کو دروازے پر کھڑا پایا۔نوکا اس طرح دروازه روکے کھڑی تھی کہ وہ اندر داخل نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ دروازے کا سہارا لیے دور اندھیرے میں جانے کیا تک رہی تھی جبکہ آس پڑوس کی لڑکیاں سونے کی تیاریاں کر رہی تھیں۔
کامران کے ذہن میں اس بستی سے متعلق بے شمار سوالات چل رہے تھے۔ اس کا دل چاہا کہ وہ نوکا سے بات کرے اس سے پوچھے کہ وہ دروازے پر کھڑے ہو کر کس کا انتظار کر رہی ہے؟ اسے نیند کیوں نہیں آرہی ؟ لیکن قامران ایک دم اس سے بات کرتے ہوئے ہچکچا رہا تھا۔ کہیں اس سے بات کرتے ہی وہ ڈر نہ جائے۔
تب قامران نے سوچا کہ آہستہ آہستہ اسے اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہیے ۔ یہ سوچ کر کامران نے بہت دھیرے سے اس کا بازو چھوا۔ نوکا بری طرح چونک پڑی۔ اس نے جلدی جلدی کئی دفعہ اپنا بازو جھاڑا۔ اسے اپنے بازو پر کسی کیڑے کے رینگنے کا احساس ہوا تھا۔ پھر اس نے چاروں طرف دیکھا اور کچھ سوچ کر اندر آ گئی۔ راستہ ملتے ہی کامران بھی اسی کے ساتھ اندر چلا آیا۔
ابھی وہ لیٹی ہی تھی کہ اس نے اپنے بازو پر پھر کوئی چیز رینگتی محسوس کی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی۔ اس نے جلدی سے کمرے میں روشنی کی اور اپنا بازو دیکھنے لگی۔ بازو پر کچھ ہوتا تو دکھائی دیتا۔ تو اس نے فرش پر نگاہ کی۔ وہاں بھی اسے کچھ نظر نہ آیا۔ کامران دور کھڑا پریشان ہوتی نوکا کو بڑی دلچسپی سے دیکھ رہا تھا۔
نوکا کے مکان میں روشنی دیکھ کر گشت کرتے دو ہتھیار بند اس کے دروانے پر رک گئے اور وہیں سے چلا کر بولے۔ ”نوکا تمہارے مکان میں روشنی کیوں ہے؟"
"میں نے اپنے بازو پر کوئی چیز رینگتی ہوئی محسوس کی تھی۔ روشنی کر کے اس کو تلاش کر رہی تھی" نوکا نے زمین پر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا۔
"نوکا جب لڑکیاں جوان ہونے لگتی ہے تو اسے خواو مخواہ ہے کلی لگ جاتی ہے۔ بہتر ہوگا روشنی بجھا دو اور خاموشی سے سو جاؤ"
نوکا نے جواب دینے کے بجائے روشنی بجھا دی اور لیٹ کر پوری سنجیدگی سے سونے کی کوشش کرنے لگی۔ تب قامران اس کے نزدیک ہی بیٹھ گیا اور اپنا منہ اس کے کان کے پاس لے جا کر سرگوشی کے انداز میں بولا ۔ ”نوکا"
نوکا اپنا نام ایک اجنبی آواز میں سن کر ادھر ادھر آنکھیں پھاڑ کر دیکھنے لگی۔
اب اسے اپنے گھر میں کوئی گٹ بڑ دکھائی دینے لگی تھی۔ اسے کس نے پکارا تھا
تب اسے وہ خوبرو نوجوان یاد آیا جو بستی میں آنے کے بعد غائب ہو گیا تھا۔ کیا وہ نوجوان اس وقت اس کے مکان میں موجود ہے ؟ کیا یہ آواز اسکی ہے، نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ نوکا نے سوچا۔
"نوکا..........ڈرو مت......میں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔“ قامران نے ہمت بندھانے والے لہجے میں کہا۔
"تم کون ہو....؟ میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ہو.....؟" نوکا نے لرزتے ہوئے لہجے میں کہا۔
”میں جو کوئی بھی ہوں بہرحال تمہارا دوست ہوں اور تم سے صرف چند باتیں کرنا چاہتا ہوں"
"تم ہو کہاں....؟“ نوکا نے اپنے آس پاس ہاتھ لہراتے ہوئے کہا۔
”فی الحال تم میرا وجود محسوس کرسکتی ہو میری آواز سن سکتی ہو لاؤ اپنا ہاتھ آگے بڑھاؤ" قامران نے بڑے دوستانہ انداز میں کہا۔
پھر اس نے نوکا کا بڑھا ہوا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
"اوہ واقعی تم یہاں موجود ہو ٹھہر میں روشنی کرتی ہوں‘‘ نوکا کے لہجے میں جوش تھا۔ ڈر غائب ہو چکا تھا۔
"روشنی کرتی ہوں پھر سیٹی بجا کر ان کتوں کو بلاتی ہوں، یاد رکھنا اس ہستی کا ایک بھی مرد میرا بال بیکا نہیں کرسکتا....اس لیے آرام سے بیٹھو اور مجھ سے باتیں کرو‘‘ کامران نے تنبیہ لہجے میں کہا
"تم غلط سمجھے روشنی میں تمہیں دیکھنے کے لیے کرنا چاہتی تھی۔ اپنی خوشی پر نازاں ہونا چاہتی تھی یہ بات میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ جو شخص مقدم بمن کے سامنے غائب ہوگیا وہ ان نالی بردار بہادروں کی گرفت میں کس طرح آئے گا۔"
"اگر تم مجھے دیکھنے کی خواہش مند ہی ہو تو میں ظاہر ہو جاتا ہوں لیکن تم روشنی نہیں کرو گی۔ اس ملگجے اندھیرے پر اکتفا کرنا ہوگا۔"
”ٹھیک ہے میں روشنی نہ کرنے کا وعدہ کرتی ہوں۔"
پھر کامران نے اپنے کان سے سرخ گولی نکال لی۔ گولی نکالتے ہی اس کا وجود نوکا پر ظاہر ہو گیا۔ پھر نوکا نے جگہ جگہ سے اس کا جسم ٹٹول کر اپنی تسلی کی۔
"حیرت انگیز‘‘ نوکا استجاب آمیز انداز میں بولی۔ "نوجوان....! تم کون ہو....؟ کس دنیا سےہو..؟"
"میں تمہاری ہی دنیا کا آدمی ہوں...نام میرا کامران ہے اور شیشے کی اس بستی میں آیا نہیں بھیجا گیا ہوں۔"
"تمہیں یہاں کسی نے بھیجا ہے؟"
"یہ میں نہیں بتا سکتا۔“
"یہاں کیوں آئے ہو یہ بتا سکتے ہو۔۔۔؟"
"فی الحال یہ بھی نہیں۔"
"تم غائب کس طرح ہو گئے تھے کیا یہ بتا سکتے ہو....؟“ بتا تو سکتا ہوں لیکن بتانا بے کار ہے۔ تم مادہ پرستوں کی سمجھ میں آسانی سے یہ با تیں کہاں آئیں گی بھلا۔“
"گویا تمہارا تعلق آسمان سے ہے...؟"
"نہیں میرا تعلق تو نہیں ہاں حاضر غائب والا معاملہ ضرور آسمانی ہے۔“
"اچھا یہ بتاؤ تم نے اتنی بڑی بستی چھوڑ کر میرے پاس ہی آنا کیوں پسند کیا؟"
"اگر ناگوار گزرا ہو تو واپس چلا جاؤں ۔“
"ناگواری کی بات نہیں میں اپنی خوش بختی کا پہلے ہی ذکر کر چکی ہوں....یه بات صرف اپنے دل کی تسلی کے لیے معلوم کرنا چاہتی تھی۔"
"اس پوی بستی میں مجھے تم سب سے اچھی لگیں۔"
"ایسی کیا خاص بات ہے مجھ میں جو یہاں کی دوسری لڑکیوں میں نہیں....؟"
"تم بہت پرکشش ہو۔“ قامران نے تیر چلایا۔
"نہیں یہ بات غلط ہے۔ میں بڑی حقیقت پسند واقع ہوئی ہوں۔"
"میں یہ بات اچھی طرح جانتی ہوں میں ہی کیا پوری بستی یہ بات اچھی طرح جانتی ہے کہ کورا جیسی خوبصورت لڑکی کوئی نہیں.......اور ہاں میں اس حقیقت سے بھی واقف ہوں کہ میرے جیسا جسم اس بستی میں دوسرا نہیں" نوکا نے حقیقت حال بیان کی۔
"کورا کون...؟ وہی کورا جو تن ڈھانکنے والوں کو انتہائی حقارت سے دیکھتی ہے۔ انہیں دقیانوسی بوسیدہ اور غیر مہذب انسان سمجھتی ہے............تم تم دونوں کے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہے؟" قامران نے کہا۔
"اس کا مطلب ہے کہ ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو کے دوران تم ہمارے آس پاس تھے....؟''
”ہاں میں نے تم دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کا لفظ لفظ سن لیا ہے۔" قامران نے ہنستے ہوئے کہا۔
"تم خاصے خطرناک آدمی معلوم ہوتے ہو.... اس طرح تو تم ہماری بستی کے سارے راز بڑی آسانی سے لے جاسکتے ہو۔“
"راز......." کامران نے حیرت سے کہا۔ "اس برہنی بستی میں کوئی چیز چپھی ہوئی بھی ہے"
"یه حقیقت پسندوں کی بستی ہے۔ یہاں کوئی چیز کسی سے چھپی ہوئی نہیں۔ میں تو ایسے ہی مذاق کر رہی تھی اور اس بستی میں وہی رہ سکتا ہے جو خود بھی حقیقت پسند ہو....میں تم سے پوچھ سکتی ہوں۔ کہ تم نے اپنا تن کیوں ڈھانکا ہوا ہے۔۔۔؟"
"میں یہ بات تم سے کیوں نہ پوچھوں کہ تم لوگ بے لباس کیوں رہتے ہو؟" قامران نے سوال کر دیا۔
"ہم لباس والوں کو بزدل سمجھتے ہیں۔ ایسے لوگ جو حقیقت سے منہ چھپاتے ہوں احساس کمتری میں مبتلا...لباس جسم کے بہت سے عیب چھپا لیتا ہے اور ہماری بستی میں کوئی چیز چھپانا جرم سمجھا ہے۔ ہم جیسے ہیں اچھے یا برے دوسروں کے سامنے اور دوسرے تمام اچھائی اور برائی کے ساتھ یہاں تک کہ بمن بھی ہماری طرح رہتا ہے جو اس بستی کا مقدم ہے۔“ نوکا نے سنجیدہ انداز میں کہا۔
"مقدم کیا؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"تم سربراہ کہہ لو۔ سردار جان لو" نوکا نے بتایا۔
"نوکا اگر کوئی تمہیں لباس پہننے کو کہے تو کیا تم مان لو گی۔۔۔؟"
"کی قیمت پر نہیں‘‘ نوکا نے دوٹوک جواب دیا۔
یہ جواب سن کر قامران کی امیدوں پر منوں اوس پڑ گئی۔ وہ نوکا کی طرف اس کی گفتگو سن کر آیا تھا۔ اس کی گفتگو سے اپنے معاشرے سے بیزاری جھلکتی تھی۔ وہ نوکا کو اصلاح طلب لڑکی سمجھتا تھا لباس کے بارے میں اس کی حتمی رائے جان کر اب کچھ کہنے کی گنجائش نہ رہی تھی۔
"کیا سوچنے لگے۔“ نوکا اس کے قریب ہوتے ہوئے بولی۔
"کچھ نہیں" کامران نے گہری سانس لے کر کہا۔
"کیا تم مجھے اپنی بستی کی تمام حقیقتوں سے آگاہ کرنا پسند کرو گی؟"
"بڑی خوشی سے۔ میں جو کچھ جانتی ہوں اس کا حرف بہ حرف تمہارے گوش گزار کر دوں گی۔ پوچھو کیا پوچھتے ہو؟“ نوکا نے کامران کا ہاتھ پکڑ لیا
"تمہارے آس پاس جتنے بھی مکان ہیں ان میں میں نے تنہا لڑکیوں کو دیکھا ہے تم بھی ان میں اکیلی ہو....اس کی وجہ؟"
"میرے آس پاس جتنے بھی مکان ہیں وہ سب کنواری لڑکیوں کے لیے مخصوی ہیں۔ ایسی لڑکیاں جو جلد ہی جوان ہونے والی ہوں۔ جب کوئی لڑکی سن بلوغ کو پہنچ جاتی ہے تو اسے یہاں سے اٹھا لیا جاتا ہے اور اسے اس کی پسند کے مرد کے حوالے کردیا جاتا ہے اور ان دونوں کو ایسے علاقے میں داخل کردیا جاتا ہے جہاں صرف جوڑے رہتے ہیں۔"
"گویا تمہاری بستی میں لڑکی کی پسند کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ اس کی شادی زبردستی کسی ناپسندیدہ مرد سے نہیں کی جاتی۔"
"ہاں اس بستی میں لڑکی کی پسند کا خاصا احترام کیا جاتا ہے لیکن ہمارے ہاں غیر مہذب دنیا یا شادی کا کوئی تصور موجود ہی نہیں...ہمارے ہاں انسانی جذبات کا بہت خیال کیا جاتا ہے"
"وہ کیسے"
"اس بستی میں زندگی بھر کے لیے لڑکی کو ایک مرد کے حوالے نہیں کیا جاتا‘‘
"یعنی؟" کامران کے پلے نوکا کی بات نہ پڑی۔
"اصل میں ہم لوگ مشترکہ نظام کے حامی ہیں۔ یہاں کوئی چیز کسی کی نہیں اور سب کی ہے۔ شراکت کا یہ اصول مرد اور عورت بھی لاگو ہے۔ یہاں ایک بار کسی لڑکی کو اس کی پسند کے حوالے کردیا جاتا ہے۔ اب یہ اس لڑکی کی مرضی ہے کہ وہ اس مرد کے ساتھ ایک دن رہے یا زندگی بھر رہے۔ ایک مرتبہ کسی مرد کے حوالے کیے جانے کے بعد وہ بستی کے کسی بھی مرد کا ہاتھ تھام سکتی ہے۔ ایسی آزادی یہاں مرد کو بھی حاصل ہے کہ وہ ایک مرتبہ کسی لڑکی کے ساتھ بندھ جانے کے بمبعد.۔۔۔بستی کی کسی بھی عورت کا ہاتھ پکڑ سکتا ہے لیکن یہ کام زبردستی نہیں ہوسکتا اس میں دونوں کی مرضی ہونا لازمی ہے۔ اس طرح اس بستی کی ہر عورت کسی بھی مرد کی بیوی بن سکتی ہے اور اس کے ساتھ جب تک چاہے رہ سکتی ہے۔"
"یہاں کوئی ایسی مثال بھی ہے کہ کسی لڑکی یا لڑکے نے ایک ہی مرد یا ایک ہی عورت ساتھ زندگی گزار دی ہو؟"
"انتہائی احمقانہ خیال ہے۔“ نوکا نے منہ بنا کر کہا۔
"اچھا یہ بتاؤ جب اس بستی میں ہر عورت ہر مرد کی بیوی بن سکتی ہے تو بچوں کی ماں کا کیا بنتا ہے۔ پیدا ہونے والا بچہ پھر کس کا کہلاتا ہے اور اسے کس کے حوالے کیا جاتا ہے۔۔۔؟"
"اس بستی میں ملکیت کا کوئی تصور نہیں جیسا کہ میں تمہیں بتا چکی ہوں کہ یہاں اشتراک کی بنیادوں پر کام ہوتا ہے۔ یہاں کوئی چیز کسی کی نہیں اور سب کی ہے۔ اس بستی میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ کسی کا نہیں ہوتا۔ اسے فورا بچہ گھر میں منتقل کر دیا جاتا ہے اور اس کی پرورش کی ذمےداری مقدم میمن کے سر ہوتی ہے اور مقدم یمن ہی تمام بچوں کا باپ کہلاتا ہے۔"
"یہاں کام کاج کا کیا طریقہ ہے؟"
"کام کاج کا طریقہ بھی مشترک ہے۔ اس بستی کا ہرفرد کام کرتا ہے۔ اس کی ذہنی صلاحیت کے مطابق اسے کام سونپ دیا جاتا ہے اور ان کا معاوضہ مقدم بمن کے نام منتقل ہو جاتا ہے۔ مقدم بمن ہماری ہر جائز ضروریات کا ذمے دار ہے۔ یہاں تک کہ کھانا بھی ہمیں اس کے توسط سے ملتا ہے۔
"ان افراد کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے جو کام کرنے کے قابل نہیں رہتے بوڑھے ہو جاتے ہیں۔" قامران نے پوچھا۔
"انہیں نیلی ٹکیا دے دی جاتی ہے۔" نوکا نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
"یہ کوئی طاقت کی دوا ہے؟ کیا نیلی ٹکیا کھا کر بوڑھے کام کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں؟" کامران نے وضاحت چاہی۔
"نیلی ٹکیا اصل میں زہریلی ہوتی ہے۔ اسے کھا کر آدمی ہر غم سے آزاد ہو جاتا ہے۔" نوکا نے بڑے سفاکانہ لہجے میں کہا۔
"اوہ" کامران نے تاسف سے آہ بھری اور پھر بولا۔ اپنے بزرگوں کے ساتھ ایسا سفاکانہ سلوک کر کے تم لوگوں کو دکھ نہیں ہوتا....تم کیسے ظالم لوگ ہو؟“
"ہمارا کوئی بزرگ نہیں اور نہ ہی یہاں کسی پر ظلم ہوتا ہے...اس بستی کا جب کوئی فرد کام کرنے کے قابل نہیں رہتا تو وہ خودبخود نیلی ٹکیا کھانے پہنچ جاتا ہے اور یوں باعزت زندگی گزار کر مر جاتا ہے"
"اگر کوئی بوڑها آدمی کام سے مفلوج ہونے کے باوجود نیلی ٹکیہ کھانے نہ پہنچے تو؟“ کامران نے سوال کیا۔
"ایسا کبھی ہوا نہیں اور اگر کوئی شخص کام کیئے بغیر کھانا چاہے تو اس نظام میں یہ ممکن نہیں....اس کا کھانا فورا بند ہو جاتا ہے۔ اس طرح وہ نیلی ٹکیہ کھائے بغیر بڑی تکلیف میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتا ہے‘‘
ابھی کامران کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ نوکا بھی چوکنی ہوگئی۔
کامران سانس روکے بھاری قدموں کی آواز سننے لگا۔ چند لمحوں بعد اس نے دو ہتھیار بند آدمیوں کو جو اس ہستی کے بہادر کہلاتے تھے گزرتے دیکھا۔
وہ دونوں اندھیرے مکانوں پر نظر ڈالتے زور زور سے بولتے ان کے مکان کے سامنے گزر گئے۔ ان کے جانے کے بعد نوکا نے سونے کی خواہش ظاہر کی۔۔
وہ بولی "رات خاصی ہوگئی ہے اب میں سونا چاہتی ہوں صبح ہی کام پر جانا ہے میں نہیں چاہتی کہ کام کے دوران اونگھتی رہوں۔“
کامران کی آنکھوں میں خور نیند بھرنے لگی تھی۔ اس لیے اس نے اس کی فرض شناسی کی پرواہ کرتے ہوئے فوری آرام کرنے کی حامی بھر لی۔ اس نے کہا۔ ”میں خود بھی سونا چاہتا ہوں۔“
پھر نوکا آرام سے لیٹ گئی۔
ابھی کامران سونے کے لیے کروٹیں ہی بدل رہا تھا کہ اس نے نوکا کے خراٹے سنے آہستہ آہستہ قامران بھی نیند کی آغوش میں چلا گیا اور وہ اتنی گہری نیند سویا کہ اسے آنے والے خطرناک وقت کا احساس ہی نہ ہو سکا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔ اس کے چاروں طرف ہتھیار بند آدمی کھڑے تھے۔ سب کے ہاتھ میں نالی دار ہتھیار تھا اور اس کا رخ کامران کی طرف تھا۔ صبح ہو چکی تھی۔ نوکا مکان میں موجود نہ تھی۔
ایک ہتھیار بند آدمی نے اسے خباثت سے دیکھتے ہوئے کہا۔ "ہلنا جلنا مت.....ورنہ گولی مار دوں گا۔“
معً قامران کو اپنی سرخ گولی کا خیال آیا ہ جسے وہ اپنے کان میں لگا کر سویا تھا لیکن اب وہ اس کے کان میں نہ تھی۔
اس کے کان سے گولی کس نے نکالی؟ کیا یہ نوکا کی سازش تھی؟ کامران نے سوچتے ہوئے بغیر ہلے جلے چاروں طرف نظر دوڑائی۔ تب اچانک اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمودار ہوگئی...پتھر کی گولی ایک ہتھیار بند بہادر کے قدموں کے درمیان پڑی تھی اور کامران کی دسترس سے دور تھی یہ وہاں کیسے پہنچی؟ وہ تو اسے کان میں لگا کر سویا تھا۔ کیا وہ سوتے میں اس کے کان سے نکل گئی۔۔۔؟ ایسا ہی ہوا ہوگا۔ اگر یہ لوکا کی سازش ہوتی تو یہ گولی یہاں نہ پڑی ہوئی بلکہ نوکا موجود ہوتی اور اسے فاتح مندانہ نظروں سے دیکھ رہی ہوتی۔ اب سربست مسئلہ یہ تھا کہ اس گولی کو بہادر کے قدموں سے کس طرح اٹھا یا جائے
بہادروں نے اسے چاروں طرف سے گھیرا ہوا تھا اور ان کے ہتھیاروں کا رخ اس کے سینے کی طرف تھا اس تنبیہہ کے ساتھ کہ ذرا بھی ہے جلے تو گولی مار دی جائے گی۔
"اس کی تلاشی لو“ ایک بہادر نے حکم دیا۔
حکم کی تکمیل کے لیے وہ بہادر بڑھا جس کے قدموں میں گولی پڑی تھی۔
وہ آگے بڑھا گولی کو ٹھوکر لگی اور گولی سیدھی کامران کے پاس آ پڑی کامران نے فورا ہی اس گولی کو اٹھانے کی کوشش کی۔ اس نے انہیں اہمیت ہی نہ دی۔ وہ جانتا تھا کہ اگر اس نے عجلت میں گولی اٹھائی تو وہ کان میں جانے سے پہلے ہی ان نام نہاد بہادروں کے ہاتھ میں چلی جائے گی۔
گولی کو لڑھکتے دیکھ کر وہ بہادر متوجہ ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ اس نے تلاشی لینے سے پہلے کامران کے نزدیک سے گولی کو اٹھایا اور اپنے انگوٹھے اور انگلی کے درمیان دبا کر اسے دیکھنے لگا۔ وہ ایک سرخ رنگ کے پتھر کی بھدی سی گولی تھی۔ اس گولی میں باریک باریک سے بے شمار سوراخ تھے۔ دیکھنے میں سوراخ ہی دکھائی دیتے تھے لیکن ایسا نہ تھا.....ان سوراخوں کے ذریعے دیوتا کی شبیہہ منقش کی گئی تھی۔
"کیا ہے؟" بہادروں کا سرغنہ آگے بڑھا۔
اس بہادر نے بغیر تبصرہ کیئے وہ گولی اس کی طرف بڑھا دی۔ بہادروں کے سرغنہ نے بھدے پتھر کے اس ٹکڑے پر سرسری سی نظر ڈالی اور لاپروائی سے اسے ایک کونے میں پھینکتا ہوا بولا "کچھ نہیں تم اپنا کام کرو۔“
کامران نے بڑی مایوسی سے اس گولی پر نظر ڈالی جو اس کے نزدیک آ کر پھر دور ہوگئی تھی پھر وہ بہادر اپنے سرغنہ کا حکم سن کر کامران کی طرف بڑھا اور اس کے جسم کا چپہ چپہ چھان مارا اسے کوئی قابل احتراض چیز دکھائی نہ دی۔
"صاف ہے" اس بہادر نے اٹھتے ہوئے رپورٹ پیش کی۔
کامران نے سائری دیوتا کا شکر ادا کیا کہ ان لوگوں نے اس کے کپڑے اتار کر اسے مہذب بنانےکی کوشش نہیں کی۔
"چلو اٹھو" سرغنہ نے ہتھیار سے اشارہ کیا۔
کامران دور پڑی گولی کو دیکھتا ہوا آہستہ آہستہ اٹھنے لگا۔ وہ گولی کو اپنی گرفت میں لینے کی ترکیب سوچ رہا تھا۔ جب قامران کھڑا ہو گیا تو سرغنہ نے پیچھے سے دھکا مار کر کہا۔ "آگے بڑهو"
بس یہی وقت کچھ کر گزرنے کا تھا۔ دھکا اگرچہ ایسا نہ تھا کہ وہ چاروں شانے چت زمین پر گرتا لیکن وہ جاگرا۔ فرش پر گرتے ہی اس نے تیزی سے ہاتھ آگے بڑھایا۔ اس سے پہلے کہ وہ بہادر سمجھتے کامران ایک مرتبہ پھر ان کی نظروں سے اوجھل ہوگیا۔ کامران نے گرتے ہی کونے میں پڑی گولی پر ہاتھ مارا تھا اور کھڑے ہوتے ہوئے اسے کان میں ٹھونس لیا تھا اور ان بہادروں کی گرفت سے آزاد اب بڑے مزے سے ایک کونے میں کھڑا تھا۔
وہ حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے اور اس جگہ کو ٹٹول رہے تھے جہاں کامران غائب ہوا تھا۔ پھر وہ غصے سے لال پیلے ہوتے نوکا کے مکان سے نکل گئے۔ ان کے جانے کے بعد کامران نے کان میں گھسی گولی کو مزید اندر کیا اور پورے اطمینان سے ٹہلتا ہوا نوکا کے مکان سے نکلا اور ایک طرف چل دیا۔
آگے تمام مکان خالی پڑے تھے۔ ان میں ایک بھی لڑکی موجود نہ تھی۔ شاید تمام لڑکیاں اپنے کام پر جا چکی تھیں۔ کامران کو اس وقت شدت سے بھوک محسوس ہو رہی تھی۔ اس نے رات کو بھی کچھ نہیں کھایا تھا۔ اس ننگے بھوکوں کی بستی میں اسے کھانے کو کیا مل سکتا تھا؟ قامران نے چاروں طرف دوڑاتے ہوئے سوچا۔
ایک خالی مکان میں گھس کر اس نے اچھی طرح تلاشی لی لیکن کھانے کی کوئی چیز دکھائی نہ دی اور یہ بات کامران کی توقع کے مطابق تھی۔ وہ جانتا تھا کہ جہاں صبح شام قطار لگوا کر کھا نا ملتا ہو وہاں گھروں میں کسی کھانے پینے کی چیز کا ہونا ایسے ہی ہے جیسے چیل کے گھونسلے میں ماس کا ملنا
وہ گھومتا گھامتا بستی کے دروازے پر پہنچا۔
اس نے سوچا کہ وہ باہر جا کر ہی کچھ پھل پھول کھا آئے لیکن بستی کا دروازہ بند تھا۔ اس نے ادھر ادھر ہاتھ پاؤں مار کر دروازے کو کھولنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ دروازے سے مایوس ہو کر وہ پھر بستی کی طرف پلٹا۔ گولی کان میں رکھنے کی وجہ سے وہ لوگوں کی نظروں سے اوجھل تو ہو گیا تھا لیکن اس کا وجود اپنی جگہ تھا۔ وہ شدت سے بھوک محسوس کر رہا تھا اور دروازہ بند ہونے کی وجہ سے وہ باہر نہیں جاسکتا تھا۔
کیا وہ کھانا نہ ملنے کی وجہ سے اس شیشے کی بستی میں دفن ہو کر رہ جائے گا۔ بظاہر آثار تو ایسے دکھائی دے رہے تھے پھر اس نے مقدم بمن کے گھر کا رخ کیا۔ اس کا خیال تھا کہ مقدس بمن بھی بستی کے دوسرے لوگوں کی طرح کام پر نہ گیا ہوگا۔ باہر سے نظر آنے والی پتھر کی کرسی خالی پڑی تھی جس شام وہ وہاں براجمان تھا۔ کامران کھلے دروازے سے بے دھڑک اندر داخل ہوگیا۔ سرخ دروازوں والے بڑے کمرے کو عبور کرکے اس نے اندرونی دروازے سے اندر جھانکا تو ایک لڑکی چھری سے کوئی پھل کاٹتی اس کی طرف آتی دکھائی دی۔ کامران فوراً دروازے سے ہٹ گیا وہ لڑکی ادھر آنے کے بجائے ایک اور دروازے میں داخل ہوگئی۔ وہ جس دروازے میں داخل ہوئی اس کی دیواریں بہت گہری تھیں۔ ان کے آر پار نہیں دیکھا جاسکتا تھا۔ کامران بھاگ کر اس کمرے میں داخل ہوگیا۔ یہ ایک چھوٹا سا چوکور کمرہ تھا۔ اس کمرے میں وافر مقدار میں کھانے پینے کا سامان موجود تھا۔
اس لڑکی نے پھل کا کاٹتے کاٹتے ادھر ادھر دیکھا اور ایک بڑا سا ٹکڑا اپنے منہ میں رکھا اور جلدی جلدی منہ چلانے گی۔ کامران اس کی اس حرکت پر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ جب وہ بڑا سا برتن پھلوں سے بھر گیا تو اس نے ایک ٹکڑا اور اٹھا کر اپنے منہ میں رکھا اور جلدی جلدی اسے پیٹ میں اتار کر اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
وہ پھلوں سے بھرا برتن اگرچہ اپنے ساتھ لے گئی تھی۔ اس کے باوجود کمرے میں کھانے پینے کا مال وافر مقدار میں موجود تھا۔ کامران رس بھرے میٹھے میٹھے پھلوں پر طوطے کی طرح ٹوٹ پڑا اور اپنے تیز دانتوں سے پھلوں کو کتر کتر کر کھانے لگا۔ گاہے گاہے وہ دروازے کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا، لیکن اس وقت تک جب تک قامران کھانے میں مصروف رہا کوئی اندر نہ آیا اور اگر اتفاق سے آبھی جاتا تو اس کا کچھ نہ بگاڑ سکتا تھا۔اس نے سیر ہو کر پھلوں سے شغل کیا۔ جب پیٹ میں گنجائش نہ رہی تو وہ اپنے ہاتھ اور منہ صاف کرتا اس چھوٹے سے چوکور کمرے سے باہر نکلا۔
مقدم یمن کا گھر بستی کے عام گھروں سے بہت بڑا تھا۔ کامران نے سوچا کیوں نہ دیکھ لیا جائے۔ اس گھر میں ادھر ادھر کمروں میں چند لڑکیاں تو نظر آئیں لیکن مقدم بمن کہیں نه دکھائی دیا۔ وہ مختلف دروازوں سے گزرتا اندر ہی اندر بڑھتا گیا یہاں تک کہ ایک دروازے سے اسے کچھ اور پھلوں سے لدے درخت نظر آنے لگے۔
یہ ایک بے حد خوبصورت باغ تھا۔ کامران سیڑھیاں اتر کر اس باغ میں داخل ہوگیا۔ تھوڑا سا آگے جانے کے بعد اسے ایک کونے میں مقدم بمن دکھائی دے گیا۔ مقدم بمن جو اس شیشے کی بستی کا سربراہ تھا وہ اس وقت جبکہ پوری قوم کام پر لگی ہوئی تھی، وہ گھاس پر اوندھے منہ لیٹا تھا۔ اس سامنے پھلوں کے ٹکڑوں سے بھرا برتن رکھا تھا۔ اور ایک لڑکی اسے اپنے ہاتھ سے پھل کھلا رہی تھی جبکہ دوسری لڑکی اس کے جسم کی مالش کرنے میں مصروف تھی۔
تب قامران کونوکا کے کہے الفاظ یاد آئے..........."ہمارا مقدم بمن بھی ہماری طرح رہتا ہے" کامران نے یہاں جو کچھ دیکھا تھا وہ اس کے برخلاف تھا.........ایک تو مقدم بمن کا گھر بے حد بڑا تھا۔ دوسرے اس گھر میں کھانے پینے کی اشیاء کی کوئی کمی نہ تھی جبکہ دوسرے لوگوں کو قطار میں کھانا ملتا تھا اور وہ بھی نپا تُلا۔ ایک عام آدمی بغیر کام کیئے کھانے کا مسحق نہ ٹھہرتا جبکہ مقدم بمن کے پاس کوئی کام نہ تھا اور کھانے کے عیش تھے۔
کامران نے سوچا کہ شاید ایک عام آدمی کو مقدم بمن کے بارے میں کوئی علم نہیں اور جاننے کا وقت ہی کہاں ملتا ہوگا۔ صبح ہوتے ہی کام کی دھن..........شام کو تھوڑا بہت گھر پر وقت گزار کر کھانا حاصل کیا۔ جلدی جلدی زہر مار کیا اور سونے کی سیٹی بج گئی۔ پوری بستی اس سیٹی کی آواز پر سو جاتی ہے۔ اٹھ کر پھر وہی کام۔ اس کام اور کھانے کے چکر سے یہاں کے لوگوں کو کہاں فرصت ملتی ہوگی کہ وہ اپنے سربراہ کے بارے میں کچھ سوچ سکیں۔
مقدم بمن نے بڑی چالاکی سے یہاں کے عوام کو اپنے دام میں پھنسایا ہوا ہے۔ خود عیش کرتا ہے اور عوام اپنا خون پسینہ بہا کر بھی ایک وقت کے کھانے کو ترستے ہیں۔ بوڑھے لوگوں کو یہاں کھانے میں زہر دے دیا جاتا ہے۔ مقدم بمن کو اس طرح آرام کرتے دیکھ کر کامران کا جی چاہا کہ ایک بڑے سے پتھر سے اس کا سر کچل دے لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر تھا۔ چاندکا نے اسے اس بستی میں کسی کا قتل کرنے نہیں لباس پہنانے کو بھیجا تھا۔ ہاں اگر وہ خود سے اس بستی میں داخل ہوا ہوتا تو کب کا یہ کام کر گزرا ہوتا۔ یہاں کے عوام مقدم بمن کے بھیانک قتل کی خبر سن لیتے۔
ابھی کامران غصے میں بھرا اپنا خون جلا ہی رہا تھا کہ اس نے ایک لڑکی کو چلتے بمن کی طرف آتے دیکھا۔ اس کی چال سے ہی اندازہ ہوتا تھا کہ وہ کوئی اہم خبر لے کر آئی ہے قامران اس کی بات سننے کے لیے مقدم بمن کے اور نزدیک ہوگیا۔
" مقدم " وہ لڑکی نزدیک آ کر بصد احترام مخاطب ہوئی۔
"کیا خبر ہے...؟“ بمن نے چپڑ چپڑ منہ چلاتے ہوئے کہا۔
"نوکا کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔" اس لڑکی نے اطلاع دی۔
گرفتاری کی خبر سن کر مقدم بمن اچھل کر کھڑا ہوگیا اور تیز تیز چلتا مکان کی طرف بڑھنے لگا قامران بھی اس کے ساتھ ساتھ چلا۔ مقدم بمن نے اس بڑے کمرے میں پہنچ کر دم لیا جس کی دیواریں سرخ تھیں اور جس کے اندر باہر سے بہ آسانی دیکھا جاسکتا تھا۔ نوکا کو چار ہتھیار بندوں نے نرغے میں لیا ہوا تھا۔ مقدم بمن کو اندر آتے دیکھ کر انہوں نے نوکا کو دھکا دے کر آگے بڑھایا۔ مقدم بمن پتھر کی کرسی پر آرام سے بیٹھ گیا اور نوکا کی طرف زہریلی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولا "نوکا"
نوکا نے اپنا جھکا ہوا سراٹھایا اور بمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔ "ہاں مقدم"
"ہم تمہیں نیلے مکان میں بند کرنے کا حکم دیتے ہیں تمہیں کوئی اعتراض؟"
"اعتراض کوئی نہیں میں صرف اپنا قصور جاننا چاہوں گی۔“ نوکا نے سنجیدگی سے کہا۔
"تم اب اس مہذب بستی میں رہنے کے قابل نہیں رہی ہو"
"کیا میں نے کام کرنے سے انکار کردیا ہے یا میں نے غیر مہذب دنیا کا کوئی وطیره اپنا ليا"
"تم نے ایک غیر مہذب دنیا سے آنے والے وحشی کو فرشتے سے مماثلت دی ہے۔ اس کی تعریف کی۔ پھر وہ وحشی اور جنگلی آدمی تمہارے مکان میں پایا گیا کیا تم اس سے انکار کرتی ہو"
”میں صبح جب کام پر جانے کے لیے نکلی ہوں تب تک میرے مکان میں کوئی نہ تھا۔ میرے جانے کے بعد اگر وہاں کوئی آ گیا ہو تو میں اس کی ذمے دار نہیں۔" توکا نے اپنی صفائی پیش نہیں کی
"تم غیر مہذب دنیا کی طرح دیوتاؤں پر یقین رکھتی ہو۔" ایک اور الزام۔
"میں نے کورا سے جو کچھ کہا وہ محض ایک مذاق تھا۔ اس نے یہ باتیں تم تک پہنچا دیں اس نے بہت برا کیا۔“
"اس نے اچھا کیا یا برا...یہ ہم بہتر جانتے ہیں.......اب تمہاری گلوخلاصی اسی صورت میں ہوسکتی ہے کہ اس جنگلی نوجوان کو ہمارے حوالے کر دو ورنہ سنہری رات کے جشن کے بعد تمہیں نیلی ٹکیہ دی جاۓ گی" نوکا نے جواب میں کچھ کہنا چاہا لیکن بمن نے کچھ سننے سے انکار کردیا اور مقدم بمن نے سرغنہ کو اسے نیلے مکان میں ڈال دینے کو کہا۔ مقدم بن کا حکم سن کر وہ اسے گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئے۔ کامران کا اب یہاں کھڑا ہونا بیکار تھا۔ وہ ان بہادروں کے پیچھے ہولیا۔
وہ نام نهاد بهادر نوکا کو بڑی بے دردی سے گھسیٹتے ہوئے لیے جا رہے تھے۔ کامران کا جی چاہا کہ ان میں سے کسی کا ہتھیار چھین کر ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کردے اور نوکا کو یہاں سے نکال لے جائے۔ لیکن ایسا ممکن نہ تھا بہادروں کی موت کے بعد نوکا مزید فتنوں میں گرفتار ہوسکتی تھی۔ کامران نے صبر کیا اور ان کے پیچھے چلتا رہا۔
چلتے چلتے وہ ایک چھوٹے سے میدان میں پہنچ گئے۔ اس میدان کے بیچ ایک چھوٹا سا گھر تھا جس کی دیواریں نیلی تھیں۔ ان بہادروں نےنوکا کو اس مکان میں دھکیل دیا اور خود مکان کے چاروں طرف پھیل گئے جبکہ ایک بہادر دروازے کے قریب کھڑا ہوگیا۔
نوکا دھکا کھا کر فرش پر اوندھے منہ گری چوٹ کی پروا نہ کرتے ہوئے وہ جلدی سے اٹھی اور مکان کے ایک کونے میں بڑے اطمینان سے جا بیٹھی۔
کامران دروازے سے گزر کر اندر پہنچا اور نوکا کے قریب ہی بیٹھ گیا۔ پھر اس نے نوکا کے بازو پر اپنی انگلی پھیری۔ نوکا پہلے تو سہم کر پیچھے ہٹی پھر اسے کامران کی موجودگی کا احساس ہوگیا۔ اس نے چاروں طرف دیکھ کر اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔
کامران نے اس کا ہاتھ تھام لیا اور اسے دباتے ہوئے دھیرے سے بولا۔ ” میری وجہ سے تمہیں مصیبت میں گرفتار ہونا پڑا۔ اس کے لیے میں شرمند ہوں۔"
"مجھے پہلے یہ بتاؤ کہ ان لوگوں نے تمہیں میرے مکان میں کیسے دیکھ لیا جبکہ میری موجودگی تک تم وہاں موجود نہ تھے۔“ نوکا نے اپنا سر جھکا کر گھٹنوں میں دے لیا تاکہ باہر موجود بہادر اسکے ہونٹ ہلتے نہ دیکھ سکیں اور اتنے آہستہ سے بولی کے پاس بیٹھا کامران تو سن لے لیکن اس کی آواز کمرے سے باہر نہ جا سکے۔
"بس یوں سمجھ لو کہ سوتے میں مجھ سے غلطی ہوگئی۔ بے دھیانی میں ان پر ظاہر ہوگیا لیکن اب تم بتاؤ کہ میں تمہارے لیے کیا کر سکتا ہوں۔" کامران نے پر خلوص لہجے میں کہا۔
"اب میری زندگی سنہری رات کے جشن تک ہے اور میں جانتی ہوں کہ مجھے موت کے چنگل سے اب کوئی نہیں چھڑا سکتا لیکن مرنے سے پہلے میری ایک خواہش ہے اگر وہ تم پوری کر دو تو............"
"خواہش بتاؤ..........میں اپنی زندگی داؤ پر لگا کر تمہاری خواہش پوری کر دوں گا... پولو"
"اپنے مرنے سے پہلے میں کورا کی موت کی خبر سننا چاہتی ہوں۔ اس نے دوست ہو کر مجھے دھوکہ دیا ہے۔ کیا تم اسے ٹھکانے لگا پاؤ گے؟“ نوکا نے بہت آہستہ مگر تیز لہجے میں پوچھا۔
"میرے لیے یہ کام بہت آسان ہے۔ آج ہی رات میں کورا کو موت سے ہمکنار کردوں اور بولو"
"بس اس کے علاوہ کچھ نہیں............ اس کی موت کی خبر میرے دل میں سکون پھیلا دے گی میں آرام سے مر سکوں گی۔"
"سنہری رات کا جشن کب ہے؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
"کل رات یہ جشن ہر ماہ چاند کی چودہ تاریخ کو منایا جاتا ہے. اس جشن میں کسی نئی بالغ لڑکی کو پسند کے مرد کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ بقیہ لوگ اپنی اپنی پسند سے مرد کا انتخاب کر لیتے ہیں...کل رات کورا اپنی پسند کے مرد کے حوالے کر دی جائے گی۔ میں چاہتی ہوں کہ وہ خوشی نہ دیکھ سکے۔“
"تم فکر مت کرو نوکا....کورا سنہری رات کا جشن تو دور کی بات ہے وہ کل صبح کا سورج بھی نہ دیکھ پاۓ گی۔" کامران نے بڑے یقین سے کہا۔
کچھ دیر ادھر ادھر کی باتوں کے بعد کامران نیلے مکان سے نکل آیا۔
چلتے چلتے اس نے ایک بہادر کے بازو پر زور سے چٹکی بھری۔ وہ بلبلا کر پیچھے پلٹا مگر وہاں کوئی نہ تھا۔ کامران مسکراتا ہوا آگے بڑھا وه بهادر بڑی دیر تک حیرت سے اپنا بازو سہلاتا رہا۔
کامران کو کورا کا مکان تلاش کرنے میں ذرا بھی وقت نہ ہوئی ۔ نوکا نے اس کے مکان کی کئی نشانیاں بتا دی تھیں۔ اس کے گھر میں داخل ہو کر وہ آرام سے فرش پر لیٹ گیا اور اس کے آنے کا انتظار کرنے لگا۔ کورا شام کے وقت کام سے واپس آگئی۔ اس کے چہرے پر تھکن کے آثار تھے۔ ایسا لگتا تھا وہ جسمانی مشقت کر کے آئی ہو
کورا کے آتے ہی کامران اٹھ کر کھڑا ہو گیا کہ اس کا وجود اس سے مس نہ ہونے پائے۔ وہ آتے ہی فرش پر چت لیٹ گئی۔ اس نے اپنے ہاتھ پاؤں ڈھیلے چھوڑ دیئے اور آنکھیں بند کر کے ہاتھ ان پر رکھ لیا اور گہرے سانس لینے لگی۔
کامران کے لیے کورا کی طرف دیکھنا مشکل ہوگیا اس نے اپنی نظریں پھیرلیں۔ ابھی کورا بے سده پڑی آرام کر رہی تھی کہ ایک نوعمر لڑکا دروازے پر نمودار ہوا۔ اس نے دروازے پر آتے ہی کورا کو زور سے پکارا۔
کورا اس کی آواز سنتے ہی اچھل کر کھڑی ہوگئی۔
پھر وہ دونوں بانہیں پھیلا کر ایک دوسرے کی طرف بڑھے اور بڑے جوش سے ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔
"کل رات کا جشن میرے لیے خوشیاں لے کر آئے گا؟ کیا تم اپنے وعدے پر قائم ہو" لڑکے نے کہا
"اب اس میں کیا شک ہے، کروشا۔" کورا اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہو ئے بولی
"صبر نہیں ہوتا کورا... کیا یہ جشن آج ہی رات نہیں منایا جاسکتا۔"
"اتنے بے صبرے نہ بنو...اصول کی خلاف ورزی کی سزا تم جانتے ہی ہو‘‘ کورا نے کہا۔ ”اور تم یہ بھی جانتے ہو کہ میں مرنا ابھی نہیں چاہتی۔“ کروشا نے کوئی جواب دینے کے بجائے اسے دوبارہ گلے لگایا۔ "چھوڑو مجھے‘‘ کورا نے کسی حد تک سختی سے کہا لیکن کروشا پر سختی کا کوئی اثر نہ ہوا۔
قامران ان کے نزدیک ہی کھڑا یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ اسے جانے کیا شرارت سوجھی کہ اس نے کروشا کی پیٹھ پر ایک زور دار ہاتھ مارا کرونا نے فورا ہی کورا کو چھوڑا اور اپنی پیٹھ سہلاتا ہوا کورا کو حیرت سے دیکھنے لگا۔
"کیا ہوا؟‘‘ کورا نے پوچھا۔
میری پیٹھ پر ہاتھ کس نے مارا؟
"ہیں......یہ تم کیا کر رہے ہو؟“ کورا کے لہجے میں خوف تھا۔ "یہاں میرے اور تمہارے سوا کوئی نہیں۔“
کامران ایک کونے میں آرام سے بیٹا ان دونوں کی گفتگو بڑی دلچسپی سے سن رہاتھا کامران کا ہاتھ کھاتے ہی کروشا کا سارا جوش ٹھنڈا پڑ گیا تھا۔ اب وہ کورا سے لپٹنے کے بجائے دو ہاتھ پیچھے کھڑا تھا۔ پھر وہ زیادہ دیر وہاں نہ ٹھہر سکا۔ کورا دروازے تک اس کے ساتھ گئی۔ اسے الوداع کہا واپس پلٹی اور بڑی حیرانی سے مکان میں چاروں طرف دیکھنے لگی۔ مکان کی تمام چزیں اپنے ٹھکانے پر موجود تھیں۔ پھر اسے کروشا کا وہم سمجھ کر اپنے دل سے اس واقعہ کو نکالنے کی کوشش کی۔
شام ڈھلتے ہی جب کھانے کی تیز سیٹی سنائی دی اور بستی کے لوگ اپنے اپنے برتن اٹھائے کھانا لینے جانے لگے کورا بھی مکان سے نکل گئی اور کامران نے مقدم بمن کے مکان کا رخ کیا۔ اسے کھانا صرف وہیں سے مل سکا تھا۔
بمن کے مکان میں کھانا توقع سے کہیں زیادہ موجود تھا اور یہ کھانہ اس کھانے سے بالکل مختلف تھا جو ایک عام آدمی کو تقسیم کیا جاتا تھا اس کھانے میں بدبو نہ تھی یہ ایک بے حد لزیذ اور شاندار کھانا تھا.....کامران نے خوب سیر ہو کر کھایا اور بڑے اطمینان سے مقدم بمن کے سامنے سے ہوتا اسے مکا دکھاتا ہوا باہر نکل آیا۔
اب اس کے قدم تیزی سے کورا کے گھر کی طرف اٹھ رہے تھے۔ جب وہ اس کے مکان پر پہنچا وہ وہاں موجود تھی اور کھا کر برتن صاف کر رہی تھی
کامران نے مکان میں داخل ہو کر ایک ایسا گوشہ تلاش کیا جہاں کورا کی آمدورفت نہ تھی۔ وہ خود کو سمجھ کر ایک کونے میں بیٹھ کر کورا کر چلتے پھرتے دیکھنے لگا۔
ایک بار ایسا ہوا کہ وہ کوئی چیز رکھنے اس گوشے میں آ پہنچی۔ وہ تو کامران نے پھرتی دکھائی ورنہ اس کا وجود اسے محسوس ہو جاتا۔
آخر وہ وقت آ پہنچا۔ کامران کے کانوں میں تین سیٹی کی آواز پڑی جو اس بات کی علامت کہ اب کسی مکان میں روشنی نہ رہے۔ سیٹی کی آواز سنتے ہی کورا نے روشنی بجھا دی اور آرام سے سونے کے لیے لیٹ گئی۔ کامران مکان کے گوشے سے نمودار ہوا۔ بیٹھے بیٹھے اس کی ٹانگیں اکڑ گئی تھیں۔ کھڑے ہو اس نے ایک بھر پور انگڑائی لی۔ انگڑائی کے دوران اس کے منہ سے پر کیف آواز نکلنے لگی تھی لیکن اس نے فوراً ہی اپنی آواز پر قابو پا لیا اور خاموش انگڑائی لے کر کورا کی طرف بڑھا۔
کورا تھوڑی دیر سونے کے لیے ادھر ادھر کروٹیں بدلتی رہی۔ جلد ہی اسے نیند نے آ دبوچا۔
قامران نے جب اس کے منہ سے خراٹوں کی آواز سنی تو وہ خود کو آنے والے لمحات کے لیے تیار کرنے لگا. وہ دروازے تک گیا۔ اس نے جھانک کر باہر دیکھا۔ دور تک کوئی بندہ بشر نہ تھا۔ تمام گھر اندھیرے میں لپٹے ہوئے تھے۔ قامران واپس پلٹا۔
کورا کے قریب بیٹھ کر اس نے اپنا گھٹنا اس کے منہ پر رکھا کو اور برق رفتاری سے اس کے گلے کو دبوچ لیا۔ پھر قامران جو چاہتا تھا ویسا ہی ہو گیا
کورا اپنے گلے پر دباؤ پڑتے ہی بہت پھڑکی، بہت تڑپی اس نے اپنے بچاؤ کے لئے لاکھ جتن کیے لیکن قامران کی آہنی گرفت سے نکلنا تو دور کی بات ہے وہ اپنے گلے سے آواز بھی نہ نکال سکی۔ کامران کو جب یقین ہوگیا کہ رشتہ جسم و جاں اب چھوٹ چکا ہے تو اس نے اپنے ہاتھ اس کی گردن سے ہٹا لیے۔
ابھی وہ کھڑا ہونا ہی چاہتا تھا کہ اس کی نظر دروازے پر پڑی۔ دروازے میں کسی کا وجود دیکھ کر وہ چونک اٹھا۔
اس نے فورا اپنے کان کو ہاتھ لگایا گولی اس کے کان میں موجود تھی اس نے سائری دیوتا کا شکر ادا کیا۔
کامران کو اسے پہچاننے میں دیر نہ لگی۔ وہ کروشا تھا بے قرار اور بے چین جو سنہری رات کے جشن سے پہلے ہی کورا کو اپنا بنا لینا چاہتا تھا۔وہ بڑی احتیاط سے دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا جبکہ کامران اتنی ہی احتیاط سے پیچھے ہوتا جا رہا تھا۔ کامران نے جب دروازے سے نکلتے ہوئے کروشا کو بے جان کورا پر جھکتے دیکھا تو وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ وہ جانتا تھا کہ کروشا جو اس وقت جوانی کے جنون میں مبتلا ہے کورا کی موت کا اندازہ نہ کر پائے گا بلکہ اس گہری نیند کو غنیمت جان کر اس سے بھرپور فائدہ اٹھائے گا۔
صبح ہونے سے پہلے کامران نوکا کو خوشخبری سنا دینا چاہتا تھا لہذا وہ تیز تیز قدموں سے نیلے مکان کی طرف بڑھنے لگا۔ راستے میں اسے کئی مرتبہ ہتھیار بند بهادر دکھائی دیئے لیکن وہ ان کے سامنے سے گزرتا آگے بڑھتا گیا۔ نیلے مکان پر پہنچ کر اس نے ہتھیار بندوں کو تلاش کیا۔ وہ چاروں بجائے چاروں طرف کھڑے ہونے کے دروازے کے نزدیک بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک جاگ رہا تھا جبکہ دوسرے ہتھیار بند آدمی گھٹنوں میں سردیئے پورے اطمینان سے خراٹے بھر رہے تھے۔
کامران ان کے نزدیک سے گزرتا بغیر آواز کے نیلے مکان میں داخل ہوگیا۔ نوکا دیوار سے پیٹھ لگائے ہاتھ پاؤں پسارے بیٹھی تھی۔ اس کی آنکھیں بند تھیں۔ کامران نوکا کے پاس بیٹھا دھیرے سے اس کے بازو پر ہاتھ رکھا اور ہلکے سے کھانسا۔ نوکا جانے کن خیالوں میں گم تھی بے اختیار اچھل پڑی
"میں ہوں قامران۔“ اس نے سرگوشی کی۔
"اوہ‘‘ تب نوکا نے اسے پہچان لیا۔
"کیا خبر لاۓ ہو۔"
"تمہارے دشمن کو نیست و نابود کر دیا گیا ہے۔“
"سچ‘‘ نوکا کی آواز میں خوشی تھی اور اس کے چہرے پر اطمینان کی ٹھنڈی ٹھنڈی پھوار پڑنے لگی۔ اس خبر نے اس کا کلیجہ ٹھنڈا کر دیا تھا۔
پھر کامران وہاں زیادہ دیر نہ ٹھہرا۔
صبح ملاقات کا وعدہ کر کے وہ نیلے مکان سے نکل آیا۔ اس بستی میں ایک گوشہ تلاش کیا جہاں آمدورفت برائے نام ہو۔ کھلے آسمان کے نیچے اس نے اپنا ڈیرہ جمایا۔ گولی کو کان میں مزید ٹھونسا تاکہ وہ سوتے میں نکل نہ جائے۔ پھر کروٹ لے کر وہ سوگیا۔
صبح کا سورج بستی میں طوفان لے کر آیا۔ ہر سو کورا کی موت کا چرچا تھا اور کروشا کے وحشیانہ طرز عمل کا ذکر۔ کروشا کو ہتھیار بند بہادروں نے کورا کے مکان سے نکلتے دیکھ لیا تھا۔ یہ ایک سنگین جرم تھا۔ کنواری لڑکیوں کے مکانوں میں جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی اور وہ بھی رات ک اندھیرے میں۔ کروشا کو گرفتار کرنے کے بعد جب ہتھیار بندوں نے کورا سے باز پرس کے لیے اس کے مکان میں قدم رکھا تو وہاں صورت حال کو مزید سنگین پایا۔ تب کروشا کو پتہ چلا کہ کورا گہری نیند میں نہ تھی بلکہ ابدی نیند میں تھی اور وہ بیک وقت کئی جرائم میں ملوث ہوگیا تھا۔
کامران نے منہ اٹھا کر سب سے پہلے کورا کے گھر کا رخ کیا۔ راستے میں اسے بے پناہ کہانیاں سننے کو ملیں۔ جب وہ کورا کے مکان پر پہنچا تو وہاں کچھ نہ تھا۔ مکان خالی تھا۔ کورا کی لاش وہاں سے اٹھوا لی گئی تھی۔ باوجود کوشش کے کامران کو یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کورا کی لاش کہاں گئی۔ اسے جلا دیا کہ دفنا دیا گیا یا دریا برد کر دیا گیا.......وہ کروشا کا انجام بھی نہ جان سکا۔ بس لوگوں کو خیال آرائیاں کرتے ہی سنا کہ کروشا کو بڑی عبرت ناک سزا دے دی گئی ہے۔
کامران لوگوں کی باتیں سنتا گھومتا گھامتا مقدم بمن کے گھر پہنچا۔ اس کا خیال تھا کہ بمن کے ہاں سے یہ معلومات حاصل ہوسکتی ہیں۔ خلاف توقع بمن گھر میں موجود نہ تھا۔ کامران نے گھر کا چپہ چپہ چھان مارا۔
مقدم بمن گھر میں نہ دکھائی دیا تو اس نے اپنا غصہ وہاں رکھی ہوئی کھانے پینے کی اشیاء پر نکالا اور اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرتا باغ کی طرف چلا۔ باغ بھی سنسان پڑا تھا۔ کامران نے باغ کا گوشه گوشہ دیکھ ڈالا لیکن شیشے کی اس بستی کا حکمران اسے کہیں نہ دکھائی دیا۔ تب قامران نے باغ کا ایک گوشہ منتخب کر کے اپنا ڈیرہ وہاں جما لیا اور آنکھیں بند کر کے سوچنے لگا کہ اب کیا کیا جائے۔ جس مقصد کے لیے بستی میں بھیجا گیا تھا اس میں کامیابی کا کوئی امکان نہ تھا۔
اس کا خیال تھا کہ وہ نوکا کو کپڑے پہنانے میں کامیاب ہو جائے گا لیکن وہ یہ نہ جانتا تھا عورت کو بے لباس کرنا تو آسان ہے لیکن اسے کپڑے پہنانا مشکل بلکہ بے حد مشکل۔
نوکا اسے دوسری لڑکیوں کے مقابلے میں کچھ بہتر لگی تھی۔ اس کے دل میں ابھی دیوتاؤں کی یاد باقی تھی لیکن اس نے کپڑے پہننے سے قطعی انکار کر کے کامران کو سخت مایوس کیا تھا۔
اب جبکہ اس نے اسی کے لیے ایک انسانی جان لے لی تھی تو کیا وہ مرنے سے پہلے لباس پہن کر اسے خوشی نہیں دے سکتی تھی۔ کامران نے سوچا وہ اس سے ایک مرتبہ اور بات کر کے دیکھے گا۔ ہو سکتا اس کے دل میں اس کی بات اتر جائے اور وہ لباس پہننے کے لیے راضی ہو جائے۔
تب تامران کو اچانک ہنسی آگئی۔ فرض کرو اگر نوکا اس کے کہنے پر لباس پہننے کے لیے راضی ہو بھی جائے تو وہ اسے پہنائے گا کیا؟............ لباس نام کی کوئی چیز اس کے پاس نہ تھی۔
تب تامران چھلانگ مار کر اٹھ بیٹھا اور باغ سے پتے توڑ توڑ کر ایک خوبصورت لباس تیار کرنے لگا۔ پھر وہ اس لباس کو درختوں کے ایک جھنڈ میں چھوڑ کر باہر نکل آیا ۔ بستی میں سرشام ہی سے رات کے جشن کی دھوم تھی۔ آج شاید بستی کے لوگ جلد ہی اپنے کام سے واپس آ گئے تھے۔ ہر طرف چہل پہل تھی۔ لوگ نہا دھو کر اپنے جسموں کو رنگ رہے تھے۔ بیل بوٹے بنا رہے تھے۔ کامران جب بستی سے گزرتا نیلے مکان میں پہنچا تو اس نے ایک ہتھیار بند کو نوکا کی طرف آتے دیکھا۔ اس کے ہاتھ میں رنگ تھا اور وہ اس کے جسم پر لگانا چاہتا تھا۔
"خبردار جو آگے بڑھے" نوکا نے للکار کر کہا۔ "یہ ٹھیک ہے کہ مقدم بمن نے مجھے نیلی ٹکیہ کی سزا دے دی ہے لیکن میں جب تک زندہ ہوں میرے جسم پر کوئی شحض میری مرضی کے بغیر ہاتھ نہیں لگا سکتا"
"قاعده قانون تو ہمیں بھی سارے معلوم ہیں پر یہ بھی تو سوچو کہ آج جشن کی رات ہے۔ تمہاری زندگی بھی بہت تھوڑی ہے۔ سنہری رات کے جشن کے بعد تمہیں کسی بھی وقت نیلی ٹکیہ کھلائی جاسکتی ہے۔ ایسی صورت کے پیش نظر تمہیں خود چاہیئے کہ زیادہ سے زیادہ خوشیاں حاصل کرو۔ ہمارے ساتھ ناچو گاؤ، رنگ لگواؤ نہ کہ ہمیں قاعدے قانون بتا کر ہماری خوشیاں بھی تباہ کرو‘‘ وہ خباثت سے کہتا ہوا آگے بڑھا۔
"میں کتنی بار کہہ چکی ہوں کہ مجھے توند والے مردوں سے سخت نفرت ہے میں تم پر تھوکنا نہیں چاہتی" نوکا نے خفگی سے کہا۔
"اب کوئی شہزاده تو تمہارے لیے اوپر سے اترنے ے رہا بہتر ہوگا اپنی آنکھ سے خود فریبی کی پٹی اتار لو"
"آسمان سے میرے لیئے شہزادہ تو اتر آیا ہے تم ںے اسے دیکھا بھی ہوگا۔ میرے گھر میں موجود تھا......تھا نا۔۔۔! اسی لیئے تو مجھے نیلی ٹکیہ کی سزا سنائی گئی۔" وہ انہیں جلاتے ہوئے بولی "آج کی رات میں اسی کے ساتھ جشن مناؤں گی"
"کیا واقعی اس آدمی سے تمہارا کوئی تعلق ہے۔" وہ ہتھیار بند آدمی آگے بڑھتے ہوئے بولا
”ہاں۔۔۔۔! بہت گہرا۔“ نوکا نے اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے کہا۔"
"کیا وہ اس وقت یہاں موجود ہے۔“ سوال ہوا۔
تب قامران تیزی سے نوکا کی طرف بڑھا اور دھیرے سے اس کے بازو کو چھوا تاکہ نوکا کو اس کی موجودگی کا احساس ہو جائے۔ نوکا کے ہونٹوں پر خوشی پھیل گئی۔ اس نے یونہی دیوار کی طرف دیکھتے ہوئے بولی "ہاں ہے"
"ہم کیسے یقین کریں کہ وہ یہاں موجود ہے۔" وہ سارے بہادر ایک جگہ اکٹھا ہوگئے۔
"تم لوگ کیسے یقین کرو گے۔۔۔؟"
"وہ ہمارے سامنے آئے چند لمحوں کے لیے ہی سہی"
"اتنا بے وقوف تو نہ وہ ہے اور نہ میں کہ اس سے سامنے آنے کے لیے کہوں اور وه آجائے۔“ نوکا کمر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی۔ "کہو تو تمہارےچہرے پر تھپٹر مروا کر دکھاؤں۔“
"چلو....ٹھیک ہے۔ اگر وہ یہاں موجود ہے تو میرے چہرے پر تھپڑ مارے۔“
"کامران ذرا تماشہ تو دکھاؤ۔“ نوکا نے اندازے سے قامران کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
قامران بغیر جواب دیئے مسکراتا ہوا آگے بڑھا اور اس ہتھیار بند بہادر کے نزدیک رکا جو تھپڑ کھانا چاہتا تھا۔ پھر کامران نے پوری طاقت سے ہاتھ گھمایا "تڑاخ" کی ایک زور دار آواز گونجی اور وہ ہتھیار بند فرش پر دور تک لڑھکتا چلا گیا۔ قامران بھاگ کر پھر نو کا کے نزدیک آ کر کھڑا ہوگیا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 17

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,