ابا اور منان چچا ہمیشہ ساتھ رہے تھے۔ ان کے گھر بھی قریب تھے اور دل بھی۔ دونوں بھائی ایک دوسرے پر جان نچھاور کرتے تھے۔ ایک روز وہ کسی دوست سے ملنے جا رہے تھے کہ بازار سے گزرتے ہوئے اچانک ایک زور دار دھماکے کی آواز سنائی دی۔ چاروں طرف بھگدڑ مچ گئی اور دونوں بھائی اس دھماکے کی زد میں آ کر دور جا گرے۔ بھرے بازار میں ہونے والے اس خوفناک دھماکے کے باعث بہت سی قیمتی جانوں کا زیاں ہوا، اور چچا و والد بھی اسی سانحے کی نذر ہو گئے۔
sublimegate
ہم تین بہن بھائی تھے۔ والد صاحب نے پیچھے اچھا خاصا سرمایہ چھوڑا تھا؛ ان کا اپنا کاروبار تھا جسے میرے دونوں بھائیوں نے سنبھال لیا، یوں ہمارے مالی حالات دگرگوں ہونے سے بچ گئے۔ لیکن دوسری طرف بیچاری چچی جان بالکل خالی ہاتھ رہ گئیں۔ ان کے پانچ بچے تھے، جن میں سے صرف بڑی بیٹی ثانیہ نے بی اے کیا تھا اور باقی سب ابھی زیرِ تعلیم تھے۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہ تھا، اور چچی کے میکے والے بھی اتنے امیر نہ تھے کہ اس مشکل وقت میں ان کا سہارا بن سکتے۔
کچھ دن سوگ منانے کے بعد بالآخر چچی کو سوچنا پڑا کہ اب ان کے کنبے کا گزر بسر کیسے ہو گا۔ وہ خود پڑھی لکھی تھیں نہ کوئی ہنر جانتی تھیں، البتہ ثانیہ بڑی گنوں والی لڑکی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھی۔ ثانیہ کی منگنی میرے بڑے بھائی سامر سے ہو چکی تھی اور ارادہ تھا کہ بی اے کے بعد ہم ثانیہ کو بیاہ کر اپنے گھر لے آئیں گے۔ جب یہ سانحہ ہوا، تب ثانیہ کا رزلٹ آئے چند ہی دن ہوئے تھے۔ یوں خوشیوں کے منتظر گھروں کو اچانک ماتم کے دن دیکھنے پڑ گئے۔ ہم تو جیسے تیسے سنبھل گئے، مگر منان چچا کے اہل خانہ کو انتہائی کٹھن حالات کا سامنا تھا۔ ہم سے جو بن پڑتا، مدد کرتے تھے لیکن یہ مالی تعاون اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تھا۔ بالآخر ثانیہ کو ہی حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا تھا کیونکہ اسے اپنی دو چھوٹی بہنوں اور دو بھائیوں کی تعلیم مکمل کرانی تھی۔ اس نے تندہی سے نوکری کی تلاش شروع کر دی، لیکن محض بی اے پاس کو آسانی سے نوکری کہاں ملتی ہے! اسی دوران کسی نے مشورہ دیا کہ اگر وہ بی ایڈ کر لے، تو کسی سرکاری اسکول میں بطور ٹیچر بھرتی ہو سکتی ہے۔
ان دنوں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی تھی اور بی ایڈ کا کورس دو سال کا ہوتا تھا۔ امی نے کہا کہ اگر ثانیہ بی ایڈ کرنا چاہتی ہے تو اس کی پڑھائی کے اخراجات ہم اٹھا لیں گے تاکہ وہ اپنی خواہش پوری کر سکے، آخر کار اسے بہو بن کر ہمارے ہی گھر آنا ہے۔ دوسری طرف سامر بھائی کو بھی کاروبار سیٹ کرنے کے لیے دو سال کی مہلت درکار تھی، کیونکہ ابو کی وفات کے بعد دکان کی تمام ذمہ داری انہوں نے سنبھال لی تھی۔ چھوٹا بھائی عامر ابھی بی اے کے آخری سال میں تھا، اس لیے وہ شام کو صرف دو چار گھنٹے ہی دکان پر آ پاتا تھا اور اس دوران سامر بھائی گھر آ کر کھانا کھا لیتے تھے۔
سامر بھائی نے ایم ایس سی کر رکھی تھی اور وہ کوئی اچھی ملازمت اختیار کرنا چاہتے تھے، لیکن والد کی ناگہانی وفات کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو انہی کو پر کرنا پڑا۔ والد صاحب کی صدر بازار میں کپڑے کی ایک بڑی دکان تھی جو خوب چلتی تھی اور ہمارا شمار خوشحال لوگوں میں ہوتا تھا۔ اگرچہ دکان پر ملازم موجود تھے، تاہم کاروبار کو مکمل طور پر ملازمین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا؛ چنانچہ بھائی کو ملازمت کا ارادہ بدلنا پڑا، حالانکہ ان کا رجحان بزنس کی طرف بالکل نہیں تھا۔ وہ اکثر والد صاحب سے کہا کرتے تھے کہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ان کا خواب ہے۔ سامر بھائی انتہائی ذہین تھے اور انہوں نے ایم ایس سی میں ٹاپ کیا تھا، لیکن افسوس کہ وہ خاندانی کاروبار میں ایسے الجھے کہ ان کی اعلیٰ تعلیم کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا، ثانیہ نے اپنا بی ایڈ مکمل کر لیا اور ایک سرکاری اسکول میں بطور ٹیچر اس کا تقرر ہو گیا۔ ادھر چھوٹے بھائی نے بھی اپنی تعلیم مکمل کر لی؛ اسے بزنس کا شوق تھا، اس لیے اس نے سامر بھائی کے ساتھ مل کر دکان سنبھال لی، جس سے رزق میں مزید برکت ہونے لگی۔ اب والدہ کو بڑے بھائی کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ایک روز انہوں نے سامر بھائی سے کہا: “میں چاہتی ہوں کہ اب تمہارا گھر آباد ہو جائے، اس لیے میں ثانیہ کی والدہ سے شادی کی تاریخ طے کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔” سامر بھائی نے جواب دیا: “امی جان! جس بات میں آپ کی خوشی ہو، ہمیں بھی وہی عزیز ہے۔”
اگلے دن امی چچی کے پاس گئیں اور کہنے لگیں: “بہن! اب شادی کی تاریخ طے کر لو۔ تمہاری دو اور بچیاں بھی ہیں، بڑی کا فرض ادا ہو گا تو چھوٹوں کی باری آئے گی۔” چچی نے جواب دیا: “باجی! آپ بالکل صحیح کہتی ہیں، میں بھی یہی سوچتی ہوں لیکن ثانیہ کسی صورت ابھی شادی پر راضی نہیں ہو رہی۔ وہ کہتی ہے کہ پہلے چھوٹے بہن بھائی اپنی تعلیم مکمل کر لیں، پھر شادی کا نام لیں۔” امی بولیں: “وہ تو ٹھیک ہے، لیکن شادی کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ بے شک وہ شادی کے بعد بھی اپنی تنخواہ سے چھوٹے بہن بھائیوں کی پڑھائی کا خرچ اٹھاتی رہے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اور تمہاری ضروریات میں پوری کرتی رہوں گی، آخر میں تمہاری سگی بہن ہوں، کوئی غیر تو نہیں! میری تو بس یہی آرزو ہے کہ بچوں کی خوشیاں وقت پر دیکھ لوں۔” اس کے بعد چچی نے دوبارہ ثانیہ سے بات کی، مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے امی سے کہا: “باجی! وہ مان نہیں رہی، آپ خود ہی اس سے بات کر کے دیکھ لیں۔” جب امی نے ثانیہ سے بات کی تو اس نے کہا: “خالہ جان! آپ ہماری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہم زیادہ عرصے تک آپ کی مالی مدد پر تکیہ نہیں کر سکتے، یہ بات کل کو میرے بھائیوں کی غیرت کو بھی گوارا نہیں ہوگی۔ اگر آپ ہمیں کچھ مہلت دے سکتی ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ آپ اپنے بیٹے کی شادی کہیں اور کر دیں۔ اگر میں نے اس وقت اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا، تو میرے بہن بھائی کبھی اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پائیں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ کم از کم کوئی ایک تو پڑھ لکھ کر برسرِ روزگار ہو جائے تاکہ ہمارے گھر کی گاڑی چلتی رہے۔”
والدہ نے جب یہ بات سامر بھائی کو بتائی تو انہوں نے کہا: “امی جان! اپنی چھوٹی بہن کی مجبوریوں کا پاس کیجیے اور ابا اور چچا منان کی محبت کا خیال رکھیے۔ دونوں میں اس قدر الفت تھی کہ اس جہان میں بھی ہمیشہ ساتھ رہے اور اس جہان فانی سے بھی ساتھ ہی گئے۔ اگر ہم ایک دو سال اور انتظار کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔” والدہ بیچاری دل مسوس کر رہ گئیں۔ انہیں سامر بھائی سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں دیکھ دیکھ کر ہی جیتی تھیں، وہ تو بس اپنے بڑے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلنے کی دعائیں مانگا کرتی تھیں۔
مزید دو سال گزر گئے۔ ثانیہ کی چھوٹی بہن دانیہ نے جب میٹرک میں پوزیشن لی، تو اسے ایک اچھے کالج میں داخلہ مل گیا۔ اس پر والدہ نے خالہ (چچی جان) کو سمجھایا: “بھئی! لڑکیوں کو کالج میں پڑھانے کے بجائے اب ان کی شادیوں کی فکر کرو۔ سر پر باپ یا تایا کا سایہ نہیں ہے اور تمہارے بیٹے ابھی نویں دسویں جماعت میں پڑھتے ہیں، آگے چل کر انہی کو پڑھا لینا؛ لڑکیوں کو اتنی اعلیٰ تعلیم دلوانا ضروری نہیں ہے۔ اب ثانیہ کو اپنے گھر کا کرو، آخر ہم کب تک انتظار کریں گے؟”
چچی نے جواب دیا: “باجی! ثانیہ مانتی ہی نہیں، میں تو اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہوں، اب آپ ہی اسے سمجھائیں۔” بیچاری چچی بھی جانے کس دل سے اسے سمجھاتی ہوں گی، کیونکہ ثانیہ کی تنخواہ کے سوا ان کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں تھا۔ گھر کا سارا نظام اسی طرح چل رہا تھا کہ پورا دارومدار بیٹی کی ملازمت پر تھا۔ شاید وہ ہمیں مطمئن کرنے کے لیے ایسا کہہ دیتی ہوں اور اندر سے وہ خود بھی مجبور ہوں۔ بہرحال، ایک بار پھر ثانیہ سے بات کی گئی تو اس نے وہی پرانا مؤقف دہرایا۔ والدہ اب بالکل مایوس ہو گئیں اور گھر آ کر سامر سے بولیں: “بیٹا! مجھے لگتا ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے۔ تمہاری چچی اپنے بچوں کی ضد کے آگے بالکل بے بس ہیں۔ دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی شادی کا نام سنتے ہی منہ پھیر لیتی ہیں اور آگے پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں، جبکہ ان کے حالات اعلیٰ تعلیم کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ لوگ لڑکیوں کو پڑھانے لکھانے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اب ہمیں یہ منگنی کا سلسلہ ختم کر کے کسی اور گھرانے میں لڑکی دیکھنی ہوگی۔” یہ سن کر سامر کے منہ سے بے اختیار نکلا: “ماں! ایسی بددعا تو نہ دیں۔”
والدہ نے کہا: “یہ بددعا نہیں ہے بیٹے! تم اس رشتے کو اب ختم ہی سمجھو۔ دیکھو نا، ثانیہ مجبور ہے؛ اگر وہ منجدھار میں اپنے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر اپنا گھر بسا لیتی ہے تو ان کا کیا بنے گا؟ ابھی ان میں سے کسی کی نوکری بھی نہیں لگ سکتی جب تک کہ کوئی ایک اپنی تعلیم مکمل نہ کر لے۔ میری مانو، تو ہم کسی اور جگہ تمہارا رشتہ طے کر کے شادی کر دیتے ہیں۔” اب گھر میں ایک عجیب کشمکش کا سماں تھا؛ ماں گھر گھر لڑکیاں دیکھتی پھرتی تھیں اور بھائی بالکل گم صم ہو گئے تھے۔ میرے بھائی کو ثانیہ سے اس قدر لگاؤ تھا کہ ان کی نظر میں اس کا کوئی نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا تھا، وہ اپنے دل میں صرف اسی کو بسائے ہوئے تھے۔
ایک سال اور گزر گیا۔ اماں جو بھی لڑکی پسند کرتیں، وہ بھائی سامر کو پسند نہ آتی، جس سے تنگ آ کر وہ مایوس ہو گئیں اور صاف کہہ دیا کہ اب میں اپنی مرضی کی لڑکی سے ہی تمہاری شادی کروں گی۔ بھائی نے اس صورتحال سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے دکان کا سارا کام کلی طور پر چھوٹے بھائی کے سپرد کیا اور خود ملازمت کا شوق پورا کرنے کے بہانے اسلام آباد چلے گئے۔ انہوں نے وہاں ایک ایسی نوکری کے لیے درخواست دے رکھی تھی جو ان کے معیار کے مطابق تھی۔ اسے قسمت کی خوبی کہیے یا بدقسمتی، انہیں وہ ملازمت مل گئی۔
چھ ماہ بعد والدہ بھائی سے ملنے اسلام آباد چلی گئیں، وہاں پڑوس میں آنا جانا شروع کیا۔ جلد ہی ایک اچھی لڑکی دیکھی جو انہیں پسند آ گئی اور انہوں نے بھائی کو رو دھو کر اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ وہ سگائی کر کے واپس آ گئیں مگر خاندان میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی، مبادا کوئی رنگ میں بھنگ نہ ڈال دے یا ثانیہ اور اس کی ماں کا دل خراب نہ ہو۔ دو تین ماہ وہ چپکے چپکے شادی کی تیاریوں میں لگی رہیں، پھر اسلام آباد جا کر بھائی سامر کی شادی ‘رفعت’ سے کروا دی، جو پڑھی لکھی، خوبصورت اور ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے سامر بھائی کو سخت ہدایت کی کہ ابھی دلہن کو لاہور مت لانا، جب میں کہوں گی تبھی آنا۔
بھائی کی شادی کو دو سال گزر گئے مگر امی نے انہیں ادھر آنے کی اجازت نہ دی، کیونکہ چچی کا اور ہمارا گھر بالکل جڑا ہوا تھا۔ دو سال بعد ایک دن چچی خود ہمارے گھر آئیں اور کہنے لگیں: “ثانیہ اب اس حد تک مان گئی ہے کہ بے شک آپ لوگ ابھی صرف نکاح کر لیں، اور رخصتی اس وقت ہو جائے گی جب دانیہ پاس ہو جائے گی تاکہ وہ نوکری کر کے گھر سنبھال لے اور چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری رہ سکے۔” امی نے انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا: “سامر ذرا لاہور آ جائے تو میں اس سے بات کرتی ہوں کہ آیا وہ مزید انتظار کر سکتا ہے یا نہیں…” جب سامر بھائی گھر آئے تو والدہ نے یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا، جس پر سامر بھائی نے جواب دیا: “اماں! ایک شادی آپ نے اپنی مرضی سے کی ہے، اب ایک میں اپنی مرضی سے کروں گا۔ آپ انہیں نکاح کا عندیہ دے دیں، میں ثانیہ سے نکاح کر کے ہی جاؤں گا۔ وہ یہیں رہے گی اور نوکری کر کے اپنے گھر کو بدستور سپورٹ کرتی رہے گی، جبکہ اسلام آباد والی وہیں رہے گی کیونکہ وہ اپنے میکے کے نزدیک رہنا پسند کرتی ہے اور خود یہاں آنا نہیں چاہتی۔”
جس وقت انہوں نے ثانیہ سے نکاح کیا، اس وقت بھائی کے دو بچے ہو چکے تھے۔ چونکہ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا، اس لیے ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ بہرحال، ہم نے چچی، ان کے گھر والوں اور ثانیہ سے یہ بات مکمل طور پر چھپائے رکھی کہ سامر کی شادی اسلام آباد میں ہو چکی ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ جب سامر بھائی خود ہی یہ بات بتانا نہیں چاہتے تھے، تو ہم کیا کرتے! امی نے بہرحال انہیں بہت سمجھایا کہ ایسا مت کرو، ایک شادی کر چکے ہو تو اب دوسری نہ کرو، مگر انہوں نے اپنا ارادہ نہیں بدلا۔
طے یہ پایا تھا کہ ایک سال بعد رخصتی ہو گی، مگر جب سال گزر گیا تو چچی نے پھر معذرت خواہانہ انداز میں عذر پیش کیا: “دونوں چھوٹی لڑکیوں کے اچھے رشتے آئے ہوئے ہیں؛ بات پکی ہو گئی ہے، میں جلد ہی ان کی شادی کر کے انہیں رخصت کرتی ہوں اور اس کے فوراً بعد ثانیہ کی رخصتی کر دوں گی۔ آپ تو اپنے ہیں، مجھے ذرا غیروں سے نمٹ لینے دیں کیونکہ وہاں جہیز بھی دینا ہے اور شادیوں کے اخراجات بھی اٹھانے ہوں گے۔” اب ہم بھی بے فکر تھے کیونکہ سامر بھائی پہلے ہی شادی شدہ تھے اور اب ان کے تین بچے ہو چکے تھے، اس لیے ہمیں کسی بات کی جلدی نہیں تھی؛ لیکن سامر بھائی ہر صورت جلد از جلد رخصتی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے ثانیہ کے لیے ایک نیا گھر بھی خرید لیا تھا اور وہ اسے سجانے سنوارنے میں لگے رہتے تھے۔ ان کو اپنی منگیتر سے جو دلی لگاؤ تھا، وہ اتنے برسوں بعد بھی جوں کا توں برقرار تھا اور اس میں سرِمو کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
انہوں نے کئی بار ثانیہ سے رابطہ کیا اور میرے ذریعے بھی کہلوایا: “تم نوکری چھوڑ دو، ہم تمہارے گھر والوں کے تمام اخراجات خود اٹھائیں گے۔” مگر وہ نہیں مانی اور اپنی خودداری پر قائم رہی۔ اس کا کہنا تھا: “میں اپنے گھر والوں کو کسی کا محتاج نہیں کروں گی، خواہ آپ لوگ ہمارے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔”
بالآخر ثانیہ کی دونوں چھوٹی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور وہ اپنے اپنے گھروں کی ہو رہیں۔ اس کے بعد اس کے بھائی نے اچھے نمبروں سے ایف ایس سی پاس کر لیا اور اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہو گیا۔ بہنوں کی شادیوں اور بھائیوں کے تعلیمی اخراجات نے ثانیہ کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے حالات سدھرنے کے بجائے مزید ابتر ہو گئے۔ ہم نے چچی کو رقم دینا چاہی لیکن ثانیہ نے قبول نہیں کی اور کولہو کے بیل کی طرح زندگی کی گاڑی کو اکیلی ہی کھینچتی رہی۔ ادھر بھائی ترقی کر کے ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچ گئے مگر ثانیہ کے مسائل جوں کے توں رہے۔ یہاں تک کہ اس کے چھوٹے بھائی کی بھی نوکری لگ گئی اور اس نے اپنی پسند سے شادی کر لی۔ بھائی کی نوکری لگنے سے جب گھر کے حالات سنبھرے اور امید بندھی، تو ثانیہ نے خود ہم سے رابطہ کیا؛ اب وہ رخصتی کے لیے بالکل تیار تھی۔ یوں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر سامر بھائی کی مراد بر آئی۔
بدقسمتی سے انہی دنوں چچی جان کا انتقال ہو گیا۔ ثانیہ کا ایک بھائی ہاسٹل میں تھا اور دوسرا اپنی بیوی کو لا چکا تھا۔ اب ثانیہ بھی اندر سے بالکل تھک چکی تھی؛ بھائی اور بھابھی اس کی ذات سے بالکل لاپروا ہو چکے تھے اور وہ گھر میں شدید تنہائی محسوس کرتی تھی، اس لیے اب وہ اپنے گھر آ کر بسنا چاہتی تھی۔ بالآخر اس نے فون کر کے سامر بھائی سے کہا: “سامر! اب میں تمہارے پاس آنا چاہتی ہوں، میں بہت تھک گئی ہوں؛ مجھے آ کر اپنے گھر لے جاؤ۔” اتنے طویل انتظار کے بعد بھی سامر بالکل بددل نہیں ہوا تھا، وہ اس روز کتنا خوش تھا میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ یہ بات بھی بھول گیا کہ اسلام آباد میں اس کی ایک بیوی اور تین بچے بھی ہیں۔ وہ کہتا تھا: “ثانیہ ہرگز خود غرض نہیں تھی، وہ مجبور تھی؛ اس نے کئی زندگیاں سنوارنے کے لیے ایک طویل جہاد کیا ہے۔” میرا بھائی روز اس گھر میں جاتا جسے اس نے برسوں پہلے ثانیہ کے لیے خریدا تھا، وہ اسے ایسے سجاتا سنوارتا جیسے کوئی نئی دلہن آنے والی ہو۔ اور ہاں! اس گھر میں اس کی نئی دلہن ہی تو آ رہی تھی؛ اس کے دل کی ملکا، اس کی من چاہی ثانیہ…! پھر ایک دن اچانک ثانیہ نے فون کر کے کہا کہ اس نے رخصتی کا خیال ملتوی کر دیا ہے۔ اس نے کہا: “سامر! بے شک تم کہیں اور شادی کر لو…” اور یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ سامر بھائی دنگ رہ گئے کہ اچانک یہ کیا ہوا! کیا اسے میری پہلی شادی کا علم ہو گیا ہے؟ کیا کسی نے اسے بتا دیا ہے کہ میری بیوی اور بچے بھی ہیں؟ وہ اپنے دل میں ڈرے سہمے بالآخر ثانیہ کے گھر پہنچ گئے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ایسی کیا بات ہوئی ہے جو وہ یوں روٹھ گئی ہے۔
وہ اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی، بالکل لاغر اور بیمار۔ بھائی نے پوچھا: “ثانیہ! مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی جو تم نے صاف انکار کر دیا؟ تم نے میرے اتنے برسوں کے انتظار کا بھی پاس نہیں رکھا؟ میں نے تمہارے لیے ایک گھر خریدا ہے تاکہ تم زندگی کے باقی دن سکون اور آرام سے گزار سکو؛ ایک بار چل کر دیکھو تو سہی کہ وہاں میں نے تمہاری یاد میں ایک جہان آباد کر رکھا ہے۔ اس مکان کی ایک ایک اینٹ اور باغ کا ایک ایک پتا اس بات کا گواہ ہے کہ مجھے تم سے سچی محبت ہے۔” ثانیہ نے جواب دیا: “ہاں، مجھے یقین ہے سامر! مگر اب میری زندگی کا چراغ آخری سانسوں پر ہے۔ اب چلنے سے میرا سانس پھولتا ہے اور میری بھوک بالکل ختم ہو چکی ہے؛ میں خود کو زندگی سے بہت دور محسوس کرتی ہوں۔” سامر بھائی نے کہا: “یہ صرف تمہارا وہم ہے، تم بیمار نہیں ہو بلکہ صرف تھک گئی ہو؛ آؤ، میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔” چنانچہ سامر بھائی زبردستی ثانیہ کو گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال لے گئے۔ جب وہاں اس کا تفصیلی چیک اپ کرایا گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے بلڈ کینسر ہے اور اب وہ صرف چند ہی دنوں کی مہمان ہے۔ سامر بھائی نے روتے ہوئے پوچھا: “تمہیں کیا دکھ ہے ثانیہ؟ مجھے بتاؤ تو سہی؟” اس نے نحیف آواز میں کہا: “اپنوں کی بے رخی کا دکھ! جن کے لیے میں نے اپنی زندگی کی تمام خوشیاں قربان کر دیں اور تمہیں اتنا لمبا انتظار کروایا کہ اب معافی مانگتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ مگر تم نہیں جانتے کہ میری بہنوں اور بھائیوں نے اپنی خوشیاں پاتے ہی میرے ساتھ کیا سلوک کیا؛ انہوں نے مجھے بھلانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگایا۔ بھابھی ہر وقت میرا دل دکھاتی ہے تو بھائی اسے ایک لفظ نہیں کہتا، اور بہنوں کا فون بھی مہینوں بعد آتا ہے اور وہ بس ایک منٹ بات کر کے فون رکھ دیتی ہیں، کبھی یہ دیکھنے نہیں آتیں کہ میں کس حال میں جی رہی ہوں۔”
سامر بھائی نے تڑپ کر کہا: “ثانیہ! تم آج ہی میرے گھر چلو، میرا سجا سجایا آنگن نہ جانے کب سے تمہارا منتظر ہے اور باغ کے پھول تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔” ثانیہ نے مسکرا کر کہا: “جب میں تمہیں کوئی خوشی نہ دے سکی، تو اب تکلیف کیوں دوں؟ اب مجھے میرے والد کے گھر میں ہی رہنے دو؛ مجھے جو مرض لاحق ہے، اس میں زندگی ہی کتنی بچی ہوتی ہے؟” اس کے باوجود سامر بھائی روز باقاعدگی سے وہاں جاتے رہے۔ دو ماہ تک وہ ثانیہ کو لے کر ہسپتال جاتے رہے، پھر حالات بگڑنے پر اسے ہسپتال میں ہی داخل کر لیا گیا۔ وہ اس کے آخری دم تک اس کے ساتھ رہے اور اس کے پاس ہی بیٹھے رہے۔ جب بھی خون کی ضرورت پڑتی، وہ اسے اپنا خون دیتے۔ آخری دن ثانیہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا: “ہم اس دنیا میں تو نہ مل سکے، اب انشاء اللہ آخرت میں ملیں گے۔ شکر ہے تم اس کٹھن وقت میں میرے پاس موجود ہو، جبکہ میرا کوئی بھائی یا بہن میرے پاس نہیں ہے۔ اگر تم بھی نہ ہوتے تو یہ مشکل وقت کیسے گزرتا؟ تمہاری اس بے لوث وفا نے اس آخری وقت کو میرے لیے بہت آسان کر دیا ہے۔” وہ بیچاری اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ سامر بھائی نے چھپ کر دوسری شادی کر رکھی تھی؛ اگر اسے اس بات کی خبر ہو جاتی، تو شاید دنیا سے جاتے جاتے وفا پر سے بھی اس کا اعتبار اٹھ جاتا۔
sublimegate
ہم تین بہن بھائی تھے۔ والد صاحب نے پیچھے اچھا خاصا سرمایہ چھوڑا تھا؛ ان کا اپنا کاروبار تھا جسے میرے دونوں بھائیوں نے سنبھال لیا، یوں ہمارے مالی حالات دگرگوں ہونے سے بچ گئے۔ لیکن دوسری طرف بیچاری چچی جان بالکل خالی ہاتھ رہ گئیں۔ ان کے پانچ بچے تھے، جن میں سے صرف بڑی بیٹی ثانیہ نے بی اے کیا تھا اور باقی سب ابھی زیرِ تعلیم تھے۔ گھر میں کمانے والا کوئی نہ تھا، اور چچی کے میکے والے بھی اتنے امیر نہ تھے کہ اس مشکل وقت میں ان کا سہارا بن سکتے۔
کچھ دن سوگ منانے کے بعد بالآخر چچی کو سوچنا پڑا کہ اب ان کے کنبے کا گزر بسر کیسے ہو گا۔ وہ خود پڑھی لکھی تھیں نہ کوئی ہنر جانتی تھیں، البتہ ثانیہ بڑی گنوں والی لڑکی تھی۔ وہ اپنے خاندان کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہی تھی۔ ثانیہ کی منگنی میرے بڑے بھائی سامر سے ہو چکی تھی اور ارادہ تھا کہ بی اے کے بعد ہم ثانیہ کو بیاہ کر اپنے گھر لے آئیں گے۔ جب یہ سانحہ ہوا، تب ثانیہ کا رزلٹ آئے چند ہی دن ہوئے تھے۔ یوں خوشیوں کے منتظر گھروں کو اچانک ماتم کے دن دیکھنے پڑ گئے۔ ہم تو جیسے تیسے سنبھل گئے، مگر منان چچا کے اہل خانہ کو انتہائی کٹھن حالات کا سامنا تھا۔ ہم سے جو بن پڑتا، مدد کرتے تھے لیکن یہ مالی تعاون اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر تھا۔ بالآخر ثانیہ کو ہی حالات کا مردانہ وار مقابلہ کرنا تھا کیونکہ اسے اپنی دو چھوٹی بہنوں اور دو بھائیوں کی تعلیم مکمل کرانی تھی۔ اس نے تندہی سے نوکری کی تلاش شروع کر دی، لیکن محض بی اے پاس کو آسانی سے نوکری کہاں ملتی ہے! اسی دوران کسی نے مشورہ دیا کہ اگر وہ بی ایڈ کر لے، تو کسی سرکاری اسکول میں بطور ٹیچر بھرتی ہو سکتی ہے۔
ان دنوں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی تھی اور بی ایڈ کا کورس دو سال کا ہوتا تھا۔ امی نے کہا کہ اگر ثانیہ بی ایڈ کرنا چاہتی ہے تو اس کی پڑھائی کے اخراجات ہم اٹھا لیں گے تاکہ وہ اپنی خواہش پوری کر سکے، آخر کار اسے بہو بن کر ہمارے ہی گھر آنا ہے۔ دوسری طرف سامر بھائی کو بھی کاروبار سیٹ کرنے کے لیے دو سال کی مہلت درکار تھی، کیونکہ ابو کی وفات کے بعد دکان کی تمام ذمہ داری انہوں نے سنبھال لی تھی۔ چھوٹا بھائی عامر ابھی بی اے کے آخری سال میں تھا، اس لیے وہ شام کو صرف دو چار گھنٹے ہی دکان پر آ پاتا تھا اور اس دوران سامر بھائی گھر آ کر کھانا کھا لیتے تھے۔
سامر بھائی نے ایم ایس سی کر رکھی تھی اور وہ کوئی اچھی ملازمت اختیار کرنا چاہتے تھے، لیکن والد کی ناگہانی وفات کے بعد پیدا ہونے والے خلا کو انہی کو پر کرنا پڑا۔ والد صاحب کی صدر بازار میں کپڑے کی ایک بڑی دکان تھی جو خوب چلتی تھی اور ہمارا شمار خوشحال لوگوں میں ہوتا تھا۔ اگرچہ دکان پر ملازم موجود تھے، تاہم کاروبار کو مکمل طور پر ملازمین کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا تھا؛ چنانچہ بھائی کو ملازمت کا ارادہ بدلنا پڑا، حالانکہ ان کا رجحان بزنس کی طرف بالکل نہیں تھا۔ وہ اکثر والد صاحب سے کہا کرتے تھے کہ بیرونِ ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ان کا خواب ہے۔ سامر بھائی انتہائی ذہین تھے اور انہوں نے ایم ایس سی میں ٹاپ کیا تھا، لیکن افسوس کہ وہ خاندانی کاروبار میں ایسے الجھے کہ ان کی اعلیٰ تعلیم کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ وقت تیزی سے گزرتا گیا، ثانیہ نے اپنا بی ایڈ مکمل کر لیا اور ایک سرکاری اسکول میں بطور ٹیچر اس کا تقرر ہو گیا۔ ادھر چھوٹے بھائی نے بھی اپنی تعلیم مکمل کر لی؛ اسے بزنس کا شوق تھا، اس لیے اس نے سامر بھائی کے ساتھ مل کر دکان سنبھال لی، جس سے رزق میں مزید برکت ہونے لگی۔ اب والدہ کو بڑے بھائی کی شادی کی فکر ستانے لگی۔ ایک روز انہوں نے سامر بھائی سے کہا: “میں چاہتی ہوں کہ اب تمہارا گھر آباد ہو جائے، اس لیے میں ثانیہ کی والدہ سے شادی کی تاریخ طے کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔” سامر بھائی نے جواب دیا: “امی جان! جس بات میں آپ کی خوشی ہو، ہمیں بھی وہی عزیز ہے۔”
اگلے دن امی چچی کے پاس گئیں اور کہنے لگیں: “بہن! اب شادی کی تاریخ طے کر لو۔ تمہاری دو اور بچیاں بھی ہیں، بڑی کا فرض ادا ہو گا تو چھوٹوں کی باری آئے گی۔” چچی نے جواب دیا: “باجی! آپ بالکل صحیح کہتی ہیں، میں بھی یہی سوچتی ہوں لیکن ثانیہ کسی صورت ابھی شادی پر راضی نہیں ہو رہی۔ وہ کہتی ہے کہ پہلے چھوٹے بہن بھائی اپنی تعلیم مکمل کر لیں، پھر شادی کا نام لیں۔” امی بولیں: “وہ تو ٹھیک ہے، لیکن شادی کی بھی ایک عمر ہوتی ہے۔ بے شک وہ شادی کے بعد بھی اپنی تنخواہ سے چھوٹے بہن بھائیوں کی پڑھائی کا خرچ اٹھاتی رہے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ اور تمہاری ضروریات میں پوری کرتی رہوں گی، آخر میں تمہاری سگی بہن ہوں، کوئی غیر تو نہیں! میری تو بس یہی آرزو ہے کہ بچوں کی خوشیاں وقت پر دیکھ لوں۔” اس کے بعد چچی نے دوبارہ ثانیہ سے بات کی، مگر اس نے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے امی سے کہا: “باجی! وہ مان نہیں رہی، آپ خود ہی اس سے بات کر کے دیکھ لیں۔” جب امی نے ثانیہ سے بات کی تو اس نے کہا: “خالہ جان! آپ ہماری مجبوری کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ہم زیادہ عرصے تک آپ کی مالی مدد پر تکیہ نہیں کر سکتے، یہ بات کل کو میرے بھائیوں کی غیرت کو بھی گوارا نہیں ہوگی۔ اگر آپ ہمیں کچھ مہلت دے سکتی ہیں تو ٹھیک ہے، ورنہ آپ اپنے بیٹے کی شادی کہیں اور کر دیں۔ اگر میں نے اس وقت اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا، تو میرے بہن بھائی کبھی اپنی تعلیم مکمل نہیں کر پائیں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ کم از کم کوئی ایک تو پڑھ لکھ کر برسرِ روزگار ہو جائے تاکہ ہمارے گھر کی گاڑی چلتی رہے۔”
والدہ نے جب یہ بات سامر بھائی کو بتائی تو انہوں نے کہا: “امی جان! اپنی چھوٹی بہن کی مجبوریوں کا پاس کیجیے اور ابا اور چچا منان کی محبت کا خیال رکھیے۔ دونوں میں اس قدر الفت تھی کہ اس جہان میں بھی ہمیشہ ساتھ رہے اور اس جہان فانی سے بھی ساتھ ہی گئے۔ اگر ہم ایک دو سال اور انتظار کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔” والدہ بیچاری دل مسوس کر رہ گئیں۔ انہیں سامر بھائی سے بہت محبت تھی اور وہ انہیں دیکھ دیکھ کر ہی جیتی تھیں، وہ تو بس اپنے بڑے بیٹے کے سہرے کے پھول کھلنے کی دعائیں مانگا کرتی تھیں۔
مزید دو سال گزر گئے۔ ثانیہ کی چھوٹی بہن دانیہ نے جب میٹرک میں پوزیشن لی، تو اسے ایک اچھے کالج میں داخلہ مل گیا۔ اس پر والدہ نے خالہ (چچی جان) کو سمجھایا: “بھئی! لڑکیوں کو کالج میں پڑھانے کے بجائے اب ان کی شادیوں کی فکر کرو۔ سر پر باپ یا تایا کا سایہ نہیں ہے اور تمہارے بیٹے ابھی نویں دسویں جماعت میں پڑھتے ہیں، آگے چل کر انہی کو پڑھا لینا؛ لڑکیوں کو اتنی اعلیٰ تعلیم دلوانا ضروری نہیں ہے۔ اب ثانیہ کو اپنے گھر کا کرو، آخر ہم کب تک انتظار کریں گے؟”
چچی نے جواب دیا: “باجی! ثانیہ مانتی ہی نہیں، میں تو اسے سمجھا سمجھا کر تھک گئی ہوں، اب آپ ہی اسے سمجھائیں۔” بیچاری چچی بھی جانے کس دل سے اسے سمجھاتی ہوں گی، کیونکہ ثانیہ کی تنخواہ کے سوا ان کا کوئی اور ذریعہ معاش نہیں تھا۔ گھر کا سارا نظام اسی طرح چل رہا تھا کہ پورا دارومدار بیٹی کی ملازمت پر تھا۔ شاید وہ ہمیں مطمئن کرنے کے لیے ایسا کہہ دیتی ہوں اور اندر سے وہ خود بھی مجبور ہوں۔ بہرحال، ایک بار پھر ثانیہ سے بات کی گئی تو اس نے وہی پرانا مؤقف دہرایا۔ والدہ اب بالکل مایوس ہو گئیں اور گھر آ کر سامر سے بولیں: “بیٹا! مجھے لگتا ہے کہ یہ بیل منڈھے چڑھنے والی نہیں ہے۔ تمہاری چچی اپنے بچوں کی ضد کے آگے بالکل بے بس ہیں۔ دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی شادی کا نام سنتے ہی منہ پھیر لیتی ہیں اور آگے پڑھنے کا شوق رکھتی ہیں، جبکہ ان کے حالات اعلیٰ تعلیم کی اجازت نہیں دیتے۔ یہ لوگ لڑکیوں کو پڑھانے لکھانے میں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ اب ہمیں یہ منگنی کا سلسلہ ختم کر کے کسی اور گھرانے میں لڑکی دیکھنی ہوگی۔” یہ سن کر سامر کے منہ سے بے اختیار نکلا: “ماں! ایسی بددعا تو نہ دیں۔”
والدہ نے کہا: “یہ بددعا نہیں ہے بیٹے! تم اس رشتے کو اب ختم ہی سمجھو۔ دیکھو نا، ثانیہ مجبور ہے؛ اگر وہ منجدھار میں اپنے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر اپنا گھر بسا لیتی ہے تو ان کا کیا بنے گا؟ ابھی ان میں سے کسی کی نوکری بھی نہیں لگ سکتی جب تک کہ کوئی ایک اپنی تعلیم مکمل نہ کر لے۔ میری مانو، تو ہم کسی اور جگہ تمہارا رشتہ طے کر کے شادی کر دیتے ہیں۔” اب گھر میں ایک عجیب کشمکش کا سماں تھا؛ ماں گھر گھر لڑکیاں دیکھتی پھرتی تھیں اور بھائی بالکل گم صم ہو گئے تھے۔ میرے بھائی کو ثانیہ سے اس قدر لگاؤ تھا کہ ان کی نظر میں اس کا کوئی نعم البدل ہو ہی نہیں سکتا تھا، وہ اپنے دل میں صرف اسی کو بسائے ہوئے تھے۔
ایک سال اور گزر گیا۔ اماں جو بھی لڑکی پسند کرتیں، وہ بھائی سامر کو پسند نہ آتی، جس سے تنگ آ کر وہ مایوس ہو گئیں اور صاف کہہ دیا کہ اب میں اپنی مرضی کی لڑکی سے ہی تمہاری شادی کروں گی۔ بھائی نے اس صورتحال سے راہِ فرار اختیار کرنے کے لیے دکان کا سارا کام کلی طور پر چھوٹے بھائی کے سپرد کیا اور خود ملازمت کا شوق پورا کرنے کے بہانے اسلام آباد چلے گئے۔ انہوں نے وہاں ایک ایسی نوکری کے لیے درخواست دے رکھی تھی جو ان کے معیار کے مطابق تھی۔ اسے قسمت کی خوبی کہیے یا بدقسمتی، انہیں وہ ملازمت مل گئی۔
چھ ماہ بعد والدہ بھائی سے ملنے اسلام آباد چلی گئیں، وہاں پڑوس میں آنا جانا شروع کیا۔ جلد ہی ایک اچھی لڑکی دیکھی جو انہیں پسند آ گئی اور انہوں نے بھائی کو رو دھو کر اپنی بات ماننے پر مجبور کر دیا۔ وہ سگائی کر کے واپس آ گئیں مگر خاندان میں کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی، مبادا کوئی رنگ میں بھنگ نہ ڈال دے یا ثانیہ اور اس کی ماں کا دل خراب نہ ہو۔ دو تین ماہ وہ چپکے چپکے شادی کی تیاریوں میں لگی رہیں، پھر اسلام آباد جا کر بھائی سامر کی شادی ‘رفعت’ سے کروا دی، جو پڑھی لکھی، خوبصورت اور ایک اچھے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ انہوں نے سامر بھائی کو سخت ہدایت کی کہ ابھی دلہن کو لاہور مت لانا، جب میں کہوں گی تبھی آنا۔
بھائی کی شادی کو دو سال گزر گئے مگر امی نے انہیں ادھر آنے کی اجازت نہ دی، کیونکہ چچی کا اور ہمارا گھر بالکل جڑا ہوا تھا۔ دو سال بعد ایک دن چچی خود ہمارے گھر آئیں اور کہنے لگیں: “ثانیہ اب اس حد تک مان گئی ہے کہ بے شک آپ لوگ ابھی صرف نکاح کر لیں، اور رخصتی اس وقت ہو جائے گی جب دانیہ پاس ہو جائے گی تاکہ وہ نوکری کر کے گھر سنبھال لے اور چھوٹے بھائیوں کی تعلیم جاری رہ سکے۔” امی نے انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا: “سامر ذرا لاہور آ جائے تو میں اس سے بات کرتی ہوں کہ آیا وہ مزید انتظار کر سکتا ہے یا نہیں…” جب سامر بھائی گھر آئے تو والدہ نے یہ معاملہ ان کے سامنے رکھا، جس پر سامر بھائی نے جواب دیا: “اماں! ایک شادی آپ نے اپنی مرضی سے کی ہے، اب ایک میں اپنی مرضی سے کروں گا۔ آپ انہیں نکاح کا عندیہ دے دیں، میں ثانیہ سے نکاح کر کے ہی جاؤں گا۔ وہ یہیں رہے گی اور نوکری کر کے اپنے گھر کو بدستور سپورٹ کرتی رہے گی، جبکہ اسلام آباد والی وہیں رہے گی کیونکہ وہ اپنے میکے کے نزدیک رہنا پسند کرتی ہے اور خود یہاں آنا نہیں چاہتی۔”
جس وقت انہوں نے ثانیہ سے نکاح کیا، اس وقت بھائی کے دو بچے ہو چکے تھے۔ چونکہ یہ ان کا اپنا فیصلہ تھا، اس لیے ہم کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ بہرحال، ہم نے چچی، ان کے گھر والوں اور ثانیہ سے یہ بات مکمل طور پر چھپائے رکھی کہ سامر کی شادی اسلام آباد میں ہو چکی ہے اور اس کے دو بچے بھی ہیں۔ جب سامر بھائی خود ہی یہ بات بتانا نہیں چاہتے تھے، تو ہم کیا کرتے! امی نے بہرحال انہیں بہت سمجھایا کہ ایسا مت کرو، ایک شادی کر چکے ہو تو اب دوسری نہ کرو، مگر انہوں نے اپنا ارادہ نہیں بدلا۔
طے یہ پایا تھا کہ ایک سال بعد رخصتی ہو گی، مگر جب سال گزر گیا تو چچی نے پھر معذرت خواہانہ انداز میں عذر پیش کیا: “دونوں چھوٹی لڑکیوں کے اچھے رشتے آئے ہوئے ہیں؛ بات پکی ہو گئی ہے، میں جلد ہی ان کی شادی کر کے انہیں رخصت کرتی ہوں اور اس کے فوراً بعد ثانیہ کی رخصتی کر دوں گی۔ آپ تو اپنے ہیں، مجھے ذرا غیروں سے نمٹ لینے دیں کیونکہ وہاں جہیز بھی دینا ہے اور شادیوں کے اخراجات بھی اٹھانے ہوں گے۔” اب ہم بھی بے فکر تھے کیونکہ سامر بھائی پہلے ہی شادی شدہ تھے اور اب ان کے تین بچے ہو چکے تھے، اس لیے ہمیں کسی بات کی جلدی نہیں تھی؛ لیکن سامر بھائی ہر صورت جلد از جلد رخصتی کے خواہاں تھے۔ انہوں نے ثانیہ کے لیے ایک نیا گھر بھی خرید لیا تھا اور وہ اسے سجانے سنوارنے میں لگے رہتے تھے۔ ان کو اپنی منگیتر سے جو دلی لگاؤ تھا، وہ اتنے برسوں بعد بھی جوں کا توں برقرار تھا اور اس میں سرِمو کوئی کمی نہیں آئی تھی۔
انہوں نے کئی بار ثانیہ سے رابطہ کیا اور میرے ذریعے بھی کہلوایا: “تم نوکری چھوڑ دو، ہم تمہارے گھر والوں کے تمام اخراجات خود اٹھائیں گے۔” مگر وہ نہیں مانی اور اپنی خودداری پر قائم رہی۔ اس کا کہنا تھا: “میں اپنے گھر والوں کو کسی کا محتاج نہیں کروں گی، خواہ آپ لوگ ہمارے اپنے ہی کیوں نہ ہوں۔”
بالآخر ثانیہ کی دونوں چھوٹی بہنوں کی شادیاں ہو گئیں اور وہ اپنے اپنے گھروں کی ہو رہیں۔ اس کے بعد اس کے بھائی نے اچھے نمبروں سے ایف ایس سی پاس کر لیا اور اس کا داخلہ میڈیکل کالج میں ہو گیا۔ بہنوں کی شادیوں اور بھائیوں کے تعلیمی اخراجات نے ثانیہ کے بجٹ کو ہلا کر رکھ دیا، جس سے حالات سدھرنے کے بجائے مزید ابتر ہو گئے۔ ہم نے چچی کو رقم دینا چاہی لیکن ثانیہ نے قبول نہیں کی اور کولہو کے بیل کی طرح زندگی کی گاڑی کو اکیلی ہی کھینچتی رہی۔ ادھر بھائی ترقی کر کے ایک اعلیٰ عہدے پر پہنچ گئے مگر ثانیہ کے مسائل جوں کے توں رہے۔ یہاں تک کہ اس کے چھوٹے بھائی کی بھی نوکری لگ گئی اور اس نے اپنی پسند سے شادی کر لی۔ بھائی کی نوکری لگنے سے جب گھر کے حالات سنبھرے اور امید بندھی، تو ثانیہ نے خود ہم سے رابطہ کیا؛ اب وہ رخصتی کے لیے بالکل تیار تھی۔ یوں ایک طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد بالآخر سامر بھائی کی مراد بر آئی۔
بدقسمتی سے انہی دنوں چچی جان کا انتقال ہو گیا۔ ثانیہ کا ایک بھائی ہاسٹل میں تھا اور دوسرا اپنی بیوی کو لا چکا تھا۔ اب ثانیہ بھی اندر سے بالکل تھک چکی تھی؛ بھائی اور بھابھی اس کی ذات سے بالکل لاپروا ہو چکے تھے اور وہ گھر میں شدید تنہائی محسوس کرتی تھی، اس لیے اب وہ اپنے گھر آ کر بسنا چاہتی تھی۔ بالآخر اس نے فون کر کے سامر بھائی سے کہا: “سامر! اب میں تمہارے پاس آنا چاہتی ہوں، میں بہت تھک گئی ہوں؛ مجھے آ کر اپنے گھر لے جاؤ۔” اتنے طویل انتظار کے بعد بھی سامر بالکل بددل نہیں ہوا تھا، وہ اس روز کتنا خوش تھا میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی۔ وہ یہ بات بھی بھول گیا کہ اسلام آباد میں اس کی ایک بیوی اور تین بچے بھی ہیں۔ وہ کہتا تھا: “ثانیہ ہرگز خود غرض نہیں تھی، وہ مجبور تھی؛ اس نے کئی زندگیاں سنوارنے کے لیے ایک طویل جہاد کیا ہے۔” میرا بھائی روز اس گھر میں جاتا جسے اس نے برسوں پہلے ثانیہ کے لیے خریدا تھا، وہ اسے ایسے سجاتا سنوارتا جیسے کوئی نئی دلہن آنے والی ہو۔ اور ہاں! اس گھر میں اس کی نئی دلہن ہی تو آ رہی تھی؛ اس کے دل کی ملکا، اس کی من چاہی ثانیہ…! پھر ایک دن اچانک ثانیہ نے فون کر کے کہا کہ اس نے رخصتی کا خیال ملتوی کر دیا ہے۔ اس نے کہا: “سامر! بے شک تم کہیں اور شادی کر لو…” اور یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا۔ سامر بھائی دنگ رہ گئے کہ اچانک یہ کیا ہوا! کیا اسے میری پہلی شادی کا علم ہو گیا ہے؟ کیا کسی نے اسے بتا دیا ہے کہ میری بیوی اور بچے بھی ہیں؟ وہ اپنے دل میں ڈرے سہمے بالآخر ثانیہ کے گھر پہنچ گئے تاکہ معلوم کر سکیں کہ ایسی کیا بات ہوئی ہے جو وہ یوں روٹھ گئی ہے۔
وہ اپنے کمرے میں بستر پر لیٹی ہوئی تھی، بالکل لاغر اور بیمار۔ بھائی نے پوچھا: “ثانیہ! مجھ سے ایسی کیا خطا ہو گئی جو تم نے صاف انکار کر دیا؟ تم نے میرے اتنے برسوں کے انتظار کا بھی پاس نہیں رکھا؟ میں نے تمہارے لیے ایک گھر خریدا ہے تاکہ تم زندگی کے باقی دن سکون اور آرام سے گزار سکو؛ ایک بار چل کر دیکھو تو سہی کہ وہاں میں نے تمہاری یاد میں ایک جہان آباد کر رکھا ہے۔ اس مکان کی ایک ایک اینٹ اور باغ کا ایک ایک پتا اس بات کا گواہ ہے کہ مجھے تم سے سچی محبت ہے۔” ثانیہ نے جواب دیا: “ہاں، مجھے یقین ہے سامر! مگر اب میری زندگی کا چراغ آخری سانسوں پر ہے۔ اب چلنے سے میرا سانس پھولتا ہے اور میری بھوک بالکل ختم ہو چکی ہے؛ میں خود کو زندگی سے بہت دور محسوس کرتی ہوں۔” سامر بھائی نے کہا: “یہ صرف تمہارا وہم ہے، تم بیمار نہیں ہو بلکہ صرف تھک گئی ہو؛ آؤ، میں تمہیں ڈاکٹر کے پاس لے چلتا ہوں۔” چنانچہ سامر بھائی زبردستی ثانیہ کو گاڑی میں بٹھا کر ہسپتال لے گئے۔ جب وہاں اس کا تفصیلی چیک اپ کرایا گیا تو ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے بلڈ کینسر ہے اور اب وہ صرف چند ہی دنوں کی مہمان ہے۔ سامر بھائی نے روتے ہوئے پوچھا: “تمہیں کیا دکھ ہے ثانیہ؟ مجھے بتاؤ تو سہی؟” اس نے نحیف آواز میں کہا: “اپنوں کی بے رخی کا دکھ! جن کے لیے میں نے اپنی زندگی کی تمام خوشیاں قربان کر دیں اور تمہیں اتنا لمبا انتظار کروایا کہ اب معافی مانگتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔ مگر تم نہیں جانتے کہ میری بہنوں اور بھائیوں نے اپنی خوشیاں پاتے ہی میرے ساتھ کیا سلوک کیا؛ انہوں نے مجھے بھلانے میں ایک منٹ بھی نہیں لگایا۔ بھابھی ہر وقت میرا دل دکھاتی ہے تو بھائی اسے ایک لفظ نہیں کہتا، اور بہنوں کا فون بھی مہینوں بعد آتا ہے اور وہ بس ایک منٹ بات کر کے فون رکھ دیتی ہیں، کبھی یہ دیکھنے نہیں آتیں کہ میں کس حال میں جی رہی ہوں۔”
سامر بھائی نے تڑپ کر کہا: “ثانیہ! تم آج ہی میرے گھر چلو، میرا سجا سجایا آنگن نہ جانے کب سے تمہارا منتظر ہے اور باغ کے پھول تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔” ثانیہ نے مسکرا کر کہا: “جب میں تمہیں کوئی خوشی نہ دے سکی، تو اب تکلیف کیوں دوں؟ اب مجھے میرے والد کے گھر میں ہی رہنے دو؛ مجھے جو مرض لاحق ہے، اس میں زندگی ہی کتنی بچی ہوتی ہے؟” اس کے باوجود سامر بھائی روز باقاعدگی سے وہاں جاتے رہے۔ دو ماہ تک وہ ثانیہ کو لے کر ہسپتال جاتے رہے، پھر حالات بگڑنے پر اسے ہسپتال میں ہی داخل کر لیا گیا۔ وہ اس کے آخری دم تک اس کے ساتھ رہے اور اس کے پاس ہی بیٹھے رہے۔ جب بھی خون کی ضرورت پڑتی، وہ اسے اپنا خون دیتے۔ آخری دن ثانیہ نے ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا: “ہم اس دنیا میں تو نہ مل سکے، اب انشاء اللہ آخرت میں ملیں گے۔ شکر ہے تم اس کٹھن وقت میں میرے پاس موجود ہو، جبکہ میرا کوئی بھائی یا بہن میرے پاس نہیں ہے۔ اگر تم بھی نہ ہوتے تو یہ مشکل وقت کیسے گزرتا؟ تمہاری اس بے لوث وفا نے اس آخری وقت کو میرے لیے بہت آسان کر دیا ہے۔” وہ بیچاری اس بات سے بالکل بے خبر تھی کہ سامر بھائی نے چھپ کر دوسری شادی کر رکھی تھی؛ اگر اسے اس بات کی خبر ہو جاتی، تو شاید دنیا سے جاتے جاتے وفا پر سے بھی اس کا اعتبار اٹھ جاتا۔
(ختم شد)

