درویش کامل - قسط 4
سائیں نواب دین کو میں تلونڈی لے گیا اور اس کے جنات کی حاضری کروائی۔ اس وقت پچاس ساٹھ لوگ وہاں موجود تھے۔ حاضری بڑی سخت تھی۔ مرشد کی دعا و فیض نے میرے حصار کا کام کیا۔ حاضری ہوئی تو ارجن سنگھ اور ملکہ سبھرائی حاضر ہوگئے۔ وہ بڑی مشکل سے سائیں نواب دین کی جان چھوڑنے پر رضا مند ہوئے تھے۔ انہوں نے جو روداد سنائی وہ بڑی تلخ اور باعث حیرت تھی۔ ارجن سنگھ اور ملکہ سبھرائی کے مطابق سائیں نواب دین تہجد گزار اور بہت بھولا تھا۔ شب بیدار تھا۔ اس کے باوجود اس کی بیوی شوہر پر شک کرتی اور سے تیکھی نظروں سے دیکھتی رہتی تھی۔ سائیں کا ہاتھ کھلا تھا اور غریبوں کی بھی مدد کرتا تھا۔ تائی کو فکر تھی کہ سائیں کہیں اپنی جائیداد کسی اور کو نہ دے دے۔ اس نے اپنے بھائی رحمت کے ساتھ شیطانی منصوبہ بنایا اور ایک ہندو عامل کی خدمت حاصل کرکے یہ شیطانی عمل کرایا تھا۔ مجھے یہ حقیقت جان کر بہت دکھ ہوا کہ انسان کو جب اس کے اپنے دھوکا دیتے ہیں تو پرائے لوگوں سے کیسا شکوہ۔ ایسے پراگندہ اور ہوس پرست لوگ شیطان کے آلہ کار ہوتے ہیں۔ میرے مرشد نے جب سے مجھے عملیات و ظائف عطا فرمائے اور تربیت فرمائی ہے تب سے میں مخلوق خدا کی خدمت میں مستغرق رہتا ہوں مگر مجھے جناتوں کی غلط کاریوں سے زیادہ انسان کی ریا کاری ، دھوکا اور ظلم دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی ہے اور یہ تکلیف مجھے بے حال بھی کر دیتی ہے۔ باری تعالیٰ سے مغفرت کی دعا کرتا ہوں۔ رحم کی بھیک مانگتا ہوں کہ اے میرے مالک گمراہ انسانوں کو دایت فرما دے۔
جنت المعلٰی کی ماری ایک عورت
2008ء میں کسی سالک کی وساطت سے مکّہ شریف کی ایک خاتون نے میرے ساتھ رابطہ کیا۔ اس بے چاری کی داستان بھی انسان کورولا دیتی ہے۔ اس کے عزیز رشتہ داروں نے اس کی شادی رکوا دی تھی اور اس کے لیے کسی گھناؤنے کالا علم کرنے والے عامل سے شیطانی کام کرایا تھا۔ وہ 16سال سے جنت المعلیٰ میں رہ رہی تھی۔ شاہراہ الجزائر پر اس کا گھر تھا۔ وہ بے چاری 16سال سے اتنی قربت کے باوجود نہ عمرہ کر سکی نہ حج۔ جب بھی ارادہ کرتی جنات باریک سانپ بن کر کے اس کے رحم میں داخل ہو جاتے اور اسے خون جاری ہو جاتا۔ سارے ڈاکٹری علاج ناکام ہوگئے تھے۔ نہ دوا کام کرتی تھی نہ دعا۔ اس کے منہ سے بالوں کے گچھے نکلتے تھے۔ جب نماز پڑھنے کے بعد دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی تو جنات اس کے ہاتھوں پر گند رکھ دیتے تھے۔ یہ حالت دیکھ کر ہر کوئی لرز جاتا تھا۔ میرے مرشد کی نظر فیض کا صدقہ، میں نے اس خاتون کا علاج کیا اور اس پر مسلط جنات کو حاضر کرکے ان سے جان چھڑوائی۔ الحمد اللہ آج وہ عورت شادی کر چکی ہے اور خوش حال زندگی گزار رہی ہے۔
اصل میں انسان کی ہوس بڑھنے سے شیطانی اعمال کا انسانی زندگیوں میں دخل بڑھ گیا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں یہ جسمانی عذر ہوگا مگر یہ شیطانی تسلط ہوتاہے۔جس کا تدارک علاج سے کیا جانا ضروری ہوتا ہے۔
روحانی اسرار و رموز سے آشنا لوگ بھی پیر محمد رمضان رضوی سیفی کے عقیدت مند اور ان کے علمی کمالات کے معترف ہیں۔ جامعہ مسجد غوثیہ گلبرگ۲ لاہورکے خطیب اور ممتاز مقرر قاری محمدنواز سیالوی خود بھی روحانی علوم پر دسترس رکھتے اور اہل طریقت میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کم و بیش تیرہ چودہ سال سے پیر محمد رمضان رضوی سیفی کے گرویدہ ہیں۔ قاری محمد نواز سیالوی کا کہنا ہے ’’لاہور میں مجھے چوبیس سال ہو گئے ہیں۔ میں نے درس بڑے میاں میں قرآت و تجوید کی تعلیم حاصل کی اور نمایاں ترین پوزیشن میں یہ کورس پاس کیا۔ ہم دونوں مدینہ پاک کے ساتھی ہیں۔ جب سے پیرمحمد رمضان صاحب سے عقیدت و انسیت کا تعلق استوار ہوا ہے میں ان کے جامعہ میں پڑھا بھی رہا ہوں اور ان کے ساتھ باطنی اسرار و رموز اور فہم دین پر بات چیت بھی کرتا رہتا ہوں۔ میں بھی علوم طریقت اور عملیات پر دسترس رکھتا ہوں مگر میں نے دیکھا اور مشاہدہ و تجربہ کیا ہے کہ اس راہ میں بسا اوقات ایسے حساس اور پیچیدہ خفی معاملات بھی رونما ہو جاتے ہیں جن سے نبرد آزما ہونے کیلئے مزید قابلیت، تربیت ،تجربہ اور اللہ کی خاص عطا حاصل ہونی چاہئے۔ میں نے اس بات میں کبھی عار محسوس نہیں کی اور ہر ایسا کیس پیر محمد رمضان صاحب کے سامنے پیش کر دیتا ہوں اور عرض کرتا ہوں کہ یہ مسئلہ میرے بس میں نہیں ہے لہٰذا آپ ہی اس سائل و مریض کو سبنھالیں۔ الحمد اللہ پیر صاحب خوش دلی اور کسی طمع کے بغیر اس سائل کا علاج کرتے ہیں۔ حالانکہ بسا اوقات انتہائی سنگین ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ عملیات کرنے والے بہت ہوں گے مگر جو کلام اللہ پر یقین رکھتے ہے وہ ہمیشہ کامیاب ہوتے ہیں۔
پیر محمد رمضان صاحب ایک عاجز اور فقیر آدمی ہیں۔ ان کی جیب میں مال نہیں ٹھہرتا۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، جس قدر آتا ہے، اسی تناسب سے نکل جاتا ہے۔ میں نے ان کے اندر مال و دولت سے رغبت نہیں دیکھی۔ پیر محمد رمضان صاحب نے جب یہاں مسجد و مدرسہ تعمیر کیا تو میں نے اپنی حیثیت کے مطابق ان کے ساتھ تعاون کیا۔ یہ دین کی ترویج کا کام انتہائی جذبہ سے کرتے ہیں اور ان کا یہ خلوص انمول ہے۔
میں خود بھی پیر ہوں۔ ہمارا پھالیہ کے قریب گاؤں میں آستانہ ہے۔ میں جب جنات کا بھاری کیس نہیں کر سکتا تو اپنے مریدوں یا سالکین کو پیر صاحب کی خدمت میں پیش کردیتا ہوں۔ جہاں تک جنات نکالنے اور کسی مریض پر ان کے غلبہ و تسلط کو پرکھنے کا سوال ہے تو مجھے اس کا بچپن سے تجربہ ہے کیونکہ میں جنات کے ساتھ پڑھتا رہا ہوں۔ میرے خالو نابینا تھے ۔وہ بچوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔ ان کے پاس جنات پڑھنے آتے تھے۔ میرے کئی ہم مکتب جن زادے تھے اور میں اکثر ان کا مشاہدہ کیا کرتا تھا۔ لہٰذا مجھے علم ہو جاتا ہے کہ کس مریض پر جنات نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ ابھی پچھلے دنوں میرا ایک مرید آیا جس پر جنات کا سایہ تھا۔ وہ بول بھی نہیں سکتا تھا۔ انتہائی بُری حالت تھی اسکی۔ میں نے اسے پیر صاحب کے حضور پیش کیا تو اللہ کے فضل و کرم سے وہ مرید صحت یاب ہو گیا۔
اسی طرح ایک روز مجھے کسی نے گلشن راوی میں ایک عمر رسیدہ مائی کا علاج کرنے کیلئے بلایا۔ پیر صاحب میرے ساتھ تھے۔ جب وہاں پہنچے تو مائی بیہوشی کی حالت میں چارپائی پر پڑی تھی۔ پیر صاحب نے اپنے علم کے ذریعے اس کی بیماری کا سبب دریافت کیا اور پھر کپڑے پر دم کر کے مائی کے سرے سے پاؤں تک پھیرا تو بیہوش مائی کو ہوش آ گیا۔ بعد ازاں پیر صاحب نے مجھے بتایا کہ اس مائی پر جادو اس کے سگے بیٹے نے کرایا ہے۔ ہمارے معاشرہ میں خونی رشتوں کا تقدس پامال ہو گیا ہے۔ دولت کی ہوس اور آوارگی کے ستائے لوگوں نے اپنے ماں باپ کو بھی عملیات کی بھینٹ چڑھا رکھا ہے اور یہ مرض عام ہوتا جا رہا ہے۔ لہٰذا اس کا علاج کرنے والوں کو بھی اللہ توفیق عطا فرماتا ہے اور ان کے دست و نگاہ میں شفاء کا نور بخش دیتا ہے۔
پیر صاحب ،صاحب کرامت شخصیت ہیں۔ ان کی دعا میں اثر ہے۔ ایک روز میرے ایک سائل نے کراچی سے فون کیا کہ ان کا بچہ گم ہو گیا ہے۔ میں نے پیر صاحب سے رابطہ کیا اور ان سے عرض کی تو پیر صاحب نے کہا ’’بچہ دس دن کے اندر اندر مل جائیگا‘‘۔ یہ کہہ کر پیر صاحب نے پڑھائی شروع کی اور بچہ چھ دن میں ہی مل گیا۔ یہ پیر صاحب کے روحانی تصرف و کمالات کا واقعہ بہت مشہور ہوا اور دنیا نیوز والوں نے پیر صاحب کا انٹرویو نشر کرکے دنیا کو بتایا کہ اللہ کے حقیقی بندے آج بھی موجود ہیں۔
چند روز پہلے انگلینڈ سے عمران صاحب تشریف لائے تھے۔ مجھ سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ ان پر اٹھارہ سال سے جنات قابض تھے۔ انہوں نے پیر رمضان صاحب سے رابطہ کیا اور جب علاج کرایا تو انہوں نے خود اس بات کا مشاہدہ کیا کہ جنات اس کے بدن کو کیسے چھوڑ کر نکل گئے ہیں۔ وہ طویل عرصہ کے بعد صحت یاب ہوئے ہیں اور انہوں نے پیر صاحب کے جامعہ میں کمپیوٹرز وغیرہ عطیہ کئے ہیں۔ وہ پیر صاحب کی شخصیت اور کردار اور سادگی سے بے حد متاثر ہوئے اور ان کے دست مبارک پر بیعت ہو کر ذکر کی نعمت سے مالا مال ہو گئے‘‘۔
قاری محمدنواز سیالوی خود پیر بھی ہیں اور عالم بھی۔ پیر صاحب کے ساتھ گہرے مراسم کے باوجود سیالوی صاحب اپنے مرشد خانہ سے وابستہ ہیں۔ البتہ فیوض و برکات میں انہوں نے پیر محمد رمضان رضوی سیفی کے سلسلہ طریقت کو بہترین تربیت گاہ سے منسوب کیا ہے۔ سیالوی صاحب کا کہنا ہے ’’میں سیال شریف میں بیعت ہوں۔ البتہ مجھے جب بھی کسی روحانی یا علمی مسئلہ کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے تو پیر محمد رمضان صاحب سے پوچھتا ہوں لیکن میں نے ان سے لطائف کیلئے ذکر حاصل نہیں کیا اس لئے کہ میں چونکہ ذرا مولوی ٹائپ بھی ہوں۔ قرآت اور تقاریر کیلئے بہت مصروف ہوتا ہوں۔ اس لئے بالخصوص وہ ذکر جو سیفی حضرات کرتے ہیں اس سے محروم ہوں۔ پیر صاحب سے اس پر بات چیت ہوتی رہتی ہے لیکن میں یہ ذکر کرنے میں ذرا محتاط ہوں کیونکہ اس کیلئے بندے کو اہل ہونا چاہئے۔
قاری محمد نواز سیالوی بیان کرتے ہیں کہ جس انسان کی خوبیوں کا اندازہ کرنا ہواسکے ساتھ سفروقیام کرنا چاہئے لہذا مجھے پیر محمد رمضان سیفی صاحب کے ساتھ مدینہ پاک میں قیام کا موقع ملا،اس دوران میں نے انکے اندر جو بزرگانہ خوبیاں پائیں وہ احاطہ تحریر میں نہیں سموئی جاسکتیں،پیر صاحب کے اندر اخلاص و عشق حقیقی کا غلبہ ہے اور آپ اشاعت حق کی تبلیغ کیلئے مجاہدانہ کردار ادا کرنے کی تڑپ رکھتے ہیں۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے دنیا میں مسلمانوں کی اصلاح کے لیے ایسی برگزیدہ ہستیوں کو پیدا فرمایا جنہوں نے عالم اسلام اور تمام مسلمانوں کے دلوں میں اللہ عزوجل اور اس کے حبیب ﷺ کی محبت کے دیپ روشن کئے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو شکر کی ایسی کیفیت کو جانتے ہیں جو نعمتوں کو دوام بخشتی ہے۔ یہ شکر اور صبر جیسی عظیم نعمتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ ان کی حیات کا لمحہ لمحہ اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتا ہے۔ اپنے ربّ عزوجل کی رضا چاہتے ہیں اور اپنی دنیاوی تگ و دو میں فکر آخرت کو بھی ساتھ رکھتے ہیں۔ وہ ان ساری کوششوں کو دین کی سر بلندی کے ارادے سے وقف کرتے ہیں۔ انہیں کوئی نعمت دی جاتی ہے تو اللہ کے اس احسان کا شکر ادا کرتے اور کوئی آزمائش آتی ہے تو صبر کرتے ہیں۔ مسبب الاسباب کو کارساز جانتے ہیں۔ اور اللہ عزوجل کی رضا کو اصل مقصود بناتے ہوئے اسباب اور وسائل و ذرائع کو عمل میں لانا یہی درمیانی راہ ہے جس پر اہل دین کار بند ہوئے۔ انہی میں ایسی ہستی جن کے بارے میں یہ عرض کروں گا!
علم دیتے ہیں نور دیتے ہیں
اور قلبی سرور دیتے ہیں
اولیاء اپنے ہم نشینوں کو
عشق رب غفور دیتے ہیں
میں نے ان برسوں میں دیکھا ہے کہ ان کی محفل میں جو کوئی بھی آتا ہے جاتے ہوئے وہ اپنے دامن میں کچھ نہ کچھ سمیٹتا ہے۔ خاص طور پر اللہ کا ذکر، جس پر وہ بہت زور دیتے ہیں۔ پیر صاحب بہت ہی نیک اور نرم دل انسان ہیں۔ ان میں تحمل اور بردباری کوٹ کوٹ کے بھری ہے ، ان کی سخاوت کا تو کیا ہی عالم ہے۔ اپنے اہل خانہ کیا مریدوں عقیدت مندوں اور شاگردوں کے لیے بلکہ ہر خاص و عام کے لیے ان کی جیب کھلی ہے۔ ان کے در پر جو بھی اپنی ضرورت کے لیے آیا خالی ہاتھ نہیں گیا۔ ان کی زندگی کا مقصد اللہ اور اس کے محبوب ﷺ کی رضا اور دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف ہے۔
پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے پاس جو بھی آئے اسے لنگر میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دو ،چاہے وہ ایک گلاس پانی ہی کیوں نہ ہو۔وہ ہمیں بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ وہ ایک عامل پیر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے استاد بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں وہ تاثیر اور چاشنی ہے جو پل میں سننے والے کو گرویدہ بنا لیتی ہے۔
پیر صاحب ماشاء اللہ دو اداروں کا نظام بھی نہایت خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔ جامعہ جیلانیہ رضویہ اور جامعہ جیلانیہ رضویہ للبنات میں طلباء و طالبات کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ بچوں کی ذہنی نشو و نما اور اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ تاکہ طلباء و طالبات تعلیم حاصل کرنے کے بعد معاشرے میں اہم کردار ادا کر سکیں۔ الحمد للہ پیر صاحب اپنا یہ کام نہایت ہی ایمانداری اور خلوص نیت سے سر انجام دے رہے ہیں اور ہم اس مشن میں ان کے ساتھ ہیں۔
دربارامام بری سرکارؒ پر کھلی کرامت
پیر صاحب سے کئی کرامتوں کا ظہور ہوا۔انکے ایک عقیدت مند بیان کرتے ہیں ’’ ایک مرتبہ ہمیں اسلام آباد(امام بری سرکارؒ ) پیر صاحب کے ساتھ جانے کا شرف حاصل ہوا۔ ہم لوگ دربار پر حاضری دینے کے بعد باہر کے احاطے سے میں کھڑے پیر صاحب کا انتظار کر رہے تھے۔ کیونکہ وہ ابھی دربار کے اندر موجود تھے۔ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ میں نے پیر صاحب کے پاس لوگوں کا ہجوم دیکھا۔ پتا چلا کہ لوگ اپنی پریشانیوں کا حال سنا رہے ہیں۔ ایک عورت نے کہا ’’بابا جی میرے سر میں پچھلے دس سال سے درد ہے جس کی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں‘‘
پیر صاحب نے کچھ پڑھ کے پھونکا (دم کیا) اور فرمایا کہ تھوڑا دو قدم چل کے واپس آؤ اور اپنی حالت بتاؤ۔ وہ عورت خوشی سے بتا رہی تھی ’’میں بالکل ٹھیک ہوں‘‘
ابھی پچھلے دنوں ایک نوجوان لڑکی پہ جن کا سایہ تھا اور حاضری کے دوران دھمکیاں دینے لگے کہ ہمارے راستے میں نہ آؤ ہم تمہارا سب کچھ ختم کر دیں گے لیکن پیر صاحب نے کلام الٰہی سے اس لڑکی سے جان بچائی۔
دعوت دین حق کا جذبہ عزم و استقامت سے کامیاب ہوتا ہے۔ اس راہ میں انبیاء، اولیا، صالحین بہت آزمائے گئے ہیں بالخصوص اہل خانہ و خاندان کی جانب سے بھی انہیں مشکلات اور کڑے امتحانوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب اللہ کا کوئی فقیر تبلیغ و اشاعت دین کا فرض ادا کرنا چاہتا ہے تو اسے قدم قدم پر آزمایا اور دھتکارا بھی جاتا ہے،حالات ایسے بھی پیدا ہوتے ہیں کہ اسے گھر والے بھی تسلیم نہیں کرتے۔حالانکہ اس راہ کا سب سے پہلا سبق اپنے اہل خانہ کو پڑھانا ہوتا ہے۔تبلیغی وتربیتی کام گھر،خاندان اور محلہ سے شروع ہو اور کامیاب بھی ہوجائے تو راستے میں بہت سی آسانیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ مخدوم المشائخ حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی کو بھی کڑی آزمائشوں سے دوچار ہونا پڑا، توکل اللہ اور مرشد کی نگاہ سے بے سروسامانی کے باوجود لاہور میں ہجرت فرمانے کے بعد بے پناہ نعمتوں سے نوازے گئے۔ ان کی اہلیہ نے ان کے اقدام کو احسن جانا اور ہر لمحہ صبر و شکر گزاری کے ساتھ استقامت دکھائی۔
پیر صاحب کی اہلیہ محترمہ اللہ کے فضل اور نبی مکرم حضرت محمدﷺ کے عشق میں سوزوفیض کی نعمت سے مالا مال ہو گئیں۔ آج وہ اپنے شوہر کی غمخواری کے ساتھ تنظیمی امور اور تبلیغ دین میں مصروف ہیں۔ وہ فرماتی ہیں ’’ظاہر ہے جب ابھی میں باطنی تعلیم و تربیت سے ناواقف تھی تو ایک عام عورت کی طرح سوچتی تھی۔ پھر جب پیر صاحب نے مجھے اسرار و معارف سے آشنا کیا اور مجھے نہایت نرمی و محبت کے ساتھ دین کی باتیں سمجھائیں تو میں بتدریج تصوف کی طرف مائل ہو گئی۔ اور پھر مجھے یہ سمجھ آ گئی کہ انسان بالخصوص ایک عورت کا کیا کردار ہوتا ہے۔ وہ ماں، بیٹی، بیوی اور ہر رشتہ کے ساتھ کیسے اپنے حسن سلوک اور عقل و فہم کے معاملات نبھا سکتی ہے۔ ایک عورت جب تک ٹھیک نہیں ہو گی، اس کی ظاہری، خوبیوں کے ساتھ باطنی خوبیاں بیدار نہیں ہوں گی وہ اپنا کردار نہیں نبھا سکتی۔ عورت کا ظاہر کے ساتھ باطن سنوارنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پیر صاحب نے مجھے ظاہر کے ساتھ باطن کی تعلیم دلوائی ہے اور آج میں الحمد اللہ لاہور میں بھی اوراپنے گاؤں میں بھی خواتین کی اعلٰی تربیت کاکام کر رہی ہوں۔ میری بیٹیاں قابل مثال ہیں جنہوں نے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کی ہے اور اب جامعہ میں میرے ساتھ اپنی خدمت انجام دے رہی ہیں۔ یہ سب پیر صاحب اور ہمارے مرشد کریم حضرت پیر محمد عابد حسین سیفی کی تربیت و نگاہ کا فیض ہے ورنہ ہم کس قابل۔
میں اپنے شوہر کو اب شوہر سے زیادہ ایک قابل تعظیم رہبر کا درجہ دیتی ہوں۔ پیر صاحب نے اپنے ہر طرح کے فرائض ادا کئے ہیں اور کمال حسن و اخلاق ،اعلٰی ظرفی کے ساتھ زندگی کی مشکلات کا مقابلہ کیا ہے۔ میں ان کی شخصیت سے متاثر ہوں اور ان کے کمالات کی بھی معترف ہوں۔ پیر صاحب سائلین کی جس طرح مدد فرماتے ہیں اس سے میرے جیسی خواتین کیلئے دنیا ہی جنت بن جاتی ہے۔ پیر صاحب اگر گھر میں نہ ہوں اور کسی دورے پر گئے ہوں تو ان کی عدم موجودگی میں ان کا روحانی تصرّف ہمارے لئے آسانیاں فراہم کر دیتا ہے۔ اللہ کریم نے میرے مرشد کے صدقے میرے پیر صاحب کو باطنی طور پر اپنی نعمتوں اور فیوض و برکات سے نواز رکھا ہے۔ آپ ہمہ وقت فلاح انسانیت اور دین کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں۔ خوش خلقی اورشائستگی کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ دینی شعائر کی بہت پابندی کرتے ہیں۔ نماز سے غفلت کا سوچتے بھی نہیں۔ ایک بار میں اپنے میکے گئی ہوئی تھی اور کمرے میں کنڈی لگا کر سوئی ہوئی تھی۔ صبح نماز کیلئے میری آنکھ نہ کھل سکی۔ جب نماز کا وقت ہوا تو کمرے کا دروازے اچانک کھل گیا۔ میں پریشان ہو کر اٹھی کہ دروازہ کیسے کھل گیا ہے؟
اس لمحہ میں نے دیکھا کہ پیر صاحب تشریف لائے ہیں۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا ’’آپ کب تشریف لائے۔ مجھے معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ۔۔۔۔۔۔ اور یہ دروازہ کس نے کھولا ہے؟ویسے بھی باہر توگرج چمک کیساتھ موسلادھار بارش ہورہی ہے لیکن آپ کے کپڑے بھی گیلے نہیں ہوئے۔یہ سب کیا ہے پیر صاحب‘‘
وہ مسکراتی ہوئی آنکھوں کیساتھ مجھے دیکھنے لگے۔پھردھیرے سے فرمایا ’’اللہ والیئے، جلدی جلدی اٹھیں۔ نماز کا وقت ہو چکا ہے۔ خود بھی وضو کریں اور مجھے بھی وضو کرائیں‘‘۔ پیر صاحب کی بات سنتے ہی میں جلدی سے اٹھی اور وضو کر کے جب صحن میں آئی تو پیر صاحب غائب ہو چکے تھے۔ میں کافی دیر تک حیران و پریشان رہی۔ پھر معاً خیال آیا کہ ہم باطن کے جس نظام سے منسلک ہو چکے ہیں وہاں نماز کی قضا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آپ کے پیرومرشد آپ کی نگرانی کرتے اور غفلت سے دوچار نہیں ہونے دیتے۔ پیر صاحب کے روحانی تصرف و کمالات کے کتنے ہی واقعات ہیں جو یہاں بیان کرنے بیٹھوں تو کتابیں رقم کرنا پڑیں گی۔ مجھے یاد ہے شروع شروع میں جب ابھی میں تصوف میں زیادہ مائل نہیں ہوئی تھی اور یہ میری تربیت کا ابتدائی زمانہ تھا۔ کسی گاؤں سے ایک مریض کو چارپائی پر ڈال کر لایا گیا۔ پیر صاحب نے اسے دم کیا تو اللہ کے فضل و کرم سے وہ بھلا چنگا ہو گیا۔ میں یہ سمجھتی ہوں اور پیر صاحب بھی یہ سمجھاتے ہیں کہ کرامات کوئی چیز نہیں ہوتیں۔ یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ جو اللہ تعالٰی کے احکام کو مانتا ہے اور اسکی رضا پر راضی رہتا ہے،پھر اللہ پاک اسکی دعا کو رد نہیں فرماتا۔جو اللہ سے خلوص سے محبت کرتے اور اس کی مانتے ہیں، اللہ بھی ان پر عنایات فرماتا ہے‘‘
حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی کی اہلیہ سے گفتگو جاری تھی کہ پیر صاحب بولے ’’اصل بات نسبت اور تعلق کی ہے۔ مرشد کامل و مکمل ہو اور وہ شریعت پر گامزن ہو تو وہ ہرگز اپنی ذات کمالات کیلئے استعمال نہیں کرتا‘‘
اہلیہ فرماتی ہیں کہ حضرت پیر ابو نعمان رضوی سیفی ایک دوربیں اور صاحب ادراک شخصیت ہیں۔ وہ تعلیم کے ساتھ تربیت کے داعی ہیں اور اپنے اوپر یہ فرض قرار دیتے ہیں کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم تو بہت ضروری ہے لیکن جوان اور پیرانہ سال مسلمانوں کو بھی جنس سے بالاتر ہو کر تعلیم دینا چاہئے۔ ایک مسلمان علم سے پیار کرتا ہے اور علم ہی وہ راستہ ہے جو سالک کو محبوب بنا دیتا ہے۔ اللہ عزوجل کے احکامات اور رسول کریم ﷺ کی تعلیمات پر عمل اسی وقت کیا جا سکتا ہے جب مسلمان خود بھی تعلیم و تربیت حاصل کریں اور اچھے خلق سے مخلوق خدا کی خدمت اور عبادات سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں۔ پیر صاحب خواتین کی تعلیم و تربیت کے بہت زیادہ حق میں ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ انسان کی ترقی کا راستہ تعلیم و تربیت میں ہے لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ ہر مسلمان چہ جائیکہ وہ مرد ہو یا عورت، بچہ ہویا بوڑھا۔۔۔ وہ علم حاصل کرے اور اس کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ ہر ذی حیثیت مسلمان اسلامی معاشرے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تعلیم و تربیت کا اہتمام کرے۔ یہ صدقہ جاریہ ہے اور یہی انسانیت کو بچانے کا ایک ذریعہ بھی ہے۔
پیر صاحب بچیوں کی تعلیم کے حق میں اسقدر زیادہ دلائل دیتے اور سمجھاتے ہیں کہ اسلام کی ترقی میں خواتین کی تعلیم کا بہت کردار ہے۔ آپ مولویانہ سوچ نہیں رکھتے۔ یہی ایک صاحب تصوف و کمال بندے اور عام مولوی میں فرق ہے۔ اللہ کے برگزیدہ بندے ہمیشہ انسانوں کی فلاح کا سوچتے اور اللہ کے حقیقی احکامات سے روشناس کرا کے دلوں میں ایمان کی قوت بھر دیتے ہیں۔ پیر صاحب کا جامعہ کی بچیوں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ اپنی اولاد سے زیادہ ہے۔ وہ بچیوں کے لیے تحائف لاتے، انہیں کھانے پلانے میں سخاوت کرتے ہیں۔ اگر کوئی بچی بیمار ہو جائے تو تڑپ اٹھتے ہیں۔ اور اس کی صحت کے لیے دعا و دوا کا اہتمام اس کی صحت کاملہ تک جاری رکھتے ہیں۔ آپ نرم طبیعت ہیں لیکن جامعہ کے طالب علموں کی حفاظت و نگہداشت کے لیے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کرتے۔ اپنی اولاد کو بھی حکم دے رکھا ہے کہ وہ طالب علموں کے خادم بن کر ان کی خدمت کیا کریں۔ پیر صاحب خود بھی رات دن ان بچوں کے خادم بن کر کام کرتے ہیں۔ میں اگر کبھی آرام کا کہہ دوں تو فرماتے ہیں ’’اللہ والیو مجھے راحت ہی راحت ہے۔ یہ بچے جس عظیم مقصد کے لیے میرے پاس آئے ہیں جب انہیں پڑھتا ہوا دیکھتا ہوں تو میری طبیعت خوش ہو جاتی ہے۔‘‘ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ ہمارے بہت سے طالب علم مجھ سے زیادہ قابل ہیں۔اگر یہ مجھ سے چھوٹے ہیں تو انہوں نے گناہ اتنے نہیں کئے اگر یہ مجھ سے بڑے ہیں تو ان کی نیکیاں مجھ سے زیادہ ہیں۔(جاری ہے )
تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں
درویش کامل اردو کہانی قسط نمبر 5
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں,ج, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,
hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں,ج, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,
