درویش کامل - قسط 5

 


درویش کامل - قسط 5

پیر صاحب سادہ طبیعت کے مالک اور فقروفاقہ رکھتے ہیں۔ مہمان نواز ہیں مگر اپنے لیے ہمیشہ سادہ کھانا پینا پسند فرماتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی سائل فون کرکے آپ سے کہے کہ جی مجھے پیر صاحب سے بات کرنی ہے ۔ آپ کون صاحب کر رہے ہیں تو آپ ہمیشہ فرماتے ہیں کہ میں جامعہ کا خادم بات کر رہا ہوں۔ یہ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ شان تفاخر سے کام نہیں لیتے۔ تکبر و نخوت سے دامن بچا کر رکھتے ہیں۔ اپنے لئے نہیں جامعہ کے لیے دست دعا بلند رکھتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ اللہ والیو ہماری فلاح اور نجات کا ذریعہ جامعہ کی کامیابی میں ہے۔
پیر صاحب میرے ہمیشہ میری قدر کرتے اور بچیوں کو بھی یہی درس دیتے ہیں کہ مردوں کو اپنی اوربے گانی خواتین کا بھی بہت احترام کرنا چاہئے۔ باہر سے گھر آئیں تو میرے لئے تحائف لاتے ہیں اور مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ کو کیا کیا چاہئے۔ میرے پیر با حیا انسان ہیں۔ آپ میرے کزن بھی ہیں لہٰذا مجھے علم ہے کہ آپ بچپن اور جوانی میں بھی آلودگی سے محفوظ رہے۔ کبھی سگریٹ نہیں پیا۔ جن دنوں آپ مالی کا کام کرتے تھے ایک بار چند دوستوں نے آپ کو شراب کے گھونٹ پلانے کے لیے شرط لگا دی اور کہا اگر آپ دو گھونٹ پی لیں تو آپ کو دس ہزار روپے دیں گے۔
آپ برہم ہوگئے اور فرمایا ’’اگر تم دس لاکھ بھی دو تو میں ایک گھونٹ کیا شراب کی بوتل کی جانب نظر اٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کروں گا۔ ‘‘

اللہ کے کریم بندوں میں یہ روحانی طہارت پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ابھی انہوں نے سلوک کی راہ پر قدم بھی نہیں رکھا ہوتااور انہیں اس راہ کی سند مل جاتی ہے۔ ان کا کردار حیا سے مشروط ہوتا ہے۔ جسمانی اور روحانی پاکیزگی اختیار کرکے ہی وہ اس راہ کے مسافر بنتے اور قرب الٰہی اور عشق محمد ﷺ سے اپنی نجات جوڑدیتے ہیں۔ وہ ذکر الٰہی اور درود شریف میں مصروف رہ کر جام معارف پیتے ہیں اور دینی انہماک ان کے لیے کافی ہوتا ہے۔
خواتین کی علمی تربیت اور حصول علم کی افادیت پر پیر صاحب فرماتے ہیں کہ بلاشبہ علم شرافت وکرامت اور دارین کی سعادت سے بہرہ مند ہونے کا بہترین ذریعہ ہے، انسان کودیگر بے شمار مخلوقات میں ممتاز کرنے کی کلید اور ربّ الارباب کی طرف سے عطا کردہ خلقی اور فطری برتری میں چار چاند لگانے کا اہم سبب ہے؛ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ مقصدِ تخلیقِ انسانی تک رسائی علم ہی کے ذریعے ممکن ہے، علم ہی کی بہ دولت انسانوں نے سنگلاخ وادیوں، چٹیل میدانوں اور زمینوں کو مَرغ زاری عطا کی ہے، سمندروں اور زمینوں کی تہوں سے لاتعداد معدنیات کے بے انتہا ذخائر نکالے ہیں اور آسمان کی بلندیوں اور وسعتوں کو چیرکر تحقیق کے نت نئے پرچم لہرائے ہیں۔ دنیا میں رونما ہونے والے تمام محیرالعقول کارنامے علم ہی کے بے پایاں احسان ہیں۔علم و تعلیم کا حق مردو زن کوحاصل ہے۔
میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی عورتوں کی تعلیم کا اہتمام فرماتے تھے اور ان کی خواہش پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باضابطہ ان کے لیے ایک دن مقرر کردیا تھا۔جس میں عورتیں جمع ہوتیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں ان کے حسب حال نصیحت فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عورتوں کے اندر حصولِ علم کے تئیں بے حد شوق اور جذبہ بے پایاں پایا جاتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے شوقِ طلب اور ذوقِ جستجو کی قدر کرتے ہوئے، ان کی تعلیم وتربیت کا اہتمام فرماتے تھے۔ تعلیم وتربیت کے اسی عمومی ماحول کا اثر ہے کہ جماعتِ صحابیاتؓ میں بلند پایہ اہل علم خواتین کے ذکرِجمیل سے آج تاریخ اسلام کا ورق ورق درخشاں وتاباں ہے۔ امہات المومنین میں حضرت عائشہؓ وحضرت ام سلمہؓ فقہ وحدیث و تفسیر میں رتبہ بلند رکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیق وروایت کے میدان کی بھی شہہ سوار تھیں،۔ حضرت ام الدردادء الکبریؓ اعلیٰ درجے کی فقیہ اور عالمہ صحابیہ تھیں۔ حضرت سمرہؓ زبردست عالمہ تھیں،آپؓ نے عمر دراز پائی، بازاروں میں جاکر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کیا کرتی تھیں اور لوگوں کو ان کی بے راہ روی پر کوڑوں سے مارتی تھیں۔نفیسہؓ جو حضرت امام حسنؓ کی پوتی تھیں اور حضرت اسحاق بن جعفرؓ کی اہلیہ تھیں، انھیں تفسیر وحدیث کے علاوہ دیگر علوم میں بھی ادراک حاصل تھا، ان کے علم سے خواتین کے ساتھ ساتھ مردوں کی بھی معتد بہ تعداد نے سیرابی حاصل کی، ان کا لقب ’’نفیسۃ العلم والمعرفہ‘‘ پڑگیا تھا، کئی رفیع القدر اہل علم دینی مسائل پر ان سے تبادلۂ خیال کرتے تھے۔ایسی بے مثال مسلم خواتین کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں۔میں سمجھتا ہوں کہ دین کی خدمت کا حق تبھی ادا ہوسکتا ہے جب خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا جائے ۔دین کی تعلیم حاصل کرنے والی خواتین کو اپنے حقیقی مقام اور حقوق کا بہتر علم ہوتا ہے۔وہ عقل و دانش ،صبر و استقلال کا پیکر ہوتی ہیں۔اسلامی معاشرے کی بنیاد تب ہی مضبوط ہوسکتی ہے جب دین کی تعلیم سے آراستہ خواتین اپنے گھروں میں مردوں کا عقید�ۂایمان درست کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔
پیر محمد رمضان رضوی سیفی نے خواتین کی دینی و باطنی تربیت کے لیے جامعہ تعمیر کرایا ہے اور یہاں وہ اخلاقی و سماجی رویّوں کی بھی تربیت دیتے ہیں۔ جامعہ کی ایک معلمہ صوبیہ اعجاز سیفی کا کہنا ہے کہ پیر صاحب فرماتے ہیں کہ دین کی تعلیم کا ایک پہلو یہ ہے کہ جو بھی اسے حاصل کرے وہ ایک مفیدانسان بن جائے۔ وہ جہاں بھی رہے اور جہاں بھی جائے اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار اور علمی بصیرت سے ثابت کرے کہ وہ ایک اچھا مسلمان ہے اور مسلمان ہونے کی یہ نشانیاں ہیں جو اس کے قول و فعل اور کردارسے نظر آتی ہیں۔ محض رٹا لگوانے سے علم نہیں پھیلتا بلکہ اس علم کو انسان کے خون میں شامل ہو جانا چاہئے تاکہ وہ صاحب بصیرت بن جائے اور اپنے کردارسے نظر آئے۔
حافظہ صوبیہ اعجازسیفی پانچ سال سے جامعہ میں قرآن پاک پڑھا رہی ہیں ۔وہ اب تک سینکڑوں طالبات کو ناظرہ اور حفظ قرآن کراچکی ہیں۔ وہ بیان کرتی ہیں ’’پہلے جس عقیدہ سے میرا تعلق تھا وہ پیروں کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ درود و سلام کی محافل اور ختم شریف کو مانتا ہے۔ میں فیصل آباد کے جس گاؤں سے تعلق رکھتی ہوں وہاں ایسے لوگوں کی اکثریت تھی۔ میں نے انہی کے مدرسہ میں حفظ قرآن کیا۔ ایک زمیندار گھرانے سے میرا تعلق ہے۔ میں مزید پڑھنا چاہتی تھی مگر میرا مزید تعلیم کا رجحان مذہبی تعلیم کی جانب تھا۔ میں چاہتی تھی جو میں پڑھ چکی ہوں۔ اب اس کو آگے تک پھیلاؤں۔ ناگہانی کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مجھے نوکری کی ضرورت بھی پیش آگئی۔ جس مدرسہ سے میں نے تعلیم حاصل کی تھی انہوں نے ہی مجھے ساتھ والے گاؤں میں قرآن پاک کی تعلیم کے لیے طالبات کے مدرسہ میں معلمہ لگوا دیا۔ لہٰذا میں حفظ وناظرہ کے لیے طالبات کو پڑھانے لگی۔ اس دوران میرے رشتہ کی بات لاہور میں چلی۔ مگر میرے گھر والوں کو یہ رشتہ پسند نہیں تھا کیونکہ وہ لڑکا ختم شریف جیسے عقائد پر یقین رکھتا تھا ،غربت بھی ان کے ہاں تھی، کئی مسائل تھے۔ ہمارے عزیز بھی تھے اور میری بڑی بہن کی شادی بھی اس کے بڑے بھائی سے ہوئی تھی۔ یعنی وہ میری بہن کا دیور تھا۔ اس دوران ادھر پیر صاحب نے2007ء میں جب مدرسہ شروع کیا اور پھر اسے آہستہ آہستہ ترقی دینے لگے تو انہیں معلمہ کی ضرورت پیش آئی۔ میرے وہ عزیز اعجاز سیفی جن کی شادی کا میرے لئے پیغام آتا رہا تھا وہ پیر صاحب کے عقیدت مند تھے اور انہوں نے اعجاز سیفی کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا۔ اعجاز صاحب نے پیر صاحب کو میرے متعلق بتایا کہ اگر آپ صوبیہ کو بطور معلمہ لے آئیں تو آپ کے جامعہ کا نظام بھی بہترہو جائے گا اور ایک محنتی معلمہ دستیاب ہو جائے گی لہٰذا پیر صاحب ہمارے گاؤں آئے اور میرے والدین کے ساتھ اپنے حسن سلوک و اخلاق اور عاجزی کے ساتھ ایسا سوال کیا کہ صوبیہ کو میری بیٹی بنا دیں۔ میری یہ بیٹی دین کی خدمت کرے گی۔ قصہ مختصر کہ والدین پیر صاحب سے متاثر ہوئے اور پھر جب ان کے جامعہ میں آئی تو ایک بہو کی حیثیت میں مجھے یہاں احترام حاصل ہوا۔ وہی لڑکا جسے ہمارے والدین پسند نہیں کرتے تھے پیر صاحب کی توجہ و شفقت اور وکالت سے میرا مجازی خدا بن گیا۔ پیر صاحب نے اس روز سے اب تک ہمارا بہت خیال رکھا ہے۔ ماشاء اللہ میرے اب دو بچے ہیں۔ میں یہاں طالبات کو پڑھاتی ہوں ۔ کرائے کے گھر میں رہتی ہوں۔ اپنے ہم سفر کے ساتھ غربت کی ساتھی ہوں مگر کبھی ناشکری اور شکوہ نہیں کیا۔ میں نے پیر صاحب کے دست مبارک پر بیعت کی ہے۔ میں آپ کو پیر صاحب کے اخلاق اور انسانیت سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔ میرے پیر صاحب کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا کی ہوس نہیں ہے۔ ہمارے پاس کوئی روپیہ پیسہ پس انداز کرنے کا سوال ہی پیدانہیں ہوتا۔ ایک روز پیر صاحب نے فرمایا’’ صوبیہ تم اور اعجاز تیاری کر لو۔ ہم سب عمرہ کریں گے‘‘ میں حیران رہ گئی۔
’’یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ میرے پاس تو پاسپورٹ بنوانے کے پیسے نہیں ہیں۔‘‘ میں نے عرض کیا تو پیر صاحب نے فرمایا ’’جس ہستی نے بلایا ہے بندوبست بھی وہیفرمائیں گے۔ بس تم ٹھان لو۔‘‘ دل میں شک و شبہ اور مایوسی پیدانہ کرو۔‘‘ میں نہیں جانتی میرا پاسپورٹ کیسے بناا ور پھر جب میں دیار نبی ﷺ میں پہنچی تو یقین و گمان سے زیادہ نعمتوں سے سرفراز ہوئی تو میرے عقیدہ میں مزید پختگی آگئی۔

درود و سلام ، گیارہویں شریف اور محافل کی برکت ایک نعمت ہے جو ذکر کرنے والوں کو نصیب ہوتی ہے۔ میرے پیرومرشد نے مجھے روحانی تربیت دی ہے۔ اور اپنے عمل سے ثابت کیا ہے کہ اگر خواتین کو بھی راہ سلوک پر چلنے کا موقع دیا جائے تو انسان قناعت و صبر و شکر کا عادی ہو جاتا ہے اور اللہ کی رضا میں خوش رہتا ہے۔ عمرہ شریف کے بعد میں اکثر سوچتی تھی کہ میں جو زعم میں مبتلا رہتی تھی کہ ایک زمیندار گھرانے کی لڑکی ہوں۔ اعلیٰ ذات ہے میری۔ ایک مفلس شخص سے کیسے شادی کر سکتی ہوں۔ اگر کر لی تو گزارہ کیسے کروں گی۔ میں نے ایسے واقعات دیکھے ہیں کہ خوشحال لڑکیاں غریب گھرانوں میں جاتی ہیں تو اکثر ان گھرانوں کی زندگی تباہ ہو جاتی ہیں۔ مجھے اپنی سوچوں پر دکھ ہونے لگا تھا۔ ایک روز میں نے اپنے شوہر سے کہا۔ ’’اعجاز صاحب آپ مجھے معاف کر دیں۔‘‘ اس روز میں بہت روئی کہ میں ایسی بیوی ہوں جو اپنے شوہر کی صحیح خدمت نہیں کر پا رہی۔ میرے شوہر نے مجھ سے سبب دریافت کیا تو میں نے کہا ’’آپ تھکے ہوئے گھر آتے ہیں ، میں نے کبھی آپ کے ہاتھ پاؤں نہیں دبائے۔‘‘

میرے شوہر ہنس پڑے ۔ کہا’’تم بھی تھک جاتی ہو ۔۔۔صبح جامعہ چلی جاتی ہو اور سارا دن پڑھاتی ہو۔ تم تو مجھ سے زیادہ محنت کرتی ہو۔‘‘
وہ نہیں چاہتے تھے کہ میں ان کے پاؤں دباؤں۔ جو خاتون اپنے والد اور اپنے شوہر کی خدمت اس طرح کرتی ہے تو اس میں قوت برداشت بڑھتی اور اس کی سرکشی کم ہوتی ہے۔ عورت کی سرکشی کو شیطان ہوا دیتا اور وہ بے جا فرمائشوں کی وجہ سے گھر کا سکون برباد کر دیتی ہے۔ اس روز میں نے اپنے شوہر کے پاؤں دبائے تو مجھے بہت سکون ملا۔ رات کو جب سوئی تو اللہ کریم نے مجھے اپنے گھر کی زیارت کرا دی۔ میں نے بہت سہانا خواب دیکھا کہ خانہ کعبہ میں کھڑی ہوں اور آواز آتی ہے جلدی سے اندر آجاؤ۔ خانہ کعبہ کا دروازہ کھلتا ہے اور میں انوار و تجلیات سے گزرتی وہاں نوافل ادا کرتی ہوں۔ مجھے یہ سعادت اس وقت ملی جب میں نے اپنے اندر نفس کی سرکشی کو مزید کمزور کیا اور اپنے شوہر کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ اللہ کریم نے میرے مرشد کریم کے زیر سایہ ایسی تربیت سے گزارا ہے کہ میری گھر میں زندگی میں اطمینان بہت ہے۔ ایک عورت کو اور کیا چاہئے ہوتا ہے۔ گھر کا سکون اور شوہر کی بے پناہ محبت، جو پیسے والوں اور کوٹھیوں والوں کو بھی نہیں ملتی۔ یہ اللہ کی عطا ہے جو ذکر کی نعمت سے حاصل ہوتی ہے۔
تعویذات اور دعاؤں کا اثر
بہت سے اولیائے عظام کی حیات مبارکہ میں ایسے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں جب سائلین ان کی دعاؤں اشاروں سے اور نگاہوں سے ہی فیض یاب ہو جاتے ہیں مگر پیر محمد رمضان کا یقین ہے کہ اولیاء کرام اللہ کی نعمتوں اور عطا سے معمور ہوتے ہیں۔ وہ عشق الٰہی میں فنا ہوتے ہیں لہٰذا وہ محبوب کی مشیّت و رضا کے درمیان میں نہیں آتے۔ کوئی سائل ایسا بھی ہوتا ہے جو اک نگاہ سے یا دعا سے ٹھیک نہیں ہوتا۔ اس کی حاجت رفع نہیں ہوتی اور مہینوں سالوں تک اسے انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا کہ ایک مقبول ولی کی دعا قبول نہیں ہو رہی ہوتی۔ دراصل وہ ولی اللہ جب دیکھ لیتا ہے کہ سائل کی مشکل حل ہونے کا وقت نہیں آیا ہے اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رضا بھی یہی ہے تو وہ دعا تو کرتے رہتے ہیں مگر اس میں اللہ کی رضا شامل نہ ہونے سے سائل کی حاجت روائی نہیں ہوتی۔پیرصاحب کا کہنا ہے کہ یہ بڑے لطیف معاملات ہوتے ہیں۔ اللہ عزوجل چاہے تو دست دعا اٹھنے سے پہلے ہی اپنے بندوں کی لاج رکھ لیتا ہے اور چاہے تو اپنے بندوں کو اپنی حکمت و مشیّت کے تحت انتظار کرواتا ہے اور یہی انتظار امتحان و آزمائش بھی ہوتا ہے۔ ادب و استقامت میں کسی سالک کی آزمائش کا بھی یہی مرحلہ ہوتا ہے۔ اگر وہ صابر اور مستحکم ہے تو فیض سے جھولی بھر لیتا ہے۔ اگر محض حجتی، بے ادب اور استقامت سے محروم ہے اور صرف اپنی غرض و ہوس سے اپنی مرادیں پوری کرانے کے لیے ریا کاری سے کام لیتا ہے تو اس کی نیّت میں پیدا ہونے والی کھوٹ اس کی روح کو طمانیت نہیں دیتی۔ ہمارے پاس لوگ آتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ان کے مسائل کو تعویذات اور دعاؤں سے حل کر دیا جائے۔ ہمارے پاس نہ کوئی اختیار ہے نہ کوئی قوت۔ ہمارے ایسے فقیر لوگ دعا اور تعویذ بھی کر دیتے ہیں مگر جب تک اللہ کریم کی رضا شامل نہ ہو یہ دعائیں التجائیں اور حروف بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ درحقیقت ایک سالک اور سائل کو صدق دل سے اللہ پر یقین رکھنا چاہئے اور یہی اس کا مقصود ہونا چاہئے کہ حاجت روا صرف اللہ کی ذات ہے ۔ وہ سمیع و بصیر قادر مطلق ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔ البتہ دعا و تعویذات ایک وسیلہ کا کام کرتے ہیں،یہ وسیلہ ربّ کریم سے التجا کا نام ہے۔ جس طرح ہر مرض سے شفا اللہ کریم کی عنایت سے حاصل ہوتی ہے اور وہ ہی شافع مطلق ہے ،دوا تو سنت، حجت اور وسیلہ ہوتی ہے۔ جسم کی دوا کو میڈیسن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ روح کی دوا دعا کہلاتی ہے۔ تزکیہ کرنے سے روح صاف ستھری ہوتی ہے، ورنہ اس کی آلائشیں کہاں دور ہوتی ہیں؟۔ روح پاک و صاف اور تندرست عبادت ، ریاضت ، ذکر الٰہی سے ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر درود و سلام بھیجنے سے روح کو سرور ملتا ہے۔

حضرت اخندزادہ مبارکؒ کے فیضان کی بدولت بہت سے ناقصاں بھی پیرکامل بن گئے۔ شریعت مطہرہ پر عمل کر کے انہوں نے طریقت کا مقام بلند کر دیا۔ حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی اپنے پیرومرشد حضرت پیر محمد عابد سیفی کی راہنمائی میں حضرت اخندزادہ مبارکؒ کی خدمت میں پیش ہوتے اور آپؒ کی توجہات سے مستفیض ہوتے رہے، اس وقت آپؒ کی شفقت سے جو ذکر حاصل ہوا، اسے عام کرنے میں حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی نے روز و شب ایک کر دئیے۔
حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی کا کہنا ہے کہ ’’حضرت مبارکؒ کے فیضان نے ہمیں ذکر کی نعمت سے مالامال کیا تو آج اس ذکرکا ذکر عام ہوچکاہے۔ یہ بدعقیدہ اور گمراہ مسلمانوں کو بھی لگ چکا ہے اور وہ توبہ کر کے راہ راست پر آ گئے ہیں۔ اس ذکر کے اعجاز و عرفان کے سامنے بہت سے غیر مسلموں نے بھی سر جھکا دئیے اور کلمہ طیبہ پڑھ کر اپنی عاقبت بچا لی۔ جو لوگ درودسلام کی اہمیت نہیں سمجھتے تھے انہیں حضرت مبارکؒ کے عطا کردہ ذکر نے اپنا ذاکر بنا لیااور وہ بھی محسن کائنات رسول عربیﷺ پر درودسلام بھیجنے والوں میں شامل ہوگئے ۔ پچھلے ماہ شیخوپورہ میں ایک عیسائی خاندان ذکر کی محفل میں آیا اور وجدوحال، استغفراق و کیفیات اور مشاہدات باطنی دیکھنے کے بعد کلمہ پڑھنے پر مجبور ہو گیا۔ اخبارات و ٹی وی میڈیا میں ان کے تاثرات بھی دئیے گئے کہ کیا وجہ تھی کہ عیسائی خاندان کو ذکر قلبی لگ گیا تو وہ اپنے ذہنوں کو بدلنے پر مجبور ہو گیا۔ اسی طرح ہندوستان سے آئے ہوئے ایک عامل سکھ کی حالت بگڑ گئی تو اسے میرے پاس لایا گیا۔ وہ کالے عملیات کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ شیطانی کاموں کے رسیا پر کوئی عمل الٹا پڑ گیا تو اس کی جان پر بن گئی۔ میرے پاس آیا تو اس وقت اس نے پورے بدن پر منکوں والی مالائیں پہن رکھی تھیں۔ اس کے پورے بدن سے بو آ رہی تھی۔ میں نے اس کا علاج کیا تو وہ توبہ کرنے پر مجبور ہو گیا اور اس نے اسلام قبول کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ میں نے اسے غسل کرایا اور وضو کے بعد کلمہ طیبہ پڑھایا پھر ذکر و توجہ سے اس کے باطن کو صاف کیا تو اس کی حالت چند گھنٹوں میں ہی بحال ہو گئی۔ اس نے بہت سے لوگوں کی زندگیاں اجاڑی تھیں مگر اب اس کا کفارہ ادا کرنا چاہتا تھا۔ بھارت واپس جانے سے پہلے اس نے عہد کیا کہ وہ حضرت مبارکؒ کے اس ذکر کی نعمت کا پرچار کرے گا اور اس سے اپنا تعلق مضبوط تر کرے گا۔

میرے پاس حضرت مبارکؒ کے محبوب خلیفہ حضرت پیر محمد عابد حسین سیفی کے عطا کردہ فیضان وعلوم کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ میرے پاس جو کچھ ہے وہ اس ذکر کی دولت میں ہے۔ اس دولت نے ہمارے سینوں کو خزانۂ نور سے روشناس کرایا اور اسی کی بدولت اللہ تعالٰی ہم پر رحم فرماتا اور اپنے مشائخ کی لاج رکھ لیتا ہے‘‘
حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی کے حسن و اخلاق اور صوفیانہ طریق کی وجہ سے دوسرے سلاسل کے جیّد علما و مشائخ اور اساتذہ بھی انکے حلقہ ارادت میں شامل ہیں اور اکثر ان کی زیارت کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔ علامہ قاری محمد طارق چشتی گولڑوی خوشاب میں دربار بادشاہاں میں محکمہ اوقات کے مدرس ہیں۔ وہ قاری محمد نواز سیالوی کے بھی استاد ہیں اور ہزاروں معروف علماء نے ان سے تدریس حاصل کی ہے۔ ان کا ایک بڑا حوالہ استاذالعلما عطا اللہ بندیالوی ہیں۔ استاذالعلما عطا اللہ بندیالوی اپنے عہد کے ممتاز ترین عالم دین تھے۔ انہوں نے پچاس ساٹھ سال تک بندیال شریف، سیال شریف، گولڑہ شریف اور فیصل آباد میں بحیثیت مدرس ایسے نابغہ علماء و پیران عظام کو پڑھایا تھا جو آج بہت شہرہ رکھتے ہیں۔ آپ کے شاگردوں میں حضرت پیر خواجہ حمید الدین سیالوی، مولانا غلام حسین تونسوی، غلام محمد اشرف سیالوی، حضرت پیر محمد عابد حسین سیفی، علامہ مقصود احمد قادری (داتا دربار والے) جیسی بے شمار شخصیات موجود ہیں جنہوں نے اپنے عہد کی ممتاز مذہبی شخصیت سے اکتساب فیض پایا۔ استاذالعلما عطا اللہ بندیالوی گولڑہ شریف کے مرید تھے۔ حضرت پیر سید نصیر الدین نصیرؒ نے ان کے احترام میں ایک کوٹھی وقف کر دی تھی جہاں وہ قیام کرتے تو ان کے دنیا بھر میں پھیلے شاگرد اور علماء وہاں حاضر ہوتے۔ حضرت سید مہر علی شاہؒ تاجدار گولڑہ شریف کے صاحبزادہ حضرت لالہ جی بھی استاذالعلما عطا اللہ بندیالوی کا بے حد احترام کرتے اور ان سے ملاقات کیلئے ان کی قیام گاہ میں تشریف لے جاتے تھے۔
علامہ قاری محمد طارق چشتی گولڑوی اسی عظیم ہستی کے شاگرد اور عزیز ہیں۔ علامہ صاحب کی نانی اور استاذالعلما عطا اللہ بندیالوی خالہ زاد تھے جبکہ علامہ قاری محمد طارق چشتی گولڑوی کے ماموں استاذالعلما عطا اللہ بندیالوی کے داماد ہیں۔
ایک روز مجھے معلوم ہوا کہ علامہ قاری محمد طارق چشتی گولڑوی حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی سے ملاقات کیلئے حسنین آباد تشریف لائے ہیں تو مجھے بھی اس عظیم خانوادہ کے عالی مرتبت عالم دین سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ علامہ قاری محمد طارق چشتی گولڑوی نے حضرت پیر محمد رمضان رضوی سیفی سے ملاقاتوں کے حوالے سے بتایا ’’میں برسوں سے پیر صاحب کا قدر دان ہوں۔ اللہ نے انہیں بہت اعلٰی اخلاق اور سادگی عطا کی ہے۔ ان کا روحانی مقام بلاشبہ بہت افضل ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ پیر صاحب غریبوں، مسکینوں ، سائلین اور طالب علموں کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں۔ میں ان کے علوم معرفت کا مداح ہوں اور اگر کبھی ضرورت محسوس ہو تو ان سے استخارہ وغیرہ کیلئے بھی رابطہ کرتا ہوں۔ پیر صاحب نے دنیا سے کچھ نہیں مانگا اور صرف اپنے اللہ اور اپنے مشائخ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ۔اسکے طفیل انہیں بے شمار نعمتیں حاصل ہو گئی ہیں، میری دعا ہے اللہ کریم اس فقیر اور درویش کو دین کی خدمت کیلئے صحت و وسائل عطا فرمائیں۔ ختم شد

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں,ج, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,