| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 4
رائیٹر :ایم اے راحت
ماں باپ بچھڑ گئے تھے۔ بھائی نامعلوم راستوں پر نکل گیا تھا۔ پتا نہیں زندگی میں دوبارہ ملاقات ہو کہ نہ ہو، ابا اور اماں کا کیا حال ہوگا۔ ان کے دونوں بیٹے ان سے چھن گئے تھے۔ ماموں ریاض کے بارے میں یقین تھاکہ وہ انہیں سنبھال لیںگے۔ وہ نہ ہوتے تو باپ کی کمر تو ٹوٹ ہی گئی تھی۔‘‘
خان صاحب دن بھر مصروف رہے تھے۔ مجھے حکیم صاحب کی دی ہوئی دوائیں کھانی پڑی تھیں۔ رات کو خان صاحب واپس آکر بولے۔ کل روانگی ہے مسعود میاں۔‘‘
’’کل؟‘‘
’’ہاں کچھ کام تھے جن کی وجہ سے پرسوں کا ارادہ کیا تھا، آج ہی ہوگئے، اس لیے اب کل چلتے ہیں۔ اللہ کرے علیم الدین میاں جیتے ہوں، بڑے اچھے انسان ہیں، پہلے ان کے پاس چلیں گے پھر ان کے ساتھ مزار پر چلیں گے، تم دیکھ لینا ساری مشکلیں آسان ہوجائیں گی۔‘‘
’’جو حکم خان صاحب۔‘‘
رات کو خان صاحب نے کہا۔ ’’میرے پاس سونا ہے تمہیں۔ دوسرے کمرے میں نہیں سونے دوںگا۔‘‘ دل کے انتہائی گوشوں سے خان صاحب کے لیے دعائیں نکل رہی تھیں، اس سے زیادہ کوئی کیا کرسکتا ہے۔ بڑی پُرسکون رات گزری، دل کو بڑی تقویت اور سکون رہا تھا۔ صبح بے حد خوشگوار تھی۔ خان صاحب نے آدمی بھیج کر ریل کے ٹکٹ منگوائے تھے۔ اب میں صرف ان کے اشاروں پر چل رہا تھا۔ تیاریاں ہی کیا کرنی تھیں، دو جوڑے کپڑے خان صاحب کے سوٹ کیس میں رکھے اور دوپہر کو ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے، سوچ کے دروازے بند کرلیے تھے۔ اب صرف ایک ہی لگن تھی کسی طرح اس بزرگ ہستی کے حضور پہنچ جائوں جس کے فیض سے میری مشکل حل ہوجائے۔ خان صاحب معمولی آدمی نہ تھے جو سامنے سے گزرتا سلام کرتا گزرتا۔ ریل آگئی ہمیں بڑے احترام سے ریل میں بٹھایا گیا۔ خان صاحب پان کھانے کے عادی تھے۔ ریل چل پڑی تو پانوں کی ڈبیہ اور بٹوا نکال لیا۔ مسکراکر بولے۔
’’لو چندا پان کھائو۔‘‘
’’خان صاحب ۔‘‘
’’اماں کھالو۔ عید بقرعید پر تو سب کھالیا کرتے ہیں۔ اور سنو ہنسو مسکرائو، بری گھڑی گھڑیوں کی مہمان رہ گئی ہے۔ ایک وقت آئے گا کہ ان واقعات کو یاد کرکے ہنسا کرو گے مگر چاند خان کو مت بھول جانا اس وقت۔‘‘ میں سسک پڑا اور خان صاحب نے میری گردن میں ہاتھ ڈال دیا…’’نا… مرد کی آنکھوں سے آنسو نہیں شعلے نکلنے چاہئیں۔ ناچندا نا۔ دشمن بھی مردوں کے ہی ہوتے ہیں۔ مرد ہو، مردوں کی طرح حالات سے مقابلہ کرو۔ بری بات چندا بری بات۔‘‘ خان صاحب کے محبت بھرے لمس کو محسوس کرکے نہ جانے کیا کیا احساسات جاگ اٹھے تھے۔
سفر جاری رہا۔ رات ہوگئی۔ خان صاحب کھانا ساتھ لائے تھے۔ دسترخوان کھول کر بیٹھ گئے، اصرار کرکے کھاتے اور کھلاتے رہے۔ رات کو بارہ بجے انہوں نے کہا۔
’’اب پائوں پھیلاکر سوجائو دلارے۔ ہم جاگ رہے ہیں۔‘‘
’’نہیں خان صاحب آپ سوجایئے۔‘‘
’’ میاں عمر بھر سفر میں نیند نہیں آئی۔ آج کیا خاک آئے گی۔ تم سوجائو ہم کہہ رہے ہیں اور پھر ہمارا جاگنا ضروری ہے، ساڑھے چار بجے ریل منزل پر پہنچے گی تمہیں تو اندازہ بھی نہ ہوگا۔‘‘ انہوں نے ضد کرکے مجھے لٹادیا۔ ٹرین کی ردھم خیالات کے ساتھ سفر کرتی رہی اور آنکھوں میں غنودگی گھل گئی۔ تھوڑی دیر کے بعد سارے احساسات سوگئے۔ نہ جانے کتنی دیر ہوئی تھی سوتے ہوئے، نہ جانے کیا وقت تھا کہ اچانک قیامت ظہور میں آگئی۔ اتنی تیز روشنی ہوئی کہ بینائی جاتی رہی، کوئی آتش فشاں پھٹا تھا یا زلزلہ آیا تھا، کچھ اندازہ نہیںہوپا رہا تھا، انسانی شور چاروں طرف سے ابھر رہا تھا۔ لوگ بھیانک آواز میں چیخ رہے تھے۔ میرا چہرہ بھیگا بھیگا سا لگ رہا تھا۔ گہری نیند سے آنکھ کھل جانے کی وجہ سے سر دکھ رہا تھا۔ دوبارہ سوجانے کو جی چاہ رہا تھا، سب کچھ بھول کر سب کچھ نظر انداز کرکے میں نے دوبارہ آنکھیں بند کرلیں۔ پھر نہ جانے کب جاگا تھا۔ تیز روشنی ہوگئی تھی، کھڑکیوں سے سورج کی شعاعیں اندر آرہی تھیں۔ گرمی لگ رہی تھی، پنکھا بند تھا۔ نہ جانے کیوں تبھی مجھے آواز سنائی دی۔
’’رتنا او رتنا، کب تک سوتا رہے گا رے۔ دس بج رہے ہیں، رتنا اٹھ جا بھئی۔‘‘ نہ جانے کون تھا۔ نہ جانے کسے آواز دے رہا ہے۔ مگر پھر میرے کمرے کا دروازہ کھلا اور ایک دراز قامت خاتون اندر آگئیں۔ بھاری بھرکم معمر خاتون تھیں، ساڑھی باندھے ہوئے تھیں، ماتھے پر بندیا لگی ہوئی تھی، عمر چالیس سے اوپر ہی تھی۔ رتنا اٹھ جا بیٹا۔ دیکھ کتنا دن چڑھ چکا ہے، افوہ پسینے میں بھیگ رہا ہے۔ نگوڑ ماری بتی دو گھنٹے سے گئی ہوئی ہے۔ ان بجلی والوں نے تو ناک میں دم کردیا ہے۔ ارے تو اٹھے گا یا نہیں۔ خاتون نے میرے شانے کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا۔ اور میں دم بخود رہ گیا۔ ’’رتنا…میں؟‘‘ میں پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا۔
’’پانی لائوں ٹھنڈا چاچی۔ دو کٹورے بھر ڈال دو نیند ایسے بھاگے گی جیسے ماماجی کے سر سے سینگ۔‘‘ باہر سے ایک نسوانی آواز سنائی دی۔
’’رتنا اٹھ جا بیٹا۔ اتنی دیر سونا اچھا نہیں ہوتا۔‘‘ عورت نے پھر کہا اور میں جلدی سے اٹھ گیا۔ ’’ جا منہ دھولے میں مالتی سے ناشتہ بھجواتی ہوں۔ اب دوبارہ نہ لیٹ جائیو۔‘‘ معمر خاتون واپس مڑیں اور دروازے سے باہر نکل گئیں۔
مجھ پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے، کیا ہے یہ سب کچھ کیا ہے۔ میں کہاں ہوں یہ کونسی جگہ ہے اور رتنا۔ یہ عورت مجھے رتنا کیوں کہہ رہی ہے۔ کیسا عجیب انداز ہے اس کا۔ محبت سے بھرپور۔ ایسا جیسے مجھے عرصے سے جانتی ہو۔ کون ہے یہ۔ اور جگہ کونسی ہے۔ یاخدا یہ خواب ہے یا عالم بیداری۔ ابھی مسہری سے پائوں لٹکائے بیٹھا سوچ رہا تھا کہ دروازے میں ایک جھری پیدا ہوئی اور ایک روشن چہرے نے اندر جھانکا۔ چمکتا ہوا سفید رنگ، بھورے بال، پرکشش نقوش، حسین آنکھیں جن میں شوخی تھی۔ پھر ہنسی سنائی دی اور وہ اندر آگئی۔ ہاتھ میں نقشین مرادآبادی کٹورہ تھا جس میں پانی بھرا ہوا تھا۔
’’رتن مہاراج صبح ہوگئی۔ یہ میری طرف سے۔‘‘ اس نے کٹورے کا پانی میرے چہرے پر ڈال دیا اور میں اچھل پڑا۔ پانی یخ ٹھنڈا تھا اور میرا چہرہ اور سینہ بھگوگیا تھا۔ میں جھجھک کر مسہری سے نیچے آکھڑا ہوا۔ لڑکی نے قہقہہ لگاتے ہوئے دروازے کی طرف چھلانگ لگادی اور غڑاپ سے باہر نکل گئی۔
آہ! یہ خواب نہیں حقیقت ہے مگر اب… اب یہ کیا حقیقت ہے؟ کیا ہوگیا ہے میرے معبود! کیا ہوگیا ہے۔ میں نے ڈوبتے ہوئے دل سے سوچا۔ یوں احمقوں کی طرح کھڑے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں تھا، باہر نکلوں کچھ اندازہ تو ہو۔ دروازے سے باہر نکل آیا۔ سامنے صحن تھا، باتھ روم کا دروازہ نظر آرہا تھا۔ قدم اس طرف اٹھ گئے۔ میں اس پرانے طرز کے باتھ روم میں داخل ہوگیا۔ دروازہ بند کیا، کپڑے اتارے مگر کپڑے اتارتے ہوئے میں بری طرح اچھل پڑا۔ یہ میرے کپڑے نہیں تھے۔ یہ تو میں نے خواب میں بھی نہیں دیکھے تھے۔ سلک کا کرتا، لٹھے کا پاجامہ… آہ کیا ہوگیا مجھے۔ کیا ہوگیا ہے۔ میں نے پانی کا نل کھول دیا، اس کے نیچے بیٹھ گیا۔ میری سوچ پرواز کرنے لگی۔ کب سویا تھا، کہاں سویا تھا کہ آنکھ یہاں کھلی۔ ذہن کے پردوں پر مٹے مٹے نقوش ابھرنے لگے۔ کانوں میں گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دی جو واضح ہوتی جارہی تھی۔ ریل کی آواز… ریل… چاند خان… میاں کھالو چندا۔ عید بقرعید پر تو سب ہی… سو جائو… سو جائو… چاند خان… ارے ریل… چاند خان رتولی.. رتولی.. وحشت زدہ انداز میں اُٹھ کھڑا ہوا۔ پاگلوں کی طرح دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ باہر سے بند تھا۔ سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔ دماغ بری طرح چکرا رہا تھا۔ پانی شانے پر گر رہا تھا۔
’’کون ہے اندر۔‘‘ باہر سے آواز سنائی دی اور میں دروازے کو دیکھنے لگا۔ ’’کون ہے اندر۔‘‘ آواز دوبارہ سنائی دی۔
’’میں ہوں مالتی۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔ لیکن جو کچھ میں نے کہا تھا، وہ…! وہ آہ کیا ہے یہ سب کچھ۔‘‘
’’نہا رہے ہو رتنا…؟‘‘ باہر سے پوچھا گیا۔
’’ہاں!‘‘ میں گھٹی گھٹی آواز میں بولا۔
’’دروازہ باہر سے کیوں بند کرایا ہے؟‘‘
’’میں نے نہیں کرایا۔‘‘ میں نے جھلا کر کہا۔
’’سمجھ گئی شیاما نے شرارت کی ہوگی۔ میں نے کھول دیا ہے۔‘‘ وہی آواز سنائی دی۔ مگر اس بار میں نے اسے کوئی جواب نہیں دیا تھا۔ میرا دل، میرا دماغ قابو میں نہیں تھا۔ اندر سے ایک ہی آواز ابھر رہی تھی۔ پھر کچھ ہوگیا۔ پھر کچھ ہوگیا۔ میں چاند خان کے ساتھ رتولی نہیں پہنچ سکا اور چاند خان۔ وہ نہ جانے کہاں گئے۔ میں ہوش میں ہوں اور نہ جانے کس طرح اس اجنبی جگہ آگیا ہوں۔ اجنبی جگہ… رتنا۔ کیا بے تکا نام ہے۔ آخر یہ لوگ مجھے اس نام سے کیوں پکار رہے ہیں۔
’’رتنا جی…‘‘ باہر سے پھر وہی آواز ابھری اور میں چونک پڑا مگر کچھ بولا نہیں… ’’رتنا جی… کتنی دیر میں باہر آئو گے۔‘‘ بڑی زور سے غصہ آیا تھا مگر کیا مجھے غصہ آنا چاہیے۔ کیا میں اس پوزیشن میں ہوں۔
’’آرہا ہوں بس!‘‘
’’ہم نے ناشتہ لگا دیا ہے۔‘‘ باہر سے آواز ابھری۔ اور میں گہری سانس لے کر اٹھ گیا۔ کوئی پاگل ہے، کچھ نہ سوچنے دے گی۔ نکلا جائے مگر دماغ ٹھنڈا رکھنا ہوگا۔ نہ جانے کیا ہوا ہے، کیسے ہوا ہے۔ نل بند کردیا، لباس پہنا، بال سنوارے اور باہر نکل آیا۔ باہر کوئی نہیں تھا۔ میں اس کمرے میں نہیں گیا جہاں خود کو سوتے ہوئے پایا تھا بلکہ ایک راہداری سے گزر کر بائیں ہاتھ کے ایک کمرے کے دروازے سے اندر داخل ہوگیا۔ سامنے ڈائننگ ٹیبل تھی، اس پر ناشتے کا سامان سجا ہوا تھا۔ کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گیا۔ ناشتہ آگے سرکا لیا مگر… میں اس کمرے میں کیسے آگیا۔ میں کیسے جانتا تھا کہ ناشتہ اس کمرے میں لگا ہوگا۔ میرے قدم اس طرف کیسے اٹھے، میں بھٹک کیوں نہ گیا؟ یہ سب کچھ مجھے اجنبی کیوں نہیں لگ رہا۔ آہ…! یہ کیا ہے۔ بھوریا چرن کا کوئی نیا کھیل… دماغ پر سناٹا سا طاری ہوگیا۔ چاند خان کہاں ہیں۔ ہم دونوں تو ریل میں سفر کررہے تھے۔ چاند خان جاگ رہے تھے، میں سو رہا تھا۔ پھر وہ خواب جیسی کوئی آواز، تیز روشنی اور پھر میں دوبارہ سو گیا تھا، سب کچھ ایک خواب سمجھ کر… اور اب… ضرور بھوریا چرن کوئی چال چل گیا۔ اس نے مجھے اس مقدس مزار پر نہیں پہنچنے دیا اور اب میں کسی ہندو گھرانے میں تھا اور یہ لوگ مجھے رتنا کہہ کر پکار رہے تھے۔ کون لوگ ہیں یہ… وہ معمر خاتون… وہ خوبصورت شریر لڑکی… آہ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ کسی خطرناک جال میں تو نہیں پھنس گیا۔ کوئی نئی مصیبت تو نہیں آنے والی… نہیں… ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔ سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا۔ حالات کا جائزہ…
’’چائے واپس لے گئی تھی۔ سوچا ٹھنڈی ہوجائے گی۔ اب گرم گرم لائی ہوں۔ ارے تم نے تو ناشتہ بھی شروع نہیں کیا۔ ابھی تک سو ہی رہے ہوکیا…‘‘ نوجوان عورت تھی۔ کالا رنگ تھا مگر نقوش برے نہیں تھے۔ ’’رتنا جی…! ناشتہ کرو۔‘‘
’’کررہا ہوں مالتی…‘‘ میں نے گہری سانس لے کر کہا اور ایک بار پھر دل میں چونک پڑا۔ میں اسے اتنے اعتماد سے مالتی کیوں کہہ رہا ہوں۔ کیسے جانتا ہوں کہ یہ مالتی ہے۔
’’کچھ اور لائیں تمہارے لیے…؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’لالہ سریش چندر جی آئے ہیں۔ گڑ کے شیرے ہیں نرے، چپک جائیں تو چھٹنے کا نام نہ لیں۔ بے چاری رما رانی ان کے سامنے جا پھنسی ہیں۔ اب کوئی کیسے نکالے انہیں۔‘‘
’’ہوں۔‘‘
’’ہم کہیں انہیں اور کوئی کام نہیں ہے۔ ابھی صبح ہوئی ہے اور… ارے کچھ اور لائیں تمہارے لیے۔‘‘ مالتی بھی جنونی ہی معلوم ہورہی تھی۔ کم بخت کی زبان تالو سے نہیں لگ رہی تھی۔ بولے چلے جارہی تھی۔ اسی وقت کہیں سے کتے بھونکنے کی آوازیں سنائی دیں اور مالتی کی آواز بند ہوگئی۔ کتا بری طرح بھونک رہا تھا۔ مالتی نے پریشانی سے کہا۔ ’’یہ کتا کہاں سے گھس آیا۔‘‘
’’دیکھو باہر جاکر۔‘‘ میں نے کہا۔
’’ارے ہم دیکھیں۔ نا رتنا جی… کتے سے ہماری جان نکلے ہے۔ دروازہ بند کیے دیں ہیں ہم، کہیں پاپی ادھر ہی نہ گھس آئے…‘‘ مالتی نے جھپٹ کر دروازہ بند کردیا۔ میں ناشتے میں مصروف رہا۔ کتا خاموش ہوگیا تھا۔ مگر کچھ دیر کے بعد ایک تیز آواز سنائی دی۔
’’مالتی… اری او مالتی! کہاں مر گئی۔‘‘ مالتی اچھل پڑی۔
’’لو شروع ہوگئیں آوازیں۔‘‘ اس نے آگے بڑھ کر دروازہ کھول دیا۔ ’’آئی رما رانی… وہ کتا…!‘‘
’’یہ کشنا کہاں چھپی ہے۔ اسے تلاش کر، آج یہ نہیں یا میں۔ آخر یہ کرنا کیا چاہتی ہے، کیا سوچا ہے اس نے ارے ہمارے ہاں کام کے آدمی ہیں۔ ہزاروں کام نکلتے ہیں ان سے اور یہ ہے کہ…‘‘ رما رانی اندر داخل ہوگئیں۔ یہ وہی معمر خاتون تھیں۔ رمارانی… میں نے سوچا… معمر خاتون اندر گھس آئیں۔ ادھر ادھر دیکھا اور بولیں۔ ’’رتنا! وہ یہاں تو نہیں آئی…؟‘‘
’’نہیں چاچی…‘‘ میں نے کہا۔
’’جائے گی کہاں… آج چھوڑوں گی نہیں اسے۔‘‘ رما رانی باہر نکل گئیں۔ میری کیفیت اب کسی قدر بحال ہوگئی تھی۔ سمجھ میں تو کچھ آیا نہیں تھا لیکن اب دیوانگی سے کیا حاصل، سمجھنے کی کوشش کرنی پڑے گی اور کچھ نہ کچھ سمجھ میں آہی جائے گا۔ چائے کی دو پیالیاں پی کر اٹھا ہی تھا کہ وہی شوخ لڑکی اندر گھس آئی اور میری کمر پکڑ کر میرے پیچھے آگئی۔
’’آج بچا لیں رتنا جی! بس آج بچا لیں۔ بھگوان کے لیے۔ وعدہ کرتی ہوں آگے کچھ نہیں کروں گی۔‘‘
’’ارے ارے… میری کمر تو چھوڑو۔‘‘
’’کپڑے دھونے کی موگری ہاتھ آگئی ہے۔ ایک بھی پڑ گئی تو اپنے جل ٹھنڈے ہوجائیں گے۔ سچ مچ غصے میں ہیں، مار دیں گی۔‘‘
’’کون…؟‘‘
’’چاچی…!‘‘
’’مگر ہوا کیا ہے…؟‘‘ میں نے بے اختیار پوچھا۔
’’ارے بھگوان ان کا ناس کرے۔ کھٹیا کھڑی ہو ان کی۔ وہی آمرے تھے سریش چندر جی۔ آتے ہیں تو جاتے نہیں ہیں، سارا سارا دن اینڈتے رہتے ہیں یہاں اور ہم سب پر کرفیو لگ جاتا ہے۔ خاموش رہو، ہنسو بھی نہیں…اور سامنے آجائو تو ایسے گھورتے ہیں جیسے گنڈیری نظر آگئی ہو۔‘‘
’’پھر تم نے کیا کیا…؟‘‘
’’کتے سے جان نکلتی ہے ان کی۔ سنا ہے اٹھائیس انجکشن لگوا چکے ہیں۔ دو بار کتوں نے کاٹا ہے۔‘‘ وہ ہنس پڑی۔ چہرہ سرخ ہورہا تھا۔ کندنی رنگ پر پسینے کے قطرے بے حد بھلے لگ رہے تھے۔ بے اختیار ہنستی رہی۔ آنکھوں میں پانی آگیا۔ بولی۔ ’’کتے کی آواز کا ریکارڈ لگا دیا تھا میں نے اور آواز تیز کھول دی تھی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ پھر بے اختیار ہنسنے لگی تھی۔ ہنستے ہوئے بولی۔ ’’یہ ریکارڈ میں انہی کے لیے لائی تھی۔ سر پر پائوں رکھ کر بھاگ گئے، چاچی پکارتی رہ گئیں۔‘‘
’’تم نے غسل خانے کا دروازہ بند کیا تھا…!‘‘ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’اب جو ایسے کروں تو اتی بڑی مر جائوں۔‘‘ اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا اور پھر سہمے ہوئے لہجے میں بولی۔ ’’ارے ادھر ہی آرہی ہیں۔‘‘
یہ تھا میرا نیا ٹھکانہ… مگر میں یہاں کیسے آگیا۔ یہ لوگ مجھے رتنا کہہ کر کیوں پکارتے ہیں۔ میں ان کا شناسا کیسے ہوں۔ بار بار تو ایسے جیسے واقعات نہیں ہوتے ہیں۔ اگر سرفراز کا ہم شکل نکل آیا تھا تو کسی رتنا یا رتن کا ہم شکل تو نہیں ہوسکتا تھا… پھر یہ سب کچھ… آخر فیصلہ کیا کہ جو کچھ بھی ہے، صبر و سکون سے برداشت کروں۔ انتظار کروں کہ صورتحال معلوم ہوجائے۔ یہ اندازہ تو ہوگیا تھا کہ میں رتولی نہیں پہنچ سکا۔ اب بھوریا چرن کوئی اور چال چل گیا۔ مگر اس نے اس بار کیا کیا ہے، کچھ اندازہ نہیں ہورہا تھا۔ نہ جانے چاند خان کہاں گئے۔
رتنا ہی بن گیا۔ اپنی کیفیت پر البتہ سخت حیران تھا۔ مجھے اس گھر کے بارے میں سب کچھ معلوم تھا۔ میرا کمرہ کونسا ہے، عورت کو میں چاچی کہہ کر پکار رہا تھا۔ ایک اور نوجوان لڑکی سامنے آئی تو میں نے اسے رادھا کہا اور اس نے جواب بھی دیا۔ آہ! اس طلسمی کیفیت کا کوئی جواز نہیں تھا میرے پاس… دن بھر کوئی کام نہ کرنا پڑا۔ عجیب سا گھرانہ تھا۔ دو تین بار مردوں کی آواز بھی سنائی دی تھی۔ البتہ رات ہوئی تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ قرب و جوار کی ساری عمارتیں جگمگا اٹھیں اور ہر طرف سے طبلہ، سارنگی اور ہارمونیم کی آوازیں ابھرنے لگیں۔ یہ ناچنے گانے والوں کا علاقہ تھا اور رما رانی بھی انہی میں سے ایک تھیں۔ خدا تجھے فنا کردے بھوریا چرن… یہ کہاں لا پھینکا تو نے مجھے… اس غلاظت خانے میں! دل بری طرح دکھنے لگا۔ کیا کروں۔ کیا یہاں پڑا رہوں یہاں… کشنا یاد آئی۔ معصوم شوخ الھڑ لڑکی رادھا اس کی ہم شکل! اور یہ سب ناچ گانے کا کاروبار کرتی تھیں۔ اس کا عملی تجربہ بھی ہوگیا۔ شام سے پہلے اس گھر کی حقیقت نہیں کھلی تھی۔ لیکن جونہی شام ہوئی، ماحول بدل گیا۔ پاکیزگی، گندگی میں تبدیل ہونے لگی۔ رادھا، لکشمی اور شوخ و شریر کشنا رنگ بدلنے لگیں۔ زرق برق لباس، چہروں پر مصنوعی اشیاء کا نکھار اور پھر وسیع و عریض کمرہ، سفید براق چاندنیاں، طبلہ، سارنگی، ہارمونیم۔ ان کے عقب میں نکیلی مونچھوں والے سازندے… سازوں کے سُر درست کرتے ہوئے۔ میں پابہ زنجیر نہیں تھا۔ یہاں سے بھاگ سکتا تھا لیکن کہاں… ہر جگہ موت اور تباہی! کہیں امان نہیں تھی۔ بے بسی سے آنکھوں میں آنسو آگئے۔ خدایا…! یہ دن بھی دیکھنا تھا۔ ایسی جگہ بھی رزق لکھا تھا۔ خان صاحب یاد آئے۔ میاں چاند مرد کی آنکھوں میں آنسو نہیں شعلے نظر آنے چاہئیں۔ آہ خان صاحب! یہ شعلے مجھے بھسم کرسکتے ہیں۔ میں کسی کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
’’رتن جی۔ اے رتن جی!‘‘ مالتی کی آواز سنائی دی اور وہ سامنے آگئی۔
’’کیا ہے مالتی…؟‘‘
’’ہار نہیں لائے ابھی تک۔‘‘
’’ہار…؟‘‘
’’تیار کر رکھے ہوں گے۔ رحیم خان سے جائو لے آئو۔ رما رانی پوچھ رہی تھی۔ ذرا جلدی جائو، مہمان آنے شروع ہوگئے ہیں اور ہاں ذرا دیکھ کر لینا۔ رحیم خان سے کہنا اصلی چنبیلی لگایا کرے، بیچ بیچ میں سدابہار ڈال دیتا ہے۔ لو پیسے رکھ لو۔‘‘ مالتی نے سو روپے میرے حوالے کردیے۔ میں نے سو روپے کا نوٹ ہاتھ میں لیا اور آگے بڑھ گیا۔ مجھے علم تھا کہ زینہ کہاں ہے۔ ہار کہاں سے لانے ہیں۔ کیسے آخر کیسے؟
سیڑھیاں اتر کر گلی میں آگیا۔ بازار کی رونق عروج پر تھی۔ تر گلاب، موتیا، کڑاکڑ بول رہی ہیں ریوڑیاں! لیلیٰ کی انگلیاں، مجنوں کی پسلیاں، کی صدائیں سنائی دے رہی تھیں۔ زیادہ تر پان والوں، پھول والوں اور عطر فروشوں کی دکانیں تھیں۔ بلندیوں سے طبلے ٹھونکنے کی آوازیں، ہار مونیم کی ریں ریں کے ساتھ سنائی دے رہی تھیں۔ دکانوں پر بورڈ لگے ہوئے تھے۔ دور سے عبدالرحیم خان گل فروش کا بورڈ نظر آگیا اور وہیں اسی طرف چل پڑا۔ قدم من من بھر کے ہو رہے تھے۔ کیا ہے یہ سب کچھ۔
’’آئو رتنا! بڑی دیر میں آئے آج‘‘ عمر رسیدہ مگر کلف لگی نوکیلی مونچھوں والے رحیم خان نے ایک بڑا سا پُڑا اٹھاتے ہوئے کہا۔ ’’بیس ہیں پورے! گننا تو نہیں ہیں؟‘‘
’’نہیں!‘‘ میں نے پھنسے پھنسے لہجے میں کہا اور سو روپے کا نوٹ رحیم خان کی طرف بڑھا دیا۔
’’کل تم بیس روپے ہی چھوڑ گئے۔ میں نے آواز لگائی مگر تم نے سنا ہی نہیں۔‘‘
’’کل…!‘‘ میرا دل لرز گیا۔
’’ہاں میاں! یہ بیس روپے کل کے اور بیس یہ لو، چالیس ہوگئے نا…!‘‘
’’ہاں… رحیم خان کل بھی میں ہی آیا تھا ہار لینے؟‘‘ میں نے بمشکل پوچھا۔
’’کیا مطلب؟‘‘ رحیم خان بولے۔
’’کل میں ہی ہار لے گیا تھا نا؟‘‘
’’تو اور کون لے جاتا۔ کل کچھ تو ترنگ میں تھے پیارے۔‘‘ رحیم خان ایک آنکھ دبا کر مسکرائے۔
’’کب سے لے جاتا ہوں میں یہ ہار۔‘‘
’’مہینوں ہوگئے مگر بات کیا ہے۔ طبیعت تو ٹھیک ہے تمہاری، پچھلے ہفتے سے کچھ کھوئے کھوئے سے ہو۔‘‘
’’میرے خدا… میرے خدا!‘‘ میرے منہ سے لرزتی آواز نکلی اور رحیم خان چونک پڑے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہے تھے۔
’’کیا کہا تم نے…؟‘‘ وہ بولے۔
’’کچھ نہیں۔‘‘ میں واپس چل پڑا۔ رحیم خان کی آواز کانوں میں گرم گرم سیسے کی طرح اتر رہی تھی۔ ’’مہینوں سے… مہینوں سے‘‘ کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ میں مہینوں سے یہاں ہوں۔ مہینوں سے مگر کیسے۔ یہ میں ہی ہوں کوئی اور نہیں ہے مگر میں تو پچھلی رات میں تو چاند خان کے ساتھ ریل میں سفر کررہا تھا۔ پھر میں مہینوں سے یہاں کیسے ہوں۔ یہ ماحول، یہ لوگ، یہ سب کچھ جانا پہچانا کیوں ہے۔ کیا ہوا ہے آخر میرے ساتھ کیا ہوا ہے۔
راستہ تک نہیں بھولا تھا۔ بے خیالی کے عالم میں آیا تھا مگر انہی سیڑھیوں سے اوپر پہنچا تھا جن سے اتر کر گیا تھا حالانکہ ساری سیڑھیاں ایک جیسی تھیں۔ یہ تمام باتیں ذہن خراب کررہی تھیں۔ اتنا اندازہ تو میں نے لگا لیا تھا کہ یہ سب کچھ بھوریا چرن نے کیا ہے لیکن کیا کیا ہے۔ یہ جاننا ضروری تھا۔ مالتی ہار لینے کے لیے کھڑی تھی۔ جلدی سے ہاروں کا پُڑا لے کر چلی گئی اور میں اپنے کمرے میں جاکر بستر پر لیٹ گیا۔ رحیم خان نے کہا تھا کہ مہینوں سے میں اس سے ہار لے جاتا ہوں۔ اس کا کیا مطلب ہے۔ وہی کچھ ہم شکل والا معاملہ ہوسکتا ہے۔ رتنا نامی کوئی شخص میرا ہم شکل ہو۔ لیکن اتنے سارے ہم شکل؟ ہر جگہ میرا ایک ہم شکل موجود ہے۔
مالتی آگئی۔ بولی۔ ’’اندھیرے میں کیوں لیٹے ہو رتنا جی! بتی جلا دوں۔‘‘
’’رہنے دو مالتی! اندھیرا اچھا لگ رہا ہے۔‘‘
’’کچھ چاہیے؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’نہیں! آئو بیٹھو۔‘‘
’’اندھیرے میں! نا بابا نا۔ ہمیں اندھیرا اچھا نہ لگے۔‘‘
’’تمہیں کوئی کام تو نہیں ہے۔‘‘
’’اسی وقت تو فرصت ملے ہے۔ اب بارہ بجے مہمان چلے جائیں گے تو بڑا کمرہ صاف کرکے سوئیں گے۔‘‘
’’روشنی جلا دو اور بیٹھو۔‘‘
’’یہ ٹھیک ہے۔‘‘ مالتی نے لائٹ جلا دی اور پھر نیچے قالین پر بیٹھ گئی۔
’’مالتی! آج کیا تاریخ ہے؟‘‘
’’انیس۔‘‘
’’مہینہ کونسا ہے، معلوم ہے۔‘‘
’’ستمبر۔‘‘
’’ہیں…‘‘ میں اچھل پڑا۔ ’’تمہارا دماغ خراب ہے؟‘‘
’’کاہے رتنا جی؟‘‘
’’آج انیس ستمبر ہے؟‘‘
’’تو اور کیا؟‘‘
’’اوہ میرے خدا۔ میرے خدا!‘‘ میرے منہ سے سرگوشی میں نکلا میرے ہوش و حواس درست تھے۔ پاگل نہیں ہوا تھا لیکن یہ مالتی کیا کہہ رہی تھی۔ یہ ستمبر کا نہیں مارچ کا مہینہ تھا۔ چاند خان کا پہلے اٹھارہ مارچ کو رتولی جانے کا ارادہ تھا۔ لیکن اپنا کوئی کام ہونے کی وجہ سے وہ سترہ مارچ ہی کو رتولی چل پڑے تھے اور اس بات کو پانچ ماہ گزر گئے تھے۔ پانچ ماہ اگر واقعی ستمبر کا مہینہ ہے تو میرے یہ پانچ ماہ کہاں کھو گئے۔‘‘
’’مالتی! میں تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ وعدہ کرو گی کسی کو کچھ نہیں بتائو گی۔ بولو وعدہ کرو گی مالتی!‘‘
’’شکنتا کے بارے میں پوچھو گے؟‘‘
’’شکنتا…؟‘‘
’’ہاں رتن جی! شکنتا کے بارے میں بات کرو گے تو ہم کچھ نہیں بولیں گے۔ رما رانی ہمارا سر گنجا کردیں گی۔ پہلے بھی تمہاری وجہ سے پٹ چکے ہیں۔‘‘
’’شکنتا کون ہے؟‘‘
’’جاتے ہیں۔ آگئے نا اسی پر۔ ارے ہاں ہمیں سب پتا ہے، سب ہمارے ہی دشمن ہیں۔‘‘
’’نہیں میں شکنتا کے بارے میں کچھ نہیں پوچھوں گا۔‘‘
’’لو پوچھے جارہے ہو اور کہتے ہو نہیں
پوچھوں گا۔ ویسے ہماری مانو تو رتن جی! شکنتا کے پھیر میں مت پڑو۔ وہ تم سے زیادہ پاگل ہے۔ تمہیں بھی بیچ چوراہے پر مروا دے گی۔‘‘
’’تم مجھے کب سے جانتی ہو مالتی۔‘‘
’’تمہیں…؟ جب سے تم یہاں آئے ہو۔‘‘
’’میں کب یہاں آیا تھا۔‘‘
’’ہولی جلی تھی جب تم آئے تھے۔ ٹھہرو بتاتی ہوں۔‘‘ وہ انگلیوں پر حساب لگانے لگی پھر بولی۔ ’’پورے پانچ مہینے ہوگئے۔‘‘
’پانچ مہینے سے میں یہاں ہوں۔‘‘
’’تو اور کیا۔‘‘
’’کہاں سے آیا تھا میں؟‘‘
’’انجنا پور گئی تھیں رما رانی سنکھ یاترا کو وہیں تم کاشوکا کے مندر کنارے دھونی رمائے بیٹھے تھے۔ رما رانی کو دیکھا تو ماں کہہ کر ان سے لپٹ گئے۔ جمعہ استاد نے تو لٹھ ہی دے مارا ہوتا تمہارے سر پر مگر رما رانی کو اپنا رتن یاد آگیا، جیتا ہوتا تو تمہارے برابر ہوتا۔ انہوں نے جمعہ استاد کو روکا بعد میں پتا چلا کہ تم بائولے ہو۔ اور سچ مچ تم تھے بھی نرے بائولے۔ نہ کھانے کا ہوش، نہ پہننے کا! رما رانی کو رتن یاد نہ آتا تو بھلا تم یہاں لائے جاتے مگر ان کے من میں مامتا کی گنگا بہنے لگی تھی۔ وہیں تو مرا تھا ان کا رتن… میرا مطلب ہے انجنا پور!گاڑی کے نیچے آگیا تھا اور پھر رما رانی انجنا پور ہی میں اس کی ارتھی جلا کر آئی تھیں۔ مہینوں بائولی رہی تھیں اس کے لیے، حالانکہ تم جانتے ہو رتن جی! ان جگہوں پر بیٹوں سے زیادہ پیار نہیں کیا جاتا، مگر اکیلے جو تھے رما رانی کے، تینوں لڑکیاں رما رانی کی بڑی بہن اوما رانی کی ہیں۔ چاچی کہتی ہیں بچپن سے، مگر تم یہ سب کیوں پوچھے جارہے ہو؟‘‘
’’تو میں رما رانی کا رتن نہیں ہوں۔‘‘ میں نے کہا اور مالتی ہنس پڑی۔ بڑی سادہ سی عورت تھی، کہنے لگی۔
’’لو جب رتن مر ہی گیا تو تم بھلا کیسے اس کے رتن ہوسکتے ہو؟‘‘ مگر انہوں نے تمہارا نام رتن ہی رکھ ڈالا اور بڑے پیار سے تمہیں رتنا رتنا کہتی ہیں۔‘‘
’’اور جب سے میں انہی کے پاس ہوں مگر میں نے رما رانی کو اپنا نام نہیں بتایا تھا کیا۔‘‘ مالتی پھر ہنس پڑی اور بولی۔
’’بتاتے کیسے، منہ سے رال بہتی تھی، ہر وقت ناک بہتی رہتی تھی، کھانے پینے کا ہوش نہیں تھا، مہینوں کے بعد تو بولے ہو، ورنہ پہلے ہم تمہیں گونگا ہی سمجھتے تھے۔ ویسے ترویدی جی کے علاج نے تمہیں بڑا فائدہ دیا مگر تم بائولے کیسے ہوگئے تھے رتن جی…؟‘‘
میں ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں لے رہا تھا۔ جو انکشاف مجھ پر ہوا تھا، وہ بہت ہی حقیقتوں سے روشناس کرا رہا تھا مگر یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا۔ پانچ مہینے کھو گئے تھے میرے، پورے پانچ مہینے! کیسے آخر کیسے۔ کیا چکر چلایا تھا اس خبیث بھوریا چرن نے۔ اس بار کیا چکر چلا دیا تھا۔ چاند خان صاحب کو تو وہ اس بزرگ کے دیے ہوئے تعویذ کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا تھا لیکن راستہ ضرور روکا ہوگا اس نے میرا اور کامیاب ہوگیا کم بخت! خدا اسے غارت کرے۔ پتا نہیں بیچارے چاند خان پر کیا گزری ہوگی۔ کہاں کہاں مجھے تلاش کرتے پھرے ہوں گے مگر میں پاگل کیسے ہوگیا تھا۔ بڑی الجھنیں باقی تھیں ابھی لیکن کم ازکم یہ اندازہ ضرور ہوگیا تھا کہ میں کسی رتن کا ہم شکل نہیں بلکہ دماغی خرابی ہوگئی تھی میرے اندر اور بھٹکتا پھر رہا تھا کہ رما رانی مجھے یہاں لے آئی مگر میری دیوانگی کی وجہ کیا تھی۔ ایک سوال اور کیا میں نے مالتی سے۔
’’مالتی! تمہارے اس شہر کا نام کیا ہے؟‘‘
’’ارے یہ بھی نہیں یاد تمہیں!‘‘
’’بتا دو مالتی! بہت سی باتیں مجھے یاد نہیں۔‘‘
’’اب ہمیں بائولا کردو گے تم! شکتی نگر کا نام نہیں جانتے تم۔‘‘ اور میرا دل اچھل کر حلق میں آگیا۔ یہ تو وہی جگہ تھی جہاں چاند خان رہتے تھے۔ شکتی نگر! ’’یہ شکتی نگر ہی ہے نا!‘‘ میں نے بے یقینی کے انداز میں مالتی سے پوچھا۔
’’بائولا کرکے چھوڑو گے۔ لو ہم نہیں بیٹھتے تمہارے پاس جارہے ہیں۔ جسے دیکھو ہمارا مذاق اڑا وے ہے۔‘‘ وہ اٹھی اور باہر نکل گئی لیکن میرا دماغ سائیں سائیں کررہا تھا۔ بھوریا چرن صرف بھوریا چرن۔ بھلا اور کون ہوسکتا ہے ان واقعات کے پیچھے مگر چاند خان صاحب! آہ اگر یہ شکتی نگر ہی ہے تو پھر مجھے فوراً چاند خان صاحب سے ملنا چاہیے، ان کی خبر لینی چاہیے۔ بیچارے تھک ہار کر بیٹھ گئے ہوں گے۔ نجانے کس طرح مجھے ان سے الگ کردیا گیا ہوگا۔ دل بے چین ہونے لگا۔ جی تو چاہا اسی وقت باہر نکل جائوں۔ راستے تلاش کر ہی لوں گا۔ ویسے بھی شکتی نگر کے ان علاقوں سے اجنبی نہیں تھا جہاں چاند خان صاحب رہتے تھے، باہر نکلوں گا تو پتا چل ہی جائے گا۔ اس دوران کبھی اس طرف نہیں آنا ہوا تھا اور آنے کا کوئی جواز بھی نہیں تھا۔ رات نجانے کس طرح گزاری۔ بارہ بجے کے بعد اس علاقے میں مکمل سناٹا چھا گیا تھا اور ویسے بھی بس یہی لمحات ہوا کرتے تھے یہاں زندگی کے! مجھے اب پوری طرح یہ احساس ہوگیا تھا کہ بہت سی باتیں میری شناسا کیوں ہیں لیکن… لیکن یہ پانچ مہینے میری نگاہوں سے اوجھل کیسے رہے۔ روزاول ہی مجھے کیوں نہ معلوم ہوگیا کہ میں کسی اجنبی جگہ آگیا ہوں۔ مالتی کہتی تھی کہ میں پاگل ہوگیا تھا۔ ہوسکتا ہے مگر ان پانچ مہینوں نے مجھے فائدہ بھی پہنچایا تھا۔ پولیس کی نگاہوں سے پانچ مہینے تک دور رہا تھا اور اب شاید میری تلاش میں اس قدر شدت بھی نہ رہ گئی ہو۔ آہ خدا کرے چاند خان صاحب مل جائیں تو… تو ایک بار پھر ان سے درخواست کروں گا کہ مجھے رتولی لے جائیں۔ وہ کم بخت بھوریا چرن کب تک میرا راستہ روکے گا۔
رات ہی کو میں نے اپنے دل میں کچھ اور فیصلے بھی کئے تھے۔ یہ اندازہ تو مجھے ہو ہی گیا تھا کہ میں پانچ ماہ تک ذہنی عدم توازن کا شکار رہا تھا اور یہ وقت عالم دیوانگی میں گزرا ہوگا لیکن یہ بھی بڑی بات تھی رما رانی نے سب کچھ کیا تھا میرے لیے بے لوث، بے غرض! وہ جو کچھ بھی تھیں، ماں کا جذبہ ابھرا تھا ان کے دل میں، جانور تک اس جذبے میں کھوٹ نہیں رکھتے، وہ تو انسان تھیں۔ چنانچہ اب کوئی ایسی بات نہیں رہ گئی تھی جس سے پرہیز کرتا۔ اگر مجبوری ہی ہوئی تو کچھ وقت اور یہاں گزار دوں گا اور ایک بار پھر خود کو حالات سے لڑنے کے لیے تیار کروں گا۔ ہاں! اگر تقدیر ساتھ دے اور چاند خان بددل نہ ہوگئے ہوں تو ایک بار پھر ان کے ساتھ بزرگ کے مزار پر جانے کی کوشش کروں گا۔ نہ جانے رات کے کون سے حصے میں نیند آگئی۔ مگر صبح جلدی جاگ گیا تھا اور جاگنے کی وجہ وہ سنگترہ تھا جو کھلی کھڑکی کے راستے اندرآیا تھا اور زور سے میرے سینے پر پڑا تھا۔ آنکھ کھلی تو چوٹ کا احساس ہوا۔ ٹٹول کر دیکھا تو سنگترہ ہاتھ لگا۔ یہاں تو ہر چیز سے خوف کھانے کی عادت پڑ گئی تھی۔ سنگترہ پکڑے اٹھ گیا۔ خوف زدہ نظروں سے چاروں طرف دیکھا۔ کھلی کھڑکی نظر آئی اور قدم اس طرف بڑھ گئے۔ کھڑکی کے آگے گلی تھی اور گلی کے دوسری طرف ایک عمارت اور عمارت میں اس جیسی ہی کھڑکی اور کھڑکی میں ایک لڑکی سفید ساڑھی پہنے، سفید چہرہ، گھٹائوں جیسے بے پناہ بال جو نیچے نہ جانے کہاں تک چلے گئے تھے۔ اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کر ماتھے سے لگائے۔ مجھے ہی مخاطب کیا گیا تھا اور ہندو طریقے سے مجھے ہی سلام کیا گیا تھا مگر مجھے کیوں؟ اسی وقت عقب سے دروازہ پیٹا جانے لگا اور میں اچھل پڑا۔ دروازہ جس زور سے پیٹا جارہا تھا، اس میں بڑا ہیجانی انداز تھا۔ آہ شاید پھر کوئی مصیبت آگئی پھر کوئی نیا کھیل۔ سامنے والی لڑکی کچھ اشارے کررہی تھی۔ میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ آخر میں وحشت زدہ انداز میں کھڑکی کے پاس سے ہٹ آیا اور دروازے پر پہنچ گیا۔ پھر دروازہ کھول دیا۔ کشنا تھی۔ دھلی نکھری کشنا!
’’دروازہ کیوں بند کیا تھا۔‘‘ وہ غرائی۔ میں منہ کھول کر رہ گیا۔ ’’بولو دروازہ کیوں بند کیا تھا؟‘‘
’’کک… کیا ہوگیا؟‘‘ میرے منہ سے خوف زدہ سی آواز نکلی۔
’’اندھے ہیں نا ہم سب! کیوں اندھے ہیں؟‘‘ وہ مجھے دھکا دے کر اندر گھس آئی۔ بری طرح بھنائی ہوئی تھی۔ ادھر ادھر دیکھ رہی تھی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا، وہ بولی۔ ’’کیا پھینکا تھا اس نے؟ بتائو کیا چیز نشانہ باندھ کر پھینکی تھی۔‘‘
’’یہ…!‘‘ میں نے سنگترہ سامنے کردیا۔
’’سنگترہ۔‘‘ اس نے میرے ہاتھ سے سنگترہ چھین لیا۔ پھر غرائی۔ ’’تو یہ ہوتا ہے صبح ہی صبح، یوں جگایا جاتا ہے راج کمار جی کو۔ اور راج کمار جی! اب دروازہ بند اور کھڑکی کھلی چھوڑ کر سوتے ہیں۔ ارے تم پاگل ہو۔ ہیں پاگل ہو تم۔ سارے کھیل اچھی طرح جانتے ہو اور بنے ہو پاگل! میں بتائوں پاگل چاچی ہے، سمجھے پاگل ہم سب ہیں، تم ٹھیک ہو بالکل ٹھیک۔‘‘
’’مم… میں… میں…‘‘ میرے حلق سے بمشکل نکلا۔
’’چلو پھینکو اسے گلی میں، میرے سامنے پھینکو!‘‘ وہ مجھ پر جھپٹی اور میں کھڑکی کی طرف دوڑا۔ میں نے سنگترہ گلی میں پھینک دیا۔ سامنے والی کھڑکی بند ہوچکی تھی۔ اب وہاں کوئی نہ تھا۔ کشنا میرے پیچھے تھی اور میں ہونقوں کی طرح اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔
یہ سب کچھ اضطرابی انداز میں ہی ہوا تھا۔ دراصل سو کر جاگا تھا، حواس بحال نہیں ہوئے تھے۔ پھر جس ذہنی بحران سے گزر رہا تھا، اس میں قوت ارادی کچھ نہ رہ گئی تھی، چنانچہ کشنا نے جو رویہ اختیا کیا تھا، اس سے مرعوب ہوگیا اور اسی کیفیت نے میری دیوانگی کا بھرم رکھ لیا۔ مگر یہ کشنا صاحبہ ان کا انداز کیا کہہ رہا ہے! وہ اب بھی شعلہ بار نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھی۔
’’کیوں کھولی تھی تم نے کھڑکی…؟‘‘
’’میں نے نہیں کھولی تھی۔‘‘
’’ہوا سے کھل گئی ہوگی۔‘‘ اس نے طنزیہ انداز میں کہا۔
’’ہاں شاید۔‘‘
’’آنکھیں پھوڑ دوں گی تمہاری، ٹینٹوا دبا دوں گی سمجھے۔‘‘ اس نے غراتے ہوئے کہا۔ رما رانی اچانک کمرے میں داخل ہوئی تھیں۔ انہوں نے شاید کشنا کے آخری الفاظ سن لیے تھے۔
’’کیا ہوا…؟ کیا بات ہے کشنا…؟‘‘
’’کچھ نہیں۔‘‘وہ جھٹکے دار لہجے میں بولی اور پلٹ کر جانے لگی۔ رما رانی نے اس کی آستین پکڑ لی تھی۔
’’یہ تو مجھ سے بات کررہی ہے۔ دماغ میں خشکی ہوگئی ہے کیا۔‘‘
’’وہ… وہ شکنتا کیا سمجھتی ہے خود کو۔ بہت خوبصورت ہے۔ وہ سب کو پاگل بنا سکتی ہے۔ اس بے چارے پاگل کے پیچھے کیوں پڑ گئی ہے اور یہ اس کے ایک اشارے پر کیسے ہوش میں آجاتا ہے۔ اس کا ہر اشارہ کیسے سمجھ لیتا ہے۔ سنگترہ پھینک کر اسے جگاتی ہے اور یہ کھڑکی پر پہنچ کر اس کے درشن کرتا ہے۔ پوجا ہے اس کی اور ہم اسے پاگل سمجھتے ہیں۔‘‘ کشنا کا لہجہ عجیب تھا۔
رما رانی نے کھلی کھڑکی کی طرف دیکھا اور پھر کشنا کی طرف… اور پھر ایک ٹھنڈی سانس لے کر بولیں۔ ’’پاگل تو تم بھی ہو کشنا! کیا تم پاگل نہیں ہو۔‘‘ کشنا نے کوئی جواب نہیں دیا۔ رما رانی پھر بولیں۔ ’’یہ کونسی جگہ ہے کشنا! تمہیں اچھی طرح معلوم ہے۔ یہاں جیسی باتیں کرو، تم نہ جانے کہاں کی باتیں کرنے لگی ہو۔ یہاں جو کچھ ہوتا ہے، اس میں یہ کوئی معیوب بات ہے؟ منع کرسکتے ہیں ہم کسی کو… لوگ ہم پر ہنسیں گے نہیں، جو کچھ وہ کہیں گے، اس کا اندازہ ہے تمہیں؟‘‘
’’وہ اور بات ہے چاچی! پر یہ ہمارا رتنا ہے۔‘‘
’’یہ… یہ ہمارا کہاں ہے کشنا! یہ ہمارا تو نہیں ہے۔ ترویدی جی کی بات بھول گئیں۔ کہتے تھے اپنا ماضی بھول گیا ہے، اسے ماضی یاد آیا تو ہمیں بھول جائے گا۔ روک سکو گی اسے، رہ سکے گا یہ اس اجنبی ماحول میں اور اسے تم شکنجوں میں جکڑنا چاہتی ہو۔ یہ نہ ہمارا ہے، نہ شکنتا کا اور… اور… پھر کیوں دوسروں سے لڑتی ہو۔ جائو کشنا! ہوش سے کام کرو۔ مہمانوں سے ایسی باتیں نہیں کرتے۔‘‘
کشنا نے کچھ کہنا چاہا مگر نہ کہہ سکی۔ ایک لمحے رکی، مجھے گھورا پھر باہر نکل گئی۔ رما رانی خاموشی سے کھڑی مجھے دیکھتی رہیں۔ ان کے چہرے پر غم کے تاثرات نظر آرہے تھے پھر وہ آگے بڑھ کر میرے سامنے آگئیں۔ ’’کیوں رتنا… ٹھیک کہا نا میں نے، تو ٹھیک ہوجائے گا، چلا جائے گا یہاں سے، ٹھیک ہوا تو سوچے گا کیسی بری جگہ آگیا تھا۔ یہ بہت بری جگہ ہے رتنا! مگر میں تجھے اور کہاں لے جاتی رے، ماں کہہ کر لپٹ گیا تھا تو مجھ سے ارے بائولے، ماں کہہ کر تو کسی پتھر کی مورتی سے بھی لپٹ جاتا تو… تو اس کی چھاتی دھڑک اٹھتی۔ میں تو گوشت پوست کی بنی ہوں، کیا کرتی اس سمے۔ تیرے ساتھ دیوانی ہوگئی تھی مگر یہ جگہ غلط ہے۔ ہم وہ نہیں جو دوسرے ہوتے ہیں۔ میں کیا کروں۔ ہم تو وہ ہوتے ہیں جو پیدا ہوتے ہی برے کہلاتے ہیں۔ ہمیں ماں کہنا گناہ ہے۔ گالی بن جاتی ہے کہنے والے کے لیے… ڈاکو کے گھر ڈاکو پیدا ہوجائے، شریف بن سکتا ہے مگر یہاں، تجھے جونہی ہوش آیا یہاں سے چلا جائے گا تماشبین بن کر تو یہاں ہر کوئی آسکتا ہے، بیٹا یا بھائی بن کر نہیں…‘‘
میں سکتے کے عالم میں تھا۔ یہ الفاظ میرے دل کو چھو رہے تھے۔ کتنا کرب تھا ان میں، کتنی انوکھی سچائی تھی۔
’’دھت تیرے کی بائولوں کے ساتھ میں بھی بائولی بن گئی۔ چل منہ دھو، ناشتہ کرلے۔ مالتی… اری او مالتی! رتنا جاگ گیا ہے۔ چل ناشتہ بنا اس کے لیے، جا رتنا منہ دھولے…!‘‘ رما رانی باہر نکل گئیں۔ میں ٹھنڈی آہ بھر کے کمرے سے باہر آیا اور غسل خانے کی طرف چل پڑا۔ ناشتا بڑی بددلی سے کیا تھا۔ دماغ بری طرح الجھا ہوا تھا۔ رما رانی کے الفاظ نے دکھی کردیا تھا۔ کبھی خواب میں بھی اس ماحول کو نہیں دیکھا تھا۔ ابتداء میں دوسرے برے راستے اختیار کیے تھے یعنی ریس، سٹہ اور جوا وغیرہ لیکن شناسائوں میں بھی کوئی ان راستوں کا راہی نہیں تھا۔ البتہ کبھی اگر ان ناچنے گانے والیوں کے بارے میں سنا تو بہت برے انداز میں… لیکن ان کی بھی ایک زندگی ہوتی ہے جو اب میری نگاہوں کے سامنے تھی۔ وہ مجھ پر اپنا حق سمجھتی تھیں۔ کشنا نے کیسے عجیب انداز میں کہا تھا… ’’پر یہ ہمارا رتنا ہے۔‘‘ آہ! میں تو خود اپنا ہی نہیں رہا ہوں، کسی اور کا کہاں ہوسکتا ہوں۔ مگر یہ شکنتا کون ہے؟ کیسی عجیب تھی۔ انداز ایسا تھا جیسے میری اس سے بھی شناسائی رہی ہو۔
ناممکن تو نہیں تھا… پورے پانچ ماہ کا معاملہ تھا۔ کس کس سے کیا رابطے تھے۔ کون جانتا تھا۔ چاند خان سے ملنے کے لیے دل بیتاب تھا۔ وہ مل جائیں تو کچھ ہمت بندھے۔ پتا تو چلے کہ کیا ہوا تھا۔ یہ تو آسانی سے سمجھا جاسکتا تھا کہ بھوریا چرن نے رتولی جانے کا راستہ روک دیا تھا۔ مگر کیسے؟
لباس تبدیل کرلیا تھا۔ بظاہر کوئی پابندی بھی نہیں تھی کہیں باہر آنے جانے کی۔ جیب میں چالیس روپے پڑے ہوئے تھے۔ نیچے اترا اور چل پڑا۔ شکتی پور سے زیادہ واقفیت تو نہیں تھی مگر چاند خان کے محلے کا نام معلوم تھا۔ تانگے چلتے تھے۔ ایک تانگے نے مجھے وہاں اتار دیا۔ دل دھڑک رہا تھا۔ پیروں میں لرزش تھی اور اس وقت دل کو دھچکا سا لگا جب چاند خان کے مکان کے دروازے میں بڑا سا تالا لٹکا دیکھا۔ گم صم کھڑا دیکھتا رہ گیا تھا۔ ہوسکتا ہے سب لوگ کہیں گئے ہوئے ہوں۔ کچھ فاصلے پر ایک پرچون کی دکان تھی۔ ایک بزرگ وہاں بیٹھتے تھے۔ پہلے بھی انہیں دور سے دیکھا تھا۔ ان کے قریب پہنچ کر انہیں سلام کیا۔
’’وعلیکم السلام!‘‘
’’وہ سامنے والے مکان میں چاند خان رہتے تھے۔‘‘ میں نے اشارہ کرکے کہا۔
’’ایں…؟ ہاں!‘‘
’’کہیں گئے ہوئے ہیں کیا؟‘‘
’’چاند خان‘‘… بزرگ حیرت سے بولے۔
’’جی…!‘‘
’’وہ تو… وہ تو خلد آشیانی ہوگئے عزیزی، کہیں باہر سے آئے ہو؟‘‘ بزرگ نے کہا۔
کیا بتائوں کیسا سماعت شکن دھماکا ہوا تھا دل و دماغ میں! بزرگ کا جواب سمجھ میں نہیں آرہا تھا یا سمجھ کر نہیں سمجھنا چاہتا تھا۔ ہمت کرکے دوبارہ کہا۔ ’’کیا فرمایا آپ نے…؟‘‘
’’آئو میاں! بیٹھو، کہیں باہر سے آئے ہو۔ عزیز ہو ان کے…؟‘‘
’’کیا ہوا انہیں، میں سمجھا نہیں۔‘‘
’’جنت نشیں ہوگئے وہ تو… محلے کی عظمت تھے۔ بخدا پیشہ برا پایا تھا مگر محلے کی ناک تھے۔ درویش صفت، امیروں کی جیب تراش کر غریبوں کی ضرورتیں پوری کرتے تھے۔ کسی کی تکلیف نہیں دیکھ سکتے تھے۔ آدھی رات کو پہنچ جائو، چاند خان دامے درمے سخنے حاضر ہیں۔ مجال ہے کسی ضرورت مند کو…!‘‘
’’انتقال ہوگیا ان کا…؟‘‘ میں نے لرزتی آواز میں پوچھا۔ بزرگ بہت باتونی معلوم ہوتے تھے۔
’’ہاں میاں عرصہ ہوا۔ ریل کا حادثہ ہوا تھا۔ ستر افراد ہلاک ہوئے تھے اور بے شمار زخمی! خدا جانے ان میں سے کون کون…!‘‘
’’ریل کے حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے وہ…‘‘
’’ہاں عزیز! مگر کئی ماہ ہوگئے اس بات کو… تم کہیں ملک سے باہر گئے ہوئے تھے؟‘‘
’’حادثہ کہاں ہوا تھا؟‘‘
’’رنجنا پور جنکشن سے کوئی چھ کوس پیچھے۔ سنا ہے قیامت خیز حادثہ تھا۔ سنا ہے ریل کے ڈبے…!‘‘ اس سے آگے بزرگ نے کیا کیا کہا سمجھ میں نہیں آیا۔ بہت کچھ یاد آرہا تھا… آہ… وہی وقت تھا… بالکل وہی وقت تھا۔ اس رات انہوں نے مجھے سلا دیا تھا۔ میں سو گیا تھا۔ پھر سورج چمکا تھا، کچھ شور سنا تھا میں نے اور اس کے بعد… اس کے بعد میرے پانچ ماہ گم ہوگئے تھے۔ رما رانی نے مجھے شکتی پور میں ہی پایا تھا۔ یہی بتایا تھا مالتی نے… حالات سمجھ میں آرہے تھے۔ حادثے نے میرا دماغ الٹ دیا ہوگا اور چونکہ میرا کوئی وارث تو تھا نہیں اس لیے نہ جانے کہاں کہاں مارا پھرا ہوں گا اور پھر رما رانی…
’’محترم…! خان صاحب کے کچھ اور ساتھی بھی یہاں رہتے تھے…‘‘ میں نے آواز پر قابو پا کر کہا۔
’’ہاں! بہت سے تھے۔ بہت سارے تھے مگر جب بادشاہ ہی نہ رہا، رعیت کیا رہتی! جس کا جدھر منہ اٹھا، چلا گیا۔ اب تو تالا پڑا ہے کوئی چار مہینے سے، کوئی آتا ہی نہیں ادھر۔‘‘ بزرگ نے جواب دیا۔
آخری امید بھی ٹوٹ گئی تھی۔ چاند خان صاحب کے بارے میں تو اندازہ ہوگیا تھا کہ بے چارے میری ہی وجہ سے موت کی نیند جا سوئے۔ ذلیل بھوریا چرن اس تعویذ کی موجودگی میں خان صاحب کو تو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکا، لیکن ریل کا حادثہ بلاوجہ ہی تو نہیں ہوا ہوگا، ضرور اس میں اس کی بھی کوئی چال ہوگی۔ آہ! کتنے لوگ مارے گئے میری وجہ سے، ان سب کا خون میری ہی گردن پر تو ہے۔ اگر میں برے راستوں کا انتخاب نہ کرتا، اگر غلاظت کی تلاش میں قدم آگے نہ بڑھاتا، زندگی کو اس انداز میں گزارنے کی کوشش کرتا، جیسے اس دنیا میں رہنے والے نیک نام لوگ گزارتے ہیں تو یہ سب کیوں ہوتا۔ بہت بڑا گناہ گار تھا میں… نجانے کس کس کا قاتل…! اپنے ہاتھوں سے بھی تو میں نے قتل کیے تھے۔ وہ بے چارے جیل کے مظلوم سپاہی جو صرف اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں پیٹ کے لیے، رزق کے لیے، براہ راست میرے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ آہ! گناہوں کی تعداد بڑھتی ہی جارہی تھی۔ نجانے آگے کیا کیا کچھ کرنا پڑے گا۔ خان صاحب کے کسی ساتھی کا پتا چل جاتا تو کم ازکم اس سے رتولی کے بارے میں معلومات حاصل کرلیتا۔ ان صاحب کا نام بھی مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ جن صاحب کے پاس خان صاحب مجھے لے جارہے تھے۔ کاش! اس وقت توجہ ہی دے لیتا۔ خان صاحب سے وہ تمام تفصیلات پوچھ لیتا تو کم ازکم کوئی صحیح اندازہ ہی ہوجاتا۔ یہی غنیمت تھا کہ رتولی کا نام معلوم ہے۔ وہاں جانے کی کوشش کی جاسکتی ہے لیکن… لیکن خان صاحب کے بغیر کیا کروں گا۔ کیا کہوں گا کسی سے، کسے تلاش کروں گا۔ کیا یہ سب ممکن ہے۔ آہ! کیا یہ سب ممکن ہے۔ پھر دل میں ایک خیال ابھرا۔ خان صاحب کے گھر کا جائزہ تو لیا جائے، ہوسکتا ہے وہاں کوئی ایسی نشاندہی ہوجائے، جس سے کچھ اور تفصیلات معلوم ہوں۔ یہ خیال اچانک ہی دل میں پیدا ہوا تھا اور اتنی شدت اختیار کرگیا تھا کہ دل بے اختیار خان صاحب کے مکان میں داخل ہونے کو چاہنے لگا… وہاں سے ہٹا تو بزرگ بولے۔
’’ارے نہیں… نہیں میاں! ایسے کیسے جاسکتے ہو۔ گنے کا رس منگواتا ہوں تمہارے لیے، دو گلاس پیو، دل ٹھنڈا ہوجائے گا۔ بڑی بُری خبر سنائی ہم نے تمہیں لیکن تعجب ہے پانچ ساڑھے پانچ مہینے ہوگئے اس واقعہ کو تو… تم نے خبر ہی نہ لی۔ آخر ان سے تمہارا کیا رشتہ تھا۔‘‘ ان باتونی بزرگ کو بڑی مشکل سے ٹالا۔ گنے کے رس سے معذرت کی۔ جھوٹ بولنا پڑا تھا اس سلسلے میں۔ انہوں نے چائے کی پیشکش بھی کردی۔ لیکن بس جان چھڑا کر وہاں سے ہٹا تھا۔ دل پر ایک بار پھر غم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے۔ یہ احساس دل سے دور نہیں ہورہا تھا کہ چاند خان جیسا مخلص آدمی میری وجہ سے ہلاکت کا شکار ہوا۔ مکان کے قریب پہنچا۔ سامنے سے گزرا، بغلی سمت آگیا، دوسرے مکانات میں گھرا ہوا تھا یہ مکان۔ البتہ چھ مکان آگے جاکر راستہ دوسری جانب مڑ جاتا تھا اور یہاں سے خان صاحب کے مکان کے احاطے کے پچھلے حصے میں پہنچا جاسکتا تھا جسے میں نے دیکھا ہوا تھا… پتلی سی گلی تھی اور غیر آباد رہتی تھی۔ پھر احاطے کی دیواریں بھی اتنی اونچی نہیں تھیں کہ انہیں عبور نہ کیا جاسکتا۔ ویسے احاطے کے پچھلے حصے میں ایک چھوٹا دروازہ بھی تھا لیکن وہ بھی شاید اندر ہی سے بند تھا۔ ادھر ادھر دیکھا اور یہ جائزہ لینے کے بعد کہ کوئی میری جانب متوجہ نہیں ہے، احاطے کی دیوار پر چڑھ کر اندر کود گیا۔ جگہ جگہ گھاس اگی ہوئی تھی۔ کافی بڑی بڑی ہوگئی تھی۔ رات کی رانی کے پودے مرجھا گئے تھے۔ خان صاحب کو پھلواری لگانے کا شوق تھا۔ عقبی حصے میں طرح طرح کے گملے رکھے ہوئے تھے۔ سب کے سب اسی طرح تھے لیکن مرجھائے ہوئے! مکان پر ہولناک ویرانی برس رہی تھی۔
اس وقت جب میں یہاں تھا، خان صاحب کی موجودگی میں یہ مکان بڑا پررونق رہتا تھا۔ ان کے شاگرد ہنسی مذاق کرتے رہتے تھے، قہقہوں کی آوازیں ابھرتی رہتی تھیں۔ خان صاحب کا انداز ان کے لیے بڑا مشفقانہ ہوتا تھا۔ اب یہ ساری چیزیں موجود نہیں تھیں اور ایک عجیب سی ویرانی ہر شے پر چھائی ہوئی تھی۔ آگے بڑھا اور اندرونی حصے میں داخل ہوگیا۔ مکان کا سارا سامان غالباً نکال لیا گیا تھا اور اب وہ خالی پڑا ہوا تھا۔ خان صاحب کے کمرے میں داخل ہوا… وسیع و عریض کمرہ، کونے میں بچھا ہوا تخت، ایک جانب پڑی ہوئی مسہری، یہ چیزیں موجود تھیں۔ مسہری پر البتہ بستر نہیں تھا۔ دیواریں ننگی کردی گئی تھیں۔
خان صاحب جگہ جگہ نظر آرہے تھے۔ ہر سرسراہٹ پر یہ احساس ہوتا تھا کہ اب کوئی آواز سنائی دے گی لیکن کچھ نہیں تھا۔ جو تصور لے کر اس گھر میں داخل ہوا تھا، یہاں آتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا تھا۔ بھلا اس ویران کھنڈر میں اب مجھے کیا مل سکے گا۔ کسی نے کچھ نہیں چھوڑا تھا۔ گردن جھٹکی۔ مایوسی نے دل میں گھر کرلیا تھا۔ بھوریا چرن ابھی تک مجھ پر حاوی تھا۔ جو کچھ اس نے کہا تھا، وہ کر دکھایا تھا۔ کہا تھا کم بخت نے کہ سکون سے نہیں جینے دے گا۔ سکون تو خیر کیا ہی ملتا، جینا بھی اتنا مشکل ہوگیا تھا کہ ناقابل بیان ہے۔ وہ کمرہ یاد آیا جس میں خان صاحب نے مجھے ٹھہرایا تھا اور جو ایک رات عجب ہولناک حادثے کا شکار ہوا تھا، قدم اس جانب اٹھ گئے اور میں اس کمرے کے سامنے پہنچ گیا۔ بالکل ویسا ہی تھا۔ دروازے، کھڑکیاں غائب، تھوڑے تھوڑے سے ٹکڑے دیواروں میں پھنسے ہوئے، کیسی ہولناک کہانی تھی اس رات کی…‘‘
میں کمرے میں داخل ہوگیا اور چند قدم آگے بڑھا ہی تھا کہ دفعتاً ایک بار پھر میرا دل دھڑکنا بھول گیا۔ دل کے کسی گوشے میں یہ تصور نہیں تھا کہ بھوریا چرن یہاں نظر آجائے گا۔ وہ اپنے منحوس وجود کے ساتھ دیوار سے ٹیک لگائے، پائوں پھیلائے بیٹھا مجھے گھور رہا تھا۔ وہی بڑی بڑی آنکھیں، وہی ہولناک شکل، میں سکتے کے سے عالم میں اسے گھورتا رہ گیا۔ ایک لمحے کے لیے احساس ہوا تھا کہ کہیں یہ میرا وہم تو نہیں ہے لیکن دوسرے لمحے اس کی آواز سنائی دی۔
’’آجا… آجا… تیرا ہی انتظار کررہے تھے ہم، کیسی گزر رہی ہے؟‘‘
میں اس کی آواز پہچانتا تھا۔ صورت تو میری نگاہوں کے سامنے ہی تھی۔ کچھ دیر تک تو منہ سے آواز ہی نہ نکل سکی لیکن پھر سارے بدن میں چنگاریاں سی بھر گئیں۔ میں نے غرائے ہوئے لہجے میں کہا۔ ’’اور اب یہ تیرا مسکن ہے بھوریا چرن…‘‘ جواب میں اس نے قہقہہ لگایا اور بولا۔ ’’تھوکتے بھی نہیں ہیں ایسی گندی جگہوں پر، محل دومحلے کھڑے ہوئے ہیں ہمارے لیے، یہی تو کمی ہے تیرے اندر بالک! سمجھا ہی نہیں تو نے ہمیں، پہچانا ہی نہیں… ارے پاپی! ہم تو خود چل کر تیرے پاس نہیں گئے تھے، خود ہی تیرا من ہم سے ملنے کو چاہا تھا۔ بات کی تھی تو نے ہم سے، ہم نے تو ساری سچائی سے تجھ سے کہہ دیا تھا کہ تو ہمارا کام کردے، ہم تیرا کام کردیں گے۔ تجھ پر ہی مصیبت ٹوٹی تھی۔ کون سا ایسا دھرماتما تھا تو، تھوڑا سا کام کردیتا ہمارا… ہمیں وہ شکتی حاصل ہوجاتی جس کے لیے ہم برسوں سے کوششیں کررہے ہیں اور اس کا تھوڑا سا حصہ تجھے مل جاتا… مگر وہ تھوڑا سا حصہ بھی اتنا ہوتا کہ تیرے پُرکھوں نے بھی خواب میں نہ دیکھا ہوتا۔ لیکن تو بھی… تو بھی عجب ہے۔ ساری رسی جل گئی، پر بل ہیں کہ کھلتے ہی نہیں۔ اب بھی سمے ہے۔ ارے ہم نے تو تجھ سے کہہ دیا تھا کہ اب بھی سمے ہے، مان لے ہماری بات، چھوٹا سا کام ہے اور صلہ جو ملے گا تجھے بس کیا کہیں اس کے بارے میں تجھے، کیا کہہ سکتے ہیں تجھ سے…!‘‘
میں نے ایک گہری سانس لی اور گردن ہلاتے ہوئے کہا۔ ’’اتنا کھو چکا ہوں بھوریا چرن کہ اب کھونے کے لیے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ بس ایک جذبہ ہے میرے سینے میں… وہ یہ کہ وہ گندا کام نہیں کروں گا جو تو چاہتا ہے۔ اس جذبے کو نہیں کھوئوں گا بھوریا چرن۔ یہ جذبہ میرا ایمان بن چکا ہے۔ یہ جذبہ اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دوں گا، چاہے کتنا ہی نقصان اٹھانا پڑ جائے۔ تو زیادہ سے زیادہ کیا کرسکتا ہے کتے! میری جان ہی لے سکتا ہے نا مجھ سے، مجھے اس جان سے بھلا کیا دلچسپی ہوسکتی ہے جو بالکل ہی بے جان ہے۔
کوئی مقصد نہیں ہے میری زندگی کا، کچھ نہیں رہا میرے پاس۔‘‘ بھوریا چرن کے ہنسنے کی آواز میرے کانوں میں ابھری۔ پھر اس نے کہا۔ ’’جان لیتا تو کب کی لے سکتا تھا۔ بہت مان ہے تجھے اپنے ایمان پر، بہت جذبے ہیں تیرے سینے میں، ارے پگلے! جان تو میں نے کسی کی بھی نہیں لی۔ تیرے ماتا، پتا جیتے ہیں، تیری بہن زندہ ہے، تیرا بھائی جسے تو نے سمندر پار بھگا دیا، جی رہا ہے اور تو بھی جیتا ہی رہا ہے۔ ریل کا حادثہ ہوا تھا، ارے خود تھوڑی ہوا تھا۔ انجن اتار پھینکا تھا ہم نے پٹری سے، پٹری ہی توڑ دی تھی۔ وہ سورما جو تیرے ساتھ تھا، بہت بڑا بنتا تھا۔ تعویذ گلے میں ڈالے رہتا تھا۔ ٹھیک ہے ہم اس تعویذ کی وجہ سے اس کے پاس نہیں جاسکتے تھے مگر ریل کے پاس تو جاسکتے تھے۔ کیسی رہی…؟‘‘
میں خونی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا۔ یہ طے ہوجانے کے بعد کہ ریل کے حادثے میں اس کا ہاتھ تھا، ستر آدمی مرے تھے صرف میری وجہ سے اور لاتعداد زخمی ہوئے تھے، میرا جنون عروج پر پہنچ گیا۔ میں نے دیوانگی کے عالم میں اس پر چھلانگ لگا دی۔ یہ کتا اگر میرے ہاتھ آجائے تو اپنے دانتوں سے اس کا نرخرہ ادھیڑ ڈالوں گا۔ نہیں چھوڑوں گا اسے، نہیں چھوڑوں گا۔
خاصی اونچی چھلانگ تھی اور ایک لمحہ گزرنے والا تھا کہ میں اس پر جا پڑتا… لیکن… لیکن… میرے اور اس کے درمیان نجانے کیا چیز حائل ہوگئی، نجانے وہ کیا تھا۔ میں خلاء میں ہی معلق رہ گیا… میں نے ہاتھ، پائوں مارے تو میرے ہاتھ، پائوں جیسے کسی لیس دار چیز میں جکڑتے چلے گئے۔ تب میں نے اس لیس دار چیز کو دیکھا۔ موٹی رسی کی مانند بے رنگ جالے تھے۔ مکڑی کے جالے، لیس دار بدن سے چپک جانے والے…! اتنے مضبوط کہ انہوں نے میرے جسم کا پورا بوجھ سنبھال لیا تھا۔
میں ان لیس دار جالوں سے لٹک کر بے بس ہوگیا۔ جتنے ہاتھ، پائوں چلائے، اتنے ہی یہ جالے مجھ سے لپٹتے چلے گئے اور پھر یہ کیفیت ہوگئی کہ میں جنبش بھی نہیں کرسکتا تھا۔ ہاں! بھوریا چرن مجھے نظر آرہا تھا۔ وہ اسی طرح پائوں پھیلائے مجھ سے بے تعلق بیٹھا ہوا تھا۔ یہ گھنائونے لیس دار جالے چھت سے لے کر زمین تک پھیلے ہوئے تھے اور بے رنگ ہونے کی وجہ سے میں نے انہیں نہیں دیکھا تھا۔ پھر ان جالوں پر کوئی شے متحرک نظر آئی۔ اس تحریک سے میرا بدن بھی جالوں میں لپٹا ہل رہا تھا۔ آہ! یہ مکڑیاں تھیں۔ دس گیارہ مکڑیاں جو ان جالوں پر نمودار ہوئی تھیں اور اپنی پیلی بدنما آنکھوں سے مجھے گھورتی ہوئی مختلف سمتوں سے چلتی ہوئی میری سمت بڑھ رہی تھیں۔ ان کا حجم کوئی ایک بالشت ہوگا۔ میں ان کے پورے جسم کو بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ بھوریا چرن نے کہا۔
’’یہ میرے بیر ہیں‘‘ میری حفاظت کرتے ہیں۔ میں جاگ رہا ہوں یا سو رہا ہوں، یہ میرے لیے جاگتے رہتے ہیں۔ تم ایسا کبھی مت سوچنا۔ میرا کبھی کچھ نہ بگڑے گا، تمہیں نقصان ہوجائے گا۔ اگر ہاتھی بھی میری طرف بڑھے تو یہ جالے اسے لپیٹ لیں اور وہ ہل نہ پائے۔ یہ بیر اسے آنکھ جھپکے چٹ کرجائیں۔ یہ کالا جادو ہے بالک! کوئی بچوں کا کھیل نہیں۔ مگر کیا کروں تیرے بھاگ ہی خراب ہیں۔ دھرم دھرم کی رٹ لگائے ہوئے ہے۔ ارے شکتی ہی دھرم ہے۔ مایا شکتی ہو یا کایا شکتی! اس کے بناء کچھ نہیں ہوتا۔ کیا دے گا تیرا دھرم تجھے۔ کیا بگاڑ لے گا تیرا دھرم میرا…! میرا گیان مہان ہے۔‘‘
’’چاند خان پر تیرا جادو کیوں نہ چلا، ان کا کچھ کیوں نہ بگاڑ لیا تو نے! اس تعویذ کے پاس جاتے ہوئے تیری جان کیوں نکلتی تھی بھوریا چرن…‘‘ میں نے طنزیہ لہجے میں کہا اور وہ مکروہ ہنسی ہنس پڑا۔
’’وہ کہاں جیتا ہے۔ ساٹھ، ستر اور لے مرا اپنے ساتھ۔‘‘ اس نے کہا۔
’’مجھے اس مزار پر جانے دو۔ پھر تیری شکتی دیکھوں۔‘‘
’’خطرناک راستے بند کرنا بھی عقلمندی ہے اور عقل بھی ایک شکتی ہوتی ہے بائولے! اب بھی مان لے میری، چھوٹا سا کام ہے، بہت چھوٹا سا اس کے بدلے تجھے جو کچھ ملے گا تو سوچ بھی نہیں سکتا۔ پھاگن دوار پہنچا دے مجھے بس ایک بار، ایک ہی بھاونا ہے من میں! بدلے میں بتا دے کیا چاہیے۔ جیون بھر کا سکھ، شانتی، دھن، دولت کے ڈھیر، سنسار جھکا دوں گا تیرے چرنوں میں۔ جو مانگے گا دوں گا بول کے تو دیکھ۔‘‘
’’بھوریا چرن! اتنا کچھ ہے تیرے قبضے میں…؟‘‘ میں نے کہا۔
’’اس سے بھی زیادہ بالک! اس سے بھی زیادہ۔ بھوریا چرن نے جیون بھر کیا کیا ہے۔ ساری عمر گیان لینے میں بتائی ہے۔ بڑے بڑے رشی منیوں کے چرنوں کی دھول پھانکی ہے اور اب سمے آگیا ہے۔ سمے آگیا ہے کہ…‘‘ وہ کسی خوش آئند خیال میں کھو گیا پھر چونک کر بولا۔ ’’ہٹو رے۔ ہٹو اس کے پاس سے… آجا بچہ نیچے اتر آ…!‘‘ اور اچانک میں جالے کی گرفت سے آزاد ہوگیا۔ مکڑیاں واپس چلی گئی تھیں۔
’’بھوریا چرن! اتنا کچھ ہے تیرے قبضے میں اور تو سیڑھیاں چڑھ کر پیر پھاگن کے مزار تک نہیں جاسکتا۔ اس کے لیے تجھے کسی اور کا سہارا چاہیے۔‘‘ میں نے طنزیہ کہا اور اس کا چہرہ آگ ہوگیا۔
’’یہ تیرے سوچنے کی بات نہیں ہے۔‘‘
’’ہے بھوریا چرن! تیرا علم گندا ہے۔ سفلی ہے۔ ناپائیدار ہے اور وہ ایک پاک بزرگ کا مزار ہے۔ میں نہیں جانتا کہ تو وہاں کیوں جانا چاہتا ہے لیکن ایک بات ضرور جانتا ہوں تیرا ناپاک وجود اس پاک جگہ نہیں جانا چاہیے۔ کم ازکم میں اس کا ذریعہ نہیں بنوں گا۔ ہم مقدس جگہوں کا احترام اپنی زندگی سے زیادہ کرتے ہیں۔‘‘ وہ طیش کے عالم میں کھڑا ہوگیا۔ ’’ہے رے کتے کی پونچھ! ارے تیری ٹیڑھ تو ہم ایسے نکالیں گے کہ یاد رکھے گا۔ جا مر۔ بھاگ جا یہاں سے۔ اپنی ضد کے مزے چکھ! ٹھیک ہوگا، خود ٹھیک ہوگا۔‘‘
’’اللہ مالک ہے۔ جو ہوگا دیکھا جائے گا۔‘‘ میں نے کہا اور بھوریا چرن دندناتا ہوا وہاں سے باہر نکل گیا۔ میرے بدن میں سنسنی پھیلی ہوئی تھی، دماغ جھنجھنا رہا تھا۔ اب اس خالی مکان میں رکنا بیکار تھا۔ ماضی کیسا بھی رہا ہو، ایک بات مجھے اب خاص طور سے محسوس ہورہی تھی وہ یہ کہ مصیبت میں پڑ کر، حالات سے اکتا کر میں نے ایک آدھ بار ضرور سوچا تھا کہ کب تک ان حالات کا مقابلہ کروں۔ اگر اس ناپاک سادھو کا کام کر ہی دوں تو کیا حرج ہے۔ میں تو وجہ بھی نہیں جانتا۔ یہ بھی نہیں معلوم مجھے کہ بھوریا چرن کو اس عمل سے کیا فائدہ حاصل ہوگا لیکن سب کچھ سوچنے کے باوجود جب کبھی اس کا سامنا ہوتا اور وہ مجھے دھمکیاں دے کر اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کہتا تو میرا ایمان تازہ ہوجاتا تھا اور میرا دل کسی طور اس بات کے لیے تیار نہیں ہوتا تھا کہ میں اس کی اس ناپاک خواہش کی تکمیل کردوں، نجانے اس کے پس پردہ کیا ہے… بہرحال میں واپس پلٹا، دیوار پر چڑھ کر دوسری طرف کود گیا اور پھر آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس علاقے ہی سے باہر نکل آیا۔ چاند خان صاحب کے لیے دل بری طرح دکھ رہا تھا۔ بیچارے بالآخر اسی عذاب کا شکار ہوگئے تھے جس عذاب کا شکار حکیم سعداللہ ہوئے تھے۔ تعویذ کی وجہ سے فوری طور پر تو بھوریا چرن، چاند خان صاحب کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا لیکن ریل کا حادثہ ایک ایسا کام تھا جس سے اس کے مقصد کی تکمیل ہوگئی تھی اور معمول کے مطابق کوئی ایسا شخص اس راز سے واقف نہیں رہ سکا تھا جس سے بھوریا چرن کا براہ راست واسطہ ہو اور پھر خان صاحب نے تو میری مشکل حل کرنے کی کوشش کی تھی۔ خدا ان کی مغفرت کرے، اپنی نیکیوں کا شکار ہوگئے تھے۔ آہ! انہوں نے بہت احسانات کیے تھے ہم پر، کم ازکم انہوں نے میرے بھائی کو ایسی مشکل سے نکال دیا تھا اور اس کی جان بچ گئی تھی، ورنہ مجھے ایک عظیم صدمے سے دوچار ہونا پڑتا۔ بہن، ماں، باپ اور ماموں ریاض کا خیال آتا تو دل اس طرح سینے میں پھڑپھڑانے لگتا کہ بیان نہیں کرسکتا ہوں، آنکھیں ہر ذی روح کا جائزہ لینے لگتیں اور یہ دل چاہتا کہ ان میں سے کوئی میرا اپنا ہو، اچانک ہی مجھے ماموں ریاض نظر آجائیں یا میرے والد
نظر آجائیں۔ دوڑ کر ان سے لپٹ جائوں، سب کے بارے میں پوچھوں تاکہ دل کو سکون ہو، یہ تو پتا چل جائے کہ وہ کس حالت میں ہیں۔ کہیں سے کچھ نہیں معلوم ہورہا تھا ان کے بارے میں، کیسا جدا ہوا تھا میں ان سے، لیکن خیر دیکھنا یہ تھا کہ یہ عذاب کب تک میری زندگی پر نازل رہے گا۔ آخر ایک نہ ایک دن تو میری شنوائی بھی ہوگی۔ انتظار کروں گا اور اگر موت بھی آگئی تو سوچوں گا کہ یہ ان گناہوں کا کفارہ تھا جو میں نے کیے۔ بہرطور غلط نہیں تھا، میں نے بھی تو انسانیت سے دور کی باتیں سوچی تھیں۔ پھنس گیا تھا اس جنجال میں! یہ میری تقدیر ہے مگر اب کروں کیا…
بے شک واقعات کو کئی مہینے گزر گئے تھے، پانچ چھ مہینے میرا تحفظ ہوا تھا اور میں خطرات سے دور رہا تھا۔ پانچ چھ مہینے میرے لیے فائدہ مند بھی ثابت ہوئے تھے، نجانے کہاں کہاں جاتا اور نجانے کب پولیس کے ہاتھ لگ جاتا، لیکن یہ خطرہ ابھی تو دور نہیں ہوا تھا۔ میرے کیس کی فائل عارضی طور پر بند ضرور ہوگئی ہوگی لیکن ہندوستان بھر کی پولیس کو اس قاتل کی تلاش ضرور ہوگی جس نے بہت سارے قتل کیے۔ جیل توڑی، سنتری کو ہلاک کیا۔ ایسے مجرم کو آسانی سے نظرانداز تو نہیں کیا جاسکتا۔ بے چارے شاہ صاحب جنہوں نے میرا ساتھ دیا تھا، جو کچھ بھی کرسکتے تھے، کیا تھا۔ خود بھی سوچتے ہوں گے کہ میں کیسا آدمی تھا۔ ریحانہ بیگم، سرفراز وہ سارے ہی لوگ یقیناً اس سوچ کا شکار ہوں گے بلکہ ہوسکتا ہے مجھ سے تھوڑی سی قربت کی بناء پر ان پر بھی کوئی مشکل وقت آگیا ہو۔ پوچھ گچھ تو ہوتی ہوگی ان سے اور ہوسکتا ہے پولیس باقاعدہ ان کی نگرانی کرتی ہو۔ کون کون میری وجہ سے مشکل کا شکار ہوگا، کچھ نہیں کہہ سکتا تھا اور اب یہ بے چاری رما رانی تھیں جنہوں نے مجھے پانچ چھ مہینے اپنے ساتھ رکھا تھا اپنے بیٹے کی حیثیت سے اور جو کہتی تھیں کہ یہ بہت بری جگہ ہے اور میں ہوش میں آکر یہاں سے چلا جائوں گا۔ میں وہاں سے نکلنا ضرور چاہتا تھا لیکن یہ سوچ کر نہیں کہ وہ کوئی بری جگہ ہے۔ مجھ سے برا اس وقت اس روئے زمین پر کون تھا بلکہ یہ احساس تھا مجھے کہ کہیں ان کی اس چھ مہینے کی خدمت کا صلہ میں انہیں ان کی تباہی کی شکل میں نہ دوں۔ میرے منحوس قدم جہاں بھی پہنچیں گے، وہاں کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔ جہاں تک بھوریا چرن پر طنز کا معاملہ تھا، میں نے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا تھا۔ وہ اپنی تمام تر قوتوں کے باوجود ایک بزرگ کے مزار تک کا فاصلہ نہیں طے کرسکتا تھا، لیکن اتنا میں ضرور جانتا تھا کہ باقی جو کچھ وہ کرسکتا ہے، ضرور کرے گا۔
انہی سوچوں میں گم آگے بڑھتا رہا۔ ایک سڑک سے گزر رہا تھا۔ اس خوف کا احساس بھی تھا کہ کہیں پولیس کی نگاہ مجھ پر نہ پڑ جائے، دفعتاً ہی ایک گاڑی کی آواز سنائی دی۔ گاڑی میرے قریب سے گزر رہی تھی۔ سست ہوئی اور پھر رک گئی۔ میں نے غور بھی نہیں کیا تھا لیکن ابھی چند لمحات بھی نہیں گزرے تھے کہ ایک شخص میرے پاس پہنچ گیا اور اس نے کہا۔’’رتن جی…‘‘ میں نے چونک کر اسے دیکھا، بالکل اجنبی چہرہ تھا۔ میں سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھنے لگا تو اس نے انگلی سے گاڑی کی طرف اشارہ کرکے کہا۔
’’وہ بلاتی ہیں…‘‘ میں نے گاڑی کی طرف دیکھا۔ پچھلی کھڑکی سے شکنتا کا چہرہ جھانک رہا تھا۔ وہی چہرہ جسے میں نے دیکھا تھا اور اس کے بعد کشنا کے عتاب کا شکار ہوا تھا۔ ایک لمحے کے لیے جھجک پیدا ہوئی لیکن پھر اچانک ہی دل میں یہ خیال آیا کہ دیکھا تو جائے یہ شکنتا کا کیا معاملہ ہے۔ آگے بڑھ کر قریب پہنچ گیا۔ شکنتا پچھلی سیٹ پر تھوڑا سا پیچھے کھسک گئی اور اس نے مسکراتے ہوئے دروازہ کھول دیا۔ میں نے کھڑکی سے صرف اس کا چہرہ دیکھا تھا، لباس نہیں دیکھا تھا۔ بہرطور میں جھجکتا ہوا اس کے قریب بیٹھ گیا اور بیٹھنے کے بعد میں نے اس کا لباس دیکھا۔ سفید شلوار، سفید قمیض میں ملبوس تھی۔ بال ایک خاص انداز میں بنائے ہوئے تھے۔ گھٹنوں پر کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ اس نے ڈرائیور سے کہا۔ ’’چلو…‘‘ ڈرائیور وہی آدمی تھا جو مجھے بلا کر لایا تھا۔ اس نے اپنی جگہ بیٹھ کر گاڑی آگے بڑھا دی۔ میں سکتے کے سے عالم میں تھا۔ شکنتا نے مسکراتی ہوئی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ایک شوخ سی چمک تھی۔ درحقیقت اس کے چہرے پر بھرپور نگاہ ڈالنے کی جرأت مجھے ابھی تک نہیں ہوئی تھی۔ پہلی بار اسے نیند سے جاگ کر دیکھا تھا۔ نجانے کیا لگتی تھی وہ! دوسری بار ہلکی سی جھلک دیکھی تھی اور دل میں یہ احساس پیدا ہوا تھا کہ وہ لاکھوں میں ایک ہے۔ اتنے خوبصورت چہرے کم ہی دیکھنے میں آتے ہیں۔ بس! اس کے چہرے کی تفصیل میں جانا خواہ مخواہ ذہن کی بربادی ہے لیکن اب اس کے قریب آکر میں اس سے یہ معلوم کرنے کی ہمت نہیں پا رہا تھا کہ میرا اور اس کا کیا معاملہ ہے۔
’’گردھاری جی! ایسے پتھرائے ہوئے کیوں بیٹھے ہو۔ کیا ہوگیا ہے تمہیں…؟‘‘ میں نے چونک کر اس کی صورت دیکھی اور گھبرائے ہوئے لہجے میں بولا…
’’گگ… گردھاری… نن… نہیں… مم… میرا…‘‘ وہ بے اختیار ہنس پڑی اور پھر بولی۔
’’بس مٹی کے مادھو ہو میرے! تمہیں اس سنسار میں آنے کی کیا ضرورت تھی…؟‘‘ میں نے ایک ٹھنڈی سانس لی، ہونٹوں پر خودبخود مسکراہٹ آگئی۔ جی چاہا کہ کہوں کہ واقعی اس دنیا میں میرا وجود سب سے زیادہ بے قیمت ہے مگر کاش! میں اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہ آنے کا اعلان کرسکتا۔ گاڑی زیادہ دور نہیں گئی۔ ایک پتلی سی گلی میں مڑی اور گلی کے آخری سرے پر بنے ہوئے مکان کے سامنے جا رکی۔ اچھا خاصا مکان تھا۔ چھوٹی چھوٹی سرخ اینٹوں سے بنا ہوا بڑا سا دروازہ تھا جس سے گاڑی اندر داخل ہوسکتی تھی سو ایسا ہی ہوا۔ ایک گیراج نما جگہ گاڑی رک گئی اور شکنتا دوسری طرف کا دروازہ کھول کر نیچے اتر گئی۔ میں ساکت بیٹھا رہا تو وہ ہنستی ہوئی دوسری سمت آئی اور اس نے میرا دروازہ کھول دیا۔ پھر بولی۔
’’تشریف لایئے مہاراج! داسی آپ کی سیوا کرنا چاہتی ہے۔‘‘ میں گھبرائے ہوئے انداز میں نیچے اتر گیا۔ ڈرائیور اپنی سیٹ پر خاموش بیٹھا ہوا تھا۔ شکنتا نے میرا ہاتھ پکڑا اور تین سیڑھیاں عبور کرکے پیتل کی کیلوں لگے دروازے کے پاس پہنچ گئی جس کا ایک پٹ کھلا ہوا تھا۔ دروازے سے اندر داخل ہوئے تو پتھروں ہی کے فرش کی ایک ڈیوڑھی نظر آئی اور اس کے دوسرے دروازے سے باہر نکلے تو بڑا سا صحن تھا جس کے دونوں سمت درخت جھول رہے تھے۔ آگے ایک وسیع و عریض دالان تھا اور دالان کے تین سمت کمروں کے دروازے، سامنے والے کمرے کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ شکنتا مجھے ساتھ لیے ہوئے اسی دروازے سے اندر داخل ہوگئی۔ بہت قیمتی قالین بچھا ہوا تھا۔ صوفے پڑے ہوئے تھے، میزیں تھیں اور بہت سا خوبصورت آرائش کا سامان، اس نے چھت میں لگا ہوا پنکھا چلا دیا اور مجھ سے بولی…
’’پدھاریے۔‘‘ میں صوفے پر بیٹھ گیا۔ اس نے ساتھ لائی ہوئی کتابیں ایک طرف رکھیں اور پھر میرے سامنے بیٹھ کر مسکراتی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگی۔ پھر بولی۔
’’یہاں آکر حیرت نہیں ہوئی۔‘‘ میں نے سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھا تو کہنے لگی۔
’’دیکھو میرے سامنے تم یہ مٹی کے مادھو مت بنے رہا کرو اور کون سی زبان سے کہوں تم سے، بائولے ہوگے کسی اور کے لیے، میرے لیے تم بائولے مت رہا کرو۔ اچھی طرح جانتی ہوں تمہیں۔‘‘
’’شش… شکنتا، شکنتا جی! میں… میں…‘‘
’’جی… جی آگے کہئے؟‘‘
’’کیا کہوں…؟‘‘
’’اچھا! یہ بتائو کیا پیو گے؟‘‘
’’کک… کچھ بھی نہیں۔‘‘
’’ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔ میرے گھر آئے ہو۔‘‘ وہ ہنسی اور پھر بولی۔
’’مانتے ہو نا اسے میرا گھر…‘‘
’’پتا نہیں۔‘‘ میں آنکھیں بند کرکے گردن ہلاتا ہوا بولا اور وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی پھر اس نے کہا۔
’’ہاں! یہ میرا اصل گھر ہے۔ ٹھہرو تمہیں شربت تو پلا ہی دوں۔ مجھے بھی زیادہ دیر یہاں نہیں رکنا، ابھی آئی۔‘‘ وہ اٹھی اور دروازے سے باہر نکل گئی۔ یہ سب کچھ بھی بے حد پُراسرار تھا، عقل میں نہ آنے والا، شکنتا تو اس بازار کی لڑکی تھی اور رما رانی کے کوٹھے کے سامنے والے کوٹھے میں رہتی تھی۔ پھر یہ گھر یہ تعلیمی لباس، یہ کتابیں، ڈرائیور… یہ سب کچھ کیا ہے۔ آہ! جتنے پراسرار واقعات ہیں، میری ہی تقدیر میں لکھے ہوئے ہیں۔ نجانے یہ کیا نیا کھیل ہے، کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا لیکن شکنتا کے بارے میں جاننے کی خواہش بھی رکھتا تھا۔ ویسے بھی اس کے اندر ایک انوکھی کشش کا احساس ہوتا تھا۔ وہ کچھ ہی دیر کے بعد واپس آگئی۔ ہاتھوں میں ٹرے اٹھائے ہوئے تھی جس میں شربت کے دو گلاس رکھے ہوئے تھے۔ اس نے ایک گلاس میرے سامنے رکھ دیا۔
’’حیران بیٹھے ہو۔‘‘ اس نے مسکرا کر کہا۔
’’تم کون ہو شکنتا…؟‘‘
’’لوگ مجھے شکنتا کہتے ہیں، لیکن میں رتن کی رتنا ہوں۔ بہت بار جی چاہا کہ تمہیں یہاں لائوں مگر گوپال جی گوپیوں کے بیچ سے نکلتے ہی نہیں۔ یہ آج کہاں بھٹک گئے تھے۔‘‘
’’میں…؟‘‘
’’تو اور کون…؟ ایک بات کہوں رتن جی۔‘‘
’’کہو۔‘‘
’’سپنا، موہنی اور سونیا بھی یہی کہتی ہیں اور میں بھی۔ تم پاگل نہیں ہو، پاگل بنے ہوئے ہو اور جانے کسے پاگل بنانے کے لیے۔ مجھے نہیں بتائو گے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’تم نے یہ روپ دھارن کیوں کیا ہے؟‘‘
’’اس سے پہلے تمہیں کچھ بتانا ہوگا شکنتا۔‘‘ میں نے لہجہ بدل کر کہا اور وہ چونک پڑی۔ غالباً اسے میرا یہ بدلا ہوا لہجہ عجیب لگا تھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت نظر آنے لگی، پھر اس نے سنبھل کر کہا۔ ’’کیسی بات، کون سی بات۔‘‘
’’تم مجھے کب سے جانتی ہو؟‘‘
’’نجانے کب سے، شاید اس سے بھی پہلے سے، جب تم مجھے رما رانی کے ہاں نظر آئے تھے۔ یقین کرو رتن! جب میں نے تمہیں وہاں دیکھا تو لگا جیسے میرا کوئی سامنے والے گھر میں پہنچ گیا ہو، تم مجھے اس گھر کے لگے ہی نہ تھے۔ رادھا سے پوچھا تو رادھا نے بتایا کہ رما جی یاترا کو گئی تھیں، وہاں کسی مندر کے پاس تم انہیں مل گئے اور وہ تمہیں ساتھ لے آئیں۔ رادھا کی بات من کو جچی نہیں تھی، پر تم اپنے ہو کر اجنبی اجنبی سے لگے۔ سب لوگ کہتے تھے تم بائولے ہو، پر میرا من کبھی نہ مانا۔ رتن بھگوان کی سوگند تم اتنے اپنے لگے ہو کہ کبھی کبھی یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہوں کہ میرا تم سے پچھلے جنموں کا کوئی ناتا ہے۔‘‘
’’یہ جگہ جہاں تم اس وقت ہو اور شکنتا تمہارا یہ روپ…؟‘‘
’’ہاں! تمہیں حیرت ہوئی ہوگی۔ اس کے پیچھے ایک چھوٹی سی کہانی ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’رتن! جہاں تم رہتے ہو، وہاں کی باتیں اب تو سب کی سب جان گئے ہوگے۔ بڑی عجیب سی جگہ ہے وہ، میری ماں بملا وتی بہت سخت ہیں۔ میرے پتا جی کا نام مجھے کبھی نہیں بتایا گیا۔ سنا ہے کہ بہت بڑے آدمی ہیں۔ بملا وتی سے اب ان کا کوئی رشتہ نہیں رہا۔ مگر انہیں یہ معلوم تھا کہ میں ان کی اولاد ہوں۔ انہوں نے مجھے ساتھ لے جانا چاہا تو میری ماں بملا وتی نے صاف انکار کردیا۔ بات بہت آگے بڑھی اور بہت سے جھگڑے بیچ میں آئے، پھر طے یہ ہوا کہ میں اپنی ماں کے ساتھ ہی رہوں گی مگر ناچ گانے کا کام نہیں کروں گی۔ میرے پتا نے میرا خرچ سنبھال لیا، مجھے یہ گھر دیا اور میری پڑھائی کا بندبست کیا۔ یہ بات میری ماں اور پتا کے بیچ طے ہوگئی تھی کہ میرے پتا کبھی اپنا نام سامنے نہیں لائیں گے اور مجھے کبھی میری ماں سے دور نہیں کریں گے۔ ماں نے آج تک مجھے میرے پتا کا نام نہیں بتایا۔ میں نے چونکہ اپنے پتا کو دیکھا بھی نہیں ہے اس لیے میرے من میں ان کی کوئی تصویر نہیں ابھرتی۔ اپنے گھر سے میں پہلے یہاں آتی ہوں۔ کپڑے بدلتی ہوں۔ پہلے اسکول جاتی تھی، اب کالج جاتی ہوں۔ کالج میں کوئی نہیں جانتا کہ میری اصلیت کیا ہے۔ کبھی کبھی کالج کی سہیلیاں میرے پیچھے پڑتی ہیں تو میں انہیں یہاں لے آتی ہوں۔ ماں کو پہلے بتا دیتی ہوں اور وہ ماں بن کر میری سہیلیوں کا سواگت کرتی ہیں۔ سارے کام ایسے ہی چل رہے ہیں۔ کالج سے واپسی پر میں یہیں آتی ہوں، لباس بدلتی ہوں اور پھر ماں کے پاس پہنچ جاتی ہوں۔ پتا نہیں آگے میرے ماتا اور پتا کے بیچ کیا منصوبہ ہے مگر یہ بات طے ہے کہ میری ماں مجھے ناچ گانے کے دھندے سے نہیں لگائے گی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرے پتا کبھی میرے سامنے آکر میرے سر پر ہاتھ رکھ دیں۔ رتن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ تمہارا رما رانی سے کوئی سمبندھ نہیں ہے۔ رتن میں نے ہمیشہ تمہیں اپنے سپنوں میں بسایا ہے۔ سوگند کھا چکی ہوں کہ اس سے پہلے بھی تم میرے سپنوں میں تھے جب تم رما رانی کے پاس نہیں آئے تھے۔ مانو یا نہ مانو! بات کہانیوں جیسی ہے، پر ہے۔ اور میں کسی بھی قیمت پر تمہارا ساتھ نہیں چھوڑ سکتی اور کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟‘‘
میں حیرانی سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کی کہانی انوکھی تھی، بڑی عجیب مگر ایسا بھی ہوتا ہوگا۔ مجھے اب اتنی واقفیت تو نہیں تھی اس ماحول اور اس دنیا کے بارے میں، شربت کا گلاس میں نے خالی کردیا اور پھر بولا۔ ’’اب اٹھو گی نہیں یہاں سے شکنتا…؟‘‘
’’ابھی نہیں۔‘‘
’’دیر ہوگئی تو تمہاری ماں پریشان نہ ہوگی؟‘‘
’’جو ہوتا ہے ہونے دو۔ بڑی مشکل سے تو یہ موقع ملا ہے، مجھے تم اکیلے ہاتھ لگے۔ جب بھی ملتے ہو، کوئی نہ کوئی سر پر سوار ہوتا ہے اور پھر وہ کشنا، اسے تو میں اچھی طرح جانتی ہوں۔ آفت کی پڑیا ہے اور تم سے پریم کرتی ہے۔ مگر اس کا پریم میرے پریم جیسا نہیں ہے۔ اس کی ماں رما رانی تمہیں اپنے بیٹے جیسا مانتی ہے۔ اس طرح تم اس کے بھائی ہوئے مگر یہاں رشتے نہیں ہوتے اور پھر منہ بولے رشتے… ان کا تو کوئی بھائو ہی نہیں۔ رتن سمے تھوڑا ہے، تم سے بہت سی باتیں کرنا چاہتی ہوں۔ رتن دیکھو میرا تمہارا جیون بھر کا سمبندھ ہوسکتا ہے۔ ہم تم ایک ساتھ رہ سکتے ہیں۔ تم وہاں کے نہیں ہو جہاں رہتے ہو اور میں… میں نے تو تمہیں اپنے بارے میں بتا ہی دیا۔ میرے پتا نے جو کچھ کیا ہے، میرے لیے کیا ہے، اس سے تمہیں یہ بات معلوم ہوگئی کہ میں کوٹھے والی کبھی نہ بنوں گی اور جب پتا جی میرے سر پر ہاتھ رکھیں گے تو… تو میں انہیں تمہارے بارے میں بتا دوں گی۔ ان سے کہہ دوں گی کہ اگر وہ مجھے عزت کی زندگی دینا چاہتے ہیں تو رتن کو میرا جیون ساتھی بنا دیں۔ نہیں تو میرے لیے کوٹھا بھلا ہے۔ شرط لگا دوں گی ان پر۔ اور وہی ہوگا جو میں چاہوں گی۔‘‘ وہ مجھے دیکھنے لگی۔
چلو شکنتا! چلیں یہاں سے۔‘‘
’’رتن! تم مجھے اپنے بارے میں نہیں بتائو گے۔‘‘
’’کیا بتائوں شکنتا! کیا بتائوں تمہیں اپنے بارے میں۔‘‘
’’تم کون ہو…؟‘‘
’’ایک سوال میں تم سے ہی کرتا ہوں شکنتا!‘‘
’’کیا۔‘‘
’’اگر مجھے اپنے بارے میں کچھ معلوم ہوتا تو… تو میں یہاں کیوں ہوتا۔ کون اپنا گھر چھوڑ کر ایسی جگہ رہتا۔‘‘
’’تم… تم پاگل تو نہیں ہو۔‘‘
’’میں پاگل ہوگیا تھا شکنتا! اب نہیں ہوں۔ مجھے ہوش ضرور آگیا ہے مگر یہ یاد نہیں کہ میں کون ہوں۔ میرا گھر کہاں ہے۔ میرے ماتا پتا کون ہیں۔ میں اپنی کھوج میں ہوں شکنتا! ان لوگوں کو اپنے ہوش کے بارے میں بتانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ کیا ملے گا اس سے بلکہ یہ ممکن ہے یہ جگہ بھی چھن جائے۔ میرے پاس تو کوئی ٹھکانہ بھی نہیں ہے، کہاں جائوں گا میں۔‘‘ میری آواز بھرا گئی۔ شکنتا مجھے حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔ اس نے میری باتوں پر یقین کرلیا تھا۔
’’بھگوان کرے تمہیں سب کچھ یاد آجائے مگر خود کو اکیلا کیوں سمجھتے ہو، میں جو ہوں۔ سنو! میں روز کالج جاتی ہوں۔ یہیں سے جاتی ہوں، یہیں واپس آتی ہوں، تم روز یہاں آجایا کرو۔ ہم کچھ وقت ساتھ گزاریں گے اور پھر وہاں جاکر تم مجھ سے اجنبی ہوجایا کرو۔ اس طرح میرے من کو شانتی رہے گی اور کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا۔‘‘
’’خطرہ پیدا ہوجائے گا شکنتا! تمہارے لیے بھی اور میرے لیے بھی۔ ہاں کبھی کبھی ہم مل لیا کریں گے۔ میں خود یہاں آجایا کروں گا!‘‘
’’جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ شکنتا نے کہا۔
’’میں چلوں۔‘‘
’’ہاں جائو۔ میں کچھ دیر کے بعد جائوں گی تاکہ کسی کو شبہ نہ ہوجائے۔‘‘ اس نے مجھے بڑی چاہت سے رخصت کیا تھا۔ میرے دل پر بڑے بوجھ تھے۔ انوکھی کہانیوں کے بوجھ، انوکھے واقعات کے بوجھ، خان صاحب کی موت، ریل کا حادثہ، منحوس بھوریا چرن سے ملاقات، اس کے الفاظ، اس کے کام کے سلسلے میں اپنی استقامت! یہ ساری باتیں ذہن منتشر کررہی تھیں اور پھر شکنتا! انوکھی کہانی تھی اس کی۔
واپس آگیا۔ کوئی اور نئی بات نہ ہوئی۔ شام ہوگئی، ماحول بدل گیا، رشتے بدل گئے، چہرے بدل گئے۔ مہمانوں کے لیے ہار لینے نکلا تھا،ہار لے کر واپس آرہا تھا کہ ساری جان آنکھوں میں سمٹ آئی، جو دیکھا ناقابل یقین تھا۔ کیا میں جو کچھ دیکھ رہا ہوں درست ہے۔ کیا یہ ماموں ریاض ہی ہیں؟
آنکھیں دھوکا نہیں دے رہی تھیں۔ یہ ان صورتوں میں سے ایک صورت تھی جو آنکھوں کی حسرت بن چکی تھیں۔ ماموں ریاض ہمارے ماموں ہی نہیں دوست بھی تھے۔ اتنا اچھا وقت گزرتا تھا ان کے ساتھ کہ اب یاد بھی کرتا تو یقین نہیں آتا تھا۔ مگر وہ تنہا نہیں تھے۔ ان کے ساتھ تین اور آدمی بھی تھے۔ ایک لمبے تڑنگے نوابوں جیسے حلیے کے صاحب، باریک ململ کا کڑھا ہوا کُرتا پہنے، سلک کی شیروانی جس کے سارے بٹن کھلے ہوئے تھے۔ دودھ جیسا سفید رنگ، تلوار کٹ سیاہ مونچھیں، سر پر کالی ترچھی ٹوپی، چوڑی دار پاجامہ، لوفر شوز جن کی ’’چررچرر‘‘ شور کے باوجود سنائی دے رہی تھی۔ ہونٹوں پر پان کی دھڑی جمی ہوئی۔ دوسرے دو بھی کسی حد تک ایسے ہی لباس میں ملبوس تھے البتہ ماموں ریاض شلوار قمیض پہنے ہوئے صاف ستھرے نظر آرہے تھے مگر ان صاحب کے ساتھ چلتے ہوئے ان کا انداز بھی مودبانہ نظر آتا تھا۔
دل نے پورا یقین کرلیا کہ یہ ماموں ریاض ہی ہیں۔ بدن میں پھریری سی آئی۔ پائوں آگے بڑھے۔ جی چاہا دوڑ کر لپٹ جائوں۔ اتنا روئوں کہ آنکھیں آنسوئوں کے ساتھ بہہ جائیں مگر عقل نے روکا۔ اپنے بارے میں کچھ اندازہ ہے مسعود، ہاتھوں میں پھولوں کے ہار کے پُڑے دبے ہوئے ہیں۔ ایک بری جگہ رہتا ہے، حرام کی کمائی پر جی رہا ہے۔ کیا لگ رہا ہے اس کا علم ہے اور پھر… اس کے بعد کیا ہوگا وہی سب کچھ نا جس سے بچنا چاہتا ہے۔ آہ! مگر ماموں کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ پتا تو لگے کہ وہ شکتی پور میں کب آئے۔ امی اور ابا کہاں ہیں، سب کیسے ہیں۔ انہیں محمود کے بارے میں بتائوں، نہ جانے امی اور ابا کا کیا حال ہوگا۔
’’رتنا…!‘‘ کسی نے مجھے پکارا اور میں چونک پڑا۔ گھوم کر دیکھا مالتی تھی… ’’یہاں کھڑے سو رہے ہو۔ وہاں رما رانی انتظار کر رہی ہیں تمہارا۔‘‘
’’مالتی! تم یہ ہار لے جائو۔ مجھے کچھ کام ہے۔‘‘
’’ارے لے کر جائو دوڑتے ہوئے میں دوسرے کام سے جارہی ہوں!‘‘ مالتی نے کہا اور گردن جھٹک کر آگے بڑھ گئی۔ میں رک کر ان لوگوں کو دیکھتا رہا۔ وہ سامنے والے کوٹھے کی سیڑھیاں چڑھنے لگے۔ یہ اطمینان ہوگیا کہ وہ لوگ بملاوتی کے مہمان ہیں۔ پہلے ہار دے آئوں اس کے بعد آجائوں گا اور پھر کچھ سوچوں گا۔ تیزی سے آگے بڑھا اوپر پہنچا تو شریر کشنا نظر آئی۔ زرق برق جوڑے میں ملبوس سرخی پائوڈر سے سجی ہوئی، آنکھوں میں کاجل کے ڈورے سجے ہوئے تھے۔
’’گجرے لائے ہو…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’ہاں! اس میں ہیں۔ یہ سنبھالو مجھے کچھ کام ہے۔‘‘ میں نے اسے پُڑے دینے کی کوشش کی اور وہ پیچھے ہٹ گئی۔
’’مجھے بھی کام ہے۔ میرے ساتھ آئو۔‘‘
’’کشنا! لے لو جلدی سے بڑا نقصان ہوجائے گا۔‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔
’’نہ رتن جی! آئو نا مجھے بھی کام ہے تم سے۔ مالتی نہیں ہے ورنہ تمہیں تکلیف نہ دیتی۔‘‘ وہ واپس مڑ گئی۔ رما رانی، رادھا اور لکشمی ہال کمرے میں تھیں جہاں طبلے کی تھاپ اور سارنگی کے ساتھ گھنگھرو چھنک رہے تھے۔ مجبوراً میں کشنا کے ساتھ کمرے میں داخل ہوگیا۔ کشنا نے پُڑے کھولے، گجرے نکالے اور پھر موتیا کے پھولوں کا ایک ہار مجھے دے کر بولی۔ ’’اسے میرے بالوں میں سجائو۔‘‘
’’کشنا! میں…؟‘‘ میں نے پھر خوشامد کی۔
’’باندھو رتن۔ پھول لگانے سے تم پتی نہیں بن جائو گے میرے۔ چلو لگائو۔‘‘ مجھے اندازہ تھا کہ وہ مجھے ایسے نہیں چھوڑے گی، مجبوراً اس کے بالوں میں پھول سجائے، اس نے کلائیوں کے گجرے اٹھا کر مجھے دیے۔ ’’انہیں میرے ہاتھوں میں سجائو۔‘‘
’’تم مجھ پر ظلم کررہی ہو کشنا…!‘‘
’’تم نے بھی تو ہم پر ظلم کررکھا ہے نہ جانے کب سے۔ باندھو بھئی دیر ہورہی ہے۔‘‘ خاصی دیر لگی، اس سے پیچھا چھڑا کر میں پھر نیچے بھاگا۔ پوری گلی میں نظر دوڑائی۔ وہ لوگ نظر نہیں آرہے تھے۔ اطمینان ہوا کہ وہ بملاوتی یعنی شکنتا کے کوٹھے پر ہیں۔ اب کیا کروں۔ کیا اوپر چلا جائوں۔ مگر پھر… پھر کیا کروں گا۔ ماموں کے سامنے اس طرح نہیں جانا چاہتا تھا۔ نہ جانے کیا ہوجائے۔ ذرا بھی کسی کو اندازہ ہوگیا میرے بارے میں تو شاید اس بار پولیس مجھے گرفتار کرنے کی زحمت بھی نہ کرے گی۔ دیکھتے ہی گولی مار دی جائے گی، کیونکہ اب میں صرف دو آدمیوں کا قاتل نہیں تھا بلکہ پولیس کے دو افراد بھی میرے ہاتھوں مارے جا چکے تھے۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
کالا جادو - پارٹ 5
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
