کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 5

 

کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 5

رائیٹر :ایم اے راحت

میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا اور شکنتا سنجیدہ ہوگئی۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
‎’’تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں ہے رتن! بس کچھ دن ہی جاتے ہیں، جب میں یہ جگہ چھوڑ دوں گی۔ بملا وتی جی پریشان ہیں، ہیرا جو نکل رہا ہے ان کے ہاتھ سے، مگر میرے پتا جی انہیں میرے وزن کے برابر ہیرے تول کر دے دیں گے۔ کہہ دیا ہے انہوں نے بملا وتی جی سے اور پھر رتن! ایک نئی مثال قائم ہوجائے گی، اس جگہ پیدا ہونے والی کوئی لڑکی شریفوں کی دنیا میں پہنچ جائے گی۔ ناک بھوں چڑھانے والوں کے منہ سیدھے ہوکر رہ جائیں گے۔ لوگ اس جگہ کو اندھا کنواں کہتے ہیں، جس میں کوئی بھی کہیں سے آکر گر تو سکتا ہے نکل کر روشنی کی دنیا میں نہیں جاسکتا، میں تو ہر طرح سے خوش نصیب ہوں کہ باہر بھی جائوں گی اور میرے من کا سکھ بھی مجھے مل جائے گا۔‘‘ اس نے محبت بھری نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا اور اس کی اس آرزو نے مجھے دکھی کردیا۔ کم ازکم اس مسئلے میں وہ خوش نصیب نہیں ہے کیونکہ جسے اس نے اپنے من کا سکھ سمجھا ہے، وہ کانٹوں بھری سیج ہے، اس کی اپنی زندگی میں کوئی سکھ نہیں ہے وہ کسی کا کیا سکھ بن سکتا ہے۔ مگر یہ سب کچھ اس سے کہنا بیکار تھا، کچھ دیر اس کے پاس رکا، اس کی باتیں سنتا رہا اور پھر وہاں سے چلا آیا۔

 روشن گلی کا تاریک دن ہر گھر پر مسلط تھا۔ رما رانی شاید واپس آچکی تھیں، مجھے کوئی بھی نہ ملا اور میں نے اپنے کمرے میں آکر دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ بستر پر سیدھا سیدھا لیٹ گیا اور دماغ میں واقعات کا طوفان میل چل پڑا۔ اب تو رونے کو بھی جی نہیں چاہتا تھا، اتنا رو چکا تھا کہ آنسو بے مقصد ہوگئے تھے۔ ماموں ریاض کے بارے میں کچھ معلوم ہونے کی آخری آس بھی ٹوٹ گئی تھی۔ اب کچھ نہیں ہوسکتا تھا۔ معمول میں کوئی فرق نہیں آیا تھا۔ شام ہوئی رات ہوگئی لیکن اب میری قوت برداشت جواب دے گئی تھی۔ اس سے زیادہ یہاں رکنا ممکن نہیں تھا۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ کسی سے رشتہ قائم ہوجائے، کسی سے ٹوٹ جائے لیکن بھوریا چرن مجھے نہیں چھوڑے گا، کہیں نہیں چھوڑے گا۔ وہ ہر جگہ پہنچ سکتا ہے۔ مجھے اپنے کام پر آمادہ کرنے کے لیے وہ ہر گرُ آزما سکتا ہے۔ یہاں بہت سے لوگ تھے۔ ہر ایک کا اپنا معاملہ تھا۔ کسی کو بھی میری وجہ سے نقصان پہنچ سکتا تھا۔ البتہ ایک اندازہ میں بارہا لگا چکا تھا۔ بھوریا چرن نے اب تک صرف ان لوگوں کو صفحۂ ہستی سے مٹایا تھا جو میری کہانی سے یا اس سے واقف ہوتے تھے یا جو میرے اس مسئلے کے لیے کچھ کرنے پر آمادہ ہوتے تھے۔ جن لوگوں کو اس بارے میں کچھ نہیں معلوم ہوتا تھا، وہ محفوظ رہتے تھے۔ پھر بھی خطرہ تو رہتا ہے، یہاں مجھے بہت سی پریشانیاں تھیں۔ ضمیر اس ماحول کو برداشت نہیں کررہا تھا۔ یہ لوگ کچھ بھی تھے، میرے حق میں برے نہیں تھے۔ اگر میری وجہ سے انہیں نقصان پہنچا تو کچھ نہیں کرسکوں گا ان کے لیے۔ شکنتا اور کشنا کا معاملہ تھا، پولیس تھی، نہ جانے کیا کیا تھا… یہاں سے اب نکل جانا چاہیے۔ آخری فیصلہ کرلیا، بہت وقت گزرا تھا یہاں، عالم بے ہوشی میں اور اب عالم ہوش میں رما دیوی کے احسانات بھی تھے مجھ پر۔ جانے سے پہلے ان کا شکریہ ادا کرنا ضروری تھا۔ ایک کاغذ اور قلم تلاش کیا میں نے اور لکھنے بیٹھ گیا۔ میں نے لکھا۔
‎رما رانی جی!

‎بڑے فخر سے، بڑے مان سے میں آپ کو ماتا جی کہہ سکتا ہوں۔ اس دن آپ نے کہا تھا کہ میں ہوش میں آئوں گا تو اس جگہ کو برا سمجھوں گا اور یہاں سے چلا جائوں گا۔ میں اس وقت ہوش میں آچکا تھا۔ سب کچھ جان چکا تھا۔ سب کچھ سمجھ چکا تھا۔ رما جی! اس دنیا کو میں نے بہت زیادہ نہیں دیکھا۔ جتنا دیکھا ہے، وہ مجھے بتاتا ہے کہ ماں کسی شکل میں ہو، ماں ہوتی ہے۔ میرا مسئلہ کچھ اور ہے۔ میں ایک مسلمان لڑکا ہوں اور اپنی غلط کاریوں کے عذاب سے گزر رہا ہوں۔ میں جہاں جاتا ہوں، وہاں میری نحوست میرے سرپرستوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔ کئی بار کا تجربہ ہے اور میں اپنی اس گھر میں اپنی نحوستیں نہیں چھوڑنا چاہتا، اس لیے یہ گھر چھوڑ رہا ہوں۔ اگر میں ان نحوستوں کو شکست دے سکا تو ایک بار عقیدت کے پھول لے کر آپ کے گھر ضرور آئوں گا اور آپ کو بھری محفل میں ماں کہہ کر پکاروں گا، کیونکہ آپ اس قابل ہیں کہ آپ کو ماں کہا جائے۔
‎آپ کا بدنصیب…رتن!
‎یہ کاغذ تہہ کرکے تکیے پر رکھا، باہر نکلا تو مالتی نظر آئی۔ میں نے اسے روکا۔
‎’’مالتی! کچھ پیسے ہیں تمہارے پاس…؟‘‘
‎’’کتنے رتن جی…؟‘‘
‎’’دوچار سو۔‘‘

‎’’یہ دو سو ہیں اور لادوں؟‘‘
‎’’نہیں! بس کافی ہیں۔‘‘ میں نے کہا اور پیسے جیب میں ڈال کر باہر نکل آیا۔ بہت افسردہ تھا۔ دنیا کے لیے یہ بہت بری جگہ تھی لیکن مجھے یہاں بہت پیار ملا تھا، بڑی اپنائیت ملی تھی۔ دل دکھ رہا تھا اس جگہ کو چھوڑتے ہوئے۔ سیدھا ریلوے اسٹیشن کا رخ کیا اور جو پہلی ٹرین آئی، اس میں بیٹھ گیا۔ یہ معلوم کیے بغیر کہ یہ کہاں جارہی ہے۔

‎ریل میں طرح طرح کے لوگ بیٹھے ہوئے تھے، ہمیشہ ہی ہوتے تھے۔ یہ میرا پہلا سفر تو نہیں تھا۔ یہ سب مجھ سے کتنے مختلف ہیں۔ بیشک ان کے ساتھ مسائل ہوں گے لیکن مجھ سے مختلف۔ یہ ان کا حل تو پا سکتے ہیں۔ میری مشکل کا کوئی حل تو دُور دُور تک نہیں ہے۔ میرے ذہن میں تو کوئی راستہ ہی نہیں آتا۔ نہ جانے میری انتہا کیا ہے؟ اب تو درد ہی دوا بنتا جا رہا تھا۔ اتنی مشکلیں آ گئی تھیں زندگی میں کہ آنے والی کسی مشکل کا خوف باقی نہیں رہ گیا تھا۔ ہاں اتنا ضرور کر سکتا تھا کہ کسی اور کو اپنی مشکل کا شکار نہ ہونے دوں اور یہ کر رہا تھا میں۔ ان مشکلات میں جینا سیکھ رہا تھا۔ مگر ان محبتوں کا کیا کرتا جو دِل کے ہر گوشے میں جاگزیں تھیں۔ ان پیاروں کو کیسے بھول سکتا تھا جن کے ساتھ ہوش کی صبح ہوئی تھی۔ سچی بات ہے کہ اب تو زندگی سے دلچسپی بھی نہیں رہ گئی تھی۔ مجھ پر بہت سے مقدمے قائم تھے۔ ہو سکتا ہے اب تو مجھ پر کوئی انعام بھی رکھ دیا گیا ہو، گرفتار ہو جائوں تو کچھ برا بھی نہ ہوگا مگر وہ منحوس مجھے مرنے تو دے۔
‎آنکھوں میں غنودگی سی آ گئی۔ شاید کچھ نیند کے جھونکے بھی آئے تھے، قریب بیٹھے ہوئے اُدھیڑ عمر شخص نے ہمدردی سے ایک طرف سرکتے ہوئے کہا۔
‎’’نیند آوت رہے بیرا۔ لو لیٹ جائو۔ سو جائو۔ ہم جاگت رہیں۔‘‘
‎’’نہیں بابا جی۔ شکریہ آپ کوتکلیف ہوگی۔‘‘
‎’’نا پوت نا۔ کاہے کی تکلیف سفر ہے کتنا، کٹ جاوے گا لیٹ جائو۔‘‘
‎’’آپ مجھ سے باتیں کریں باباجی، چپ چاپ بیٹھا ہوا تھا اس لیے نیند کے جھونکے آنے لگے۔‘‘ میں نے مسکرا کر کہا۔
‎’’تمہاری مرضی!‘‘
‎’’آپ کہاں جا رہے ہیں بابا جی…‘‘
‎’’بیکانیر، ہماری بٹیا کی سسرال ہے، ہُواں اُسے لینے جاوے ہیں!‘‘
‎’’کہاں کے رہنے والے ہیں۔‘‘
‎’’گائوں ہمار رتولی رہے۔ سقّے کا کام کریں ہیں ہُواں۔ بیس گھر لگا رکھے ہیں، مولا گزر کرا دیوے ہے۔‘‘ معمر شخص نے کہا مگر اس کے الفاظ میرے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ رتولی کا نام میرے لیے بڑی اہمیت کا حامل تھا۔ میں نے کسی قدر بے صبری سے پوچھا۔
‎’’آپ رتولی کے رہنے والے ہیں؟‘‘
‎’’ہاں بیرا کیوں۔‘‘
‎’’کیا نام ہے آپ کا۔‘‘
‎’’امام بخش۔‘‘

‎’’بابا امام بخش آپ تو وہاں رہنے والے سب لوگوں کو جانتے ہوں گے؟‘‘
‎’’وہاں پُرکھوں سے آباد ہیں۔ اب نئی نگری بس گئی ہے، ہُواں کچھ نئے لوگ آباد ہوئے ہیں۔‘‘
‎’’وہاں ایک بہت نیک بزرگ رہتے تھے۔ بڑے سچے اور دیندار آدمی تھے میں ان کا نام بھول گیا ہوں۔‘‘
‎’’پُرانے آباد تھے؟‘‘
‎’’ہاں! بہت پرانے۔‘‘ میں نے اُمید بھرے لہجے میں کہا۔
‎’’بڑے اچھے اچھے منوئی آباد ہیں ہُواں۔ ابراہیم نانا ہیں، حمید اللہ خان ہیں، علیم الدین خان مرحوم تھے، گلاب علی تھے، بے چارے ہندو مسلمانوں کے جھگڑے میں مارے گئے۔‘‘
‎دماغ میں چھناکہ سا ہوا۔ ایک نام شناسا تھا سو فیصدی چاند خان نے یہی نام لیا تھا۔ علیم الدین خان آہ یہی نام تھا۔ میں نے بے اختیار کہا۔ ہاں علیم الدین خان، علیم الدین خان۔‘‘
‎’’فوت ہوگئے بے چارے دمہ دَم لے کر ٹلا، دَمے کے مریض تھے اور پھر عمر بھی اسّی سال ہوگئی تھی۔‘‘
‎’’انتقال ہوگیا ان کا؟‘‘ میں نے ڈوبتی آواز میں پوچھا۔
‎’’لو۔ آج کی بات ہے؟ سات آٹھ سال ہوگئے کوئی رشتے دار تھے تمہارے؟‘‘
‎میں نے کوئی جواب نہیں دیا، عجیب سی کیفیت ہو رہی تھی، روشنی اندھیرا، روشنی اندھیرا یہی ہوا تھا آج تک۔
‎’’وہاں، وہاں ایک پرانی مسجد تھی جس میں کسی نامعلوم بزرگ کا مزار تھا۔‘‘ بالآخر میں نے کہا۔

‎’’اسی پر تو جھگڑا چلا تھا۔ کم ذات ہریا لال نے سرکار سے آٹھ بیگھہ زمین خریدی تھی اور پرانی مسجد کی زمین بھی اسی زمین کے بیچ آ گئی تھی۔ ہریا لال وہاں آبادی کرنا چاہتا تھا سو اس نے مسجد پر بھی نظر ڈالی اور مسلمان اُٹھ کھڑے ہوئے بس بھیّا لٹھ چلے، سر کھلے، چھ آدمی مارے گئے۔ چار مسلمان دو ہندو، پولیس آگئی۔ جھگڑا بہت بڑھا پھر مقدمہ چلا اور فیصلہ ہریا لال کے حق میں ہوگیا۔ جس کی لاٹھی اسی کی بھینس، سرکار بھی انہی کی۔ وکیلوں نے کہا کہ مسجد پرانی ہے اور مسلمان اسے استعمال بھی نہیں کرتے، اس لیے ہریا لال کو اجازت دے دی جائے کہ وہ اپنی زمینوں کو استعمال کرے، فیصلہ ہوگیا تھا مگر مسلمان کافی عرصے تک ڈٹے رہے اور جب بھی ہریا لال نے مسجد کی طرف ہاتھ بڑھائے مسلمان سر پر کفن باندھ کر آگئے۔ خوب پکڑ دھکڑ رہی آدھی بستی تو ایسے خالی ہوگئی تھی۔ پھر ایک بزرگ کو خواب میں بشارت ہوئی پرانی مسجد کے مزار کے بزرگ نے کہا کہ زمین اللہ کی ہے ہم خود یہاں سے ہٹے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ بزرگ کی بات سب نے مانی اور ہریا لال نے اپنا کام کر دکھایا، سو اب اس جگہ نئی نگری آباد ہوگئی ہے۔ سارے ہندو ہی آ کر آباد ہوئے ہیں ہُواں، یہ ہے وہاں کی بات۔ پر علیم الدین خان صاحب کا تو سات آٹھ سال پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا۔‘‘
‎میں خاموشی سے یہ سب کچھ سنتا رہا۔ میرے دل میں ایک عجیب سی ہوک اُٹھ رہی تھی۔ یہی ہو رہا ہے۔ شروع سے یہی ہو رہا ہے بھوریا چرن ہر راستہ روک لیتا، تقدیر اگر کبھی کچھ سامنے لاتی بھی تو بھوریا چرن کھیل ہی ختم کر دیتا، کیا اس کمبخت کا کوئی توڑ نہیں ہے۔ وہ سب سے بڑا گیانی تو نہیں ہے۔ اس سے بڑے بھی ہوں گے۔ سفلی علوم کے ماہر اور بھی بہت سے ہوں گے۔ کیا ان سب کو ایسی ہی قوتیں حاصل ہوتی ہیں۔ بھوریا چرن ایک انسان ہی ہے اور کالے جادو کا ماہر ہے۔ اسے اتنی بڑی قوت کیسے حاصل ہوگئی اور اگر اس سے زیادہ طاقت والے سفلی علوم کے ماہر ہیں تو کیا انہیں بھوریا چرن کے خلاف استعمال نہیں کیا جا سکتا یا پھر اس کے سامنے ایسی قوتیں لے آئی جائیں جو مذہب سے تعلق رکھتی ہوں، بھلا کالے جادو کا ایک ماہر قرآنی علوم کے سامنے کیسے ٹک سکتا ہے۔ اگر کسی بزرگ کی نظر واقعی ہو جائے مجھ پر تو کیا میری کشتی پار نہیں لگ جائے گی۔ یہ خیال دِل میں عجیب سے احساسات پیدا کرنے لگا۔ بیچارہ امام بخش سادہ نگاہوں سے میرا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ پھر اس نے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔
‎’’رتولی گئے ہو بھیا کبھی؟‘‘
‎’’نہیں بابا جی میں کبھی نہیں گیا۔‘‘

‎’’تو پھر علیم الدین خان کے بارے میں کیسے جانتے ہو؟‘‘
‎’’بس ایسے ہی نام سنا تھا کسی سے اور اس مزار کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا جہاں سے لوگوں کو بڑا فیض ملتا تھا۔‘‘
‎’’ارے ان کی کیا پوچھو ہو، رتولی سنبھالے ہوئے تھے جو پہنچ جاتا مراد پوری ہو جاتی تھی۔‘‘
‎’’یقیناً بابا جی یقیناً، ویسے بابا جی اور بھی ایسے مزار ہوں گے جہاں مرادیں پوری ہو جاتی ہوں گی۔‘‘
‎’’لو بھیا بھلا بزرگوں سے دُنیا خالی ہوگئی کیا؟ ارے ایک سے ایک پڑے ہوئے ہیں۔‘‘

‎’’آپ کو کسی ایسی جگہ کا پتا معلوم ہے، کوئی ایسے بزرگ جن کا بڑا نام ہو۔‘‘
‎’’کوئی کمی ہے ان کی، دلی جائو نظام الدین اولیاؒ، اجمیر جائو خواجہ صاحبؒ، کلیر شریف جائو صابرؒ اور پھر ہزاروں خدا کے نیک بندے ہر جگہ موجود ہیں بھیا کوئی منت ہے تمہاری؟‘‘
‎’’ہاں۔‘‘ میں نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا بابا امام بخش مجھے دیکھتے رہے۔ شاید سوچ رہے تھے کہ میں انہیں اپنی منت کے بارے میں بتائوں گا اور پھر جب میں کچھ نہ بولا تو خود بھی خاموش ہوگئے۔
‎سفر جاری رہا اور میں سوچ میں گم ہوگیا، حالات نے زندگی سے اتنا بیزار کر دیا تھا کہ اب مجھے کوئی خوف نہیں رہا تھا۔ پولیس مجھے تلاش کرے، گرفتار کرے تو میں صرف ایک درخواست کروں اس سے، اپنے جرائم کا اعتراف کر کے کہوں کہ مجھے فوراً گولی مار دی جائے، مہلت نہ دی جائے ورنہ کچھ اور جرم میرے نام سے منسوب ہو جائیں گے جو میرے نہ ہوں گے۔ پھر سوچا کہ اب میں خود اپنے درد کا درماں تلاش نہیں کرسکوں گا۔ کوئی مزار مل جائے وہیں پڑا رہوں گا اور خدا کے ان نیک بندوں سے کہوں گا کہ میرے لیے خدا سے دُعا کریں کہ وہ مجھے اس عذاب سے نجات دے اب یہی کرنا چاہیے مجھے۔
‎سفر جاری رہا، نہ جانے کب سو گیا۔ دن کی روشنی میں آنکھ کھلی تھی، گرمی لگ رہی تھی، ریل کے پنکھے نجانے کیوں بند ہوگئے تھے۔ بابا امام بخش بھی موجود نہیں تھے، ہو سکتا ہے ان کا اسٹیشن آ گیا ہو، ریل کے پہیے رگڑ رہے تھے، شاید بریکیں لگ رہی تھیں۔

‎کوئی اسٹیشن آرہا تھا۔ کھڑکی سے باہر خالی خالی عمارتیں نظر آ رہی تھیں۔ میں انہیں دیکھنے لگا۔ سانسی کا اسٹیشن تھا، پتھر کی سل پر یہ نام لکھا ہوا پڑھا تھا۔ ٹرین رُک گئی لیکن بمشکل دو منٹ پھر وسل ہوئی ایک جھٹکا لگا اور ٹرین رینگنے لگی۔ میری نظریں کھڑکی سے باہر پلیٹ فارم پر جمی ہوئی تھیں جہاں اِکّا دُکّا لوگ نظر آ رہے تھے۔ آگے والے ڈبوں سے اس اسٹیشن پر اُترے ہوئے لوگ ابھی اپنا سامان ہی سنبھال رہے تھے۔ پلیٹ فارم کے انتہائی سرے سے میرا ڈبہ گزرا تو میں نے ایک برقع پوش عورت کو دیکھا جو شاید تنہا تھی اس نے ایک وزنی ٹوکری سنبھالی ہوئی تھی جو اچانک نیچے گر گئی۔ ٹوکری چٹائی کی بنی ہوئی تھی اور اس کا ہینڈل ٹوٹ گیا تھا۔ کچھ سامان نیچے گرا تو عورت نے گھبرا کر اپنے برقع کا نقاب اُلٹ دیا اور اچانک بجلی سی چمک گئی۔ یہ سارا کھیل ایک لمحے کا تھا۔ میرے ڈبے نے پلیٹ فارم کا آخری سرا چھوڑ دیا۔ ٹرین رفتار پکڑنے لگی مگر اس اُلٹے ہوئے نقاب سے جو چہرہ نمودار ہوا تھا اس نے میرے پورے وجود کو لرزا دیا۔ وہ میری شمسہ تھی… میری چھوٹی بہن۔ آہ اپنے خون کو نہ پہچانتا، شمسہ کو نہ پہچانتا؟ کچھ لمحے تو حواس ہی معطل رہے۔ سوچنے سمجھنے کی قوتیں مفلوج ہوگئیں۔ مگر پھر ایک دَم ہوش سا آ گیا۔ میں دیوانہ وار اپنی جگہ سے اُٹھا، ممکن تھا کہ چلتی ٹرین سے چھلانگ لگا دیتا مگر ہاتھ زنجیر پر جا پڑا تھا اور ذہن نے ساتھ بھی دیا تھا۔ چنانچہ پوری قوت سے کھینچ دی، لوگ چونک کر میری اضطراری حرکتوں کو دیکھنے لگے۔ کسی نے کچھ کہا بھی تھا مگر میں دروازے پر پہنچ گیا اور آدھا نیچے لٹک گیا۔ لوگ چیخنے لگے تھے مگر کسی کے الفاظ میری سمجھ میں نہیں آ رہے تھے، ٹرین کی رفتار فوراً ہی مدھم ہونے لگی اور پھر بس وہ اتنی مدھم ہوئی کہ مجھے زمین نظر آنے لگی تو میں نے چھلانگ لگا دی۔ پلیٹ فارم کافی دُور رہ گیا تھا پیچھے کیا ہوا مجھے کچھ نہیں معلوم تھا۔ بس میں بے تحاشہ پلیٹ فارم کی طرف بھاگ رہا تھا۔

شمسہ، آہ وہ یہاں کیا کر رہی ہے۔ وہ ٹرین میں تنہا کہاں سے آئی تھی۔ شمسہ میری بہن شمسہ۔ پیروں میں پنکھے لگ گئے خاصا فاصلہ تھا مگر میں نے برق رفتاری سے طے کرلیا اور پلیٹ فارم پر پہنچ گیا۔ سانس بری طرح پھول رہا تھا۔ آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا پھیل رہا تھا۔ مگر میں آنکھیں پھاڑے شمسہ کو تلاش کر رہا تھا۔ وہ اب پلیٹ فارم پر نظر نہیں آ رہی تھی۔ یقیناً اپنا سامان سنبھال کر باہر نکل گئی ہوگی چنانچہ میں اسٹیشن سے باہر جانے والے راستے کی طرف بڑھ گیا۔ ٹکٹ چیکر اپنی جگہ سے ہٹ چکا تھا۔ میں باہر نکل آیا۔ چاروں طرف سناٹا تھا۔ بہت کم لوگ نظر آ رہے تھے۔ میں نے ہر طرف نظریں دوڑائیں مگر شمسہ نظر نہیں آئی۔ کچھ فاصلے پر دو تانگے کھڑے ہوئے تھے۔ ایک آگے تھا اور دُوسرا اس سے کچھ پیچھے، تانگے والا نیچے کھڑا گھوڑے کے شانے سہلا رہا تھا۔ میں اس کے قریب پہنچ گیا۔
‎’’ابھی، ابھی یہاں تم نے کسی لڑکی کو دیکھا ہے۔‘‘ میں نے پھولے ہوئے سانس کے ساتھ پوچھا اور تانگے والا منہ پھاڑ کر مجھے دیکھنے لگا۔ ’’ایک لڑکی برقع پہنے ہوئے تھی۔ ہاتھ میں ٹوکری تھی۔‘‘ میں نے پھر کہا۔
‎’’ہاں جی۔‘‘ تانگے والا بولا۔
‎’’کہاں گئی۔ کدھر گئی؟‘‘ میں نے پھر کہا۔
‎’’ہمارے کو کیا معلوم جی۔‘‘
‎’’اوہ تم کہہ رہے تھے تم نے اُسے دیکھا ہے۔‘‘
‎’’دیکھا تو ہے جی مگر وہ کدھر گئی، ہمیں کیا معلوم۔‘‘
‎’’پیدل گئی ہے؟‘‘ میرا سانس بحال ہوتا جا رہا تھا۔
‎’’نہیں جی سجّو کے تانگے میں گئی ہے۔‘‘
‎’’اوہو تو یہ کہو۔ چلو تم بھی چلو، میں اس کے تانگے پر چڑھ گیا۔‘‘ اور تانگے والا حیرانی سے مجھے دیکھنے لگا۔ ’’عجیب بے وقوف آدمی ہو چلتے ہو یا میں تمہارا تانگہ لے جائوں۔‘‘ میں نے دانت پیس کر کہا۔
‎’’ارے نہیں جی مگر جائو گئے کہاں۔‘‘ وہ اُچک کر تانگے پر چڑھ گیا اور اس نے گھوڑے کی لگامیں سنبھال لیں۔

‎’’آگے بڑھو!‘‘ میں نے غرّا کر کہا اور تانگے والا گھوڑے کو ٹخٹخانے لگا، سڑک پتلی تھی، ناہموار تھی، سرخ اینٹوں سے بنی ہوئی تھی جو زیادہ تر جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی اور ان پر جگہ جگہ گھوڑوں کی لید نظر آ رہی تھی۔ دو رویہ دُکانیں اور عمارتیں نظر آ رہی تھیں، بھدّی ، بدنما اور پلاستر سے محروم مگر دُور دُور تک سناٹا تھا اور آگے جانے والا تانگہ ابھی تک نظر نہیں آیا تھا۔ میں نے تانگے والے کے شانے پر ہاتھ رکھا اور وہ اُچھل پڑا، میرے رویے اور انداز سے وہ کچھ خوفزدہ ہوگیا تھا۔
‎’’کیا بات ہے جی۔‘‘ اس نے سہمی ہوئی آواز میں پوچھا۔
‎’’معاف کرنا دوست، وہ برقع پوش لڑکی میری بہن ہے، مجھ سے بچھڑ گئی ہے اور بہت دن کے بعد مجھے نظر آئی ہے۔ اس لیے میں پریشان ہوگیا ہوں۔ ذرا تانگے کی رفتار تیز کر کے سجّو کے تانگے کو پکڑو جتنے پیسے مانگو گے دوں گا۔‘‘
‎’’اچھا جی۔‘‘ اس نے ایک طرف اُڑسا ہوا سونٹا نکال لیا اور پھر گھوڑے کو ہدایات دینے لگا۔
‎’’یہ سڑک سیدھی گئی ہے؟‘‘
‎’’چوراہے تک جی۔‘‘
‎’’اوہ ذرا جلدی چلو کہیں وہ دُور نہ نکل جائے۔‘‘ میں نے بے چینی سے کہا اور تانگے والے نے پھر گھوڑے سے گفتگو شروع کر دی مگر گھوڑے سے اس کے تعلقات زیادہ بہتر نہیں معلوم ہوتے تھے۔ اس لیے گھوڑا اس سے تعاون نہیں کر رہا تھا۔ ہم چوراہے پر پہنچ گئے اور تانگے والے نے ایک جائز سوال کر دیا۔
‎’’اب کدھر چلوں جی؟‘‘ میں کیا جواب دیتا بس آنکھیں پھاڑنے لگا۔ تانگے والے نے خود ہی یہ مشکل حل کر دی۔ ’’وہ جا رہا ہے سجّو کا تانگہ۔‘‘ میں اُچھل پڑا۔
‎’’کہاں؟‘‘
‎’’وہ اُدھر گیا ہے، دُور ہے۔‘‘

‎’’تو چلو نا۔ کہیں اوجھل نہ ہو جائے۔‘‘ میں نے کہا اور تانگے والے نے گھوڑے کو چابک لگانے شروع کر دیے۔ خدا خدا کر کے میں نے بھی سجّو کا تانگہ دیکھا، وہ بھی اس لیے کہ اس کی رفتار ہی سست ہوگئی تھی۔ پھر ہم اُس تک اُس وقت پہنچے جب وہ رُک گیا۔ برقع پوش لڑکی کی ایک جھلک میں نے دیکھی۔ وہ ایک مکان کے دروازے سے اندر داخل ہوگئی تھی، میں گہری سانس لے کر نیچے اُتر گیا۔ تانگے والے کو میں نے ایک نوٹ دیا تو وہ بولا۔
‎’’چُھٹّے نہیں ہیں جی۔‘‘
‎’’بھائی خدا کے واسطے جان چھوڑو۔‘‘ میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر کہا اور آگے بڑھ گیا۔ شمسہ اس سامنے والے مکان کے دروازے سے اندر داخل ہوئی تھی اور اسی دروازے کے دُوسری طرف۔ اس کے دُوسری طرف یقینا میرے ماں باپ ہوں گے۔ آہ آنکھیں ترس گئی تھیں ان کی صورتوں کو اب تو ان کے چہرے بھی دُھندلا گئے تھے۔ شمسہ، میری رُوح، ماموں ریاض، امی، ابا یہ بے چارے میری وجہ سے کس طرح دربدر ہوئے ہیں، سانسی ہے اس شہر کا نام، ہمارا یہاں سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا تھا، نہ جانے کن حالات کے تحت انہوں نے اِدھر کا رُخ کیا ہوگا اور وہ مجھ سے زیادہ دُور نہیں تھے۔ کیسے جائوں گا ان کے سامنے، کیا ہوگا وہاں جا کر۔ کیسے بلکیں گے وہ۔ قدم من من بھر کے ہو رہے تھے، بدن ڈھلا جارہا تھا۔ میں خود ان سے دُور بھاگتا رہا تھا مگر صرف یہ سوچ کر کہ میں ایک مجرم ہوں، قاتل ہوں اور منحوس ہوں، بھوریا چرن مردود کی توجہ ان کی طرف نہ ہونے پائے، وہ اس سے بچ رہیں اور اب اب میں ان کے سامنے جائوں تو تو کیا وہ مجھ سے سب کچھ نہ پوچھیں گے۔ بتانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ میں نے جسے بھوریا چرن کے بارے میں بتایا وہ بچ نہ سکا۔ کتنا مشکل ہو جائے گا ان کے سوالات سے بچنا۔ اور ان کے پاس رُکنے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، ان سے ملوں گا، دل ہلکا کروں گا، بس اتنا کہوں گا ان سے کہ وہ میرے لیے دُعا کریں۔ خدا سے میری مشکل دُور کرنے کے لیے گڑگڑائیں، میں اس عذاب سے نکلا تو ان کی خدمت کروں گا ورنہ وہ مجھے صبر کرلیں، ہاں محمود کی خیریت انہیں ضرور بتا دوں گا۔ ماموں ریاض کے بارے میں پوچھوں گا کہ وہ کس کے ساتھ شکتی پور گئے تھے۔
‎یہ سارے خیالات ان چند قدموں کا فاصلہ طے کرتے ہوئے دل میں آئے تھے۔ عجیب تشنجی کیفیت ہو رہی تھی۔ نہ جانے کس طرح دروازے کی زنجیر بجائی۔ ایک بار، دوسری بار، تیسری بار پھر دوسری طرف کچھ آہٹیں سنائی دیں، زنجیر ہلی اور میری رُوح آنکھوں میں آ گئی۔ اب ابا کا چہرہ نظر آئے گا۔ امی ہوں گی، یا شمسہ! مگر وہ دروازہ کھلا تو ان میں سے ایک چہرہ بھی آنکھوں کے سامنے نہیں تھا۔ وہ ایک باریش بزرگ تھے۔ لمبی سفید داڑھی سفید کپڑے چہرے پر نرمی تھی۔
‎’’جی میاں کس سے ملنا ہے؟‘‘ انہوں نے نرم لہجے میں پوچھا۔
‎’’وہ… وہ۔ محفوظ، محفوظ…‘‘

‎’’میاں یہاں ہم رہتے ہیں۔ نیاز اللہ ہے ہمارا نام یہاں کوئی محفوظ نہیں رہتے۔‘‘
‎’’امی شمسہ۔‘‘ میری آواز رُندھ گئی تھی اور نیاز اللہ چونک کر مجھے دیکھنے لگے تھے۔ کچھ عجیب سا انداز تھا ان کا جیسے میری کیفیت پر غور کر رہے ہوں۔ میرے چہرے پر مایوسی کی گہری تہیں چڑھ گئی تھیں۔ آنسو تھے کہ آنکھوں میں اُمڈے آ رہے تھے۔ حلق بند بند سا ہوا جا رہا تھا۔ سارے تصورات چکنا چور ہوگئے تھے۔ یہ چند قدم کا فاصلہ تو میں نے خوابوں کے محل بنا کر طے کیا تھا، دِل نے یقین کرلیا تھا کہ ماں باپ کا چہرہ نگاہوں کے سامنے ہوگا مگر یہ سب کچھ…
‎’’کہاں سے آئے ہیں میاں، سانسی کے رہنے والے ہیں یا کہیں باہر سے آئے ہیں؟ بزرگ نیاز اللہ نے بدستور نرم لہجے میں پوچھا اور میں ایک بار پھر چونک پڑا، اگر میرے ماں باپ اس گھر میں نہیں رہتے تو شمسہ یہاں کہاں سے آئی… میں نے بزرگ کے عقب میں اندر جھانکتے ہوئے کہا۔
‎’’جناب یہاں ابھی میری بہن آئی ہے۔ شمسہ ہے اس کا نام، سیاہ برقع اوڑھے ہوئے تھی، ہاتھ میں چٹائی کی بنی ایک ٹوکری تھی، وہ میری بچھڑی ہوئی بہن ہے، ریلوے اسٹیشن پر میں نے اسے دیکھا لیکن ریل دُور نکل چکی تھی۔ میں نے زنجیر کھینچ کر ریل روکی اور نیچے کود پڑا۔ جب ریلوے اسٹیشن پر پہنچا تو وہ تانگے میں بیٹھ کر چل پڑی تھی اور بمشکل تمام میں دُوسرے تانگے میں اس کا پیچھا کرتا ہوا یہاں تک آیا ہوں۔ میں نے اپنی آنکھوں سے آپ کے گھر میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘
‎نیاز اللہ کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ ’’تمہاری بہن شمسہ؟‘‘
‎’’جی۔ جی وہ ابھی ابھی برقع میں ملبوس۔‘‘

‎’’مگر وہ تو میری بیٹی عزیزہ ہے۔ اپنی خالہ کے ہاں گئی تھی، ایک ماہ کے بعد وہاں سے واپس آئی ہے۔ ہو سکتا ہے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہو، اچھا یوں کرو آئو ذرا اندر آئو، آ جائو… آ جائو… جھجکنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ میں ہچکچایا تو نیاز اللہ صاحب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور دروازے سے اندر لے گئے۔
‎چھوٹا سا صحن تھا اس کے بعد برآمدہ جس کے اندر تین کمروں کے دروازے اور نجانے کیا کیا۔ برآمدے میں ایک
‎تخت پڑا ہوا تھا جس پر دری اور سفید چادر بچھی ہوئی تھی۔ ایک طرف چوکی بچھی ہوئی تھی جس پر جائے نماز تہہ کی ہوئی رکھی ہوئی تھی۔ جائے نماز پر ہزاری تسبیح رکھی ہوئی تھی، بزرگ مجھے برآمدے میں لے آئے اور تخت پر بیٹھنے کا اشارہ کیا پھر انہوں نے آواز لگائی۔
‎’’عزیزہ بیٹی، عزیزہ ذرا باہر آئو…‘‘
‎’’آئی ابا جان، کپڑے بدل رہی ہوں۔‘‘ جواب ملا۔ بزرگ خود بھی مجھ سے کچھ فاصلے پر تخت پر بیٹھ گئے۔ وہ بدستور میرا جائزہ لے رہے تھے اور میرے چہرے پر بکھرے حزن و ملال سے متاثر معلوم ہوتے تھے۔ پھر انہوں نے کہا۔ ’’میاں کہاں سے آ رہے تھے؟‘‘
‎’’شکتی پور سے۔‘‘
‎’’اوہو اچھا مگر تمہاری بہن کیسے بچھڑ گئی تم سے؟‘‘
‎ابھی ان کا سوال ختم ہی ہوا تھا کہ درمیانی دروازے سے ایک لڑکی اندر داخل ہوئی۔ سفید شلوار قمیض میں ملبوس اچھے خدوخال، عمر تقریباً چھبیس ستائیس سال مگر یہ چہرہ شمسہ کا نہیں تھا، خدوخال بھی نہیں ملتے تھے پھر نجانے کیا ہوا تھا مجھے، اس کے چہرے پر شمسہ کا دھوکا کیوں ہوا تھا، آہ کچھ غلطی ہوگئی۔ یقیناً کوئی غلطی ہوگئی میں نے تو شمسہ ہی کو دیکھا تھا۔ ہو سکتا ہے اس بے وقوف تانگے والے نے… مگر نہیں لڑکی مجھے دیکھ کر ایک دَم ٹھٹک گئی، اس نے واپس دروازے کے اندر جانا چاہا لیکن نیاز اللہ صاحب کی آواز اُبھری۔
‎’’آ جائو بیٹی آ جائو۔‘‘ لڑکی ٹھٹکتی ہوئی برآمدے میں آ گئی، میری نگاہیں جھک گئی تھیں، نیاز اللہ صاحب مسکرا کر بولے۔

‎’’میاں فیصلہ کرو یہ تمہاری شمسہ ہے یا ہماری عزیزہ؟‘‘ میں جلدی سے تخت سے نیچے اُتر گیا اور شرمندہ لہجے میں بولا۔ ’’میں بے حد شرمسار ہوں، انتہائی معافی چاہتا ہوں، مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔‘‘
‎’’ارے تو اُٹھ کر کیوں کھڑے ہوگئے بھئی ہماری عزیزہ اگر تمہاری بہن شمسہ بن جائے تو ہمیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘‘
‎’’کیا بات ہے ابا میاں کون ہیں یہ؟‘‘
‎’’اسٹیشن سے تمہارا پیچھا کرتے ہوئے آئے ہیں بلکہ تمہاری وجہ سے یہ اپنا سفر کھوٹا کر چکے ہیں۔‘‘
‎’’میں سمجھی نہیں ابا میاں۔‘‘
‎’’اسٹیشن پر آپ برقع اوڑھے ہوئے تھیں۔ آپ کے ہاتھ میں ایک ٹوکری تھی جس کا ایک ہینڈل ٹوٹ گیا تھا، کیا ایسا ہوا تھا؟‘‘ میں نے بے اختیار پوچھا۔
‎’’جی ہاں ایسا ہوا تھا۔‘‘ لڑکی نے کہا اور میرے دل میں اُمید کی آخری شمع بھی بجھ گئی۔ یہ خیال آیا تھا ایک لمحے کے لیے کہ تانگے والے کی غلط رہنمائی سے میں یہاں آ گیا، ہو سکتا ہے شمسہ کسی اور سمت نکل گئی ہو مگر ٹوکری کے واقعہ کا اعتراف اس بات کی ضمانت تھا کہ میری آنکھوں نے ہی دھوکا کھایا۔ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی اور نیاز اللہ صاحب چونک کر ادھر دیکھنے لگے۔ پھر بولے۔

‎’’پتہ نہیں کون ہے میں دیکھتا ہوں۔‘‘ لڑکی حیران سی کھڑی مجھے دیکھ رہی تھی۔ ویسے ہی کیا کم حماقت ہوئی تھی کہ مزید یہاں رُکتا، نیاز اللہ کے پیچھے پیچھے ہی دروازے تک آیا، دروازہ کھلا تو سامنے ہی اس تانگے والے کی شکل نظر آئی جس کے مریل گھوڑے نے بمشکل تمام یہاں تک پہنچایا تھا۔ تانگے والا میری شکل دیکھتے ہی بولا۔
‎’’نوٹ تڑا لائے ہیں جی آپ کا، پھوٹے پیسے لے لیں۔‘‘ نیاز اللہ چونک کر مجھے دیکھنے لگے۔ تانگے والے کی بات ایسی تھی کہ مجھے ہنسی آ جاتی مگر تقدیر میں تو آنسو ہی آنسو لکھے ہوئے تھے ہنس نہ پایا اور تانگے والے سے کہا۔ ’’بھائی میں نے تم سے پھوٹے پیسے واپس تو نہیں مانگے تھے۔‘‘
‎’’ایں۔ تانگے والا حیرت سے بولا مگر نوٹ تو جی آپ نے ہمیں دس روپے کا دیا تھا اور یہاں تک کا بنتا ہے سوا روپیہ، باقی پیسے کا ہم کیا کریں۔‘‘ تانگے والا معصومیت سے بولا۔ نیازاللہ صاحب نے میری طرف دیکھا، پھر ہاتھ بڑھا کر تانگے والے سے پیسے لے لیے اور تانگے والا اطمینان سے واپس مڑ گیا۔ نیاز اللہ صاحب ہنستے ہوئے مڑے اور پیسے میری طرف بڑھاتے ہوئے بولے۔
‎’’یہ تو اپنا رزق اللہ ہی سے مانگتے ہیں۔ میاں کسی انسان سے بخشش لینے کی عادت ہی نہیں انہیں۔ مگر یہ تم تیار کہاں کے لیے ہو رہے ہو؟‘‘
‎’’جی میں جانا چاہتا ہوں اور ایک بار پھر آپ سے معافی مانگ رہا ہوں۔ آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میری اس حرکت سے ناراض ہو جاتا لیکن آپ نے… خدا آپ کو اس کا اَجر دے۔‘‘
‎’’ساری باتیں ٹھیک ہیں مگر آپ تشریف کہاں لے جا رہے ہیں۔ آیئے اب آپ ہمیں ایسا گیا گزرا بھی نہ سمجھیں کہ ہم آپ کو ایک پیالی چائے بھی نہ پلا سکیں اور جہاں تک بات رہی آپ کی غلط فہمی کی تو میاں غلط فہمی انسانوں ہی کو ہوتی ہے۔ اس میں برائی کی کیا بات ہے بلکہ ہمیں تو افسوس ہے کہ آپ کا نقصان ہوا۔ نجانے کہاں تک کا ٹکٹ ہوگا، یہاں اُترنا پڑ گیا اب واپس جائو گے تو نیا ٹکٹ لینا پڑے گا؟‘‘
‎میں نے جلدی سے جیب سے ٹکٹ نکال کر نیاز اللہ صاحب کے سامنے کر دیا تا کہ اپنی سنائی ہوئی کہانی کی تصدیق کردوں۔ نیاز اللہ صاحب نے ایک بار پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے واپس لا کر تخت پر بٹھا دیا۔ لڑکی ابھی تک اپنی جگہ کھڑی ہوئی تھی۔ نیازاللہ نے اس سے کہا۔

‎’’عزیزہ بیٹی۔ تھکی ہوئی تو ہوگی لیکن ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ناشتہ کرائے بغیر تمہیں نیند نہیں آئے گی اور پھر اب تو ہمارے مہمان بھی آئے ہیں۔ چنانچہ ہو جائے ذرا جلدی سے تیاری، انڈے نعمت خانے میں رکھے ہیں اور تمہارے ہاتھوں کے بے مثال پراٹھے۔ میاں نامعلوم مزہ نہ آ جائے تو ہمارا ذمہ… اَماں بیٹھو تکلّف پر تکلّف کیے جا رہے ہو۔ میاں لکھنؤ کے ہو کیا۔ بیٹھو بھائی بیٹھو کم از کم اپنا نام تو بتا دو۔‘‘
‎کچھ ایسا عجیب لہجہ تھا ان کا، ایسی اپنائیت اور محبت تھی کہ حلق میں پھنسا ہوا گولا پھوٹ بہا اور نجانے کس طرح آنسوئوں کے ساتھ سسکیاں اُبل پڑیں، عزیزہ جو دروازے کی جانب مڑنے ہی والی تھی ٹھٹک کر رُک گئی۔ نیازاللہ بھی حیران رہ گئے تھے مگر میں کیا کرتا۔ نجانے کیوں میں نے اس لڑکی کو شمسہ کے رُوپ میں دیکھا تھا اور میرا وجود تہہ و بالا ہو کر رہ گیا تھا۔ پھر نجانے دل میں کیا کیا آس لیے اس دروازے تک کا فاصلہ طے کیا تھا، برسوں کے بچھڑے ہوئوں کو دیکھنے کی آس بندھی تھی لیکن۔
‎نیازاللہ اور عزیزہ مجھے تعجب سے دیکھتے رہے۔ ان کے سامنے اس طرح روتے ہوئے سخت شرمندگی ہو رہی تھی، لیکن بند ٹوٹ گیا تھا بہائو روکے نہ رُک رہا تھا۔ دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپا لیا۔ پھر بھی برداشت نہ ہو سکا تو تیزی سے دروازے کی طرف دوڑ پڑا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ نیاز اللہ کی آوازیں سنائی دی تھیں، یقیناً روک رہے ہوں گے مگر میں نہ رُکا اور ان کے گھر سے بہت دُور نکل آیا۔ اس عالم میں سڑکوں پر بھاگنا بڑا عجیب سا تھا، خود کو سنبھالنا بے حد ضروری۔ سامنے ہی بڑ کا ایک درخت نظر آیا جس کا تنا بے حد چوڑا تھا، اس کی آڑ میں رُک گیا۔ اِدھر اُدھر دیکھا ویسے بھی سانسی بہت بڑی جگہ نہیں تھی۔ آبادی بھی بہت زیادہ نہیں تھی۔ چنانچہ اس وقت بھی آس پاس لوگ نظر نہیں آئے اور یہاں مجھے کافی سکون ملا۔

‎درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا، آنسو خشک کیے۔ بھوریا چرن کے خلاف دِل میں جو نفرت تھی وہ انتہا کو پہنچی ہوئی تھی۔ کیا کروں اس کمبخت کا کیا کروں، ہمیشہ ایسی چوٹ دیتا ہے کہ دل سینے سے باہر نکل آئے۔ یقینی طور پر وہ بھی میرا نظری دھوکہ تھا۔ میں نجانے کون سے بہتر راستے کی سمت سفر کر رہا تھا، ہو سکتا تھا ادھر میری منزل ہو اور پھر رتولی کے اس سقّے نے جو کچھ مجھے بتایا تھا وہ بھی میرے لیے باعث دلچسپی تھا، لیکن بھوریا چرن کمبخت مجھ پر بھرپور نگاہیں رکھے ہوئے تھا اور کہیں بھی میری دال گلنے نہیں دے رہا تھا۔ وہ لڑکی شمسہ کی شکل میں دِکھا کر اس نے مجھے ریل سے نیچے اُتار دیا تھا۔ خیر بھوریا چرن ایک وقت تو ایسا آئے گا جب میں تجھ پر حاوی ہو جائوں گا، جو خیال تیرے دِل میں ہے اس کی تکمیل نہ کرنے کو تو میں نے اپنا ایمان بنا لیا ہے اور اس ایمان کو زندگی سے زیادہ قیمتی قرار دے دیا ہے۔ دیکھوں گا اس جدوجہد میں زندگی کب اور کس طرح چلی جاتی ہے لیکن پیر پھاگن کے مقدس مزار کی بے عزتی یا بے حرمتی اپنے پورے خاندان کی زندگی کی قیمت پر بھی نہیں کروں گا۔ ہاں بھوریا چرن میں ایسا کبھی نہیں کروں گا… تو بھی دیکھنا کہ تیرا واسطہ ایک مسلمان سے پڑا ہے۔
‎دِل میں نجانے کیا کیا تصورات آتے رہے۔ شہر میں رونق ہوتی چلی گئی، اب زیادہ لوگ آتے جاتے نظر آ رہے تھے۔ پہلے تو یہ سوچا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی غلط تانگے کا تعاقب کر بیٹھا ہوں لیکن جب نیاز اللہ صاحب کی بیٹی نے ٹوکری گرنے کے واقعہ کو بھی تسلیم کرلیا تو اس کے بعد کوئی شک نہیں رہ گیا اور اب یہاں شمسہ کی تلاش بے کار ہی تھی، بہت دیر تک وہاں بیٹھا رہا۔ اس کے بعد سانسی شہر کا جائزہ لینے کے بارے میں سوچا اور وہاں سے چل پڑا، بس یونہی نجانے کہاں مارا مارا پھرتا رہا کوئی تصور ذہن میں نہیں تھا، کھانے پینے کا بھی کچھ ہوش نہیں تھا۔ دِل تھا کہ مسلسل رو رہا تھا۔ دوپہر ہوگئی اور سورج عروج پر پہنچ گیا۔ گرمی کافی تھی، میں ایک درخت کے سائے میں جا بیٹھا۔ صبح سے کچھ کھایا پیا نہیں تھا، بیٹھا ہوا یہ سوچ رہا تھا کہ اب یہاں رُکنا بے کار ہے۔ ریلوے اسٹیشن جائوں اپنا حلیہ دُرست کروں اور سانسی سے کہیں اور چل پڑوں… کہاں… مراد آباد کا سفر بھی کیا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ معلومات حاصل کرنے کے بعد وہاں ممکن ہے ان صاحب کے بارے میں کچھ معلوم ہو جائے اور ان سے ماموں ریاض کے بارے میں۔ اب تو کوئی جگہ ایسی نہیں رہی تھی جہاں اعتماد کے ساتھ جا سکتا اور اپنے ماں باپ کو تلاش کر سکتا۔ کتنی عجیب و غریب بات تھی میں نے خود ہی انہیں چھوڑا تھا، ان سے دُور ہوگیا تھا۔ میں ان کی مشکلات میں ساتھ نہیں دے سکا تھا اور اب… اب میری آرزو تھی کہ وہ ایک بار مجھے نظر آ جائیں۔ اس کے علاوہ کچھ بھی تو نہیں تھا میری زندگی میں، نہ سہی لیکن بہرحال جینا تو ہے۔ وقت کچھ اور گزرا تھا کہ میں نے کسی کے قدموں کی آہٹ سنی۔ کوئی میرے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ چونک کر دیکھا تو نیازاللہ صاحب تھے، بڑی سنجیدہ نگاہوں سے مجھے دیکھ رہے تھے، میں گھبرا کر کھڑا ہوگیا۔
‎’’آپ؟‘‘ میں نے حیران لہجے میں کہا۔

‎’’ہاں میاں ہم ہی ہیں۔‘‘ نیازاللہ صاحب عجیب سے انداز میں بولے۔
‎میں انہیں دیکھتا رہا۔ وہ دوبارہ بولے۔ ’’کسی کو اس طرح ذلیل کرنا خلاف انسانیت ہے اور خلاف مذہب بھی۔ ہم نے تھوڑی سی میزبانی کرنا چاہی تھی مگر تم نے ہمیں اس قابل نہیں سمجھا۔ وجہ جان سکتے ہیں؟‘‘
‎’’نہیں جناب میں آپ کو ذلیل نہیں کرنا چاہتا تھا۔‘‘
‎’’مسلمان ہو؟‘‘
‎’’ الحمد للہ۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’تو پھر گناہ کیا ہے تم نے، اس کا کفارہ ضرور ادا کرو؟‘‘
‎’’میں آپ سے بہت شرمندہ ہوں نیازاللہ صاحب۔‘‘
‎’’ان الفاظ سے کفارہ اَدا نہیں ہوتا۔ اُٹھو ہمارے ساتھ چلو، ہمیں شرف میزبانی بخشو، جب جی چاہے، جہاں چاہے جانا ہم بھلا راستہ کیوں روکیں گے۔‘‘
‎’’خدا آپ کو زمانے کی آفتوں سے محفوظ رکھے نیازاللہ صاحب، میں نہایت منحوس انسان ہوں۔ انتہائی سبز قدم جہاں میرے قدم رُکتے ہیں وہاں مصیبتوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔‘‘
‎’’خوب میاں یہ نحوست وغیرہ ہندوئوں کا عقیدہ ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اللہ اپنی مخلوق سے بہت پیار کرتا ہے اور ہم سب اس کے بندے ہیں، وہ کسی کو منحوس بنا سکتا ہے۔ خیر چھوڑو کیا ہم ایک بار پھر اپنے غریب خانے پر چلنے کی درخواست کر سکتے ہیں۔‘‘
‎’’جو حکم!‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔ رستے میں نیازاللہ نے کہا۔
‎’’نام ابھی تک نہیں جانتے تمہارا…‘‘
‎’’مسعود ہے میرا نام۔‘‘
‎’’ماشاء اللہ۔‘‘ وہ بولے اور خاموش ہوگئے، فاصلہ طے ہوا، اندر عزیزہ موجود تھی مجھے دیکھ کر بڑے خلوص سے مسکرا دی۔
‎’’آپ لے آئے انہیں ابا جان، میں ان سے ناراض ہوں۔‘‘
‎’’کیوں بھئی…؟‘‘
‎’’یہ مجھے بہن سمجھ کر میرے پیچھے آئے تھے لیکن مجھے دیکھ کر انہوں نے مجھے بہن نہیں تسلیم کیا۔ اتنی بری ہوں میں؟‘‘
‎’’انہی سے پوچھ لو، مسعود ہے ان کا نام۔‘‘

‎’’بول ہی نہیں رہی میں ان سے، یہ خود جواب دیں۔‘‘ عزیزہ نے کہا۔
‎’’جی جناب، کیا فرماتے ہیں۔‘‘ نیاز اللہ بولے۔
‎’’ذمے دار آپ لوگ ہیں۔ میرا قصور نہ ہوگا، جس نے مجھ سے خلوص برتا، جس کے دل میں میرا پیارا پیدا ہوا وہ تباہ و برباد ہوگیا۔ یہاں تک کہ میرے گھر والے بھی۔ شمسہ میری بہن ہے وہ سب مجھ سے بچھڑ گئے ہیں۔ میری ماں، میرے باپ، میرے ماموں سب میری نحوست کا شکار ہوگئے۔ آپ کو بہن کی شکل میں دیکھا کچھ نظری دھوکہ ہوگیا تھا۔ آپ کے پیچھے بہت سے ارمان لے کر آیا، یہ خیال تھا میرا کہ اب ماں باپ بھی نظر آ جائیں گے مگر…‘‘
‎’’مجھے افسوس ہے کہ میں آپ کی بہن نہ نکلی، بہن جیسی تو ہو سکتی ہوں، جہاں تک آپ کے منحوس ہونے کا تعلق ہے تو میرا ایمان پختہ ہے، خدا اپنے بندوں کو منحوس نہیں بناتا اس لیے آپ ہماری فکر نہ کریں۔‘‘
‎’’آہ کاش۔ کاش…‘‘
‎’’آپ کو علم ہے کہ ابا میاں سارا دن آپ کے پیچھے پھرتے رہے ہیں۔‘‘
‎’’ایں؟‘‘ میں چونک پڑا۔
‎’’ہاں مسعود میاں آج ہم بھی جاسوس بن گئے تمہارا تعاقب کرتے رہے، یہ دیکھتے رہے کہ تم کہاں کہاں جاتے ہو اور جب تھک گئے تو تمہارے سامنے پہنچ کر تم سے یہاں آنے کی درخواست کر ڈالی۔‘‘
‎’’جس نے بھی مجھ سے اتنا پیار برتا ہے وہ مشکلات کا شکار ہوگیا ہے۔ آپ بھی وہی سب کچھ کررہے ہیں۔ خدا آپ کو محفوظ رکھے۔‘‘
‎’’یہ معاملہ ہمارا اور خدا کا ہے، اسے ہمارے اور اس کے درمیان رہنے دو اور تم غسل کر لو، جائو بھئی ہم نے آج ناشتہ تک نہیں کیا۔‘‘
‎’’صبح کو میری صورت جو دیکھ لی تھی۔‘‘ میں ہنس پڑا۔
‎’’میں نے بھی دیکھی تھی مگر میں ناشتہ بھی کر چکی ہوں اور دوپہر کا کھانا بھی کھایا ہے میں نے۔ جایئے وہ غسل خانہ ہے۔‘‘ عزیزہ نے کہا اور میں گردن جھٹک کر غسل خانے کی طرف چل پڑا، میری سسکیوں سے متاثر ہوگئے ہیں بے چارے۔ مگر میں کسی قیمت پر ان کے ہاں پڑائو نہیں ڈالوں گا، میں نے فیصلہ کیا تھا۔
‎کھانا کھایا اور پھر دونوں باپ بیٹی گھیر کر بیٹھ گئے۔ نیاز اللہ بولے۔
‎’’پہلے ہمارے بارے میں سن لو۔ ہمارا نام نیازاللہ ولد ضمیر اللہ ہے۔

‎سانسی ہی میں پیدا ہوئے اور پلے بڑھے۔ گو ہم نے آدھا ہندوستان دیکھا ہوا ہے لیکن قیام یہیں رہا۔ ہمارے والد ضمیراللہ صاحب کے پاس کچھ زمینیں تھیں جن سے کفالت ہوا کرتی تھی۔ بعد میں وہ زمینیں ہمیں منتقل ہوگئیں اور ہم ان کی دیکھ بھال کرنے لگے پھر والد صاحب اور والدہ صاحبہ کا انتقال ہوگیا۔ ان کے اکلوتے تھے جس کی وجہ سے تنہا رہ گئے پر خود ہی کچھ بزرگوں کی کرم فرمائی سے شادی وغیرہ کا سلسلہ ہوا، شادی ہوگئی مگر اہلیہ بہت عرصے تک ہمارا ساتھ نہ دے سکیں اور اپنی ایک نشانی چھوڑ کر اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ ہم نے اپنی تمام تر محبتیں اپنی بیٹی عزیزہ کو سونپ دیں اور ہم باپ بیٹی زندگی گزارنے لگے… لیکن بیٹیوں کا ساتھ کچا ہوتا ہے، عزیزہ بیٹی کی شادی کی ہم نے اور بالکل ہی تنہا رہ گئے۔ تقدیر نے عزیزہ کے شوہر کو بھی زندگی کی مہلت نہیں دی اور وہ اللہ کو پیارے ہوگئے۔ عزیزہ صرف چھ ماہ سہاگن رہ کر بیوہ ہوگئیں اور اس کے بعد انہوں نے دُوسری شادی کرنے سے انکار کردیا۔ ہم نے بھی ڈھلتی ہوئی عمر کے پیش نگاہ زمینیں فروخت کر دیں اور کچھ ایسی جائداد خرید لی جس سے کرایہ وغیرہ حاصل ہو سکے۔ سو اب یہاں یہ چھوٹا سا گھر ہے ہم باپ بیٹی ہیں اور یاد اللہ ہے بس اس کے علاوہ زندگی کا کوئی اور مصرف نہیں۔ اس سے تمہیں یہ اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہماری زندگی کیا ہے۔


‎اس کے بعد ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ تم سے تمہارے بارے میں پوچھیں۔ یہ بے بسی یہ یاسیت تم پر کیوں طاری ہے، دیکھو میاں گریز نہ کرنا تمہیں اندازہ ہے کہ انسان ہی انسان کا دوست بھی ہوتا ہے اور دُشمن بھی لیکن ہمیں دوستوں میں تصور کرو۔ باقی رہا جہاں تک تمہارے وہم کا تعلق۔ تو ہو سکتا ہے تمہارے تجربات تمہیں یہ احساس دلاتے ہوں۔ ہمارا مسئلہ ذرا مختلف ہے، ہاں البتہ تمہیں ایک آزادی ضرور دی جاتی ہے وہ یہ کہ اگر کچھ بتانے سے خود تمہیں نقصان پہنچے تو پھر ہم تمہیں مجبور نہیں کریں گے لیکن خواہش مند ہیں اس بات کے کہ تم ہمیں اپنے بارے میں بتائو کہ چراغ سے چراغ جلتے ہیں۔ ہو سکتا ہے تمہاری مشکل کا کوئی حل ہمارے پاس ہو، اس بات سے انکار نہ کرنا کہ قدرت پریشانیوں کو دُور کرنے کے لیے راستے متعین کرتی ہے اور ان راستوں سے گریز کا مطلب ہے کہ پریشانیوں کو خود پر نازل رکھا جائے۔‘‘
‎میں اس مخلص شخص کا چہرہ دیکھتا رہا۔ الفاظ تو سمجھ میں آنے والے تھے لیکن میرے تجربات کچھ اور ہی کہتے تھے۔ دیر تک خاموش رہا۔ عزیزہ نے کہا۔
‎’’ابا میاں یہ ہمیں اس قابل نہیں سمجھتے۔ آپ انہیں مجبور نہ کریں، کتنی کوششیں کر چکے ہیں آپ، انہوں نے ہمیں اپنا سمجھ کر نہ دیا، رہنے دیں ابا میاں، ہمارا فرض ہے کہ ان کی خدمت کریں اور جب تک یہ یہاں رہنا مناسب سمجھیں ان کی خاطر مدارات کریں، غیر واقعی کبھی اپنے نہیں ہوتے۔‘‘
‎میں نے عزیزہ کی طرف دیکھا اور آہستہ سے بولا۔ ’’عزیزہ بہن آپ براہ کرم ایسی باتیں نہ کریں۔ میں تو محبتوں کو ترسا ہوا انسان ہوں۔ میں تو اپنے بھرے پرے گھر سے محروم ہو چکا ہوں، میں کسی سے گریز کیا کروں گا، ہاں یہ میرا تجربہ ہے کہ جس نے بھی مجھ سے محبت کا اظہار کیا، مصیبت کا شکار ہوا، اگر آپ مصیبتیں خریدنا چاہتی ہیں تو مجھے اپنی زبان کھولنے پر اعتراض نہیں۔‘‘

‎’’ہاں میاں ہم سے بات کرو، ہم مصیبتیں خریدنا چاہتے ہیں۔‘‘ نیاز اللہ بولے۔
‎’’تو پھر مختصراً میری کہانی یہ ہے کہ اچھے بھلے گھر کا فرد تھا۔ دماغ میں خناس پیدا ہوا، تن آسانیاں اپنا لیں اور ہاتھ پائوں ہلائے بغیر دولت کے حصول کا خواہاں ہوگیا۔ اس سلسلے میں کچھ ایسے راستے اپنانا چاہے جو ناجائز تھے۔ ایسے لوگوں کی تلاش میں سرگرداں ہوگیا جو جنتر منتر سے دولت کے حصول کا ذریعہ پیدا کر دیتے ہیں اور ایک ایسے شیطان کے جال میں پھنس گیا جس نے مجھے کچھ ایسے کاموں کے لیے مجبور کیا جو میرا ضمیر گوارا نہیں کرتا تھا، اس کے عتاب کا شکار ہوا اور مصیبتوں میں گرفتار ہوتا چلا گیا۔ والدین چھن گئے، خود دربدر ہوا، سب کچھ ہاتھ سے نکل گیا اور اس کے بعد سے مارا مارا پھر رہا ہوں۔ اب نہ ماں باپ کا پتہ ہے، نہ بہن بھائیوں کا اکیلا ہوں اور زندگی کی صعوبتوں میں گرفتار… نیاز اللہ صاحب نے میرے ان مختصر الفاظ پر غور کیا، مجھے دیکھتے رہے پھر بولے۔
‎’’ذرا ہاتھ آگے بڑھائو۔‘‘ میں نے اپنا سیدھا ہاتھ آگے بڑھا دیا تو انہوں نے میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لے کر میری ہتھیلیوں کو سونگھا، دیر تک سونگھتے رہے اور پھر ٹھنڈی سانس لے کر بولے۔
‎’’اندازہ ہوتا ہے کہ کچھ سفلی عمل کے زیر اثر ہو۔‘‘ میں نے انہیں جس قدر مختصر تفصیل بتائی تھی وہ ایک طرح سے میرے لیے یوں اطمینان بخش تھی کہ اس میں بھوریا چرن کا براہ راست تذکرہ اور اس کے عمل کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں تھی اور یہ میں نے اس لیے کیا تھا کہ نیاز اللہ صاحب کو کوئی نقصان نہ پہنچے، لیکن نیاز اللہ صاحب نے صحیح تجزیہ کیا تھا، میں نے آہستہ سے کہا۔ ’’ہو سکتا ہے۔‘‘
‎’’یہ کالا جادو ناپاک چیز ہے اور اس کے کرنے والے کمبخت انوکھی قوتیں حاصل کرلیتے ہیں۔ بعض اوقات اگر کوئی چھوٹا موٹا عامل اس کا توڑ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو خود بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ اس لیے عام قسم کے لوگ جو کاروباری طور پر یہ سب کچھ نہیں کرتے اس چکر میں نہیں پڑتے۔ البتہ تم نے یہ تو سنا ہوگا کہ زہر کا تریاق، زہر ہی میں ہوتا ہے اور لوہے کو لوہا کاٹتا ہے۔ اس کے مصداق ایک بات فوری طور پر میرے ذہن میں آئی ہے، اب دیکھو نا تم نے کم از کم کچھ حقیقتیں بتائیں تو میرے ذہن میں بھی کچھ خیال آیا۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہاری اس سلسلے میں مدد کر کر سکتا ہوں۔‘‘
‎’’کیا؟‘‘ میں نے سوالیہ نگاہوں سے نیاز اللہ کو دیکھا اور نیاز اللہ صاحب مسکرا دیئے پھر کہنے لگے۔
‎’’رامانندی میرا بچپن کا دوست ہے، دُوسری کلاس سے ہائی اسکول تک ہم نے ساتھ ساتھ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اس کے اور میرے راستے مختلف ہوگئے، نجانے کہاں کہاں مارا مار پھرا، پورے سولہ سال کے بعد واپس آیا تو پائوں زمین پر ہی نہیں تھے، جوگی بنا ہوا تھا۔ گھر والے پہلے ہی اس سے مایوس تھے۔ جو باقی رشتہ دار تھے جب وہ اس سے ملے تو وہ ان کے کام کا نہیں رہا تھا لیکن دوستی نہیں بھول سکا اور مجھ سے ویسے ہی ملتا رہا۔ کمبخت نے نجانے کیا کیا جنتر منتر سیکھ لیے ہیں۔ بڑے چکر چلاتا رہتا ہے۔ مالی حیثیت انتہائی مستحکم ہے لیکن ویرانوں میں بسیرا کر رکھا ہے اور وہیں مستقل رہائش کرلی ہے۔ بڑا گیانی بنتا ہے اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس سے ملائوں۔ ہو سکتا ہے وہ تمہارے کام آ جائے۔‘‘
‎’’کیا وہ سفلی علوم کا توڑ جانتا ہے؟‘‘

‎’’بھئی نجانے کیا کیا توڑ پھوڑ کرتا رہتا ہے وہ باقاعدہ سادھو بن گیا ہے مگر لوگوں کا کہنا ہے کہ بلاوجہ لوٹتا نہیں، کچھ جانتا ہے بلکہ یہ کہو کہ بہت کچھ جانتا ہے۔ ہم چونکہ ہم مذہب بھی نہیں ہیں اور پھر ظاہر ہے میرا کوئی راستہ کبھی ایسا نہیں رہا۔ لیکن اس سے جب بھی میری ملاقات ہوتی ہے بڑی محبت سے ملتا ہے۔ میرا خیال ہے صرف ایک میں ہوں جسے وہ اپنا دوست اپنا شناسا مانتا ہے۔ سیکڑوں بار پیشکش کر چکا ہے کہ اگر مجھے کوئی مشکل ہو تو اسے بتائوں، مگر تم خود سمجھتے ہو کہ اس سے کسی مشکل کا حل مانگنا یوں سمجھ لو کہ بہت کچھ کھونے کے مترادف ہے، لیکن تمہارا مسئلہ بالکل مختلف ہے مسعود میاں، میری مانو تو اس سے مل لو۔ ہم اس سے مشورہ کرلیتے ہیں کم از کم تمہیں جو مشکل درپیش ہے اس کا کوئی حل تو دریافت ہو۔‘‘
‎میں سوچ میں ڈوب گیا یہ بالکل ایک نئی سوچ تھی، نیا انداز تھا۔ اب تک اس سلسلے میں جو تھوڑی بہت کارروائی ہوئی تھی وہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوئی تھی جو میرے ہم مذہب تھے لیکن نیاز اللہ صاحب نے ایک نیا راستہ دکھایا تھا یعنی زہر کا توڑ زہر ہی سے ہو سکتا ہے وہ شخص جس کا نام رامانندی ہے بقول نیاز اللہ کے ان کی دوستی کے ناتے کوئی ایسا طریقہ کار بتا دے جس سے میں بھوریا چرن سے محفوظ ہو جائوں لیکن اس شخص کے سامنے مجھے زبان کھولنا ہوگی، بہرحال یہ بھی کر کے دیکھ لیا جائے میں نے سوچا اور نیازاللہ صاحب سے رضامندی کا اظہار کر دیا۔
‎اس رات میرے دِل میں خوف کا کوئی احساس نہیں تھا۔ دِل میں سوچا ضرور تھا کہ عموماً ایک ہی بات ہوتی ہے۔ اگر میری بہتری کی کوئی راہ نکلنے لگتی ہے تو بھوریا چرن اپنا عمل شروع کر دیتا ہے اور میرے راستے روک دیتا ہے۔ اس کی بے شمار مثالیں تھیں۔ ممکن ہے اس بار بھی ایسا ہی ہو، ہوتا ہے تو ہو جائے۔ میں نے تو نیازاللہ سے منع کیا تھا۔ آخر کیا کروں۔ دُنیا سے کنارہ کشی بھی تو نہیں ہو پاتی۔
‎حالات کچھ بھی ہوں وقت تو کسی طرح گزارنا ہی ہے۔ میں تو یہاں نہیں رُکنا چاہتا تھا مگر یہ لوگ ہی جذباتی ہوگئے۔ رات کو کئی بار آنکھ کھلی، چاروں طرف نگاہیں دوڑائیں، چھت پر مکڑیاں تلاش کیں مگر کچھ نہیں ملا۔ صبح کو نیازاللہ صاحب نے جگایا تھا۔
‎’’اُٹھو مسعود میاں، پونے گیارہ بج گئے ہیں۔‘‘
‎’’پونے گیارہ؟‘‘ میں اُچھل پڑا۔

‎’’ہاں بڑی گہری نیند سوئے تھے، جگانے کو جی نہ چاہا۔ مگر اب بہت وقت ہو چکا ہے۔‘‘
‎’’معافی چاہتا ہوں۔‘‘ میں بوکھلایا ہوا سا اُٹھ گیا۔ کسی کے گھر میں اتنی دیر تک سونا غیر مناسب بات تھی۔ جلدی جلدی منہ ہاتھ دھویا، عزیزہ نے ناشتہ لگاتے ہوئے کہا۔
‎’’اب یہ بتا دیجیے کہ دوپہر کا کھانا کس وقت پیش کیا جائے؟‘‘
‎’’میں شرمندہ ہوں۔ واقعی بہت دیر سو گیا۔‘‘
‎’’شرمندہ ہونے کے سلسلے میں آپ بے حد فراخ دل واقع ہوئے ہیں مگر میرا یہ سوال آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں تھا۔ دُوسری بات یہ کہ آپ کیا کھانا پسند کریں گے؟‘‘
‎’’جو بھی ممکن ہو۔‘‘
‎’’آپ کی اپنی کوئی پسند؟‘‘
‎’’بھول گیا۔‘‘ میں نے جواب دیا اور عزیزہ نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر مجھے گھورنے لگی، پھر بولی۔
‎’’ٹھیک ہے۔ اس بارے میں بھی آپ سے بات کرنی ہوگی۔‘‘
‎ساڑھے بارہ بجے نیازاللہ صاحب میرے پاس آ گئے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں چلنے کے لیے تیار ہوں؟
‎’’جی!‘‘ میں نے مختصراً جواب دیا۔ نیازاللہ میرے ساتھ باہر نکل آئے۔ انہوں نے ایک تانگے والے کو روک کر پوچھا۔
‎’’کہو میاں داتا رام سوامی مٹھ چلو گے؟‘‘
‎’’منع کریں گے میاں جی سے بھلی کہی۔‘‘ تانگے والے نے پُر اخلاق لہجے میں کہا اور ہم دونوں تانگے میں بیٹھ گئے۔
‎’’شہر سے باہر کا علاقہ ہے، صرف وہی لوگ جاتے ہیں جنہیں رامانندی کے پاس جانا ہو، اس کا استھان سوامی مٹھ کہلاتا ہے۔ زیادہ تر لوگ تو اس سے نفرت کرتے ہیں خاص طور سے پڑھے لکھے لوگ جن میں بے شمار ہندو شامل ہیں۔ مسلمان تو خیر اس کا نام بھی سننا پسند نہیں کرتے کیونکہ وہ گندے علوم کرتا ہے۔ ویسے لوگ اس سے ڈرتے بھی ہیں۔ مجھ پر نکتہ چینی ہوتی رہتی ہے کیونکہ بہت سوں کو علم ہے کہ میں اس سے کبھی کبھی ملتا رہتا ہوں مگر کیا کروں بچپن کا دوست ہے۔ بچپن کی معصوم یادوں کا ساتھی، مجھ سے بہت مخلص ہے اور کبھی اس نے میرے دینی معاملات میں مداخلت نہیں کی بلکہ…‘‘ نیازاللہ صاحب اچانک خاموش ہوگئے، میں سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھنے لگا وہ گردن ہلا کر بولے۔ ’’ایک واقعہ یاد آ گیا تھا۔‘‘
‎’’کیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔

‎’’بس زمینوں کا معاملہ تھا۔ ایک بنیا تھا مدن کشوری، کچھ نیت خراب ہوگئی تھی اس کی ہماری زمین کے ایک حصے پر، مقدمہ دائر کیا اور اپنا حق جتایا۔ ہم ایسی باتوں کے قائل نہیں تھے، اس سے ملے اسے سمجھایا کہ بددیانتی نہ کرے مگر احمق شخص نہ مانا، خاصی رقمیں کھلا کر اس نے کچھ سرکاری اہلکاروں کو بھی اپنے ساتھ شامل کرلیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ہمیں کوڑی کوڑی کو محتاج کر دے گا۔ اس کے علاوہ ہمارے حق میں گواہی دینے والوں کے ساتھ غنڈہ گردی بھی کی۔ ہم تو بخدا خاموش ہوگئے تھے مگر کسی نے راما نندی کو پوری کہانی سنا دی۔ اس نے بھی سنا ہے کہ پہلے تو مدن کشوری کو سمجھایا مگر وہ نہ مانا تو…‘‘
‎’’تو…؟‘‘ میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
‎’’برا کیا راما نندی نے۔ دیوالی کی رات کو ہانڈی اُڑائی اور مدن کشوری مر گیا۔ آہستہ آہستہ اس کا سارا گھر تباہ ہوگیا۔ خدا گواہ ہے کہ ہمارے فرشتوں کو بھی اس کی کارروائی کا علم نہیں تھا ورنہ ہم اسے روکتے۔ پھر بھی ہم نے اس زمین کو اپنے تصرف میں نہ لیا بلکہ اسے ایک خیراتی ادارے کے حوالے کر کے اس سے دست کش ہوگئے۔‘‘
‎’’یہ ہانڈی اُڑانا کیا ہوتا ہے؟‘‘میں نے دلچسپی سے پوچھا۔
‎’’گندے علم ہی کا ایک حصہ ہے۔ سفلی علم کے ماہر جادو کرتے ہیں اور کوری ہانڈیوں میں نہ جانے کیا الم غلم بھر کر اپنے دشمن کی طرف روانہ کرتے ہیں۔ ہانڈی دشمن کے گھر جا گرتی ہے اور وہ جادو کے زیرِ اثر آ کر مر جاتا ہے۔ گویا یہ جادو کے میزائل ہوتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب۔‘‘ نیاز اللہ نے بتایا۔
‎تانگہ درختوں کے درمیان ایک کچی سڑک پر ہچکولے کھاتا آگے بڑھ رہا تھا۔ درختوں کے بعد کھیتوں کا سلسلہ تاحد نگاہ چلا گیا تھا۔ محنت کش کسان زمین سے سودا کر رہے تھے۔ زندگی رواں دواں تھی اور میں اس نئے مسئلے کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ فاصلہ کافی تھا بالآخر طے ہوگیا۔ سامنے لکھوری اینٹوں سے بنی عمارتوں کے کچھ کھنڈرات نظر آ رہے تھے۔ دُور ہی سے ہیبت ناک نظر آتے تھے۔ ایک عجیب سی ویرانی برس رہی تھی۔ وہاں کچھ لوگ بھی نظر آ رہے تھے۔ گھوڑا اچانک رُک گیا اور داتا رام نے کہا۔
‎’’یہیں اُترنا پڑے گا میاں جی۔‘‘

‎’’آگے نہیں لے جائو گے داتا رام۔‘‘ نیازاللہ صاحب نے پوچھا۔
‎’’یہ سسرا جناور آگے نا جائے گا، ڈرے ہے، جناور کی آنکھ ہم سے آگے دیکھ لیوے ہے میاں جی، کھال اُتار دو اس کی آگے نا جائے گا!‘‘
‎’’چلو کوئی بات نہیں ہے لو یہ پیسے رکھ لو، رکو گے، ہمیں واپس بھی جانا ہے۔‘‘
‎’’جیسی میاں جی کی مرضی پیسوں کی کیا ہے بعد میں دے دیں۔‘‘
‎’’نہیں رکھ لو۔ انتظار کرنا چاہے کتنی دیر ہو جائے جتنے پیسے مانگو گے دوں گا۔‘‘
‎’’میاں جی کی باتیں جب بھی کہی غیروں جیسی کہی۔ ہم رُکے ہیں میاں جی تم جائو۔‘‘ تانگے والے نے کہا اور ہم دونوں آگے بڑھ گئے نیاز اللہ صاحب بولے۔
‎’’سانسی میں زیادہ تعداد اچھے لوگوں کی ہے۔ بُرے بس نمک کے برابر ہیں آئو، ذرا سنبھل کر چلنا یہاں سانپ ہوتے ہیں خیال رکھنا۔‘‘ مجھے جھرجھری سی آ گئی تھی سانپوں سے بچپن سے ہی ڈرتا تھا مگر اب تو تجربہ ہی مختلف تھا۔ ایک اژدھا نہ جانے کب سے مجھ سے لپٹا ہوا تھا اور اس نے میرے سارے وجود کو ریزہ ریزہ کر دیا تھا۔ ہم ویران راستے عبور کرتے ہوئے کھنڈرات کے پاس پہنچ گئے۔ کچھ فاصلے پر ایک جوہڑ نظر آ رہا تھا جس کے کنارے کچھ لوگ آسن مارے بیٹھے ہوئے تھے۔
‎’’یہ لوگ جاپ کر رہے ہیں۔کچھ اس کے چیلے ہوں گے کچھ ضرورت مند، ایسے لوگ عموماً یہاں رہتے ہیں۔‘‘ میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ہم آگے بڑھ کر کھنڈرات میں داخل ہوگئے، جگہ جگہ ٹوٹی دیواریں، اینٹوں کے ڈھیر، کہیں کہیں جلی ہوئی راکھ کے انبار۔ ایک عجیب ماحول تھا۔ ویرانی تھی کہ منہ سے بول رہی تھی۔ خودرو درخت اینٹوں کے ڈھیر سے ہی نکل پڑے تھے لیکن ان کی شاخوں پر خاموشی تھی۔ ایک گول دروازے سے گزر کر ہم ایک راہداری میں آ گئے اور یہاں ایک دُبلے پتلے ننگ دھڑنگ آدمی کو نیازاللہ صاحب نے آواز دے کر روکا۔ وہ قریب آ گیا تھا۔
‎’’کیا بات ہے؟‘‘
‎’’رامانندی کہاں ہیں؟‘‘
‎’’اندر ہیں۔‘‘
‎’’ذرا انہیں بتائو نیازاللہ آیا ہے۔ ہم یہاں انتظار کر رہے ہیں۔‘‘ وہ شخص خاموشی سے راہداری میں سیدھا چلا گیا، نیازاللہ صاحب وہیں رُک گئے تھے۔ زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ ایک مضبوط بدن کا لمبا تڑنگا آدمی جس کا صرف زیریں بدن ڈھکا ہوا تھا، گلے میں ریٹھوں کی لمبی مالا پڑی ہوئی تھی، کسرتی بازوئوں پر کوڑیوں کے حلقے بندھے ہوئے تھے، سر اور داڑھی کے بال بڑھے ہوئے اور نہایت غلیظ نظر آ رہے تھے، تیزی سے آتا نظر آیا۔ اس کے پیچھے وہی سوکھا آدمی دوڑ رہا تھا۔ قریب آ کر اس شخص نے سرد لہجے میں کہا۔
‎’’آئو نیازاللہ… آئو۔‘‘ وہ واپس مڑا عجیب سا انداز تھا۔ نیازاللہ صاحب نے مجھے ساتھ چلنے کا اشارہ کیا اور ہم چل پڑے، کوئی دس قدم آگے بڑھ کر اچانک وہ شخص ٹھٹھک گیا، اس نے مڑ کر مجھے دیکھا اس کی بڑی اور کالی آنکھوں میں بے پناہ چمک تھی، تیکھاپن تھا، ایک لمحے وہ مجھے دیکھتا رہا پھر آگے بڑھ گیا۔ میری سمجھ میں اس کے سوا کچھ نہیں آیا تھا کہ وہ ایک پُراسرار اور خطرناک آدمی ہے۔ جس جگہ سے ہم اندر داخل ہوئے تھے وہ کوئی دروازہ نہیں تھا بلکہ ایک دیوار میں سوراخ کر کے اندر جانے کا راستہ بنایا گیا تھا، ناہموار اینٹوں کے درمیان سے سنبھل کر نکلنا پڑا تھا اور جس جگہ ہم پہنچے تھے وہ اس پورے کھنڈر سے زیادہ عجیب تھی، بہت بڑا ہال نما کمرہ جس کی چھت بے حد اُونچی تھی اس میں درمیان میں ایک ٹوٹا پھوٹا فانوس لٹک رہا تھا جس میں چند شمعیں روشن تھیں مگر ان کی روشنی ناکافی تھی اور ہال کے بیشتر حصے تاریک تھے، جگہ جگہ مرگ چھانے بچھے ہوئے تھے۔ ایک جگہ بہت سی اینٹیں چبوترے کی شکل میں چنی ہوئی تھیں اور ان پر بھی ایک مرگ چھانہ بچھا ہوا تھا، پاس ہی ایک کمنڈل رکھا تھا، قوی ہیکل شخص نے ایک دری نکالی اور اسے ہمارے لیے زمین پر بچھا دیا۔
‎’’یہاں بیٹھو نیازاللہ۔ یہ پاک صاف ہے اور زمین تو ہوتی ہی پاک ہے۔‘‘ وہ بولا اور ہنس دیا۔

‎’’میرے سامنے ہوش قائم رکھا کرو رامانندی!‘‘ نیازاللہ غصیلے لہجے میں بولے۔
‎’’اچھا بھائی گوشت خور، بگڑتا کیوں ہے بیٹھ جائو۔ یہ بچہ کون ہے؟‘‘
‎’’میرا بھتیجا سمجھ لو۔‘‘ نیازاللہ نے کہا اور مجھے دری پر بیٹھنے کا اشارہ کر کے خود بھی بیٹھ گئے۔ رامانندی نے ایک مرگ چھانہ ہمارے سامنے سے گھسیٹ لیا اور خود اس پر بیٹھ گیا۔ نیازاللہ ہنس پڑے اور میری طرف رُخ کرکے بولے۔
‎’’وہ چبوترہ دیکھ رہے ہو مسعود میاں۔ مہاراج ادھیراج کا استھان ہے۔ راج مہاراجے آ جائیں نیچے بیٹھیں گے اور مہاراج اس استھان پر، میرے سامنے ایک بار اُوپر بیٹھ گئے تھے میں نے ڈاڑھی پکڑ کر نیچے گھسیٹ لیا بس اس دن سے مہاراج ہوش میں آ گئے ہیں۔‘‘
‎’’کیا کرتا مسعود میاں یہ گوشت خور اس دن میری ڈاڑھی کے بہت سے بال اُکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گیا تھا، بس اس دن سے میں اس کے بس میں ہوں۔‘‘
‎’’اسی دن سے۔‘‘ نیازاللہ نے طنزیہ کہا۔
‎’’نا بھائی نا اس سے بھی پہلے سے ارے کیا کرتے، بھینس کی پیٹھ پر بیٹھ کر پوکھر میں ننگے نہائے تھے۔ مگر یہ مسلیٰ بہت چالاک ہے۔ ہم بیمار ہوئے تو ہمیں دھوکے سے بکری کی یخنی پلا دی۔ دھرم فشٹ کر دیا ہمارا اور خود ہمارے منگوائے ہوئے پھل بھی نہیں کھاتا۔ چلو بھتیجے چھوڑو تم کسی لمبے پھیر میں پڑے ہوئے ہو۔‘‘
‎’’اسی کے لیے تمہارے پاس آیا ہوں نندو، تم سے طویل مشورہ کرنا ہے۔‘‘ نیازاللہ بولے۔
‎’’ہاں ہاں ضرور!‘‘ رامانندی نے کہا۔
‎’’تم نے کون سے پھیر کا ذکر کیا ہے؟‘‘
‎’’وہ ہماری بات ہے اسے جانے دو۔ مسعود میاں تم سنائو کیا قصہ ہے؟ ہمیں معلوم ہے کہ نیازاللہ کا کوئی بھائی بہن نہیں تھا مگر پھر بھی اتنا کافی ہے کہ اس نے تمہیں بھتیجا کہا۔ اس لیے تم ہمارے بھی بھتیجے ہوئے جو کچھ تم نیازاللہ کو بتا سکتے ہو وہ ہمیں بھی…‘‘ رامانندی نے جملہ اَدھورا چھوڑ دیا۔
‎ہال نما کمرے کے ایک تاریک گوشے میں کچھ کھڑکھڑاہٹ ہوئی تھی۔ چار مدھم مدھم روشنیاں متحرک تھیں اور آگے بڑھتی آ رہی تھیں، ذرا سی دیر میں وہ عیاں ہوگئیں لیکن انہیں دیکھ کر میں سہم گیا۔ وہ انسانی کھوپڑیاں تھیں جن کی ویران آنکھیں روشن تھیں اور وہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھیں۔ بڑا پُراسرار اور ہیبت ناک منظر تھا، دونوں کھوپڑیاں آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئی ہمارے سامنے آ گئیں۔ نیازاللہ بھی منہ کھولے انہیں دیکھ رہے تھے۔ رامانندی نے بھیانک آواز میں کہا۔
‎’’ست بھدوئیا… ماترن تھا۔ نہ وجئی ماہوترا۔‘‘ دونوں کھوپڑیاں رُک گئیں، سامنے کی سمت سے بلند ہوئیں اور پھر سیدھی ہو کر متحرک ہوگئیں، رامانندی قہقہہ مار کر ہنس پڑا تھا۔ پھر وہ بولا۔ ’’سسرو چاچا کو بھی نا پہچانو ہو، ابے یہ تمہارے پھیر میں نا آئے گا!‘‘

‎نیازاللہ نے تعجب سے راما نندی کو دیکھا تو وہ اور زور سے ہنسا! پھر بولا۔ ’’معاف کرنا نیازاللہ یہ سسرے ڈیوٹی پر ہیں ان کا یہی کام ہے۔‘‘
‎میں خود بھی ششدر تھا۔ رامانندی کے الفاظ اور اس کی ہنسی میری سمجھ میں نہیں آئی تھی، رامانندی نے ہاتھ آگے بڑھا کر ایک کھوپڑی اُٹھا لی۔ کھوپڑی کے نیچے کالے رنگ کا ایک خوب موٹا سا چوہا موجود تھا جو کھوپڑی کے اپنے اُوپر سے ہٹتے ہی اُچھل کر دوڑ پڑا تھا جبکہ دُوسری کھوپڑی اسی مخصوص انداز میں آہستہ آہستہ آگے بڑھتی ہوئی ہال نما کمرے کے دوسرے تاریک حصے کی جانب جا رہی تھی۔ رامانندی نے پھر ایک قہقہہ لگایا اور بولا۔ ’’ارے بھائی اپنا سامان تو لیتا جا، غالباً یہ الفاظ چوہے سے ہی کہے گئے تھے مگر چوہا واپس نہیں آیا اور رامانندی نے گردن جھٹک کر کھوپڑی ایک طرف رکھ دی، نیازاللہ تعجب سے بولے۔
‎’’یہ کیا ہے رامانندی۔‘‘
‎’’سنسار باسیوں پر رُعب ڈالنے کے لیے دو سرونٹ…‘‘
‎’’مطلب…؟‘‘ نیازاللہ نے بدستور تعجب سے پوچھا؟
‎’’ارے یار نیازاللہ، یہاں بڑے بڑے گدھے آتے ہیں، بات بعد میں بتائیں گے پہلے جائزہ لیں گے کہ رامانندی جی کتنے پانی میں ہیں اور یہ کھوپڑیاں انہیں پانی کا چڑھائو بتا دیتی ہیں۔ انہیں دیکھتے ہی انہیں یقین ہو جائے ہے کہ رامانندی جی کام کے آدمی ہیں۔‘‘
‎’’مگر تمہیں اس شعبدہ گری کی کیا ضرورت ہے، تم نے تو ویسے ہی بہت کچھ سیکھ لیا ہے؟‘‘
‎رامانندی مسکرا دیا پھر بولا۔ ’’لمبی کہانی ہے جو کچھ کرنا ہوتا ہے بعد میں کرنا ہوتا ہے پہلے آدمی پر رُعب ڈالنا پڑتا ہے اور اس کے لیے میں نے ایسے ہی بہت سے ملازم رکھ چھوڑے ہیں جو اپنی ڈیوٹیاں کرتے رہتے ہیں۔‘‘
‎بات میری بھی سمجھ میں آگئی تھی۔ دو موٹے تازے چوہوں کو انسانی کھوپڑیاں پہنا دی گئی تھیں اور ان کھوپڑیوں کی آنکھوں میں شاید فاسفورس کوٹیڈ کوئی چیز لگا دی گئی تھی جو اندھیرے میں ایک مخصوص انداز میں چمکتی تھی۔ میرے ہونٹوں پر بھی مسکراہٹ آ گئی۔ رامانندی بولا۔
‎’’ان بے وقوف نوکروں نے بات بیچ سے کاٹ دی۔ چلو نیازاللہ اپنے بھتیجے سے کہو کہ اب پوری بات ’الف‘ سے شروع کرے اور ’ ے‘ تک ہمیں بتا دے۔‘‘ نیازاللہ نے کہا۔

‎’’مسعود میاں یہ آدمی کام کا ہے مگر اس کے مسائل بھی بہرحال مسائل ہیں، تم اس کی شعبدہ گری پر توجہ مت دینا۔‘‘
‎میں ان تمام باتوں سے خوب محظوظ ہوا تھا مگر پھر سنجیدہ ہو کر میں نے کہا۔ ’’راما نندی جی میں نہایت سنجیدگی سے آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کوئی کہانی سناتے ہوئے میں ایک خوف کا شکار ہوں۔ میں نے مختصراً چچا نیازاللہ صاحب کو اپنی داستان سنا دی ہے لیکن اس کا بہت سا حصہ میں نے انہیں نہیں بتایا جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ روزِ اوّل ہی سے میں نے جسے اپنے بارے میں سب کچھ بتایا وہ یقینی موت کا شکار ہوگیا، میں اپنے کئی پیاروں کو کھو چکا ہوں اور اب اس قدر دہشت زدہ ہوں کہ کسی کے سامنے یہ کہانی نہیں بیان کر سکتا، مجھے نیازاللہ صاحب کی زندگی کا خطرہ ہے، آپ کی زندگی کا خطرہ ہے، مجھ پر تو جو بیت رہی ہے سو بیت ہی رہی ہے۔‘‘ رامانندی چند لمحات سوچتا رہا پھر اس نے کہا۔
‎’’بھتیجے جس جگہ تم بیٹھے ہو وہاں ہمارا راج پاٹ ہے۔ کوئی آواز یہاں سے باہر نہیں جا سکتی اور کوئی مہاگرو یہاں اندر نہیں آسکتا کتنا ہی بڑا گیانی ہو، اپنی اپنی حد ہوتی ہے۔ یہاں جو کچھ تم کہو گے محفوظ رہے گا اور کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا، ہمارا وعدہ ہے تم سے۔‘‘
‎نیازاللہ صاحب غصیلے لہجے میں بولے۔
‎’’اور تم مسلسل ہماری توہین کیے جارہے ہو۔ میاں زندگی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے اور وقت جو کچھ بھی پیش کرے وہ اللہ کا حکم۔ نہ اس کے حکم میں کوئی ردوبدل ہو سکتا ہے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی کی زندگی کا اختتام ہو سکتا ہے تم ہمارے ایمان میں رخنہ ڈالنے کی کوشش نہ کرو، یہ سارے معاملات رامانندی سمجھتا ہے اسے بتائو اور میرے سامنے بتائو۔ میں اپنی بربادی کا خود ذمہ دار ہوں گا۔‘‘ میں نے ایک گہری سانس لی اور بولا۔
‎’’ٹھیک ہے آپ کا حکم مان رہا ہوں رامانندی جی۔ مختصراً میں نے نیازاللہ صاحب کو اپنی بربادی کی داستان بتائی ہے لیکن دوبارہ بتا رہا ہوں، میں نے ایک اچھے شریف خاندان میں جنم لیا تھا، میرے والد محفوظ احمد صاحب ایک نیک اور دیندار آدمی تھے مگر میں بچپن ہی سے غلط صحبتوں کا شکار ہوگیا اور آسان ذرائع سے دولت کے حصول کی کوششوں میں مصروف رہا۔ مجھے کسی ایسے عامل کی تلاش تھی جو مجھے ان کوششوں میں مدد دے تب مجھے بھوریا چرن ملا اور اس نے میرا کام کرنے کا وعدہ کیا لیکن اس کے صلے میں اس نے بھی مجھ سے ایک کام کرنے کی شرط رکھی۔ میں نے رامانندی کو پیر پھاگن کے مزار کی تفصیل بتائی اور اس کے بعد کے واقعات سنائے کہ میرے گھر پر کیا بیتی، بعد میں حکیم سعداللہ کے ساتھ کیا ہوا، لاک اَپ اور جیل میں مجھ پر کیا گزری، بے چارے چاند خان کس طرح موت کے گھاٹ اُترے۔ منحوس بھوریا چرن کیسی کیسی شکلوں میں مجھ پر نازل رہا اور اس نے زندگی کس طرح مجھ پر تلخ کر دی، میرے ماں باپ کیسے دربدر ہوئے اور میں کس طرح نیازاللہ صاحب کے پاس پہنچا۔ رامانندی اور نیازاللہ صاحب بڑی دلچسپی سے یہ ساری داستان سن رہے

‎تھے۔ اس وقت نیازاللہ صاحب کو میرے رونے اور سسکنے کی اصل داستان معلوم ہوئی تھی اور وہ بہت متاثر نظر آ رہے تھے۔ رامانندی نے آنکھیں بند کرلیں دیر تک خاموش رہا، سوچتا رہا پھر جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اس کی آنکھیں کبوتر کے خون کے خون کی مانند سرخ ہو رہی تھیں۔ وہ عجیب سی کشمکش کے عالم میں مجھے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد اس نے کہا۔
‎’’اب تم کیا چاہتے ہو مسعود میاں؟‘‘
‎’’میں کیا چاہوں گا رامانندی جی، میرا خاندان بکھر چکا ہے ماں باپ اور بہن بھائی نجانے کہاں بھٹک رہے ہیں اور میں جن حالات سے گزر رہا ہوں وہ آپ کے سامنے ہیں۔ پولیس الگ میری تلاش میں ہوگی۔ میں کبھی یہ ثابت نہیں کر سکوں گا کہ میں ان بے گناہ انسانوں کا قاتل نہیں ہوں۔ ان سارے حالات میں میری سوچ کیا ہو سکتی ہے میں خود نہیں جانتا کہ میں کیا چاہتا ہوں۔ اگر اور کچھ نہ ہو سکے تو صرف ایک کام ہو جائے۔‘‘
‎’’کیا…؟‘‘ رامانندی نے پوچھا۔
‎’’میرے ماں باپ، ماموں اور بھائی بہن اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرلیں اور باعزت زندگی بسر کریں۔ زیادہ سے زیادہ مجھے اپنے جرم میں پھانسی کی سزا ہو جائے… اگر ان لوگوں کو ایک باعزت زندگی مل سکے تو میں اس کے لیے ہزار بار موت قبول کر سکتا ہوں، بس اتنا ہو جائے کہ بھوریا چرن میرے اہل خاندان کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔‘‘
‎’’کیا تمہارے دل میں کبھی یہ بات آئی کہ تم بھوریا چرن کا وہ کام کر دو۔‘‘ راما نندی نے پوچھا۔
‎’’بس اس وقت جب میں پہلی بار اس کے کام کے لیے پیر پھاگن کے مزار کی سیڑھیاں طے کر رہا تھا لیکن جب میں اُوپر نہ پہنچ سکا اور میں نے وہ ہوشربا منظر دیکھا کہ پیر پھاگن کا مزار بلند سے بلند ہوگیا اور میرے نیچے زمین دُور ہوگئی تو میرا ذہن بدل گیا اور اس کے بعد سے آج تک میں کسی بھی قیمت پر یہ کام کرنے کو تیار نہیں ہوا اور نہ مرتے وقت تک اس کا یہ کام کروں گا۔‘‘
‎رامانندی پھر کسی سوچ میں ڈُوب گیا اور بہت دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس نے نیازاللہ صاحب سے کہا۔

‎’’نیاز معاملہ بڑا گمبھیر ہے، میں بہت کچھ سمجھ چکا ہوں۔ وہ پاپی شنکھا ہے اور شنکھا کالے جادو کے بہت بڑے ماہر ہوتے ہیں۔ شاید تمہیں یہ علم ہو کہ سفلی علم رکھنے والے جو جنتر منتر پڑھتے ہیں ان کے لیے انہیں بہت سے مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان مرحلوں کی ایک بڑی تفصیل ہے۔ شنکھا پانچویں درجے کا گیانی ہوتا ہے اور اس علم کے کل آٹھ درجے ہیں۔ آٹھواں درجہ کسی کو نہیں مل سکا، بڑے سے بڑے جادو کا ماہر چھٹے درجے تک پہنچا مگر اس کے بعد وہ جی نہ سکا۔ ساتویں درجے پر صرف ایک گیانی پہنچا تھا مگر وہ پتھر بن گیا اور زمین کی گہرائیوں میں اُتر گیا کیونکہ زمین اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکی تھی۔ شنکھا بھیروں پرم ہوتا ہے اور بھیروں اس کے سارے کام کرتا ہے۔ مہاراج بھوریا چرن بھیروں پرم ہیں، بھیروں کا نشان مکڑی ہوتا ہے۔‘‘
‎’’بھیروں کیا ہے؟‘‘ نیازاللہ نے پوچھا۔
‎’’چھوڑو نیاز یہ کالے علم ہیں۔ تمہاری زبان گندی ہو جائے گی۔‘‘
‎’’اور تیری زبان جو گندی ہے۔‘‘
‎’’میرا تو دھرم ہی دُوسرا ہے۔‘‘
‎’’تیرے دھرم کے لوگ بھی تو سارے تیرے جیسے نہیں ہوتے۔‘‘
‎’’مانتا ہوں مگر اس بے چارے کے من کی بات جتنی میں سمجھ سکا ہوں اتنی تم نہیں سمجھے ہوگے نیازاللہ۔‘‘
‎’’مثلاً؟‘‘
‎’’یہ موجودہ معاشرے کے غلط اُصولوں کا شکار ہے جیسا کہ میں تھا، میں تم سے پھر کہہ رہا ہوں ان گہرائیوں میں نہ اُترو تمہیں اور اسے دونوں کو نقصان ہو جائے گا اور ہماری ان باتوں سے اور بہت سوں کا نقصان ہوگا۔ کالا جادو سیکھنا اتنا مشکل نہیں ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھ لو جیسے گھورے یا گندے کیچڑ میں پڑی سونے کی اشرفیاں، ہاتھ گندے ہوتے ہیں مگر اشرفیاں ہاتھ آ جاتی ہیں۔ ایمان کھونا پڑتا ہے مگر سونا مل جاتا ہے اور جو وقت گزر رہا ہے وہ تیرے سامنے بھی ہے نیاز اور میرے سامنے بھی، ایمان تو بہت سے کھو چکے ہیں بس وہ کالا جادو نہیں جانتے۔ رشوت، چور بازاری، ڈکیتی اور نہ جانے کیا کیا۔ یہ سب ایمان کے سہارے تو نہیں ہوتا۔ ان سارے دھندوں میں ایمان تو سلامت نہیں رہتا۔ بس اتنا سا فرق ہے کہ وہ سب کالے جادو کے سہارے نہیں کرتے، ان کا اپنا جادو دُوسرا ہے مگر انہیں کالے جادو کے بارے میں بتا دیا جائے تو وہ ضرور اسے سیکھ لیں گے تاکہ ان کا کام اور آسان ہو جائے مگر میں تمہیں بھیروں کے بارے میں ضرور بتائے دیتا ہوں۔‘‘
‎’’چلو وہی بتائو۔‘‘
‎’’سارے کے سارے پلید ہوتے ہیں۔ پہلے کچھ کام کرنے ہوتے ہیں، اس کے بعد پہلا جاپ کرنا پڑتا ہے۔‘‘
‎’’وہ کس لیے؟‘‘

‎’’پہلے جاپ کے مکمل ہونے کے بعد ’’ہیر‘‘ قبضے میں آتا ہے۔ ہیر ’’اشیش‘‘ ہوتا ہے من کھونے والا اور وہ من کے اندر بس جاتا ہے مگر اس کا وجود باہر بھی ہوتا ہے اور تم اسے خبریں لانے کے کام میں لا سکتے ہو۔ دُوسرے جاپ سے ’’ویر‘‘ ملتا ہے تمہارا دُوسرا غلام، جب ہیر اور ویر تمہارے قبضے میں آ جاتے ہیں تو ’’بیر‘‘ کی باری آتی ہے۔ بیر بہت سے ہوتے ہیں، بارہ بیر بس میں کرنے کے بعد بھیروں جاگتا ہے۔ بھیروں ایک ہوتا ہے مگر سب کا میت، سب کے کام آنے والا۔ اسے بس میں کرنے والا شنکھا کہلاتا ہے اور شنکھا کے پاس بڑی طاقتیں ہوتی ہیں۔‘‘
‎نیازاللہ صاحب بڑی دلچسپی سے یہ باتیں سن رہے تھے۔ مجھے بھی یہ سب کچھ بہت عجیب لگ رہا تھا۔ نیازاللہ نے کہا ’’تمہارا کون سا درجہ ہے۔‘‘ رامانندی مسکرا دیا۔
‎’’بتانا منع ہوتا ہے۔‘‘
‎’’اوہ! اچھا تب میں تمہیں مجبور نہیں کروں گا مگر ایک بات ضرور بتائو۔‘‘
‎’’وہ کیا؟‘‘
‎’’یہ بھوریا چرن، پیر پھاگن کے مزار پر جا کر کیا کرنا چاہتا تھا؟‘‘ نیازاللہ صاحب نے ایک نہایت اہم سوال کیا اور راما نندی سوچ میں ڈوب گیا پھر آہستہ سے بولا۔ ’’وہ کھنڈولا بننا چاہتا ہے۔‘‘
‎’’کھنڈولا؟‘‘
‎’’چھٹی منزل کا شہنشاہ اور اس کے لیے کسی صاحب ایمان کے گھر کو گندا کرنا ہوتا ہے مگر کوئی شنکھا اپنے پیروں سے چل کر کسی پاک بزرگ کے مزار پر جانے کی قوت نہیں رکھتا۔ ایسی کوشش کرے تو جل کر راکھ ہو جائے۔ ہاں کسی دُوسرے صاحب ایمان کا سہارا لے کر وہ ایسا کام کر سکتا ہے اور مجھے یقین ہے کہ شنکھا ایسا ہی چاہتا ہوگا!‘‘
‎دماغ کھل گیا تھا، ساری کہانی ایک دَم سمجھ میں آ گئی تھی۔ بھوریا چرن کے الفاظ بھی یہی تھے، اس نے کہا تھا کہ تو میرا کام کر دے، میں تیرا کام کر دوں گا، وہ کچھ بنا دوں گا تجھے کہ تو سوچ بھی نہیں سکتا، اس کا مطلب ہے کہ بھوریا چرن میرے ذریعے پیر پھاگن کے پاک مزار کو ناپاک کرنا چاہتا تھا اور جب میں پہلی بار اس کا پتلا لے کر اس پاک مزار کی سیڑھیاں طے کر رہا تھا تو میرا راستہ روکا گیا تھا، فاصلے طویل کر دیے گئے تھے تاکہ یہ گناہ مجھ سے سرزد نہ ہو سکے۔ آہ یہ تو بہت ہی اچھا ہوا، بہت ہی اچھا، اگر مجھ پر یہ مصیبتیں اس لیے نازل ہوئی ہیں کہ میں ایک مقدس بزرگ کے پاک مزار کو ناپاک بنانے کا مرتکب نہ ہو سکا تو ایسی لاکھوں مصیبتیں میں بھگتنے کے لیے تیار تھا لیکن یہ غلیظ کام میں قیامت تک نہیں کروں گا۔ میرے دل میں اب یہ عزم نئے سرے سے تازہ ہو گیا تھا اور رُوح کو بڑی فرحت کا احساس ہو رہا تھا۔
‎نیازاللہ صاحب گردن جھٹک کرگہری گہری سانسیں لینے لگے پھر بولے۔ ’’عجیب کہانی ہے بھئی ہمارے مذہب میں تو یہ سب کچھ نہیں ہے، سیدھے سادے عبادت کرو اور خدا کی خوشنودی حاصل کرو۔ نہ اس میں غلاظت کا کوئی کھیل ہے نہ دل کو گندا کرنے کا، ہمارے ہاں لاتعداد علوم ہیں لیکن سارے کے سارے انسانی بہتری کے لیے، خدا کے کلام سے کسی کو نقصان پہنچانے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور خدا کے کلام میں وہ تمام قوتیں پوشیدہ ہیں جو ہزاروں جادوئوں میں نہیں۔ اب تم خود دیکھ لو رامانندی کہ تم اپنی گندی قوتیں حاصل کرنے کے لیے بھی ایک مزار پاک کو گندہ کیے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتے، کیا انوکھی بات ہے۔‘‘

‎راما نندی نے آنکھیں بند کرلیں۔ ایک اور بات کا مجھے بڑے تاثر انگیز انداز میں احساس ہوا تھا، وہ یہ کہ راما نندی بے انتہا مخلص انسان تھا حالانکہ وہ کالے جادو کا ماہر تھا اور جو تھوڑا سا تماشا میں نے یہاں دیکھا تھا اس سے یہ اندازہ بھی ہوتا تھا کہ مکمل طور پر دُنیا دار ہے اور لوگوں کو بیوقوف بنانے میں دلچسپی رکھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہی وہ ایک غیر مذہب سے اتنا مخلص تھا کہ اس کے لیے اس نے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا، اندر کی باتیں بتائی تھیں جو کوئی اور کسی کو نہیں بتا سکتا تھا۔ رامانندی نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا۔
‎’’تو پھر نیازاللہ اب یہ بتائو کہ میں کیا کروں…؟‘‘
‎’’بھئی میں تو کچھ بھی نہیں جانتا اس سلسلے میں ، جو کچھ ان کے ساتھ بیتی تھی میرے ذہن میں تمہارا ہی خیال آیا تھا اور پورے اعتماد کے ساتھ میں تمہارے پاس آ گیا اور یہ فیصلہ تم خود ہی کرو گے کہ یہ بچہ کس طرح مصیبتوں سے نکل سکتا ہے، یہ میں نہیں جانتا، تم جانتے ہوگے۔‘‘
‎رامانندی نے گہری سانس لے کر کہا۔
‎’’تو پھر نیازاللہ ایسا کرو کہ اسے میرے پاس چھوڑ جائو۔‘‘ میں چونک پڑا۔ میں نے سنسنی خیز نگاہوں سے رامانندی کو دیکھا لیکن زبان سے کچھ نہ بولا۔ نیازاللہ صاحب نے میری طرف دیکھا اور بولے۔
‎’’کیوں میاں کچھ دل ٹھکتا ہے اس بات پر۔‘‘ میں چند لمحات خاموش رہا پھر میں نے کہا۔
‎’’میں جس عذاب سے گزر رہا ہوں نیازاللہ صاحب، آپ کو اب تو اس کے بارے میں سب کچھ معلوم ہو چکا ہے، بے شک میں اپنی زندگی بھی چاہتا ہوں اور وہ سب کچھ بھی جس کا اظہار میں آپ سے کر چکا ہوں۔ ماں باپ بہن بھائی میرے دل میں کسکتے ہیں لیکن آج بھی اس بات پر میں بہت خوش ہوں کہ میں نے وہ گندا کام نہیں کیا اور آئندہ بھی میں ان سب کی زندگی کی قیمت پر یہ کام نہیں کرنا چاہتا۔ اب اس روشنی میں جو بھی فیصلہ میرے لیے مناسب ہو وہ آپ کریں۔ اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ میرا ایمان جا کر ہی میرے ماں باپ مجھے مل سکتے ہیں تو میں آج ہی اپنے آپ کو موت کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہوں اور اگر مجھ پر سے یہ مصیبت کسی اور ذریعے سے ٹل سکتی ہے تو اس کے لیے کوشش کر لی جائے آپ لوگوں کا احسان مند ہوں گا۔‘‘
‎’’تم میرے پاس کچھ روز رہو گے لڑکے اور تمہیں میرے احکامات پر عمل کرنا ہوگا۔‘‘
‎’’اس سلسلے میں، میں واضح طور پر ایک بات کہہ دینا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے سخت لہجے میں کہا۔
‎’’کیا…؟‘‘ راما نندی نے سوال کیا۔

‎’’پہلی بار جب مجھے حکیم سعداللہ کے پاس لے جایا گیا تھا تو انہوں نے بھی مجھے اپنے پاس رکنے کے لیے کہا تھا اور پھر وہیں سے میری زندگی کا ایک بدنما دور شروع ہوگیا۔ حکیم سعداللہ مجھ سے اس بارے میں تفصیلات معلوم کر رہے تھے اور میری آنکھوں کے سامنے منحوس بھوریا چرن ایک مکڑی کی شکل میں لہرا رہا تھا اور پھر میرے ہی ہاتھوں حکیم سعداللہ قتل ہوگئے کہیں وہ کہانی پھر سے نہ شروع ہو جائے۔‘‘
‎’’ہو سکتی ہے، ضرور ہو سکتی ہے، مگر اب میں اس سے واقف ہوں اس لیے ایسا نہیں ہوگا۔‘‘
‎’’اگر یہ بات ہے تو پھر مجھے آپ کے پاس رُکنے میں بھلا کیا اعتراض ہو سکتا ہے رامانندی جی۔‘‘
‎’’تو بس ٹھیک ہے نیاز، آپ آرام کریں اور ایک دو ہفتے کے لیے اسے بالکل بھول جائیں، جو کچھ بھی بن پڑے گا، کروں گا اس کے لیے۔‘‘
‎نیازاللہ صاحب کھڑے ہوگئے اور بولے… ’’رامانندی بڑا وقت لیا ہے میں نے تمہارا اور بہت کچھ مانگ لیا ہے تم سے، سوائے دُعا کے میں اور کیا کر سکتا ہوں تمہارے لیے، میں تو ایک معمولی سا آدمی ہوں خدا کا گناہ گار بندہ۔ میری تو دعائوں میں بھی یہ اثر نہیں ہے کہ وہ کسی کے کام آ جائیں… لیکن اس کے باوجود اپنے خدا سے مایوس نہیں ہوں، میں اور مسعود میاں، بھروسہ رکھنا، تمہاری بہن اور میں۔ تمہارے لیے دُعائیں کرتے رہیں گے، اللہ تعالیٰ بہتری کرے گا۔ اچھا تو رامانندی پھر مجھے اجازت دو۔‘‘
‎’’ٹھیک ہے نیاز، کام بھی دیا تو نے ہمیں تو ایسا کہ جس کو پورے بھروسے کے ساتھ نہیں کر رہے۔ لیکن چنتا مت کرنا رامانندی نے ہوش سنبھالنے کے بعد تیری صورت دیکھی تھی اور اگر مر بھی گیا تو تیری صورت آنکھوں میں ہوگی۔ چنتا مت کرنا اس کے لیے ، جو کچھ بھی ہم سے بن پڑے گا کریں گے مگر سنو ایک بات کہے دیتے ہیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے اور جو کھو جائے اس کی ذمہ داری خود تم پر ہوگی۔‘‘
‎’’میں سمجھا نہیں رامانندی۔‘‘ نیازاللہ صاحب نے کہا۔
‎’’میں سمجھا بھی نہیں سکتا تمہیں اس وقت۔‘‘ رامانندی نے کہا اور نیازاللہ اس کا چہرہ دیکھتے رہے پھر بولے…
‎’’اس کے باوجود میں جانتا ہوں کہ تو جو کچھ بھی کرے گا بہتر ہی کرے گا۔‘‘ رامانندی نے دونوں ہاتھ جوڑ دیے اور نیازاللہ واپسی کے لیے پلٹے، میں اور رامانندی انہیں باہر تک چھوڑنے آئے تھے۔
‎(جاری ہے)


تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 6

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,