| قسط وار کہانیاں |
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 30
رائیٹر :ایم اے راحت
اور یہی ہوا، نمبر نکلا اور اتنی دولت مل گئی مجھے کہ میں نیم بے ہوشی کی کیفیت میں گھر میں داخل ہوا۔ بہن کے سامنے دولت کے انبار لگا دیئے تو اس پر بھی نیم غشی کی سی کیفیت طاری ہوگئی، اس نے کہا۔
’’بھیّا کہاں سے لے آئے یہ پیسے، خدا کے لیے سچ بتائو، کہیں، کہیں کوئی غلط کام تو نہیں کیا…؟‘‘
’’پاگل ہے تو، بس یہ سمجھ لے، ہمارے دلدّر دُورہوگئے، تو بھی عیش کرے گی اور اب دیکھنا کہ میں بھی کیا کرتا ہوں۔ کھانے پینے کا سامان لایا۔ مجھے وہ شام یاد ہے مسعود بھائی، میری بہن بہت خوش تھی، میں بھی بے پناہ خوش تھا۔ ہم نے پیسے زمین میں ایک ہنڈیا میں رکھ کر دفن کر دیئے، بس اتنے نکال لیے کہ ہمارا کام چلتا رہے۔ تھوڑے سے پیسے میں نے دیوان لال کے لیے بھی نکال لیے تھے اور دوسرے دن دیوان لال میرے پاس آگیا۔ اسے پتہ چل گیا تھا کہ میں سٹّے میں بہت بڑی رقم جیتا ہوں۔ وہ افسوس کرنے لگا کہ وہ ڈر کر کیوں بھاگ آیا۔ بہرحال اچھا آدمی تھا، کوئی خاص بات نہ کی اس نے بلکہ پیسے لینے سے بھی انکار کیا جو میں نے اس کے لیے نکالے تھے۔ لیکن میں نے اپنے دوست کو محروم نہیں رکھا اور اسے کو مجبور کردیا۔ دُوسرا اور تیسرا دن گزر گیا، سٹّے کا نمبر ایک بار لگ گیا تھا اور میرے دل میں یہ آرزو تھی کہ خدا کرے سادھو مہاراج پھر سے مل جائیں۔ وہاں پہنچا جہاں سادھو مہاراج کو دیکھا تھا لیکن شمشان گھاٹ کے پاس وہ جگہ خالی پڑی ہوئی تھی۔ البتہ دیوان لال مجھے وہاں مل گیا تھا، مجھے دیکھ کر کھسیانی سی ہنسی ہنس کر خاموش ہوگیا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ سادھو مہاراج کی تلاش میں آیا ہے لیکن اب وہ موجود نہیں تھے۔ رات کے تقریباً ساڑھے آٹھ بجے ہوں گے۔ سردیوں کی راتوں میں ساڑھے آٹھ بجے کا مقصد یہ ہے کہ رات آدھی کے قریب ہوگئی۔ بستی سنسان پڑی تھی کسی نے ہمارے دروازے پر دستک دی… میں نے دروازہ کھولا اور سادھو مہاراج کو دیکھ کر حیرت سے میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ وہ مسکرا دیئے اور بولے…
’’اندر آنے کو نہیں کہے گا بالک…؟‘‘
’’آپ… آیئے… آیئے سادھو مہاراج۔ مجھے اُمید نہیں تھی کہ آپ میرے اس غریب خانے پر بھی تشریف لے آئیں گے…‘‘ سادھو مہاراج اندر آ گئے، دالان سے گزر کر انہوں نے کوٹھے کے دروازے سے قدم رکھا اور پھر اُچھل کر پیچھے ہٹ گئے۔ یوں لگا کہ جیسے ان کےبدن کو بجلی کا جھٹکا لگا ہو… ایک لمحے کے لیے ان کے چہرے پر ناگواری کے آثار پھیل گئے۔ پھر وہ آہستہ سے بولے…
’’آ باہر آ، تجھ سے بات کرنی ہے۔‘‘
’’آپ اندر آ جایئے مہاراج۔ آپ کا گھر ہے۔ آ جایئے اندر۔‘‘ مگر مہاراج اندر آنے کےبجائے گھر کے دروازے سے باہر نکل گئے تھے۔ میں ان کے ساتھ باہر آ گیا تھا۔ کافی دُور پہنچ کر وہ ایک پلیا پر بیٹھ گئے۔ پھر مجھے دیکھ کر بولے۔ ’’نمبر لگا تھا؟‘‘
’’ہاں مہاراج۔ آپ کی مہربانی سے میرے دن پھر گئے۔‘‘
’’ہونہہ۔ دن پھر گئے۔ تو انہیں دن پھرنا کہتا ہے۔ چار پیسوں میں کہیں دن پھرتے ہیں۔‘‘ سادھو مہاراج نے کہا۔
’’ہم بہت غریب لوگ ہیں مہاراج۔ ہمارے لیے تو یہ پیسے بڑا خزانہ ہیں۔‘‘
’’ماتا پتا مر چکے ہیں تیرے؟‘‘
’’ہاں مہاراج۔‘‘
’’اور کون ہے گھر میں؟‘‘
’’بس ایک بہن ہے۔‘‘
’’ہوں۔ بہت محبت کرتا ہوگا تو اس سے؟‘‘
’’جی سادھو جی، دُنیا میں اب میرا اس کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔ آپ اندر آیئے۔ بیٹھئے مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
’’نہیں۔ وہاں تیری عبادت کی کتاب رکھی ہے، دھرم کتاب۔ تیرے پتا کیا کرتے تھے؟‘‘
’’مسجد میں پیش امام تھے۔‘‘
’’چل چھوڑ، ایک بات بتا۔‘‘
’’جی مہاراج۔‘‘
’’جنتر منتر سے لگائو ہے تجھے۔ کوئی چلّہ کھینچے گا، کچھ سکھائوں تو سیکھے گا؟ یہ بھاگ ہیں تیرے کہ ہم تجھے کچھ سکھانا چاہتے ہیں ورنہ ہزاروں ہمارے پیچھے ہاتھ باندھے پھرتے ہیں۔‘‘
’’چلّے سے کیا ہوگا سادھو مہاراج؟‘‘
’’پھر تجھے کسی سے سٹّے کا نمبر نہیں پوچھنا پڑے گا۔ لکشمی تیری داسی ہوگی۔ جدھر اُنگلی اُٹھاوے گا سونے کے انبار لگ جائیں گے۔ راج رانی ہوگی تیری بہن، جیون سوارت ہو جائے گاتیرا۔ اس کے بدلے میں تجھے ہمارے کچھ کام کرنے ہوں گے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’وہ بعد میں بتا دیں گے تجھے۔‘‘
’’میں منتر سیکھنا چاہتا ہوں مہاراج۔‘‘
’’ہاتھ دے ہمارے ہاتھ میں…‘‘ سادھو نے اپنا ہاتھ پھیلا دیا اور میں نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ دیا۔ وہ بولا۔ ’’بہت بڑے کام کا بیڑا اُٹھایا ہے تو نے، نبھا سکے گا؟‘‘
’’کیوں نہیں مہاراج۔‘‘
’’بیچ سے تو نہیں بھاگے گا؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’پھر یوں کرنا۔ کل شمشان گھاٹ آ جانا۔ دن کے بارہ بجے سے کچھ پہلے، ٹھیک بارہ بجے ہم تجھ سے وچن لیں گے اور سن اپنی بہن سے کہہ آنا کہ کچھ دنوں کے لیے کہیں جا رہا ہے۔ کوئی چالیس دن لگ جائیں گے واپسی میں۔‘‘
’’چالیس دن…!‘‘ میں نے گھبرا کر کہا۔
’’پورے چالیس دن‘‘۔
’’مگر میری بہن اکیلی رہے گی!‘‘
’’سو تو ہے مگر اس کے بعد تو کیا ہوگا یہ سوچ بھی نہیں سکتا تو… جتنی چاہے گا دولت حاصل کر لے گا۔ جس طرف نظر اُٹھاوے گا لوگ نظریں جھکادیں گے تیرے سامنے۔ تیرا بڑا مقام ہوگا۔ غریبوں کو امیر اور امیروں کو پلک جھپکتے غریب بنا دے گا تو… کوئی دَم نہ مارے گا تیرے سامنے۔ بہن کو اپنی پسند سےجہاں چاہنا بیاہنا۔ بول کیا کہتا ہے؟‘‘
میری آنکھوں میں نہ جانے کیا کیا خواب سما گئے تھے۔ میں نے جلدی سے کہا۔ ’’میں تیار ہوں۔‘‘
’’کل تک اور سوچ لینا!‘‘
’’میں نے سوچ لیا ہے۔‘‘
’’وچن دینا پڑے گا تجھے، سوگند کھانی پڑے گی اور جب سوگند کھائے گا تو اسے نبھانا پڑے گا۔ نہیں نبھائے گا تو مصیبتوں میں پھنس جائے گا پھر چھٹکارا مشکل ہوگا۔‘‘
’’میں تیار ہوں مہاراج…‘‘
’’کل بارہ بجے آ جانا…!‘‘
’’آ جائوں گا۔‘‘ میں نے جواب دیا اور سادھو ایک دم واپسی کے لیے مڑ گیا۔ میں نے اس کے پیچھے قدم اُٹھانے چاہے مگر ہل بھی نہیں سکا۔ میرے قدم جم گئے تھے پھر جب وہ نظروں سے اوجھل ہوگیا تو میرے پائوں کھل گئے۔ مجھے بڑا خوف محسوس ہوا تھا مگر میں نے خود کو سنبھال لیا اور گھر کے اندر آ گیا۔ بہن کو میں نے اصل صورت حال نہیں بتائی تھی اور سادھو مہاراج کے بارے میں یہ کہہ کر ٹال دیا کہ وہ دیوان لال کے رشتے دار تھے اور میری نوکری کے لیے آئے تھے۔
’’نوکری کے لیے؟‘‘ میری بہن نےپوچھا۔
’’ہاں دیوان لال کے کہنے پر انہوں نے میرے لیے ایک بڑی اچھی نوکری تلاش کی ہے۔‘‘
’’سچ بھیّا۔ یہ تو بڑی اچھی خبر ہے۔‘‘
’’ہاں کل مجھے جانا ہوگا۔ بستی کے باہر شاید چندوسی۔ واپسی میں مہینہ سوا مہینہ لگ جائے گا۔‘‘
’’اور میں اکیلی رہوں گی کیا؟‘‘
’’شمشاد چچا سے کہہ جائوں گا۔ حسینہ چچی تیری خبر رکھیں گی۔ پیسے تیرے پاس موجود ہیں کسی کو ہوا تک لگنے نہ دینا۔ آرام سے نکال نکال کر خرچ کرتی رہنا۔ سوا مہینے کے بعد میں واپس آ جائوں گا اور اگر نوکری اچھی ہوئی توتجھے بھی ساتھ لے جائوں گا۔‘‘ میری معصوم بہن تیار ہوگئی۔ شمشاد چچا اور حسینہ چچی ہمارے پڑوسی تھے اور بڑےہمدرد لوگ تھے۔ ہمارا بہت خیال رکھتے تھے۔ میں نے ان دونوں کو بھی یہی کہانی سنائی اور اس طرح اپنی بہن کے لیے بندوبست کر دیا۔ ساری رات خوشی کے مارے نیند نہیں آئی تھی۔ نہ جانے کیا کیا سوچتا رہا تھا میں مسعودبھیّا۔ خوبصورت کوٹھیاں، شاندار کاریں اور نہ جانے کیا کیا۔ دوسرے دن اسی طرح تیاریاں کیں جیسے شہر سے باہر جا رہا ہوں۔ بارہ بجے سے پہلے شمشان گھاٹ پہنچ گیا۔ مگر وہاں بہت سے لوگ موجود تھے۔ نئی چتا بنائی گئی تھی اور کسی مردے کی ارتھی لائی جا رہی تھی۔ میں وہاں سے دُور ہٹ گیا اور ایک سنسان گوشے میں جا بیٹھا۔ ٹھیک بارہ بجے اچانک میرے پیچھے آہٹ ہوئی اور میں نے سادھو کو وہاں کھڑے پایا۔ وہ مجھے دیکھ کر مسکرا دیا۔‘‘
’’آ گیا بالک؟‘‘
’’ہاں مہاراج۔‘‘
’’ادھر تو مردہ جلایا جا رہا ہے۔‘‘
’’ہاں۔ میں تو پریشان ہو گیا تھا۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’سوچ رہا تھا کہ کہیں ان کی وجہ سے آپ یہاں نہ آئیں۔‘‘ جواب میں سادھو نے قہقہہ لگایا اور بولا۔
’’تماشا دیکھے گا؟‘‘
’’تماشا؟‘‘
’’ہاں۔ میری شکتی کا تماشا۔ شاید تو مجھے کوئی معمولی جوگی یا سنیاسی سمجھتا ہے۔ بائولے میں شنکھا ہوں۔ پدم شنکھا۔ بھوریا چرن ہے میرا نام۔ کالے جادو کے سنسار کا سب سے بڑا نام ہے یہ۔ دیکھ تجھے تماشا دکھاتا ہوں، ادھر دیکھ۔‘‘ اس نے مجھے ان لوگوں کی طرف متوجہ کیا جو چتا کے قریب تیاریوں میں مصروف تھے۔ ارتھی چتا کے قریب رکھی ہوئی تھی۔ پنڈت اشلوک پڑھ رہا تھا۔ اچانک ارتھی پر پڑے ہوئے مردے نے ایک چنگھاڑ ماری اور آس پاس کھڑے لوگ چونک کراُسےدیکھنے لگے۔ یہاں سے مردہ صاف نہیں نظر آ رہا تھا لیکن اس کے بدن میں جنبش محسوس ہو رہی تھی۔ پھر اس نے اپنے بدن پر چمٹے ہوئے کپڑے کے بند توڑ دیئے اور دوسری چنگھاڑ مار کر کپڑے اُتار پھینکے۔ قریب کھڑے لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ وہ چیختے چلّاتے ایک دوسرے کو پھلانگتے جدھر منہ اُٹھا دوڑ پڑے۔ اس طرح سر پر پائوں رکھ کر بھاگے تھے وہ کہ بتا نہیں سکتا۔ مردہ ارتھی کے قریب کھڑا ہوا تھا۔ آن کی آن میں لوگوں کا صفایا ہوگیا۔ اب وہاں چڑیا کا بچہ بھی نہیں نظر آ رہا تھا۔ بس اکیلا مردہ ساکت کھڑا تھا۔ سادھو نے ہنس کر کہا۔
’’اب بول…!‘‘ مگر میں کیا بولتا۔ خوف کے مارے خود میرا بدن پسینہ چھوڑ رہا تھا۔ ’’انہیں بھگا دینا کچھ مشکل ہوا ہمارے لیے۔‘‘
’’نن۔ نہیں مہاراج… مگر وہ مردہ… کیا وہ زندہ ہے؟‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘
’’پھر…؟‘‘
’’ہماری شکتی سے کھڑا ہے۔ اس کے اندر ہمارا بیر گھس گیا ہے اس نے سب کو ڈرا کر بھگا دیا۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’اب کیا ہوگا؟‘‘
’’اسے چتا میں پہنچائے دیتے ہیں۔ اس بے چارے کی چتا چھیننے سے کیا فائدہ۔‘‘ وہ بولا۔ میری نظریں اس طرف تھیں۔ اچانک میں نے مردے کے بدن میں جنبش دیکھی وہ جھکا اور اپنے کپڑے وغیرہ سمیٹنے لگا۔ پھر اس نے خود ہی انہیں اپنے بدن پر لپیٹا اور آہستہ آہستہ چلتا ہوا چتا میں داخل ہوگیا۔ اس کے بعد وہ چتا پر لیٹ گیا۔ پھر اچانک سادھو کے منہ سے آگے کا ایک شعلہ نکلا اور پرواز کرتا ہوا چتا کی لکڑیوں سے جا ٹکرایا۔ میں نے لکڑیوں کو آگ پکڑے دیکھا۔ سادھو مسلسل منہ سے شعلے اُگل رہا تھا اور میں چتا میں ہر طرف آگ لگتے دیکھ رہا تھا۔ خوف سے میری بری حالت تھی۔ یہ سادھو تو میری توقع سے کہیں زیادہ تھا۔
اوّل تو مجھے کالے جادو جیسی کسی چیز سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا، اس قسم کے سٹّے کے نمبر بتانے والے سادھو اور سنیاسی تو کبھی کبھی سڑکوں پر بھی مل جاتے ہیں، میں اسے ایسا ہی کوئی سادھو سمجھا تھا لیکن اب جوکچھ میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں وہ ناقابل یقین تھا۔ وہ کالی قوتوں کا مالک تھا اور اس کا مجھے بخوبی اندازہ ہو رہا تھا۔ کہیں کسی مصیبت میں نہ پھنس جائوں، میں سوچ رہا تھا لیکن جو کچھ اس نے مجھ سے کہا تھا اور جو سبز باغ دکھائے تھے اگرواقعی میری کوششوں سےوہ مجھے حاصل ہو جائے تو کتنا لطف آ جائے گا، زندگی کا رنگ ہی بدل جائےگا۔ اس خیال کےتحت اپنے آپ کو سنبھالا اور چتا کاجائزہ لینے لگا جس نے مردے کو جلا کر خاک کر دیا تھا۔ سادھو کہنے لگا۔
’’اب چھوڑ ان باتوں کو، تو نے کہا تھاکہ ان لوگوں کے آ جانے کی وجہ سے کہیں ہمارا کام بھنگ نہ ہو جائے، سو میں نے تجھےیہ بتا دیا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ میری مہان شکتی ہر وہ کام کر سکتی ہے جو میں چاہوں۔ سو بالکا اب جوکچھ میں تجھے بتا رہا ہوں وہ کر، تاکہ تو میری پناہ میں آ جائے… تو مسلمان کا بیٹا ہے نا…؟‘‘
’’ہاں مہاراج…‘‘
’’تیرے دھرم نے تجھے کیا دیا…؟‘‘
’’میں سمجھا نہیں۔‘‘
’’بس یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ دین دھرم ڈھکوسلے ہوتے ہیں اور منش بس ان کی لکیر پر چلتا رہ جاتا ہے۔ اصل دھرم کالی شکتی ہے جس سے منش کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ دین دھرم بعد کی باتیں کرتے ہیں کہ یہ ملے گا وہ ملے گا۔ مگر کالی شکتی وہ چیز ہے جس سے فوراً ہی منوکامنا پوری ہو جاتی ہے۔ تو بتا وہ بڑی یا یہ…‘‘ مسعود بھیّا میری معلومات بہت زیادہ نہیں تھیں، کبھی واسطہ ہی نہیں پڑا تھا ایسی معلومات سے، یہ بات اس وقت میرے ذہن میں نہیں آئی کہ شیطان اسی طرح تو بہکاتا ہے۔ اسی طرح تو وہ انسان کو مذہب سے منحرف کرتا ہے۔ یہی تو شیطینت ہے، انسان اسی سے بچ جائے تو انسان رہتا ہے ورنہ شیطان بن جاتا ہے اور اس وقت میں ایک شیطان کے قبضے میں تھا مکمل طور پر۔ اس کی باتیں میرے دل میں تو نہیں اُتر رہی تھیں لیکن میں سوچ ضرور رہا تھا ان باتوں پر۔ اس نے کہا۔
’’بیٹھ جا، جیسے ہم بیٹھے ہیں ویسے بیٹھ جا۔ اب ہم اپنا کام شروع کرتے ہیں۔‘‘ سورج آسمان کے بیچوں بیچ اَٹکا ہوا تھا، دُھوپ پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے سادھو کو پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے دیکھا۔ غالباً اس انداز سے بیٹھنے کو آسن رمانا کہتے ہیں، اس نے آسن رمایا۔ دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، گردن سیدھی کی، سینہ تانا اورمجھ سے بھی ایسے ہی بیٹھنے کیلئے کہا۔ میں نے اس کے حکم کی تعمیل کی تھی۔ وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ بڑی مقناطیسی چمک تھی اس کی آنکھوں میں، مجھے ان سے شعلے اُگلتے ہوئے محسوس ہورہے تھے۔ بدن میں بار بار تھرتھری پھیل جاتی تھی لیکن میں خود کو سنبھالنے کی کوششوں میں مصروف تھا۔ اس نے کہا۔
’’بول سوچے لم…‘‘ میں نے اپنے منہ سے وہی الفاظ ادا کئے۔ پھر اس نے کچھ اور ایسے ہی الفاظ میرے منہ سےنکلوائے اور اس کےبعد کہنے لگا۔
’’سوگند کھا سات سڑی ہوئی لاشوں کی، ساتھ پورنیوں کی، راجہ اندر کی، دھیرنا مکندی کی کہ آج سے تو میرے چیلوں میں شامل ہوا اور جو کچھ میں کہوں گا اس پر آنکھیں بند کر کے عمل کرے گا۔ منہ سے بول جو میں کہہ رہا ہوں…‘‘
میں اس کے کہنے کے مطابق دُہرانے لگا۔ اس نے تین بار مجھ سے یہ الفاظ کہلوائے اور پھر مسکرا کر بولا۔
’’اس طرح تو میرا چیلا بن گیا۔ اب میں تیرے ماتھے پر یہ تلک لگاتا ہوں اس نے زمین پر تھوکا۔ پیلے پیلے رنگ کا یہ بُودار تھوک تھا، اس نے انگوٹھا ڈبویا اور میرے ماتھے پر لکیر کھینچ دی۔ مجھے اپنی پیشانی جلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے کوئی جلتی ہوئی چیز میرے ماتھے سے لگا دی ہو، وہ مسکرا کر بولا…‘‘
’’تو رہے گا تو مسلمانوں کے بھیس میں مگر ہو جائے گا شدھی۔ نہ ہندو نہ مسلمان، کالی شکتی کا پجاری، کالے علم کا خادم، تو ہمیشہ بیر چتروں کی سیوا کرے گا۔ انہی کے کرموں پر چلے گا سمجھا۔
لوگ تجھے مسلمان سمجھیں گے پر تو کچھ اور ہی ہوگا۔ مسلمانوں کی طرح نمازیں پڑھے گا۔ دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ تو مسلمان ہے مگر تو ہوگا کالی شکتی کا سیوک، سمجھا بالک تو کالی شکتی کا سیوک بن چکا ہے۔ اب اپنے آپ پرمان کر بہت سی طاقتیں تیری مٹھی میں آنے والی ہیں۔ اچانک ہی دل اندر سے کہنے لگا، جوکچھ وہ کہہ رہا تھا یہ تو مجھے قبول نہیں ہے، میرے کانوں میں تو پیدا ہوتے ہی اذان کی آواز پڑی تھی۔ میں نے تو ناہوشی کے عالم میں اللہ کا نام سنا تھا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ کی ذات کو دھوکا دوں۔ نماز کیلئے جائے نماز پر کھڑا ہوں اور میرا دل گندگی میں ڈُوبا ہوا ہو۔ اندر شدید ترین ہلچل پیدا ہونے لگی۔ میں نے بے بسی سے اِدھر اُدھر دیکھا اور پھر میری نگاہیں اس پر گڑھ گئیں۔ وہ مسکرا رہا تھا، میری اندرکی کیفیت سے بے خبر اپنی کامیابی پر۔ پھر وہ مجھ سے بولا۔ ’’اسی طرح بیٹھ جا۔ اس طرح بیٹھا رے۔‘‘
’’مم مگر مہاراج…‘‘
’’نہیں بالک، اس سمے تک اب تو کچھ نہیں بولے گا جب تک میں تجھے بولنے کو نہ کہوں۔ وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر ایک سمت چلا گیا۔ کچھ فاصلے پر پہنچ کر اس نے اپنے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کئے اور انہیں آہستہ آہستہ نیچے اُتارنے لگا۔ پھرمیں نے دیکھا کہ زمین پر ایک سفید رنگ کی گائے آ کھڑی ہوئی ہے۔ ساتھ ہی کچھ اور چیزیں بھی۔ پیتل کی ایک چمکدار گڑوی قریب رکھی ہوئی تھی۔ اس نے گائے کے سر پرہاتھ پھیرا اور پھر اسے اس کی کمر تک پھیرتا چلا گیا۔ گائے نے پیشاب کر دیا تھا۔ اس نے وہ گڑوی نیچے رکھ دی اور اس میں غلاظت بھرلی۔ پھر وہ مسکراتا ہوا گڑوی لیے میرے قریب پہنچ گیا۔‘‘
’’لے… اَمرت جل کچھ نہیں ہے اس کے سامنے، ہزار اَمرت مل جائیں گے تجھے۔ لے پی جا اسے…‘‘
’’دُوسرے لمحے میرے بدن میں جیسے چنگاریاں بھر گئیں۔ اچانک ہی میری پیشانی کی لکیر جلنے لگی، اچانک ہی میرے پورے وجود میں گڑگڑاہٹ پیدا ہوگئی۔ اچانک ہی میری آنکھوں سے شرارے اُبلنے لگے۔ اچانک ہی میں اپنی جگہ سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ وہ چونک کرمجھے دیکھنے لگا تھا۔ میں نے غراتے ہوئے کہا…؟ کیا بک رہا ہے تو، یہ گائے کا پیشاب ہے۔‘‘
’’یہ امرت جل ہے، یہ ساری شکتیوں سے زیادہ شکتی مان ہے، اسے پی کر تو اَمر ہو جائے گا سمجھا… یہیں سے تو کالی شکتی کی ابتدا ہوتی ہے، بائولے اس کا اپمان کر رہا ہے تو…؟‘‘
’’سنو سادھو، لعنت بھیجتا ہوں میں تمہاری اس کالی طاقت پر۔ لعنت بھیجتا ہوں اس کالے جادو پر، تھوکتا ہوں اس دولت پر جو مجھ سے میرا ایمان چھین لے، سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ خبردار اگر تم نے اس قسم کی کوئی بات مجھ سے کی۔‘‘ میں نے اُچھل کر اس کے ہاتھوں پر لات ماری اور پیتل کی چمکدار گڑوی اُچھل کر کافی دُور جا گری۔ وہ ایک دَم خونخوار ہوگیا تھا۔ میں نے اپنی پیشانی سے اس کا غلیظ تھوک بھی صاف کر دیا اور اُچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ میں نے اس سے کہا۔
’’نہیں سادھو، دُنیا کی ہر چیز دے سکتا ہوں اپنے دین کے علاوہ۔ میں اپنے مذہب سے کسی بھی طرح نہیں ہٹ سکتا۔ میں اپنے دھرم کوکبھی بھی فریب نہیں دے سکتا۔ کیا ہے میرے پاس، زندگی ہی گزارنی ہے نا گزار لوں گا، غریب رہ کر ، محنت مزدوری کر کے۔ سوکھے ٹکڑے کھا کر، لیکن وہ نہیں کروں گا جو تو کہہ رہا ہے۔ تیرا دماغ خراب ہوگیا ہے کیا۔ ان سونے چاندی کے ٹکڑوں کے عوض تو مجھ سے میرا ایمان چھیننا چاہتا ہے، لعنت ہے تیری شکل پر، غلطی میری ہی تھی شیطان کے بچّے کہ میں دولت کی وجہ سے تیرے فریب میں آ گیا۔ اب مجھے یہ دولت نہیں چاہئے۔‘‘
اس کا چہرہ سُرخ سے سُرخ تر ہوتا جا رہا تھا اور آنکھیں خون اُگلنے لگی۔ تھیں اس نے غرائے ہوئے لہجے میں کہا۔
’’دھت تیرے کی۔ سارے کے سارے ایسے ہی کمینے نکلتے ہو تم۔ سارے کے سارے ایسے ہی ہو۔ ایک وہ تھا جس نے جیون ختم کر لیا اپنا آج تک کتوں کی طرح سڑکوں پر مارا مارا پھر رہا ہے مگر دھرم شکتی چاہئے دھرم شکتی، کالی شکتی چھوڑ کر دھرم شکتی چاہئے۔ ٹھیک ہے رے ٹھیک ہے۔ دیکھوں گا تم لوگ کب تک مجھے شکست دیتے رہتے ہو، ارے تم ہی ہو کمینے، کسی کا احسان نہیں مانتے۔ میں نے تجھے سوکھے ٹکڑوں کے سنسار سے نکال کر عیش و عشرت کی دُنیا میں لانا چاہا مگر، مگر…‘‘
’’اس وقت مجھے کچھ نہیں معلوم تھا مسعود بھیّا کہ وہ یہ بکواس کس کے بارے میں کر رہا ہے۔ بعد میں پتہ چلا کہ جس کا وہ تذکرہ کر رہا ہے وہ تم ہو۔‘‘
’’یہ کیسے پتہ چلا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’حالات سے…‘‘
’’حالات کیا تھے۔‘‘
’’تھوڑی سی کہانی اور رہ گئی ہے۔ اس سے پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’ایں۔ ہاں ٹھیک ہے۔‘‘ اکرام چند لمحات خاموش رہا پھر بولا۔ وہ گرجتا برستا رہا۔ پھر اچانک خاموش ہوگیا، کچھ سوچنے لگا۔ پھر ایک دَم ہنس پڑا۔
’’واہ رہے واہ۔ واہ رہے واہ۔‘‘ تو نے تو ایک نیا راستہ دکھا دیا مجھے۔ پہلے میں نے سوچا تھا کہ ’’تجھے ایک نیا رُوپ دوں۔ اُوپر سے مسلمان، اندر سے کچھ اور، پھر جب تو اس پاپی کے سامنے آئے تو وہ آسانی سے تجھ سے دھوکا کھا جائے۔ تیرے ہاتھوں ماروں اسے۔ مگر نہ سہی، تو مسلمان رہ، پکا مسلمان۔ بس میرا ایک کام کرنا ہوگا تجھے۔‘‘
’’میں اب تجھے سمجھ چکا ہوں شیطان، کوئی کام نہیں کروں گا میں تیرا۔ یہاں رُکوں گا بھی نہیں۔‘‘
’’کرے گا، کرے گا، کرنا پڑے گا تجھے۔ نہ رُک، بھاگ جا… ٹھیک ہے بھاگ جا۔‘‘ وہ خود ایک طرف چل پڑا۔ میں نے بھی بستی کی طرف رُخ کیا۔ خود پر لعنت ملامت کر رہا تھا۔ لالچ نے اندھا کر دیا تھا۔ ایمان کھونے جا رہا تھا۔ تھو ہے ایسی دولت پر۔ بستی میں داخل ہوگیا۔ اپنے گھر کی طرف چل پڑا لیکن نہ جانے کیوں سر چکرا رہا تھا۔ سب کچھ اجنبی اجنبی لگ رہا تھا اور میرا گھر ہی یہاں موجود نہیں تھا۔ سب کچھ بدلا بدلا لگ رہا تھا۔ نہ جانے میرا گھر کہاں گیا۔ پاگلوں کی طرح اپنا گھر ڈھونڈنے لگا۔ پھر ایک آدمی کو روک کر پوچھا۔ ’’بھائی صاحب۔ یہ کون سا محلّہ ہے؟‘‘
’’گاچھی ٹولہ…‘‘
’’یہاں میرا گھر تھا۔‘‘
’’کہاں۔‘‘
’’وہ سامنے۔ یہی جگہ ہے۔ برابر میں چچا شمشاد رہتے تھے…!‘‘
’’کتنے سال پہلے کی بات ہے۔‘‘
’’سال نہیں، ابھی تھوڑی دیر پہلے تک۔‘‘
’’اس گھر میں رہتے ہیں پنڈت سادھا شنکر۔ برابر میں لالہ امرناتھ بزاز۔ کوئی بیس سال سے تو ہم دیکھ رہے ہیں۔ کہیں اور ہوگا تمہارا گھر۔‘‘ وہ شخص مجھے پاگل سمجھ کر آگے بڑھ گیا۔ آہ میرا گھر کھو گیا تھا۔ میرے دوست کھو گئے تھے۔ پورے جوناپوری میں کوئی جاننے والا نہیں تھا۔ دیوان لال کے گھر گیا وہ بھی نہ ملا… اس کے گھر میں بھی کوئی اور رہتا تھا۔ خون کے آنسو رویا مسعود بھیّا۔ جوناپوری میں پیدا ہوا تھا، وہیں پلا بڑھا تھا مگر کوئی جاننے والا نہیں تھا وہاں۔ بہن بھی کھو گئی تھی میری، سب کچھ گم ہوگیا تھا۔ مہینہ گزر گیا پورا، حلیہ بدل گیا ایک دن اس ظالم سادھو کا خیال آیا۔ شمشان گھاٹ چل پڑا۔ وہ وہاں موجود تھا۔ مجھے دیکھ کر مسکرایا۔
’’آگئے مکتی میاں۔‘‘
’’میرا گھر کہاں گیا؟‘‘ میں نے پوچھا۔
’’ہمیں کیا معلوم…؟‘‘
’’تجھے معلوم ہے، تجھے سب کچھ معلوم ہے ذلیل۔‘‘
’’اوہو۔ ابھی تک بگڑے ہوئے ہو، ہم تو سمجھے تھے کہ دماغ ٹھکانے آ گیا۔ ہم سے سمجھوتہ کرنے آئے ہو۔‘‘
’’تو نے اپنے مکروہ علم سے میرا گھر گم کر دیا ہے۔ مجھے بتا میرا گھر کہاں ہے۔‘‘
’’چلو ٹھیک ہے ہم نے ایسا کر دیا ہے۔ کیا کر لو گے تم ہمارا۔‘‘
’’میں تجھے جان سے مار دوں گا۔‘‘ میں نے غیظ کے عالم میں کہا اور وہ ہنسنے لگا۔ ’’پھر بولا ٹھیک ہے پہلے تم ہمیں جان سے مار دو۔ پھر تم سے بات کریں گے۔‘‘
’’میری بہن کا پتا تو بتا دے ظالم، کچھ تو بتا دے مجھے۔‘‘
’’سب کچھ بتا دیں گے۔ جو کہو گے کریں گے تمہارے لیے۔ مگر ابھی نہیں، اس وقت جب تم ہمارا کام کر دو گے۔‘‘
’’کیا کام ہے تمہارا۔‘‘
’’ایسے نہیں بتائیں گے۔ جب تک تم من سے تیار نہ ہو جائو گے اور اب تو تمہیں سمجھنا پڑے گا۔ سسرے کچھ کئے بنا سب کچھ حاصل کر لینا چاہتے ہیں۔ وہ کمینہ بھی ایسے ہی آیا تھا گھوڑے دوڑانے۔ ریس جیتنے، سٹّہ جیتنے، ہینگ لگے نہ پھٹکری رنگ چوکھا آئے۔ سن رے… تجھے ایسے سارے کام کرنے پڑیں گے جو تیرے دھرم کے خلاف ہوں۔ چھوڑوں گا نہیں، کیا سمجھتا ہے تو مجھے۔ بھوریا چرن ہے میرا نام۔ شنکھا ہوں میں۔ تجھے سب کچھ کرنا پڑے گا ہمارے لیے ورنہ اس بار وہ کریں گے ہم جو پہلے نہ کیا تھا۔ وہ بھی تیری طرح تھا بالکل تیری طرح۔ ہم نے کہا پیر پھاگن دوارے پہنچا دے پر دھرم مہانتا اُبھر آئی، کتا بنا دیا سسرے کوہم نے بھی۔ یہی حشر تیرا ہوگا۔‘‘ اور مسعود بھیّا اس نے اس وقت مجھے تمہارے بارے میں تفصیل بتائی پھر بولا۔
’’پہلے ہم نے سوچا تھا کہ تجھے مسلمان بنائے رکھیں اور کالی شکتی سے ماریں پھر تو مسلمان بن کر اسے مارے۔ لوہے کو لوہا کاٹے۔ مگر تو نے ایک نیار راستہ دکھا دیا ہمیں۔ جوکام وہ نہ کر سکا وہ تو کر سکتا ہے کیونکہ تو اماوس کی رات کو پیروں کی طرف سے پیدا ہوا ہے۔‘‘
’’دیکھ بھوریا چرن میرا پیچھا چھوڑ دے۔ کوئی بھی مسلمان، اگر اس کےدل میں خدا کا خوف ہے تو ایسا غلیظ کام نہیں کرے گا۔ کالا جادو کفر ہے۔ ہم اسے نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ کسی اور سے اپنا کام کرالے۔ میں یہ سب کچھ نہیں کروں گا۔‘‘
’’ارے چل پاجی۔ تو ہمارا کام نہیں کرے گا
تو ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے تیرے کام آنے کی۔ جا دفع ہو یہاں سے۔‘‘
’’مجھے میرا گھر بتا دے بھوریا چرن۔ ورنہ میں تجھے مار ڈالوں گا۔ پتھر مار مار کر ہلاک کر دوں گا تجھے۔‘‘ میں نے زچ ہو کر روتے ہوئے کہا اور ایک بڑا سا پتھر اُٹھا کر اس پر کھینچ مارا۔ مگر پتھر اس کے بدن سے گزر کر دُور جا گرا۔ پھر جتنے پتھر آس پاس پڑے تھے میں اُٹھا اُٹھا کر اس پر مارنے لگا مگر سارے پتھر اس میں سے گزر گئے اور وہ ہنستا رہا۔
’’اب ہمارا کھیل دیکھ۔‘‘ وہ بولا۔ ’’یہ ہے تیرا گھر… ہے نا…! اس نے کہا اور منظر بدل گیا۔ میں نے اپنا گھر دیکھا۔ اپنی بہن کو دیکھا۔ وہ گھر کے صحن میں بیٹھی ہوئی تھی۔‘‘ اور یہ رہے ہم… اس نے کہا۔ میں نے بھوریا چرن کو دیکھا جو اچانک میری بہن کے سامنے پہنچا تھا اور وہ اسے دیکھ کر دہشت سے کھڑی ہوگئی تھی۔ پھر میں نے بھوریا چرن کو… میں نے مسعود بھیّا میں نے دیکھا کہ … کہ اس نے میری بہن کو دبوچ کر… اس کا منہ کھولا اور اور اس کی زبان چھری سے کاٹ دی۔ اس نے مزاحمت کی تو… اس نے چھری اس کے ہاتھوں پر ماری اس کے ہاتھوں کی اُنگلیاں کٹ گئیں۔ میری بہن کے منہ سے…‘‘ اکرام پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا اور اچانک میرے ذہن میں چھنّاکا سا ہوا۔ کٹی ہوئی اُنگلیاں کٹی ہوئی زبان… میں ایسی ایک شخصیت کا شناسا تھا۔
صرف شناسا ہی نہیں تھا بلکہ زندگی سے نفرت کرنے کے باوجود، کائنات کی ہر خوشی سے دور ہونے کے باوجود، وہ میرے دل کی گہرائیوں میں اتر گئی۔ وہ ہر سانس کے ساتھ میرے دل میں کسکتی تھی۔ ماں، باپ، بہن، بھائی سے جدائی ہی میرے لئے کیا کم تھی کہ وہ میری زندگی میں ایک اور دکھ بن گئی تھی۔ مجھے متنبہ کیا گیا تھا، مجھے اس کی طرف بڑھنے سے روکا گیا تھا۔ مجھے احساس دلایا گیا تھا کہ خود کو سنبھالوں اور میں نے سینے پر پتھر رکھا تھا لیکن، لیکن مشکل لگ رہا تھا۔ آہ! بڑا مشکل لگ رہا تھا۔ اکرام کے منہ سے یہ سن کر ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے تھے۔
اکرام نے بمشکل خود کو سنبھالا اور بولا۔ ’’یہ سب کچھ دیکھ کر میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ وہ بہت بڑا جادوگر ہے۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور وہ مکروہ آواز میں ہنس پڑا۔
’’نراش ہوگئے تھے ہم مگر تو نے ہمارے من میں نئی جوت جگا دی ہے۔ کرم بھنڈار سے ایک موقع اور مل گیا ہے کھنڈولا بننے کا! ایک پائل یہ کام کرسکتا ہے۔‘‘
’’بھوریا چرن…!‘‘ میں نے لرزتی آواز میں کہا۔
’’بول… بول کیا کہتا ہے؟‘‘
’’جونا پوری سے میرا گھر کہاں گیا؟‘‘
’’گھر کہاں جاسکتا ہے بائولے! بس تجھے نہیں ملے گا۔ چاہے جیون بھر کوشش کرتا رہے۔‘‘
’’اور وہ جو میں نے دیکھا…؟‘‘
’’کیسا لگا؟‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
’’کیا وہ سچ تھا…؟‘‘
’’کیا سچ ہے، کیا جھوٹ! ایسے تو نہیں پتا لگتا بالک۔ سچ ہے بھی اور نہیں بھی…! اگر ہے تو ’’نہیں‘‘ میں بدل سکتا ہے اور اگر نہیں ہے تو ’’ہے‘‘ میں بدل سکتا ہے۔ جیسے تو جہاں تھا، وہاں نہیں ہے اور جہاں نہیں تھا، وہاں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ کیا لینا ہے اور کیا دینا ہے۔‘‘
’’میں تیری باتیں سمجھ نہیں سکتا بھوریا چرن!‘‘
’’ہائے یہی تو رونا ہے۔ بھاگ پھوٹے تو کس نسل کے ہاتھوں میں… مگر کوئی کیا کرے کالی شکتی اپنا دھرم کھونے سے نہیں مل جاتی۔ کھنڈولا بننے کیلئے کسی مہان دھرمی کے دوار بھرشٹ کرنے پڑتے ہیں، کسی کا دھرم چھیننا پڑتا ہے۔ خود یہ کام کرسکتے تو ہزار بار کرلیتے پاپیو! یہ کام تمہارا ہے۔ ارے سنسار میں اربوں ایسے ہیں جو ٹکے ٹکے کیلئے دھرم بیچتے پھرتے ہیں، ہر طرح سے دھرم بیچتے ہیں مگر مجھے ملے تو سسرے سب ایک جیسے!‘‘
’’میں اب بھی کچھ نہیں سمجھا بھوریا چرن!‘‘
’’اپنے چاروں طرف دیکھ!‘‘
’’کیا ہے؟‘‘ میں حیرت سے بولا۔
’’ارے دیکھ تو، کھوپڑی مت گھما ہماری!‘‘ وہ جھلا کر بولا اور میں نے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔ آہ نہ شمشان گھاٹ تھا اور نہ وہ جگہ جہاں میں اس کے ساتھ کھڑا تھا۔ یہ کوئی اور ہی جگہ تھی۔ چاروں طرف ٹنڈمنڈ درخت کھڑے تھے، بھوری بھوری چٹانیں نظر آرہی تھیں۔ میرا سر چکرا گیا، مجھ سے کھڑا نہ رہا گیا اور میں بیٹھ گیا۔ بھوریا چرن پھر ہنسنے لگا تھا۔ اس نے کہا۔ ’’اب یقین آگیا ہوگا تجھے! جو ہے، وہ نہیں میں بدل سکتا ہے اور جو نہیں ہے، وہ ہوسکتا ہے۔ تو نہ مان ہماری اور نتیجہ دیکھتا رہ۔‘‘
’’میری جان بخش دے بھوریا چرن!‘‘
’’بڑی آسان بات ہے۔‘‘
’’کیا…؟‘‘
’’ہمارا ایک کام کردے سچے من سے! جو چاہے مانگ لے ہم سے! راج کھوتی کی سوگند کھا کر وچن دیتے ہیں جو مانگے گا، سو دیں گے۔‘‘
’’میں گائے کا پیشاب نہیں پیوں گا۔‘‘
’’کون پاپی کہتا ہے۔‘‘
’’میں نماز پڑھ کر کسی کو دھوکا نہیں دوں گا۔‘‘
’’سچے من سے اپنے دھرم کے مطابق عبادت کر، ہم تجھے نہ روکیں گے۔‘‘
’’پھر کیا کام کرنا ہوگا مجھے!‘‘
’’اپنے دھرم کی سوگند کھا کر کہہ کہ ان دونوں کاموں کے علاوہ ہم جو کہیں گے، کردے گا۔ بول کھائے گا سوگند…؟‘‘
’’میں کوئی قسم نہیں کھا سکتا۔ تو جادوگر ہے، مجھ سے کوئی ایسا ہی کام کرائے گا جو ایمان کے خلاف ہوگا۔‘‘ میں نے کہا اور بھوریا چرن غصے سے سرخ ہوگیا۔ کچھ دیر مجھے گھورتا رہا پھر بولا۔
’’چل آگے بڑھ! بعد میں باتیں ہوں گی۔‘‘ مسعود بھیا! بری طرح پھنس گیا تھا اس کے جال میں! اس کے سوا چارئہ کار نہیں تھا کہ اس کے کہنے سے آگے بڑھوں۔ نہ جانے کونسی جگہ تھی۔ میں اس سے بہت خوف زدہ تھا۔ سورج ڈھلے تک وہ چلتا رہا پھر ایک جگہ رک گیا۔ کچھ دیر کیلئے میری نظروں سے غائب ہوگیا پھر واپس آگیا۔ ’’بھوکا ہے؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
’’مرتا رہ مجھے کیا۔ بھوک لگے تو مجھے بتا دینا۔‘‘
’’بھوریا چرن! مجھے میری بہن کے بارے میں بتا دے جو کچھ میں نے دیکھا، وہ کیا تھا؟‘‘
’’نوکر لگ ہوں تیرے پتا کا! یہ کردے، وہ کردے اور تو میرا ایک کام بھی نہ کرے۔‘‘
’’آخر کیا کام ہے تیرا، مجھے بتا تو سہی؟‘‘
’’دھرم کی سوگند کھا، تب بتائوں گا۔‘‘
’’نہیں بھوریا چرن! ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ کام پوچھے بغیر میں قسم نہیں کھائوں گا۔‘‘
وہ مجھے گھورتا رہا پھر آنکھیں بند کرکے لیٹ گیا۔ کچھ دیر کے بعد اٹھا اور بولا۔ ’’صبح کو ہم یہاں سے چلیں گے آگے ایک بستی ہے، شاہ گڑھی۔ وہاں ملنگ شاہ کا مزار ہے۔ تجھے ایک چیز ملنگ شاہ کے دوار پہنچانی ہے۔‘‘
شاہ گڑھی کے بابا ملنگ شاہ کے بارے میں، میں نے بہت کچھ سنا تھا۔ بڑے پہنچے ہوئے بزرگ تھے، بڑی کراماتیں ان کے نام سے منسوب تھیں۔ میں نے حیرت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’کیا چیز ہے وہ…؟‘‘
’’ارے بس ہمارا دھرم دوسرا ہے، ان کا دوسرا! مگر ہم بھی انہیں کچھ بھینٹ دینا چاہتے ہیں۔‘‘
’’تو پھر…؟‘‘ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’بری بات ہے بالکا! انسان کے اندر اتنی کھوج نہیں ہونی چاہئے۔ ہر بات میں کیا، پھر، کیوں…! ارے تیرا فائدہ ہی ہوگا۔ ہم کہہ چکے ہیں کہ ہمارا کام کردیا تو سمجھ لے کہ پار لگ گیا۔ ہم گندے ہیں۔ تیرا دھرم اور ہے، ان کا اور! ہم گندے لوگ ایسی جگہ کب جاسکتے ہیں۔ تو مسلمان ہے تیرے لئے یہ کام مشکل نہیں ہوگا، ہماری منو کامنا پوری ہوجائے گی۔‘‘
’’وہ کیا چیز ہے بھوریا چرن! اور مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘ میں نے کسی قدر آمادہ ہوتے ہوئے کہا اور وہ بھی ایک دم نرم ہوگیا۔
’’تو کہے تو ابھی چلیں، تو تھکا ہوا نہ ہو تو؟ ایسا کرلو ہم شاہ گڑھی چلتے ہیں۔ تو وہاں سے پہلے اپنی پیٹ پوجا کریو اور پھر ہم تجھے بتا دیں گے وہ جگہ جہاں تجھے جانا ہے اور جو کرنا ہے۔ ارے تو تیار تو ہو اور پھر دیکھ تماشا!‘‘
میں نے گردن جھکا لی اور سوچ میں ڈوب گیا۔ پھر میں نے کہا۔ ’’ٹھیک ہے۔ اگر ایسی کوئی بات ہے تو مجھے اعتراض نہیں لیکن اب اس وقت شاہ گڑھی یہاں سے ہے کتنی دور…؟‘‘
جواب میں بھوریا چرن ہنسنے لگا۔ پھر وہ دو قدم آگے بڑھا اور اس نے میری کمر پہ ہاتھ رکھ کر مجھے زور سے دھکا دے دیا۔ اس کی یہ حرکت میری سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ گرتے گرتے بچا۔ زمین پر ہاتھ ٹکا دیئے تھے ورنہ چہرے پر چوٹ لگ جاتی۔ میں نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔ اس حرکت کا مقصد جاننا چاہتا تھا۔ اس نے خود ہی میرے بازو کو سہارا دے کر مجھے کھڑا کردیا اور ہنستا ہوا بولا۔
’’لے آگیا تو شاہ گڑھی! بس اتنی سی بات تھی۔ ایسے ہی پریشان ہورہا تھا۔ ارے بائولے! تیرے سارے کام ایسے ہی پورے ہوجائیں گے، پلک بھی نہ جھپک پائے گی اور دیکھے گا کہ جو تیرے دل میں آیا، وہ پورا ہوگیا۔‘‘
میں نے ادھر ادھر دیکھا اور سر چکرا گیا۔ کہاں تو ایک ایسا ویران علاقہ تھا جہاں کوئی انسانی وجود ہی نہیں تھا اور کہاں اب میرے چاروں سمت آبادی نظر آرہی تھی۔
اس بھیانک جادوگر کی بھیانک جادوگری کا تو پہلے ہی قائل ہوگیا تھا۔ جانتا تھا کہ بری طرح اس کے جال میں جکڑ چکا ہوں۔ بہت دور سے شاہ گڑھی کے شاہ بابا کا مزار نظر آرہا تھا۔ یہاں اچھے خاصے لوگ ہوا کرتے تھے۔ کبھی آیا تو نہیں تھا اس مزار شریف پر لیکن باپ، دادا سے اس کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا۔
بھوریا چرن نے کہا۔ ’’جیب میں ہاتھ ڈال، پیسے موجود ہیں تیری جیب میں۔ ہم دیں گے تو برا مانے گا۔ جا سامنے دکانیں پھیلی ہوئی ہیں، کھا پی لے۔‘‘ بھوک واقعی لگ رہی تھی اور ذہنی طور پر بھوریا چرن سے سمجھوتہ کرنے پر تیار ہوگیا تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو واقعی اچھے خاصے پیسے پڑے ہوئے نظر آئے۔ میں نانبائی کی دکان پر پہنچ گیا۔ سالن، روٹی خرید کر کھائی، پانی پیا، خدا کا شکر ادا کیا اور اس کے بعد وہاں سے باہر نکلا تو بھوریا چرن میرے ساتھ ساتھ چل پڑا۔ ایک سنسان سی جگہ پہنچ کر اس نے مجھے رکنے کیلئے کہا اور پھر بولا۔
’’دیکھ وہ جو سامنے پیڑ نظر آرہا ہے، اس کے پیچھے لکڑی کا ایک صندوقہ رکھا ہوا ہے۔ صندوقچے کے اندر ایک پتلا رکھا ہوا ہے۔
اس پتلے کو چپ چاپ شاہ بابا کے مزار کے پیچھے جو بھی ایسی جگہ ہو جہاں کوئی چیز رکھی جاسکے، رکھ کر چلا آ۔ بس اتنا سا کام ہے تیرا اور بات ختم!‘‘
’’پتلا کیسا ہے…؟‘‘
’’اب دیکھ تو نے پھر وہ باتیں شروع کردیں جس سے دماغ خراب ہوجائے۔ بائولے! یہ کام کرکے آ پھر بتائیں گے تجھے کہ پتلا کیسا تھا اور ہم نے ملنگ بابا کو کیا بھینٹ دی ہے۔‘‘ بھوریا چرن کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ میں نے آمادگی کا اظہار کردیا تھا۔ اس کے اشارے پر میں درخت کے عقب میں پہنچ گیا۔ دیکھا تو واقعی لکڑی کا ایک صندوقچہ رکھا ہوا تھا۔ اسے کھولا تو اس میں ربڑ جیسا ایک پتلا رکھا ہوا تھا۔ چہرے کے قریب کرکے دیکھا تو آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ یہ پتلا بالکل بھوریا چرن کی شکل تھا۔ آنکھیں بند کئے ہوئے لیٹا تھا۔ میں نے چند لمحات سوچا۔ کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ پتلا لے کر آگے بڑھا تو یوں لگا جیسے پیروں میں کانٹے چبھ رہے ہوں۔ جیسے جیسے مزار اقدس کی جانب بڑھتا چلا جارہا تھا، نجانے کیسی کیسی کیفیتوں کا شکار ہوتا جارہا تھا۔ کوئی آواز نہیں سنائی دی تھی، کوئی احساس نہیں ہوا تھا جو الفاظ کی شکل اختیار کرسکتا لیکن مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ جیسے کوئی انجانی قوت مجھے اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کررہی ہے۔ تھوڑی دیر تک میں ان کیفیتوں کو برداشت کرتا رہا لیکن پھر بے چینی عروج کو پہنچ گئی تو میں رک گیا۔ میرا دل الٹ رہا تھا اور مسلسل یہ آوازیں آرہی تھیں کہ مجھے آگے نہیں بڑھنا چاہئے۔ یہ ایک ناپاک وجود ہے۔ مزاروں پر تو پھول چڑھائے جاتے ہیں، چادریں چڑھائی جاتی ہیں، عقیدت کے آنسو نچھاور کئے جاتے ہیں۔ یہ بت پرستی ہے۔ کسی انسانی پتلے کو مجھے مزار شریف تک نہیں پہنچانا چاہئے۔ یہ گناہ عظیم ہے۔ میں نے رک کر صندوقچی کھولی اور اس میں رکھے ہوئےپتلے کو دیکھنے لگا۔ تب ہی وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔وہ اپنی ننھی ننھی آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے مجھے دیکھ رہا تھا۔ پھر اس کی غرائی ہوئی باریک سی آواز سنائی دی۔
’’کتے کے پلے! جو میں کہہ رہا ہوں، وہ کر۔ یہاں تک آگیا ہے تو اب بیکار باتوں میں نہ پھنس۔ ابے آگے بڑھ پاپی! کیوں بہکاوے میں آرہا ہے۔‘‘ وہ بول رہا تھا اور میرا دل خوف و دہشت سے کانپ رہا تھا۔ اس کا مطلب ہے کہ بھوریا چرن خود اس پتلے کی شکل میں موجود ہے۔ جب میں درخت کے پیچھے پہنچا تھا اور وہاں سے باہر نکلا تو وہ موجود نہیں تھا۔ یقینی طور پر وہ اس صندوقچی میں یہ شکل اختیار کرگیا تھا۔ میرے دل نے آخری فیصلہ کرلیا اور میں نے صندوقچی کو پوری قوت سے دور پھینک دیا۔ دل ہی دل میں، میں نے فیصلہ کرلیا کہ یہ غلیظ کام میں نہیں کروں گا۔ کسی مزار مقدس کی بے حرمتی کسی مسلمان کے ہاتھوں ممکن نہیں ہے اور میں اللہ کے فضل و کرم سے مسلمان ہوں۔ میرے اس عمل کا کوئی ردعمل تو نہیں ہوا، صندوقچی دور پڑی تھی اور کچھ نظر نہیں آرہا تھا کہ بھوریا چرن کا کیا ہوا۔
میں وہاں سے تیزی سے بھاگا اور بھاگتا رہا۔ نجانے کہاں کہاں، نجانے کب تک!
صبح ہوگئی پھر دوپہر! تب ایک آبادی نظر آئی اور میں اس کی طرف بڑھ گیا۔ آبادی میں داخل ہوگیا۔ یہاں پہنچ کر مجھے معلوم ہوا کہ یہ بھٹنڈہ ہے۔ گھنی آبادی تھی مگر میرا کوئی شناسا نہیں تھا۔ میں کسی ایسے شخص کی تلاش میں تھا جو میری مدد کرسکے مگر بدقسمتی نے میرا دامن نہیں چھوڑا تھا۔ ایک بوڑھا سا آدمی نظر آیا اور میں نے اسے آواز دی۔ وہ رک گیا تھا۔
’’بھائی صاحب! میری مدد کریں۔ میں ایک مجبور مسافر ہوں۔ بھائی صاحب…!‘‘ اس شخص نے ناگواری سے مجھے دیکھا اور پھر چونک سا پڑا۔ وہ مجھے گھور گھور کر دیکھنے لگا تھا۔ اچانک وہ نرم لہجے میں بولا۔
’’کیا بات ہے، کیا پریشانی ہے تجھے؟‘‘
’’مجھے کوئی ٹھکانہ چاہئے ،کچھ پیسے چاہئیں۔ میں اپنے گھر جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کہاں ہے تیرا گھر…؟‘‘ میں نے اسے اپنے بارے میں مختصر الفاظ میں بتایا لیکن بھوریا چرن کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ وہ ہمدردی سے سنتا رہا اور پھر نرم لہجے میں بولا۔ ’’آمیرے ساتھ!‘‘ میں اس کے ساتھ چل پڑا لیکن آبادی میں جانے کے بجائے وہ آبادی کے باہر جانے والے راستے پر چل پڑا تھا۔ میں کسی قدر گھبرا گیا۔
’’سنئے بابا جی…!‘‘
’’کیا ہے…؟‘‘
’’کہاں جارہے ہیں آپ؟‘‘
’’مہاوتی کا نام سنا ہے کبھی تو نے؟‘‘
’’نہیں…!‘‘
’’رانی مہاوتی کا نام نہیں سنا…؟‘‘
’’افسوس نہیں!‘‘
’’بہت بڑی سرکار ہے، ان کے پاس لے جارہا ہوں، تیرے سارے دلدر دور ہوجائیں گے۔‘‘
’’مگر میں…!‘‘
’’خاموش رہ۔ تیری تقدیر اچھی ہے کہ مجھے مل گیا۔ رانی تیری ساری پریشانیاں دور کردے گی۔ بڑی مہان، بڑی نرم دل ہے وہ!‘‘ بوڑھے نے کہا۔ میں ایک ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگیا تھا۔ پھر وہ مجھے لئے ہوئے ایک عجیب سی جگہ پہنچ گیا۔ یہاں بدنما اور بدصورت پہاڑی ٹیلے بکھرے ہوئے تھے، جنگل سا پھیلا ہوا تھا، سوراخ بھی نظر آرہے تھے۔ یہ پہاڑی غار تھے اور ایک پہاڑی غار کے دہانے سے وہ اندر داخل ہوگیا۔ مجھے بے حد خوف محسوس ہورہا تھا مگر مرتا کیا نہ کرتا، اس کے ساتھ اندر چلا گیا۔ اندر داخل ہوا تو دماغ کو شدید جھٹکا لگا۔ یہ تو ایک عظیم الشان غار تھا۔ جو جگہ باہر سے بس ایک ٹیلہ نظر آتی تھی، وہ اندر سے اتنی کشادہ تھی کہ یقین نہ آئے۔ غار کے بیچوں بیچ طلسم کی دیوی، کالی دیوی کا ایک بھیانک مجسمہ استادہ تھا اور اطراف کا ماحول بے حد خوفناک تھا۔ میں نے گھبرا کر کہا۔ ’’بابا صاحب! یہ کونسی جگہ ہے؟‘‘
’’مکتی کنڈ…!‘‘ بوڑھے نے مسکرا کر کہا۔ اس کی مسکراہٹ میں صاف شیطینت جھلک رہی تھی۔
’’میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’کیوں…؟‘‘
’’یہ عجیب سی جگہ ہے، مجھے وحشت ہورہی ہے۔‘‘
’’کالی کنڈ ہے یہ بائولے! یہاں مکتی ملتی ہے۔ ہر پریشانی سے مکتی مل جاتی ہے یہاں! یہ مہاوتی نواس ہے۔‘‘
’’مگر میرا تو تھوڑا سا کام ہے میں… میں یہاں نہیں رک سکتا۔‘‘
’’مہاوتی سے نہیں ملے گا؟‘‘
’’کہاں ہے مہاوتی…؟‘‘
’’وہ ہے رانیوں کی رانی، مہارانی مہاوتی…!‘‘اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔ ایک بڑے سے پتھر کے چبوترے پر میں نے ایک عجیب اور خوفناک چیز دیکھی۔ تم نے کالا چیتا دیکھا ہے مسعود بھیا! ایک نگاہ میں مجھے ایسا ہی لگا جیسے کوئی کالا چیتا بیٹھا ہو مگر وہ چیتا نہیں، انسان تھا۔ ایک عورت، کالی بھجنگ۔ لال لال خوفناک آنکھوں والی! جو اس انداز میں پتھر پر بیٹھی ہوئی تھی جیسے بلی بیٹھتی ہے۔ خوف سے میری چیخ نکل گئی۔
’’میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘ میں نے وحشت میں کہا اور غار کے دہانے کی طرف چھلانگ لگا دی مگر دہانہ غائب ہوچکا تھا۔وہاں اب سپاٹ پہاڑی دیوار نظر آرہی تھی۔ بوڑھے شیطان کا مکروہ قہقہہ غار میں گونج اٹھا۔ وہ ہنستا ہوا بولا۔ ’’یہ کالی کنڈ ہے بائولے! یہاں لوگ آتے ہیں، جاتے نہیں۔ تو بھی نہیں جائے گا۔‘‘
’’مجھے جانے دو بابا جی! میں بہت مظلوم ہوں، میں پہلے ہی بہت ستایا ہوا ہوں۔‘‘
’’اسی لئے تو میں تجھے مکتی نواس لایا ہوں، یہاں ساری مصیبتوں سے مکتی مل جاتی ہے۔‘‘
اس وقت ایک پائیدار نسوانی آواز سنائی دی۔ ’’کیا بات ہے شمبھو ناتھ…! کون ہے یہ…!‘‘ میری گردن گھوم گئی۔ شاہانہ جھلملاتے ہوئے لباس میں مجھے ایک حسین اور بلند و بالا قامت کی عورت نظر آئی جو صورت سے ہی رانی معلوم ہوتی تھی۔
’’تیرے لئے ایک تحفہ لایا ہوں مہاوتی!‘‘
’’کون ہے یہ…؟‘‘
’’اماوس کی رات کا پائل…! مہا کالی کیلئے تیری بھینٹ!‘‘ بوڑھا مسکراتا ہوا بولا۔ میری نگاہ اس چبوترے کی طرف اٹھ گئی جہاں وہ کالی بلی بیٹھی ہوئی تھی۔ اب وہاں کچھ نہیں تھا اور چبوترہ خالی پڑا ہوا تھا۔ بوڑھے کی بات میری سمجھ میں بالکل نہیں آئی تھی مگر عورت کی آنکھوں میں عجیب سی چمک نظر آئی۔ وہ بولی۔ ’’ارے ہاں شمبھو جی! کہتے تو ٹھیک ہو… کہاں سے مل گیا یہ…؟‘‘
’’بس! مل گیا۔ ہم نے کھوجا ہے۔‘‘ بوڑھا بولا۔
’’کون ہے یہ…؟‘‘
’’مصیبتوں سے نجات مل جائے گی۔ اسے بالکل نجات مل جائے گی۔‘‘ وہ بھی ہنس کر بولی۔ عجیب ماحول تھا۔ وحشت سے دل بند ہوا جارہا تھا، پائوں لرز رہے تھے۔ میں زمین پر بیٹھ گیا۔ دونوں کی ہنسی میرے کانوں میں گونجی تھی اور پھر وہ دونوں غائب ہوگئے۔ آہ مسعود بھیا…! آسمان سے گر کر کھجور میں اٹک گیا تھا۔ باہر جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ جب تک بدن میں جان رہی، راستہ تلاش کرتا رہا پھر تھک کر بیٹھ گیا۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا۔ ایک بار پھر وہ دونوں مجھے نظر آئے۔ کچھ تیاریاں کررہے تھے۔ پھر نہ جانے کیا ہوا، اس نے گردن اٹھا کر دیکھا تو وہاں بھوریا چرن موجود تھا۔ عورت کے اور اس کے درمیان باتیں ہورہی تھیں۔ بھوریا چرن عورت کو بتا رہا تھا کہ میں اس کا مفرور قیدی ہوں۔ پھر وہ مجھے اس غار سے نکال لایا اور میں تیورایا ہوا اس کے ساتھ چل پڑا۔ کہانی بے حد طویل ہے مسعود بھیا! وہ مجھے کئی مزاروں پر لے گیا۔ اس نے مجھے اسی مکروہ عمل پر مجبور کیا۔ اب اس نے ایک اور اذیت دینا شروع کردی تھی مجھے۔ میں کہیں بھی ہوتا، جونہی سورج چھپتا، نہ جانے کہاں سے پیلے رنگ کی بے شمار مکڑیاں آجاتیں اور میرے بدن سے چمٹ جاتیں۔ آہ! ان کے زہریلے ڈنک میرے بدن میں آگ روشن کردیتے۔ وہ مجھے کاٹتیں، میرا خون چوستیں اور میں اذیت سے دیوانہ ہوجاتا۔
بھوریا چرن کہتا۔ ’’سوگند کھا کتے! سوگند کھا میرا کام کردے گا۔‘‘ مگر میرا دل نہیں چاہتا تھا۔ وہ مجھے لئے مارا مارا پھرتا رہا اور ایک دن اس اذیت کے سامنے میں نے سر جھکا دیا۔ میں نے کہا۔ ’’بھوریا چرن! میں تمہارا کام کردوں گا مگر میں کیا کروں۔ میں نے اس وقت مزار پاک کی طرف قدم بڑھائے تھے تو میرا دل الٹنے لگا تھا۔‘‘
’’سوگند کھا لے، سب ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘ اور میں نے قسم کھا لی۔ میں نے اس سے وعدہ کیا کہ اب میں اس کاکام کردوں گا۔
’’ایک مسلمان کا وعدہ ہے یہ…!‘‘ بھوریا چرن نے پوچھا۔
’’ہاں…!‘‘ میں نے جواب دیا۔
’’پگلے…! بلاوجہ اتنی مصیبت اٹھائی۔‘‘ وہ نرمی سے بولا۔
’’اب بتا میں کیا کروں؟‘‘
’’پہلے اپنے آپ کو ٹھیک کر! دیکھ کتنا کمزور ہوگیا ہے ۔ ایک بار پھر شنکھا تجھے یقین لاتا ہے کہ تجھے مہان بنا دے گا۔ سنسار میں جو خواہش کرے گا، وہ پوری ہوجائے گی۔‘‘
’’میری بہن مل جائے گی مجھے…؟‘‘
’’راج کرے گی وہ راج…! بادشاہوں کی بیٹیوں کی طرح بیاہ کرنا اس کا اور اس کے بعد مسعود بھیا! اس نے میرا حلیہ بدل دیا۔ خوب عیش کرائے مجھے پھر وہ مجھے لے کر یہاں آگیا۔ یہاں مجھے وعدے کے مطابق اس کا منحوس پتلا مزار پاک پر پہنچانا تھا۔ آہ! میں بالکل بے بس تھا اس کے سامنے! وہ خونخوار مکڑیاں مجھ سے میرا حوصلہ، میرا صبر چھین چکی تھیں۔ وہ اتنا خوف زدہ کرچکی تھیں مجھے کہ راتوں کو خوابوں میں ان کے تصور سے میں دہشت زدہ ہوجاتا تھا اور اس کے بعد مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ اتنا سہم گیا تھا میں ان مکڑیوں سے اور اس کی ہر بات ماننے پر آمادہ تھا۔ غرض یہ کہ اب میں اس کے کام کیلئے تیار ہوگیا تھا اور اس نے مجھ پر عنایتوں کی بارش کردی تھی۔ پھر یہاں پہنچنے کے بعد اس نے مجھ سے کہا کہ میں تھوڑا آرام کروں۔ عرس ہورہا ہے یہاں ان بزرگ کا اس لئے بہت زیادہ رش رہتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ عرس ختم ہوجائے، زائرین چلے جائیں تو اس کے بعد اپنا کام سرانجام دوں۔‘‘
میں تو اس کی ہر خواہش پر آمادہ ہو ہی گیا تھا چنانچہ اس پر بھی میں نے اعتراض نہ کیا اور وقت گزرتا رہا۔ دل خون کے آنسو رو رہا تھا مگر مجبوریاں دامن گیر تھیں۔ اگر دل میں بھی خیال لاتا کہ اس کی خواہش پر عمل نہیں کروں گا تو مکڑیاں آنکھوں کے سامنے کلبلانے لگتی تھیں۔ اچانک ہی ایک دن بھوریا چرن میرے پاس بڑا سہما سہما سا آیا اور کہنے لگا۔
’’سن رے تجھے ایک اور کام بھی کرنا ہے۔ مجبوری ہوگئی ہے۔ یہ مت سمجھنا کہ میں کام پر کام تیرے ذمے ڈالے جارہا ہوں۔ مجبوری ہوگئی ہے۔‘‘
’’کیا بھوریا چرن!‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’وہ پاپی یہاں بھی آگیا ہے۔ وہ کمینہ یہاں بھی پہنچ گیا ہے اور… اور…! وہ ہمارے راستے ضرور روکے گا۔ ضرور روکے گا وہ ہمارے راستے…!‘‘
’’کون ہے وہ…؟‘‘ میں نے حیرت سے سوال کیا۔ بھوریا چرن کے چہرے پر پریشانی کے آثار تھے اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس جیسا منحوس شیطان کسی سے خوف زدہ بھی ہوسکتا ہے۔ اس نے جھلا کے کہا۔ ’’ارے وہی پاپی… مسعود… مسعود کا بچہ!‘‘
’’وہ کون ہے؟‘‘ میں نے پھر سوال کیا۔
’’کہہ تو دیا دشمن ہے میرا دشمن نمبر ایک…!‘‘
’’مجھے کیا کام کرنا ہے؟‘‘
’’تو اس کو مار دے گا۔ یہ کام تو کرسکتا ہے۔ مار دے اس کو سمجھا؟ مار دے اسے۔‘‘
’’مگر بھوریا چرن…!‘‘
’’اگرمگر کچھ نہیں۔ جو میں نے کہا، وہی کرنا ہے تجھے! مار ڈال اسے۔ لے یہ چھرا لے لے… میں تجھے بتا دوں گا کہ وہ کون ہے۔ رات کو وہ جہاں بھی سوئے، یہ چھرا اس کے سینے میں گھونپ دیجیو اور سن! اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو میں… میں تیرا وہ حشر کروں گا کہ تو سوچ بھی نہیں سکتا رے…! دیکھ میں گھبرایا ہوا ہوں، جھلایا ہوا ہوں اور مجبوری میں یہ بات کہہ رہا ہوں تجھ سے! مارنا ہے اسے، ہر قیمت پر مارنا ہے اسے! سمجھا…؟‘‘
’’ٹھیک ہے بھوریا چرن! جب میں ایک گندا کام کرنے پر آمادہ ہوگیا ہوں تو دوسرے گندے کام پر مجھے کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔‘‘
’’ارے کہہ لے جو تیرا من چاہے۔ گندا کہہ لے، اگھور کہہ لے مگر اس کے بعد تجھے جو کچھ مل جائے گا، جیون بھر یاد کرے گا۔‘‘ میں نے افسردگی سے کہا۔
’’ہم جیون کی بات نہیں کرتے بھوریا چرن! ہماری اصل زندگی تو موت کے بعد شروع ہوتی ہے۔ ہمارے مذہب میں یہ چند لمحاتی زندگی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ ہم تو عاقبت کی زندگی کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ یہ زندگی اگر مجھےعیش و عشرت دے بھی دے گی تو ہے ہی کتنی! نہ اپنی مرضی سے آیا، نہ اپنی مرضی سے جائوں گا لیکن اپنی عاقبت خراب کر جائوں گا یہاں رہ کر… خیر اگر تقدیر میں یہی لکھا ہے تو یہی سہی۔‘‘
’’زیادہ عالموں کی سی بات نہ کر! عالموں کا کام عالموں پر چھوڑ دے۔ سنسار میں سب ہی اپنا من پسند جیون گزار رہے ہیں۔ تو بہت مہان بن رہا ہے۔ ارے جو کچھ میں نے کہا ہے، وہی کر اور مسعود بھیا! اسی رات میں نے آپ پر اس چھرے سے حملہ کیا۔ میرے دل میں یہ سب کچھ نہیں تھا۔ میرا دل رو رہا تھا مگر خوف نے مجھے یہ سب کچھ کرنے پر مجبور کردیا اور میں اس گناہ کا مرتکب ہوا مگر ڈرا ہوا تھا، دوسرا وار نہیں کرسکا آپ پر… اور اللہ کے فضل و کرم سے آپ زندہ بچ گئے۔ اس بات پر وہ مجھ سے بہت ناراض ہوا تھا مگر یہ بھی جانتا تھا کہ میرا قصور نہیں ہے پھر اس کے بعد سے وہ مسلسل گھبرایا ہوا ہی رہا۔ کبھی کچھ کہتا تھا، کبھی کچھ! مجھے بھی آپ سے خوف زدہ کرتا رہتا تھا۔ کہتا تھا آپ بہت خطرناک ہیں۔ پھر وہ دوسرا مرحلہ آیا۔ آپ بچ گئے اور وہ اور زیادہ پریشان ہوگیا۔ خود وہ آپ کے قریب نہیں آتا تھا۔ بالآخر اس نے کہا کہ اب میں آپ کا خیال چھوڑ دوں اور اس کا کام کردوں چنانچہ یہ سب کچھ ہوا۔ یہ سب کچھ ہوگیا آہ… یہ میری کہانی ہے مسعود بھائی! یہ میری کہانی ہے۔‘‘
میں خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ وہ مجسم آنسو تھا۔ بہت تھوڑا سا فرق تھا اس کی اور میری داستان میں… ہم دونوں ایک ہی شیطان کے شکار تھے۔ مجھ سے زیادہ اس کا درد اور کون محسوس کرسکتا تھا۔ کچھ دیر کے بعد میں نے کہا۔ ’’اب تم کیا چاہتے ہو اکرام…؟‘‘
’’کیا بتائوں مسعود بھائی! کیا کہوں۔‘‘
’’تمہاری بہن کا کیا نام تھا؟‘‘
’’ثریا!‘‘ اس نے جواب دیا اور میرے دل میں پھر کسک ہونے لگی۔ میرا خیال درست ہی نکلا تھا۔ ثریا ہی تھی اور اس کتے بھوریا چرن نے اس کی زبان کاٹ دی تھی۔
’’تمہارے دل میں کوئی خیال تو ہوگا اکرام…!‘‘
’’میری کہانی سن لی ہے آپ نے مسعود بھائی! بہن کے سوا اور کیا ہے میری زندگی میں مگر میرا گھر ہی کھو گیا ہے۔‘‘
’’بہن کو تلاش کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’اس کے بعد کیا کرو گے؟‘‘
’’اللہ جانے مگر کیا وہ مل سکتی ہے؟‘‘
’’اللہ کیلئے کیا مشکل ہے۔‘‘
’’مگر بھوریا چرن…!‘‘
’’وہ کچھ نہیں ہے اکرام! شیطان کو ایک حد تک قوتیں دی گئی ہیں۔ اس سے آگے وہ کچھ نہیں ہے۔ تم اس کی فکر مت کرو۔‘‘
’’آہ…! خدا مجھے اس سے نجات دے دے۔ آہ میری بہن مجھے مل جائے۔ بس، اس کے سوا مجھے کچھ نہیں چاہئے۔‘‘
’’انشاء اللہ ایسا ہوجائے گا۔‘‘
’’مسعود بھیا! ایک بات پوچھوں؟‘‘
’’پوچھو…!‘‘
’’آپ کون ہیں؟‘‘
’’تمہیں میرا نام معلوم ہے؟‘‘
’’وہ تو ہے مگر… کیا آپ اس کے دشمن ہیں؟‘‘
’’ہاں! کائنات میں مجھے صرف اس سے دشمنی ہے اور تم دیکھ لینا اس کا خاتمہ میرے ہی ہاتھوں ہوگا۔‘‘
’’آپ کی اس سے دشمنی کیوں ہوئی؟‘‘
’’وہ کافر ہے، کالے جادو کا ماہر ہے۔ میں اللہ کے فضل سے مسلمان ہوں اور اس کا شیطانی علم ختم کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
’’آپ عالم ہیں…؟‘‘
’’نہیں اکرام! جسے علم مل جائے، اس سے زیادہ خوش نصیب اس کائنات میں اور کون ہوسکتا ہے۔ بس مجھے کچھ سہارے حاصل ہیں، انہی پر چل رہا ہوں۔‘‘
’’وہ… وہ آپ سے ڈرتا ہے، بہت ڈرتا ہے وہ آپ سے! آپ کے سائے سے بھی بھاگتا ہے مگر اب وہ میری تاک میں رہے گا۔ مجھے نہیں چھوڑے گا وہ…! آپ کب تک مجھے اس سے بچائیں گے؟‘‘
’’پہلے بھی تم سے کہہ چکا ہوں اکرام! تحفظ کرنے والی ذات اللہ کی ہے۔ وہی سب کا محافظ ہے۔ ان شاء اللہ وہ تمہیں اس کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ دنیا ایک شیطان کے وجود سے پاک رہے گی۔ نماز پڑھتے ہو؟‘‘
’’نہیں…!‘‘ اس نے شرمندگی سے سر جھکا کر کہا۔ ’’آج سے شروع کردو۔ دن میں پانچ مرتبہ تم اللہ کے حضور حاضری دو گے اور اس شیطان کو اس کا احساس رہے گا پھر وہ تمہارے قریب آنے سے کترائے گا۔‘‘
’’مجھے آپ کی رہنمائی چاہئے۔‘‘
’’اللہ تمہاری رہنمائی کرے۔‘‘ میں نے کہا۔ اس کے بعد میں نے اسے آرام کرنے کے لئے کہا تھا مگر اکرام خوف سے ساری رات نہیں سویا تھا۔ وہاں حمام بنے ہوئے تھے۔ میں نے اسے غسل کرنے کیلئے کہا۔ غسل سے فراغت ہوئی ہی تھی کہ فجر کی اذان ہوئی اور اس کے بعد وہاں موجود نمازی نماز پڑھنے کھڑے ہوگئے، ہم دونوں بھی صف میں شامل ہوگئے تھے۔ نماز سے فراغت حاصل کرنے کے بعد میں اسے ساتھ لے کر مزار شریف سے باہر آگیا۔ عرس اختتام کو پہنچ رہا تھا، زائرین کی واپسی شروع ہوگئی اور کافی لوگ کم ہوگئے تھے، اس وقت کی نسبت جب میں یہاں آیا تھا۔ میں نے ابھی تک اپنے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا۔ یہاں آنے کا مقصد ایک حد تک میرے علم میں آچکا تھا۔ جو واقعات پیش آئے تھے، ان کے تحت یہی سوچ سکتا تھا کہ مزار پاک کی بے حرمتی سے روکنے کیلئے مجھے یہاں بھیجا گیا ہے لیکن ابھی تک واپسی کا کوئی اشارہ نہیں ہوا تھا اور میرے لئے کسی بھی شکل میں یہ ممکن نہیں تھا کہ میں واپس چل پڑوں۔ جہاں تک ثریا کے تصور کا تعلق تھا تو اس وقت میں اپنی تمام دعائوں میں اس دعا کو اولیت دیتا تھا کہ میرے دل و دماغ سے اس کا تصور مٹ جائے۔ میں تو خود ہوائوں کا مسافر تھا۔ قدم نہ زمین پر تھے اور نہ آسمان پر…! بس خلا میں کٹی ہوئی پتنگ کی مانند ڈول رہا تھا۔ کہیں بھی گر سکتا تھا۔ ذرا سی لغزش ایک بار پھر مجھے پستیوں کے انہی گڑھوں میں دھکیل سکتی تھی جن میں گرنے کی اب سکت باقی نہیں رہی تھی۔ بے چارہ اکرام میری ہی طرح مصیبت کا شکار تھا مگر میں اسے کیا بتاتا کہ میں کیسی کیسی مصیبتوں سے گزر چکا ہوں۔ اسے تو ان کے عشر عشیر کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا لیکن خدا کا شکر تھا کہ اس نے ہی مجھے یہ قوت بخشی تھی کہ میں اب تک زندگی سے لڑ رہا تھا۔ جیب میں ہاتھ ڈال کر اپنا وظیفہ تلاش کیا تو یہ دیکھ کر آنکھیں حیرت و خوشی سے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ آج چار روپے کی جگہ میری جیب سے آٹھ روپے برآمد ہوئے تھے۔ اس احساس سے دل سرشار ہوگیا کہ میرے اقدام کو برا نہیں تصور کیا گیاہے اور ازراہ کرم مجھے اکرام کا وظیفہ بھی عطا کردیا گیا ہے۔ دل بڑھ گیا۔ گویا میرا عمل ناپسندیدہ نہیں رہا ہے۔ ایک جگہ اکرام کے ساتھ بیٹھ کر ناشتہ کیا اور ناشتے سے فراغت ہوئی تھی کہ عرس کے خاتمے کا اعلان ہونے لگا۔ سجادہ نشین نے زائرین کو واپسی کی اجازت دے دی تھی اور عرس کی تقریبات مکمل ہونے کا اعلان کیا تھا۔ اس کا مقصد تھا کہ اب میری بھی واپسی ہوجائے۔ اکرام کو ساتھ رہنے کی اجازت ان آٹھ روپے کی موجودگی سے مل گئی تھی چنانچہ اکرام نے ہی مجھ سے سوال کردیا۔
’’مسعود بھائی! اب کیا کریں گے ہم…؟‘‘
’’تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
’’جونا پوری جانا چاہتا ہوں مگر آپ کے ساتھ!‘‘
’’ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔‘‘ اور اس کے بعد ہم نے جونا پوری کے متعلق معلومات حاصل کیں۔ ایک لاری یہاں سے جونا پوری بھی جاتی تھی۔ تین تین روپے کرایہ تھا۔ میں ڈیڑھ روپیہ خرچ کرچکا تھا ناشتے میں، آٹھ آنے موجود تھے میرے پاس۔ باقی چھ روپے کے ٹکٹ خرید لئے اور ہم لاری میں بیٹھ کر جونا پوری چل پڑے۔ میں تھوڑی سی الجھن کا شکار تھا۔ اصل بات اسے نہیں بتا سکتا تھا۔ غرض یہ کہ جونا پوری پہنچ گئے اور وہ بھی نشاندہی کرتا ہوا اپنے محلے میں جا پہنچا۔ وہاں پہنچنے کے بعد اس کے منہ سے مسرت بھری آواز نکلی۔
’’مسعود بھیا! وہ ہے… وہ ہے میرا گھر! آہ میں اس شیطان کے چنگل سے آزاد ہوگیا۔ آہ! وہی میرا گھر ہے۔‘‘ وہ دیوانہ وار اپنے گھر کی جانب دوڑنے لگا۔ گھر کے دروازے پر زنجیر لگی ہوئی تھی۔ میں جانتا تھا کہ ثریا اسے اس گھر میں نہیں ملے گی لیکن اس کے احساس کی تکمیل کیلئے میں نے خاموشی ہی اختیار کررکھی تھی۔ زنجیر کھول کر وہ دیوانہ وار اندر گھس گیا اور زور زور سے بہن کو آواز دینے لگا۔ میں دروازے پر ہی کھڑا ہوا تھا۔ کچھ لوگ آگئے اس کی آوازیں سن کر انہی میں سے ایک معمر بزرگ نے اندر داخل ہوکر اسے پکارا۔
’’اکرام… آکرام… آگیا تو کہاں غائب ہوگیا تھا دیوانے…! کہاں چلا گیا تھا بہن کو چھوڑ کر…؟‘‘
’’چچا…! ثریا کہاں ہے؟ ثریا کہاں ہے چچا!‘‘ اکرام نے دیوانہ وار پوچھا اور معمر شخص کی گردن جھک گئی۔ اکرام پھر چیخا۔
’’چچا! میں اسے آپ کے حوالے کرکے گیا تھا، کہاں چلی گئی وہ… کہاں ہے وہ…؟‘‘ معمر شخص نے آہستہ سے کہا۔
’’مجھے افسوس ہے اکرام…! ہم اس کی حفاظت نہ کرسکے۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہیں آپ چچا؟ خدا کیلئے جلدی بتایئے مجھے، کیا ہوا…؟‘‘
’’تو تو واپس ہی نہیں آیا۔ ہم تیرا انتظار کرتے رہے۔ سب لوگ اس کی خبرگیری کرتے تھے مگر ایک صبح جب شبراتن اس کے گھر گئی تو چیختی ہوئی باہر نکل آئی۔ اس نے بتایا کہ ثریا کے منہ سے خون بہہ بہہ کر سینے پر جم چکا ہے۔ اس کے ہاتھوں کی انگلیاں بھی کٹی ہوئی ہیں اور وہ بے ہوش پڑی ہوئی ہے۔ سارے کے سارے دوڑ پڑے۔ اسے اٹھا کر ڈاکٹر کی دکان پر لے گئے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اس کی زبان کاٹ دی گئی ہے اور اس کی انگلیوں کو بھی چھری سے کاٹ دیا گیا ہے۔ نجانے کس ظالم نے یہ کام کیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کہ یہاں اس کا علاج نہیں ہوسکتا، شہر لے جانا پڑے گا اسے! محلے والوں نے آپس میں چندہ کیا اور اسے لے کر شہر چل پڑے۔ شہر کے ایک اسپتال میں اسے داخل کردیا گیا۔ چھ سات دن تک تو شبراتن اس کے ساتھ رہی۔ خیراتی اسپتال تھا۔ ہم نے اسپتال والوں سے بات کی اور اسپتال والوں نے کہا کہ اس کا علاج تو بہت عرصے تک کیا جائے گا۔ بھیا! سچی بات ہے کہ ہم بھی غریب لوگ تھے۔ تو نے تو واپس مڑ کے ہی نہیں دیکھا۔ جب تک ہوسکا، اس کی خبرگیری کرتے رہے۔ آخری بار جب رشید خان شہر جاکر اس کی خبر لینے گئے تو پتا چلا کہ وہ اسپتال میں نہیں ہے، کہیں چلی گئی تھی۔ وہ وہاں سے کسی کے ساتھ چلی گئی تھی۔ کچھ اور پتا نہیں چل سکا بھیا…! بس یہ ہے بیچاری ثریا کی کہانی!‘‘
اکرام پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا تھا۔ ایسا بلک بلک کر رو رہا تھا وہ کہ دیکھنے والوں کی آنکھوں سے بھی آنسو رواں ہورہے تھے۔ بہت سے لوگ سسکیاں لے رہے تھے اور میں
خاموش ایک کونے میں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔ بعد کی کہانی میرے علم میں تھی اور میں اپنے آپ سے سوال کررہا تھا کہ اب مجھے کیا کرنا چاہئے۔ میں سوچوں میں گم رہا اور اکرام دل کی بھڑاس نکالتا رہا۔ محلے والے ہمدردی ظاہر کررہے تھے مگر اکرام کو قرار نہیں تھا۔ میں نے ان لوگوں سے کہا کہ وہ آرام کریں، میں اکرام کو سنبھال لوں گا۔ ایک ایک کرکے لوگ چلے گئے۔ اکرام سسکتا ہوا بولا۔ ’’اس نے یہی دکھایا تھا مجھے مسعود بھیا! جو کچھ اس نے مجھے دکھایا تھا، وہی سچ تھا۔ آہ میری پیاری بہن… کیا ہوگیا اسے۔ آہ وہ گونگی ہوگئی مسعود بھیا، اب کیا کروں… کیا اب بھی مجھے جینا چاہئے؟‘‘
’’جینا تو ہے تمہیں اکرام!‘‘
’’کس کیلئے جیوں، کیا کروں جی کر…؟‘‘
’’تو کیا خودکشی کرو گے؟‘‘
’’اب تو یہی کرنا چاہئے۔ آہ اب تو…؟‘‘
’’توبہ کرو اکرام! توبہ کرو، خودکشی حرام ہے۔‘‘
’’پھر میں کیا کروں بھیا، بتائو میں کیا کروں؟‘‘
’’ثریا کو تلاش کرنا ہے تمہیں!‘‘
’’کہاں تلاش کروں؟ آہ میں اسے کہاں تلاش کروں؟‘‘
’’صبر کرو اللہ سے روشنی طلب کرو۔ وہ سب کو روشنی دکھاتا ہے۔‘‘ بمشکل میں نے سمجھایا بجھایا۔ محلے والے پرسش احوال کو آرہے تھے۔ کچھ اس کیلئے کھانے پینے کی اشیاء بھی لائے تھے۔ وہ حتیٰ المقدور اس کی دلجوئی کررہے تھے۔ ہم نے تین دن وہاں قیام کیا۔ اکرام باقاعدگی سے نماز پڑھنے لگا تھا، وہ تہجد بھی پڑھنے لگا تھا۔ اکثر اس کی آنکھوں میں آنسو نظر آتے تھے۔ گھنٹوں دعا کیلئے ہاتھ پھیلائے بیٹھا رہتا تھا۔ مجھے علم تھا کہ وہ بہن کی سلامتی کیلئے دعائیں کرتا ہے۔ اسے اس کیفیت میں دیکھ کر میرا سینہ بھی دکھنے لگتا تھا۔ میری بھی بہن تھی، بھائی تھا۔ ماں، باپ تھے، بھرا کنبہ تھا، بھرا گھر تھا لیکن اب کچھ بھی نہیں تھا اور… اور جو کچھ تھا، اس کے بارے میں جاننے کی مجھے اجازت نہیں تھی۔ ان تین دنوں میں مجھے آٹھ روپے روز ملتے رہے تھے۔ کھانے پینے کی اشیاء محلے والے بدستور لا دیتے تھے۔ یہ پیسے جمع ہوگئے۔ میں نے اکرام سے کہا۔
’’اکرام! یہاں رکو گے؟ میرے ساتھ چلو گے؟‘‘
’’مجھے اپنے ساتھ رکھو گے مسعود بھیا…؟‘‘
’’ہاں…! اس وقت تک جب تک تمہاری بہن تمہیں مل جائے۔‘‘
’’وہ مل جائے گی مسعود بھیا…؟‘‘
’’ان شاء اللہ!‘‘ میں نے کہا۔ وہ خوش ہوگیا اور بولا۔ ’’آپ کہتے ہیں تو وہ ضرور مجھے مل جائے گی۔‘‘
ہم نے تیاریاں کیں اور اس کے بعد میں نے خورجہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ ثریا، گنگا دھر کے پاس تھی مجھے علم تھا مگر میں نے مصلحتاً اکرام کو اس بارے میں نہیں بتایا تھا۔ خدا کرے وہ محفوظ ہو۔ وقت سے پہلے آس دلا کر اسے ہیجان میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا تھا۔ خورجے کے بارے میں سن کر اکرام نے پوچھا۔ ’’خورجہ کس کام سے جارہے ہیں مسعود بھیا…!‘‘
’’وہاں کچھ کام ہے۔‘‘ میں نے کہا اور وہ خاموش ہوگیا۔ بھوریا چرن کا پھر کوئی نشان نہیں ملا تھا اور مجھے کچھ اطمینان ہوا تھا مگر جانتا تھا کہ وہ زندہ ہے اور وار کرنے سے نہیں چوکے گا۔ میری وجہ سے اسے پھر ناکام ہونا پڑا تھا اور اس ناکامی نے اسے دیوانہ کردیا ہوگا۔ چنانچہ اس سے ہوشیار بھی تھا۔ ہم خورجے پہنچ گئے۔ ایک سرائے میں قیام کیا اور پھر میں نے گنگا دھر جی کے بارے میں معلومات شروع کردیں۔
’’کیا کام کرتے ہیں گنگا دھر جی…؟‘‘
’’یہ تو مجھے نہیں معلوم، ان کی بیٹی رکمنی ڈاکٹر ہے اور بیٹا…!‘‘
’’خورجہ چھوٹی سی جگہ تو نہیں ہے۔ کچھ اتا پتا ہوتا تو…!‘‘ مگر کوئی اتا پتا نہیں تھا میرے پاس! بڑی غلطی ہوگئی تھی۔ ان سے پتہ تو پوچھ لیتا مگر اس وقت احساسات مختلف تھے۔ ان سے کوئی تعلق نہیں رکھنا چاہتا تھا کیونکہ ثریا ان کے پاس تھی اور مجھے سرزنش کی گئی تھی۔ کیا پتا تھا کہ اسے اس طرح تلاش کرنا پڑے گا۔ واقعی خورجہ چھوٹا نہیں تھا۔ ہم گنگا دھرجی کو تلاش کرتے پھرے۔ کہیں سے پتا نہیں چل رہا تھا۔ میری نگاہیں سڑکوں پر چلتے ان لوگوں کا جائزہ لے رہی تھیں مگر نہ دھرما، نہ رام جی…! کوئی بھی نظر نہیں آیا تھا۔ اب کیا کروں… کیا کرنا چاہئے۔
’’کوئی بہت ضروری کام تھا اس سے؟‘‘ اکرام پوچھتا۔
’’ہاں…!‘‘
اس شام خورجے کے ایک تنگ بازار سے گزر رہا تھا کہ کسی نے شانے پر ہاتھ رکھ دیا اور ایک آواز ابھری۔ ’’اماں تم…! تم یہاں کہاں…؟‘‘
چونک کر پیچھے دیکھا اور پہچان لیا۔ کمال الدین پہلوان تھے۔ بابا شاہجہاں کے مزار پر انہوں نے مجھ پر دو احسان کئے تھے۔ ’’اماں! پہچانا ہمیں یا نہیں میاں صاحب…؟ وہ بابا جی کے مزار پر… ایں! یہ تو وہی لونڈا ہے جس نے تم پر وار کئے تھے گدے سے!‘‘ اس بار کمالے پہلوان نے اکرام کو دیکھ کر کہا۔ میں نے کمالے پہلوان کو سلام کیا اور کہا۔ ’’کیوں نہیں پہلوان صاحب! پہچان لیا میں نے۔‘‘
’’اماں! خورجہ کب آئے؟‘‘
’’تین چار دن ہوگئے۔‘‘
’’اور ہمارے پاس نہیں آئے اماں! قسم اللہ کی حد ہوگئی بے مروتی کی اور یہ بات سمجھ میں نہیں آئی پیارے! دشمن کو گلے لگائے لگائے پھر رہے ہو۔‘‘
’’دوستوں کو سب گلے لگاتے ہیں پہلوان صاحب! مزا دشمنوں کو گلے لگانے میں ہے۔‘‘ میں مسکرا کر بولا۔
’’ہائے… ہائے… ہائے! لاکھ روپے کی بات کہہ دی۔ ایمان کی قسم میاں! اللہ والوں کے درجے کو کون پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ پہنچے ہوئے ہو مگر ایک شکایت ہے قسم اللہ کی!‘‘
’’کیا پہلوان صاحب…؟‘‘
’’خورجے آئے اور ہمیں نہ پوچھا کسی سے حالانکہ دعوت دے کر آئے تھے۔‘‘
’’آپ کی بے حد مہربانی ہے۔ ایک کام سے خورجے آیا تھا۔‘‘
’’میاں! سارے کام ہوں گے مولا کے فضل سے۔ چلو ہمارے ساتھ! ایمان کی قسم اب نہیں چھوڑنے کے۔‘‘
’’کمالے پہلوان…!‘‘ میں نے کچھ کہنا چاہا۔
’’نہ… بالکل نہ! جو کہنا ہے گھر چل کر کہنا۔‘‘ وہ کچھ اس طرح پیچھے پڑے کہ ایک نہ چلنے دی۔ مجبوراً ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہوگیا۔ کمالے پہلوان ہم دونوں کو اپنے گھر لے گئے۔ صاحب حیثیت معلوم ہوتے تھے، گھر بھی بڑا تھا، مہمان خانہ الگ تھا۔ اسی سے متصل اکھاڑہ بنا ہوا تھا۔ ایک بڑے سے کمرے میں لے پہنچے۔ ’’یہ تمہاری قیام گاہ ہے میاں صاحب!‘‘
’’ہم آپ کے حکم سے یہاں آگئے ہیں۔ کچھ دیر رک کر چلے جائیں گے۔‘‘
’’میاں! بڑی مشہور کہاوت ہے کہ مہمان آئے اپنی مرضی سے ہے، جائے کمالے پہلوان کی مرضی سے ہے۔ ابھی تو تم سے بڑی برکتیں سمیٹنی ہیں میاں صاحب! چھری تلے دم لو۔ تم تو ایسے بھاگ رہے ہو جیسے بجھار پیچھے لگا ہو۔‘‘
’’ہمارا سامان سرائے میں ہے۔‘‘
’’چمن خان آتے ہوں گے، اٹھا لائیں گے۔‘‘
’’سرائے کا مالک دے دے دگا؟‘‘
’’کمالے پہلوان کا نام لیں گے چمن خان، میاں صاحب! آپ کی دعا سے اللہ نے بڑی بنا رکھی ہے۔‘‘ غرض کمالے پہلوان کسی طور آمادہ نہ ہوئے۔ مجبوراً ہتھیار ڈالنے پڑے۔ جگہ بہت عمدہ تھی۔ کمالے پہلوان سرائے کا نام پوچھ کر نکل گئے۔ اکرام خاموش تھا۔ کچھ دیر کے بعد وہ چائے کے ساتھ واپس آئے لیکن ساتھ میں اتنا کچھ لائے تھے کہ دیکھ کر آنکھیں پھیل گئیں۔ تین سینیاں بھری ہوئی تھیں جن میں مٹھائی، پھل اور نہ جانے کیا کیا تھا۔
’’ارے یہ آپ نے کیا کیا…؟‘‘
’’اماں مولا قسم! ہم نے کچھ نہیں کیا، اللہ نے تمہارے لئے بھجوایا ہے۔وہ ایک لونڈے نے شاگردی کی ہے، بڑے آدمی کا لونڈا ہے، وہی سب کچھ لایا ہے۔ کرم ہے مولا کا…!‘‘ اس کے بعد کمالے پہلوان کا اصرار کہ سب کچھ کھائیں۔ ناک میں دم کردیا۔ نہ کھانے سے ناراض ہونے لگے۔ ناک تک ٹھونسنا پڑا۔ چمن میاں سرائے سے سامان اٹھا لائے۔ بدقسمتی سے رات ہوگئی۔ بدقسمتی سے اس لئے کہ پھر کھانے کا وقت آگیا تھا۔ کمالے پہلوان کھانے کے دیوانے تھے اور کھلانے کے شوقین! ان کا خیال تھا کہ تکلف کررہے ہیں۔ نہ جانے کس طرح پیچھا چھوٹا۔ رات کو نومولود کو اٹھا لائے۔ ’’میاں صاحب! دم کردو، تم اللہ والے ہو۔‘‘
’’میں گناہگار بندہ ہوں کمالے پہلوان! غلط فہمی میں نہ پڑو۔‘‘
’’سب پتا ہے مولا قسم ہمارے کو! جو دشمنوں کو گلے لگا لے، وہ کیا ہوسکتا۔ آہا ہاہا…! کیا لاکھ روپے کی بات کہہ دی ہے تم نے میاں صاحب!‘‘ یہ مرحلہ بھی گزرا اور پھر دوسری صبح ان سے مدعائے دل کہا۔
’’میاں! ہمیں ایک صاحب کی تلاش ہے پہلوان صاحب!‘‘
’’نام بولو۔‘‘
’’گنگا دھر ہے ان کا نام، بیٹے کا نام ماتھر ہے۔‘‘ میں نے بتایا۔
’’سمجھ گئے۔ ویسے ایک بات کہیں میاں صاحب! خورجے میں کوئی پچاس گنگا دھر ہوں گے مگر ہم اس لئے سمجھ گئے کہ بابا جی کے مستانے وہی گنگا دھر ہیں جن کا تم نام لے رہے ہو۔ شاہجہاں کے مزار پر ملے تھے نا…؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’بس! اسی لئے سمجھ لیا ہم نے۔ کیا کام ہے ان سے…؟‘‘
’’ملنا ہے۔‘‘
’’دوپہر کا کھانا کھا کر چلیں گے۔ ابھی کچھ لونڈوں کو زور کرانا ہے۔‘‘
’’بس! پتہ بتا دیں۔‘‘
’’جلدی ہے کیا؟‘‘
’’ہاں…!‘‘
’’شکور کو بھیج دیں تمہارے ساتھ؟‘‘
’’کون شکور؟‘‘
’’شاگرد ہے اپنا میاں صاحب! سب سے کام کا لونڈا ہے۔ کھٹیا کلی اور کلاجنگ تو ایسی مارتا ہے کہ پلک نہ جھپکے۔‘‘
’’وہ پتہ جانتا ہے؟‘‘
’’سمجھا دیں گے اسے!‘‘
’’عنایت ہوگی آپ کی!‘‘ میں نے عاجزی سے کہا۔ کمالے پہلوان نے اپنے کلاجنگ کے ماہر شاگرد کو بلایا اور بولا۔ ’’شکورے چندا! ذرا میاں صاحب کو گنگا دھر کے گھر لے جا۔ دیکھ، چھپی کی نگلیا دیکھی ہے نا…؟‘‘
’’ہاں استاد!‘‘
’’بس! اس کے پیچھے دھنیا رام کا کوٹھا ہے، برابر کا گھر گنگا دھر جی کا ہے۔‘‘
’’وہ ڈاکٹرنی کے تائو؟‘‘ شکورے نے پوچھا۔
’’بس… بس، وہی۔‘‘ کمالے پہلوان نے کہا اور شکورے تیار ہوگیا۔ میں نے اکرام کو ساتھ لینا مناسب نہیں سمجھا تھا۔
وہ کسی قدر پریشانی سے بولا۔ ’’کتی دیر میں آپ کی واپسی ہوگی مسعود بھائی! اور تو کوئی پریشانی نہیں بس پہلوان صاحب کھلا کھلا کر ہلاک کردیں گے۔ آپ دیکھ رہے ہیں بس رات کو چند گھنٹے مل گئے تھے ورنہ ہر تھوڑی دیر کے بعد کچھ نہ کچھ آرہا ہے۔ ناشتے ہی نے حلیہ خراب کردیا ہے۔‘‘ میں ہنسنے لگا۔ میں نے وعدہ کیا کہ زیادہ دیر نہں لگائوں گا۔ بس دل نے کہا تھا کہ اسے ساتھ نہ لے جائوں، خدا جانے کیا صورتحال پیش آئے۔ ہاں وہاں سے روانہ ہوکر جب کافی دور نکل آیا تو دل کئی بار بری طرح دھڑکا۔ میں نے استغفار پڑھی۔ خود کو سمجھایا، دل کو سمجھایا۔ بیکار ہے اسے دل میں بسانا بیکار ہے۔ میں انسان ہوں ہی کہاں! میں تو بس ایک گناہ ہوں۔ زندگی کی جتنی سانسیں باقی ہیں، بس کفارہ ہیں، صرف کفارہ…! اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ ثریا کے بارے میں گنگا دھر جی کو بتا دوں گا کہ وہ کون ہے۔ بس ضروری باتیں بتا دوں گا۔ تفصیل کی کیا ضرورت ہے۔ کہہ دوں گا کہ اس کا بھائی موجود ہے۔ یہ بھی کہوں گا کہ ان بے چاروں کو کہیں رکھوا دیں بلکہ اس کے لئے کمال الدین پہلوان زیادہ موزوں ہیں۔
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
