سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 13

سفید محل - اردو کہانی قسط نمبر 13

کامران کو ڈر تھا کہ سرخ پانی لوگوں کے ختم ہونے سے پہلے نہ ختم ہو جائے کیونکہ ایسا ہوگیا تو یہ بہت برا ہوگا لیکن ایسا نہ ہوا اس بوتل میں سارے لوگ بخوبی نمٹ گئے۔
بستی کی اندھیری نگری میں اجالا پھیل گیا۔ بستی کے لوگوں سے خوشی نہیں سمٹ رہی تھی وہ آپے سے باہر ہو رہے تھے۔
تب کامران کو اپنی آنکھیں یاد آئیں سائری دیوتا یاد آیا اس نے سوچا آنکھیں کتنی بڑی نعمت ہیں لیکن ہم سوچتے نہیں۔ سوچتے اس وقت ہیں جب ہم سے کچھ چھن جاتا ہے۔
”کامران“ خرسہ اس کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھی۔ ”ان لٹیروں سے یہ میرے پاس بچ گیا تھا یہ ہار میں تمہاری نظر کرتی ہوں اس وقت گھر میں کوئی قیمتی چیز نہیں ورنہ وہ تمہاری نظر کرتی قبول کر لو“
کامران نے بستی کے دوسرے لوگوں کو بھی دیکھا جو خرسہ کے پیچھے کھڑے تھے اور اس بات کے منتظر تھے کے دیکھو خرسہ کے ساتھ کیا ہوتا
کامران نے خرسہ کے ہاتھ سے ہار لے لیا اور آگے بڑھ کر اس کے گلے میں ڈال دیا اور بولا ”میری خوشی برباد نہ کرو۔“
اس جواب کے بعد اب کسی سوال کی گنجائش نہ تھی لوگ اپنے نذرانے لے کر واپس چل دیئے
ٹب کامران کی نظر ایک بچے پر پڑی اس کے ہاتھ میں پھول تھے وہ بھی واپس لوٹ جانے والوں میں سے تھا
”اے لڑکے“ قامران نے اسے آواز دے کر روکا
بچے نے مڑ کر دیکھا تو کامران نے اسے ہاتھ کے اشارے سے بلایا ”تمہارا نذرانہ قبول کیا جائے گا لاؤ یہ پھول مجھے دے دو۔“
کامران نے وہ پھول اس سے لے لئے اور جھک کر اس کے پھول سے چہرے پر پیار کیا بچے کی خوشی دوچند ہوگئی۔
اب شام ہو گئی تھی مغرب میں لالی اور مشرق میں اندھیرا پھیل گیا تھا کامران نے ابلا کی پیٹھ سے سامان اتارا وہ صبح سے بھوکی تھی کامران نے اس کے لیے چارے کا انتظام کیا اور خمنا کے ساتھ باہر آگیا۔
خرسہ فوراً ہی شمع دان اٹھا لائی اس کے ہونٹوں پر تبسم تھا اور بکھری زلفیں تھیں شمعدان اس نے طاق پر رکھا
”میں صرف رات کا مہمان ہوں“ کامران نے دونوں سے مخاطب ہو کر کہا ”صبح ہوتے ہی یہاں سے چلا جاؤں گا۔“
”ارے نہیں۔۔۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟“
”میں دراصل ان ٹھگوں کی تلاش میں نکلا ہوں جنہوں نے اس علاقے میں تباہی مچا رکھی ہے ٹھگوں کی تباہی کا ایک نمونہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے اب بے قراری اور بڑھ گئی ہے ٹھگوں کو تہس نہس کرنے کا جنون اور بڑھ گیا ہے اب میں وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا اگر اجالا ہوتا تو میں اسی وقت رخصت ہو جاتا۔“
خرسہ اور خمنا نے اس سے ایک مرتبہ روکنے کی درخواست کی لیکن جب وہ نہ مانا تو دونوں بہن بھائی اس کے لئے زاد راہ تیار کرنے لگے
بستی میں جشن کا سماں تھا کامران اطمینان سے سو تا رہا۔
وقت سحر لوگ تھک تھک کر سونے لگے۔
تب قامران اٹھا اس نے اپنی گھوڑی کو کسا۔ خرسہ، خمنا سے رخصت لے کر سورج نکلنے سے پہلے رخصت ہوگیا۔ خرسہ آنکھوں میں آنسو لیے اسے دیکھتی رہ گئی وہ اپنے مہمان کی اچھے سے خدمت بھی نہ کر سکی۔ کاش۔۔۔! وہ کر سکتی۔ بستی سے نکل کر کامران نے اپنی پیٹھ سورج کی طرف کر لی اور ملگجی روشنی میں ابلا کو دوڑانے لگا کے شاید ٹھگوں سے ٹکراؤ ہو جائے۔
کافی مسافت طے کرنے کے بعد بھی اسے کوئی ٹھگ دکھائی نہ دیا نہ ہی کوئی بستی راستے پڑی۔
دوپہر ہوتے ہی اس نے درختوں کے نیچے ڈیرا ڈال دیا۔ ابلا کی لگام کھول کر اسے گھاس کھانے کے لیے آزاد کر دیا۔ کھانے پینے کی اگرچہ کئی اشیاء ان دونوں بہن بھائیوں نے اگلا کی پیٹھ پر لاد دی تھی لیکن اس وقت قامران کا دل تازہ گوشت کھانے کیلئے مچل رہا تھا۔ اس نے پرندوں کا شکار کرنے کی ٹھانی پھر تیر ترکش سے نکال کر کمان پر چڑھایا اور مطلوبہ پرندوں کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ تھوڑی دیر بعد اسے ایک چشمہ دکھائی دیا جہاں کچھ آبی پرندے خوش گپیوں میں مشغول تھے کامران نے کمان سیدھی کی تیر چلایا۔
پھر وہ یہ دیکھ کر ہنس پڑا کہ اس کے ایک تیر نے دو پرندوں کو گھائل کر ڈالا۔
آگ پر بھنے ہوئے پرندوں نے بڑا لطف دیا دونوں پرندے کھا کر کامران پانی پینے چشمے کی طرف چل پڑا۔
چشمے کا ٹھنڈا میٹھا پانی اس پر خمار چڑھانے لگا وہیں ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کے نیم دراز ہوگیا اس کا سونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا وہ چند منٹ آرام کر کے اپنا سفر جاری رکھنا چاہتا تھا لیکن باوجود کوشش کے نیند پر قابو نہ پا سکا۔
سوتے سوتے اچانک اس کی آنکھ کھلی تو اس نے درخت کے پاس بے شمار شہد کی مکھیوں کو اڑتے دیکھا پھر وہ تنے سے لپٹا ہوا کالا وجود بھی اس کی آنکھوں سے اوجھل نہ رہ سکا۔
کامران تیزی سے اٹھا اور بھاگتا ہوا درخت سے دور جا کر کھڑا ہوا۔
پھر کامران نے کمان سیدھی کی اور اس سے پہلے کے کالا ریچھ درخت سے اتر کر کامران کے مزاج پوچھتا۔۔۔۔کامران کے تیروں نے درخت پر ہی اس کا حال معلوم کر لیا۔
تیروں کے تاب نہ لاکر وہ دھاڑ سے زمین پر گرا اور دو پاؤں پر کھڑا ہوگیا۔
یہ لمحے کامران کے لئے بڑے غنیمت تھے کامران نے دو تین تیر چلا کر اس کا پیٹ اور سینہ زخمی کر دیا۔
اب ریچھ کے لیے دشمن پر حملہ کرنا تو دور کی بات اپنا وجود سنبھالنا بھی مشکل ہو گیا۔ دو چار قدم چل کر وہ تیورا کر گرا اور جہنم رسید ہوا۔
شہد کے رسیا اس ریچھ نے جانے کتنی شہد کی مکھیوں کے چھتے کو اجاڑا ہوگا دوسروں کو دکھ دینے والا آخر ہر دکھ سے آزاد ہو گیا۔
کامران نے اس کے جسم سے اپنے تیر نکالے چشمے پر دھوئے اور ترکش میں ڈال کر ابلا کی تلاش میں واپس آیا۔
ابلا اسے جلد ہی مل گئی۔ وہ ابلا کی پیٹھ پر سوار ہوا دونوں ہی تازہ دم تھے راستہ بھی ہموار تھا اس لئے دونوں ہوا سے باتیں کرتے ہوئے اڑے چلے جارہے تھے۔
سہ پہر تک راستے کی ہمواری ختم ہوگئی اب پہاڑی علاقہ شروع ہو چکا تھا۔ پوری رفتار سے بھاگنا ابلا کے لئے ممکن نہیں تھا۔ کامران بھی نہیں چاہتا تھا کہ بلاوجہ گھوڑی بھگا کر گھوڑی کی ٹانگیں تڑوائی جائیں۔
قامران ابلا کی پیٹھ پر اچھلتا ہوا چلا جا رہا تھا کہ اچانک اسے چیخ سنائی دی۔ یہ چیخ کسی عورت کی تھی اور کہیں نزدیک سے آئی تھی۔ اس نے چیخ کی سمت کا اندازہ کرکے درختوں کے پیچھے کی طرف ابلا کو دوڑا دیا۔
چیخوں کی آوازیں مسلسل آ رہی تھی جیسے کسی درندے نے عورت کو پکڑ رکھا ہو۔
کامران نے ابلا کی پیٹھ سے چھلانگ لگائی اور جھاڑیوں کو پھلانگتا ہوا جائے واردات تک پہنچا تو اس کا شبہ یقین میں بدل گیا۔
ایک ریچھ بھورا اور خونخوار، ایک نازک اندام لڑکی سے لپٹا ہوا تھا۔ اس کے تیز پنجے اس کے لباس کو پھاڑے جارہے تھے اور وہ چیخ رہی تھی دوہائی دے رہی تھی۔
کامران نے بڑی پھرتی سے کمان سیدھی کی تیر چڑھایا لیکن وہ تیر چلانے کی حالت میں نہ تھا دونوں ایک دوسرے سے دست و گریبان تھے اس حالت میں وہ تیر چلا کر لڑکی کو نقصان نہیں پہنچا سکتا تھا۔
تب تک قامران نے منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکالنا شروع کر دیں اور پتھر اٹھا کر اس کی طرف اچھال دیے۔
خلوت میں کسی اور کو مخل ہوتا دیکھ کر ریچھ نے اس نے لڑکی کو چھوڑ دیا۔
کامران کو غور سے دیکھا پھر اچھا چلتا ہوں جھاڑیوں کے پیچھے غائب ہو گیا۔
کامران نے تیزی سے تیر چلانا چاہا لیکن وہ لڑکی سامنے آگئی۔ قامران نے خوف سے کانپتی ہوئی اس لڑکی کو دیکھا اور اس کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ کر بولا ”گھبراؤ نہیں۔۔۔۔میرے ہوتے ہوئے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔“
لڑکی نے یہ یہ سن کر کچھ بولنے کی کوشش کی لیکن اس کے لب ہلے کچھ سنائی نہ دیا
"تم اکیلے اس جنگل میں کیا کر رہی ہو؟“ قامران نے پوچھا
تب لڑکی نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کیا جس کا مطلب تھا کہ وہ بولنے سے قاصر ہے
”اوہ“ قامران اداس ہو گیا۔
تم کہاں رہتی ہو قامران نے اشارے سے پوچھا۔
لڑکی نے ایک طرف اشارہ کر کے بتایا کہ پہاڑی کے اس پار۔
”چلو۔۔۔میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں۔"
مگر لڑکی نے زور زور سے گردن ہلائی اور اشارے سے بتایا کہ ریچھ جا چکا ہے اسے کوئی خطرہ نہیں وہ آسانی سے چلی جائے گی۔
عمران کو لڑکی کی ہمت پر حیرت ہوئی لیکن اس نے زیادہ بحث کرنا مناسب نہ سمجھا
وہ لڑکی کو اس کے اس کے گھر کی راہ پر ڈال کر واپس آیا
واپس آیا تو اسے ابلا آس پاس دکھائی نہ دی۔
ابلا کہاں گئی؟ کامران سوچ میں پڑ گیا۔ اس کے منہ پر لگام چڑھی تھی۔ وہ کچھ کھا پی نہیں سکتی تھی کہ چارے کی تلاش میں ادھر چلی جاتی۔ اسے اتنی دیر بھی نہیں ہوئی تھی کہ وہ کہیں بھی نکل جاتی پھر کیا ہوا؟ کامران نے آس پاس کا علاقہ چھان مارا۔ چپہ چپہ دیکھ ڈالا لیکن ابلا کا کہیں کا نہ چلا۔
تب قامران اس پہاڑی پرچڑھنے لگا جس طرف اس لڑکی نے اپنی بستی بتائی تھی۔ وہ پہاڑی زیادہ اونچی نہیں تھی وہ جلد ہی چوٹی پر پہنچ گیا۔ اس نے جلدی جلدی میدان میں چاروں طرف نظریں دوڑائیں۔کہیں دور اس کی نظریں جم کر رہ گئیں۔ وہ ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگیا۔
ابلا کی لگام کسی آدمی کے ہاتھ میں تھی اور اس آدمی کے برابر وہ لڑکی تھی جس پر ریچھ نے حملہ کردیا تھا اور اس لڑکی کے ساتھ وہ ریچھ بھی تھا جس نے حملہ کر کے اس کے کپڑے پھاڑ دیئے تھے۔ اس ہوشربا منظر کو دیکھ کر کامران کے ہوش اڑ گئے۔ جن کے قصے سنے تھے وہ بازی گر اس کے سامنے اس کے ساتھ زبردست ہاتھ کر گئے تھے۔ کامران کو اچانک طیش آ گیا۔
اس نے کمان سیدھی کی اور تیر چلانے ہی والا تھا کہ خیال آیا کیا انہیں مارنا نہیں چاہئے۔ ان کا تعاتب کر کے ان ٹھگوں کی بستی کا پتہ چلانا چاہئے۔ اس خیال کے آتے ہی اس نے تیر کمان سے نکال لیا اور کندھے پر کمان ڈال کر ڈھلان سے نیچے اترنے لگا۔ دو بڑی پھرتی سے نیچے اتر رہا تھا اور اس نے اس ٹھگوں کے جوڑے کو اپنی نظروں میں لیے ہوئے تھا ۔ ابلا کی وجہ سے ان کی رفتار زیادہ تیز نہ تھی۔ وہ چلتے چلتے رک جاتے تھے۔ جب وہ آدمی اس کی لگام کھینچا اور وہ لڑکی ابلا کی پیٹھ پر ڈنڈا مارتی تو وہ پھر سے چلنے لگتی۔
ہوگیا ۔ قامران جب پہاڑی سے اتر کر میدان میں پہنچا تو وہ میدان پار کر کے درختوں کے جھنڈ میں غائب ہورہے تھے۔ کامران نے دوڑ لگانا شروع کردی تا کہ وہ جلد سے جلد ان کے نزدیک پہنچ جائے۔ میدان پار کرتے ھی دشوار گزار راستہ شروع ہوگیا۔
اب وہ لوگ ایک بے حد تنگ پگڈنڈی سے گزر رہے تھے۔ نیچے گہری کھائی تھی اور اوپر بلند پہاڑ درمیان میں ہاتھ بھر چوڑا راستہ کہ ذرا بھی پاؤں پھسلے تو آدمی سیدها گہری کھائی میں جاگرے ہر دکھ سے آزاد ہوجائے۔
سب سے آگے مرد تھا اس کے پیچھے ابلا اس کے پیچھے لڑکی اور لڑکی کے پیچھے ریچھ سب آہستہ آہستہ بڑی احتیاط سے قدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔
پل صراط پار کر کے قدرے چوڑا راستہ شروع ہوگیا۔ اتنا چوڑا کہ ابلا اور وہ مرد، لڑکی اور ریچھ ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
کامران بڑے اطمینان سے ان کا تعاقب کررہا تھا۔ گھوڑی ہاتھ لگنے کی خوشی انہیں ضرورت سے زیادہ تھی کہ ایک بار بھی انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا گوارا نہیں کیا تھا۔ ویسے قامران نے اپنے اور ان کے درمیان اتنا فاصلہ رکھا تھا کہ مڑ کر دیکھنے پر وہ به آسانی درختوں کی اوٹ میں چھپ سکتا تھا۔ یہ تعاتب سورج ڈوبنے تک جاری رہا۔
آخر ٹھگوں کا جوڑا مختلف پیچ دار اور خطرناک راستوں سے گزرتا ہوا ایک سرنگ میں داخل ہو گیا۔
کامران جب سرنگ میں داخل ہوا تو اسے اپنے سامنے روشنی دکھائی دی۔ یہ سرنگ زیادہ بڑی نہ تھی۔ سرنگ خالی تھی ۔ اس نے دوڑ کر سرنگ پار کی تو وہ ٹھگوں کا جوڑا بائیں جانب اسے جاتا ہوا نظر آگیا۔ کامران نے ملگجی روشنی میں دور تک جھونپڑیاں ہی جھونپڑیاں دیکھیں۔ وہ ٹھگوں کی بستی میں تھا۔ ان ٹھگوں کی بستی میں جن کے ظلم دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ کامران نے ابھی چند قدم آگے ہی بڑھائے تھے کہ اچانک اس کی نگاہوں ک اندھیرا پھیل گیا۔ اس پر کسی نے کمبل ڈال دیا تھا اور اب کوئی اسے کندھے پر ڈالے دوڑا جا رہا تھا کامران اگر چاہتا تو مزاحمت کر کے چھٹکارا حاصل کرسکتا تھا۔ لیکن اس نے فی الحال خاموشی بہتر جان کر خود کو دریا کے بہاؤ پر ڈال دیا۔
وہ چار ٹھگ تھے۔ ایک لمبے چوڑے ٹھگ نے کامران کو اٹھا رکھا تھا۔ بات تین اسکے ساتھ ساتھ دوڑ رہے تھے۔ کچھ دیر دوڑنے کے بعد وہ ایک بڑی سی جھونپڑی کے سامنے رک گئے جھونپڑی ایک اونچے چبوترے پر بنی ہوئی تھی اور خاصی لمبی چوڑی تھی۔
لکڑی کا دروازہ کھول کر وہ چاروں اندر داخل ہوگئے۔ اس لمبے چوڑے ٹھگ نے کامران کو اوپر کے فرش پر پھینک دیا اور وہ چاروں اس کو گھیر کر کھڑے ہوگئے۔
کامران نے اپنے اوپر سے کمبل ہٹانے کی کوشش کی۔ لیکن فورا ہی ایک کڑک دار آواز سنائی دی ”خبر دار جو کمبل کھولنے کی کوشش کی““
کامران نے بھی فرمانبرداری سے ان کا کہنا مان لیا اور کمبل اچھی طرح سے اوڑھ لیا
اب ایک بھاری مونچھوں اور سرخ سفید چہرے والا آدمی اندر سے نکلا۔ اس کے ہاتھ میں ایک بڑا حقہ تھا۔ وہ حقه گڑگڑاتا چلا آرہا تھا۔ باہرآ کر اس نے کمبل سے لپٹے ہوئے آدمی کو دیکھا تو اسکی بھاری مونچھوں کے نیچے مسکراہٹ پھیل گئی۔
”کیا لائے ہو میرے بچو؟‘‘
”سردار سمبا، یہ ریچھ ہمارے علاقے میں گھوم رہا تھا"
"ہمارے علاقے میں؟‘‘ بھاری مونچھوں والے سردار سمبا نے حیرت سے کہا ”یہ کیا چیز ہے اس کا چہرہ تو کھاؤ“
اس سے پہلے کہ کوئی اس کے سر سے کمبل اتارتا قامران نے خود ہی اپنے چہرے سے کمبل اتارا اور مسکراتا ہوا کھڑا ہوگیا۔
سردار سمبا نے کامران کو بغور اوپر سے نیچے دیکھا۔
کامران نے ٹھگوں کے سردار کا چہرہ دیکھا تو اسے وہ راجہ یاد آگیا جو سوداگروں کو لوٹ کر فرار ہوگیا تھا۔ اسے وہ بڑا پروہت یاد آیا جس نے سورج گرہن دکھا کر پوری بستی کو اندھا اور کنگال کر دیا تھا۔ تو یہ ہے وہ ظالم؟ جس نے دور دور تک اپنے ظلم کے قصے پھیلائے ہوئے تھے۔
سردار سمبا نے حقے کا ایک گہرا کش لے کر اس لمبے چوڑے آدمی کو دیکھا جس نے کامران پر کمبل ڈالا تھا اور بولا "یہ یہاں تک کیسے آگیا؟"
"اگر اجازت ہو تو میں جواب دوں؟‘‘ قامران بولا۔
"ہاں کہو۔“ سردار سمبا نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔ ”ویسے اتنا جان لو کہ اس بستی میں غیر انسان داخل نہیں ہوسکتا....اگر ہوجاتا ہے یا ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اسے ہم میٹھی نیند سلا دیتے ہیں۔ ہم سے بچ کر نہیں جاسکتا....اب بولو تم یہاں تک کیسے پہنچے ہو؟"
"تمہارے آدمیوں کے ذریعے‘‘
”اس کا کیا مطلب ہے؟‘‘
”تمہارے آدمیوں نے میری گھوڑی اڑا لی ہے۔ میں ان کا پیچھا کرتا یہاں تک پہنچا" قامران نے حقیقت حال بیان کی۔ "اور اب تم سے انصاف کا طلب گار ہوں۔ مجھے میری گھوڑی واپس دلائی جائے۔ میں ایک غریب مسافر ہوں۔ اگر مجھے گھوڑی نہ ملی تو بے موت مارا جاؤں گا"
یہ سن کر سردار سمبا کو جلال آ گیا۔ اس نے اسی لمبے چوڑے آدمی سے کہا۔ " انہیں بلاؤ............ان کو کام کرنے کا سلیقہ نہیں۔"
وہ لمبا چوڑا آدمی فورا ہی جھونپڑی سے نکل گیا۔
کمبل اوڑھ لو اور اس کونے میں بیٹھ جاؤ" سردار سمبا نے کامران کو حکم دیا۔ کامران نے فورا حکم کی تعمیل کی۔ جھونپڑی میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ وقفے وقفے سے حقے کی گڑ گڑ کی آواز آ رہی تھی
تھوڑی دیر کے بعد دروازے پر آہٹ ہوئی۔ کامران نے کمبل کی اوٹ سے دروازے کی طرف دیکھا۔ وہ دونوں جنہوں نے اس کی گھوڑی اڑائی تھی مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔
"آج تم لوگوں نے کیا کارنامہ کیا جو اتنے ہنستے ہوئے آرہے ہو؟‘‘ سردار سمبا نے نرمی سے پوچھا۔
”سردار ہم لوگ شہد اکٹھا کرنے نکلے تھے کہ اچانک ایک شکار پھنس گیا۔ ہم نے اس گھوڑی اٹھا لی۔“ اس آدمی نے بڑے فخر سے کہا۔
“جس کی گھوڑی تھی وہ کہاں گیا؟"
”وہ جنگل میں بھٹکتا ہوگا اور ہمیں یاد کرتا ہوگا۔" اس مرتبہ لڑکی بولی۔
”اچھا ذرا اپنے پیچھے دیکھو۔“ سردار سمبا نے کہا ”نوجوان ذرا کمبل ہٹاؤ“
کامران کمبل اتار کر کھڑا ہوا تو ان دونوں کی سٹی گم ہوگئی۔
”بے وقوف یہ تمہارا پیچھا کرتا ہوا یہاں تک پہنچا ہے...کیا شکار کرنے کا یہی طریقہ ہے؟" سردارسمبا کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔
وہ دونوں فوراً سردار کے قدموں میں گر گئے اور اپنی غلطی کی رو رو کر معانی مانگنے لگے۔
”اب کچھ نہیں ہوسکتا۔“ سردار سمبا نے فیصلہ کن انداز میں کہا۔
”سردار سمبا...صرف ایک دفعہ معاف کردو...آئنده زندگی بھر ایسی بھول نہیں ہوگی۔“ دونوں گڑگڑائے۔
"شوکی؟“ سردار سمبا اس لمبے چوڑے آدمی سے مخاطب تھا۔ ”جاؤ ان دونوں کو تمباکو کھلانے کا انتظام کرو"
سردار سمبا کا حکم سنتے ہی دونوں کے چہروں پر زردی پھیل گئی۔ چند لمحوں کے لیے ان پر سکتا طاری ہوا ان کے ہونٹوں پر لرزش ہونے لگی۔ جیسے کچھ کہنا چاہتے ہوں لیکن قوت گویائی ساتھ نہ دے رہی ہو
پھر اچانک کامران نے ان دونوں پر کمبل پڑتے دیکھے۔ یہ کمبل کہاں سے اڑتے ہوئے آئے وہ نہ دیکھ سکا۔ البتہ اس نے ان دونوں کو رسیوں سے جکڑتے ہوۓ ضرور دیکھا۔ شوکی اور اس کے ساتھیوں نے کمبل ڈال کر ان کا جسم اس طرح رسیوں سے جکڑ دیا تھا کہ وہ بیٹھ سکتے تھے لیکن ہاتھ نہیں ہلا سکتے تھے ۔ شوکی اور اس کے ساتھی ان دونوں کو ہانکتے ہوئے لے گئے۔ ان کے جانے کے بعد سردار سمبا نے حقے کا ایک گہرا کش لیا اور فضا میں دھواں چھوڑتے ہوئے بولا
"نوجوان۔۔۔۔! آرام سے بیٹھ جاؤ“ کامران نے حیرت سے سردار سمبا کو دیکھا لہجے کی نرمی نے اسے چونکا دیا تھا۔ وہ آرام سے بیٹھنے کا کہہ رہا تھا آرام سے بیٹھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔
"نو جوان تم کون ہو۔کہاں سے آئے ہو اور کہاں جارہے تھے؟" سردار سمبا نے پوچھا۔
"سردار مجھے سیاحت کا شوق ہے دنیا دیکھنے نکلا ہوں۔ مشرق سے آیا ہوں اور نہیں جانتا منزل کہاں ہے۔۔۔۔؟ میرا نام کامران ہے۔“ اس نے اپنا تعارف کروایا۔
کامران ميں تم سے بہت خوش ہوں۔ ابھی تھوڑی دیر میں ایک تماشا ہونے والا ہے۔ ان لوگوں کا حشر اپنی آنکھوں سے دیکھو گے جنہوں نے تمہاری گھوڑی اڑائی... اس تماشے کے بعد میں تم سے بات کروں گا.......في الحال تم میرے مہمان ہو" کہہ کر سردار نے تالی بجائی اور تالی کے ساتھ آواز دی ’’ادانہ“
”بابو آئی۔“ اندر سے فورا جواب آیا۔
تب قامران کے کانوں میں گھنگرو بج اٹھے۔ کوئی چھم چھم چلتا اس کے اور دل پر یو سوار ہوا کہ اس کے ہوش اڑ گئے۔
کالی، لمبی اور گھنیری زلفیں، ہیرے کی طرح جگمگاتی آنکھیں، ریشمی رخسار، پھول گلابي ہونٹ، ہونٹوں پر قیامت خیز مسکراہٹ ہر ادا میں بانکپن شوخی اورلگن۔
کامران جہاں تھا وہیں بیٹھا رہ گیا، پتھر ہوگیا بت بن گیا۔
تب ادانہ کھلکھلا کر ہنس دی کامران کی محویت ٹوٹی اسے ہوش آیا۔ وہ اپنی محویت پر شرمنده ہوا اور ادانہ اپنے حسن پر نازاں۔
وہ اداۓ دلربائی سے قامران کی طرف بڑھی۔ اس کا ہاتھ پکڑا۔
سردار سمبا یہ دیکھ کر ہنستا ہوا اندر چلا گیا۔
کامران نے فوراً ہی اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا اور اس سے الگ ہوکر بیٹھ گیا۔ ادانہ کو دیکھ کر کامران کو بہت سارے شعر یار آ گئے تھے اور وہ ان اشعار کو اس کے حسن کے ہدیہ کے طور کرنے والا تھا کہ ادانہ نے اسے اپنے پہلو میں گرا کر اس کی نازک خیالی کو کرچی کرچی کردیا۔
تب کامران نے بڑے دکھ سے سوچا۔۔۔۔۔یہ دیوتا حسین عورتوں سے ان کی عقلیں کیوں صلب کرلیتا ہے۔ حسن دے کر انہیں بدذوق کیوں بنا دیتا ہے۔ ان سے ان کی ذہنی نزاکتیں کیوں چھین لیتا ہے۔
”حسین اجنبی کیا سوچنے لگے؟“ ادانہ نے اپنی بڑی بڑی پلکیں جھپکاتے ہوئے پوچھا۔
”ادانہ کیا تمہیں رقص آتا ہے۔۔۔؟“ کامران نے غیر متوقع سوال کیا۔
’’ہاں آتا ہے۔کیوں؟““
”بس یونہی پوچھا تھا۔“
تب قامران کو وہ رقاصہ یاد آئی جس نے تاجروں کے سامنے رقص کیا تھا اور انہیں اپنے ہاتھوں سے نشہ آور مشروب پلا کر گہری نیند سونے پر مجبور کردیا۔
وہ رقاصہ جو راجہ کے تالی بجانے پر نمودار ہوئی تھی اور اس کے جلوہ افروز ہوتے ہی ایک بجلی سی کوندی تھی ایک شعلہ سا لپکا تھا اور ہر شخص دل تھام کر رہ گیا تھا۔
کڑیوں سے کڑیاں ملتی جارہی تھیں۔ راجہ تالی بجا کر چلا گیا تھا اور رقاصہ اس کے سامنے موجود تھی۔
”سردار سمبا سے تمہارا کیا رشتہ ہے؟“ پھر ایک غیر متوقع سوال ہوا۔
”کیا فضول باتیں لے بیٹھے ہو اس وقت کی قدر کرو جو قسمت سے تمہیں ملا ہے...لطف اٹھاؤ حسن کی وادیوں میں گم ہوجاؤ پیار کے سمندر میں ڈوب جاؤ کہ پلپل نشہ ہے اور سردار سمبا بار بار ہر شخص پر مہربان نہیں ہوتا۔‘‘ وہ ایک ادا سے بولی
لیکن کامران پر ان خوش اداؤں اور خوش نداؤں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ جس لڑکی نے پہلے اس کے ہوش اڑا دیئے تھے اب وہی اس کے لیے زہریلی ناگن بنتی جا رہی تھی
کامران اچانک اس کے پاس سے اٹھ گیا اور بڑی بے نیازی سے دروازے کی طرف بڑھا۔ ادانہ نے اسے حیرت سے دیکھا اور اس کے پیچھے آتے ہوئے بولی ۔
”کہاں جارہے ہو؟“
”باہر کھلی فضا میں““
”تم مجھے چھوڑ کر باہر جارہے ہو اس لڑکی کو چھوڑ کر باہر جارہے ہو جس کی ایک نگاہ کے لیے ہزاروں مرد ترستے ہیں۔ جس کا ایک جلوہ لوگوں کو ہزاروں سال یاد رہتا ہے۔ تم کیسے مرد ہو تم مجھے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔ میں اپنی توحین کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتی۔“ ادانه قامران کے نزدیک آ گئی اور اسے حیرت سے دیکھنے لگی
کامران جاتے جاتے رک گیا۔ اس نے گھوم کر ادانہ کو دیکھا اور بہت نرمی سے بولا۔ ”اگر رک جاؤں تو............"
وہ ابھی اپنی بات پوری نہ کر پایا تھا کہ ادانہ کا بھر پور ہاتھ اس کے منہ پر پڑا۔ کامران چند کے لمحے کے لیئے سکتے میں آ گیا۔ پہلے تو اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ یہ ہوا کیا۔ یہ ایک غیر متوقع فعل تھا اور قامران کو ہرگز امید نہ تھی کہ وہ اس کے اٹھنے کو اس حد تک محسوس کرے گی کہ آپے سے باہر ہو جائے گی۔ اس پر ہاتھ اٹھا بیٹھے گی۔
بہر حال جو ہونا تھا ہو چکا تھا۔ ادانہ اپنے حسن سے بے نیازی کا بدلہ لے چکی تھی۔ اس کا ہاتھ بے اختیار اٹاھا تھا۔ وہ تصور بھی نہیں کرسکتی تھی کہ کوئی مرد اس بری طرح ٹھکرا کر بھی جاسکتا ہے۔
اب یہ ردعمل کا وقت تھا۔ غصے سے قامران کا چہرہ سرخ ہو چکا تھا۔ اس نے اپنے کندھے سے کمان اتاری اور اس پر تیر چڑھاتا ہوا بولا۔ میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔"
"میں خود بھی نہیں چاہتی کہ تم مجھے چھوڑو"
ادانہ ذرا بھی پریشان نہ ہوئی۔ وہ بڑے سکون سے بولی ”تمہارے ہاتھوں مرکر مجھے سکون ملے گا اے حسین اجنبی"
”لو پھر مرو۔“ قامران نے اس کے سینے کا نشانہ لیا۔
اس سے پہلے کہ کمان سے تیر نکلتا اور ادانہ کو سکون کی نیند سلا دیتا اسے اپنے دل کےقریب چاندکا کی آواز سنائی دی۔
”غصہ تھوک دو کامران۔۔۔۔ ذرا صبر سے کام لو"
تب قامران تلملا کر رہ گیا۔ وہ بڑی تیزی سے گھوما اور اس نے تیر چھوڑ دیا۔ تیر سنسناتا ہوا نکلا۔ پھر اس نے جلد ہی اپنے غصے پر قابو پالیا۔
تب ادانہ مسکراتی ہوئی قامران کی طرف آئی۔ اس کے بالکل قریب آ کر دھیرے سے کہا ” تم کیسے مرد ہو۔۔۔؟ تم سے زندگی مانگی تو تم دامن جھٹک کر باہر کی طرف چل دیئے۔ پھر موت مانگی تمہارے ہاتھوں ابدی سکون حاصل کرنا چاہا لیکن تم یہاں بھی ناکام ہو گئے...اب میں یہاں ٹھہر نہیں سکتی۔ جاتی ہوں اور اندر سے سردار سمبا کو بھیجتی ہوں۔““
یہ کہہ کر ادانہ ایک جھٹکے سے مڑی اور سنہری ناگن کی طرح بل کھاتی اندر چلی گئی۔
کامران نے ایک جھٹکے سے کمان کندھے پر ڈالی اور زیر لب بڑبڑیا۔
"فکر مت کرو تمہیں جلدی بتا دوں گا کہ میں کیسا مرد ہوں۔“
تھوڑی دیر میں سردار سب اندر سے نکلا۔ اس وقت چند آدمی باہر سے اندر آئے۔ ان میں شوکی بھی تھا۔ وہ بولا۔ ”سردار تمباکو کھلانے کے تمام انتظامات مکمل ہیں۔"
”ٹھیک ہے پھر چلتے ہیں۔“ سردار سمبا نے کہا
پھر وہ قامران سے مخاطب ہوکر بولا۔ ”کامران باہر چلیں"
کامران نے جواب دینے کے بجائے سردار سمبا کے ساتھ ہولیا۔
بستی کے چھوٹے سے میدان میں ایک بڑا سا الاؤ روشن تھا۔ اور اس الاؤ کے چاروں بستی کے لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ الاؤ کے قریب زمین پر دو بلیاں گڑی ہوئی تھیں اور ان بلیوں۔میں وہ دونوں جکڑے ہوئے تھے۔ کچھ اس طرح کہ باوجود کوشش کے وہ ہل بھی نہیں سکتے تھے۔ دونوں کے چہروں پر مردنی چھائی ہوئی تھی۔ خاص طور سے لڑکی کی حالت بہت خراب تھی۔
سردار سمبا کو دیکھ کر لوگوں نے احتراماً اس کے لیے جگہ چھوڑ دی۔ وہ اندر داخل ہوکر نیچے بچھی ہوئی چٹائی پر بیٹھ گیا۔ سردار سمبا نے کامران کو بھی اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ کامران خاموشی سے حکم کی تعمیل کی۔
سردار سمبا کے بیٹھتے ہی ایک بھاری سا حقہ اس کے سامنے لا کر رکھ دیا گیا۔ سردار حقے کی نے پکڑ کر دو تین گہرے کش لیے اور اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔ اس کے اٹھتے ہی بستی کے تمام لوگ بیٹھ گئے۔ کامران بھی بیٹھا رہا۔
”بستی والو۔۔۔۔! سردار سمبا کی بات غور سے سنو“ سردار سمبا نے اچانک چیخ کر کہا۔
لوگ پہلے ہی سے خاموش تھے اور خاموش ہو گئے۔
"میں نے دنیا میں بہت سے بے وقوف دیکھے ہیں۔ لیکن ان دونوں جیسا بے وقوف نہیں دیکھا۔ انہوں نے آج ایک نوجوان کو شکار کیا۔ اسے فریب دے کر اس کی گھوڑی چھینی یاں تک تو اچھا کیا۔ اس کے بعد اتنے خوش ہوئے کہ یہ بھی خیال نہ رہا کہ گھوڑی کا مالک ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ آخر وہ گھوڑی کا مالک ان دونوں احمقوں کا پیچھا کرتے کرتے ہمارے ٹھکانے تک آ پہنچا۔ بستی والو۔۔۔۔! اب تم بتاؤ کیا یہ ٹھیک ہوا؟““
"نہیں............بہت برا ہوا۔“
" پھر میں نے ان کی جو سزا مقرر کی ہے وہ زیادہ تو نہیں؟“ سردار سمبا نے پوچھا۔
“نہیں بہت کم ہے۔“ سردار سمبا بستی والوں کا یہ جواب سن کر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔ کیونکہ جو سزا انہیں دی جانے والی تھی وہ زیادہ سے زیادہ تھی...آخری سزا۔
سردار سمبا کے چٹائی پر بیٹھتے ہی شوکی آگے بڑھا اور سردار سمبا کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا جیسے کسی حکم کا منتظر ہو۔
”تمباکو کھلاؤ“ سردار سمبا نے حقے کا گہرا کش لیتے ہوئے حکم دیا۔
پھر سردار سمبا نے اپنی کمر سے دو ریشمی رومال کھول کر شوکی کی طرف بڑھائے۔ کامران نے دیکھا ان رومالوں کے ایک سرے پر لوہے کے چھلے بندھے ہوئے تھے۔ شوکی نے رومال ایک ہاتھ میں تھاما ایک مضبوط آدمی منتخب کیا اور بندھے ہوئے مجرموں کی جانب بڑھا۔
شوکی نے پہلے لڑکی کے گلے میں رومال لپیٹا اور اس کا ایک سرا چھلے سے گزار کر کس دیا اور دوسرے سرے کو اس مضبوط آدمی کے ہاتھ میں دے دیا۔ شوکی نے مرد کے گلے میں رومال ڈالا اور اسے تھام کر کھڑا ہوگیا۔
”ٹھیک ہے۔“ سردار نے زور سے کہا اور اپنی بھاری مونچھوں کو مروڑا۔
اشارہ ملتے ہی شوکی اور دوسرے آدمی نے رومال کھینچنا شروع کیے۔ جیسے جیسے رومال کھینچتے دونوں کی جانیں گلے میں اٹکتی جاتیں۔ آخر وہ وقت بھی آیا جب ان دونوں کا زمیں سے رشتہ ٹوٹ گیا اور ان کی گردنیں ڈھلک کر ان کے شانوں پر آ گریں۔ پھر الاؤ میں جلتی موٹی لکڑیاں اٹھا اٹھا کر ان کی طرف پھینکی جانے لگیں۔ جلد ہی ان کی لاشیں سرخ لپکتے شعلوں میں دب گئیں۔
شوکی فاتحانہ چال چلتا سردار سمبا کے نزدیک پہنچا۔ سردار سمبا نے اپنا حقہ اس کے سامنے رکھا۔ شوکی نے حقه اٹھایا اور پھر واپس جلتی چتاؤں کی طرف بڑھا۔ اس نے سردار سمبا کا بڑا حقه شعلوں کی نذر کردیا۔ شعلوں میں گرتے ہی لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔ تمبا کو کھلانے کی رسم پوری ہوئی تماشہ ختم ہوا۔
”ہاں نوجوان............اب تم بتاؤ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے؟“ سردار سمبا قامران کے کندھے پر ہاتھ رکھے آگے بڑھا۔
سردار سمبا کا سوال کچھ عجیب سا تھا اس نے چونک کر دیکھا۔ سردار سمبا کا چہرہ سپاٹ تھا۔
”سردار میری گھوڑی واپس دلائی جائے۔“ کامران نے دھیرے سے کہا۔
"گھوڑی کوئی مسئلہ نہیں وہ تو مل جائے گی۔" سردار سمبا نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ”قامران میں تمہیں اپنی برادری میں شامل کرنا چاہتا ہوں“
”برادری کامران نے تعجب سے کہا۔ "سردار تمہارا پیشہ کیا ہے؟" "باہر والوں کو فنکاری سے لوٹنا.....اگرتم جیسا ذہین نوجوان ہماری برادری میں شامل ہو تو ہم ابادان کے راجہ تک کی آنکھوں میں دھول جھونک سکتے ہیں۔"
"کیا وہ بہت ہوشیارآ دمی ہے؟"
”ہاں بہت ہوشیار ایک بار میں نے اس پر جال پھینکنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن وہ چکنی مٹی کی طرح ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا۔ میرے چار آدمی اس مہم میں مارے گئے۔“
”میں اگر تمہاری برادری میں شامل ہو جاؤں تو مجھے کیا فائدہ؟ مجھے تو کسی کو لوٹنے کا فن نہیں آتا"
”ٹھگ ودیا میں تمہیں سکھاؤں گا‘‘ سردار سمبا نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا۔
”ٹھیک ہے مجھے کچھ سوچنے کا موقع دو"
”سوچو...خوب سوچو...پوری رات پڑی ہے۔“ سردار سمبا نے ہنستے ہوئے کہا۔ ”میرا خیال ہے کہ صبح کا سورج میرے حق میں فیصلہ لے کر طلوع ہوگا
”ممکن ہے۔" کامران نے جواب میں کہا۔
جب وہ سردار سمبا کے ساتھ اس کی جھونپڑی میں داخل ہوا تو اس کا دل سن سا رہ گیا اسے کچھ یاد آ گیا۔ ادانہ کا مارا ہوا تھپڑ اس کے خون میں سنسنی پھیل گئی۔ وہ اندر ہی اندر لاوے کی آگ میں پکنے لگا۔ انتقام کی آگ اسس جھلسانے لگی۔ ادانہ اسے بہت دیر سے دکھائی نہیں دی تھی۔ وہ تمباکو والی رسم کے دوران بھی غیر حاضر تھی۔ جبکہ میدان میں اس وقت بستی کا بچہ بچہ موجود تھا۔ وہ آخر کہاں گئی تھی؟
اچانک قامران کو جھونپڑی کے اندرونی حصے سے چیخ کی آواز سنائی دی۔ سردار اندر کی طرف بھاگا لیکن وہ ابھی اندر بھی نہیں جا پایا تھا کہ کامران نے وہ ہولناک منظر دیکھا۔ ادانہ کے کپڑوں میں آگ لگی ہوئی تھی۔ وہ چاروں طرف سے شعلوں میں گھری بھاگتی آرہی تھی۔ کامران اسے دیکھ کر ایک کونے میں ہوگیا۔ سردار نے لپک کر اس پر کمبل ڈالا لیکن ناکام رہا۔ اتنی دیر میں وہ چیختی ہوئی جھونپڑی سے باہر نکل گئی۔
سردار تیزی سے دروازے پر آیا اور چیخ کر بولا ”ادانه۔۔۔۔! رک جاؤ"
ادانہ نے جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔ وہ شعلوں میں گھری چیختی ہوئی بھاگی جارہی تھی اور اس کیرفتار حیرت انگیز طور پر تیز تھی۔ سردار سمبا ادانہ کے تعاقب میں دوڑ پڑا۔ کامران نے بھی اس کی تقلید کی آگے کئی جگہ سردار کے آدمیوں نے اس پر کمبل ڈالنے کی کوشش کی لیکن وہ کسی کی گرفت نہ آ سکی۔ آخر وہ سرنگ سے نکل گئی۔
جب سردار اور کامران سرنگ کے باہر پہنچے اور انہیں ایک دلخراش منظر سے دو چار ہونا پڑا ادانہ نے ہزاروں فٹ گہری کھائی میں چھلانگ لگا دی تھی اور اس وقت وہ بڑی تیزی سے زمین کی طرف جارہی تھی۔ پھر سردار سمبا نے اس کی آخری چیخ سنی اور نیچے بہت دور تک اسے شعلوں میں لپٹا وجود دکھائی دیتا رہا۔
ادانہ کی جلتے شعلوں کے ساتھ کھائی میں چھلانگ لگانے کی اطلاع آناً فاناً گھر گھر پہنچ گئی سب حیران تھے کسی کو یقین نہیں آرہا تھا کہ دوسروں کو اپنے تیر نظر سے گھائل کرنے والی ادانه اس طرح سے مر سکتی ہے۔ سردار کی حالت اس وقت قابل دید تھی۔ وہ نیچے گہرائی میں ایک ٹک دیکھے جارہا تھا۔ اور اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسو ڈھلک کر اس کے چہرے پر بہہ رہے تھے۔ تب قامران اس کے نزدیک آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا ”بھول جاؤ اوانہ کو“
”نہیں...اسے میں کبھی نہیں بھول سکتا۔“ سردار سمبا نے اپنے رندھے ہوئے لہجے میں کہا۔ ”جانے کیا ہوا۔۔۔۔؟ اتنی دیر میں اس پر کیا بیت گئی۔ کس منحوس لمحے نے اسے انتہائی قدم الاٹھانے پر مجبور کردیا۔ ادرانہ تو بڑی باہمت لڑکی تھی۔ اس نے خودکشی کیوں کر لی اور وہ بھی اس قدر ظالمانا انداز سے“
”سردار....! ادانہ تمہاری کون تھی؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
”میری بیٹی!“
”تمہاری بیٹی...؟‘‘ کامران حیرت زدہ رہ گیا۔
نہیں...وہ تمہاری بیٹی نہیں ہوسکتی۔ اس نے تمہاری موجودگی میں مجھے اپنے پہلو میں گراليا اور تم ہنستے ہوئے اندر چلے گئے تھے۔ کوئی بیٹی اپنے باپ کے سامنے ایسا کرتی ہے۔۔؟ اور کون باپ اپنی بیٹی کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ سکتا ہے۔ کامران نے سوچا اور سوچتا رہ گیا۔ کچھ کہہ نہ سکا یہ کہنے کا وقت نہ تھا۔
پھر جانے یہ بات کس نے کی اور کس طرح بستی میں پھیلی اب ہرشخص کی زبان پر یہی تھا، ان دونوں کی روحوں نے جنہیں سردار نے گلا گھونٹ کر نذر آتش کروا دیا تھا اس کی بیٹی کو لے گئے۔
یہ اگرچہ عجیب بات تھی لیکن لوگوں نے اس پر یقین کرنا شروع کردیا تھا۔ جبکہ کامران کو اس پر یقین نہ آیا تھا۔
یہ ٹھیک ہے کہ ادانہ نے قاجران کو تھپٹر مار کر اس کے اندر آتش انتقام بھڑکا دی تھی اور دوبارہ جھونپڑی میں داخل ہوا تو انتقام کے شعلے اس کے دل میں جل رہے تھے۔ لیکن اس قطعی اندازہ نہ تھا کہ اس قدر جلد وہ اپنے انتقام کو اصل صورت میں دیکھ لے گا۔
چاہے ادانہ نے خودکشی کی ہو یا ان دونوں کی لاشوں نے اپنا انتقام لیا ہو بہر حال ادانہ کی موت نے قامران کو سکون پہنچایا تھا۔ سردار کا ایک خطرناک مہرہ بڑی آسانی سے خود بخووٹھکانے لگا تھا
سردار سمبا نے اپنے آنسو پونچھ ڈالے اور کامران کو اپنے ساتھ آنے کا اشارہ کر کے ان لوگوں سے آگے بڑھنے لگا۔ سرنگ پارکر کے سردار نے میدان کا رخ کیا۔ جہاں ان دونوں کو جلایا گیا تھا۔ میدان میں پہنچ کر اس نے شوکی کو حکم دیا۔
”آگ بجھاؤ“
آگ پہلے ہی خاصی کم ہوگئی تھی۔ شوکی نے اپنے دوسرے ساتھیوں کی مدد سے آگ بالکل ٹھنڈی کر دی
”ان دونوں کے سر نکالو“ پھر حکم ہوا۔
شوکی نے جلی ہوئی لاشوں کے سر تلاش کر کے اپنے سردار کے قدموں میں رکھ دیئے۔
"کلہاڑی لاؤ“
چندلمحوں میں سردار کے سامنے ایک تیز کلہاڑی حاضرکردی گئی۔
سردار سمبا نے کلہاڑی ہاتھ میں لے کر بلند کی اور تڑاتڑ ان دونوں کے سروں پر بسانے لگا سردار پر جنونی کیفیت طاری تھی اور وہ ہذیانی انداز میں بولے جارہا تھا۔
"اب تمہاری روحیں کدھر چھپی ہوئی ہیں........بلاؤ انہیں...........اب کو مجھ سے انتقام میری ادانہ نے کیا بگاڑا تھا....بلاؤ اپنی روحوں کو بلاؤ۔۔۔بلاتے کیوں نہیں بلاتے کیوں نہیں؟"
تامران آگے بڑھا اس نے سردار سمبا کا ہاتھ پکڑ لیا اور اسے زور سے ہلاتے ہوئے بولا ”سردار ہوش میں آ"
ہٹ جاؤ نوجوان....میں ان کے سروں کا قیمہ کر دوں گا۔ بستی کے سب لوگ کہہ رہے ہیں، انہوں نے میری بیٹی کو مارا ہے۔ اب ہمت ہے تو میرے سامنے آئیں مجھے ماریں۔"
”سردار سمبا...........یہ میرے ہوئے ہیں............. یہ زندہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکے تو مر کر کیا بگاڑ لیں گے سوچنے کی بات ہے........... ذرا عقل سے کام لو اور ہوش میں آؤ“ کامران نے اسے سمجھاتے ہوئے اس سے کلہاڑی چھین لی۔
تب سردار نے ان دونوں کی کھوپڑیاں اٹھائیں اور سرنگ کی طرف بھاگنے لگا۔۔ اسے بھاگتے دیکھ کر کامران نے اس کا تعاقب کیا اور اپنے ساتھ شو کی اور اس کے ساتھی کو بھی لے گیا۔۔
سرنگ سے نکل کر سردار سمبا کھائی کے نزدیک پہنچا اور دونوں کھوپڑیوں کو کھائی کی طرف اچھال دیا اور انہیں گرتے ہوئے بڑی آسودگی سے دیکھنے لگا۔
کھائی اتنی گہری تھی کہ کھوپڑیوں کے زمین پر گرنے کی آواز بھی نہ آئی۔ سردار سمبا جانے کب تک وہاں کھڑا رہتا کہ قامران نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر نرمی سے کہا ”سردار سمبا اب گھر چلو“
"ہاں....! قامران اب گھر چلنا ہی ہوگا.....آؤ چلو" سردار سما نے گہری سانس لی اور پھر بستی کی طرف چل دیا۔
سرنگ سےنکل کر سردار نے شوکی سے کہا ” جاؤ اور ان کے گھر سے اس گھوڑی کو لے آؤ اور اسے میرے مکان پر پہنچا دو۔“
شو کی یہ سن کر ایک طرف دوڑ گیا جبکہ سردار سمبا قامران کو لیے اسی طویل و عریض جھونپڑی میں آ گیا۔
ان دونوں کے سروں پر کلہاڑی برسا کر اور ان سروں کو کھائی کی نذر کر کے سردار کا جنون کافی حد تک کم ہوگیا تھا۔ اب وہ کسی قدر پرسکون نظر آ رہا تھا۔
کامران نے سردار سمبا کے اندر جانے کے بعد آرام سے پاؤں پھیلا لیے اور مزید اور سردار تجویز پر غور کرنے لگا۔
سردار سمبا اسے اپنی برادری میں شامل کرنے کا خواہش مند تھا۔ اگرچہ اس نے شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ قامران پر چھوڑ دیا تھا۔ لیکن قامران یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر اس نے انکار کیا تو پھر موت سے ہمکنار ہونا پڑے گا۔ کیونکہ سردار سمبا اسے پہلے ہی یه بات اسے بتا چکا ہے کہ اس بستی میں داخل ہونے والا اجنبی زندہ واپس نہیں جاتا۔
پھر وہ کیا کرے۔۔۔؟
یہ سوچتے سوچتے اس پر غنودگی طاری ہونے لگی اور وہ کچھ فیصلہ کیے بنا ہی نیند میں چلا گیا۔ کامران جانے کتنی دیر سویا ہوگا کہ اچانک اس نے اپنے چہرے پر روشنی محسوس کی اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں۔ تب اس کی آنکھوں نے ایک عجیب جلوہ دیکھا۔ اس نے دیکھا جیسے چاند اس کے سرہانے اتر آیا ہو۔ ٹھنڈی ٹھنڈی روشنی کے ساتھ۔ اس کے دل و دماغ کو معطر کرنے والے کنوارے بدن کی مسحور کن خوشبو.....چاندکا اس کے سرہانے بیٹھی جگمگا رہی تھی۔
کامران فوراً اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی آنکھیں مل کر اسے دیکھنے لگا۔ چاندکا اسے آنکھیں ملتے دیکھ کر مسکرا دی اور اسے باہر چلنے کا اشارہ کیا۔ کامران پڑی آہستگی سے اٹھا اور بڑی خاموشی اسکے پیچھے باہر نکل گیا۔
پھر دونوں نے ایک ایسا گوشہ تلاش کرلیا جہاں بیٹھ کر وہ بڑے اطمینان سے باتیں کر سکتے چاند ڈھلتا رہا اور چاندکا اپنی تمام تر جلوہ آرائیوں کے ساتھ جگمگاتی رہی۔ بہت سی باتیں ہوئیں۔کچھ اس نے کہا کچھ اس نے سنیں، کچھ مشورے ہوئے۔ کچھ ہدایتیں ملیں نئے نئے منصوبے بنے۔ کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے۔ کامران سنتا رہا اور ہر بات گرہ میں باندھتا رہا۔ یہاں تک کہ صبح کے آثار نمودار ہونے لگے۔
جب چاندکا انگڑائی لے کر اٹھی۔ کامران نے اس لچکیلی کمان کو دیکھا تو ہزاروں تیر اس کے دل میں پیوست ہو گئے۔
کمان سیدھی ہوئی اسے گہری نظر سے دیکھ کر مسکرائی اور فضا میں تحلیل ہوگئی۔ کامران گھائل وجود لیئے جھونپڑری کی طرف چلا۔ اس کی سانسوں میں چاندکا کی خوشبو بڑی دیر تک بسی رہی۔
جب وہ جھونپڑی میں آ کر لیٹا تو اس کی آنکھیں نیند سے بوجھل تھیں۔ وہ لیٹتے ہی بے خبر سو گیا۔
سردار سمبا نے روشنی پھوٹنے کے بعد کئی مرتبہ کامران کو جگانے کی کوشش کی لیکن ہر بار نیند میں ڈوبا دیکھ کر پیچھے ہٹ گیا۔ جب دن خاصا چڑھ گیا اور کامران نے کروٹ بھی نہ بدلی تو سردار سمبا نے مجبور ہوکر کامران کو جگایا
"اے نوجوان..........اٹھ“
سردار سمبا کے ہاتھ لگاتے ہی کامران ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور سورج کو خاصا چڑھا دیکھ کر حیران ہوا۔ ضروریات سے فراغت کے بعد سردار سمبا نے کامران کے سامنے کچھ کھانے پینے کی اشیاء رکھی کامران نے خوب سیر ہو کر ناشتہ کیا۔
"ہاں نوجوان تم نے کیا سوچا؟‘‘ سردار سمبا نے پوچھا۔
"میں نے تمہاری برادری میں شامل ہونے کا فیصلہ کرلیا ہے۔‘‘ کامران نے سردار سمبا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
سردار سمبا یہ سن کر بے حد خوش ہوا۔ اس نے خیر سگالی کے طور پر کامران کے رخساروں کا بوسہ لیا اس کا ہاتھ پکڑ کر ایجاب و قبول کیا۔
" سردار سمبا.....اب جبکہ میں تمہاری برادری میں شامل ہوگیا ہوں اور میں نے تمہیں اپنا سردار مانا ہے تو میرا فرض ہے کہ میں تمام حقائق سے تمہیں آگاہ کردوں۔‘‘ کامران نے بڑے سچے کھرے لہجے میں کہا۔
"کیسے حقائق؟" سردار نے اسے چونک کر دیکھا۔
"میں دراصل وہ نہیں ہوں.............جو بظاہر نظر آتا ہوں۔“
”گویا تم کہنا چاہتے ہو کہ تم سیاح نہیں ہو؟“
"سیاح تو میں ہوں پر سیاحت میرا پیشہ نہیں ہے.... میں دراصل سونے کی تلاش میں نکلا ہوں“
”سونا؟“ سونے کا ذکر سن کر جیسے سردار سمبا کی رال ٹپکنے لگی۔ ”کہاں ہے سونا؟“
تب کامران نے سردار سمبا کا چہرہ غور سے دیکھا۔ یہ وہی سردار تھا جس کی بیٹی کو مرے ہوئے چند گھنٹوں سے زیادہ نہ ہوئے تھے۔
بیٹی کے غم کو سونے کی چمک دمک نے چند لمحوں میں زائل کر دیا تھا۔
حرص و ہوس کے سمندر میں ڈوبے سردار کی عجیب حالت تھی ۔ سونے کے ذکر نے ہر غم سے بیگانہ کردیا تھا۔ وہ اپنی باچھیں کھولے کامران کے جواب کا منتظر تھا۔ کامران اس کی حالت دیکھ کر مسکرائے بنا نہ رہ سکا۔
”سردار وہاں اتنا سونا ہے اتنا سونا کہ دیکھو گے تو ہوش گنوا بیٹھو گے۔“ قامران نے بے قراری کو مزید ہوا دی۔
”سونے کا ذکر سن کر وہ واقعی پریشان ہوگیا۔ وہ کامران کے اور قریب آی خوشامدانہ لہجے میں بولا ”کہاں ہےسونا...؟ کچھ بتاؤ تو سی....؟‘‘
”وہ جگہ تو خود میں نے بھی نہیں دیکھی سردار“ یہ کہہ کر کامران رکا۔
سردار کے چہرے پر مایوسی پھیل گئی۔
”لیکن میں اس جگہ کے بہت نزدیک پہنچ گیا ہوں“ کامران پھر رکا
سردار سمبا کے مایوس چہرے پر پھر سے امید کی کرن پھوٹی۔
”وہ نشانیاں جو مجھے اس بابا نے بتائی تھیں سب ملتی جاری تھیں۔ اگر تمہارے لوگوں نے میری گھوڑی نہ اڑائی ہوتی تو شاید میں اب تک ان کھنڈرات میں پہنچ بھی چکا ہوتا اور سونا حاصل کرکے اپنے وطن لوٹ رہا ہوتا۔ اب تم مل گئے ہو تو تم بھی ساتھ چلو بلکہ بستی کے تمام لوگوں کو ساتھ لے لو کہ زیادہ سے زیادہ سونا وہاں سے لایا جاسکے۔“
”نوجوان تمہاری یہ تجویز بہت اچھی ہے۔ ہم سب تمہارے ساتھ چلیں گے۔ کھنڈرات کہاں ہیں؟“
”کالے دریا کے کنارے۔“
”اور کالا دريا..؟“
”یہاں سے دو دن کی مسافت پر ہوگا...یہ میرا اندازہ ہے۔ ممکن ہے کہ زیادہ دور ہو۔“ کامران نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
”وہ بابا کون تھا جس نے تمہیں اس خزانے کا پتہ بتایا۔“
”وہ بابا مجھے نیلے پہاڑوں کے ایک غار میں ملا تھا میں نے چالیس دن تک اس کی خدمت کی۔ تب چالیسویں دن اس نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پہلی مرتبہ کلام کیا۔ اس نے خدمت کے صلے میں مجھے اس خزانے کا پتہ بتایا، کھنڈرات تک پہنچنے کی تمام نشانیوں سے آگاہ کیا اور دعائیں دے کر وہاں سے رخصت کیا تب سے میں سفر پر ہوں۔“
”بس، اب سفر پھر سے شروع ہو جائے گا۔ ہم آج ہی اس خزانے کی تلاش میں نکل چلیں گے" یہ کہہ کر سردار سمبا جھونپڑی سے باہرنکل گیا۔
کامران کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔منصوبے کا حصہ بخیروخوبی انجام پا گیا تھا۔ اس کے جانے کے بعد کامران نے اطمینان سے ہاتھ پاؤں پھیلائے نیم دراز ہوکر اپنی سوچوں میں گم ہوگیا۔
تھوڑی دیر کے بعد سردار سمبا جھونپڑی میں واپس آیا تو اس کے ہاتھوں میں ایک بھاری سا حقہ تها۔ وہ اس کے کش لیتا ہوا اندر داخل ہوا اور اپنی بھاری مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا بولا... ”پوری بستی میں اعلان کروا دیا ہے کہ سفر کے لیے تیار ہوجائیں۔“
”ٹھیک ہے۔" قامران اٹھتا ہوا بولا ”میں ذرا اپنی ابلا کے حال چال پوچھ لوں۔“
کامران نے باہر نکل کر ابلا کے لیے چارے کا انتظام کیا اور اس کے جسم کی مالش کرنے لگا کہ سفر کا آغاز کرنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
دوپہر ہوتے ہی ٹھگوں کا قافلہ جس کا سردار سردست قامران تھا سونے کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کامران نے دیکھا کہ سوائے عورتوں اور بچوں کے اس قافلے میں بستی کا ہرشخص شامل تھا............قمران چاہتا بھی یہی تھا کہ بستی میں ایک بھی مرد باقی نہ رہے۔ قافلے کے سب سے آگے سردار اور قامران تھے۔ ان کے پیچھے شو کی اور اس کے ساتھی اور ان کے پیچھے بستی کے دوسرے لوگ۔
”سردار سمبا تمہاری جھونپڑیاں دیکھ کر تو یہ احساس ہوتا تھا کہ تم لوگوں کے پاس کچھ نہیں...........غربت میں زندگی گزرتی ہوگی۔ مگر اب تم لاؤ لشکر لے کر نکلے ہو تو احساس ہوتا ہے کہ کہیں زیادہ امیر ہو“ کامران نے ہنستے ہوۓ کہا۔
”میرے راجہ ہونے میں کیا شبہ ہے۔ میں اپنے من کا راجہ ہوں۔“ سردار سمبا نے اپنی مونچھوں کو مروڑتے ہوئے کہا۔ ” ویسے نوجوان ! اب تم اپنے ہوگئے ہو اس لیے تم سے کیا چھپانا یہ جو کچھ تم دیکھ رہے ہو لوٹ کا مال ہے۔ ہماری زندگی میں مکرو فریب کے سوا کچھ نہیں۔ روپ بدلتے ہیں، بہروپ بھرتے ہیں، طرح طرح کے بھیس بدلتے ہیں، تب جا کر کچھ حاصل ہوتا ہے کبھی کبھی نقصان کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میرے آدمی پکڑے جاتے ہیں، مارے جاتے ہیں۔ صبر کرنا ہوتا ہے۔ ہم لوگ شکار کی جان لینا سخت گناہ سمجھتے ہیں بلکہ اسے حقیر کام سمجھتے ہیں.....اہم اور اعلی کام ہمارے نزدیک فریب دے کر لوٹنا ہے۔ مثلا ایک بار میں نے سوداگروں کے گروہ کو لوٹا.....میرے آدمیوں نے اطلاع دی کہ سوداگروں کا قافلہ فلاں راستے سے گزر رہا ہے۔ میں وہاں رکا روپ دھار کر راستے میں ان سے جا ٹکرایا اور انہیں اپنے جال میں پھنسالیا۔ اب تفصیل میں جانا فضول ہے اتنا جان لو کہ وہ سوداگر صبح سو کر اٹھے ہوں گے تو ان کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا ہوگا۔“
"تم نے ادانہ کی مدد سے انہیں نشہ آور مشروب پلایا تھا اور ان کے تن کے کپڑے تک اتار لیئے تھے۔“ کامران نے وہ بات کی جس کا سارے فسانے میں ذکر نہ تھا۔
”تم کیسے جانتے ہو....یہ بات؟"
”میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تم نے پروہتوں کا روپ بھر کر سورج دیوتا کے درشن کرانے کے بہانے پوری بستی کو اندھا کر دیا اور تمہارے آدمی بستی سے تمام مال و اسباب اٹھا کر چمپت ہوگئے" کامران نے سردار سمہلبا کو گھورتے ہوئے کہا۔
”ہاں نوجوان...وہ میری زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ لیکن تم بھلا یہ باتیں کس طرح جانتے ہو؟“
”میں بہت دور سے تمہارے کارنامے سنتا چلا آرہا ہوں اور اندھوں کی یہ بستی میں خود اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ اس بستی کو دیکھ کر میرے دل پر اتنا اثر ہوا کہ میں نے تم سے ملنے کی ٹھان لی تھی اور آخر تم مل ہی گئے...جذ بہ اگر سچا ہو تو ناممکن بھی مکن بن جاتا ہے“
”تم مجھ سے کیوں ملنا چاہتے تھے نو جوان؟‘‘ سردار سبا نے پوچھا۔
"ایسے بہروپیے روز روز کہاں پیدا ہوتے ہیں بھلا ان کی زیارت کرنا میرے جیسے بےوقوف آدمی کے لیے عین سعادت ہے۔“ قامران نے بڑے عقیدت مندانہ لہجے میں کہا۔ " پارس سے مس ہوکر شاید میں بھی سونا بن جاؤں۔“
”بہت خوب نوجوان بہت خوب تم نے ہمارا جی خوش کر دیا۔ ہم نے زندگی میں پہلی بار اپنے فن کی کسی سے داد پائی ہے۔ نو جوان تم فکر نہ کرو ہم تمہیں وہ سب کچھ سکھا دیں گے جو ہمیں آتا ہے“
لعنت ہے تم پر۔۔۔۔۔کامران نے اپنے دل میں کہا۔ سبق تو میں تمہیں وہ سکھاؤں گا...........کہ آسمانوں پر بھی میرے ہی گن گاؤ گے۔
”ایک بات ہے سردار کبھی کبھی زیادہ ہوشیار بنے والے بڑی آسانی سے بےوقوف بن جاتے ہیں......کیا تمہارے ساتھ کبھی ایسا ہوا؟‘‘ کامران نے پوچھا۔
”آج تک نہیں۔“ سردار سمبا نے اپنی گردن اکڑا کر کہا۔ "میری عقل نے کبھی دھوکا نہیں دیا۔ میں نے اپنے شکار پر ہمیشہ کامیابی سے ہاتھ ڈالا ہے اور ہمیشہ سرخرو ہوا ہوں چھوٹے موٹے نقصانات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ ان کا ذکر ہی کیا۔ لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے شکار کے لیے جال پھیلایا ہو اور خود ہی ہی اس میں پھنس گیا ہوں۔“
"پھر تو تم صحیح معنوں میں ٹھگوں کے سردار ہو‘‘ کامران نے اسے پھلانے کی کوشش کی تعریف سن کر وہ واقعی پھول کر کپا ہوگیا اور فخر سے اپنے لاؤلشکر کو دیکھنے لگا۔
رات ہونے سے پہلے سردار سمبا نے ایک مناسب جگہ تلاش کر کے پڑاؤ ڈالے۔ حکم ملنے کی دیر تھی کہ دیکھتے ہی دیکھتے دور دورتک خیمے نصب ہوتے چلے گئے۔ پھر خیموں میں آگ جلانے کے لیے لکڑیاں اکٹھی کی جانے لگیں۔ کامران سردار سمبا کے آدمیوں کی پھرتی دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر یہ صلاحیت منفی کاموں کے بجائے مثبت کاموں میں استعال ہوتی تو کتنا اچھا ہوتا۔ لیکن ایسا ممکن نہ تھا، جن کی گھٹیوں میں مکروفریب پڑا ہو وہ دھوکا دہی اور جعلسازی ہی جانتے ہیں ان سے کسی اچھے کام کی توقع ایسے ہی ہے جیسے کسی پتھر سے پانی ٹپکنے کی خواہش۔
کامران کو سردار سمبا کے خیمے میں جگہ ملی۔ یہ خیمہ سب سے بڑا اور رنگ برنگا تھا۔ اس میں آسائش کی ہر چیز موجود تھی۔
چاند روشن ہونے تک ٹھگوں کا یہ قافلہ کھانے سے فارغ ہو چکا تھا۔ سردار سمبا بڑی آسودگی میں آنکھیں میچے حلقے کے کش لے رہا تھا۔ کچھ دیر کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں اور شوکی کی طرف دیکھ کر کہا، ”کچھ گانا بجا“
”اچھا۔“ شوکی گردن اثبات میں ہلا کر خیمے سے نکل گیا۔
کچھ دیر کے بعد وہ ایک نوجوان کو لیے اندر داخل ہوا۔ اس نوجوان کے پیچھے ایک ادھیڑ عمر ڈھولک لیے تھا۔ پھر شوکی نے باہر سے اپنے دو چار خاص آدمیوں کو بلا کر خیمے کا پردہ گرا دیا۔ قامران اس نوجوان کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا جو بڑی محویت سے اپنے پاؤں میں گھنگرو باندھنے میں مصروف اتھا۔ اچانک ڈھولک پر تھاپ پڑی اور وہ نوجوان رقاص تیر کی طرح سیدھا ہوگیا۔ پرچھن چھن گھنگرو بجے اور اس ادھیڑ عمر شخص نے عشقیہ اشعار اپنی سریلی آواز میں چھیٹر دیئے۔ نوجوان کا رقص گھنگروؤں کی چھن چھن اور دل پر اثر کرنے والے اشعار کی بازگشت ایک عجیب سماں بندھ گیا۔ قامران اس رقص و موسیقی میں ڈوب گیا۔
کسی مرد کو اس طرح رقص کرتے ہوئے اس نے پہلی بار دیکھا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ اس نوجوان کا رقص کسی بھی اچھی رقاصہ سے کم نہیں۔ بلکہ کئی لحاظ سے اعلی تھا۔ جسم کی نزاکتیں نشیب و فراز نہ ہونے کے باوجود اس نوجوان رقاص سے نظر ہٹانے کو جی نہیں چاہتا تھا اور یہی اس نوجوان کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ رات گئے تک یہ رقص و موسیقی کا پروگرام چلتا رہا۔ آخر سردار سمبا نے محفل ختم ہونے کا اشارہ کیا۔ اشاره پاتے ہی نوجوان رقاص پتھر بن گیا اور اس ادھیڑ عمر آدمی کے ہاتھ ڈھولک پر وہیں رک گئے۔
اب قامران کی آنکھوں میں نیند اترنے لگی تھی۔ اس نے منہ پھاڑ کر ایک زوردار جمائی لی اسکی آنکھیں پانی سے بھر گئی۔ اپنی پانی بھری آنکھوں سے سردار سمبا کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ ”اب سونا چاہئے۔“
” ہا ں...ٹھیک ہے آرام کرو“ سردار سمبا کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ ”میں ذرا باہر کا جائزہ لے کر آتا ہوں“
قامران جب سونے کے لیے لیٹا تو اسے دنیا کی خبر نہ رہی۔ اے سردار کی واپسی کا بھی علم نا ہوسکا۔ سردار سمبا نے پورے پڑاو کا چکر لگایا۔ شوکی کو کچھ ہدایتیں دیں اور پھر حقے کے کش لگاتا خیمے میں واپس آ گیا اور سونے کی تیاریاں کرنے لگا۔
وہ جانے رات کا کون سا پہر تھا۔ باہر گھپ اندھیرا تھا۔ خیموں میں لوگ پڑے میٹھی نیند سو رہے تھے۔ انہیں پتا نہ تھا کہ خطر ناک چوپائے ان کے سروں پر آ پہنچے ہیں۔ وہ تعداد میں چالیس پچاس سے کم نہ ہوں گے۔ وہ چیختے چلاتے، جھومتے چنگھاڑ تے، کالی چٹانوں کی طرح دمکتے چلے آ رہے تھے
سردار سمبا کی اچانک نیند ٹوئی۔ اس نے سب سے پہلے کامران پر نگاہ ڈالی۔ وہ بے سدھ پاؤں پھیلائے سو رہا تھا۔ تب سردار سمبا نے اپنے کان باہر سے آنے والی آوازوں کی طرف لگا دیئے اور جب اس نے ان آوازوں کو پہچانا تو اس کی روح میں سناٹا اتر گیا۔
باہر چیخ چنگھاڑ جاری تھی اور اب ان آوازوں کے ساتھ اس کے آدمیوں کی آواز کی شامل ہوگئی تھیں۔ سردار سمبا نے اچانک قامران کو جھنجھوڑ دیا۔ " قامران....قامران؟“
”کیا ہوا سردار خیر تو ہے؟‘‘ قامران ایک دم ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔
کامران نے سردار سمبا کا ستا ہوا چہرہ دیکھا اور باہر سے آنے والی آوازوں کو سنا تو اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
”یہ تو ہاتھی ہیں۔“ کامران تیر کمان سنبھالتا خیمے سے باہر نکلا۔ پیچھے پیچھے سردار سمبا۔ کامران نے کالے کالے دیوں کو جاتے ہوئے دیکھا۔ ہاتھیوں کا یہ قافلہ اپنا کام کر کے جا چکا تھا۔ کامران اور سردار سمبا بڑی دیر تک ان کالے ہیولوں کو تکتے رہے۔ پھر ایک مشعل بردار ان کی طرف بڑھتے دکھائی دیا۔ کامران نے دیکھا وہ شوکی تھا اور بری طرح ہانپ رہا تھا۔
"سردارسمبا....! ہمارے بہت سے آدمی ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے ہیں۔" شوکی نے پھولی سانسوں پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
”اوہ“ سردار سمبا کو شدید دھچکا لگا۔
”آؤ دیکھیں۔“ کامران نے شوکی کے ہاتھ سے مشعل لیتے ہوئے کہا۔
سردار سمبا کو آگے بڑھتا دیکھ کر بہت ہی مشعلیں روشن ہوگئیں۔
پڑاؤ کا ایک حصہ نیست و نابود ہو چکا تھا۔ ان خیموں میں جو لوگ موجود تھے انہیں ہاتھیوں نے روند ڈالا تھا۔ متاثرین میں زیادہ تر مر چکے تھے اور جو بچ گئے تھے وہ مردوں سے بدتر تھے۔
"دیوتا کا شکر ہے کہ ہم لوگ بچ گئے“ قامران نے ٹھنڈی سانس لی۔ ”اگر وہ تمام خیموں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے تو ہمارا وجود بھی ان کے پیروں تلے کچلا جاتا.....سردار میری سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ اچانک اتنے ہاتھی کہاں سے آ نکلے۔ کیا یہ ہاتھیوں کا علاقہ ہے؟“
”ہاتھیوں کا علاقہ تو نہیں.......اگر ہاتھیوں کا علاقہ ہوتا تو دن میں کوئی نشانی تو نظر آتی....سمجھ میں نہیں آتا کہ ہاتھیوں کا یہ قافلہ کہاں سے آنکلا۔۔۔ ممکن ہے یہ ہاتھی ایک علاقے سے دوسرے علاقے میں منتقل ہورہے ہوں۔“ سردار سمبا نے اپنی رائے پیش کی۔
”ہو سکتا ہے“
ان مستانے ہاتھیوں نے سردار سمبا کے بائیس آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتارا دو آدمی شدید زخمی تھے۔
جلد ہی سپیدہ سحر نمودار ہوگیا۔ تب اندازہ ہوا کہ یہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ دن کی روشنی میں سردار سمبا نے ایک بار اور مرنے والوں کا جائزہ لیا۔ جبکہ کامران خیمے سے نہ نکلا....... مشعلوں کی روشنی میں ہی وہ لاشوں کی خستگی کو برداشت نہ کر سکا تھا اور دن کی روشنی میں وہ انہیں کیا دیکھتا۔
”لاشوں کو ٹھکانے لگا دو“ سردار سمبا نے خیمے میں آ کر شوکی کو حکم دیا۔
”اور زخمیوں کا کیا کیا جائے؟“ شوکی نے پوچھا۔
سردار نے قاران کی طرف غور سے دیکھا پھر حقے کا ایک گہرا کش لیتے ہوئے سفاکانہ لہجے میں بولا۔ ”انہیں بھی ٹھکانے لگا دو۔“
شوکی یہ حکم سن کر باہر نکل گیا۔ "قامران....! کیا تم نے مرنے والوں کی تمام لاشیں دیکھی ہیں؟‘‘ سردار سمبا مخاطب تھا۔
”ہیں۔“ کامران کے چہرے پر کرب کے آثار نمایاں ہو گئے۔ ”چند لاشیں دیکھ کر ہی میری حالت خراب ہوگئی تھی۔“
”مرنے والوں میں وہ نوجوان رقاص بھی شامل تھا۔“
”اوہ یہ تو بہت برا ہوا۔“ کامران کو اس کے مرنے کا واقعی افسوس تھا۔ ”اس کے ساتھ وہ ادھیڑ عمر آدمی بھی تو تھا کیا وه بچ گيا؟"
”وہ بچ گیا تھا۔۔۔لیکن اب مر جائے گا۔ وہ شدید زخمی ہے۔“ سردار سمبا نے سپاٹ لہجے میں کہا
شوکی نے بہت جلد ان لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے انتظامات مکمل کر لیے۔ خیموں سے ذرا دور ہو کر لکڑیوں کا ڈھیر لگایا جاچکا تھا اور وہ اب اپنے آدمیوں کی مدد سے لاشوں کو اٹھا اٹھا کر لکڑیوں کے ڈھیر پر پھینک رہا تھا۔ تمام لاشیں جب لکڑیوں کے ڈھیر پر جمع ہو گئیں تو شوکی نے آگ لگانے کا سوچا سوکھی لکڑیوں نے جلد ہی آگ پکڑ لی۔ شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ تب شوکی نے اپنے آدمیوں کو بھیجا ۔ اس کے آدمیوں نے بڑی بے دردی سے زخمیوں کو اٹھایا اور اس کے سامنے لا کر ڈھیر کر ڈیا۔ زخمی اس اٹھا پٹخ کو برداشت نہ کر سکا۔ اس نے زندگی کی آخری سانس لی اور ملک عدم کو سدھار گیا۔ باقی زخمی انگاروں کے بناہی انگاروں پر لوٹنے لئے۔ زخمیوں کو تڑپتے دیکھ کر شوکی نے اپنے ہاتھ بھینچ لیے اور اپنے آدمیوں کو انہیں شعلوں کے حوالے کرنے کا اشارہ کیا۔ چند ساعتوں میں ان زخمیوں کو بھی سرخ شعلوں کی گود میں اچھال دیا گیا۔ پھر شوکی نے اپنا رخ سردار سمبا کے خیمے کی طرف کیا اور تیز تیز چلتا ہوا آگے بڑھا۔ خیمے میں داخل ہوتے ہی سردار سمبانے شوکی سے پوچھا ”کیا خبر ہے؟“
”سب کا قصہ پاک کردیا گیا ہے۔“ شوکی نے گردن اونچی کر کے کہا۔
”اب خیمے لپیٹنے کی تیاری کرو“ سردار سمبا نے حکم دیا۔
"ٹھیک ہے۔“ شوکی دروازے کی طرف رخ کرتے ہوئے بولا ۔
”لیکن خیمے لپیٹنے سے پہلے لوگوں کو کچھ کھا پی لینے کا موقع ضرور دے دینا۔“ سردار سمبا نے اسے جاتے دیکھ کر ہدایت کی۔
شوکی اثبات میں گردن ہلاتا ہوا دروازے سے نکل گیا
کھانے پینے کی مہلت ختم ہونے کے ساتھ ٹھگوں کا یہ قافلہ ایک مرتبہ پھر سفر کی راہ پر چل نکلا۔ قامران چاندکا کی بتائی ہوئی نشانیوں کو تلاش کرتا امیر کارواں بنا سب کو آگے بڑھائے لیے چلتا رہا۔ جیسے ہی ایک نشانی گزرتی قامران دوسری کا ذکر کر دیتا۔ سردار سمبا آنے والی نشانی کا بے چینی سے انتظار کرتا اور بار بار کامران سے پوچھتا "ہاں، نوجوان کہاں ہے تمہارا پہاڑی نالہ؟"
"بس وہ آیا" قامران خوش دلی سے کہتا۔
اس طرح سہ پہر تک سفر جاری رہا اور آخر کار قامران نے کالا دریا آنے کی نوید سنا دی۔ یہ سن کر سارے قافلے میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
تھوڑی مسافت کے بعد کالا دریا ناگ کی طرح بل کھاتا انکے سامنے تھا۔ ٹھگوں کے سردار نے دریا دیکھ کر رفتار تیز کردی۔
وہ دریا نام کا کالا نہ تھا، اس کا پانی بھی سیاہی کی طرح کالا تھا دریا کا پاٹ اگرچہ چوڑا نہ تھا مگر بہاؤ بہت تیز تھا۔
”وہ کھنڈر کہاں ہیں؟“ سردار سمبا نے دریا کے کنارے دائیں بائیں نظر ڈال کر حیرت سے کیا۔
”وہ سامنے دریا کے اس پار‘‘ کامران نے اشارہ کیا۔
”اوہ۔‘‘ سردار سمبا نے حیرت سے اس پار دیکھا۔ ”اس کا مطلب ہے کہ دریا بھی پار کرنا ہوگا“
”تو کر لیں گے...! دریا پار کرنے میں کیا مشکل ہے؟‘‘ کامران نے دریا کے پانی کو گھورتے ہوئے کہا۔
”بہاؤ بہت تیز ہے۔“ سردار سمبا نے فکرمند ہو کر کہا۔
”اور گہرائی؟“ قامران نے پوچھا۔
”گہرائی بظاہر زیادہ نہیں دکھائی دیتی۔“ سردار سمبا نے دریا پر اپنی نظر گاڑتے ہوئے کہا ”پھر بھی میں آدمی بھجوائے دیتا ہوں“
”اگر گہرائی زیاد نہیں پھر تو دریا پار کرنے میں کوئی خاص دشواری نہیں ہوگی۔ البتہ گہرائی کی صورت میں خاصی دقت پیش آۓ گی“
اس کا فیصلہ ابھی ہوا جاتا ہے۔“ یہ کہہ کر سردار سمبا نے شوکی کو اشارے سے پاس بلایا اور بولا ”ذرا غوطہ زنوں سے دریا کی گہرائی معلوم کراؤ“
حکم ملتے ہی غوطہ زنوں نے دریا میں چھلانگیں لگا دیں اور اس کنارے سے اس کنارے تک دریا کی بوند بوند دیکھ ڈالی۔
"دریا کوئی خاص گہرا نہیں۔“ شوکی نے آ کر اطلاع دی۔
”اس کا مطلب ہے کہ ہمت کی جائے تو دریا پار کیا جاسکتا ہے۔؟“ سردار نے پوچھا۔
”بالکل۔“ شوکی نے جواب دیا۔
”تو نوجوان...! پھر کیا خیال ہے؟........دریا عبور کیا جائے۔؟“ سردار سمبا نے کامران سے مخاطب ہو کر کہا
”سردار مجھے تو بھوک لگی ہے۔“ کامران نے ہنستے ہوئے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔ ”کیوں نہ تھوڑی دیر کے لیے پڑاؤ ڈال کر کچھ کھا پی لیا جائے؟“
”ٹھیک ہے۔“ سردارنے فورا عارضی پڑاؤ ڈالنے کا حکم دے دیا۔

تمام اردو کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کریں 

سفید محل - پارٹ 14

Urdu stories online, Urdu stories for kids, Short Urdu stories, Urdu Kahaniyan, Famous Urdu stories, Urdu stories with moral, Best Urdu stories collection, Urdu stories for students, Urdu love stories, Urdu horror stories, Urdu stories for reading, Urdu stories in Urdu text, Funny Urdu stories, Urdu stories for beginners, Urdu detective stories, Urdu motivational stories, Urdu stories for adults, Urdu moral stories, Urdu stories for children, Urdu true stories, Urdu suspense stories, Urdu emotional stories, Urdu adventure stories,

hindi moral stories in urdu,سبق آموز کہانیاں, jin-ki-dushmni,good moral stories in urdu,Moral Stories,Urdu Stories,urdu kahani,اردو کہانی,قسط وار کہانیاں,