سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 9

 

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 9

ان مرمریں بدنوں سے خود کو بچانا ایسا ہی تھا جیسے کوئی دریا میں غوطہ لگائے اور سوکھا واپس آئے ۔ کامران اب تک تو سوکھا نکلتا رہا تھا ۔ اب ایک اور آزمائش اس کی طرف بڑھ رہی تھی۔ اس لڑکی نے جس بے تکلفی سے پلٹ کر دروازہ بند کیا تھا اس سے اس کے عزائم واضح ہوتے دکھائی دے رہے تھے
وہ ہنستی مسکراتی کامران کے سرہانے بیٹھ گئی اور کامران جو اسے دیکھ کر بستر پر بیٹھ چکا تھا اس نے اس کی گردن میں اپنے میں بازو حمائل کر دیئے
"اے اجنبی میں تیری خوشنودی کے لیے آئی ہوں۔“ کامران نے بہت پیار سے اپنی گردن کو اس کے بازوؤں کے پھندے سے آزاد کیا. ناراضگی ظاہر کئیے بنا اس خاصا فاصلہ کیا
"تم کون ہو_؟ اور مجھ جیسے غریب مہمان کی خوشنودی حاصل کر کے تمہیں کیا ملے گا_؟"
قامران نے ہی شگفتگی برقرار رکھتے ہوئے پوچھا۔
"میری نیت پر شبہ نہ کرو میں خلوص نیت سے یہاں آئی ہوں۔ تم ہمارے مہمان ہو اور مہمان کی تعظیم کے لیے میزبان اپنی بیٹی کو مہمان کی خدمت گزاری کے لیے بھیج دیا کرتا ہے۔ اس دوران اس نے نظریں نیچی کر کے بتایا۔
'اس کا مطلب ہے کہ سردار ونشا کی بیٹی ہو؟"

"کیا سردار ونشا کو معلوم ہے کہ اس وقت تم یہاں موجود ہو_؟"
"ہاں۔۔۔۔۔اسی نے ہی مجھے سوتے سے اٹھا کر بھیجا ہے کہ اس بستی کی ریت ہے۔"
"کیسی شرمناک رسم ہے؟
"نہیں۔۔۔بالکل نہیں۔۔۔اس میں شرم کی کیا بات ہے۔ مہمان کی خدمت کرنا اسے تعظیم دینا کسی دیوتا نے گناہ نہیں جانا‘‘
"مجھے ذرا اس دیوتا کا کا نام بتاؤ جس نے یہ کہا ہو کہ اپنی بہن بیٹی کو مہمان کی خدمت میں اس طرح بھیجو"
"اے اجنبی مهمان...کیونکہ تم مرد ہو اس لیے کمرے میں کسی لڑکی کی آمد کا غلط مطلب سمجھ رہے ہو میرے باپ نے کسی غلط نظریے سے مجھے تمہاری خدمت میں نہیں بھیجا.... یہ بات ذرا اپنے ذہن میں صاف کر لو
"پھر ذرا واضح الفاظ میں اپنے آنے کا مقصد بتادو"
"میں اس لیے یہاں آئی ہوں کہ تمہاری خدمت کروں۔ تمہارے ہاتھ پاؤں دباؤں تمہارے سر کی مالش کروں۔ تم سے دنیا جہان کی باتیں کروں تا کہ تمہارا لمحہ لمحہ خوشی میں گزرے راحت ملے اور اس کے جواب میں تم سے اس بات کی توقع رکھوں کہ میری عصمت پر آنچ نہ آنے دو گے...اپنے میزبان کی بیٹی کا پورا پورا خیال رکھو گے"
"کیسی عجیب بات ہے کہ کوئلے کی کان میں گھس جاؤ اور توقع رکھو کہ جسم میلا نہ ہو کیا ' بالکل ممکن ہے...؟"
"بلکل ممکن ہے اس بستی میں صدیوں سے یہی ہوتا چلا آیا ہے لیکن آج تک کوئی مثال موجود نہیں کسی مہمان نے میزبان کی لڑکی یا بہن کی عزت کو نقصان پہنچایا ہو"
"اے لڑکی میں............."
"میرا نام سباتا ہے۔"
"سباتا میں ایک کمزور انسان ہوں میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے تمہیں کوئی نقصان پہنچ جائے۔ بہتر یہی ہوگا کہ تم واپس چلی جاؤ اور دن کی روشنی میں مجھ سے ملو پھر ہم ڈھیر ساری کریں گے۔"
"ایسا نہیں ہوسکتا....اگر میں واپس چلی گئی تو یہ بات میرے بابا کو شدید ناگوار گزرے گی وہ اسے اپنی توہین کہے گا۔ یہ صدمہ اس کے لیے ناقابل برداشت ہوگا۔ تم کیونکہ کسی دور دیس سے آئے ہو اس لیے اس علاقے کے رسم و رواج سے آگاہ نہیں ہو۔ ان کی اہمیت سے واقف نہیں ہو" سباتا نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا۔ "تم نے جس خدشے کا اظہار کیا ہے اس خطرے سے میں بخوبی آگاہ ہوں تم نے خود کو کمزور انسان کہا ہے تو ہوگے لیکن میں کمزور لڑکی نہیں ہوں خطرہ دیکھتے ہی میں خود کو ہلاک کر لوں گی گوہر عصمت نہ لٹنے دوں گی اور اس طرح میری موت خودبخود تمہاری ہلاکت کا سبب بن گی۔ تمہیں ابلتے پانی کے چشمے میں پھینک دیا جائے گا۔"
ابلتے پانی کاچشمہ۔۔۔۔؟ وہ کہاں ہے؟"
"قریب ہی ہے یہ....صبح میرے ساتھ چلنا دکھا دوں گی۔"
"تم خود کو ہلاک کس چیز سے کرو گی؟ کیا تم نے اپنے لباس میں کوئی خنجر چھپا رکھا ہے" کامران نے پوچھا۔
"شاید تمہیں علم نہ ہو کہ ہماری بستی میں خنجر ہتھیار قسم کی کوئی چیز نہیں۔
"پر اس امن پسند بستی کی دوشیزہ خود کو کس طرح ہلاک کرے گی؟“
"میرے پاس ایک ایسی چیز ہے جو مجھے چند ساعتوں میں موت سے ہمکنار کر سکتی ہے"
"ذرا اپنے ہاتھ دکھاؤ“ سباتا نے اپنے خوبصورت مخروطی ہاتھ کامران کے سامنے کر دیئے انگلیاں خالی تھیں

"تمہارے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جو ہلاکت کا سبب بن سکے۔“
"ہے۔“ سباتا نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”جب میں صبح یہاں سے جاؤں گی تو تمہیں وہ چیز دکھا دونگی۔"
"خیر" قامران نے وہ ہلاکت خیز چیز دکھانے کا اصرار نہ کیا اور بولا "تم نے فیصلہ کرلیا ہے صبح سے پہلے یہاں سے نہ جاؤ گی‘‘
"ہاں یہی سمجھو"
"اچھا ٹھیک ہے تم یوں کرو کہ بستر پر آجاؤ میں نیچے لیٹ جاتا ہوں۔ مجھے دراصل نیند آئی ہے میں سونا چاہتا ہوں۔"
"تم شوق سے سوؤ.......اور اپنے بستر پر ہی میں کیونکہ سو چکی ہوں اس لیے یہ چند گھنٹے بیٹھ کر گزار دوں گی۔“ یہ کہہ کر سباتا نے کامران کا بستر چھوڑ دیا اور اس سے کچھ فاصلے پر آرام سے بیٹھ گئی۔
کامران کو واقعی نیند آرہی تھی تھکن الگ تھی۔ اس نے تکلف بالائے طاق رکھ کر بستر پر لیٹا اور کروٹ لے کر سونے کی کوشش کرنے لگا۔ پھر تھوڑی دیر میں اس کے خراٹے گونجنے لگے تو وہ حیران رہ گئی۔ اسی کے ہاں آج تک کوئی ایسا مہمان نہ آیا تھا جس نے اس کے حسین وجود سے بے اعتنائی برتی ہو۔ یہ سوچ کر جانے کیوں حسین نازک اور حساس سباتا افسردہ ہوگئی۔ اس کے دل کو ٹھیس پہنچی۔ اس نے اپنا چہرہ گھٹنوں میں چھپا لیا اور چپکے چپکے جانے کتنی دیر آنسو بہاتی رہی۔ یہاں اس پر غنودگی طاری ہوگئی۔
قامران دن چڑھے تک خراٹے بھرتا رہا۔ اس پر نیند کا ایسا غلبہ تھا کہ اس نے اب تک کروٹ نہ بدلی تھی صبح ہوتے ہی سردار ونشا نے دروازہ کھٹکھٹا دیا تھا۔ دستک کی آواز سن کر سباتا اٹھی تھی اور بڑی آہستگی سے دروازہ کھول کر اپنے باپ کے ساتھ چلی گئی۔
کامران نے اپنے چہرے پر کوئی گرم گرم چیز محسوس کی تو وہ پریشان ہو کر اٹھ بیٹھا۔ پھر یہ باور ہوا کہ اس کا چہرہ گرم کرنے والی وہ چیز دھوپ ہے جو کھڑکی سے اس کے بستر پر پڑ رہی تھی۔ اوہ اتنا دن چڑھ گیا کمرے میں سباتا بھی نہیں جانے وہ کب چلی گئی۔ وہ ایسا سویا کہ ہوش نہ رہا قامران سوچتا ہوا کھڑکی کی طرف بڑھا۔ ابھی وہ باہر کے مناظر سے لطف اندوز ہو ہی رہا تھا کہ پیچھے سے آواز آئی۔
"آخر تم اٹھ ہی گئے“ کامران نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سردار دنشا کو دروازے میں داخل ہوتے پایا۔
"کہو رات کیسی گزری؟‘‘ سردار ونشا نے پوچھا۔
"بہت بری...........بہت اچھی۔"
"وہ کیسے؟"
"بہت بری یوں کہ میرا خیال تھا کہ آج کی رات اس بلا سے بستی والوں کو نجات دلا دوں گا راه نجات دلانا تو دور کی بات رہی میں اس بلا کی صورت بھی نہ دیکھ سکا اور وہ میری موجودگی میں اپنا کام کر گئی۔۔۔اتنی اچھی یوں کہ وہاں سے واپس آیا تو بہت گہری نیند سویا اتنی گہری کہ اب آنکھ کھلی ہے۔" کامران نے مسکراتے ہوئے وضاحت کی۔
"اچھا اب تم ضروریات سے فارغ ہو جاؤ کے کھانے پینے کی بات چلے تمہارے انتظار میں میں نے بھی ابھی کچھ نہیں کھایا ہے۔"
"ارے ارے یہ تو بہت برا ہوا میں ابھی چند منٹوں میں تیار ہو جاتا ہوں غسلخانہ دکھائیں۔‘‘ قامران دروازے کی طرف بڑھتا ہوا بولا۔ اتنے میں سباتا کمرے میں داخل ہوئی۔ وہ غالباً نہا کر آرہی تھی تازه گلاب کی طرح شاداب۔ اس نے مسکرا کر کامران کی طرف دیکھا۔ کامران بھی جواباً مسکرایا۔ دونوں کی مسکراہٹوں میں زمین آسمان کا فرق تھا اپنے معنی کے اعتبار سے سباتا سردار ونشا کے پاس کھڑی ہوگئی۔
”سباتا............اپنے مہمان کو ساتھ لے جاؤ ان کا ہاتھ منہ دھلواؤ"
"آؤ" سباتا نے اپنے نازک لبوں کا دائرہ بنایا۔
تھوڑی دیر بعد وہ دونوں ناشتے میں مصروف تھے۔ ناشتے کے بعد کامران نے باہر جانے کی خواہش ظاہر کی تو سردار ونشا نے سباتا کو ہدایت کی کہ وہ کامران کے ساتھ چلی جائے۔

کامران پر وہ بلا سوار تھی وہ اسی کے بارے میں سوچتا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ کیا کیا جائے۔۔۔؟ اور سوچ میں اس قدر ڈوب گیا کہ اسے یہ بھی خیال نہ رہا کہ وہ بھی اس کے ساتھ چل رہی ہے۔ وہ اس وقت چونک پڑا جب سباتا نے کہا۔ ” قامران! میرا ہاتھ تھام لو" کامران نے بڑی فرمانبرداری سے اس کا مخروط ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا اور ہنستے ہوئے بولا۔ ”کیا یہ بھی اس بستی کی ریت ہے؟"
"کامران ! میں سوچ رہی ہوں کہ تم جیسے مرد کو پیدا کر کے دیوتاؤں نے کیا کارنامه انجام دیا ہے" سباتا نے سنجیدگی اوڑھ لی۔
"ہاں۔۔۔ یہ بات کبھی کبھی میں بھی سوچتا ہوں۔‘‘ پر کامران سنجیدہ نہ ہوا۔
"تم اس قدر بنتے کیوں ہو؟" سباتا نے کامران کا ہاتھ چھوڑ دیا۔
”ارے تم تو ناراض ہو گئیں۔" کامران نے اس کا ہاتھ دوبارہ پکڑ لیا۔ ”میری بستی میں مہمانوں سے ناراض نہیں ہوا کرتے.......آؤ ذرا اس طرف چلیں جہاں سے رات کو بلا نے حملہ کیا تھا" سباتا نے جواب میں کچھ نہ کہا اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش بھی نہ کی۔ وہ خاموشی سے اس طرف لے چلی جہاں وہ جانا چاہتا تھا۔
اس گھر کے سامنے بستی کے بے شمار لوگ اکٹھا تھے اور گھر کے اندر سے رونے کی آرہی تھیں۔ بین کی آوازیں سن کر کامران کا جگر کٹنے لگا۔ اس نے سباتا کا ہاتھ چھوڑ دیا۔ لوگوں نے کامران کو اور سردار کی بیٹی کو آتا ہوا دیکھا تو ان کے لیے راستہ چھوڑ دیا۔ اس میں وہ نوجوان بھی شامل تھے جنہوں نے رات کامران کے ساتھ درخت پر گزاری تھی۔ وہ بھی اس کے ساتھ ہو لیے۔ کامران نے مکان کے پچھواڑے جہاں آدمیوں کی آمد و رفت نہ تھی ایک چوڑی سی پگڈنڈی دیکھی یہ پگڈنڈی دور تک لہراتی ہوئی چلی گئی تھی۔ کامران چھت سے اتر کر فورا گھر کے قریب پہنچا۔ قریب سے دیکھنے پر محسوس ہوا جیسے کسی لحیم شحیم آدمی کو زمین پر ڈال کر گھسیٹا گیا ہو۔ اور بستی کے ایک نوجوان کو حکم دیا کہ وہ دیکھ کر آۓ کہ یہ نشانات کہاں جا کر ختم ہوتے ہیں۔حکم سنتے ہی اس نوجوان نے دوڑ لگا دی۔ آدھے گھنٹے بعد جب وہ نوجوان واپس آیا تو اس نے بتایا نشانات کالے جنگل تک گئے ہیں۔ کامران کا شبہ اب یقین میں بدل گیا۔ اس نے سباتا کا ہاتھ پکڑا اور بولا ”آؤ چلیں۔"
"کہاں؟‘‘ سباتا نے پوچھا۔
"ارے............آؤ تو" وہ اسے کھینچتا ہوا بولا ۔
کامران نے سردار ونشا کے گھر آ کر اپنی گھوڑی طلب کی۔ خود کو تیر کمان سے لیس کیا اور گھوڑی پر سوار ہو کر سردار ونشا سے بولا ”میں ذرا کالے جنگل تک جا رہا ہوں۔“
" تم، اکیلے" سردار ونشا نے حیران ہو کر پوچھا۔
"کامران اکیلے نہ جاؤ کہیں بلا تمہیں نقصان نہ پہنچا دے۔" سباتا نے بڑی بے قراری سے کہا
"میں یہاں سے اگر کچھ نوجوانوں کو لے بھی جاؤں تو اس کا کوئی فائدہ نہیں نہتے اور جوان میرے لیئے جی کا جنجال بن جائیں گے۔" کامران نے ابلا کا رخ موڑتے ہوۓ کہا۔ "ویسے پریشان کی ضرورت نہیں۔ آپ لوگ میرے لیے دعا کریں۔“
جواب میں سردار ونشا نے رسمی دعائیہ کلمات کہے جبکہ سباتا نے سچے دل سے اس کی زندگی کی دعا کی
کامران نے ابلا کو زور سے ایڑ لگائی۔ پھر جو اس نے دوڑ لگائی تو سردار ونشا اور سباتا کو دھول کے سوا کچھ نہ دکھائی دیا.......سباتا بہت دیر تک اس غبار کو دیکھتی رہی
پتہ نہیں بستی والے اسے کالا جنگل کیوں کہتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ وہ بہت گھنا تھا دن میں بھی اس میں اندھیرا رہتا تھا۔ کامران اس اندھیرے جنگل میں دو تین گھنٹے تک گھومتا رہا لیکن اس بلا کا کہیں سراغ نہ ملا۔ کامران تھک ہار کر واپس ہستی کی طرف پلٹ پڑا۔ سردار ونشا کے مکان کے قریب پہنچا ابلا کے داخل ہوتے ہی سباتا مکان سے نکل پڑی۔ پیچھے سردار ونشا تھا۔
'کہو کامران کیا ہوا؟‘‘ سردار نے پوچھا۔ سباتا نے اسے گہری نظروں سے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور آنکھیں بند کر کے دیوتا کا شکر کیا منہ سے کچھ نہ بولی۔
"میں نے کالے جنگل کا چپہ چپہ چھان مارا لیکن اس بلا کا کہیں پتہ نہ چلا۔" کامران نے چھلانگ لگاتے ہوئے کہا۔
"اب مجھے شبہ ہونے لگا ہے کہ اس بلا کو تم نے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا؟" سردار ونشا نے کھوۓ لہجے میں کہا ۔
"سردار جنگل کی خاک چھاننے کے بعد اب میرا یقین بھی متزلزل ہونے لگا ہے۔ پتہ نہیں میں نے جسے دیکھا تھا وہ ہی آدم خور بلا تھی یا کچھ اور ہی تھا۔ خیر آج کی رات دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟"
دوپہر کے کھانے کے بعد کامران نے آرام کیا سونے کی کوشش کی پر نیند نہ ائی کروٹیں بدل بدل کر بلا کے بارے میں سوچتا رہا۔ یہاں تک کہ اس کا دماغ سوچتے سوچتے تھک گیا۔ تب اسے سباتا یاد آئی ۔ اس وقت اسے واقعی اس کی ضرورت تھی۔ وہ ہوتی تو اس سے خدمت کرواتا مہمان کی خدمت دن میں بھی تو ہو سکتی ہے۔ ان لوگوں نے رات کے اندھیرے کو خدمت کے لیے کیوں مخصوص کر رکھا ہے؟ ای طرح الابلا سوچتے شام ہوگئی۔

سردار ونشا نے اس کے کمرے میں جھانکا۔ کامران کو آنکھوں پر ہاتھ رکھے دیکھ کر اسے سمجھ میں نہ آیا کہ قامران جاگ رہا ہے یا نیند میں ہے۔
"کامران...! کیا تم جاگ رہے ہو؟“ سردار ونشا نے آہستہ سے پوچھا۔
”جاگ رہا ہوں سردار“ قامران نے اپنی آنکھوں سے ہاتھ ہٹا لیے۔
”ارے تمہاری آنکھیں تو لال ہورہی ہیں۔ کیا بات ہے؟"
"سونا چاہتا تھا سو نہیں سکا۔"
"کیوں؟"
"سر کچھ بھاری سا ہو رہا ہے۔“
”اچھا چلتم لیٹو.....میں سباتا کو بھیجتا ہوں وہ تمہیں کالا شربت بنا کر دےگی" وہ کہتا ہو کمرے سے نکل گیا
"تھوڑی دیر میں سباتا مسکراتی ہوئی ہاتھ میں مٹی کا پیالہ لے کر کمرے میں داخل ہوئی کامران نے اٹھ کے پیالے میں جھانکا... اس میں کالے رنگ کا کوئی مشروب تھا جس کی شکل ہی سے کڑواہٹ ٹپک رہی تھی۔
"کڑوا ہے؟‘‘ کامران نے ناک سکیڑ کر پوچھا ۔
"کیسے جانا؟“
"اس کی شکل بتا رہی ہے۔"
"جس طرح ہر چمکدار چیز سونا نہیں ہوتی ویسے ہی ہر کالے رنگ کی چز کڑوی نہیں ہوتی ذرا پی کر دیکھو۔ پھر چھوڑنے کو جی نہیں چاہے گا۔" سباتا نے مشروب کا پیالہ اس کے منہ لگاتے ہوئے کہا۔ کامران نے ایک گھونٹ لیا تو اس کے چودہ طبق روشن ہو گئے ۔ وشربت شکل کا کالا تھا اس کی سیرت بری نہ تھی۔ اس نے فٹا فٹ سارا شربت غٹا غٹ چڑھا لیا اور ہونٹوں پر زبان پھیری "بھئی کمال ہے۔"
"ابھی کوئی کمال نہیں....تھوڑی دیر میں ذرا اس کا کمال دیکھنا۔“
"کیا میں اڑنے لگوں گا؟" قامران نے ہنستے ہوئے ہوئے کہا۔
"اب کون سے کم اڑتے ہو" سباتا نے جواب دیا۔
پھر وہ اپنے ہونٹ کاٹتی مٹی کا پیالہ لے کر تیزی سے کمرے سے نکل گئی۔ کامران خاصی دی اس کے جملے سے محظوظ ہوتا رہا۔ سباتا نے ٹھیک ہی کہا تھا۔ اس کالے شربت کا اور حیرت انگیز بات تھی کچھ دیر میں سرکا بھاری پن ختم ہو گیا۔ آنکھوں کی جلن جاتی رہی۔ جسم میں ایک طرح کی طاقت آ گئی۔ وہ چاق و چوبند ہو کر اٹھ بیٹھا۔
بستی پہنچ کر اس نے نوجوانوں کو اکٹھا کیا جو کل رات درخت پر اس کے ساتھ موجود تھے انہیں ایک مرتبہ پھر رات کو اکٹھا ہونے کی دعوت دی۔ اس دعوت کو نوجوانوں نے خوشی سے قبول کیا قاصران رات گہری ہونے پر اس درخت کے نیچے پہنچا تو سارے نوجوان وعدے کے مطابق درخت پر مورچہ جما چکے تھے۔
"ہاں بھئی خیریت تو ہے۔؟" کامران نے درخت پر اپنی جگہ سنبھالتے ہوئے کہا۔
"ہاں ابھی تک تو خیریت ہے۔" ان میں سے ایک نوجوان بولا۔
یہ درخت اتنا تناور اور ایسی جگہ تھا جہاں سے چاروں طرف نہیں تو کم از کم تین اطراف میں دیکھا جا سکتا تھا۔ کامران نے دو دو نوجوانوں کی ہر سمت میں نظر رکھنے کی ڈیوٹی لگا دی کہ جیسے ہی معمولی چیز دکھائی دے فورا اسے اشارے سے بتا دیں۔
"ایک بات اور اپنے ذہن میں رکھنی ہے۔‘‘ کامران نے انہیں سمجھاتے ہوئے کہا۔ "ٹھیک م ہے عفریت کا قد ایک عام انسان سے دوگنا ہے اور وہ اپنے قد کی وجہ سے دور ہی سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن یہ ایسی صورت میں ہوسکتا ہے جب وہ اپنے پیروں پر چل کر آئے“
"تمہارا کیا خیال ہے وہ پیروں کے بجائے چاروں ہاتھ پاؤں پر چل کر آئے گی؟“
"وہ اگر چوپائے کی طرح چل کر آئے تو بھی اسے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن یہاں معاملہ ہی کچھ اور ہے۔“
"وہ بلا آخر کس طرح آئے گی؟" نوجوان پریشان ہونے لگے۔ "
"میرے اندازے کے مطابق رینگتی ہوئی آئے گی پیٹ کے بل۔۔۔کل وہ ہماری نظروں میں اسی لیئے نہ آسکی۔ ہم سب نے زمین سے خاصی اونچائی پر اپنی نظریں جمائی تھیں جبکہ وہ رینگتی ہوئی ان کے سامنے سے گزر گئی۔ آج ہم سب نے اپنی نظریں زمین پر رکھنی ہیں تاکہ وہ ہماری نظروں سے نہ بچ سکے۔" کامران نے ہدایت کی۔
اب نوجوانوں کو وہ چوڑی کی پگڈنڈی یاد آگئی جیسے کسی لمبی چوڑی چیز کو زمین پر ڈال کر گھسیٹا ہو یہ سوچ کر کہ بلا ان کے سامنے سے رینگتی ہوئی گزرے گی ان کے بدن میں سردی کی لہر دوڑ گئی
"کیا وہ بلا درخت پر بھی چڑھ سکتی ہے؟"
"کہہ نہیں سکتا۔" اس جملے نے ان نوجوانوں کو مزید کپکپا دیا۔
اس کے بعد نوجوانوں کی طرف سے دو تین الٹے سیدھے سوالات اور آئے لیکن اس نے انہیں قابل توجہ نہ سمجھا۔ جوان ڈرے ڈرے اپنی مقررہ جگہوں پر جا بیٹھے اور انہوں نے دور تک پھیلی ہوئی ریت پر نظریں گاڑھیں
تھوڑی دیر بعد اچانک کسی نوجوان کی گھٹی گھٹی چیخ سنائی دی۔ "کامران"
"کیا ہے؟‘‘ کامران بڑی پھرتی سے اس نوجوان کے سر پر پہنچ گیا۔
"وہ دیکھو" نوجوان نے سامنے اشارہ کیا۔

"کیا دیکھوں؟.... وہاں تو کچھ نہیں۔" کامران نے سامنے دیکھتے ہوئے کہا۔
"وہ کالا کالا کچھ ہل رہا ہے؟"
”وہ جھاڑیاں ہیں اور ہوا سے ہل رہی ہیں۔“
یہ سن کر سارے نوجوانوں نے زوردار قہقہہ لگایا۔ وہ نوجوان بری طرح جھینپ کر ره گیا تھوڑی دیر بعد پھر کسی اور طرف سے آواز آئی ۔ ”کامران جلدی آؤ“ کامران حسب معمول بڑی پھرتی ہے اس نوجوان تک پہنچا اور بولا ۔ ”ہاں آ گیا۔"
”وہ سامنے دیکھو............جھاڑیاں ہرگز نہیں۔"
"جھاڑیاں ہرگز نہیں تو یہ بلا بھی نہیں۔"
"پھر یہ کیا ہے؟‘‘
"کتا ہے اور سونے کی جگہ تلاش کر رہا ہے۔"
یہ سن کر پھر سارے نوجوان ہنس پڑے اور اس نوجوان کامذاق اڑانے لگے۔
”خاموش؟" قامران نے اچانک چلا کر کہا۔ اس کی آواز سن کر سہارے نوجوانوں کو سانپ سونگھ گیا۔ کامران کی نظریں بہت دور کسی چیز پر جمی ہوئی تھیں۔ کوئی بہت ہی چوڑی چیز ریت پر تیزی سے چلتی ہوئی آرہی تھی۔
"تم دیکھ رہے ہو؟" قامران نے اپنے نزدیک بیٹھے ہوئے ایک نوجوان سے کہا۔
"ہاں۔“ وہ نو جوان سہماسهما بولا "یہ سرخ سرخ انگارے سے کیا ہیں ؟"
"شاید یہ اس کی آنکھیں ہیں۔“
اب سارے نوجوان کامران کے گرد سمٹ آئے تھے اور خوفزدہ نظروں سے اس بلا کی طرف بڑھتا دیکھ رہے تھے۔
کامران نے بڑی پھرتی سے ترکش سے تیر کھینچا اور کمان پر چڑھایا بلا آبادی سے نزدیک ہوتی جا رہی تھی اور کامران اس فکر میں تھا کہ وہ واضح طور پر نظر آئے اور وہ تیر چھوڑے۔
بستی کے نوجوان اس عفریت کو دیکھ کر تھرتھر کانپ رہے تھے۔ ان کے حلق خشک ہو چکے تھے
وہ دل ہی دل میں اپنی زندگی کی دعائیں مانگ رہے تھے۔ بالآخر کامران نے تیر چلایا تیر ہمیشہ کی طرح نشانے پر لگا۔ خاموش فضا میں شیر کی سی دهاڑ سنائی دی۔ وہ بلا اٹھ کر بیٹھے لگی اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنے پاؤں پر کھڑی ہوگئی۔ کامران نے ایک اور تیر چلایا۔ وہ تیر بھی خطا نہ ہوا۔ اس بلا کے منہ سے شیر کی سی آواز نکلی۔ درخت پر بیٹھے نوجوانوں کا دل کانپ کانپ گیا۔
اچانک اس بلا کی آنکھوں سے شعلے نکلے اور خشک جھاڑیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ وہ بلا دهاڑتی ہوئی غصے سے ان کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ کامران کے لیے یہ ایک نئی مصیبت کھڑی ہو گئی تھی ۔ اس کے لیے وہ بلا ہی کیا کم تھی کہ . یک نئی آفت آگ کی صورت میں اور نازل ہوگئی۔ اگر یہ بلا اسی طرح آنکھوں سے شعلے برسائی بڑھتی رہی تو وہ وقت دور نہیں جب ساری بستی آگ کی لپیٹ میں آ جائے گی۔کچھ کرنا چاہیئے لیکن کیا کر ے..سوائے تیر چلانے کے اور کیا کیا جا سکتا تھا۔ کامران نے بڑھتی ہوئی بلا پر لگا تار چار پانچ تیر چلائے بلا نے جواب میں زور زور سے دھاڑ کر اور بستی کی طرف تیزی سے بڑھنا شروع کر دیا۔ اسکی آنکھیں برابر انگارے برسا رہی تھیں۔ آگ پھیلتی اور بڑھتی جا رہی تھی۔ بستی کے کچھ مکان اس کی لپیٹ میں آنے کو تھے۔ بلا پر تیروں کا خاطر خواہ اثر نہ تھا۔ کامران نے کوشش کر کے ایک تیر اسکی آنکھوں پر چلایا۔ تیر نشانے پر لگا فضا میں اچانک گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ اس کے ساتھ ہی اس نے دیکھا کہ بلا کی ایک آنکھ بجھ گئی ہے۔ اب وہ بڑی تیزی سے چیختی دھاڑتی بستی کی طرف بڑھنے لگی اس کی ایک آنکھ سے آگ کی بارش ہو رہی تھی۔ کامران نے پھر ایک تیر کمان پر چڑھایا اور شعلہ برساتی آنکھ کا نشانہ باندھا تیر خطا گیا کیونکہ کمان سے تیر نکلتے ہی اس بلا نے اپنا منہ پھیرا تھا۔ وہ تیر کن پٹی میں پیوست ہو گیا۔ کامران نے پھر نشانہ لیا اور تیر چھوڑا۔ یہ تیر سیدها اس آنکھ پر لگا۔ دوسری آنکھ بھی بجھ گئی اور ساتھ ہی ایک زور دار گڑگڑاہٹ سنائی دی۔ دونوں آنکھیں بجھتے ی ایک اچھی بات یہ ہوئی کہ اس کا رخ بدل گیا۔ اب وہ بستی کی طرف بڑھنے کے بجائے بستی کے ساتھ ساتھ چل رہی تھی۔ کامران نے قدرے سکون کا سانس لیا۔ اب بیٹھے رہنا فضول تھا کیونکہ وہ بلا تیزی سے آگے بڑھتی جا رہی تھی اور کامران کی طرف اس کی پیٹھ تھی
"آؤ" اس نے درخت پر لرزتے نوجوانوں کو حکم دیا۔
"کہاں؟“
" نیچے اترو...ہم اس بلا کا پیچھا کریں گے۔" کامران نے نیچے اترتے ہوئے جواب دیا۔ بادل ناخواسته نوجوانوں کو بھی کامران کے ساتھ اترن پڑا کیونکہ وہ خود کو بزدل کہلوانے کے حق میں نہ تھے۔
کامران درخت سے نیچے اتر کر بڑی پھرتی سے اس عفریت کی طرف بڑھا۔ راستے میں آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ بچتے بچاتے بڑے محتاط انداز میں بلا کا تعاتب کرنے لگے۔ آگے جا کر وہ پھر پلٹ پڑی لیکن کامران کے تیروں نے اس کا رخ موڑ دیا۔ وہ پھر سے بستی کے متوازی چلنے لگی

" قامران۔۔! اگر یہ بلا اسی طرح سیدھی چلتی رہے تو ابلتے پانی کے چشمے میں جا گرے گی یہ چشمہ اتنا گہرا ہے کہ اس کا وہاں سے نکلنا مشکل ہو جائے گا۔ اس چشمے کا پانی اس قدر گرم ہے کی تھوڑی دیر میں اس کی ہڈیوں کا بھی پتہ نہ چلے گا۔" کامران کے ساتھ چلتے ہوئے ایک نوجوان نے کہا
"ٹھیک ہے میں کوشش کروں گا کہ یہ خطرہ ک یا سیدی پلتی رہے۔ " قامران نے نوجوان کو تسلی دی۔
اب کامران نے محتاط انداز میں تیر چلانے شروع کر دیئے۔ وہ بلا اگر دائیں بائیں گھومنے کی کوششی کرتی تو وہ تیروں کے چابک سے اسے سیدھے راستے پر ڈال دیتا اور اپنے ساتھ والے نوجوان سے پوچھتا۔
"ہاں...! کتنی دور اور ہے وہ چشمہ؟"
"بس تھوڑی دور اور" اسے جواب ملتا۔
آخرابلتے پانی کا چشمہ آپہنچا اور یہ بات کامران کو اس وقت معلوم ہوئی جب وہ پانی کے چشمے میں جا گری۔ اس نے اچانک اس بلا کو زمین میں دھنستے دیکھا۔ کامران نے سوچا وہ اب لیٹ کر رینگنا چاہتی ہے اور یہ صورتحال انتہائی سنگین ہوسکتی تھی کیونکہ وہ اس کے رینگنے کی رفتار دیکھ چکا تھا ۔ زمین پر چلتی ہوئی وہ کہیں بھی جا سکتی تھی۔ خود کامران پر بھی حملہ آور ہو سکتی تھی اس صورت میں اس کے پاس بچاؤ کی کوئی صورت نہ ہوتی۔ قامران چلتے چلتے اچانک رک گیا اور کسی نزدیکی کے درخت پر پناہ لینے کی سوچے ایک زوردار دھماکہ ہوا جیسے کوئی بہت اونچائی سے پانی میں گرا ہوا۔ تب قامران کو پتہ چلا کہ وہ پانی کے چشمے کی نذر ہو چکی ہے۔
"کامران.......وہ مارا۔" ادھر وہ نوجوان بھی خوشی سے دیوانہ ہو کر اس سے لپٹ گیا ۔ کامران نے جلدی سے خود کو اس نوجوان کی گرفت سے آزاد کیا اور آگے کی طرف بڑھا "آؤ میرے ساتھ"
نیچے کہیں دور سے اسی بلا کے دھاڑنے کی آوازیں آرہی تھیں۔چشمہ نیچے گہرائی میں تھا چشمے کے چاروں طرف بلند و بالا پہاڑیاں تھیں۔ وہ چشمہ ایک طرح سے کنواں تھا اس ابلتے پانی کے کنویں سے اس عفریت کی راہ فرار آسان نہ تھی۔ چشمے کا پانی چاندنی میں بے طرح چمک رہا تھا اور وہ لمبی چوڑی بلا اس پانی میں اچھلتی کودتی کسی بچے کی ماند دکھائی دے رہی تھی کامران بڑے غور سے اس عفریت کو پانی میں ابھرتے ڈوبتے، چیختے چلاتے دیکھ رہا تھا۔
وہ اذیت میں تھی اور کامران کا دل مسرت سے جھوم رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں پوری بستی ابلتے پانی کے چشمے پرامنڈ آئی۔ بلا کے تڑپنے کا نظاره لوگوں کو دیکھنے کو ملا۔ جانے وہ تیل تھا یا پانی جو کچھ بھی تھا اتنا گرم تھا کہ چند منٹوں می اچھل کود چیخنا چلانا ختم ہو گیا۔ اس کی ہڈیاں تک پگھل کر پانی ہو گئیں۔
بستی کے لوگ بہت دیر تک اس جگہ کا نظارہ کرتے رہے جہاں وہ بلا گری تھی نظارہ کرنے والوں میں سردار ونشا اور سباتا بھی شامل تھے۔
"نوجوان تم بہت عظیم ہو۔" سردار ونشا نے خوشی سے اس کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہا۔
"عظیم صرف سائری دیوتا ہے اور میں اس کی خاک ہوں۔" کامران نے بڑی انکساری سے کہا
"ہمارے لیے اس بستی کے لیے تم خو سائری دیوتا سے کم نہیں تم نے اس بستی کو ایک بڑے عذاب سے بچایا ہم اس کا کوئی صلہ تمہیں نہیں دے سکتے۔“
پھر سردار ونشا نے اپنے پاس کھڑے ایک آدمی کو حکم دیا۔ ”جاؤ اس خوشی میں کل جشن کا اعلان کر دو۔“
وہ شخص یہ سن کر بستی والوں کی طرف چلا گیا۔
"آؤ کامران اب گھر چلیں۔" سباتا نے کامران کے نزدیک آتے ہوئے کہا۔
"ہاں اب تو چلنا ہی چاہیے“ قامران نے تیر کمان سے نکال کر ترکش میں رکھتے ہوئے کہا
سباتا نے گھر آ کر جلدی جلدی قامران کا بستر درست کیا اور اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتی ہوئی بولی "بھوک تو نہیں لگی؟"
"نہیں بھوک تو نہیں لگی۔ البتہ میرا جسم ضرور تھکا تھکا سا ہو رہا ہے۔ کیا ممکن نہیں کہ تم مجھے شربت بنا کر پلا دو۔‘‘ کامران نے بستر پر دراز ہوتے ہوئے کہا۔
"یہ کالا شربت پینے کا وقت نہیں؟" وہ اس کے نزدیک آتے ہوئے بولی۔
"کیوں رات میں شربت نہیں پیا جا سکتا؟"

"تم ٹھیک سمجھے اس شربت کو صرف دن کی روشنی میں پیا جاسکتا ہے"
"اگر کوئی رات میں پی لے پھر؟‘‘ قامران نے سوال کیا۔
"عین ممکن ہے کہ وہ اندھا ہو جائے۔“ اس نے انکشاف کیا۔
"کمال ہے۔" اس انکشاف نے اے حیرت میں ڈال دیا۔
پھر کامران کو اچانک خیال آیا کہ کل رات سباتا نے کسی ایسی چیز کا ذکر کیا تھا جسے خطرے میں استعمال کرکے وہ خود کو ہلاک کرسکتی تھی لیکن بظاہر اس کے پاس کوئی چیز نہ تھی۔ کامران نے سوچا اس چیز کے بارے میں اس سے استفسار کیا جائے۔ ممکن ہے وہ کچھ بتا دے۔
"سنو سباتا“ قامران نے لب کھولے۔ کل تم مجھے وہ ہلاکت خیز چیز دکھائے بنا ہی غائب ہو گئیں۔ اب اگر مناسب سمجھو تو وہ چیز مجھے دکھاؤ۔ کیا وہ اب بھی تمہارے پاس ہے؟"
"ہاں ہے۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”میرے بالوں میں لگا یہ سفید پھول دیکھ رہے ہو"
”ہاں دیکھ رہا ہوں بہت خوبصورت پھول ہے“
"ہاں خوبصورت ہے لیکن ہلاکت خیز بھی۔ اسے میں بالوں سے نکال کر اگر منہ میں رکھ دوں تو موت سے ہمکنار ہونے میں صرف چند لمحے لگیں۔"
"لیکن کل رات تو یہ پھول تمہارے بالوں میں نہ تھا۔" کامران نے پوچھا ۔
"کل رات اگر یہ پھول میرے بالوں میں نہ تھا تو میرے گلے میں ایک موتیوں کی مالا تو تھی اس میں ایک موتی پر زہر لگا ہوا تھا ادھر منہ میں رکھتی ادھر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی"
"چلو اچھا ہوا تم نے مجھے پھول کے بارے میں بتا دیا اب میں تمہیں مرنے نہ دوں اور۔۔۔۔۔۔۔۔" کامران نے شرارت سے سباتا کو دیکھا____!
"تم جیسے مہمان کی موجودگی میں مجھے کوئی خطرہ نہیں اس لیئے تو میں نے تمہیں بتا دیا۔" اس نے بڑے اعتماد سے کہا۔
پتہ نہیں اس جملے میں کامران کی تعریف پوشیدہ تھی یا طنز پھره سباتا اچانک ہی بستر سے اٹھ گئی اور کامران سے بولی۔ "اب تم میرے ہاتھوں کا کمال دیکھو....اگر یہ ہاتھ کالے شربت سے زیادہ راحت افزا ثابت نہ ہوں پھر کہنا۔“ کامران اتنا تھکا ہوا تھا کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو منع نہ کر سکا۔ وہ آرام سے پاؤں ڈھیلے چھوڑ کر لیٹ گیا۔ سباتا نے کچھ دیر اس کے سر کی مالش کی۔ پھر اس کی گردن کی رگیں ٹٹولنے لگی۔ سباتا کی انگلیوں میں واقعی سکون اور راحت بھری ہوئی تھی۔ وہ سکون اور راحت اس کے جسم کے مساموں میں اترتی جا رہی تھی۔ وہ بڑی آسودگی سے آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔ قامران کو ہاتھوں کا کرتب دکھاتے اسے چند منٹ ہوئے ہوں گے کہ کامران کے خراٹے گونجنے لگے۔ سباتا نے مسکرا کر اپنے ہاتھ ہٹا لیئے اور زمین پر لیٹ کر آرام سے سوئی۔ صبح جب کامران کی آنکھ کھلی تو سباتا حسب معمول جا چکی تھی۔ اس نے لیٹے لیٹے زور دار انگڑائی لی اور اچھل کر کھڑا ہو گیا۔ کھلی کھڑکی سے اس نے باہر جھانکا۔ خلاف توقع باہر خاصی بھیڑ تھی۔ بستی کے مرد اور عورتیں رنگ برنگے کپڑے پہنے ادھر سے ادھر بھاگے پھر رہے تھے۔ بچے کھیل میں مصروف تھے۔ ان کے چہرے خوشی سے جگمگا رہے تھے۔ شاید وہ جشن کی تیاریوں میں مصروف عفریت سے نجات کا جشن منا رہے تھے بستی والوں کے ہنستے مسکراتے چہرے دیکھ کر خود کامران بھی خوشی ہوگیا۔
"کیا دیکھ رہے ہو باہر؟‘‘ پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔ کامران نے مڑ کر دیکھا تو سباتا کو گلاب کے پھول کی طرح کھلا ہوا پایا۔
"اس کھڑکی سے باہر بکھرے ہوئے رنگوں کو دیکھ رہا تھا۔" کامران بولا
"اس بستی کے لوگ آج بہت خوش ہیں اور یہ خوش انہیں تمہاری بدولت ملی ہے۔“ سباتا نے کہا۔ کامران نے جواب میں کچھ نہ کہا اور وہ کہتا بھی کیا۔ پھر وہ نہا دھو کر اور کچھ کھا پی کر گھر سے باہر نکلا تھا۔ اس کے ساتھ سباتا بھی تھی۔ قامران نے گھر سے نکلتے ہي اس کا ہاتھ تھام لیا کہ وہ کل کی طرح پھر ناراض نہ ہو جائے
وہ دونوں بستی میں بڑی دیر تک گھومتے رہے۔ وہ جدھر بھی جاتے ہستی والے انہیں گھیر لیتے۔ ہر شخص کامران کو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتا۔ بعض بچوں نے اسے چھو کر دیکھنے کی بھی کوشش کی۔ کامران نے بستی کے کئی بچوں کو اٹھا کر پیار کیا جس پر بستی

والوں نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ وہ بستی کی بڑی بوڑھیوں کی دعا لیتے جوان دوشیزاؤں کو اپنا جلوہ دکھاتے ابلتے پانی کے چشمے کی طرف چل دیا۔ چشمے پر ابھی تک لوگ جمع تھے۔ کامران کو دیکھ کر انہوں نے پھر سے نعرے لگائے اور اس کے لیے جگہ چھوڑ دی۔ کامران آگے بڑھ گیا۔ نیچے گہرائی میں چشمے کا ابکتا پانی چمک رہا تھا۔ پانی میں لہریں سی اٹھ رہی تھیں۔ بڑے بڑے بلبلے بن رہے تھے اور بجلی کی سی گڑگڑاہٹ کی آواز آرہی تھی اور وہاں کچھ نہ تھا۔ کامران نے اگر خود اپنی آنکھ سے اس عفریت کو نچے پانی میں گرتے ہوئے نہ دیکھ لیا ہوتا تو اسے اس وقت ہرگز یقین نہ آتا کہ واقعی وہ بلا اس پانی میں گر کر فنا ہو چکی ہے بعد دوپہر جشن شروع ہوا۔ اس جشن کا مہمان خصومی کامران تھا۔ اسے سردار ونشا کے گھر سے ڈھول تاشوں کی گونج میں جشن کے مقام پر لے جایا گیا اور سب سے اونچی جگہ بٹھایا گیا۔ پھر سردار کے اشارے سے سات نوجوان لڑکیاں ایک سنہری تھال پکڑے کامران کی طرف بڑھیں۔ وہ سنہری تھال ایک سرخ ریشمی رومال سے ڈھکا ہوا تھا۔ سردار ونشا اور کامران کے نزدیک پہنچ کر ان لڑکیوں نے تھال چھوڑ دیا۔ کامران چونک اٹھا۔ اس کا خیال تھا کہ تھال زمین پر گرے گا اور اس پر رکھی ہوئی چیز گر کر دور جا گرے گی۔ لڑکیوں کے تھال چھوڑنے کے باوجود وہ زمین پر نہ گرا۔ اس لیے کہ وہ تھال سباتا کے سر پر رکھا تھا اور وہ نظر یوں نہ آئی تھی کہ چاروں طرف سے لڑکیوں میں گھری ہوئی تھی۔ سباتا جو زرق برق لباس پہن تھی اس نے مسکرا کر کامران کو دیکھا اور تھال اپنے سر سے اتار کر ہاتھوں پر رکھ دیا اب سردار ونشا آگے بڑھا۔ اس نے تھال سے اس سرخ رومال کو بڑی احتیاط سے ہٹایا۔ تھال میں رنگ برنگے کپڑوں سے بنا ایک تاج رکھا تھا۔ اس اج میں کئی جگہ ہیرے بھی جگمگا رہے تھے۔ کامران اس تاج کو بڑی دلچسپی سے دیکھنے لگا۔
سردار ونشا نے وہ تاج تھال سے اٹھایا اور کامران کے سر پر رکھ دیا۔ تاج سر پر رکھتے ہی ہر طرف سے ڈھول پیٹے جانے کی آوازیں آنے لگیں۔ چند لوگوں نے میدان میں اتر کر رقص کرنا شروع کر دیا کہ اچانک سردار ونشا کا اشارہ ہوا....ہر سو خاموشی چھا گئی۔ بستی کے لوگ سردار ونشا کی ملنے کے لیے بے تاب ہو گئے۔
"بستی کے لوگو....! اس نوجوان کامران نے ہم پر وہ احسان کیا ہے کہ ہم صدیوں تک وہ احسان نہیں اتار سکتے“
یہاں کامران نے کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن سردار ونشا نے ہاتھ کے اشارے سے اسے روک دیا اور اپنی بات جاری رکھی۔ "میں اس خوشی کے موقع پر کامران کو سات دن کے لیے اس بستی کا سردار بنا رہا ہوں۔" یہ کہہ کر سردار ونشا نے اپنے سر سے تاج اتار لیا۔ "اسی لمحے سے قامران تمہارا سردار ہے۔ تم لوگ اس کا ہر حکم مانو گے اور وہی عزت و احترام دو گے جو مجھے دیتے آۓ ہو۔"
ایک مرتبہ پھر ڈھول پر ہاتھ پڑے اور فضا ڈھولوں کی آواز سے گونج کر رہ گئی۔ قامران نے جب دونوں ہاتھ اٹھا کر لوگوں کو خاموش رہنے کا حکم دیا تو انہوں نے فوری حکم کی تعمیل کی۔ ڈھول سے اپنے ہاتھ کھینچ لیے۔
"بستی کے پیارے لوگو‘‘ کامران نے کہنا شروع کیا۔
"سردار ونشا نے مجھے جو اعزاز بخشا ہے اس کی میں دل سے قدر کرتا ہوں۔ تمہارا سردار بڑا عظیم آدمی ہے۔ میں نے اب تک کوئی ایسا حکمراں نہیں دیکھا جو اپنی سرداری چاہے سات دن کے لیے ہی اس طرح چھوڑ دے۔ مجھے اس بستی کا سردار بنا کر سردار ونشا نے یقینا فراخدلی کا ثبوت دیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ سر پر تاج رکھنا اس دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ میں ایک آوارہ گرد نوجوان اس کانٹوں بھرے تاج۔۔۔۔۔آپ کو یقیناً اس میں ہیرے دکھائی دے رہے ہوں گے لیکن میرے لیے یہ ہیرے کانٹے بن گئے ہیں تو میں کہہ رہا تھا کہ میں ایک آوارہ گرد نوجوان اس بھاری بوجھ کو اپنے سر پر نہیں اٹھا سکتا لہذا پورے عزت و احترام کے ساتھ میں یہ محبت بھرا تحفہ تمہارے سردار کو لوٹا رہا ہوں۔" یہ کہہ کر کامران نے بڑی تیزی سے اپنے سر سے تاج اتارا اور سردار ونشا کے سر پر رکھ دیا۔
سردار ونشا "نہیں نہیں" کر رہ گیا۔

پھر سباتا نے قامران کا ہاتھ پکڑا اور نیچے میدان میں لے آئی۔ اسے میدان کے درمیان میں کھڑا کر دیا۔ کامران کے درمیان میں کھڑے ہوتے ہی ڈھول تاشوں کی آواز سے کان پھٹنے لگے۔ اب بستی کی ایک ایک دوشیزه آتی گئی۔ وہ ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتی ہوئی کامران کے گرد تین چکر لگاتی اور اپنے تھال میں رکھے ہوئے پھلوں کو اس کے قدموں میں ڈھیر کرتی چلی جاتی۔ پھولوں کی جگہ پھلوں کا نذرانہ اس بستی کی رسموں کے عین مطابق تھا۔ تھوڑی دیر میں کامران کے قدموں میں پھلوں کا ڈھیر لگ گیا اور پھلوں کی آمد جاری تھی۔ جب سباتا پھلوں سے تھال سجاۓ رقص کرتی ہوئی اس کی طرف بڑھی تو کامران گھٹنوں تک پھلوں میں دھنس چکا تھا۔ سباتا نے تین کی بجائے سات چکر اس کے گرد لگائے اور پھر اپنا تھال اٹھانے کے بجائے اس نے تھال سے ایک پھل اٹھایا اس تا مران کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا۔ "کھاؤ"
کامران نے پھل اس کے ہاتھوں سے لینا چاہا تاکہ آرام سے کھا سکے لیکن سباتا نے اسے پھل نہ دیا۔ ہنستے ہوئے بولی۔ "میرے ہاتھ سے"
کامران نے اپنے دونوں ہاتھوں سے سباتا کا پھل والا ہاتھ پکڑ لیا اور پھل میں منہ مار کر بولا "بس"
"ہاں بس" سباتا نے اس پھل کو فضا میں اچھالتے ہوئے کہا۔ پھل کے فضا میں اچھلتے ہی بستی کی لڑکیاں اس کی طرف بڑھیں آخر ایک لڑکی کے ہاتھ میں وہ کترا ہوا پھل آ ہی گیا۔ وہ مزے سے کھاتی ہوئی ایک طرف بھاگ گئی۔ اب سباتا نے اپنے مال میں رکھے ہوئے ایک ایک پھل کو کامران کو کھلایا اور فضا میں اچھالنا شروع کیا۔ لڑکیاں ان پھلوں کو لپکتی گئیں۔ وہ پھل بہت زیادہ رسیلا اور بہت میٹھا تھا۔ قامران کو اس کھیل میں مزہ آنے لگا
آخر میں جب ایک پھل رہ گیا تو سباتا نے ڈھول کی تھاپ پر قص کرتے ہوئے قامران کے گرد تین چکر لگائے اور اس کے ساتھ آ کر کھڑی ہوگئی۔ پھل تھال سے اٹھا کر اس نے قامران اور بولی "اب میرے لیے کھاؤ۔“
"لاؤ، کھلاؤ‘‘ کامران نے منہ کھولتے ہوئے کہا
ابھی کامران نے پھل میں منہ مارا ہی تھا کہ ایک شخص دوڑتا ہوا میدان میں داخل ہوا اور چیخ پڑا
"سردار غضب ہو گیا‘‘ سردار ونشاہ یہ سن کر کھڑا ہو گیا۔ سباتا پھل کھلاتے کھلاتے رک گی۔
ڈھول تاشوں کی آوازیں اچانک معدوم ہوگئیں۔ فضا میں ٹهہراؤ سا آ گیا۔
"کیا ہوا؟" سردار ونشا نے پوچھا
"سردار سرخ چہرے والوں نے ہماری بستی کا ایک گھر لوٹ لیا۔" وہ شخص ہانپتا ہوا بولا۔
"کیا بکواس کر رہے ہو؟ یہ سرخ چہرے والے کہاں سے آ گئے؟"
"سردار معلوم نہیں وہ گھوڑوں پر سوار ہیں۔ ہاتھوں میں ننگی تلواریں لیئے، خالی بستی خالی گھروں کو لوٹتے پھر رہے ہیں۔" وہ شخص ابھی تک بدحواس تھا۔
سردار ونشا نے میدان میں آ کر کامران کو ساری صورتحال بتائی اور بولا۔
”پتہ نہیں کون ہیں جو بستی میں گھس آئے ہیں۔“
کامران نے خود کو پھلوں کے ڈھیر سے نکالا اور بستی کی طرف بھاگا۔
"آؤ دیکھیں۔" کامران اور سردار ونشا نے بستی کی طرف دوڑنا شروع کر دیا
پیچھے ساری بستی۔ قامران کو یہ جان کر بڑی حیرت ہوئی کہ ادھیڑ عمر سردار دوڑ میں اس سے کئی ہاتھ آگے تھا۔ ابھی دوڑ جاری تھی کہ سامنے سے دھول اڑتی ہوئی دکھائی دی۔

کئی تلواریں دور ہی سے چمک رہی تھیں۔ اس شخص نے ٹھیک ہی اطلاع دی تھی وہ واقعی سرخ چہرے والے تھے اور گھوڑوں پر سوار چیختے چلاتے بستی کے لوگوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ وہ تعداد میں چالیس پچاس سے کم نہ تھے۔
ان سرخ چہرے والے لٹیروں کو دیکھ کر کامران کا ہاتھ گلے کی طرف گیا لیکن اس کے گلے میں کمان کہاں تھی۔ تیر کمان تو سردار کے گھر تھی۔ یہ بات اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ اس بستی میں اسے تیر کمان استعمال کرنے کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ اسے اپنے سے زیادہ ان بستی والوں کی فکر تھی امن پسند انسان سیدھے اور بے ہتھیار لوگ ان لٹیروں سے کیسے نمٹیں گے؟
چند لمحوں بعد وہ سرخ چہرے والے لٹیرے ان کے سروں پر پہنچے اور انہوں نے بے دریغ لوگوں پر اپنے گھوڑے چڑھا دیئے۔ کئی لوگ ٹاپوں تلے کچلے گئے۔
ان سرخ چہرے والے گھڑ سواروں نے بستی کے لوگوں کا محاصرہ کر لیا۔ اس حصار میں قامران نہ تھا۔ وہ چشم زدن میں خود کو جھاڑیوں کے پیچھے روپوش کر چکا تھا اور سانسیں رو کے ان لٹیروں کو دیکھنے لگا
ایک گھڑ سوار جو چہرے مہرے سے ان لٹیروں کا سردار دکھائی دیتا تھا، اپنا گھوڑا دوڑایا سردار ونشا کی طرف بڑھا اور اس کے نزدیک پہنچ کر اس نے زور سے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچی وہ ہنہنا کر دو پاؤں پر کھڑا ہوگیا۔ اگر سردار ونشا اپنی جگہ سے ہٹ نہ جاتا تو گھوڑے کی ٹاپیں سیدھا اس کے سینے پر پڑتی۔
"بڈھے طوطے مجھے جانتے ہو؟“ اس گھڑ سوار نے اکڑ کر پوچھا۔
"نہیں۔" سردار ونشا نے سادگی سے گردن ہلائی۔
"بڈھے طوطے تم مجھے نہیں جانتے تو اب جان لو...میرا نام ماروف ہے اور کام بستیوں پر حملے کر کے اپنی دھاک بٹھانا...........اب تمہاری خیریت اسی میں ہے کہ اپنی بستی کی لڑکیوں کو خاموشی سے ہمارے حوالے کر دو۔ اس بستی کے گھروں کو ہم پہلے ہی کھنگال چکے ہیں۔ اگر تم نے ہمارا حکم نہ مانا تو ہمیں منوانا بھی آتا ہے یہ بات فورا ذہن نشین کر لو۔" ماروف نے تلوار فخراً لہراتے ہوۓ کہا۔
"ہم امن پسند لوگ ہیں۔ اس بستی میں آج تک خون نہیں بہا تم ہم پر ظلم نہ کرنا بڑی مهربانی ہوگی۔" سردار ونشا نے التجا کی۔
" بے وقوف سردار ہم مهربانی جیسے کسی احمقانہ لفظ سے واقف نہیں۔ ہمارے حکم پر فوراً عمل کرو اگر تم نے خود اس بستی کی حسین لڑکیاں ہمارے حوالے نہیں تو ہم زبردستی اٹھا کے لے جائیں گے اور کسی نے ہماری راہ میں حائل ہونے کی کوشش کی تو اس کا سر قلم کر دیا جائے گا۔ اگر اپنی بستی کے نوجوانوں کو بچانا چاہتے ہو تو میرے حکم پر فورا عمل کرو۔ نہیں میں دس تک گنتی گنتا ہوں۔ اگر تمہارا جواب اقرار میں نہ ہوا تو میری تلوار اٹھ جائے گی۔" ماروف نے یہ کہہ کر گنتی شروع کر دی۔
’’ایک..دو.....تین......چار...." اور پھر وہ چند لمحوں کے لیے رکا۔
کامران ان لٹیروں کے عزائم جان کر چھپتا چھپاتا بستی کی طرف بھاگ رہا تھا۔ وہ جلد اپنی تیر کمان حاصل کر لینا چاہتا تھا تا کہ اگر ساری لڑکیوں کو نہیں تو چند لڑکیوں کو اغوا ہونے سے بچا لے
لٹیرا ماروف گنتی میں لگا ہوا تھا۔ اسے قامران کی نقل و حرکت کے بارے میں ذرا بھی شبہ نہ تھا
"چھ۔۔۔۔سات۔۔۔۔آٹھ۔۔۔نو" یہ کہہ کر ماروف نے سردار ونشا کی طرف دیکھا۔
سردار ونشا عجیب تذبذب کے عالم میں تھا۔ نہ تو وہ خود سے اپنی بستی کی بیٹیوں کو اس کے حوالے کر سکتا تھا اور نہ ہی اس میں بستی کے نوجوانوں کے سر قلم کروانے کی ہمت تھی۔
"دس۔" سردار ونشا کی طرف سے ہاں یا ناں میں کوئی جواب نہ ملا تو ماروف نے تلوار اونچی کر کے گھوڑا بڑھایا اور چیخ کر بولا۔ "جس کو جو لڑکی اچھی لگے اٹھا لے"
بس پھر کیا تھا چند لمحوں میں فضا آه و فغاں اور چیخ و پکار سے گونج اٹھی
ماروف سباتا کی طرف بڑھا جو اپنے باپ سے چمٹی ہوئی تھی۔ اس خبیث نے باپ سے بیٹی چھیننی چاہی۔ نہتے باپ نے مزاحمت کی اور سباتا کا ہاتھ کس کر پکڑ لیا۔ تب ہی تلوار کا وار ہوا اور سردار ونشا کا بازو اس کے جسم سے کٹ گیا چشم زدن میں اس نے سباتا کو گھوڑے پر پھینکا اور کوچ کاحکم دیا۔
"چلو"
چند لمحوں میں وہ سرخ چہرے والے لٹیرے دھول اڑاتے بستی سے دور ہو گئے۔
جب قامران تیر کمان سے لیس ہو کر واپس آیا تو اسے سوائے المناک منظروں کے کچھ نہ دکھائی دیا۔
کئی بھائی اپنی بہنوں کو بچانے کی خاطر اپنے سر قلم کروا بیٹھے تھے۔ سردار ونشا اپنے کٹے ہوئے بازو پر ہاتھ رکھے بت بنا بیٹھا تھا۔ بستی کے لوگوں کی حالت دیکھتے ہے اس کی مٹھیاں بھینچ گئیں۔ اس کا بے اختیار جی چاہا کہ وہ ان لٹیروں کے تعاقب میں جائے اور انہیں جہنم رسید کر کے ہی بستی میں واپس آئے لیکن وہ ایسا کرنے سے قاصر تھا۔ وہ لٹیرے اس کی گھوڑی کو ساتھ لے گئے تھے۔ وہ بے بس ہو کر زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرے.....وہ ان بیٹیوں کے باپوں کو اور ان بہنوں کے بھائیوں کو جنہیں وہ لٹیرے اٹھا کر لے گئے تھے کس طرح تسلیاں دے۔
پھر اسے خیال آیا کہ یہ سب اتنی آسانی سے اس لیے ہو گیا کہ بستی والے نہتے تھے۔ ان کی امن پسندی ان کے لیے ذلت کا سامان بن گئی۔
یہ سوچ کر وہ ایک نئے عزم کے ساتھ اٹھا اور ایک اونچی سی جگہ کھڑے ہو کر اس نے بہتی بستی والوں کو پکارا۔
"بستی والو۔۔۔۔۔۔ذرا میری سنو۔“

کامران کی آواز دور تک پھیلتی چلی گئی۔ بستی کے لوگ آہستہ آہستہ اس کے قریب اکٹھا ہونے لگے۔ جب بستی کے تمام لوگ اس کے گرد اکٹھا ہو گئے تو اس نے کہنا شروع کیا۔
"بستی والو۔۔۔۔! دیکھ لیا اپنی امن پسندی کا انجام۔ امن پسندی بہت اچھی ہے لیکن ایسی امن پسندی کا کیا فائدہ جو آدمی کے لیے موت کا کنواں بن جائے۔ اپنی عزت بچانے اور اپنا حق حاصل کرنے کے لئے ہتھیار اٹھانا گناہ نہیں کسی دیوتا نے اپنی حفاظت کے لیے تلوار اٹھانے اور رکھنے کو منع نہیں کیا۔۔۔یا کیا ہے تو بتاؤ؟‘‘ کامران نے بستی والوں سے پوچھا۔
"نہیں کسی نے نہیں۔" آواز آئی۔
"پھر تم نے اپنی بستی کو ہتھیاروں سے خالی کیوں کر رکھا ہے؟ آج تمہارے پاس ہتھیار ہوتے تو اتنی آسانی سے تمہارا مال و دولت تمہاری بہن بیٹیاں دشمن چھین کر نہ لے جاتا............یا لے جاتا؟" پھر سوال ہوا۔
"نہیں ہرگز نہیں۔" جواب آیا۔
تو میرے دوستو تم ہتھیار کیوں نہیں بناتے؟ بستی والو ! سائری دیوا کے لیے ہتھیار اٹھاؤ۔۔۔غاصب نہ بنو... محافظ بنو۔ محافظ بننے میں کوئی حرج نہیں ہاں غاصب بننے میں حرج ہے۔"
"ہم بہتھیار کیسے بنائیں۔ ہمیں ہتھیار بنانے نہیں آتے"
"میں تمہیں ہتھیار بنانا سکھاؤں گا.....ایک بہت آسان ہتھیار اور بڑے کام کا۔" قامران نے عزم سے کہا۔
"کل صبح اس بستی کے سارے نوجوان یہاں اکٹھے ہو جائیں تا کہ کام کا آغاز کیا جا سکے۔
"ٹھیک ہے۔ اب ہم ہتھیار بنائیں گے ہتھیار چلائیں گے۔ ہمیں کوئی نہیں روک سکتا" نوجوان اچانک جوش میں آ گئے۔
پھر کامران نے سردار ونشا کو اپنے ساتھ لیا اور بستی کی طرف بڑھنے لگا۔ بستی کا برا حال تھا لٹیروں نے ہر گھر کے بخیئے ادھیڑ ڈالے تھے۔ گھروں کا سامان اوندھا سیدھا گھروں کے باہر پڑا تھا۔ کامران نے وہ رات کانٹوں پر گزاری۔ ان کی خدمت گزاری اسے رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔ آدھی رات کو اچانک کسی گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز سنائی دی۔ کامران نے تڑپ کر کمان سنبھال لی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔ کمرے کے دروازے پر ابلا کھڑی تھی۔ وہ بھاگ کر باہر نکلا۔ اس نے ابلا کے پورے جسم پر ہاتھ پھیر کر دیکھا۔ گھوڑی پر کوئی زخم نہ تھا۔ شاید وہ دشمنوں سے رسہ تڑوا کر بھاگ آئی تھی
صبح کے وقت کامران کی ابھی آنکھ ہی لگی تھی کہ اس نے دروازے پر کچھ شور کی آوازیں سنی کوئی باہر دروازے پر کھڑا سردار ونشا کو پکار رہا تھا۔
"سردار جلدی باہر آؤ بستی کے باہر بہت سی لاشیں پڑی ہیں۔"
لاوشوں کا ذکر سن کر کامران کی نیند ہوا ہو گئی۔ وہ آنکھیں ملتا ہوا اچھل کر کھڑا ہوگیا اور باہر جھانکا۔ کمرے سے نکلا تو اسے سردار ونشا نظر آیا۔ وہ بڑی نقاہت سے لڑکھڑاتا ہوا آ رہا تھا۔ قامران نے بازو کٹے سردار کو آگے بڑھ کر سہارا دیا اور بولا ”تم آرام کرد سردار میں باہر دیکھ لیتا ہوں۔"
"نہیں" سردار نے بڑے عزم سے کہا۔ "میں چل سکتا ہوں۔“
"سردار۔۔۔بستی کے باہر لاشیں کس کی ہوسکتی ہیں؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
میں اپنی بستی کی بیٹیوں کو جانتا ہوں۔ سردار کے ہونٹوں پر پھیکی مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ تیز تیز دروازے کی طرف بڑھنے لگا۔ کامران کی سمجھ میں سردار ونشا کا جواب نہ آیا لیکن اس نے مزید استفسار کرنا مناسب نہ سمجھا قامران نے سوچا شاید سباتا کے غم نے سردار ونشا کی دماغی حالت ابتر کر دی ہے۔ سردار ونشا کو دیکھ کر نوجوان بے قرار ہو گئے
"سردار۔۔۔بستی کے باہر لاشیں۔۔۔" ایک نوجوان نے لب کھولے
"خاموش ہو جاؤ" سردار ونشا اچانک چیخا۔ نو جوان سہم کر پیچھے ہٹ گیا۔ تب سردار پھر گویا ہوا "مجھے مت بتاؤ.... وہ لاشیں کس کی ہیں۔۔میں جانتا ہوں وہ لاشیں کس کی ہوں گی....آؤ میرے ساتھ"
"سردار تم زخمی ہو تم آرام کرو۔ میں جا کر دیکھے آتا ہوں۔ کامران نے ایک مرتبه پھر سمجھایا

"سردار ونشا کا بازو کٹا ہے۔ اس کی ٹانگیں سلامت ہیں۔ وہ ان ٹانگوں پر چل کر جائے گا" سردار کے لہجے میں عجیب دہشت تھی۔ اس پر جنونی سی کیفیت طاری تھی۔ پھر کامران نے خاموشی اختیار کر لی اور چپ چاپ ان کے ساتھ ہو لیا۔ بستی کے باہر جب کامران نے ان لاشوں کو دیکھا تو سردار کا وہ جواب کہ میں اپنی بستی کی بیٹیوں کو جانتا ہوں فورا سمجھ میں آ گیا۔ سردار ونشا کا کہنا، کہ میں جانتا ہوں وہ لاشیں کس کی ہوں گی۔ اب کھل کر کامران کے سامنے آ گیا تھا۔
مشرق سے ابھرتے لال گولے کے پیش نظر وہ لاشیں عجیب لگ رہی تھیں۔ یہ لاشیں بستی کی لڑکیوں کی تھی جنہیں وہ سرخ چہرے والے درندے اٹھا کر لے گئے تھے۔ ہر لاش کے چہرے پر نیلا رنگ تھا، ان کے منہ میں سفید پھول دبا ہوا تھا۔ اس بستی کی دوشیزاؤں کو اپنی حفاظت کرنی آتی زہریلے پھول چبا کر اپنی زندگی میں زہر گھلنے سے خود کو بچاليا تھا۔ موت سے ہمکنار ہو کر اپنے باپ اور بھائیوں کے سر فخر سے بلند کر دیئے تھے۔
انہیں دوشیزاؤں میں سباتا بھی تھی۔ اس کی لاش دیکھ کر سردار ونشا اپنے آنسو ضبط نہ کر سکا اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے دیکھ کر کامران کے دل پر چوٹ کی گئی۔ اس کا جی چاہا کہ وہ سوار ہو کر ان درندوں کی تلاش میں نکل جائے اور اپنے تیروں سے جتنوں کے سینے چھلنی کر سکے کر دے
کامران نے بھی آہستگی سے سردار ونشا کی پیٹھ پر ہاتھ رکھا اور اسے لاشوں سے دور ہٹا لایا۔
"سردار دکھ کو جتنا بڑھاؤ کے بڑھتا ہی جائے گا جتنے آنسو بہاؤ گے وہ اور نکلیں گے۔ ذرا ضبط کر تھوڑا صبر سے کام لو۔“ قامران نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
"ہاں تم ٹھیک ہی کہتے ہو۔ جو ہو گیا' وہ ہو گیا۔ میری چاند سی سباتا اب مجھے کبھی مل نہ سکے گی۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ان درندوں کو چیر کر رکھ دوں۔“ سردار ونشا کا غم غصے میں بہہ گیا
"سردار فکر نہ کرو۔ ہم سب مل کر ان ظالموں سے انتقام لیں گے۔" اس کے زخموں پر پھاہا رکھنے کی کوشش کی۔
کامران کی خواہش تھی کہ بستی کے لوگوں تک اس بات کے پہنچنے سے پہلے ہی انہیں ٹھکانے لگا دیا جائے تا کہ دکھ کے بادل ابھی کچھ عرصے اور تھمے رہیں۔ کامران نے اپنے اس فیصلے کا اظہار سردار ونشا سے کیا تو اس نے کامران سے مکمل اتفاق کیا۔ تب قامران نے ان تینوں کو سختی سے ہدایت کی کہ وہ ان لاشوں کا ذکر بستی میں نہ کریں...اور پھر وہ لوگ رسم کے مطابق جلدی سے ان لاشوں کو ابلتے پانی کے چشے کے حوالے کرنے لگے۔ لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد قامران نے بستی کے تمام نوجوانوں کو اکٹھا کیا اور کالے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا۔
کامران کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ اس نے ابلا کو چھوڑ کر غلطی کی ہے۔ اس کا خیال تھا بستی کے نوجوانوں کے ساتھ آرام سے کالے جنگل تک پہنچ جائے گا لیکن اسے یہ اندازہ ہوا کہ گھوڑے پر سوار ہو کر سفر کرنا اور بات ہے اور گھوڑوں کے ساتھ ساتھ بھاگنا بالکل مختلف تین منزلوں تک تو کامران بڑی آسانی سے ان کے ساتھ دوڑتا رہا۔ پھر اس کی رانیں بھاری ہونے لگیں جب کہ بستی کے دوسرے نوجوان بڑے مزے سے ہنسی مذاق کرتے تیز رفتاری سے دوڑ رہے تھے۔ بعض وقت جب قامران کافی پیچھے رہ جاتا تو وہ سارے کے سارے رک جاتے جب برابر آ جاتا تو وہ نعرے لگاتے پھر سے بھاگنا شروع کر دیتے۔ آخر نوبت یہاں تک آئی کہ قامران کا بھاگنا دوبھر ہو گیا۔ اب وہ دوڑنے کے بجائے تیزی سے چلتے گئے۔ اس موقع گھوڑی شدت سے یاد آئی۔ قامران کی تھکن کا احساس کر کے ان نوجوانوں نے آپس میں کچھ کہا پھر ایک نوجوان کامران کی طرف بڑھا اور اس نے کامران کو کچھ بتائے بغیر اسے کندھے پر اٹھا لیا کامران "نہیں نہیں" کرتا رہ گیا۔
اب نوجوانوں نے پھر سے دوڑنا شروع کر دیا اور اس طرح باری باری ہر نوجوان اسے کندھے پر بٹھاتا اسے منزل مقصود پر لے کے پہنچا۔ کالے جنگل میں بانسوں کے جھنڈ جگہ جگہ موجود تھے۔ قامران نے تمام نوجوانوں کو بانسوں کی کٹائی میں لگا دیا۔ نوجوانوں نے جلد ہی کامران کے سامنے بانس کے ڈھیر لگانا شروع کر دیئے۔ کامران ان میں سے کام کے بانس چھانٹ چھانٹ کر الگ کرتا گیا
جب مطلوبہ تعداد میں بانس فراہم ہو گئے تو کامران نے کوچ کا اعلان کر دیا۔ بانسوں کے چھوٹے گٹھڑ بنا کر چند نوجوانوں نے اپنے کندھوں پر لاد لیے اور پھر بستی کی طرف روانہ ہو گئے۔ نوجوانوں نے اس مرتبہ اسے بالکل دوڑنے نہ دیا ۔ وہ اسے اپنے کندھوں پر بٹھائے دوڑتے دوڑتے بستی میں آئے۔
بستی میں داخل ہوئے تو اندھیرا جھک آیا تھا۔ سورج ڈوبنے کو تھا۔ سردار ونشا چند معمر لوگوں کے ساتھ بستی کے باہر ہی بیٹھا تھا۔ جب اس نے کالے جنگل والے راستے سے دھول اڑتی ہوئی دیکھی تو بولا "وہ لوگ آگئے۔" سردار ونشا یہ کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔

اسے قامران کا شدت سے انتظار تھا۔ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ یہ بدیسی نوجوان کالے جنگل سے کیا اٹھا لاتا ہے؟ کامران کو کسی نوجوان کے کندھے پر بیٹھا دیکھ کر سردار متفکر ہوگیا۔ یہ لوگ اس کو کندھوں پر کیوں اٹھاۓ ہوۓ ہیں۔ کہیں کوئی حادثہ تو پیش نہیں آ گیا۔ پھر اسے فورا ہی خیال آیا کہ ان کو کالے جنگل تک دوڑ کر جانا دوبھر ہو گیا ہوگا۔ گھوڑے کی سواری کرنے والے کو بھلا پیدل اتنی عادت کہاں ہوسکتی ہے۔
سردار ونشا کو بستی کے باہر کھڑا دیکھ کر کامران اس کی طرف لپکا۔
"سردار خیریت تو ہے باہر کیوں کھڑے ہو؟“
"تمہارا انتظار کر رہا تھا.....لاؤ دکھاؤ...کالے جنگل سے تم کیا لاۓ ہو؟"
"میں بانس لایا ہوں اور کچھ نہیں"
"کیا بانس سے ہتھیار بناؤ گے؟‘‘ سردار نے پوچھا۔ وہ حیران تھا۔
"ہاں" قامران نے بڑے اعتماد سے کہا۔ ”اور ایسے ہتھیار کہ تم دیکھتے رہ جاؤ گے“
پھر کامران نے نوجوانوں کو حکم دیا کہ وہ بانسوں کے گٹھڑ سردار کے گھر پہنچا دیں اور کل کی کرن پھوٹتے ہی تمام نوجوان سردار کے گھر جمع ہو جائیں۔
صبح صبح سردار کے گھر میلے کا سا سماں پیدا ہو گیا۔ پو پھٹتے ہی بستی کے نوجوان آنا شروع ہو گئے تھے اور دن روشن ہوتے ہوتے سردار کا گھر نوجوانوں سے بھر چکا تھا۔ کامران نے سائری دیوتا کا نام لے کر کام شروع کیا۔ اس نے بڑے بڑے بانسوں کو ہاتھ سے ٹکڑوں میں تبدیل کرنا شروع کیا۔ یہی کام دوسرے نوجوان بھی کرنے لگے۔ دوسرے مرحلے میں کے بانسوں کو اندر سے کھوکھلا کیا گیا۔ اس کام سے فارغ ہوکر بچے ہوئے بانسوں کو چیر کر تیر بنائے جانے لگے۔ بستی کے نوجوان بڑے شرق اور لگن سے کام میں مصروف تھے اور اس کے منتظر تھے کہ دیکھیں اس بانس کے ٹکڑے سے تیر کس طرح چلتا ہے۔
آخر وہ وقت بھی آ پہنچا جب پہلا ہتھیار بن کر تیار ہوا۔ کامران نے ایک اچھا سا تیر اس
بانس کے ٹکڑے میں پھنسایا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ کامران پر ایک عجیب سرخوشی ساتھ یہ دھڑکا بھی تھا کہ اگر اس ہتھیار کی کارکردگی اچھی ثابت نہ ہوئی تو ان نوجوانوں کے اٹھانے کے قابل بھی نہ رہے گا۔ وہ گھر سے باہر نکل کر ایک جگہ ٹھہر گیا۔ سارے نوجوان کھڑے اسے بڑی دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ اس نے تیر کو اچھی طرح فٹ کر کے سامنے درخت کے تنے کا نشانہ لیا اور اس بانس کے ٹکڑے کو منہ میں لے کر زور سے پھونک ماری
چشم زدن میں تیر بانس کے ٹکڑے سے نکلا اور سرسراتا ہوا درخت کے تنے میں پیوست ہو گیا۔
کامران کو نوجوانوں نے اپنے کندھے پر اٹھا لیا اور خوش ہوگئے۔ کامران بڑی مشکل سے ان سے اترنے میں کامیاب ہوا۔ اس نے انہیں خاموش رہنے کی تلقین کی۔ جب خاموش ہو گئے تو کامران نے سردار کو آگے آنے کا اشارہ کیا۔ کامران نے ایک اور تیر بانس کے ٹکڑے میں ڈالا اور اس کے سیدھے ہاتھ میں تھماتے ہوئے بولا۔
"سردار یہ اس ہستی کا پہلا تیر چلا کر افتتاح کرو“
"کامران اس ہتھیار کا نام کیا ہے؟" سردار نے درخت کے تنے کا نشانہ لے کر پوچھا
"سردار........اس کا نام توفو ہے؟"
"توفو بڑا اچھا نام ہے۔ اس ہتھیار کی طرح سبک" یہ کہہ کر سردار ونشا نے ٹکڑے میں زور سے پھونک ماری
تیر سرسراتا ہوا تیزی سے اس بانس کے ٹکڑے سے نکلا اور درخت کے تنے میں جا لگا تھا۔ نوجوانوں نے خوشی سے زبردست نعرے لگائے۔ بعد میں کامران نے بستی کے ہر نوجوان کو تیر چھوڑنے کا موقع دیا۔ زیادہ تر نوجوانوں کے تیرنشانے پر لگے۔ کچھ ایسے بھی تھے جو اتنے بڑے تنے کا نشانہ لینے سے قاصر رہے۔
پھر یہ ہتھیار توفو اتنا مقبول ہوا کہ چند روز میں ہی بچوں کے ہاتھوں میں بھی دکھائی دینے لگا۔ کامران جہاں نکل جاتا اسے ہر طرف توفو چلتی دکھائی دیتی۔ اب نوجوانوں کے نشانے بہتر سے بہتر ہوتے جا رہے تھے۔ بعض نوجوانوں نے نشانے اتنے بہتر کر لیے تھے کہ اڑتے پرندے بھی ان سے محفوظ نہ رہے تھے۔ کامران نے بستی میں نشانے بازی کا مقابلہ کروایا۔ اس مقابلے میں جو نوجوان اس معیار پر پورے اترے ان کے سروں پر اس نے سرخ پٹی باندھ دی۔ یہ ایک طرح کا اعزاز بھی تھا اور پہچان کا ذریعہ بھی
کھیل کے اختتام پر کامران نے سرخ پٹی والے نوجوانوں کو اپنے سامنے اکٹھا کیا اور انہیں مہم کا آغاز بتا دیا۔
اب تم لوگ اپنی بہنوں کا انتقام لینے کے لیے تیار ہو جاؤ"
"تیار ہیں۔" سارے نوجوانوں نے بڑے جوش سے بیک وقت کہا۔
"ہم اپنے سفر کا آغاز کل سورج نکلنے سے پہلے کریں گے۔ میرے دوستو ! اپنے ساتھ ایک ہفتے کا خوردو نوش کا سامان باندھ لو تاکہ ہم بے فکری سے ان سرخ درندوں کو ڈھونڈ سکیں۔ ٹھیک ہے؟"
"ٹھیک ہے" مشترکہ جواب آیا
"بس پھر جاؤ اور سفر کی تیاریاں شروع کرو"
سردار ونشا کو جب کامران کی روانگی کا پتا چلا تو اس نے بھی ساتھ جانے کی خواہش ظاہر کی
"کامرا ن مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو میں ان درندوں کے کلیجے خود چھلنی کروں گا"
"نہیں سردار تم یہی رہو بستی کے لوگوں کو تمہاری ضرورت ہے انتقام ہم پر چھوڑ دو سباتا اگر تمہاری بیٹی تھی تو مجھے بھی بہن کی طرح عزیز تھی اس کا بدلہ میں لوں گا اور ان لٹیروں کے سردار ماروف کا سر لے کر لوٹوں گا"
یہ سن کر پھر سردار ونشا نے جانے کی ضد نہ کی اور اسے جلدی سو جانے کا کہہ کر نکل گیا
قامران نے سردار سے یہ وعدہ تو کر لیا تھا لیکن اسے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ اس و عدے کو پورا کیسے کرے گا کیوں کہ اسے علم نہ تھا کہ وہ کدھر سے آئے تھے اور کدھر گئے اسے بس معلوم تھا کہ وہ کالے جنگل کے راستے واپس گئے

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 10

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,