کالا جادو - ایم اے راحت - قسط نمبر 24

 

قسط وار کہانیاں
کالا جادو - اردو کہانی قسط نمبر 24
رائیٹر :ایم اے راحت

مسعود آسان ذرائع سے دولت حاصل کرنے کے لالچ میں کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن سے جا ٹکرایا جو اپنے لئے کسی آلۂ کار کی تلاش میں تھا۔ اس نے مسعود کو اپنے شیطانی جال میں پھنسانا چاہا لیکن جب مسعود اس کے چکر میں نہیں آیا تو وہ اس کا دشمن بن گیا۔ اس نے اپنی خباثتوں سے مسعود کی زندگی عذاب کرڈالی۔ یہاں تک وہ گھر بار سے محرومی کے بعد بدحالی کی انتہا کو پہنچ گیا۔ ایسے میں چند برگزیدہ بندوں نے اس کی مدد کی اور بھوریا چرن کے شر سے نجات دلانے کے ساتھ کچھ روحانی قوتیں بھی اسے بخشیں۔ اسے ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اپنی ان صلاحیتوں کی مدد سے خلق خدا کو فیض پہنچائے۔ مسعود نے اس ہدایت پر پورا پورا عمل کیا اور کئی مصیبت زدہ افراد کی مشکلات حل کرنے میں ان کی مدد کی۔ بھوریا چرن جو مسلسل اس کے تعاقب میں تھا، ایک بار پھر اس پر اپنا دائو چلانے میں کامیاب ہوگیا جس کے نتیجے میں مسعود اپنی ان روحانی صلاحیتوں سے محروم ہوگیا جو بزرگوں کی جانب سے اسے بخشی گئی تھیں۔ بھوریا نے مسعود کو مکمل طور سے اپنے قابو میں کرنے کیلئے سات حسین جادوگرنیاں اور ان کے بیروں کی پوری فوج اس کے پیچھے لگادی۔

 مسعود کسی نہ کسی طرح ان سے جان بچاتا پھرر ہا تھا۔ بالآخر طویل جان لیوا آزمائشوں کے بعد اسے ایک بار پھر وہی کراماتی کمبل واپس مل گیا جو ایک بزرگ نے اسے عطا کیا تھا اور جسے اوڑھتے ہی نگاہوں سے پوشیدہ مناظر اس پر عیاں ہوجاتے تھے اور اسی کمبل کی مدد سے وہ دوسرے لوگوں کی مدد بھی کرسکتا تھا۔ وہ ایک بستی میں جا پہنچا جہاں اس نے کئی افراد کی مدد کی۔ اسی دوران ایک اور شخص اپنی بپتا لے کر اس کے پاس آ پہنچا۔ یہ ایک ٹھاکر تھا جو بہت ظالم اور خودسر ہوا کرتا تھا لیکن اب خود اپنے مظالم کا نتیجہ بھگتنے پر مجبور تھا۔ اس نے ایک غریب شخص کو اپنی بہن سے شادی کرنے کے جرم میں اس کے پورے خاندان سمیت جلا کر راکھ کرڈالا تھا لیکن اب اس کی اولادیں ایک ایک کرکے پراسرار طریقے سے ہلاک ہورہی تھیں۔ اسے اپنی خطائوں کا احساس ہوچکا تھا اور وہ مسعود سے مدد کا طلبگار تھا۔ 

مسعود نے ٹھاکر کی مدد کرنے کا وعدہ کرلیا اور رات کو اس کی حویلی کی جانب چل پڑا۔ حویلی تک پہنچتے پہنچتے اس کے ساتھ کئی پراسرار واقعات پیش آئے تو اس پر انکشاف ہوا کہ جن لوگوں کو ٹھاکر نے زندہ جلوا دیا تھا، ان کی روحیں اپنا انتقام لینے کیلئے بے چین تھیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں چتا دی جائے۔ مسعود نے فیصلہ کیا کہ ان سب کو دریا پار ان کے علاقے میں پہنچا کر انہیں چتا کے حوالے کردیا جائے۔ اسی طرح ٹھاکر اور اس کے اہل خانہ کی جان ان سے چھوٹ سکتی تھی۔ وہ ٹھاکر اور اس کے گھر والوں کے ہمراہ کشتی میں سوار ہوکر دریا پار جانے کیلئے روانہ ہوا لیکن راستے میں انہی ارواح نے انہیں نقصان پہنچانے کیلئے اپنی شرارتیں شروع کردیں۔
(اب آپ آگے پڑھیے)
٭…٭…٭…٭
میں نے بنسی راج کے بازو پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
’’یہ کون ہے؟‘‘ بنسی راج نے خوفزدہ نگاہوں سے مجھے دیکھا اور پھر اس کے منہ سے ڈری ڈری آواز نکلی۔
’’ہیرا…ہیرا۔‘‘
’’میں تمام صورتحال سمجھ گیا تھا۔ ہرناوتی کی ہنسی بھی اب سمجھ میں آ رہی تھی اور یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ کشتی کی برق رفتاری کسی خوفناک حادثے کو جنم دینے والی ہے۔ وہ تو ایک خبیث روح تھی لیکن باقی سب ذی روح تھے اور رفتار پکڑنے والی بے آسرا کشتی کسی بھی لمحے دریا میں الٹ سکتی تھی۔‘‘
میں نے فوراً ہی اپنی جگہ چھوڑی۔ چند قدم آگے بڑھا اور ہیرا کے سامنے پہنچ گیا۔ اس نے بادبان کی طرف سے نظریں ہٹا کر میری طرف دیکھا اور پھر اس کی شرارت سے مسکراتی ہوئی سرخ آنکھوں میں نفرت کی پرچھائیاں دوڑنے لگیں۔ اس نے خونخوار نگاہوں سے مجھے دیکھا اور رخ تبدیل کر لیا۔ اس کے ہونٹوں سے نکلنے والی ہوا اب میرے سینے پر پڑی اور مجھے ایسا ہی محسوس ہوا جیسے کوئی سخت اور موٹی سل میرے سینے پر آ ٹکی ہو اور پوری قوت سے مجھے پیچھے دھکیل رہی ہو۔ یہ ہوا کی طاقت تھی لیکن خدا نے مجھے بھی یہ ہمت عطا کی کہ میں اس شیطانی طاقت کا مقابلہ کر سکوں۔ تیز ہوا بے شک میرے جسم میں سوراخ کئے دے رہی تھی لیکن میرے قدموں کو ایک تل برابر بھی پیچھے نہ ہٹا سکی۔ ہیرا مسلسل کوششیں کرتا رہا۔ تب میں نے سرد لہجے میں کہا۔
’’بس ہیرا رک جائو۔ اس کے بعد تمہارے نقصان کی باری آتی ہے۔‘‘ وہ رک گیا۔ ہوا بند ہوگئی۔ میں نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔
’’جتنا کچھ تم کر چکے ہو ہیرا میرے خیال میں وہ بہت زیادہ ہے اور اب تمہیں یہ سلسلہ ترک کر دینا چاہئے۔‘‘ اس نے خونخوار انداز میں منہ کھولا اور پھر اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔

’’ارے او میاں جی۔ زیادہ باتیں نہ بنا ہمارے سامنے۔ بڑا مہاتما ہے تو، بڑا علم والا ہے۔ ہم نہ مہاتما ہیں، نہ علم والے، ہم تو مظلوم ہیں، انیائے ہوا ہے ہمارے ساتھ۔ یہ پاپی، یہ ہتھیارا ہمارے پورے خاندان کو ختم کر چکا ہے، ارے تیرا ہمارا کوئی جھگڑا نہیں ہے میاں، بیچ میں مت آ ہمارے، جو سوگند ہم نے کھائی ہے اسے پوری کئے بغیر ہم نہیں رہ سکیں گے، بیچ کا جھگڑا مت نکال میاں جی، بیچ کا جھگڑا مت نکال۔‘‘
تم اس سے انتقام لے چکے ہو۔ تین بیٹے مار دیئے ہیں تم نے اس کے اور کیا کرو گے، بس اتنا کافی ہے اور تم تو اس کے خاندان کے ایک فرد ہو، ہرناوتی سے شادی ہوئی ہے تمہاری، کچھ بھی ہے یہ اپنا خاندان ہے تمہارا، بس اتنا ہی کافی ہے جو تم کر چکے، بس اس کے بعد تم اپنی یہ کارروائیاں بند کر دو۔‘‘
’’ارے جارے جا۔ کارروائیاں بند کر دو۔ ہم اس کے خاندان کے ہیں۔ ایسا ہوتا ہے خاندان والوں کے ساتھ رے، ہمیں بھی تو اس کی طرح اس سنسار میں بھیجا گیا تھا، کون نیچا ہے، کون اونچا ہے، چار پیسے انسان کو اتنا اونچا بنا دیتے ہیں کہ وہ نیچا دیکھ ہی نہیں سکتا، ہم بھی اس کی بہن کو عزت دیتے، ہم بھی عزت سے جی لیتے۔ بیچ میں مت آ میاں، ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔‘‘

’’اور اگر اب تم نے کوئی کارروائی کی تب بھی اچھا نہیں ہو گا ہیرا۔‘‘
’’ٹھیک ہے پھر، ہمیں جو کرنا ہے ہم کر رہے ہیں، یہ لے۔ اس نے پھر بادبان کی جانب رخ کیا۔ کشتی کی رفتار اب بھی بہت تیز تھی اور اسے کوئی سنبھالنے والا نہیں تھا چنانچہ خطرہ ٹلا نہیں تھا۔ اب میرے لئے ضروری تھا کہ میں خود بھی اپنے آپ کو عمل میں لائوں۔ میں نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بادبان کی جانب دیکھنے لگا۔ میرے دل میں یہ آرزو پیدا ہوئی کہ یہ بادبان جل جائے اور دوسرے لمحے بادبان سے شعلے ابھرنے لگے۔ بادبان کسی سوکھے ہوئے کاغذ کی طرح جل اٹھا تھا اور اس میں ایک دم آگ بھڑک اٹھی تھی۔ آگ کے بھڑکتے ہی بادبان کی ساری ہوا نکل گئی اور کشتی کی رفتار سست ہو گئی۔ ہیرا نے میری طرف دیکھا اور پھر خونخوار انداز میں آگے بڑھا۔ میں نے دونوں ہاتھ آگے کر لئے اور آہستہ سے کہا۔ ’’اب تم جل کر راکھ ہو جائو گے ہیرا۔ آگے نہ بڑھنا ورنہ یہی آگ تمہیں اپنی لپیٹ میں لے لے گی، سوچ لو ہیرا، جو کچھ نقصان تمہیں پہنچایا جا چکا ہے میں اس میں شریک ہونا نہیں چاہتا لیکن اگر تم نے ان لوگوں کی زندگی خطرے میں ڈالی تو مجبوراً مجھے بھی تمہارے ساتھ بدسلوکی کرنی پڑے گی۔ ہاں اگر تم اپنی شیطانی قوتوں کو میرے خلاف استعمال کرنا چاہو تو کرو اگر ناکام ہو جائو تو میری بات مان لینا اور مجھے جوابی کارروائی کے لئے مجبور مت کرنا۔‘‘
وہ مجھے دیکھتا اور اور پھر دفعتاً اس نے اپنے جلے ہوئے کالے ہاتھ چہرے پر رکھ لئے۔
’’سب مرے کو مارتے ہیں، سب مرے کو مارتے ہیں، جو ظالم ہوتا ہے اس کے لئے کوئی کچھ نہیں کرتا، کوئی کچھ نہیں کرتا۔‘‘
’’ہیرا مجھے تم سے ہمدردی ہے، مجھے سچ مچ تم سے ہمدردی ہے، جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا میں اسے اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتا لیکن، لیکن اب تم اپنی انتقامی کارروائیوں کا یہ سلسلہ ترک کر دو، تم اپنے آپ کو پرسکون کرو ہیرا، جس دنیا سے تمہارا تعلق ختم ہو چکا ہے اب اس سے یہ تعلق مت رکھو۔‘‘
’’تعلق ختم ہو چکا ہے، چتا تک نہ ملی ہمیں، سارا پریوار جلا دیا ہمارا، چتا تک نہ دی پاپیوں نے…‘‘
’’میں تمہیں چتا دلوا سکتا ہوں ہیرا، میں تمہیں چتا دلوا سکتا ہوں سمجھے۔ یہ کام بنسی راج کو کرنا ہو گا۔ بنسی راج تم اپنے باغ کی طرف جا رہے ہو نا، پہلا کام تمہارا یہ ہو گا کہ ہیرا کے لئے چتا بنائو، اس کی چتا جلائو۔‘‘ بنسی راج نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
’’میں تیار ہوں مہاراج، سچے من سے تیار ہوں، جو کچھ مجھ سے ہو چکا ہے مجھے اس کا بڑا دکھ ہے ہیرا، میرا دل کبھی خوش نہ ہو سکے گا، میری وجہ سے میرے تین بچے مجھ سے چھن گئے، میں تیار ہوں، ہیرا میں تجھ سے معافی مانگتا ہوں۔‘‘ بنسی راج رونے لگا۔ ہیرا نے کوئی جواب نہیں د یا تھا۔ اس نے پتوار سنبھال لئے۔ کشتی کا رخ تبدیل ہونے لگا۔ آہستہ آہستہ وہ دوسرے کنارے کی طرف جا رہی تھی۔ سب کے جسموں میں کپکپاہٹ تھی۔ ایک بدروح کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ بنسی راج کی دھرم پتنی تھر تھر کانپ رہی تھی اور اس پر نیم غنودگی کی کیفیت طاری تھی۔ ہرناوتی جو کچھ دیر پہلے ہنس رہی تھی، اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور اس کے رخساروں پر دو لکیریں چل رہی تھیں۔
کچھ عجیب سی کیفیت تھی، شیطانی روحوں سے واسطہ پڑ چکا تھا مگر یہ پہلا شیطان تھا جو مظلوم تھا۔ کشتی کنارے جا لگی۔ اصل جگہ سے دور نکل آئی تھی۔ بنسی راج کا سونا باغ دور رہ گیا تھا۔ ہیرا خشکی پر کود گیا۔ میری ہدایت پر وہ لوگ بھی کسی نہ کسی طرح خشکی پر اتر آئے۔ بنسی راج کی دھرم پتنی سے چلا نہیں جا رہا تھا، میں نے کہا۔ ’’اپنا وعدہ پورا کرو بنسی راج۔‘‘

’’ہاں، میں تیار ہوں مگر یہاں … یہاں میں کیا کروں باغ تک جانا ہوگا۔‘‘
’’چلو…!‘‘ میں نے کہا۔ سب گرتے پڑتے باغ کی طرف چل پڑے۔ ہیرا چند گز تک ہمارے پیچھے چلا پھر غائب ہو گیا۔ میں نے ہی پلٹ کر دیکھا تھا اور مجھے اس کے غائب ہونے کا علم ہوا تھا مگر میں نے کسی سے کچھ نہ کہا۔ باغ واقعی خوبصورت تھا۔ بیچوں بیچ ایک عمارت بنی ہوئی تھی جس میں باغ کا رکھوالا تیجا رہتا تھا۔ تیجا نے حیرانی سے مالکوں کا استقبال کیا۔ اس وقت بنسی راج کو ہیرا کے موجود نہ ہونے کا احساس ہوا تھا۔
’’گیا…؟‘‘ اس نے پوچھا۔
’’تمہیں اس سے غرض نہیں ہونی چاہئے بنسی راج…!‘‘
‘‘اب میں کیا کروں؟‘‘
’’چتا تیار کرائو…‘‘ بنسی نے گردن جھکا دی۔ ہرے بھرے باغ کے ایک گوشے میں لکڑیاں ڈھیر کی جانے لگیں۔ ملازم تیجا کے ساتھ بنسی راج کے دونوں بیٹے اور خود بنسی راج بھی مصروف ہو گئے تھے۔ موٹی اور پتلی لکڑیوں کے انبار کا احاطہ بنا دیا گیا۔ تب میری نگاہ اس درخت کے چوڑے تنے کی طرف اٹھ گئی جس کے قریب وہ سب بیٹھے تھے۔ بوڑھا لاکھو، تین عورتیں، ایک بچہ۔ میں نے بچے کی آواز سنی۔
’’بپو… ارتھی نہیں ہے۔‘‘
’’چپ ہو جا پوت، پاپی کے ہاتھ سے چتا ہی مل جائے تو کافی ہے۔‘‘ عقب سے ہیرا بھی آ کر بیٹھ گیا تھا۔ عورتیں خاموش تھیں، کوئی اجنبی شخص تو اس منظر کو سمجھ بھی نہ پاتا مگر جو شخص بھی ہوتا، وہ ہوش و حواس میں نہیں رہ سکتا تھا۔ بنسی راج کی دھرم پتنی کو اندر عمارت میں بھجوا دیا گیا تھا پھر تیجا نے انہیں دیکھ لیا اور ایک لمحے پہلے میں نے جو سوچا تھا، وہ سامنے آ گیا۔ یقیناً تیجا ان کے بارے میں جانتا ہوگا، اس نے ایک دلخراش چیخ ماری اور لمبی لمبی چھلانگیں لگاتا ہوا وہاں سے بھاگ گیا۔ بنسی راج اور اس کے بیٹوں نے بھی اب انہیں دیکھ لیا تھا اور بری طرح کانپنے لگے تھے۔
’’اپنا کام جاری رکھو بنسی راج، وعدہ پورا نہ ہو سکا تو میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکوں گا۔ بنسی راج پہلے سے زیادہ تیزرفتاری سے کام کرنے لگا تھا مگر اس طرح کہ دہشت سے ان سب کی بری حالت تھی۔ چتا تیار ہو گئی، لکڑیوں کا انبار جمع ہو گیا، بیچ میں جگہ تھی۔
’’چلو چاچا… چلو ماسی چتا تیار ہو گئی۔ سب اندر چلے جائو۔‘‘ ہیرا نے کہا اور درخت کے پیچھے بیٹھے اٹھ گئے، کچھ دیر کے بعد وہ لکڑیوں کے ڈھیر کے اندر پوشیدہ ہو گئے۔ ہیرا نے ہرناوتی کو دیکھا، وہ پتھرائی ہوئی بیٹھی تھی۔ ہیرا نے آہستہ سے اسے آواز دی۔ ’’ہرنا… ہرنا…! مگر ہرناوتی نے اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ وہ اسی طرح بیٹھی رہی تب ہیرا آہستہ سے بولا۔
’’چلتا ہوں ہرنا دیر ہو رہی ہے، پہلے ہی دیر ہو گئی تھی مگر میں کیا کرتا… ٹھیک ہے بنسی راج۔ سوچا تو یہ تھا کہ جب تک میں روتا رہوں گا تجھے رلاتا رہوں گا مگر میاں جی بیچ میں آ گئے۔ میاں جی منش کو جیتے جی سنسار میں کچھ ملے یا نہ ملے مگر اس سے اس کی چتا بھی چھین لی جائے تو… اچھا چلتا ہوں ہرنا چلتا ہوں، بنسی راج… یہ باغ تیرے بیٹے پورن نے لگایا تھا نا؟‘‘
ہاں…‘‘ بنسی راج نے کہا۔

’’اب یہ تیرا نہیں ہے ہمارا ہے، ان سب کا ہے جو تیرے ہاتھوں مارے گئے، اس کے ایک پیڑ پر اب کوئی پھل نہ لگے گا، کوئی پیڑ ہرا نہ رہے گا، سب سوکھ جائیں گے۔ تو جب بھی نیما سے گزرے گا اسے دیکھے گا اور تجھے اپنا کیا ہوا یاد آ جائے گا۔ دیکھ پتے سوکھنے لگے، شاخیں سلگنے لگیں۔ ساری آتمائیں پہنچ گئی ہیں۔ ہم سب یہاں رہیں گے، منع کر دینا اپنوں کو، کبھی ادھر سے نہ گزریں نہیں تو ہمیں سب کچھ یاد آ جائے گا۔ تیرے پریوار کا کوئی ادھر سے گزرا تو جیتا نہ جائے گا۔‘‘
وہ منظر میں نے بھی دیکھا۔ درخت پتوں سے خالی ہوتے جا رہے تھے، ان کی شاخیں ٹنڈمنڈ ہونے لگی تھیں۔ لمحوں میں ایسا انوکھا اجاڑ کسی نے نہ دیکھا ہو گا۔ ہرا بھرا باغ منٹوں میں سوکھ گیا تھا۔ یہ سب میری آنکھیں دیکھ رہی تھیں۔ میں ان ہولناک ناقابل یقین واقعات کا گواہ ہوں۔ ہیرا نے آخری نظر ہرناوتی پر ڈالی اور پھر چتا کی طرف بڑھ گیا۔
’’اپنا کام کرو بنسی راج… اپنا کام۔‘‘ بنسی راج کپکپاتے قدموں سے آگے بڑھا، جیب سے ماچس نکالی اور سوکھی لکڑیوں میں آگ لگا دی۔ آہستہ آہستہ آگ بھڑکنے لگی اور پھر لکڑیوں کا ڈھیر جہنم بن گیا، شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔
’’چلو ونود… چلو راجیش اپنی ماتا جی کو سنبھالو، چلیں یہاں سے مہاراج، ہرنا اٹھو بیٹی!‘‘
’’میں… میں کہاں جائوں گی بھیا جی، یہ میرا سسرال ہے، میکے میں بہت رہ لی اب تو سسرال میں رہنے دو نا بھیا جی، کوئی رکھیل نہیں تھی، میں ہیرا کی پتنی ہوں، اس کے ساتھ پھیرے کئے تھے میں نے، بدائی تو نہ کی تم نے، ستی بھی نہ ہونے دو گے کیا، ارے واہ۔‘‘ وہ اپنی جگہ سے اٹھ گئی۔
’’ہرنا… ہرنا… نہیں… نہیں میری بیٹی…!‘‘
’’جائو جائو بھیا، ماتا پتا ہوتے تو وہ نہ کرتے جو تم نے کیا، وہ جہیز میں آگ نہ دیتے بھیا۔ ہونہہ۔‘‘ اس نے کہا اور چتا کی طرف بڑھ گئی۔
’’ارے…ارے ونود… راجیش۔ پکڑو اسے… ارے… ارے…!‘‘ بنسی راج چیخا…!
بنسی رام کے دونوں بیٹے ہرناوتی کی طرف لپکے مگر وہ دوڑتی ہوئی آگ کے حصار میں داخل ہوگئی۔ شعلوں کی خوفناک تپش اتنے فاصلے سے جلائے دے رہی تھی۔ ایسی ہولناک آگ میں کسی کے داخل ہوجانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر میں نے یہ منظر بھی دیکھا اور یہ ایسا مرحلہ تھا کہ میں خود بھی کچھ نہیں کرسکا۔ انسانی گوشت کے جلنے کی چراند اٹھی اور معدوم ہوگئی۔ بھڑکتی آگ آن کی آن میں ہرناوتی کو چٹ کرگئی۔
راجیش اور ونود دیکھتے رہ گئے تھے۔ پھر وہ شعلوں کی تپش سے گھبرا کر پیچھے ہٹ آئے۔ بنسی راج بلک بلک کر رو رہا تھا۔ ’’ہرنا ستی ہوگئی میری ہر نا ستی ہوگئی۔ ہائے رام میری چھوٹی سی بھول نے مجھے کتنوں سے دور کردیا۔ دوش میرا بھی نہیں تھا۔ یہ اونچ نیچ کا فرق مجھے سکھایا گیا تھا۔ بھگوان کے بنائے سارے ایک جیسے ہوتے ہیں۔ یہ ہم ہی پاپی ہیں جو ان میں فرق کردیتے ہیں۔ میری بہن جل مری مہاراج، میری بہن جل مری۔‘‘ وہ روتا رہا، میں خاموش کھڑا تھا پھر اسے جیسے کچھ خیال آیا اس نے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راجیش اور ونود کو دیکھا۔ انہیں آواز دی۔ دونوں قریب پہنچے تو اس نے لپک کر انہیں اپنے سینے سے بھینچ لیا۔ ’’تم بچ گئے، سن رہی ہے تو ہمارے راجیش اور ونود بچ گئے۔ ہمارے کسم اور شردھا بچ گئیں، ہمارے چار بچے بچ گئے۔ مہاراج آپ نے میرے بچوں کو بچالیا۔‘‘ وہ میرے پیروں پر گرنے لگا تو میں پیچھے ہٹ گیا۔

’’نہیں بنسی راج۔ میرے دین میں یہ حرام ہے۔ ایسا نہ کرو۔‘‘
’’آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے مہاراج۔ بہت بڑا احسان کیا ہے۔‘‘
’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ جو کچھ کرتا ہے اوپر والا کرتا ہے، وہ کسی کو ذریعہ بنا دیتا ہے۔ تمہارے جتنے بچے دنیا سے چلے گئے انہیں اسی عمر میں جانا تھا۔ ایسے نہ ہوتا تو کچھ اور ہوتا مگر یہ تمہارے لیے سزا تھی۔ ہوسکے تو انسانوں سے محبت کرنا سیکھو بنسی راج۔ اسی میں نجات ہے۔‘‘
’’میں اپنے پاپوں کا پرائشچت کرونگا مہاراج۔ چلئے واپس چلیں، جو ہوا بہت ہوگیا۔ چلئے مہاراج۔‘‘
’’تمہارا کام ہوگیا بنسی راج۔ اب تم کشتی میں بیٹھ کر واپس جائو۔ میری منزل کہیں اور ہے۔‘‘
’’نہیں، نہیں مہاراج۔ اب تو میرے باغ میں پھول کھلے ہیں۔ ہم آپ کی سیوا کریں گے۔ ایسے نہ جانے دیں گے آپ کو مہاراج۔‘‘
’’نہیں بنسی راج بس اب تم جائو۔‘‘ میں نے کہا۔ وہ بہت کچھ کہتا رہا مگر میں تیار نہیں ہوا۔ معصوم لوگوں کی آبادی تھی، یہ واقعہ مشہور ہوگا لوگ اپنے اپنے مسائل لے کر دوڑ پڑیں گے۔ پوجا شروع کردیں گے میری، پہلے ہی اندازہ ہوگیا تھا اور یہ سب کچھ مناسب نہیں تھا۔ بڑی مشکل سے بنسی راج کو راضی کرسکا تھا۔
’’ہم سے کچھ بھی نہ لوگے مہاراج۔‘‘ وہ بولا۔
’’جو کچھ مجھے دینا چاہتے ہو خاموشی سے مولوی حمید اللہ کو دے دینا، ان کی دوجوان بیٹیاں ہیں۔ غریب اور مفلس انسان ہیں۔ ان کی بیٹیوں کی شادی کا بوجھ بانٹ لینا۔ سمجھو مجھے سب کچھ مل جائے گا۔‘‘
’’بھگوان کی سوگند۔ آپ سے وعدہ کرتا ہوں۔ اپنے ہاتھوں سے ان کا بیاہ کروںگا۔ سارا خرچہ اٹھائوں گا ان کا۔‘‘
’’انہیں میرا سلام کہہ دینا۔‘‘ وہ وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ جو کچھ ہوا تھا خوب ہوا تھا۔ بہت سے مناظر حیران کن تھے۔
اچانک ہرا بھراباغ سوکھ گیا تھا۔ کسی درخت پر ایک پتا نظر نہیں آرہا تھا۔ یہ مظلوم روحوں کا انتقام تھا۔ نہ جانے یہ راستہ کس طرف جاتا ہے، کچھ پوچھا نہیں تھا بنسی راج سے مگر کیا فرق پڑتا ہے۔ زمین کی وسعتوں میں کسی بھی جگہ چلا جائوں۔ مجھے جانا ہی کہاں ہے۔ حلق میں ایک گولا سا آپھنسا، کچھ یادیں ذہن میں سرسرائیں مگر مجھے اجتناب کرنا تھا۔ ہدایت نہیں ملی تھی اور خود سوچنا بھی گناہ تھا۔ جلدی جلدی وہاں سے دور نکل آیا۔ جب تک چل سکتا تھا چلتا رہا۔ تھک گیا تو بیٹھ گیا۔ بھوک لگ رہی تھی مگر آس پاس کچھ نہیں تھا۔ ہاتھ اٹھاکر خدا کا شکر ادا کیا۔ عشاء کی نماز پڑھی اور پھر لیٹ گیا۔ فضا میں خنکی سی پھیل گئی تھی جو بڑھتی گئی، کمبل کھول کر اوڑھ لیا۔ آنکھیں بند کرلیں۔ پھر کچھ غنودگی سی طاری ہوگئی۔ اسے نیند نہیں کہا جاسکتا تھا۔ جانا پہچانا سا ماحول نظر آیا۔ غور کرنے لگا کونسی جگہ ہے۔ یاد آگیا یہ وہ جگہ تھی جہاں مجھے لے جایا گیا تھا۔ اور جہاں میں نے مہاوتی کو بلی کو طرح انسانی گوشت چباتے دیکھا تھا۔
بالکل وہی جگہ تھی۔ یہاں بھی کالی کا ایک عظم مجمسہ استادہ تھا۔ پھر میں نے مہاوتی کو دیکھا۔ سر پر بجلیوں کی طرح کوندتے ہیروں کا تاج تھا۔ ایک سمت سادھو شمبھو ناتھ تھا، دوسری طرف کالی داس۔ بڑی شان سے چلتی ہوئی کالی کے مجسمے کی طرف جا رہی تھی، اس کے پیچھے بیروں کا مجمع تھا یہ پورنیوں کے بیر تھے۔ کالی کے مجسمے کے قدموں کے پاس کوئی گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا نہ جانے کون تھا۔ سر گھٹنوں میں ہونے کی وجہ سے چہرہ نہیں نظر آرہا تھا۔ پھر بیر رک گئے، کالی داس اور شمبھو بھی رک گئے۔ مہاوتی آہستہ آہستہ آگے بڑھی اور کالی کے پیروں کے پاس بیٹھے شخص کے سامنے پہنچ گئی۔ عجیب سا کھیل ہو رہا تھا۔ مہاوتی اسے دیکھتی رہی پھر اس کے عقب میں جا کھڑی ہوئی، اس نے مجسمے کے قدموں کو چھوکر ہاتھ ماتھے سے لگائے اور پھر کالی کے ہاتھ میں دبا ہوا خنجر اپنے ہاتھ میں منتقل کرلیا۔ مگر اس وقت بیر چیخنے لگے۔ 

اس عظیم الشان غار کے بغلی گوشے سے نارنجی رنگ کا ایک غبار اندر داخل ہو رہا تھا جو پہاڑی غار کے ایک سوراخ سے نکل رہا تھا۔ بیر پیچھے ہٹنے لگے اور بہت پیچھے پہنچ گئے، مہاوتی بھی رک کر دیکھنے لگی تھی۔ نارنجی غبار ایک انسانی جسم کی شکل اختیار کرنے لگا اور پھر اس سے جو انسان تشکیل ہوا وہ بھی میرا جانا پہچانا تھا۔ یہ بھوریا چرن تھا، نارنجی رنگ کا جوگیا لبادہ اوڑھے ہوئے، سر پر کوئی چار فٹ اونچا تاج پہنے ہوئے، گردن میں انسانی کھوپڑیوں کی مالا پڑی ہوئی۔ چہرے پر غصے کے آثار تھے۔
’’جے شنکھا۔‘‘ مہاوتی نے خنجر نیچے جھکاتے ہوئے کہا۔ ’’لنگڑی پورنی۔‘‘ بھوریا چرن نے زہریلے لہجے میں کہا اور مہاوتی کے چہرے کا رنگ بدلنے لگا۔ اس نے بھوریا چرن کو گھورتے ہوئے کہا۔
’’کالی کنڈ میں شنکھا کو عزت دی جا رہی ہے، مگر شنکھا کو بھی کالی نواس کے آداب کا خیال رکھنا چاہئے۔‘‘
’’کالی چنڈولی اپنی سرحدوں کا خود خیال نہیں کر رہی، بہت آگے بڑھ رہی ہے۔‘‘
’’کوئی بھول ہوئی مجھ سے۔‘‘
’’بھول ہی بھول …تو نے شنکھا کی پیٹھ میں خنجر مارے ہیں۔‘‘
’’کیسے؟‘‘
’’کئی طرح سے نرکھنی، تیرا پیڑھ کیا ہے؟‘‘
’’پورنی ہوں۔‘‘
’’شرم نہیں آتی تجھے۔ تونے پورن پاٹھ کیا ہے۔‘‘
’’شنکھا تو بڑا ہے تیری شکتی مہان ہے۔ ہم تیرا مقابلہ نہیں کرسکتے مگر ہمیں ہماری بھول بتا۔‘‘
’’چھ پورنیاں تیری ہیں۔ ساتویں کہاں ہے۔‘‘
’’تو جانتا ہے؟‘‘
’’ ہاں میں جانتاہوں۔ میں نے یہ پورنیاں ایک مسلمان کو دان کی تھیں۔ میرا اس کا پرانا معاملہ تھا۔ میں اس کا دھرم بھرشٹ کرنا چاہتا تھا۔ وہ اپنے دھرم کا سیوک ہے۔ میں نے اس کا خون بدل کر اسے پورنا بنایا اور تو نے وہ خون نچوڑ کر اسے پھر سے پوتر کردیا۔‘‘
’’تو اسے لے گیا تھا شنکھا مجھے یاد ہے۔‘‘
’’کچھ نہ بگاڑ سکا اس کا میں۔ تیری وجہ سے اس کی پوترتا اسے واپس مل گئی۔‘‘
’’کیا وہ بہت بڑا گیانی ہے۔‘‘
’’تھا نہیں، تیری وجہ سے بن گیا ہے۔ ایک پورنی اس نے خود مار دی چھ کو اور مارنا چاہتا تھا مگر برسوں لگ جاتے اسے۔ تو نے اس کا برسوں کا کام لمحوں میں کردیا اور اسے اپنے دھرم کی شکتی مل گئی۔‘‘
’’شنکھا سے بڑی شکتی؟‘‘
’’وہ تو تجھے پتہ چل جائے گا۔‘‘
’’مجھے جو پتہ چلے گا وہ میں دیکھ لوں گی شنکھا۔ مگر تیرے میرے بیچ کوئی بات نہ ہو تو اچھا ہے۔‘‘
’’کالی کنڈ میں جیون بتادے گی کیا۔ باہر نہ آئے گی اس سے۔ شنکھا سے مقابلہ کرے گی۔‘‘
’’بھول کر بھی کہیں سوچ سکتی مگر تو برابر میرا اپمان کر رہا ہے۔ میرے بیر اسے اچھا نہیں سمجھ رہے۔‘‘ مہاوتی نے کہا۔
’’تیرے بیر… میرے بیروں کو دیکھنا ہے۔ نہیں دیکھا تو دیکھ لے۔‘‘ بھوریا چرن نے پیلے کپڑے کی ایک جھولی میں ہاتھ ڈال کر ماش کی مٹی بھر دال نکالی اور اسے زمین پر دے مارا۔ مہاوتی نے زمین پر بکھرے ہوئے دال کے دانوں کو دیکھا جو پھولتے جا رہے تھے اور پھر ہر دانے سے پیلے رنگ کی ایک مکڑی نکل آئی۔ پہلے وہ ننھی سی ہوتی پھر ایک دم بڑی ہونے لگتی یہاں تک کہ چھالی کے دانے برابر ہوجاتی۔ دانے دور تک بکھر گئے تھے اور اسی مناسبت سے مکڑیاں اس علاقے میں پھیل گئی تھیں۔ سب سے پہلے شمبھو اور کالی داس اچھل اچھل کر اونچی جگہوں پر چڑھ گئے۔

مہاوتی کے چہرے پر عجیب سے آثار نظر آرہے تھے۔ بھوریا چرن نے اور دال نکالی اور پہلے کے سے انداز میں زمین پر پھینک دی، مکڑیوں کا پورا کھیت اگ گیا، بڑی مکڑیوں نے وہاں موجود ہر چیز چاٹنا شروع کردی تھی۔ پورنیوں کے بیر بدحواس ہونے لگے تھے، وہ بے چینی سے ادھر ادھر دوڑنے لگے، مکڑیاں ان پر بھی چڑھنے لگیں اور وہ ناچ ناچ کر انہیں جھاڑنے لگے، ادھر بکھری ہوئی مکڑیوں نے وہاں صفایا شروع کردیا تھا۔ دفعتاً شمبھو ناتھ چیخا۔
’’شما کردے شنکھا۔ شما کردے دھن پوریا۔ تجھے دیوی کی سوگندھ۔ تجھے پاٹھک دیوتا کا واسطہ شما کردے۔ مہاوتی شما مانگ لے شنکھا سے ہم اس کے آگے کچھ نہ کرسکیں گے۔‘‘
‎’میں نے کب ایسی بات کہی شمبھو ناتھ جی، شنکھا مہان ہے اسے کون نہیں مانتا۔‘‘
‎’’شما مانگ لے شنکھا سے۔ جے جگدمبے جے مہانی۔ شما کردے شنکھا شما کردے۔‘‘ شمبھو چیخا!
‎’’شما کردے مکڑ… تیرے بیر شکتی مان ہیں۔‘‘ مہاوتی نے کہا اور بھوریا چرن اسے گھورنے لگا۔ پھر اس نے دونوں ہاتھ سیدھے کرکے ادھر ادھر کئے اور مکڑیاں غائب ہوگئیں۔
‎’’تیرے بیر تیرے اپمان کو اچھا نہیں سمجھ رہے تھے تو کچھ کر کیوںنہ کرسکے مہاوتی۔‘‘ بھوریا چرن نے کہا۔
‎’’شنکھا گرو ہے۔ جو جانتا ہے وہی جانتا ہے۔‘‘ مہاوتی نے کہا۔
‎’’بڑا گھمنڈ ہوگیا ہے تجھے۔‘‘
‎’’شنکھا کے سامنے نہیں۔ ہاں شنکھا کے بل پر ہوسکتا ہے۔‘‘ مہاوتی نے اچانک چولا بدل لیا۔ وہ دلکش انداز میں مسکرانے لگی۔ مکار شنکھا ہنسنے لگا۔ اس نے شمبھو اور کالی داس کو دیکھا اور بولا۔
‎’’سسری کچوندی ہے نری۔ ایک دم کچوندی۔ چار منتر سیکھ لیے،کالی کھان بن گئی۔ اسے سمجھائو کالی سنتھو ہے۔ کالی سنتھال ہے۔ اس کے انت پاتال سے گہرے ہیں، یہ چار منتر کالی کھان نہیں بنادیتے، جیون بھر کالی پاٹھ کرے گی تھوڑا رہے گا۔ پگلی چنڈولی تریا چرتر دکھا رہی ہے شنکھا کو۔ مسکراکر لبھا رہی ہے۔ اسے جس نے سات اپسرائیں دان کردیں ایک انجانے کو۔ وہ اپسرائیں جو مہاراج اندر کی سبھا میں ستاروں کی طرح جگمگاتی ہیں، ہونہہ لنگڑی پورنی۔‘‘
‎’’شنکھا مہان ہے۔‘‘ مہاوتی سنبھل کر بولی۔
‎’’تو نے اس مسُلے کو اس کی دھرم شکتی دیدی جو ہم نے بڑی مشکل سے چھینی تھی اور اب وہ گیانی بن گیا ہے۔ اس کے ہاتھوں ہماری پیڑھ کو جو نقصان پہنچے گا اس کا ذمہ کون لے گا؟‘‘
‎’’مجھے پتہ نہیں تھا مہاراج۔ کیا وہ ایسا کرسکتا ہے۔‘‘
‎’’لال تلیا کا ماگھ مار دیا اس نے۔ ایک کرودہی پریوار کو بھسم کردیا، اگنی میں، ورنہ وہ سنسار میں خوب کام کرتے۔ یہ سب تیری وجہ سے ہوا۔‘‘
‎’’تم اسے کتوں کی طرح گھسیٹتے لے گئے تھے مہاراج، مارکیوں نہ دیا تم نے اسے؟‘‘
‎’’توماردینا چنڈولی۔ آئے گا وہ تیرے پاس بھولے گا نہیں تجھے۔‘‘ بھوریا چرن طنزیہ لہجے میں بولا۔ پھر کالی کے قدموں میں بیٹھے نوجوان سے بولا۔ ’’تیرا کیاخیال ہے اے چھورا۔ ہوش ٹھکانے آئے تیرے۔ اٹھ کھڑا ہو۔‘‘ وہ شخص جو گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھا تھا اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ متوحش نظروں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا تھا پھراس کے چہرے پر وحشت ابھر آئی۔
‎’’میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے خوفزدہ لہجے میں کہا۔
‎’’ ابھی تو اسی سنسار میں ہے۔ ہم کچھ دیر نہ آتے تو چنڈولی کے پیٹ میں ہوتا۔ اب کیا کہتا ہے؟‘‘
‎’’یہ… یہ سب کیا ہے۔ اوہ مہاوتی مہارانی جی۔‘‘
‎’’اسے اسے کیوں جگادیا مہاراج۔ یہ کالی دان ہے۔ میں اسے کالی کو بھینٹ دے رہی ہوں۔‘‘ مہاوتی نے بے چینی سے کہا۔
‎’’تیرا ستیاناس ہو۔ سارے کام وہ کر رہی ہے جو میرے نقصان کے ہوں۔‘‘
‎’’ سمجھی نہیں مہاراج؟‘‘ اسے کالی بھینٹ دینے دو۔ یہ میرے کام کا ہے۔‘‘ مہاوتی بولی۔
‎’’تجھ سے پہلے یہ میرے کام کا تھا، سمجھی۔ یہ اماوس کی رات پیدا ہوا ہے اور پائل ہے۔‘‘
‎’’یہی میرے نکھٹ کو دور کرسکتا ہے۔ میں نے اسے بڑی مشکل سے پایا ہے مہاراج۔‘‘ مہاوتی عاجزی سے بولی۔

‎’’کچوندی ہے نری کچوندی، حرامخور۔ اری بائولی میرے پاس سے بھاگا ہوا ہے اور یہ چھپتا پھر رہا تھا کمینہ کہیں کا۔ جانتی ہے وہ جو ایک بیکار سا لڑکا تھا اور میں نے اسے اس کی مرضی سے پیر پھاگن کے مزار پر بھیجنا چاہا اور وہ نہ گیا اس وقت سے میرا شکار ہے، مگر میری ضد نے اسے گیانی بنادیا۔ وہی لڑکا جو تیرے پاس سے میں لے گیا تھا۔ اگر سسرا مجھے پیر پھگنوا دوار پہنچادیتا تو کھنڈولہ بن گیا تھا میں، سنترا کے سترہویں گیان کو جانتی ہے، نام بھی نہ سنا ہوگا تو نے تو چنڈولی۔ ہم پابند ہوتے ہیں شنکھا کی حد سے نکل کر کھنڈولہ بننے کے لئے۔ سنترا کے سترہویں پاٹھ کے اور اس میں پہلا آدمی ہی ہوتا ہے جو آخری آدمی ہوتا ہے اور اس کے بعد اگر کام نہ ہو تو شنکھا شکتی بھی چلی جاتی ہے۔ بڑا پیچھا کیا ہم نے اس سسرے کا اور ہماری ہی وجہ سے وہ اپنا دھرم گیانی بن گیا، بڑی مشکل سے ہم نے اس کا توڑ نکالا اور یہ چھوکروا تلاش کیا، جو اماوس کا پائل ہے، مگر یہ سسرے مسلمان چھوکرے، پتہ نہیں ان کے کان میں کیا بھردیا جاتا ہے، کبھی کام کے نہیں نکلتے۔ یہ بھاگ آیا اور چھپتا چھپاتا تیرے پاس پہنچ گیا مگر سسرا آکاش سے گرا کھجور میں اٹکا۔ تیرے ہی پاس مرنا تھا اسے، تلاش کرتے ہوئے یہاں آئے ہیں، جو کچھ تجھے بتایا ہے ہم نے کان کھول کر سن لے وہ سسرا تیرے ہاتھ لگے تو جس طرح بھی ہوسکے اس سے اس کا گیان چھین لینا، اس میں تیری نجات ہے، آئے گا وہ تیرے پاس… ضرور آئے گا۔ میں اسے لے جا رہا ہوں، یہ میرے کام کا ہے۔‘‘ مہاوتی سخت بے چین نظر آنے لگی، اس نے خونی نگاہوں سے اپنے بیروں کو دیکھا، پھر بے بسی سے شمبھو اور کالی داس کو… سب نے گردنیں جھکالی تھیں۔
‎بے بس نوجوان جس کی عمر انیس بیس سال سے زیادہ نہ ہوگی، سہمی ہوئی نظروں سے اس سارے ماحول کو دیکھ رہا تھا۔ جب بھوریا چرن نے اس کا ہاتھ پکڑا تو وہ دہشت زدہ لہجے میں بولا۔

‎’’نہیں… نہیں میں نہیں جائوں گا… نہیں جائوں گا، میں اس خبیث روح کے ساتھ۔‘‘
‎’’بھوریا چرن نے اس کے بازو کو ایک زوردار جھٹکا دیا۔‘‘
‎’’گیڈر کی اولاد، بھاگ کر شہر ہی میں آیا نہ، اتنی جلدی مرنے کی کیوں سوچے ہے، ہم نہ آتے تو اس نے خنجر تو اٹھاہی لیا تھا، گردن کاٹ کر بلی دیتی تیری اور اس کے بعد ماس کھاجاتی۔ گیا تھا بیٹا اس سنسار سے، اری اوچنڈول، ہم جھوٹ بولے ہیں کیا!‘‘
‎مہاوتی تند نگاہوں سے بھوریا چرن کو دیکھ رہی تھی۔ نوجوان لڑکا سہمے سہمے انداز میں بھوریا چرن کے ساتھ آگے بڑھ گیا اور اس کے بعد اچانک ہی جیسے آنکھ کھلی گئی۔ میں نے آہستہ سے کمبل چہرے سے ہٹایا اور آنکھیں پھار پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔
‎وہی ماحول تھا، وہی جگہ تھی جہاں میں تھک کر آرام کرنے لیٹ گیا تھا، آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے گردش کر رہے تھے۔ اور تاریک رات تاحد نظر پھیلی ہوئی تھی، دل پر ایک عجیب سی بے چینی طاری ہوگئی، سوچ کی وسعتیں بڑھ گئیں، مجھے میری دوسری منزل کا احساس دلایا گیا تھا مجھے میرے آئندہ قدم کی نشاندہی کی گئی تھی۔ وہ سب مختلف انداز سے میرے کانوں تک پہنچا تھا جو مجھے سوچنا چاہئے تھا۔ ایک منصب عطا کیا گیا تھا، مجھے ایک ذمہ داری دی گئی تھی، اور بتایا گیا تھا کہ اپنی زندگی کو کس انداز سے آگے لے جانا ہے، جو قوتیں عطا کی گئی ہیں انہیں کہاں استعمال کرنا ہے، کون کون سے فرائض جو پورے کرنے ہیں، نجانے کیوں راجہ چندر بھان کو بھول گیا تھا، نجانے کیوں مہاوتی کے باغ میں جگہ جگہ نصب وہ بے شمار مجسمے ذہن سے نکل گئے تھے جو مہاوتی کے کالے جادو کا شکار تھے، ان سب کی مدد تو مجھ پر قرض تھی اور مجھے خود ہی ان کے بارے میں سوچنا چاہئے تھا۔ ساری تھکن دور ہوگئی، یا دور نہ ہوئی تھی تو فرض کے احساس نے چستی عطا کردی تھی، رکنا نہیں چاہئے بلکہ فرض کی ادائیگی کے لیے چلتے رہنا ضروری ہے، کچھ سوچے سمجھے بغیر، کوئی تعین کئے بغیر اپنی جگہ سے اٹھ کر آگے بڑھ گیا۔ انسانی آبادیوں کی تلاش تھی۔ رہنمائی کے لئے کوئی ذی روح درکار تھا اور اب اس وقت تک نہ رکنا تھا جب تک نشان منزل نہ مل جائے، آسمان پر تیرتے ہوئے کالے بادلوں کے ٹکڑے آپس میں جڑگئے اور گھٹا ٹوپ تاریکیاں چھا گئیں۔ پھر کچھ ننھی ننھی بوندوں نے پیشانی، آنکھ اور ناک پر اپنی موجودگی کا احساس دلاکر خوف زدہ کرنا چاہا لیکن جو احسان کیا گیا تھا مجھ پر اس کا فرض یہی تھا کہ سب کچھ بھول جائوں، چلتا رہوں، بارش شروع ہوگئی۔ تیز ہوا کے ساتھ آئی تھی اور موسم بہت سرد ہوگیا تھا۔ ہوا کے تھپیڑے بھیگے بدن میں سوراخ کر رہے تھے مگر وہ بدن کسی اور کا تھا میرا کیا تھا جو میں سوچتا۔ میرا ذہن تو اس جگہ کے بارے میں سوچ رہا تھا جہاں مہاوتی رہتی تھی، سب کچھ یاد آرہا تھا۔

 چندر بھان، وہ بولتے مجسمے جو مظلومیت کا نشان تھے، انہیں اس جادوگرنی سے نجات دلانی تھی۔ وہ عورت کالے جادو کی لٹیا، غلیظ روحوں کی ملکہ، کالی دیوی کی پجارن تھی اور اپنے جادو کی قوتیں بڑھانا چاہتی تھی۔ بھوریا چرن ملعون نے جو ناپاک خون میرے جسم میں داخل کردیا تھا، مہاوتی کے ذریعے مجھے اس سے نجات مل گئی تھی۔ پورنیاں اس کے قبضے میں چلی گئی تھیں اور میں آزاد ہوگیا تھا۔ صحیح معنوں میں اب بھوریا چرن کے زوال کا آغاز ہوا تھا، مگر وہ نوجوان لڑکا کون تھا جسے وہ عورت پکڑلائی تھی اور بھوریا چرن… جسے اپنے لیے استعمال کرنا چاہتا تھا۔ آہ کیا وہ لڑکا مسلمان ہے۔ کیا اب اس کے ذریعہ وہ پیر پھاگن کے مزار مقدس کو ناپاک کرنا چاہتا ہے۔ نہیں یہ نہیں ہونا چاہئے۔ ایسا نہیں ہوگا کسی قیمت پر نہیں ہوگا۔ دیکھوں گا تجھے مردود بھوریا چرن۔ میرے دانت بھنچ گئے۔
‎’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا؟‘‘ کسی نے مجھے مخاطب کیا اور میں چونک پڑا۔ میں نے اسے دیکھا اور پھر حیرانی سے چاروں طرف دیکھا۔ پوری آبادی تھی بڑے بڑے مکانات نظر آرہے تھے، دن نکل چکا تھا، نجانے کب رات ختم ہوئی، نجانے کب بارش بند ہوئی، کچھ اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔
‎’’نہیں بھائی میںنے تو کچھ نہیں کہا۔‘‘ میں بولا، وہ شخص عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھنے لگا پھر بولا۔ ’’کچھ کہا تھا آپ نے۔‘‘
‎’’خود سے باتیں کر رہا تھا۔‘‘
‎’’آپ کے کپڑے بری طرح بھیگے ہوئے ہیں، کہیں پانی میں گر پڑے تھے؟‘‘
‎’’ایں… یہاں بارش نہیں ہوئی۔‘‘
‎’’بارش! اس موسم میں؟ یہ بارشوں کا موسم کہاں ہے۔‘‘
‎’’ایں… ہاں… شاید۔‘‘ میں نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا۔ مجھے واقعی کوئی اندازہ نہیں تھا لیکن بارش ہوئی تھی میرے بھیگے ہوئے کپڑے اس کا ثبوت تھے۔ اس شخص کے چہرے پر ایسے آثار نظر آئے جیسے وہ مجھے خبط الحواس سمجھ رہا ہو۔ وہ جانے لگا تو میں نے اسے روک کر کہا۔’’سنو بھائی! یہ کونسا شہر ہے بتاسکتے ہو؟‘‘
‎’’ہمیں نہیں معلوم۔‘‘ اس نے جواب دیا اور وہاں سے آگے بڑھ گیا۔ مجھے پریشانی نہیں تھی پتہ چل ہی جائے گا۔ دیر تک آبادی میں چلتا رہا کپڑے بدن پر ہی سوکھ گئے تھے۔ ایک مسلمان نان بائی کی دکان نظر آئی تو اس میں داخل ہوگیا۔ ناوقت پہنچا تھا اس لئے گاہک نہیں تھے۔ نانبائی سے کھانا طلب کیا تو اس نے گردن ہلادی۔
‎’’کتنی روٹیاں لگادوں میاں صاحب؟‘‘
‎’’دوکافی ہوں گی۔‘‘ میں نے کہا۔ نانبائی نے پہلے تندور میں دو روٹیاں پکائیں پھر سالن وغیرہ نکال کر دے دیا۔ ’’ میاں بھٹنڈہ یہاں سے کتنی دور ہے؟‘‘
‎’’کوئی ستر کوس دور ہوگا میاں صاحب۔ کیوں پوچھ رہے ہو۔‘‘
‎’’جانا ہے وہاں۔‘‘
‎’’کب جا رہے ہو۔‘‘
‎’’بس جلدی، ہوسکتا ہے آج ہی چلا جائوں۔‘‘
‎’’پرون پور میں ہی رہتے ہو۔‘‘
‎’’نہیں باہر سے آیا ہوں۔‘‘
‎’’میاں صاحب میرا ایک رقعہ لے جائو گے وہاں، میری بیٹی وہیں بیاہی ہے اس کے میاں کو دے دینا۔‘‘
‎’’آپ دے دیجئے، دیدوں گا۔‘‘
‎’’تم روٹی کھائو، لڑکی سے کہہ دوں ذرا لکھ دے گی۔ تم ہاتھ کے ہاتھ دے دوگے۔ ڈاک سے تو کئی دن لگ جاتے ہیں۔ نانبائی اندر چلا گیا اور دو منٹ کے بعد واپس آگیا اب وہ بڑی خوش اخلاقی سے پیش آرہا تھا۔ اپنے خاندانی معاملات بتاتا رہا کہنے لگا۔ ’’میرا بڑا بھائی شروع سے وہیں رہتا ہے اسی کے لونڈے سے بیاہ ہوا ہے میری بیٹی تھا۔‘‘
‎’’آپ بھی جاتے رہتے ہوں گے وہاں تو؟‘‘
‎’’لو گھر آنگن ہے ہمارا تو۔ دوچار مہینے میں چکر لگ جاتا ہے۔‘‘ وہ ہنس کر بولا۔
‎’’راجہ چندر بھان ہوتے تھے وہاں۔‘‘
‎’’ہاں رہتے تھے۔ میاں ان راجوں مہاراجوں کی کیا پوچھو ہو۔ بس عیاشیوں میں سب کچھ کھوبیٹھے۔ چندر بھان نے تو حد ہی کردی۔ ایک ڈائن گھر میں ڈال لی ہے۔ بڑی کہانیاں سنی ہیں اس کی تو۔ سارا بھٹنڈا خوف سے کانپے ہے ان کے نام سے۔‘‘ نانبائی بہت سے انکشافات کرتا رہا۔ پھر اس نے مجھے رقعہ دے دیا۔ کھانے کے پیسے اس نے بڑی مشکل سے لیے ، مجھے مکمل رہنمائی حاصل ہوگئی۔ پرون پور سے ریل میں بیٹھا اور بھٹنڈا پہنچ گیا، مہاوتی کا شہر آگیا تھا۔ نانبائی کا گھر تلاش کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا۔ عارضی ٹھکانہ درکار تھا جو ان پر اخلاق لوگوں کے پاس مل گیا، بس ایک خط لایا تھا مگر اتنی مہمان نوازی کی انہوں نے کہ شرمندہ ہوگیا۔ رات انہی کے ہاں گزاری، اور پھر رات کو حسب ہدایت درود شریف پڑھ کر کمبل اوڑھ لیا۔مہاوتی کا محل دیکھا۔ باغ کے مجسموں کو دیکھا۔ مہاوتی محل میں نہیں نظر آئی، کالی داس موجود تھا۔ محل پر خاموشی طاری تھی۔ اس جگہ پر غور کیا جہاں مہاوتی نے کالی نواس بنارکھا تھا۔ مگر اس کا پتہ نہیں چل سکا، البتہ ذہن نے کہا۔ ہر کام سہل نہیں ہوتا جستجو اور عمل قائم نہ رہے تو وجود ناکارہ ہوجاتا ہے، عمل لازم ہے جواب ملا تھا ،گرہ میں باندھ لیا اور اس کے بعد عمل کے بارے میں سوچنے لگا۔ آغاز محل ہی سے کرنا تھا۔ دوسرے دن حلیہ درست کیا اور میزبانوں سے اجازت لے کر چل پڑا۔ کچھ دیر کے بعد محل کے دروازے پر تھا۔ دربانوں نے کڑی نظروں سے دیکھا تو میں نے کہا۔ ’’دیوان کالی داس سے ملنا۔‘‘
‎’’کیا کام ہے؟‘‘

‎’’بہت ضروری کام ہے۔ تم انہیں خبر کردو۔‘‘
‎’’ہمیں ہدایت ہے کہ محل میں کسی نئے آدمی کو نہ آنے دیں۔ خبر کرنا بیکار ہے۔‘‘
‎’’مگر مجھے بہت ضروری کام ہے۔‘‘
‎’’شما کردو بھائی ہم وہ کرسکتے ہیں جو ہم سے کہا گیا ہے۔‘‘ دربانوں سے یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ سندری نظر آگئی۔ سامنے سے گزر رہی تھی مجھے دیکھ کر رک گئی اور پھر جلدی سے میرے پاس آئی۔
‎’’آپ مہاراج آپ…؟‘‘
‎’’سندری یہ مجھے اندر آنے سے منع کر رہے ہیں۔‘‘
‎’’’ارے نا سکھی رام جی آنے دیں انہیں یہ تو مہاویدی کے خاص آدمی ہیں۔‘‘ سندری نے کہا۔

‎مسعود کے مصائب کی ابتدا اس وقت ہوئی جب وہ اتفاقاً کالے جادو کے ماہر بھوریا چرن سے جا ٹکرایا۔ بھوریا نے اسے اپنا آلۂ کار بنانا چاہا اور مسعود کے انکار پر اس کا دشمن بن گیا۔ اس نے مسعود کو یکے بعد دیگرے سخت پریشانیوں میں مبتلا کیا لیکن اس کے انکار کو اقرار میں نہ بدل سکا تاہم اس کی پاداش میں بھوریا نے اس کی زندگی اجیرن کردی ۔ انہی حالات میں چند برگزیدہ بندوں سے مسعود کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے نہ صرف اسے بھوریا کے شر سے نجات دلائی بلکہ اسے روحانیت کا فیض بھی بخشا۔ اس روحانیت کی مدد سے وہ خلق خدا کے کام بھی آسکتا تھا لہٰذا اس نے بہت سے لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ان کی مدد کی۔ اس دوران بھوریا مسلسل اس کی تاک میں تھا، بالآخر وہ دھوکے سے مسعود پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا۔ بزرگوں سے حاصل شدہ روحانی طاقتوں کا فیض زائل ہوچکا تھا لہٰذا وہ ایک بار پھر بھوریا کی خباثتوں کی زد میں تھا اور آزمائشوں کا ایک اور دور اس کا منتظر تھا۔ کئی جان لیوا آزمائشوں سے گزرنے کے بعد بالآخر اسے ایک بار پھر وہی کراماتی کمبل واپس مل گیا جسے اوڑھتے ہی نگاہوں سے پوشیدہ مناظر اس پر ظاہر ہوجاتے تھے۔ اب وہ نہ صرف اپنی حفاظت کرسکتا تھا بلکہ دوسروں کے کام بھی آسکتا تھا۔ وہ ایک بستی میں پہنچا جہاں اس نے کئی افراد کی مدد کی۔ اس دوران ایک ٹھاکر بھی اپنی بپتا اسے سنانے آپہنچا۔

 اس نے ایک غریب شخص کو اپنی بہن سے شادی کرنے کے جرم میں اس کے خاندان سمیت زندہ جلوادیا تھا اور اب خود اس کی اولادیں پراسرار حالات میں ایک ایک کرکے ہلاک ہورہی تھیں۔ اسی لئے وہ مسعود سے مدد کا طلبگار تھا۔ وہ چونکہ اپنی خطائوں پر نادم تھا اس لئے مسعود نے اس کی مدد کرنے کا فیصلہ کرلیا اور رات کو اس کی حویلی کی جانب چل پڑا۔ راستے میں اس کی ملاقات ان افراد کی آتمائوں سے ہوئی جنھیں ٹھاکر نے زندہ جلوا دیا تھا اور جن کا کریا کرم بھی نہیں ہوپایا تھا۔ یہ بے چین روحیں ٹھاکر سے اپنا انتقام لینا چاہتی تھیں۔ مسعود نے فیصلہ کیا کہ ان آتمائوں کو دریا پار ان کے علاقے میں پہنچا کر چتا کے حوالے کردیا جائے کیونکہ انہیں اسی طرح شانتی مل سکتی تھی۔ وہ ٹھاکر کے اہل خانہ کے ہمراہ دریا پار جانے کیلئے کشتی کے ذریعے روانہ ہوا لیکن راستے میں انہی ارواح نے اپنی شرارتیں شروع کردیں۔ نزدیک تھا کہ ان کی کشتی ڈوب جاتی لیکن مسعود نے تدبیر سے کام لیتے ہوئے حالات کو سنبھال لیا اور منزل مقصود پر پہنچ کر سب آتمائوں کو چتا کے حوالے کردیا۔ اس طرح بالآخر ٹھاکر کی گلو خلاصی ہوگئی۔ مسعود نے ٹھاکر سے رخصت لی اور آگے روانہ ہوگیا۔ راستے میں آرام کی خاطر لیٹ کر کمبل اوڑھا تو اسے رانی مہاوتی اور بھوریا کے درمیان جھڑپ کا منظر دکھائی دیا۔ یہ دونوں کالی طاقتوں کے پجاری تھے جنھوں نے اپنی خباثتوں سے بے شمار لوگوں کی زندگیاں اجیرن کررکھی تھیں۔ مسعود ایک بار رانی مہاوتی کے محل میں رہ کر وہاں کے حالات دیکھ چکا تھا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ رانی کے محل جاکر لوگوں کو اس کے مظالم سے نجات دلائے۔ بالآخر وہ محل تک جا پہنچا جہاں اس کی ملاقات رانی کی باندی سندری سے ہوئی۔ سندری اسے پہچان کر اندر لے گئی۔
‎(اب آپ آگے پڑھیے)
‎’’آئیے مہاراج آئیے! ‘‘

‎میں سندری کے ساتھ محل میں داخل ہو گیا، کچھ دور چلنے کے بعد اچانک اس نے راستہ بدل دیا۔‘‘ ادھر سے آجائیے مہاراج۔ سیدھے جانا ٹھیک نہیں ہے۔ آئیے ادھر سے آجائیے میں ٹھٹکا پھر بڑھ گیا۔ ’’یہ باندیوں کا علاقہ ہے۔ میں یہیں رہتی ہوں۔ جلدی آجائیے کوئی دیکھ نہ لے۔‘‘
‎’’مگر سندری…!‘‘ میں نے تعجب سے کہا۔
‎’’اندر چل کر باتیں کریں گے جی۔ وہ سامنے ہی تو میرا ٹھکانہ ہے۔ چھوٹا سا گھر تھا۔ تین کمرے بنے ہوئے تھے۔ اس نے مجھے ایک کمرے میں بٹھادیا۔ اب جی بھر کر باتیں کریں۔‘‘ وہ گہری سانس لے کر بولی۔
‎’’تم یہاں رہتی ہو؟‘‘
‎’’زیادہ تو محل میں رہتی ہوں۔ جب چھٹی ہوتی ہے تو یہاں آجاتی ہوں۔ مہادیوی تو ان دنوں یہاں نہیں ہیں۔‘‘
‎’’کہاں ہیں؟‘‘
‎’’ پتہ نہیں شاید کالی نواس میں ہوں۔‘‘
‎’’کالی نواس کہاں ہے سندری؟‘‘
‎’’سوگند لے لیں مجھے نہیں معلوم۔ بس اس دن اس کے غار کا دروازہ دیکھا تھا۔ اس سے پہلے یا اس کے بعد کبھی نہیں دیکھا۔ وہ دن یاد کرتی ہوں مہاراج تو جان نکل جاتی ہے میری، اگر تم نہ ہوتے تو میرا کیا ہوتا۔
‎’’سندری مجھے کچھ بتائو گی تم؟‘‘
‎’’پتہ ہوگا تو ضرور بتائوں گی۔‘‘
‎’’ وہ سب کیا تھا سندری۔ مہاوتی آخر ہے کیا؟‘‘
‎’’تم نے پہلے بھی مجھ سے پوچھا تھا۔ ہم باندیاں ہیں مہاراج اسی محل میں پیدا ہوئے، اسی میں جوان ہوئے اور اسی میں مرجائیں گے، پر ہمیں کچھ نہیں معلوم ہوگا۔ جو کہا جاتا ہے کرتے ہیں، تم نے ہم پر دیا کی تھی اس دن، ورنہ نہ جانے کیا ہوتا، ہمیں نہ تو پہلے پتہ تھا نہ اب پتہ ہے۔ مہاوتی جی نے جیسا کہا ویسا کیا۔‘‘ سندری بولی اور پھر اس نے جلدی سے زبان دانتوں میں دبالی اور خوفزدہ نظروں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے بولی، میں اس کے اس انداز پر چونک پڑا۔ اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ میرے اس طرح دیکھنے سے وہ اور گھبراگئی۔ بولی، ’’ہم نے کوئی ایسی ویسی بات کہہ دی مہاراج۔‘‘
‎’’ ہاں سندری میرا خیال ہے تو سچ بول گئی ہے۔ میں زہریلے لہجے میں بولا۔
‎’’کونسا سا؟‘‘ وہ رو دینے والے لہجے میں بولی۔
‎’’اس نے سچ ہی کہا ہے مہاراج۔ دوسرا سچ میں آپ کے سامنے کہوں گا۔‘‘ دروازے سے آواز سنائی دی اور میں نے اس طرف دیکھا، دیوان کالی داس کھڑا ہوا تھا۔ اس نے سندری کو اشارہ کیا اور وہ احترام سے واپس نکل گئی۔ کالی داس اندر آگیا تھا۔ اس نے سچ کہا ہے مہاراج، جیسا دیوی نے کہا اس نے ویسا ہی کیا۔ پہلے ہم نے کچھ اور سوچا تھا مگر شمبھو مہاراج نے ایک دم خیال بدل دیا۔ آپ مسعود جی مہاراج ہیں نا۔‘‘
‎’’تم لوگ مجھے بھول گئے کالی داس؟‘‘
‎’’بھلا بھول سکتے ہیں۔ آپ بھوریا چند کو بھی جانتے ہیں، شوشنکھاکو۔ سب کچھ جانتے ہیں آپ۔ اس نے کہا تھا آپ آرہے ہیں۔ مہا دیوی نے پہرے لگادیئے، پھر انہوں نے سوچا کہ سندری کے ہاتھوں آپ کو بیہوش کرادیں اور قید کرلیں، مگر ابھی ابھی مہادیوی نے کچھ اور سندیس بھیجا ہے میرے پاس۔‘‘ کالی داس نے کہا۔ میں دلچسپ نظروں سے کالی داس کو دیکھتا رہا، مجھے علم تھا کہ بھوریا چرن اور مہاوتی کے درمیان کیا باتیں ہوئی ہیں۔’’سندیس آپ کے لئے بھی ہے مہاراج۔‘‘ وہ پھر بولا۔
‎’’بتائو۔‘‘ میں نے کہا۔
‎’’اٹھیں… میرے ساتھ چلیں یہ پہرے آپ کی وجہ سے لگائے گئے تھے مگر نیا سندیس کچھ اور ہے۔‘‘
‎’’مہاوتی بہت پریشان معلوم ہوتی ہے شاید۔ چلو اب کہاں چلنا ہے اور وہ خود کہاں چھپی ہے۔‘‘

‎’’مہا دیوی آپ سے بھینٹ کریں گی۔ اوش کریں گی اور جہاں تک ان کی پریشانی کا تعلق ہے تو آپ کا یہ خیال غلط ہے، وہ پریشان کیوں ہوں گی۔ آپ کو ان کی شکتی کا اندازہ نہیں ہے، جیون بتادیا ہے انہوں نے گیان دھیان میں۔‘‘
‎میں اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکل آیا۔ وہ مجھے پرانی حویلی کی طرف ہی لے جا رہا تھا اور میں جانتا تھا کہ وہاں اس نے اپنی جادونگری بنارکھی ہے لیکن مجھے کوئی خوف نہیں تھا۔ کالی داس کے ساتھ میں پرانی حویلی میں داخل ہوگیا۔ میں نے پرانی حویلی پوری کبھی نہیں دیکھی تھی۔ اس بار کالی داس مجھے اس کے بالکل عقبی حصے میں لے گیا۔ میں نے اس جگہ کو جادو نگری غلط نہیں کہا تھا۔ ایک ویران اور سنسان برآمدہ تھا جس میں ایک بند دروازہ نظر آرہا تھا، کالی داس نے وہ بند دروازہ کھولا اور مجھے اندرچلنے کا اشارہ کیا۔ اندر داخل ہوگیا لیکن اندر قدم رکھتے ہی دل و دماغ معطر ہوگئے۔ یہ سچ مچ جادو نگری تھی۔ سبز رنگ کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی اور ایک وسیع و عریض باغ نظر آرہا تھا، لیکن سو فیصد مصنوعی باغ تھا۔ انتہائی اونچے درخت جن کی شاخیں اور پتے اوپر جاکر ایک دوسرے میں اس طرح گتھے ہوئے تھے کہ آسمان کا نام و نشان نہیں نظر آتا تھا، گو یا ایک چھت بنی ہوئی تھی اور سب کچھ اس چھت کے نیچے تھا۔ انگوروں کی بیلیں ان میں جھولتے سیاہ اور سبز انگوروں کے خوشے۔ خوش رنگ پھول، چہچہاتی چڑیاں اور دوسرے ننھے پرندے، جگہ جگہ فوارے، بعض جگہوں پر فواروں کے گرد بنی ہوئی بینچوں پر حسین لڑکیاں بیٹھی ہوئی۔ سب میری طرف نگراں، آنکھوں میں شوخی اور لگاوٹ لئے ہوئے، کالی داس میری رہنمائی کرتا ہوا اس باغ میں بنی ایک عمارت کے دروازے پر پہنچ گیا۔ پھر وہ دروازہ کھول کر پیچھے ہٹ گیا اور مجھے اندر جانے کا اشارہ کیا۔’’مہاوتی آپ کا انتظار کر رہی ہیں مہاراج۔‘‘

‎دروازے سے اندر قدم رکھا۔ سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ یہ کوئی بارہ سیڑھیاں تھیں اور ایک گول سا کمرہ، جس کا فرش سنگ مرمر کا تھا۔ دیواریں بھی سفید پتھر ہی سے بنی ہوئی تھیں۔ درمیان میں ایک سنگھاسن تھا جس پر مہاوتی نیم دراز تھی۔ شمبھو ناتھ اس کے پیچھے کھڑا ہوا تھا۔ ان دونوں کے علاوہ یہاں کوئی نہ تھا۔ میں سیڑھیوں سے نیچے اترا اور مہاوتی نے مجھے دیکھ کر پائوں سکوڑلیے۔ شمبھو ناتھ تھوڑا سا پیچھے ہٹ گیا اور مہاوتی اٹھ کر کھڑی ہوگئی۔ اس کی آنکھوں میں استقبالیہ تاثرات تھے اور ہونٹوں پر مدھم سی مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔ غالباً وہ میری آمد پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتی تھی اور یہ یقینا مفاہمت کی ایک کوشش تھی، میں تھوڑا سا اور قریب پہنچا تو اس نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ کر دلآویز انداز میں گردن جھکائی اور پھر سیدھی ہوکر بولی۔ ’’مہاوتی، مہاراج کا سواگت کرتی ہے۔ آئیے سنگھاسن پر پدھاریے مہاراج، ایک شکتی مان، دوسرے شکتی مان کو جو احترام دے سکتا ہے وہ اس وقت میرے من میں آپ کیلئے ہے۔ پدھاریے مہاراج، مجھے خوشی ہوگی۔‘‘ میں نے آنکھیں بند کرکے گردن ہلاتے ہوئے کہا۔

‎’’نہیں مہاوتی، کالے جادو کی یہ تخلیق میرے دین میں حرام ہوتی ہے اور ایسی کسی چیز کو بغیر کسی مجبوری کے چھونا میرے لیے مناسب نہیں ہے، میں ان ناپاک چیزوں کو اپنی کسی آسائش کے لیے استعمال نہیں کرسکتا۔‘‘ مہاوتی کی مسکراہٹ سکڑگئی، لیکن فوراً ہی اس نے ان الفاظ کے ردعمل کو زائل کرتے ہوئے کہا۔ ’’تو پھر بتائیے مسعود جی مہاراج، میں آپ کا سواگت کیسے کروں؟‘‘
‎’’میں یہاں کھڑا ہوا ہوں مہاوتی، بس اتنا ہی کافی ہے۔‘‘
‎’’تو پھر یہ تو نہیں ہوسکتا کہ یہ سنگھاسن میرے لیے ہے، اسے بیچ سے ہٹا دینا ہی اچھا ہوگا۔‘‘ اس نے مڑکر انتہائی خوبصورت سنگھاسن کو دیکھا اور دوسرے لمحے وہ میری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔ مہاوتی پھر میری جانب متوجہ ہوگئی۔ اس نے کہا۔ ’’مسعود جی مہاراج، بہت سی باتیں بڑے سے بڑے گیانی کی سمجھ میں نہیں آتیں، آپ ایک ایسے آدمی کی حیثیت سے میرے سامنے تھے، جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی، لیکن آپ کا گیان چیخ چیخ کر مجھے بتارہا تھا کہ آپ عام آدمی نہیں ہیں۔ اب اگر میں آپ سے کوئی بات چھپائوں تو اسے میں اپنی بیوقوفی کے علاوہ اور کیا کہہ سکتی ہوں۔ مسعود جی، مہاراج کو ایک نظر دیکھتے ہی میں نے پہچان لیا تھا کہ وہ پورنا ہیں اور پورنیاں ان کے بس میں ہیں، پورن بھگت ہمارے گیان میں بہت بڑا درجہ رکھتا ہے۔ مہاراج، پر یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی تھی کہ ایک مسلمان کے نام سے ایک کاروباری شخص کا نوکر میرے پاس کیوں آیا ہے۔ ساری باتوں کا اعتراف کر رہی ہوں مہاراج۔ یہ جاننا چاہتی تھی کہ آپ کی اصلیت کیا ہے اور اسی لیے میں نے آپ کو روک لیا تھا، پر نہ تو میں سمجھ سکی نہ میرا بیر کالی داس اور نہ ہی مہاراج شمبھو ناتھ کہ آپ کی اصل کیا ہے اور بات بعد میں سمجھ میں آئی، مہاراج کہ اصل میں آپ ہندو نہیں تھے بلکہ آپ کا گیان وہ تھا جو ہماری سمجھ میں نہیں آسکتا، مگر پھر پورنیا میرا من للچاگیا، کیونکہ میں نے یہ دیکھا تھا کہ پورنیا ہونے کے باوجود آپ نہ تو پورنیوں کو اپنی آغوش میں جگہ دیتے ہیں اور نہ ہی پورن بیروں کو کوئی کام سونپتے ہیں، ہم سب بڑے پریشان رہے آپ کے لیے مہاراج۔ انہونی بات تھی جو کسی طرح سمجھ میں ہی نہیں آتی تھی۔ 

بھید جاننے کے لیے ہم سارے کے سارے بے چین ہوگئے، مگر کوئی پتہ نہیں چل سکا اور جب ہمارا یہ کام ایسے نہیں ہوا تو شمبھو ناتھ مہاراج نے دوسرے کھیل کھیلنا چاہے۔ اس سے آپ کو تکلیف پہنچی مسعود جی، پر انسان ہوس کا پتلا ہوتا ہے۔ پورنیاں معمولی چیز نہیں ہوتیں اور جسے یہ مل جائیں وہ بڑا شکتی مان بن جاتا ہے، آدھا جیون بھنگ کرنے کے بعد بھی پورنیوں کا حصول ممکن نہیں ہوتا، مہاراج یہ بات میں آپ سے اس لیے کہہ رہی ہوں کہ میں آپ کی بڑی قدر کرتی ہوں، بہت بڑا درجہ ہے آپ کے لیے میرے من میں اور اگر آپ اسے یہ سمجھیں کہ اپنے کئے پر پچھتا رہی ہوں میں کہ وہ نہ کرتی جو میں نے کیا، بلکہ دوسری طرح آپ سے اپنی منوکامنا پوری کراتی، مہاراج آپ نے اپنی خوشی سے وہ گندی پورنیاں جو آپ کے دھرم میں گندی سمجھی جاتی ہیں، میرے حوالے کردیں اور ان کا طریقہ وہی تھا جو میں نے اختیار کیا اور کوئی ایسا کام نہیں ہوسکتا تھا، جس سے پورنیاں مجھے مل جائیں، پرنت مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ خود ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے تھے اور انہیں زبردستی آپ پر سوار کردیا گیا تھا اور جب پورنیوں سے آپ کو چھٹکارا ملا، مہاراج تو آپ نے اپنے گیان کا پاٹ شروع کردیا اور آپ کو وہ ساری چیزیں مل گئیں جو ایک بڑے گیانی کو ملتی ہیں۔ ایک طرح سے تو مہاراج میں نے آپ کے ساتھ دوستی ہی کی اور اگر ایسی بات ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اتنا بڑا گیانی، مہاوتی کو دوست کی نگاہ سے دیکھے۔ کیا مہاراج میرے من کی بات سمجھ کر میری دوستی قبول کرلیں گے؟‘‘ میں نے مسکراتی نگاہوں سے مہاوتی کو دیکھا اور پھر آہستہ سے بولا۔

‎’’مہاوتی، جہاں تک تیری دوستی کا تعلق ہے ظاہر ہے کہ اول تو ہم دونوں کے دین الگ ہیں اور پھر تو، تو اپنے ہی دھرم کی نہیں ہے، ہندو دھرم میں بھی کالے جادو کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ تمہارے دیوی دیوتائوں کا بھی یہ درس نہیں ہے کہ کالی قوتوں کو انسانوں کے خلاف استعمال کرو، میرا تو مسئلہ ہی بالکل مختلف ہے۔ بہر حال میں تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا، مگر ایک کام تجھے کرنا ہوگا اور اگر تو یہ کام کردے تو مجھے تجھ سے کوئی دشمنی نہ رہے گی۔‘‘
‎’’ہاں ہاں مہاراج کہو، ٹھیک ہے تم مجھے اپنا دوست نہیں بناسکتے، داسی تو بناسکتے ہو، حکم تو دے سکتے ہو مجھے۔‘‘
‎’’اپنے جادو کو خاک کردے مہاوتی، کیونکہ تیرا یہ جادو انسان دشمنی ہے اور مجھ پر لازم ہے کہ میں انسانوں کو تیرے جادو کے چنگل سے نجات دلائوں جو زندگی کی مصیبتوں کا شکار ہیں اور جنہیں تو نے عذاب میں گرفتار کرلیا ہے، جیسے پتھر کے وہ مجسمے جو جیتے جاگتے نوجوان تھے اور تیری ہوس کی بھینٹ چڑھ گئے، جیسے تیرا شوہر راجہ چندر بھان، سب کو ان کا مقام دے دے اور خود جاکر ایسے ویرانوں میں اپنا مسکن بنالے جہاں انسان نہ ہو، کالی قوت کے کالے شیطانوں کو ویرانوں ہی میں رہنا چاہئے تاکہ انسان ان کے عذاب سے محفوظ رہیں، اگر تو ایسا کرلے گی مہاوتی، تو میں یہاں سے چلا جائوں گا اور میری تیری کوئی ایسی دشمنی نہیں رہے گی جس سے میرے ہاتھوں تجھے کوئی نقصان پہنچے۔‘‘ مہاوتی کے چہرے پر رنگ آرہے تھے جارہے تھے، اب اس کی مسکراہٹ کافور ہوگئی تھی اور اس کی آنکھوں میں غصے کے تاثرات نظر آرہے تھے۔اس نے کہا۔ ’’کیا یہ دشمنی نہیں ہے مسعود جی مہاراج؟‘‘
‎’’کالے جادو سے دشمنی ہے، تیری ذات سے نہیں مہاوتی، مجھے تجھ سے کیا لینا دینا۔‘‘
‎’’میں چنڈولی ہوں، کالی ماتا کی پجارن اور کالی ماتا نے میرے جیون بھر کی تپسیا میں مجھے یہ شکتی دان دی ہے اور تم کہتے ہو مسعود جی مہاراج کہ میں اس شکتی کو بھسم کردوں، ارے اگر یہ شکتی بھسم ہوجائے گی تو میں کہاں رہوں گی، میں تو بس ایک شکتی ہوں، اس سے آگے کچھ نہیں۔‘‘
‎’’میرے لیے تیری کالی قوتوں کا خاتمہ ضروری ہے مہاوتی۔‘‘
‎’’ارے واہ، خواہ مخواہ داروغہ بنے پھر رہے ہو، تم اپنے دھرم کی شکتی آزمائو، میں کبھی تمہارے راستے میں نہیں آئوں گی، مجھے میرے دھرم کی شکتی پر رہنے دو۔‘‘
‎’’تیرا دھرم کیا ہے مہاوتی؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
‎’’جے مہاکالی کلکتہ والی…‘‘
‎’’جادوگرنی، انسان کو نقصان پہنچانے والی۔‘‘
‎’’سارے کے سارے تمہارے دھرم کے تو نہیں ہیں۔ تمہیں شہر کا اندیشہ کیوں ہے، مسعود جی مہاراج؟‘‘
‎’’میرا دین یہی کہتا ہے کہ اپنی طاقت کو بدی کی طاقت کے خلاف استعمال کرنا ضروری ہے اور اگر انسانوں کو کوئی نقصان پہنچ رہا ہے اور تمہیں اللہ نے وہ قوت دی ہے کہ تم نقصان پہنچانے والے کو روک سکو تو تم پر فرض عائد ہوجاتا ہے کہ تم نقصان پہنچانے والے کو نقصان پہنچائو۔‘‘
‎’’دیکھو مسعود جی مہاراج، بھوریا چرن کو جانتے ہوگے اور کیوں نہ جانتے ہوگے اس نے مجھے تمہارے بارے میں سب کچھ بتادیا ہے، وہ شنکھا ہے، تم اس کی شکتی کا سامنا کیوں نہیں کرتے، ایک چنڈولی کے پیچھے کیوں پڑتے ہو۔ پھر بھی اگر تم یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا دھرم، تمہارا گیان سب سے بڑا ہے تو یہ تمہاری بھول ہے۔ میں تم سے ٹکر نہیں لینا چاہتی لیکن جو کچھ تم نے کہا ہے وہ سیدھا سادہ دشمنی کی علامت ہے اور جب دشمنی ہے تو میرے لیے ضروری ہوگیا ہے کہ میں اپنی دشمنی کا اظہار کروں، دوست نہیں مانتے تو پھر تو دشمنی ہی ہوگی۔‘‘
‎’’ہاں مہاوتی تو نے ٹھیک کہا۔ میں نے تجھے دوستی کی ایک پیشکش کی کہ اپنی ساری قوتوں کو اپنے ہاتھوں سے فنا کردے، انسان ہو تو انسان کے روپ میں آجا، ایسا نہ کرے گی تو تجھے مٹانا میرا فرض ہے۔‘‘
‎’’چھوڑو چھوڑو میاں جی، ہم نے بھی جیون بھر چنے نہیں بھونے ہیں، ٹھیک ہے اگر ایسی بات ہے تو تم اپنی شکتی آزماؤ اور ہم اپنی۔‘‘ مہاوتی نے دونوں ہاتھ دونوں سمت پھیلا دیئے اور اچانک ہی ایک حیرن کن واقعہ رونما ہوگیا۔ سنگ مرمر کی سفید دیواروں میں سیکڑوں سوراخ نموار ہوگئے اور ان سوراخوں سے پانی کی تیز دھاریں نیچے گرنے لگیں۔ دروازے کی سیڑھیاں ایک دم غائب ہوگئی تھیں اور اب یہ جگہ سنگ مرمر کے ایک کنویں کی حیثیت رکھتی تھی، جو تقریباً بارہ فٹ گہرا تھا اور پانی ان دیواروں سے اس طرح نکل رہا تھا جیسے کسی دریا کا رخ ان کی جانب موڑ دیا گیا ہو، دیکھتے ہی دیکھتے اس حوض میں پانی بھرنے لگا، میں نے کالے جادو کی قوت کا یہ حیران کن کرشمہ دیکھا۔ ویسے تو زندگی میں نجانے کن کن واقعات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن یہ سب کچھ اس قدر اچانک ہوا تھا کہ ایک لمحے کے لیے بدن میں جھرجھری سی آگئی۔

 پانی ٹخنوں سے گزر کر گھٹنوں، گھٹنوں سے گزر کر رانوں اور پھر کمر تک پہنچ گیا اور دفعتاً ہی میں نے مہاوتی کو ایک مچھلی کی صورت اختیار کرتے ہوئے دیکھا کہ چہرہ تو اس کا اپنا ہی رہا تھا لیکن گردن کے بعد سے اس کا بدن مچھلی کی شکل اختیار کرگیا اور وہ اس پانی میں تیرنے لگی، برق رفتاری سے اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر میرے ارد گرد چکرا رہی تھی، حالانکہ پانی کی طاقتور دھاریں میرے جسم پر پڑ رہی تھیں اور ان کی قوت اتنی تھی کہ میرا بدن بمشکل تمام اپنا توازن قائم کئے ہوئے تھا لیکن چونکہ یہ دھاریں چاروں طرف سے پڑ رہی تھیں، اس لئے میں کسی ایک سمت نہیں لڑھکا تھا، دوسرے شمبھوناتھ نے بھی اپنا روپ بدلا اور سبز رنگ کے ایک چپٹے سے سانپ کی شکل اختیار کرگیا، ایسے سانپ عموماً پانی میں نظر آتے ہیں، ناگوں کا یہ پجاری ناگ بن گیا تھا اور ان دونوں نے اس پانی میں اپنے لیے مقام حاصل کرلیا تھا، لیکن میں ظاہر ہے انسان تھا اور انسانی شکل میں ہی رہ سکتا تھا۔ البتہ ایک تصور دماغ میں ضرور تھا، میرا رب میرا معبود میری مدد ضرور کرے گا۔ میں کالے جادو کا توڑ نہیں جانتا تھا لیکن میرے معبود نے مشکل ترین لمحات میں میری مدد کی تھی اور اس وقت بھی میں اس کی رحمت سے مایوس نہیں تھا، چنانچہ پوری خود اعتمادی سے اپنی جگہ جما رہا۔ کمبل میں نے شانے سے اتار کر سر پر رکھ لیا تھا تاکہ وہ پانی میں بھیگ نہ جائے۔ مہاوتی کے چہرے پر کامیابی کی مسکراہٹ تھی اور بوڑھا شمبھو سانپ کی شکل میں خود کو محفوظ رکھے ہوئے تھا۔ پانی گرنے کی آوازیں سماعت شکن تھیں اور ماحول دھواں دھار ہوتا جا رہا تھا۔ اب وہ میری کمر سے گزر کر شانوں تک اور پھر وہاں سے گردن تک آچکا تھا اور بس کچھ لمحات باقی تھی کہ وہ سر سے اونچا ہوجائے۔ میں نے آنکھیں بند کرلیں اور پانی کی سطح کو بلند ہوتا محسوس کرتا رہا۔
‎پانی کے تھپیڑے میرے قدم اکھاڑے دے رہے تھے لیکن دل کو کسی خوف کا احساس نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اب مجھے یہ قوت عطا فرما دی تھی کہ ہر خوف میرے دل سے نکل گیا تھا۔ میں جانتا تھا کہ کائنات میں آنکھ کھولنے والے ہر نومولود کے بارے میں ہم کچھ اور کہہ سکتے ہوں یا نہ کہہ سکتے ہوں، یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ بالآخر یہ ایک دن مر جائے گا۔ موت برحق ہے اور اس کا تعین کرنے والا حق ہے اور حق سے انحراف کیسا…! آنکھیں اس لئے بند کرلی تھیں کہ ذہن کسی تدبیر کے جھگڑے میں نہ پڑ جائے اور قدرت سے انحراف نہ ہو۔

‎اچانک شور تھم گیا اور سناٹے چیخنے لگے۔ آنکھیں پٹ سے کھل گئیں۔ سامنے مہاوتی تھی جو بے چینی سے اچانک رک جانے والے پانی کو دیکھ رہی تھی۔ اس کا مچھلی کا بدن پانی میں جنبش کررہا تھا۔ دفعتاً فرش میں ایک بڑا سوراخ نمودار ہوگیا اور پانی دہشتناک آواز کے ساتھ اس سوراخ میںداخل ہونے لگا۔ مہاوتی نے ایک بھیانک چیخ ماری اور کم ہوتے ہوئے پانی میں ایک سوراخ کی طرف لپکی۔ ایک دم اس کا بدن لمبی چمکدار لکیر کی شکل اختیار کرگیا اور یہ لکیر تڑپ کر ایک سوراخ میں داخل ہوگئی لیکن شمبھو ناتھ جو سانپ کی شکل میں تھا اور پانی میں مزے سے تیرتا پھر رہا تھا، اس جیسی پھرتی نہ دکھا سکا حالانکہ اس کا پتلا بدن زیادہ آسانی سے ان لاتعداد سوراخوں میں سے کسی ایک سوراخ میں داخل ہوسکتا تھا۔ شاید وہ صورتحال نہیں سمجھ سکا تھا۔ پانی اس برق رفتاری سے سوراخ میں غائب ہوا کہ چند لمحوں میں زمین صاف ہوگئی۔ سوراخ چونکہ بلندی پر تھے اس لئے شمبھو ان تک نہ پہنچ سکا۔ وہ بدحواسی کے عالم میں باربار چکنی دیوار پر چڑھنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہر بار پھسل کر نیچے گر جاتا۔ پھر آخری کوشش کے طور پر وہ میری طرف لپکا لیکن مجھ تک نہ پہنچ سکا۔ تب میں نے آگے قدم بڑھائے اور جھک کر اسے پھن سے پکڑ لیا۔ شمبھو میری کلائی سے لپٹ گیا تھا۔ میں نے پہلی بار قریب سے اسے دیکھا۔ اس کا چہرہ سانپ کے بدن کی مناسبت سے چھوٹا ضرور ہوگیا تھا لیکن اصل تھا۔ وہ بری طرح خوف زدہ نظر آرہا تھا۔ پھر اس کی باریک سی آواز ابھری۔ ’’جے ہو تیری مہاتما! مجھے چھوڑ دے۔ چھوڑ دے میاں! چھوڑ دے مجھے، میرا کوئی دوش نہیں ہے۔ میں تو سنتھا ہاری ہوں۔ مجھے چھوڑ دے ولی! مجھے چھوڑ دے۔‘‘

‎’’ایک ہی مقصد ہے میرا شمبھو ناتھ! مہاوتی کا جادو ختم کردوں۔ اس نے جتنے لوگوں کو اپنے سحر میں گرفتار کیا ہے، انہیں آزادی دلا دوں۔ نہ میری تجھ سے کوئی دشمنی ہے نہ کسی اور سے!‘‘
‎’’وہ تو چنڈال ہے، کالی دیوی کی سنتھیا! مشکل سے ختم ہوگی۔ پر میں آتما ہوں، مجھے چھوڑ دے !‘‘
‎’’کہاں بھاگ گئی وہ…؟‘‘
‎’’میں نہیں جانتا، مجھے نہیں معلوم! ہوسکتا ہے کالی کنڈ چلی گئی ہو۔ اس کا کالا جادو تجھ پر اثر نہیں کرسکا۔ ڈر کر بھاگی ہے تجھ سے! اس کے تو ہزار ٹھکانے ہیں دھرتی پر، تجھ سے نہ بچ سکی تو پاتال میں چلی جائے گی۔ مارے تو ہم گئے! چھوڑ دے ہمیں، چھوڑ دے۔‘‘ شمبھو باریک آواز میں چیختا رہا۔
‎’’مجھے کالی کنڈ کا راستہ بتا شمبھو! مجھے وہاں لے چل۔‘‘
‎’’وہ مجھے نہیں چھوڑے گی۔‘‘
‎’’ادھر میں تجھے نہیں چھوڑوں گا۔‘‘
‎’’مر گئے دیوا سنتھ! ہم تو مر گئے۔ ہائے! اب ہم کیا کریں؟‘‘ میں نے اس دروازے کی طرف رخ کیا جس سے گزر کر یہاں آیا تھا۔ باہر کالی داس موجود نہیں تھا۔ ’’کالی داس کہاں گیا؟‘‘
‎’’وہ الگ کہاں ہے مہاوتی سے! وہ تو اس کا تھوک ہے، اس کا گند ہے۔ ساتھ ہی ہوگا اس کے!‘‘ شمبھو نے بتایا۔ میں نے چاروں طرف دیکھا۔ اس خوبصورت ماحول کا شائبہ بھی نہیں تھا جس سے گزر کر
‎میں یہاں پہنچا تھا جبکہ یہ اسی ٹوٹی حویلی کی ایک اجاڑ راہداری تھی جو سخت گندی پڑی تھی۔ درختوں کے پتے، کوڑا کرکٹ اور اس پر دوڑتے ہوئے چوہے…! جو کچھ پہلے دیکھا، وہ فریب نظر تھا۔ یہ اس جگہ کی اصل تھی۔ راہداری کا دوسرا سرا حویلی کے باہر نکلتا تھا۔ میں باہر نکل آیا۔
‎’’ہاں شمبھو ناتھ…! کدھر چلنا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا۔
‎’’سیدھے چلتے رہو مہاراج!‘‘ اس نے رو دینے والے لہجے میں کہا اور میں نے آگے قدم بڑھا دیئے۔ شمبھو میری گرفت میں تھا۔ اس نے گھٹی ہوئی باریک آواز میں کہا۔ ’’مہاراج! میری گردن چھوڑ دیں تو میں انسان کی جون میں آجائوں گا۔ وعدہ کرتاہوں کہ آپ کو کالی نواس میں لے جائوں گا۔‘‘
‎’’نہیں شمبھو ناتھ! سانپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔‘‘
‎’’میری گردن تو ڈھیلی کردیں، دم گھٹ کر ہی مر جائوں گا۔‘‘
‎’’میں جانتاہوں کہ تم ایسے نہیں مرتے۔ میں اس وقت تک تمہیں اسی طرح جکڑے رہوں گا جب تک کالی نواس میرے سامنے نہیں آجائے گا۔‘‘
‎’’سیدھے ہاتھ مڑ جائو۔‘‘ اس نے مردہ لہجے میں کہا اور میں نے رخ بدل دیا۔ بھٹنڈہ کے بارے میں مجھے معلومات نہیں تھیں لیکن جو کچھ ہورہا تھا، وہ غلط نہیں تھا۔ کچھ جانی پہچانی جگہیں نظر آنے لگیں اور میں انہیں پہچانتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ جگہ آگئی جہاں میں نے خود کو دیکھا تھا۔ سامنے ہی اس غار کا دہانہ نظر آرہا تھا جہاں میں پہلے بھی آچکا تھا۔ اندر داخل ہوا تو گھپ اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ شمبھو نے مردہ آواز میں کہا۔ ’’مہاراج! بچھو۔‘‘ میں ایک دم رک گیا۔ میری آنکھوں نے زمین پر انتہائی ننھی ننھی سرخ چنگاریاں متحرک دیکھیں۔ پھر آنکھیں تاریکی کی عادی ہوئیں تو میں نے دو انچ کے بچھو دیکھے جو اپنا کالا ڈنک اٹھائے میری طرف لپک رہے تھے۔ ننھی سرخ چنگاریوں جیسی ان کی آنکھیں تھیں۔ اتنے قریب آگئے تھے وہ کہ ان سے بچنا مشکل تھا۔ میں نے بادل ناخواستہ کندھے سے کمبل اتار کر ان کی طرف لہرایا۔ اس وقت میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارئہ کار نہیں تھا۔ مقصد یہ تھا کہ ہوا کے جھونکوں سے ڈر کر وہ دور ہٹ جائیں لیکن نتیجہ کچھ اور ہی نکلا۔ ہوا کے جھونکے انہیں چھونے لگے اور وہ ساکت ہوگئے۔ ان کے ڈنک نیچے جھک گئے جو ان کی موت کی علامت تھے۔
‎’’مر گئے۔‘‘ شمبھو کے منہ سے نکلا۔
‎’’یہ بچھو پہلے تو نہیں تھے؟‘‘ میں نے کہا۔

‎’’ہم سے کچھ نہ پوچھو مہاراج! یہ کالے بچھو ہیں۔ پتھر پر ڈنک ماریں تو پانی بن جائے ہے۔‘‘ شمبھو نے کہا۔ میں بچھوئوں کے درمیان سے گزر کر آگے بڑھا تو ایک اور دہانہ نظر آیا جس کے دوسری طرف روشنی تھی۔ یہ وہی دہانہ تھا جس میں، میں نے مہاوتی کو خونخوار بلی کے روپ میں دیکھا تھا۔ جونہی میں نے دہانے سے اندر قدم رکھا، اچانک تیز گڑگڑاہٹ کے ساتھ لاتعداد پتھر نیچے گرے۔ پتھر کیا چٹانیں تھیں جن میں سے کچھ براہ راست میرے جسم پر گری تھیں۔ بس یوں لگا جیسے روئی کے گولے ہوں لیکن یہ گولے نیچے گر کر ریزہ ریزہ ہوگئے اور مٹی کا بادل بلند ہوگیا۔ قدم رک گئے اور میں اس وقت تک ساکت کھڑا رہا جب تک یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگیا۔ اب مجھے اندازہ ہوگیا کہ مہاوتی اندر موجود ہے اور اپنا جادو آزما رہی ہے۔ میں نے ماحول صاف ہونے کے بعد اندر نگاہ ڈالی۔ آگ کی لکیریں کھنچ رہی تھیں۔ سائیں سائیں کی آوازوں کے ساتھ یہ لکیریں ادھر سے ادھر دوڑ ہی تھیں اور ان سے کچھ فاصلے پر کوئی کالی شے نظر آرہی تھی۔ پھر وہ واضح ہوگئی۔ مہاوتی تھی لیکن نہایت بھیانک شکل ہورہی تھی اس کی… کوئلے جیسی سیاہ آنکھیں، گہرے سرخ ہونٹ مڑے ہوئے تھے۔

‎’’آگیا تو پاپی مسلے…؟ ہار نہیں مانوں گی تجھ سے، ہار نہیں مانوں گی۔ پیس کر رکھ دوں گی۔ کچا چبا جائوں گی، کچا کھا جائوں گی تجھے!‘‘ اس کی زبان باہر نکل آئی۔ ایک فٹ دو فٹ اور پھر تین فٹ! آنکھیں بھیانک انداز میں پھیلنے لگیں، بدن پر بال جھولنے لگے۔ وہ بھیانک بلا کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی۔ پھر اس نے اتنی ہولناک چنگھاڑ منہ سے نکالی کہ پورا غار لرز کر رہ گیا۔ اس چنگھاڑ کے ساتھ ہی وہ فضا میں بلند ہوئی اور دوڑتی ہوئی مجھ پر آئی۔ میں نے فوراً درود پاک پڑھنا شروع کردیا۔ وہ چمگادڑ کی طرح مجھ پر سے پرواز کرگئی۔ کچھ دور جاکر وہ پھر پلٹی۔ میں نے رخ بدل کر اس پر پھونک ماری اور یوں لگا جیسے اس کا پرواز کرتا ہوا بدن کسی ٹھوس دیوار سے ٹکرایا ہو۔ دھماکے کے ساتھ چیخ کی آواز سنائی دی اور وہ نیچے گر پڑی لیکن نیچے گر کر وہ لوٹتی ہوئی دور چلی گئی اور اس کا جسم پتھر ہوتا گیا۔ کچھ دور جاکر اس نے کالی ناگن کی شکل اختیار کرلی اور اس کے منہ سے شعلے نکلنے لگے۔ اس نے ایک خوفناک پھنکار ماری اور اچانک میری کلائی سے لپٹے شمبھو ناتھ کے بل کھلنے لگے۔ میرا ورد بدستور جاری تھا۔ شمبھو میری مٹھی میں جکڑا ہوا، اب نکلنے کی جدوجہد کررہا تھا اور مہاوتی مسلسل پھنکاریں مار رہی تھی۔ اچانک میں نے غار کے کونوں کھدروں سے بے شمار پھنکاریں سنیں۔ کالے رنگ کے لاتعداد سانپ بے چینی سے پھنکارتے ہوئے باہر نکلے تھے اور پھر وہ مجھ پر لپکے تھے۔ میں نے ان پر پھونک ماری اور جدھر رخ کرکے میں نے پھونک ماری تھی، وہاں سانپ ساکت ہوگئے۔ ان کے جسم لمبے لمبے ہوگئے تھے لیکن چونکہ سانپ چاروں طرف سے لہراتے ہوئے آرہے تھے اس لئے مجھے چاروں طرف کا خیال رکھنا تھا۔ میں نے شمبھو ناتھ کو دوسرے سانپوں پر اچھالا اور پھر بدستور درود شریف پڑھتے ہوئے کمبل دونوں ہاتھوں میں سنبھال کر لہرانے لگا۔ مہاوتی کی پھنکاریں بھیانک ہوگئیں۔ کمبل لہراتے ہوئے سانپ میری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ میں نے کچھ دیر یہ عمل جاری رکھا۔ 

پھر اس کا نتیجہ دیکھنے کیلئے رکا۔ نتیجہ خاطرخواہ تھا۔ تمام سانپ مردہ پڑے تھے۔ ان میں شمبھو ناتھ بھی تھا مگر ایک تبدیلی بھی ہوئی تھی۔ مہاوتی کا ناگن کا روپ بدل گیا تھا۔ اب اس کی جگہ ایک انتہائی بوڑھی چڑیل بیٹھی ہوئی تھی جس کے سر کے بال برف کی طرح سفید اور بکھرے ہوئے تھے۔ چہرے کی جھریاں اتنی تھیں کہ اصل خدوخال چھپ گئے تھے۔ سارے جسم کے کھلے ہوئے حصوں پر نسوں کا جال ابھرا نظر آرہا تھا۔ یقیناً وہ اس کا اصل روپ تھا۔ وہ اس عمر کی عورت تھی اور اس نے کالے جادو کے عمل سے یہ دلکشی اور جوانی حاصل کررکھی تھی۔ اس کا سر دائرے کی شکل میں گھوم رہا تھا، آنکھیں چڑھی ہوئی تھیں۔ اچانک اس کے منہ سے گہرا گاڑھا سیاہ خون ابل پڑا لیکن اس کا سر بدستور اسی طرح دائرے کی شکل میں گھومتا رہا جس کی وجہ سے خون دور دور تک اچھلنے لگا۔ میں نے کمبل احترام سے سمیٹ لیا مگر درود پاک اسی طرح پڑھتا رہا۔ آہستہ آہستہ مہاوتی کے سر گھومنے کی رفتار تیز ہوگئی۔ اب اس کے منہ سے ایک مسلسل بھیانک آواز بھی بلند ہونے لگی تھی۔ پھر اس کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور اس کا بدن اذیت سے مڑنے تڑنے لگا۔ اس کے بعد وہ ساکت ہوگئی۔ میں آگے بڑھ کر اس کے قریب پہنچ گیا۔ یقیناً وہ مرچکی تھی۔ میں نے گہری سانس لی اور غار میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لینے لگا۔ مردہ سانپ ہوا میں تحلیل ہونے لگے تھے۔ نہ جانے کیا کیا الابلا موجود تھیں، وہ سمٹتی جارہی تھیں اور پھر وہاں خالی غار کے سوا کچھ نہیں رہ گیا۔ اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ مہاوتی اپنے جادو سمیت فنا ہوچکی ہے۔ دل مسرت سے سرشار ہوگیا۔ کسی راہ کا تعین کئے بغیر چل پڑا۔ دل میں آرزو تھی کہ مہاوتی کے محل جائوں۔ سمت درست ہی نکلی۔ تھوڑی دیر کے بعد آبادی نظر آگئی اور آبادی تلاش کرنے کے بعد محل تلاش کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں ہوئی لیکن محل سے کچھ فاصلے پر ہی تھا کہ کسی غیر معمولی بات کا احساس ہوگیا۔ اندر بھاگ دوڑ ہورہی تھی، پہریدار مستعد کھڑے ہوئے تھے۔ مجھے باہر ہی روک دیا گیا۔ ’’کہاں جانا ہے؟‘‘
‎’’اندر بھائی…!‘‘
‎’’نہیں جاسکتے۔‘‘
‎’’ضروری کام ہے۔‘‘
‎’’کہہ تو دیا نہیں جاسکتے۔ مہاراج چندر بھان نے منع کرا دیا ہے۔‘‘
‎’’کہاں ہیں مہاراج چندر بھان…؟‘‘
‎’’اندر ہیں اور کہاں ہیں۔‘‘
‎’’میرا مطلب ہے کہ وہ تو کہیں گئے ہوئے تھے؟‘‘
‎’’واپس آگئے ہیں۔‘‘
‎’’تم نے خود دیکھا ہے انہیں…؟‘‘ میں نے بے تابی سے پوچھا۔
‎’’نہیں تو کیا ہم اندھے ہیں؟‘‘
‎’’اچھا بھائی! سندری کو تو بلا سکتے ہو؟ میں اس سے دو باتیں کرکے چلا جائوں گا۔‘‘
‎’’عجیب ڈھیٹ آدمی ہو۔ اس سمے کچھ نہیں ہوسکتا۔‘‘ پہریدار نے آنکھیں بگاڑیں تو میں وہاں سے ہٹ آیا اور کوئی مقصد نہیں تھا۔ میں ان سنگی مجسموں کے بارے میں جاننا چاہتا تھا۔ محل سے کچھ فاصلے پر دھونی رمالی… اور وہاں سے جائزہ لیتا رہا۔ افراتفری نظر آرہی تھی۔ پھر کچھ لوگوں کو باہر نکلتے دیکھا۔ نوجوان تھے، تباہ حال تھے، بدحواسی سے باہر نکلے تھے۔ بڑی مشکل سے ان میں سے ایک کو روک سکا۔ ’’سنو بھائی…!‘‘ میں نے روکا اور وہ سہم کر رک گیا۔ ’’کچھ پوچھنا چاہتا ہوں تم سے!‘‘
‎’’کیا…؟‘‘ اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔
‎’’تم محل سے آرہے ہو؟‘‘
‎’’ایں…!‘‘ اس نے خوف زدہ لہجے میں کہا۔ پھر بولا۔ ’’ہاں! وہیں سے آرہا ہوں۔‘‘
‎’’کیا مہاراجہ چندر بھان محل میں آگئے ہیں؟‘‘
‎’’اس مہان پرش نے ہی تو ہمیں نجات دلائی ہے۔‘‘ نوجوان بے اختیار بولا۔
‎’’تم پتھر کے بت بنے ہوئے تھے نا…؟‘‘ میں نے کہا۔
‎’’ارے ساری باتیں جانتے ہو تو ہمیں کیوں پریشان کررہے ہو؟‘‘ اس نے کہا اور تیزی سے آگے بڑھ گیا۔ اپنا فرض پورا کرنا چاہتا تھا۔ یہ میری ذمہ داری تھی جس کی ہدایت کی گئی تھی۔ اس کے بعد بھی وہاں دو دن رکا۔ محل کے سامنے ہی بسیرا کیا اور معلومات حاصل کرتا رہا۔ پھر دوسرے دن سندری نظر آگئی۔ محل کے قریب پہنچ کر اسے آواز دی۔ وہ اپنا نام سن کر رک گئی۔ مجھے دیکھا اور فوراً پہچان لیا۔ بولی۔ ’’مہاراج! آپ…؟‘‘
‎’’سندری! تم سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔‘‘
‎’’پوچھو…!‘‘
‎’’چندر بھان محل میں آگئے؟‘‘
‎’’ہاں! انہوں نے چڑیل مہاوتی کو مار دیا، اس کا جادو توڑ دیا، سارے پتھر کے بت انسان بن کر اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اب پرانا محل کھدوا کر پھنکوا دیا جائے گا۔ باغ اجاڑ کر دوسرا لگایا جائے گا۔‘‘
‎’’خدا کا شکر ہے۔‘‘ میرے منہ سے نکلا۔
‎’’اور کوئی کام ہے ہم سے مہاراج…؟‘‘
‎’’نہیں سندری! تمہارا شکریہ!‘‘ میں نے کہا اور سندری آگے بڑھ گئی۔ تصدیق ہوگئی۔ کام ختم ہوگیا۔ اب چندر بھان سے ملنا ضروری نہیں تھا چنانچہ میں نے وہاں سے باہر جانے کی ٹھانی اور بھٹنڈہ سے باہر جانے والے راستے پر پیدل چل پڑا۔ مہاوتی کی جادو نگری میری آنکھوں میں بسی ہوئی تھی۔ جادو کی بھی ایک دنیا ہے۔ ساری چیزوں کا تعلق شیطان سے ہے۔ اس ملعون نے بھی اپنا ایک نظام قائم رکھا ہے۔ متعدد انساوں کو بھٹکا کر انسانیت کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس کیلئے اس نے اپنی ضروریات کو شیطانی قوتوں سے آراستہ کیا ہے لیکن ظاہر ہے کلام الہیٰ کی برکت اور اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے سامنے شیطنیت فنا ہوجاتی ہے اور بالآخر انسانیت کو اس سے نجات مل جاتی ہے۔ شیطانی قوتیں حاصل کرنے والے دنیاوی آسائشیں حاصل کرنے کیلئے غلاظت کی آخری حدود کو چھو لیتے ہیں لیکن یہ بھی کوئی زندگی ہے؟ انسان تو فطرتاً بہت نفیس ہے۔

 یہ دوسری بات ہے کہ طاقت حصول کی کوششیں اور طاقت کا نشہ اسے فطرت سے بہت دور لاپھینکتا ہے اور وہ اسی میں اپنے آپ کو مکمل سمجھ لیتا ہے۔ پتا نہیں ایسے لوگوں کی اندرونی کیفیات کیا ہوں۔ سوچوں کے دائرے پھیلتے گئے اور میں ماضی میں پہنچ گیا۔ درحقیقت صرف ایک احمقانہ سوچ، صرف ایک غلطی ساری زندگی کا غم بن جاتی ہے۔ میں اگر اپنے والد اور ماموں کی طرح عام انسانوں کی مانند اپنے مستقبل کے بارے میں سوچتا تو آج زندگی سے اتنا دور نہ ہٹ گیا ہوتا۔ کیاکیا تکلیفیں نہیں اٹھائی تھیں، کیا کیا صدمے نہیں برداشت کئے تھے۔ صرف ایک میری غلطی نے کسے کسے زندہ درگور نہیں کردیا تھا۔ مقصد یہی تھا کہ فطرت کے بنائے ہوئے اصولوں سے ہٹ جائوں اور محنت کئے بغیر دولت حاصل کرلوں۔ یہی جذبہ تو تھا جو مجھے کالا جادو سیکھنے پر مجبور کررہا تھا اس وقت اور کم بخت بھوریا چرن مل گیا تھا۔ محنت کے بغیر جو کچھ بھی حاصل ہوجائے، وہ گندے علوم سے ہی ہوسکتا ہے۔ خیالات کے ہجوم نے احساس ہی نہ ہونے دیا کہ کتنا فاصلہ طے کرلیا ہے اور جب ہوش کی دنیا میں واپس آیا تو چاروں طرف تاریکی پھیل چکی تھی اور مجھے سفر کرتے ہوئے کتنے ہی گھنٹے گزر چکے تھے۔ تاحد نگاہ ویرانی، سناٹا، درخت، جھاڑیاں، پتھر، کچی زمین…!
‎میں آبادی سے بہت دور نکل آیا تھا لیکن اب اس کا کوئی افسوس بھی نہیں ہوتا تھا۔ ظاہر ہے ایک بے منزل کیلئے ہر جگہ جہاں پائوں تھک جائیں، منزل ہی ہوتی ہے۔ ایک صاف ستھری جگہ دیکھ کر بیٹھ گیا۔ اتنی دیر میں پہل دفعہ تھکن کا احساس ہوا تھا۔ کھانے پینے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ اللہ کا شکر ادا کیا۔ کمبل احترام سے سرہانے رکھا اور لیٹ گیا۔

‎نیند آگئی تھی اور سوتا رہا تھا۔ غالباً اس وقت رات کے چار ساڑھے چار بجے ہوں گے جب آنکھ کھل گئی۔ چونکہ جلدی سو گیا تھا اس لئے نیند پوری ہوگئی۔ وضو کیلئے پانی موجود نہیں تھا اس لئے تیمم کیا اور دوزانو ہوکر یادالہیٰ میں مصروف ہوگیا اور اس کے بعد سورج نکلنے تک اسی طرح مصروف رہا تھا۔ پھر آگے کے سفر کی ٹھانی اور دوبارہ چل پڑا۔ بہت دور نکلنے کے بعد جھاڑیوں میں خربوزے جیسی کوئی چیز نظر آئی۔ یہ خودرو جھاڑیاں تھیں۔ ان میں جو خوشنما پھل لگے ہوئے تھے، انہیں کھایا جاسکتا تھا۔ وہ کیا تھے، کیسے تھے، یہ اللہ جانے لیکن میری شکم سیری کیلئے بہت کافی ثابت ہوئے تھے۔ بس دو پھلوں نے پیاس بھی بجھا دی تھی اور پیٹ کی آگ بھی! سو اس سے زیادہ کچھ نہ لیا۔ جس نے اس ویران سفر میں ان جھاڑیوں میں میرے لئے پھل اگائے تھے، وہ آگے چل کر بھی کہیں سے مجھے رزق عطا کرسکتا تھا۔ چنانچہ اس کی فکر کرنا بے سود تھا۔اس کے بعد شام ڈھلے جب سورج کی نارنجی کرنیں زمین پر ایک عجیب سی اداسی بکھیر رہی تھیں، مجھے ایک ٹوٹا پھوٹا کھنڈر نظر آیا۔
‎(جاری ہے)

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

کالا جادو - پارٹ 25

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,