میرے بعد والدہ نے تین بچوں کو جنم دیا، مگر رضائے الٰہی سے وہ سب بچپن ہی میں فوت ہو گئے۔ ممتا کی ماری ماں کو ان پے در پے صدموں نے نڈھال کر دیا تھا۔ وہ اللہ سے دعا کرتیں: “اے میرے رب! اب اولاد دینا تو وہ دراز عمر ہو، کیونکہ مجھ میں مزید صدمے سہنے کی تاب نہیں رہی۔”
جب انسان اپنے خالق کے حضور خشوع و خضوع سے دعا کرتا ہے اور عاجزی سے سجدہ ریز ہوتا ہے، تو مالکِ دو جہاں ضرور اس کی جھولی مرادوں سے بھر دیتا ہے۔ والدہ کی دعا بھی قبول ہوئی اور اللہ نے انہیں “عمر” کے روپ میں ایک خوبصورت بیٹا عطا کیا۔ میرے والدین کو برسوں بعد ایک بار پھر اولاد کی خوشی نصیب ہوئی تھی۔ انہوں نے بیٹے کا نام “عمر دراز” رکھا کیونکہ ان کا دل ہمیشہ ڈرا سہما رہتا تھا۔ اس سے قبل وہ یکے بعد دیگرے تین بچوں کی وفات کا صدمہ جھیل چکے تھے۔
ان دنوں میں تیسری جماعت میں پڑھتی تھی اور بھائی مجھ سے آٹھ برس چھوٹا تھا۔ میری خوشی کی انتہا نہ تھی؛ اللہ نے عمر کی صورت میں مجھے ایک جیتا جاگتا کھلونا عطا کر دیا تھا۔ سارا دن میرا دھیان اسی کی طرف لگا رہتا اور اسکول سے آکر میں اسی کے ساتھ جی بہلاتی۔
جب وہ کچھ سمجھدار ہوا تو ابو نے کہا کہ اب اسے اسکول داخل کرواتے ہیں، مگر امی نہ مانیں۔ ان کا کہنا تھا کہ “میرا بچہ بہت بھولا بھالا ہے، اسے ابھی اسکول نہیں بھیجوں گی، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گھر سے نکلے اور کھو جائے۔” یہ امی کا محض وہم اور دل کا ڈر تھا۔ اس وقت میں سیکنڈری میں تھی؛ پرائمری تک لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے تھے مگر اب میرا اسکول الگ ہو چکا تھا، اسی لیے والدہ نے سال بھر عمر کو اسکول نہ جانے دیا۔ وہ ہر وقت خوفزدہ رہتیں، تاہم آخر کار سب کے سمجھانے پر راضی ہو گئیں۔ ابو نے یقین دلایا کہ وہ خود اسے اسکول چھوڑنے اور لینے جایا کریں گے۔
ان دنوں ملک کے حالات پرامن تھے۔ بچے خود ہی اسکول چلے جاتے اور واپس آ جاتے۔ کسی قسم کا خوف نہ تھا۔ جس دن عمر پہلی بار اسکول گیا، میں اس کے ساتھ گئی اور چھٹی تک وہاں ٹھہری رہی تاکہ اگر وہ روئے تو اسے گھر لے آؤں، لیکن وہ نہیں رویا۔ بلکہ وہاں موجود دوسرے بچوں کو روتا دیکھ کر کہنے لگا: “آخر یہ سب کیوں رو رہے ہیں؟”
وہ کافی سمجھدار تھا اور چھٹی ہونے تک سکون سے کلاس میں بیٹھا رہا۔ دیکھنے میں وہ بھولا بھالا مگر بے حد ذہین تھا۔ پہلی جماعت میں وہ اول آیا اور اگلی جماعت میں بھی اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ اسکول کے ہر فنکشن اور کھیلوں میں وہ نمایاں کامیابی حاصل کرتا۔ سب کہتے کہ اسے نظر نہ لگے، یہ بڑا ہو کر ضرور کچھ کر کے دکھائے گا، کیونکہ “ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات” (یعنی ذہین بچے کی علامات بچپن سے ہی نظر آنے لگتی ہیں)۔
جب وہ نویں جماعت میں تھا، تو ایک ایسا سانحہ ہوا جس نے اسے بدل کر رکھ دیا۔ ایک روز وہ اوپر سے جھانک رہا تھا کہ چھت کی منڈیر گر پڑی۔ وہ بھی اینٹوں کے ساتھ زمین پر آ گرا اور بے ہوش ہو گیا۔ سر پر شدید چوٹ آئی جس کی وجہ سے اسے فوری طور پر اسپتال لے جایا گیا۔ دو دن بعد اسے ہوش آیا اور وہ کئی روز اسپتال میں زیرِ علاج رہا۔ جب وہ ٹھیک ہو کر گھر آیا تو اس کی یادداشت کمزور ہو چکی تھی اور کام کرنے کی پہلے جیسی صلاحیت باقی نہ رہی تھی۔ اس چوٹ کی وجہ سے وہ ایک سال تک اسکول نہ جا سکا۔
وہ اب پہلے جیسا ہونہار طالب علم نہیں رہا تھا اور نہ ہی کوئی پوزیشن لے سکا، اسی لیے اسے پہلے جیسی پذیرائی بھی نہیں ملتی تھی۔ ایک سال ضائع ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ہم جماعتوں سے پیچھے رہ گیا؛ جب انہوں نے میٹرک پاس کیا تو عمر نویں جماعت میں تھا۔ رفتہ رفتہ اسے اپنی کم مائیگی کا احساس ستانے لگا۔ جب لوگ نظر انداز کرنے لگیں تو انسان میں احساسِ کمتری جنم لیتا ہے، جبکہ اساتذہ اور گھر والے اس سے اب بھی وہی پرانی عمدہ کارکردگی کی توقع رکھتے تھے۔ وہ یہ بھول جاتے تھے کہ سر کی چوٹ نے اس کی ذہنی صلاحیت کو نصف سے بھی کم کر دیا تھا۔
لوگوں کے اس رویے کا عمر پر منفی اثر ہوا اور وہ شدید ڈپریشن کا شکار ہو گیا۔ میٹرک میں جب وہ دو مضامین میں رہ گیا تو اسے امی اور ابو کی سخت باتیں سننی پڑیں۔ وہ کہتے: “تم نکمے ہو گئے ہو، اب پڑھائی پر توجہ نہیں دیتے” وغیرہ۔ والدین کی ان باتوں سے وہ مزید ٹوٹتا چلا گیا۔ اس نے بڑی مشکل سے خود کو بکھرنے سے بچایا اور میری بار بار ہمت دلانے پر دوبارہ میٹرک کا امتحان دیا۔ بدقسمتی سے اچھے نمبر نہ آ سکے اور وہ بمشکل پاس ہوا۔ اس کے بعد تو جیسے وہ خود فراموشی کے گہرے کنویں میں گر گیا۔
نتیجے والے دن کچھ رشتہ دار گھر آئے۔ انہوں نے عمر کے بارے میں پوچھا تو والد صاحب غصے میں کہنے لگے: “اس نے دو سال ضائع کر کے بھی کچھ نہ کیا، یہ نالائق ہے اور اب اسے کسی اچھے کالج میں داخلہ نہیں ملے گا۔” ان باتوں سے عمر کے دل کو سخت ٹھیس پہنچی اور اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس کی بے بسی کو میرے سوا کسی نے محسوس نہ کیا، بلکہ والدہ نے یہ کہہ کر جلتی پر تیل کا کام کیا: “ہاں، پاس تو ہو گیا ہے مگر مر مر کر۔ لگتا ہے اس کا آگے پڑھنے کا ارادہ ہی نہیں ہے۔”
ماں کے منہ سے ایسی بات سن کر عمر کا دل بھر آیا۔ اسے ماں سے ایسی توقع نہ تھی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ وہ اپنی مرضی سے ایسا نہیں ہوا۔ وہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔ جب میں وہاں گئی تو دیکھا کہ میرا بھائی چپکے چپکے رو رہا ہے۔ میں نے اسے گلے لگایا اور ڈھارس بندھائی۔ اس روز میں نے تہیہ کر لیا کہ میں اپنے بھائی کا پورا خیال رکھوں گی اور پڑھائی میں اس کی مدد کروں گی۔
میری توجہ اور روزانہ پڑھانے کی وجہ سے اسے ایک اوسط درجے کے کالج میں سفارش پر داخلہ مل گیا۔ میں فارغ وقت میں اس کے پاس بیٹھ کر اچھی باتیں کرتی تاکہ وہ احساسِ کمتری کی دلدل سے نکل سکے۔ میری اس کاوش سے اسے سکون ملا اور فرسٹ ایئر میں اس کے نمبر بہت اچھے آئے۔
ایک روز جب میری سہیلی روبینہ بیمار تھی، میں نے عمر سے کہا کہ مجھے اس کے گھر لے چلے۔ وہ اپنی موٹر سائیکل پر مجھے وہاں لے گیا۔ میں نے کہا: “بھائی! اندر آ جاؤ،” تو کہنے لگا: “نہیں باجی، میں باہر ہی بیٹھ کر آپ کا انتظار کرتا ہوں، آپ جلدی عیادت کر کے آ جائیے گا۔” جب وہ گلی میں میرا انتظار کر رہا تھا، اس کا ایک دوست نثار وہاں آ گیا۔ نثار کا گھر قریب ہی تھا، چنانچہ وہ اس کے اصرار پر اس کے گھر چلا گیا اور موٹر سائیکل گلی ہی میں چھوڑ دی۔ اس نے دوست سے یہ بھی نہ کہا کہ موٹر سائیکل اندر کھڑی کر لے۔ وہ اجنبی محلہ تھا۔ جب وہ تھوڑی دیر بعد واپس آیا تو موٹر سائیکل غائب تھی؛ کوئی اسے چوری کر چکا تھا۔
عمر کے ہوش اڑ گئے۔ اس نے روبینہ کے دروازے پر دستک دی، وہ بہت گھبرایا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا: “بھائی خیر تو ہے؟” وہ بولا: “باجی! خیر نہیں ہے، کوئی ہماری موٹر سائیکل لے گیا ہے۔” میں نے حیرت سے پوچھا: “یہ کیسے ہوا؟ تم کہاں تھے؟” اس نے بتایا کہ وہ نثار کے گھر چلا گیا تھا۔ میں نے افسوس سے کہا کہ میں نے تمہیں تاکید کی تھی کہ اسے باہر اکیلا مت چھوڑنا۔ عمر بہت پریشان تھا اور خاموش ہو گیا۔ ہم رکشے میں گھر واپس آئے۔ ابو ابھی گھر نہیں آئے تھے، اس لیے عمر رات ہی کو اپنے کمرے میں دبک گیا اور صبح تک باہر نہ نکلا۔
اگلی صبح جب والد صاحب کی نظر صحن کی اس جگہ پڑی جہاں موٹر سائیکل کھڑی ہوتی تھی، تو انہوں نے امی سے پوچھا کہ “صاحبزادے اتنی صبح کہاں گئے ہیں؟” امی نے بتایا کہ وہ تو اپنے کمرے میں سو رہا ہے۔ جب وہ کمرے میں گئیں تو دیکھا کہ وہ جاگ رہا ہے اور اس کی آنکھیں سوجی ہوئی ہیں۔ اس نے روتے ہوئے بتایا کہ موٹر سائیکل چوری ہو گئی ہے۔ امی نے اسے ڈانٹا کہ “تم نے کل کیوں نہیں بتایا؟ اب اپنے ابا کو کیا جواب دو گے؟”
بات چھپ نہیں سکتی تھی، لہٰذا ابو کو بتانا پڑا۔ پہلی بار انہوں نے اپنے لاڈلے بیٹے پر ہاتھ اٹھایا۔ وہ اسے مار رہے تھے اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چوٹیں میرے بدن پر لگ رہی ہوں۔ بے شک عمر کی غلطی تھی، مگر اس کا اصل سبب اس کی کمزور یادداشت تھی، جس پر والد صاحب نے غور نہ کیا۔ موٹر سائیکل کے غم میں انہوں نے اسے بہت برا بھلا کہا۔ ان توہین آمیز جملوں نے عمر کے دل پر گہرے زخم لگائے۔ ابو گرج کر کہہ رہے تھے: “تم ایک ناکارہ اور لاپروا انسان ہو، تم زندگی بھر ناکام ہی رہو گے۔”
مار کھا کر وہ اپنے کمرے میں چھپ گیا اور دیر تک روتا رہا۔ رات کو جب میں اس کے پاس گئی، تو وہ سسکیاں لیتے ہوئے پوچھنے لگا: “باجی! کیا میں واقعی اتنا برا اور ناکارہ ہوں؟” میں نے اسے سمجھایا کہ “عمر! تم ایسے نہیں تھے، یہ سب سر کی چوٹ کا اثر ہے، تم محنت کرو تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔” اس نے روتے ہوئے کہا: “باجی! ابو اور امی اب مجھ سے پیار نہیں کرتے، ان کے الفاظ تیر کی طرح میرے دل میں چبھتے ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ کاش میں پیدا ہی نہ ہوتا۔” امی بھی بجائے اسے دلاسا دینے کے موٹر سائیکل کا طعنہ دیتی رہیں۔ وہ دل جو میں نے بڑی مشکل سے جوڑا تھا، پھر سے ٹوٹ گیا۔
انسان ٹوٹے ہوئے بازو سے تو کام کر سکتا ہے، مگر ٹوٹے ہوئے دل کے ساتھ کچھ نہیں کر سکتا۔ میرے والدین یہ حقیقت نہ سمجھ سکے۔ انہوں نے عمر کے ساتھ ایسا رویہ اپنا لیا کہ وہ دلبرداشتہ ہو کر کالج جانے سے کترانے لگا اور گھر چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے اسے بہت سمجھایا کہ “گھر ایک نعمت ہے، اسے ٹھکرا کر مت جاؤ، باہر تمہارا کوئی نہیں ہے۔” اس نے جواب دیا: “مجھے گھر میں صرف محبت چاہیے، اگر یہاں کسی کے دل میں میرے لیے جگہ نہیں تو رہنے کا کیا فائدہ؟” اس دن وہ میرے واسطے دینے پر رک تو گیا، مگر سب سے لا تعلق ہو گیا۔
کالج چھوڑ دینے کے بعد وہ گھر والوں کی نظر میں مزید ناپسندیدہ ہو گیا۔ وہ اب صبح گھر سے نکلتا اور رات گئے لوٹتا۔ کسی سے کھانا مانگے بغیر چپ چاپ بستر پر لیٹ جاتا۔ میں خود اس کے لیے کھانا لے جاتی اور اصرار کر کے کھلاتی۔ وہ کہتا: “میری پیاری بہن! میں جہاں بھی رہوں، تمہارا پیار یاد رہے گا۔ صرف تمہاری وجہ سے میں یہاں رکا ہوا ہوں۔” مجھے تشویش رہتی کہ وہ سارا دن کہاں ہوتا ہے۔ ایک دن پتا چلا کہ ہمارے گھر سے کچھ دور ایک ویرانہ تھا، وہ وہاں ایک گھنے برگد کے درخت تلے بیٹھا رہتا یا جنگل میں مارا مارا پھرتا۔ اسے وہیں سکون ملتا تھا۔
ایک دن اس نے بتایا کہ اسے وہاں ایک خوبصورت لڑکی دکھائی دی تھی اور وہ بے اختیار اس کے پیچھے چل پڑا تھا، یہاں تک کہ وہ لڑکی نظروں سے اوجھل ہو گئی۔ میں نے سوچا کہ شاید ذہنی تناؤ کی وجہ سے اسے وہم ہونے لگا ہے، اس لیے اسے سمجھایا کہ “بھائی! یہ تمہارا وہم ہے، پریشانی میں انسان کو ایسے ہیولے نظر آتے ہیں۔ خدارا ان ویرانوں کی خاک چھاننا چھوڑ دو اور زندگی کا کوئی مقصد تلاش کرو۔” مگر عمر کو میری بات سمجھ نہ آئی۔ اب میں پریشان تھی کہ اگر یہ وہم نہیں ہے تو وہ لڑکی کون ہے جس نے میرے بھائی کو حواس باختہ کر رکھا ہے۔
ایک صبح دروازے کی گھنٹی بجی۔ عمر نے دروازہ کھولا تو سامنے وہی لڑکی اپنی ماں کے ساتھ کھڑی تھی۔ عمر ڈر گیا کہ شاید وہ شکایت کرنے آئی ہے۔ اس نے فوراََ معذرت کی: “مجھے معاف کر دو، مجھ سے بھول ہوئی، اب تمہارے پیچھے نہیں آؤں گا، میری امی سے کچھ نہ کہنا۔” وہ دونوں حیران تھیں کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، مگر وہ لڑکی خاموش رہی۔ اس کی ماں نے کہا: “بیٹا کیسی بھول؟ ہم تو ملنے آئے ہیں۔” میں انہیں اندر لے آئی۔ عمر پسینے میں شرابور اور نادم تھا۔ میں نے اسے کمرے میں بھیجا اور ان سے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئی ہیں؟ لڑکی کی ماں نے بتایا کہ انہوں نے محلے میں ایک پرانا مکان خریدا ہے، اس لیے پڑوسیوں سے ملنے آئی ہیں۔ جب انہوں نے عمر کے بارے میں پوچھا تو والدہ نے ترخی سے کہا: “یہ سیدھا نہیں بلکہ بے وقوف ہے۔”
میں نے بات سنبھالی اور بتایا کہ سر کی چوٹ کی وجہ سے یہ کبھی کبھی اپنی دنیا میں گم ہو جاتا ہے۔ جب وہ چلی گئیں تو عمر نے مجھ سے کہا: “باجی! کیا آپ کو نہیں لگتا کہ ہمارا گھر ویران ہو گیا ہے؟” میرا دل دھک سے رہ گیا اور میں سوچنے لگی کہ خدا خیر کرے۔
کچھ دن بعد وہ لڑکی عمر کو پھر گلی کے موڑ پر ملی۔ وہ لپک کر اس کے پاس گیا اور کہا: “میں برا نہیں ہوں اور نہ ہی بے وقوف ہوں۔” لڑکی مسکرا کر بولی: “ٹھیک ہے، آپ اچھے ہوں گے مگر میں کیا کروں؟” عمر نے پوچھا: “میں تمہیں کیسا لگتا ہوں؟” اس نے کہا: “تھوڑے سے پاگل لگتے ہو۔” اس بات پر بھائی بھی ہنس دیا۔ پھر اس نے اسے گھر آنے کی دعوت دی، مگر لڑکی نے کہا کہ وہ کسی لڑکے کو گھر نہیں بلاتی، البتہ وہ اس کی چوٹ کے بارے میں جانتی ہے اس لیے اسے دکھ نہیں دینا چاہتی۔ شاید وہ سمجھ گئی تھی کہ اس کے دماغ میں خلل ہے، اس لیے اس نے نرمی دکھائی۔
عمر نے گھر آکر امی سے کہا کہ وہ ان لوگوں کے گھر جائیں کیونکہ اسے وہ لڑکی پسند ہے اور وہ اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ امی نے صاف انکار کر دیا اور کہا: “وہ لوگ کیوں تمہیں رشتہ دیں گے؟ تم نہ ذہنی طور پر ٹھیک ہو اور نہ پڑھے لکھے، تم اس کے لائق ہی نہیں ہو۔” ماں کی یہ کٹی پھٹی بات سن کر عمر کا رنگ فق ہو گیا اور وہ ناراض ہو کر گھر سے نکل گیا۔ میں نے ماں کو ٹوکا کہ اس طرح اس کا دل نہیں توڑنا چاہیے تھا، مگر وہ اپنی بات پر اڑی رہیں۔
عمر وہاں سے سیدھا اس پرانے مکان کی طرف گیا جس پر چالیس برس سے تالا پڑا تھا۔ وہ ایک ہندو کا مکان تھا جو تقسیم کے وقت وہاں سے چلے گئے تھے۔ محلے والے کہتے تھے کہ انہیں وہاں قتل کیا گیا تھا اور اب بھی وہاں ان کا خون موجود ہے۔ ہم نے کبھی اس کا تالا کھلا نہیں دیکھا تھا، مگر اس دن بھائی نے دیکھا کہ تالا کھلا ہوا ہے۔ وہ اندر چلا گیا، جہاں ہر طرف گرد و غبار تھا، مگر وہ لڑکی وہاں ایک پرانی مسہری پر بیٹھی تھی۔ بھائی کو دیکھتے ہی وہ باہر نکل گئی اور عمر اس کے تعاقب میں دوڑا، مگر وہ گلی میں غائب ہو گئی۔
جب عمر نے گھر آکر مجھے یہ بتایا تو میں نے کہا: “بھائی! وہاں کوئی لڑکی نہیں تھی، وہ مکان اب بھی بند ہے اور ابو نے بتایا ہے کہ اسے کسی نے نہیں خریدا۔ تم نے جو کچھ دیکھا وہ تمہارا وہم تھا۔” عمر غصے میں آ گیا اور بولا: “میں بے وقوف ضرور ہوں مگر اتنا بھی نہیں۔” وہ گھر سے نکل گیا، میں اسے روکنے کے لیے پیچھے بھاگی تو دیکھا کہ وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اسی ویرانے کی طرف جا رہا تھا اور ہوا میں کسی کو پکار رہا تھا: “ٹھہرو! میں آ رہا ہوں۔” مجھے اندازہ ہوا کہ وہ حقیقت سے فرار اختیار کر کے اپنے تصورات کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ میں اس کے پیچھے جانا چاہتی تھی مگر وہ اتنی تیزی سے جنگل کی سمت دوڑا کہ میری نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
اگلے دن جب وہ نہ لوٹا تو سب کو فکر ہوئی۔ والد صاحب لوگوں کو لے کر جنگل میں گئے، مگر عمر کا کوئی سراغ نہ ملا۔ بس ایک جگہ کیچڑ میں اس کے جوتے ملے، لیکن وہاں قدموں کے نشان نہیں تھے۔ وہ دن اور آج کا دن، ہم نے اسے بہت ڈھونڈا مگر وہ نہ ملا۔ گاؤں والوں کا خیال ہے کہ وہ تصوراتی سایوں کا پیچھا کرتے ہوئے نالے میں گر کر بہہ گیا ہوگا۔ اس پرانے مکان کا معمہ بھی حل نہ ہوا کیونکہ وہاں اب بھی تالا پڑا ہے اور وہ خواتین بھی دوبارہ کبھی نظر نہ آئیں۔
ہمارے گاؤں کے وہم پرست لوگ کہتے ہیں کہ عمر جس دن چھت سے گرا تھا، وہ آم توڑنے گیا تھا اور درخت پر بسنے والی کسی ماورائی مخلوق نے اسے دھکا دیا تھا۔ ہم نے وہ گھر بیچ دیا اور اسی محلے میں نیا گھر لے لیا۔ میں نفسیات کی پروفیسر ہوں، میں نے برسوں یہ مضمون پڑھایا ہے، لیکن آج بھی مانتی ہوں کہ کچھ گتھیاں ایسی ہوتی ہیں جنہیں ماہرِ نفسیات بھی نہیں سلجھا سکتے، کیونکہ ان کی کوئی سائنسی توجیہ نہیں ہوتی۔
(ختم شد)

