والد نے چوتھے بیٹے کا نام عمر دراز رکھا، کیونکہ پہلے تین بچے نوزائیدگی میں ہی چل بسے تھے۔ وہ ہم سب کو بہت پیارا تھا۔ اماں کی خواہش تھی کہ میرا فرزند پڑھ لکھ کر “بڑا آدمی” بنے، لیکن والد کہتے تھے: “دعا کیا کرو کہ عمر دراز نیک اور اچھا انسان بنے، کیونکہ جو نیک ہوتا ہے وہی اصل میں بڑا آدمی ہوتا ہے۔”
بڑا آدمی بننے کے حوالے سے دونوں کے ذہن میں الگ تصورات تھے، مگر دونوں اسے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔ اگرچہ وسائل کم تھے، لیکن ہم روکھی سوکھی کھا کر بھی خوش تھے کیونکہ اپنا چھوٹا سا ذاتی گھر تھا اور فاقوں کی نوبت نہ تھی۔
sublimegate
عمر کو پڑھائی سے دلی لگاؤ تھا۔ پانچویں جماعت میں اول آیا تو وظیفہ ملنے لگا۔ وہ ہر وقت کتابوں میں گم رہتا اور نصابی کتب کے علاوہ بھی مطالعے کا شوق رکھتا تھا، لہٰذا والد اس کے لیے لائبریری سے اچھی کتابیں لا دیتے۔ ہمارے شہر کی اکلوتی لائبریری میں عمدہ کتب موجود تھیں۔ گھر میں کتابیں آتیں تو مجھے بھی اکثر پڑھنے کو مل جاتیں۔ عمر اور میری ذہنی تربیت میں ان کتابوں کا بڑا ہاتھ تھا، تاہم ہماری بڑی بہن کو مطالعے کا شوق نہ تھا۔ وہ پانچویں کے بعد گھر بیٹھ گئیں اور دو سال بعد سلائی اسکول میں داخلہ لے کر سلائی کڑھائی سیکھ لی۔ اب محلے بھر کے کپڑے سلنے کو آ جاتے، جس سے گھر بیٹھے اچھی آمدنی ہو جاتی۔
میٹرک میں عمر دراز نے بہت اچھے نمبر لیے تو والد صاحب نے اسے کالج میں داخل کرا دیا، یہ سوچے بغیر کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اخراجات بھی درکار ہوں گے، جبکہ وہ پرائمری اسکول کے ایک معمولی ٹیچر تھے۔ تنخواہ سے گھر کا خرچہ مشکل سے پورا ہوتا تھا لیکن امی جان کہتی تھیں: “اللہ پر توکل ہے، وہی مسبب الاسباب ہے اور وہی مدد کرے گا۔”
میرا بھائی بہت خوبصورت تھا۔ سرخ و سفید رنگت، تیکھے نقوش، اس پر شربتی آنکھیں اور سنہرے بال۔ سچ ہے کہ حسن بھی اکثر مصیبت بن جاتا ہے۔ اچھی صورت کی وجہ سے آوارہ لڑکے بھائی کو غلط راہ پر ڈالنے کی کوشش کرتے، مگر اللہ نے اسے عقلِ سلیم اور نیک دل عطا کیا تھا۔ وہ سارا دن کتابوں میں مگن رہتا اور باہر کی دنیا سے زیادہ رابطہ نہ رکھتا۔ اس کا خیال تھا کہ آدمی کو بس اپنے مقصد پر نظر رکھنی چاہیے، آوارہ لڑکوں کی دوستی محض وقت کا زیاں ہے۔ جب ان لڑکوں نے دیکھا کہ عمر کسی طرح ان کی بات نہیں مانتا، تو وہ اس کے پیچھے ہی پڑ گئے اور اسے طرح طرح سے گھیرنے کی کوشش کرنے لگے۔
گھر کے پاس ایک پارک تھا۔ عمر اکثر شام کو وہاں آدھ پون گھنٹہ تازہ ہوا کھانے اور جاگنگ کرنے جاتا۔ بس یہی اس کا اکلوتا مشغلہ تھا۔ جب ان لڑکوں کو پتا چلا تو وہ وہاں بھی آنے لگے اور اسے پریشان کرنے لگے۔ تنگ آ کر بھائی نے پارک جانا بند کر دیا۔ دوستی کرنا بری بات نہیں، ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، لیکن وہ لڑکے دوستی کے لائق نہ تھے؛ ان کا کردار درست نہیں تھا۔ وہ بدمعاش لڑکے تھے، عمر نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن انہوں نے جیسے قسم کھائی تھی کہ اسے اپنا دوست بنا کر ہی رہیں گے۔
عمر نے ان کی وجہ سے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ وہ کالج سے سیدھا گھر آتا، کھانا کھا کر سو جاتا اور پھر تازہ دم ہو کر پڑھنے بیٹھ جاتا۔ جب ان بدقماشوں نے دیکھا کہ وہ کسی صورت برائی پر مائل نہیں ہو رہا اور نہ ہی پارک آتا ہے، تو انہوں نے گھر تک رسائی حاصل کر لی۔ وہ روز شام کو دروازہ بجاتے؛ یہ ان کا روز کا معمول بن گیا تھا۔
والد صاحب ڈیوٹی سے آ کر دوپہر کا کھانا کھاتے اور آرام کرنے کے بعد ٹیوشن پڑھانے چلے جاتے۔ جب دروازے پر دستک ہوتی تو والدہ جاتیں، وہ لڑکے ان سے کہتے: “عمر سے کہیے کہ اس کے دوست آئے ہیں، چند منٹ کے لیے باہر آ جائے، کچھ بات کرنی ہے۔” عمر صاف منع کر دیتا۔ ایک روز ماں نے کہا: “بیٹا! یہ تیرے کالج کے دوست ہیں، تو ان سے ملتا کیوں نہیں؟ یہ تو بری بات ہے۔”
عمر نے جواب دیا: “ماں! یہ میرے دوست نہیں ہیں۔ پہلے یہ کالج میں پڑھتے تھے لیکن یہ شرارتی اور برے لڑکے ہیں، اسی لیے پرنسپل صاحب نے انہیں کالج سے نکال دیا ہے۔”
“تو بیٹا! یہ (لڑکے) کیا کرتے ہیں؟”
“ماں! یہ آوارہ گردی کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ یہ میرا وقت برباد کرنا چاہتے ہیں اور مجھے پڑھائی سے روکنا چاہتے ہیں۔ مجھے پڑھنا ہے، کچھ بننا ہے اور آپ کی آرزو پوری کرنی ہے۔ یہ جب بھی آئیں تو آپ کہہ دیا کریں کہ عمر گھر پر نہیں ہے۔” امی سب سمجھ گئیں۔
اب جب بھی وہ دروازے پر اسے بلانے آتے، اماں کہہ دیتیں کہ عمر گھر پر موجود نہیں ہے، وہ ٹیوشن پڑھنے گیا ہے۔ اماں گھر کا کام سنبھالتیں اور باجی نیلوفر دن رات سلائی مشین چلاتی تھیں۔ ابا رات گئے ٹیوشنز پڑھا کر لوٹتے تاکہ اضافی آمدنی سے عمر کی تعلیمی ضروریات پوری ہوں اور اسے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
میں ان دنوں چھٹی جماعت میں پڑھ رہی تھی اور خاصی سمجھدار تھی، لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ بھائی ان لڑکوں کی دوستی سے کیوں کتراتا ہے۔ جب وہ دستک دیتے، عمر بھائی کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگتے تھے۔ کیا خبر وہ بھائی کو دھمکاتے ہوں کہ اگر دوستی نہ کرو گے تو ہم دشمنی کریں گے۔ عمر گھر والوں کو ایسی کوئی بات نہ بتاتا جس سے اماں یا ہم لوگ پریشان ہو جائیں۔
وہ صرف نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلتا تھا، لیکن اب وہ مسجد کی بجائے نماز بھی گھر پر ہی پڑھنے لگا؛ اس نے خود کو جیسے نظر بند کر لیا تھا۔ ایک روز والد صاحب نے پوچھا: “عمر! تم کالج کے علاوہ کہیں آتے جاتے نہیں ہو۔ بیٹا! شام کو تھوڑی دیر کے لیے پارک جایا کرو، گھر میں بند رہنے سے تمہاری صحت متاثر ہو رہی ہے اور رنگت بھی زرد پڑتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ۔”
“کوئی خاص پریشانی تو نہیں ہے اباجی، لیکن میں پارک نہیں جا سکتا۔ چند بدقماش لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے ہیں، وہ پارک میں بھی آتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے تنگ کریں۔”
“تو بیٹا! شام کو اپنے چچا کی دکان پر آ جایا کرو، میں بھی وہیں تمہارے چچا کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہوں۔ گھر سے کچھ دیر کے لیے باہر نکلو گے تو جی بہل جائے گا۔”
اب جب ابو دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد چچا کی دکان پر جاتے، بھائی بھی ان کے ساتھ ہو لیتا۔ وہ اپنی کتابیں ساتھ لے جاتا۔ چچا کی دکان کے عقب میں آرام کی غرض سے ایک کمرہ بنا ہوا تھا، وہ وہاں جا کر پڑھتا اور جب تازہ دم ہونے کو جی چاہتا تو چچا زاد بھائی کے ساتھ دکان میں جا بیٹھتا۔ رات کو جب ابا گھر لوٹتے تو اسے بھی ہمراہ لے آتے۔ یوں ابا کی موجودگی میں وہ لڑکے میرے بھائی کو ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے۔
بے شک سب مائیں اپنی اولاد سے پیار کرتی ہیں، لیکن اماں کا پیار تو جیسے بے کنار تھا۔ جب تک بیٹا گھر نہ لوٹتا، ان کی نگاہیں اور کان دروازے کی طرف لگے رہتے۔ عمر بھائی آ جاتے تو وہ وضو کر کے روزانہ دو نفل شکرانے کے ادا کرتیں کہ لختِ جگر بخیر و عافیت گھر آ گیا ہے۔ کالج سے لوٹنے کا وقت ہوتا تو ان کی نظر گھڑی کی سوئیوں پر رہتی۔ دو منٹ بھی اوپر ہو جاتے تو بے قرار ہونے لگتیں کہ: “خدا خیر کرے، آج تو میرے عمر نے آنے میں دیر کر دی ہے۔”
وہ دن بھی آ گیا جب عمر نے شاندار نمبروں سے ایف ایس سی (F.Sc) پاس کر لی اور اسے انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل گیا۔ ہمارا شہر چھوٹا سا تھا اور جس کالج میں بھائی نے تعلیم حاصل کرنی تھی، وہ قریبی شہر میں واقع تھا۔ ہم سفید پوش لوگ تھے اور بسوں میں سفر کرتے تھے۔ ابو کے پاس اپنی گاڑی نہیں تھی، چنانچہ بھائی نے بھی بس پر کالج جانا شروع کر دیا۔
پچھلے کچھ دنوں سے عمر دراز پرسکون رہنے لگا تھا، کیونکہ ان لڑکوں نے دروازے پر دستک دینی چھوڑ دی تھی اور اب وہ بھائی کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ شاید انہوں نے تھک کر ہار مان لی تھی۔ عمر بھائی کا پہلا تعلیمی سال تھا اور یہ سردیوں کے دن تھے۔ دن میں کچھ گرمی ہوتی مگر رات کو خنکی بڑھ جاتی۔ ایک روز بھائی کالج سے لوٹے تو امی نے پوچھا: “کھانا لاؤں؟”
کہنے لگے: “پہلے ایک پیالی چائے دے دیں، بہت تھکن ہو گئی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ بیٹھک میں چلے گئے اور وہاں پڑے صوفے پر دراز ہو گئے۔ امی کچن میں کھانا گرم کرنے لگیں اور میں چائے بنانے لگی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ عمر بھائی نے دروازہ کھولا، پھر دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی۔ چائے بنا کر جب میں بیٹھک میں گئی تو دیکھا کہ وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ میں سمجھی کہ شاید اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں، لیکن وہاں گئی تو وہ کمرے میں بھی نہ تھے۔
چائے کی پیالی میز پر رکھ کر میں واپس کچن میں آگئی اور امی سے کہا کہ چائے رکھ آئی ہوں، بھائی شاید واش روم گیا ہے۔ کافی دیر گزر گئی تو میں دوبارہ کمرے میں گئی، دیکھا کہ پیالی ویسی ہی دھری ہے اور چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ ہم نے سارے گھر میں دیکھ لیا، وہ کہیں نہ تھا۔
امی کو بتایا تو انہوں نے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔ “خدا خیر کرے، کہیں وہ بدقماش اسے لے تو نہیں گئے؟” ماں کی ممتا تڑپ اٹھی۔ نجانے کب سے انہیں یہی دھڑکا لگا ہوا تھا۔ ان کے گھبرانے کی وجہ یہی تھی کہ بھائی ماں کو بتائے بغیر کبھی گھر سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالتا تھا۔
ماں پریشان تھیں کہ اتنے میں ابا آ گئے۔ انہوں نے ابا کو بیٹھنے تک نہ دیا اور کہا: “ابھی اسی وقت باہر جا کر دیکھو اور کسی سے پوچھو؛ وہ نجانے کدھر چلا گیا ہے، میرا بیٹا تو کبھی ایسا نہیں کرتا تھا۔”
ابا باہر گئے، چوک میں کچھ لڑکے موجود تھے، ان سے عمر کا پوچھا۔ سامنے جنرل اسٹور تھا، وہاں بھی دریافت کیا اور گلیوں میں بھی گھوم آئے، مگر بھائی کو کسی نے دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی نشان ملا۔
اماں کی جان نکلی جا رہی تھی اور ہم سب پریشان تھے۔ جب انہوں نے والد کو اکیلے گھر آتے دیکھا تو دل پکڑ کر چارپائی پر گر گئیں۔ ہم سب انہیں تسلی دے رہے تھے مگر ان کے لبوں پر ایک ہی کلمہ تھا: “اللہ خیر کرے! نجانے کب سے وہ بدمعاش میرے بچے کے پیچھے لگے ہوئے تھے، آج انہوں نے اپنا وار کر ہی دیا ہو گا…”
“اماں! خدا سے خیر مانگو، بھائی شاید کسی دوست کے پاس چلا گیا ہو گا۔” میں نے دلاسا دیا۔
“ارے اس کا کوئی دوست ہے ہی نہیں تو وہ کس کے پاس جائے گا؟ وہ بھی مجھے بتائے بغیر؟” ماں تڑپ کر بولیں۔
“ماں! کالج میں کوئی دوست ہو سکتا ہے، ہم جماعت بھی تو دوست ہی ہوتے ہیں۔”
“ہائے! خدا خیر کرے…” جیسے ان کے کان کوئی اور بات سن ہی نہ سکتے ہوں۔ ابا میری ماں کی حالت دیکھ کر الٹے قدموں باہر لوٹ گئے۔ انہوں نے دوبارہ جہاں تک ہو سکا تلاش کیا اور تھانے بھی گئے، یہاں تک کہ رات کے آٹھ بج گئے مگر عمر کا کہیں سراغ نہ ملا۔
تھک ہار کر ابو گھر آئے تو امی سے جھوٹ بولا کہ وہ ایک ہم جماعت کے ساتھ شہر کے کسی ٹیوشن سینٹر گیا ہے، کل اس کا ٹیسٹ ہے اور وہ دونوں مل کر رات بھر تیاری کریں گے۔ مگر امی کو یقین نہ آیا۔ رات گزرنے کے بعد صبح ہوئی اور صبح سے شام ہو گئی۔ والد دوبارہ تھانے گئے۔ جب وہاں سے لوٹ رہے تھے تو راستے میں محلے کا ایک شخص ملا جس نے کہا: “جلدی چلو! پارک میں تمہارا نورِ نظر پڑا ہے۔”
اس وقت ابا کی جو حالت ہوئی، وہ خدا ہی جانتا ہے، مگر انہوں نے دل مضبوط کیا۔ وہ گھر آنے کی بجائے سیدھے پارک چلے گئے۔ اگر گھر آ کر یہ بات بتاتے تو میری ماں کا کلیجہ شق ہو جاتا۔
محلے والے بھی ابا کے ساتھ ہو لیے تھے۔ والد صاحب بیٹے کا حال دیکھ کر تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو گئے۔ بھائی کا بے جان جسم خون میں لت پت تھا، ظالموں نے خنجر سے نجانے کتنے وار کیے تھے۔
ادھر اماں بن مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھیں۔ بالآخر ان سے رہا نہ گیا اور سر پر چادر ڈال کر وہ یہ کہتی ہوئی گھر سے نکل پڑیں کہ: “عمر کے ابا نجانے کہاں رہ گئے، اب میں خود اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے جاتی ہوں۔” میری ماں جیسے ہی گلی میں نکلیں، سامنے سے کچھ لوگ آ رہے تھے۔ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئیں۔ محلے داروں میں سے ایک شخص قریب آیا اور کہنے لگا: “اماں! تم کہاں جا رہی ہو؟ ہم عمر کو لے آئے ہیں، اب تم اسے تلاش کرنے مت جاؤ۔”
“اچھا بیٹا! اللہ تمہارا بھلا کرے، کہاں ہے میرا عمر؟” اس آدمی نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا جسے لوگوں نے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔
“کون ہے بیچارہ؟ کسی مائی کا لال ہو گا۔ اسے کیا ہوا ہے بیٹا؟”
“کچھ نہیں اماں! بس تم گھر چلو، تمہارا بیٹا گھر پہنچ گیا ہے۔” ماں کچھ نہ سمجھیں اور مڑ کر گھر کی طرف چل دیں۔ ابھی وہ دروازے پر پہنچی ہی تھیں کہ پڑوسی نے کہا: “اماں! دروازہ کھولو، اسے اندر لے جانا ہے۔”
مجھے دروازے پر باتیں کرنے کی آواز آئی تو میں نے بے تابی سے کواڑ کھول دیے۔ میں دوڑ کر اندر آگئی، کیونکہ سامنے ایک ہجوم نظر آ رہا تھا۔ نجانے میرے ابا اس ہجوم میں کہاں تھے؛ لوگ پہلے میری ماں کو پکڑ کر اندر لائے اور صحن میں پڑی چارپائی پر لٹا دیا، پھر اس چارپائی کو لائے جس پر بھائی زخموں سے چور پڑا تھا اور اس پر چادر تنی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی پولیس کے کچھ باوردی سپاہی بھی تھے۔ والد کو دو آدمیوں نے دونوں طرف سے سہارا دے رکھا تھا، وہ چل نہ سکتے تھے، جیسے ان کی کمر ٹوٹ گئی ہو۔
ہاں! کمر ہی تو ٹوٹ گئی تھی۔ وہ بھلا کیسے چلتے؟ بالآخر انہیں بھی چارپائی پر لٹا دیا گیا۔
بھائی کو ان بدمعاشوں نے اس لیے مار دیا تھا کہ اس نے برائی کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ جسے اس کی خوبصورتی کے باعث ہر کوئی “شہزادہ” کہتا تھا، آج اس کی صورت تو سلامت تھی مگر جسم چھلنی تھا۔ اف! کیا قیامت کا سماں تھا۔ آج تو آسمان بھی رو رہا تھا کہ اسی وقت بوندا باندی شروع ہو گئی۔
میں سوچ رہی تھی کہ کتنے ظالم تھے وہ لوگ جنہوں نے میرے بھائی کی حسین صورت پر بھی ترس نہ کھایا اور وقت سے پہلے قیامت دکھا دی۔ ایک باپ کی کمر توڑ دی، ایک ماں کو جیتے جی اندھا کر دیا اور دو بہنوں کی ہنسی چھین کر انہیں بے آسرا کر دیا۔ جب لوگ عمر کو (جنازے کے لیے) لے چلے تو ماں کی بے ہوشی ٹوٹی اور وہ دھاڑیں مار کر لپکیں: “لوگو! مجھے بھی ساتھ لے چلو۔” لیکن عورتوں نے انہیں پکڑ لیا اور کسی نے ساتھ جانے نہ دیا۔
تین روز بعد ابا ہمیں اور امی کو عمر بھائی کی قبر پر لے گئے تاکہ صبر آ جائے، مگر میری ماں کے صبر کا پیمانہ تو لبریز ہو چکا تھا۔ وہ قبر سے لپٹ کر کہتی تھیں: “بیٹا اٹھ جا! یہ تو میری جگہ ہے، مجھے یہاں لیٹنے دے، تو کیوں لیٹ گیا ہے؟”
بڑی مشکل سے انہیں گھر لائے۔ ہمیں تو رفتہ رفتہ صبر آ گیا مگر اماں کو نہ آ سکا؛ وہ اب بھی یہی کہتی تھیں: “عمر زندہ ہے، وہ ضرور واپس آئے گا، تم دیکھ لینا میں سچ کہتی ہوں، ماں کا دل کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔” وہ جب تک زندہ رہیں، یہی کہتی رہیں۔ اب کون انہیں سمجھاتا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جب یہ آ جاتی ہے تو زندگی کو کوئی رعایت نہیں ملتی۔
ماں عمر کا انتظار کرتے کرتے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ والد بھی اب اکثر بیمار رہنے لگے تھے اور نیم جاں ہو چکے تھے۔ صد شکر کہ انہی دنوں باجی نیلوفر کا رشتہ آ گیا اور وہ اپنے گھر کی ہو گئیں۔ ابا تو پہلے ہی نڈھال تھے، بالآخر انہوں نے بھی دنیا سے منہ موڑ لیا؛ شاید انہیں بھی عمر سے ملنے کی جلدی تھی۔
گھر میں، میں اکیلی بد نصیب رہ گئی۔ تبھی نیلوفر کی ساس مجھے اپنے گھر لے آئیں اور میں بہن بہنوئی کے پاس رہنے لگی۔ ایک سال بعد باجی کی ساس نے میری شادی اپنے چھوٹے بیٹے سجاد سے کر دی۔ باجی کا یہ دیور لندن میں رہتا تھا، چنانچہ شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ہمراہ لندن چلی گئی۔
میں اب اپنے گھر میں خوش و خرم ہوں اور میرا گھر آباد ہے، مگر میکہ بہت یاد آتا ہے۔ میکہ ایسی جگہ ہے جسے کوئی بھی بیاہتا لڑکی کبھی بھول نہیں پاتی۔ افسوس کہ میرے والد کے گھر پر آج بھی تالا پڑا ہے۔ مجھے خواہ دنیا کی کتنی ہی خوشیاں مل جائیں، میں اپنے بھائی کا غم کبھی نہ بھلا سکوں گی۔
بڑا آدمی بننے کے حوالے سے دونوں کے ذہن میں الگ تصورات تھے، مگر دونوں اسے اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے۔ اگرچہ وسائل کم تھے، لیکن ہم روکھی سوکھی کھا کر بھی خوش تھے کیونکہ اپنا چھوٹا سا ذاتی گھر تھا اور فاقوں کی نوبت نہ تھی۔
sublimegate
عمر کو پڑھائی سے دلی لگاؤ تھا۔ پانچویں جماعت میں اول آیا تو وظیفہ ملنے لگا۔ وہ ہر وقت کتابوں میں گم رہتا اور نصابی کتب کے علاوہ بھی مطالعے کا شوق رکھتا تھا، لہٰذا والد اس کے لیے لائبریری سے اچھی کتابیں لا دیتے۔ ہمارے شہر کی اکلوتی لائبریری میں عمدہ کتب موجود تھیں۔ گھر میں کتابیں آتیں تو مجھے بھی اکثر پڑھنے کو مل جاتیں۔ عمر اور میری ذہنی تربیت میں ان کتابوں کا بڑا ہاتھ تھا، تاہم ہماری بڑی بہن کو مطالعے کا شوق نہ تھا۔ وہ پانچویں کے بعد گھر بیٹھ گئیں اور دو سال بعد سلائی اسکول میں داخلہ لے کر سلائی کڑھائی سیکھ لی۔ اب محلے بھر کے کپڑے سلنے کو آ جاتے، جس سے گھر بیٹھے اچھی آمدنی ہو جاتی۔
میٹرک میں عمر دراز نے بہت اچھے نمبر لیے تو والد صاحب نے اسے کالج میں داخل کرا دیا، یہ سوچے بغیر کہ اعلیٰ تعلیم کے لیے اخراجات بھی درکار ہوں گے، جبکہ وہ پرائمری اسکول کے ایک معمولی ٹیچر تھے۔ تنخواہ سے گھر کا خرچہ مشکل سے پورا ہوتا تھا لیکن امی جان کہتی تھیں: “اللہ پر توکل ہے، وہی مسبب الاسباب ہے اور وہی مدد کرے گا۔”
میرا بھائی بہت خوبصورت تھا۔ سرخ و سفید رنگت، تیکھے نقوش، اس پر شربتی آنکھیں اور سنہرے بال۔ سچ ہے کہ حسن بھی اکثر مصیبت بن جاتا ہے۔ اچھی صورت کی وجہ سے آوارہ لڑکے بھائی کو غلط راہ پر ڈالنے کی کوشش کرتے، مگر اللہ نے اسے عقلِ سلیم اور نیک دل عطا کیا تھا۔ وہ سارا دن کتابوں میں مگن رہتا اور باہر کی دنیا سے زیادہ رابطہ نہ رکھتا۔ اس کا خیال تھا کہ آدمی کو بس اپنے مقصد پر نظر رکھنی چاہیے، آوارہ لڑکوں کی دوستی محض وقت کا زیاں ہے۔ جب ان لڑکوں نے دیکھا کہ عمر کسی طرح ان کی بات نہیں مانتا، تو وہ اس کے پیچھے ہی پڑ گئے اور اسے طرح طرح سے گھیرنے کی کوشش کرنے لگے۔
گھر کے پاس ایک پارک تھا۔ عمر اکثر شام کو وہاں آدھ پون گھنٹہ تازہ ہوا کھانے اور جاگنگ کرنے جاتا۔ بس یہی اس کا اکلوتا مشغلہ تھا۔ جب ان لڑکوں کو پتا چلا تو وہ وہاں بھی آنے لگے اور اسے پریشان کرنے لگے۔ تنگ آ کر بھائی نے پارک جانا بند کر دیا۔ دوستی کرنا بری بات نہیں، ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی دوست ہوتا ہے، لیکن وہ لڑکے دوستی کے لائق نہ تھے؛ ان کا کردار درست نہیں تھا۔ وہ بدمعاش لڑکے تھے، عمر نے ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن انہوں نے جیسے قسم کھائی تھی کہ اسے اپنا دوست بنا کر ہی رہیں گے۔
عمر نے ان کی وجہ سے گھر سے نکلنا چھوڑ دیا۔ وہ کالج سے سیدھا گھر آتا، کھانا کھا کر سو جاتا اور پھر تازہ دم ہو کر پڑھنے بیٹھ جاتا۔ جب ان بدقماشوں نے دیکھا کہ وہ کسی صورت برائی پر مائل نہیں ہو رہا اور نہ ہی پارک آتا ہے، تو انہوں نے گھر تک رسائی حاصل کر لی۔ وہ روز شام کو دروازہ بجاتے؛ یہ ان کا روز کا معمول بن گیا تھا۔
والد صاحب ڈیوٹی سے آ کر دوپہر کا کھانا کھاتے اور آرام کرنے کے بعد ٹیوشن پڑھانے چلے جاتے۔ جب دروازے پر دستک ہوتی تو والدہ جاتیں، وہ لڑکے ان سے کہتے: “عمر سے کہیے کہ اس کے دوست آئے ہیں، چند منٹ کے لیے باہر آ جائے، کچھ بات کرنی ہے۔” عمر صاف منع کر دیتا۔ ایک روز ماں نے کہا: “بیٹا! یہ تیرے کالج کے دوست ہیں، تو ان سے ملتا کیوں نہیں؟ یہ تو بری بات ہے۔”
عمر نے جواب دیا: “ماں! یہ میرے دوست نہیں ہیں۔ پہلے یہ کالج میں پڑھتے تھے لیکن یہ شرارتی اور برے لڑکے ہیں، اسی لیے پرنسپل صاحب نے انہیں کالج سے نکال دیا ہے۔”
“تو بیٹا! یہ (لڑکے) کیا کرتے ہیں؟”
“ماں! یہ آوارہ گردی کرتے ہیں اور کچھ نہیں کرتے۔ یہ میرا وقت برباد کرنا چاہتے ہیں اور مجھے پڑھائی سے روکنا چاہتے ہیں۔ مجھے پڑھنا ہے، کچھ بننا ہے اور آپ کی آرزو پوری کرنی ہے۔ یہ جب بھی آئیں تو آپ کہہ دیا کریں کہ عمر گھر پر نہیں ہے۔” امی سب سمجھ گئیں۔
اب جب بھی وہ دروازے پر اسے بلانے آتے، اماں کہہ دیتیں کہ عمر گھر پر موجود نہیں ہے، وہ ٹیوشن پڑھنے گیا ہے۔ اماں گھر کا کام سنبھالتیں اور باجی نیلوفر دن رات سلائی مشین چلاتی تھیں۔ ابا رات گئے ٹیوشنز پڑھا کر لوٹتے تاکہ اضافی آمدنی سے عمر کی تعلیمی ضروریات پوری ہوں اور اسے کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔
میں ان دنوں چھٹی جماعت میں پڑھ رہی تھی اور خاصی سمجھدار تھی، لیکن یہ بات میری سمجھ سے بالاتر تھی کہ بھائی ان لڑکوں کی دوستی سے کیوں کتراتا ہے۔ جب وہ دستک دیتے، عمر بھائی کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگتے تھے۔ کیا خبر وہ بھائی کو دھمکاتے ہوں کہ اگر دوستی نہ کرو گے تو ہم دشمنی کریں گے۔ عمر گھر والوں کو ایسی کوئی بات نہ بتاتا جس سے اماں یا ہم لوگ پریشان ہو جائیں۔
وہ صرف نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلتا تھا، لیکن اب وہ مسجد کی بجائے نماز بھی گھر پر ہی پڑھنے لگا؛ اس نے خود کو جیسے نظر بند کر لیا تھا۔ ایک روز والد صاحب نے پوچھا: “عمر! تم کالج کے علاوہ کہیں آتے جاتے نہیں ہو۔ بیٹا! شام کو تھوڑی دیر کے لیے پارک جایا کرو، گھر میں بند رہنے سے تمہاری صحت متاثر ہو رہی ہے اور رنگت بھی زرد پڑتی جا رہی ہے۔ اگر کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ۔”
“کوئی خاص پریشانی تو نہیں ہے اباجی، لیکن میں پارک نہیں جا سکتا۔ چند بدقماش لڑکے میرے پیچھے پڑ گئے ہیں، وہ پارک میں بھی آتے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ مجھے تنگ کریں۔”
“تو بیٹا! شام کو اپنے چچا کی دکان پر آ جایا کرو، میں بھی وہیں تمہارے چچا کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہوں۔ گھر سے کچھ دیر کے لیے باہر نکلو گے تو جی بہل جائے گا۔”
اب جب ابو دوپہر کا کھانا کھانے کے بعد چچا کی دکان پر جاتے، بھائی بھی ان کے ساتھ ہو لیتا۔ وہ اپنی کتابیں ساتھ لے جاتا۔ چچا کی دکان کے عقب میں آرام کی غرض سے ایک کمرہ بنا ہوا تھا، وہ وہاں جا کر پڑھتا اور جب تازہ دم ہونے کو جی چاہتا تو چچا زاد بھائی کے ساتھ دکان میں جا بیٹھتا۔ رات کو جب ابا گھر لوٹتے تو اسے بھی ہمراہ لے آتے۔ یوں ابا کی موجودگی میں وہ لڑکے میرے بھائی کو ساتھ چلنے کے لیے نہیں کہہ سکتے تھے۔
بے شک سب مائیں اپنی اولاد سے پیار کرتی ہیں، لیکن اماں کا پیار تو جیسے بے کنار تھا۔ جب تک بیٹا گھر نہ لوٹتا، ان کی نگاہیں اور کان دروازے کی طرف لگے رہتے۔ عمر بھائی آ جاتے تو وہ وضو کر کے روزانہ دو نفل شکرانے کے ادا کرتیں کہ لختِ جگر بخیر و عافیت گھر آ گیا ہے۔ کالج سے لوٹنے کا وقت ہوتا تو ان کی نظر گھڑی کی سوئیوں پر رہتی۔ دو منٹ بھی اوپر ہو جاتے تو بے قرار ہونے لگتیں کہ: “خدا خیر کرے، آج تو میرے عمر نے آنے میں دیر کر دی ہے۔”
وہ دن بھی آ گیا جب عمر نے شاندار نمبروں سے ایف ایس سی (F.Sc) پاس کر لی اور اسے انجینئرنگ کالج میں داخلہ مل گیا۔ ہمارا شہر چھوٹا سا تھا اور جس کالج میں بھائی نے تعلیم حاصل کرنی تھی، وہ قریبی شہر میں واقع تھا۔ ہم سفید پوش لوگ تھے اور بسوں میں سفر کرتے تھے۔ ابو کے پاس اپنی گاڑی نہیں تھی، چنانچہ بھائی نے بھی بس پر کالج جانا شروع کر دیا۔
پچھلے کچھ دنوں سے عمر دراز پرسکون رہنے لگا تھا، کیونکہ ان لڑکوں نے دروازے پر دستک دینی چھوڑ دی تھی اور اب وہ بھائی کا پیچھا نہیں کرتے تھے۔ شاید انہوں نے تھک کر ہار مان لی تھی۔ عمر بھائی کا پہلا تعلیمی سال تھا اور یہ سردیوں کے دن تھے۔ دن میں کچھ گرمی ہوتی مگر رات کو خنکی بڑھ جاتی۔ ایک روز بھائی کالج سے لوٹے تو امی نے پوچھا: “کھانا لاؤں؟”
کہنے لگے: “پہلے ایک پیالی چائے دے دیں، بہت تھکن ہو گئی ہے۔”
یہ کہہ کر وہ بیٹھک میں چلے گئے اور وہاں پڑے صوفے پر دراز ہو گئے۔ امی کچن میں کھانا گرم کرنے لگیں اور میں چائے بنانے لگی۔ اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی۔ عمر بھائی نے دروازہ کھولا، پھر دروازہ بند ہونے کی آواز سنائی دی۔ چائے بنا کر جب میں بیٹھک میں گئی تو دیکھا کہ وہ وہاں موجود نہیں تھے۔ میں سمجھی کہ شاید اپنے کمرے میں چلے گئے ہیں، لیکن وہاں گئی تو وہ کمرے میں بھی نہ تھے۔
چائے کی پیالی میز پر رکھ کر میں واپس کچن میں آگئی اور امی سے کہا کہ چائے رکھ آئی ہوں، بھائی شاید واش روم گیا ہے۔ کافی دیر گزر گئی تو میں دوبارہ کمرے میں گئی، دیکھا کہ پیالی ویسی ہی دھری ہے اور چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔ ہم نے سارے گھر میں دیکھ لیا، وہ کہیں نہ تھا۔
امی کو بتایا تو انہوں نے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔ “خدا خیر کرے، کہیں وہ بدقماش اسے لے تو نہیں گئے؟” ماں کی ممتا تڑپ اٹھی۔ نجانے کب سے انہیں یہی دھڑکا لگا ہوا تھا۔ ان کے گھبرانے کی وجہ یہی تھی کہ بھائی ماں کو بتائے بغیر کبھی گھر سے ایک قدم بھی باہر نہیں نکالتا تھا۔
ماں پریشان تھیں کہ اتنے میں ابا آ گئے۔ انہوں نے ابا کو بیٹھنے تک نہ دیا اور کہا: “ابھی اسی وقت باہر جا کر دیکھو اور کسی سے پوچھو؛ وہ نجانے کدھر چلا گیا ہے، میرا بیٹا تو کبھی ایسا نہیں کرتا تھا۔”
ابا باہر گئے، چوک میں کچھ لڑکے موجود تھے، ان سے عمر کا پوچھا۔ سامنے جنرل اسٹور تھا، وہاں بھی دریافت کیا اور گلیوں میں بھی گھوم آئے، مگر بھائی کو کسی نے دیکھا تھا اور نہ ہی کوئی نشان ملا۔
اماں کی جان نکلی جا رہی تھی اور ہم سب پریشان تھے۔ جب انہوں نے والد کو اکیلے گھر آتے دیکھا تو دل پکڑ کر چارپائی پر گر گئیں۔ ہم سب انہیں تسلی دے رہے تھے مگر ان کے لبوں پر ایک ہی کلمہ تھا: “اللہ خیر کرے! نجانے کب سے وہ بدمعاش میرے بچے کے پیچھے لگے ہوئے تھے، آج انہوں نے اپنا وار کر ہی دیا ہو گا…”
“اماں! خدا سے خیر مانگو، بھائی شاید کسی دوست کے پاس چلا گیا ہو گا۔” میں نے دلاسا دیا۔
“ارے اس کا کوئی دوست ہے ہی نہیں تو وہ کس کے پاس جائے گا؟ وہ بھی مجھے بتائے بغیر؟” ماں تڑپ کر بولیں۔
“ماں! کالج میں کوئی دوست ہو سکتا ہے، ہم جماعت بھی تو دوست ہی ہوتے ہیں۔”
“ہائے! خدا خیر کرے…” جیسے ان کے کان کوئی اور بات سن ہی نہ سکتے ہوں۔ ابا میری ماں کی حالت دیکھ کر الٹے قدموں باہر لوٹ گئے۔ انہوں نے دوبارہ جہاں تک ہو سکا تلاش کیا اور تھانے بھی گئے، یہاں تک کہ رات کے آٹھ بج گئے مگر عمر کا کہیں سراغ نہ ملا۔
تھک ہار کر ابو گھر آئے تو امی سے جھوٹ بولا کہ وہ ایک ہم جماعت کے ساتھ شہر کے کسی ٹیوشن سینٹر گیا ہے، کل اس کا ٹیسٹ ہے اور وہ دونوں مل کر رات بھر تیاری کریں گے۔ مگر امی کو یقین نہ آیا۔ رات گزرنے کے بعد صبح ہوئی اور صبح سے شام ہو گئی۔ والد دوبارہ تھانے گئے۔ جب وہاں سے لوٹ رہے تھے تو راستے میں محلے کا ایک شخص ملا جس نے کہا: “جلدی چلو! پارک میں تمہارا نورِ نظر پڑا ہے۔”
اس وقت ابا کی جو حالت ہوئی، وہ خدا ہی جانتا ہے، مگر انہوں نے دل مضبوط کیا۔ وہ گھر آنے کی بجائے سیدھے پارک چلے گئے۔ اگر گھر آ کر یہ بات بتاتے تو میری ماں کا کلیجہ شق ہو جاتا۔
محلے والے بھی ابا کے ساتھ ہو لیے تھے۔ والد صاحب بیٹے کا حال دیکھ کر تاب نہ لا سکے اور بے ہوش ہو گئے۔ بھائی کا بے جان جسم خون میں لت پت تھا، ظالموں نے خنجر سے نجانے کتنے وار کیے تھے۔
ادھر اماں بن مچھلی کی مانند تڑپ رہی تھیں۔ بالآخر ان سے رہا نہ گیا اور سر پر چادر ڈال کر وہ یہ کہتی ہوئی گھر سے نکل پڑیں کہ: “عمر کے ابا نجانے کہاں رہ گئے، اب میں خود اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے جاتی ہوں۔” میری ماں جیسے ہی گلی میں نکلیں، سامنے سے کچھ لوگ آ رہے تھے۔ وہ کچھ نہ سمجھیں اور ایک طرف ہو کر کھڑی ہو گئیں۔ محلے داروں میں سے ایک شخص قریب آیا اور کہنے لگا: “اماں! تم کہاں جا رہی ہو؟ ہم عمر کو لے آئے ہیں، اب تم اسے تلاش کرنے مت جاؤ۔”
“اچھا بیٹا! اللہ تمہارا بھلا کرے، کہاں ہے میرا عمر؟” اس آدمی نے چارپائی کی طرف اشارہ کیا جسے لوگوں نے کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔
“کون ہے بیچارہ؟ کسی مائی کا لال ہو گا۔ اسے کیا ہوا ہے بیٹا؟”
“کچھ نہیں اماں! بس تم گھر چلو، تمہارا بیٹا گھر پہنچ گیا ہے۔” ماں کچھ نہ سمجھیں اور مڑ کر گھر کی طرف چل دیں۔ ابھی وہ دروازے پر پہنچی ہی تھیں کہ پڑوسی نے کہا: “اماں! دروازہ کھولو، اسے اندر لے جانا ہے۔”
مجھے دروازے پر باتیں کرنے کی آواز آئی تو میں نے بے تابی سے کواڑ کھول دیے۔ میں دوڑ کر اندر آگئی، کیونکہ سامنے ایک ہجوم نظر آ رہا تھا۔ نجانے میرے ابا اس ہجوم میں کہاں تھے؛ لوگ پہلے میری ماں کو پکڑ کر اندر لائے اور صحن میں پڑی چارپائی پر لٹا دیا، پھر اس چارپائی کو لائے جس پر بھائی زخموں سے چور پڑا تھا اور اس پر چادر تنی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی پولیس کے کچھ باوردی سپاہی بھی تھے۔ والد کو دو آدمیوں نے دونوں طرف سے سہارا دے رکھا تھا، وہ چل نہ سکتے تھے، جیسے ان کی کمر ٹوٹ گئی ہو۔
ہاں! کمر ہی تو ٹوٹ گئی تھی۔ وہ بھلا کیسے چلتے؟ بالآخر انہیں بھی چارپائی پر لٹا دیا گیا۔
بھائی کو ان بدمعاشوں نے اس لیے مار دیا تھا کہ اس نے برائی کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ وہ جسے اس کی خوبصورتی کے باعث ہر کوئی “شہزادہ” کہتا تھا، آج اس کی صورت تو سلامت تھی مگر جسم چھلنی تھا۔ اف! کیا قیامت کا سماں تھا۔ آج تو آسمان بھی رو رہا تھا کہ اسی وقت بوندا باندی شروع ہو گئی۔
میں سوچ رہی تھی کہ کتنے ظالم تھے وہ لوگ جنہوں نے میرے بھائی کی حسین صورت پر بھی ترس نہ کھایا اور وقت سے پہلے قیامت دکھا دی۔ ایک باپ کی کمر توڑ دی، ایک ماں کو جیتے جی اندھا کر دیا اور دو بہنوں کی ہنسی چھین کر انہیں بے آسرا کر دیا۔ جب لوگ عمر کو (جنازے کے لیے) لے چلے تو ماں کی بے ہوشی ٹوٹی اور وہ دھاڑیں مار کر لپکیں: “لوگو! مجھے بھی ساتھ لے چلو۔” لیکن عورتوں نے انہیں پکڑ لیا اور کسی نے ساتھ جانے نہ دیا۔
تین روز بعد ابا ہمیں اور امی کو عمر بھائی کی قبر پر لے گئے تاکہ صبر آ جائے، مگر میری ماں کے صبر کا پیمانہ تو لبریز ہو چکا تھا۔ وہ قبر سے لپٹ کر کہتی تھیں: “بیٹا اٹھ جا! یہ تو میری جگہ ہے، مجھے یہاں لیٹنے دے، تو کیوں لیٹ گیا ہے؟”
بڑی مشکل سے انہیں گھر لائے۔ ہمیں تو رفتہ رفتہ صبر آ گیا مگر اماں کو نہ آ سکا؛ وہ اب بھی یہی کہتی تھیں: “عمر زندہ ہے، وہ ضرور واپس آئے گا، تم دیکھ لینا میں سچ کہتی ہوں، ماں کا دل کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔” وہ جب تک زندہ رہیں، یہی کہتی رہیں۔ اب کون انہیں سمجھاتا کہ موت ایک اٹل حقیقت ہے، جب یہ آ جاتی ہے تو زندگی کو کوئی رعایت نہیں ملتی۔
ماں عمر کا انتظار کرتے کرتے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئیں۔ والد بھی اب اکثر بیمار رہنے لگے تھے اور نیم جاں ہو چکے تھے۔ صد شکر کہ انہی دنوں باجی نیلوفر کا رشتہ آ گیا اور وہ اپنے گھر کی ہو گئیں۔ ابا تو پہلے ہی نڈھال تھے، بالآخر انہوں نے بھی دنیا سے منہ موڑ لیا؛ شاید انہیں بھی عمر سے ملنے کی جلدی تھی۔
گھر میں، میں اکیلی بد نصیب رہ گئی۔ تبھی نیلوفر کی ساس مجھے اپنے گھر لے آئیں اور میں بہن بہنوئی کے پاس رہنے لگی۔ ایک سال بعد باجی کی ساس نے میری شادی اپنے چھوٹے بیٹے سجاد سے کر دی۔ باجی کا یہ دیور لندن میں رہتا تھا، چنانچہ شادی کے بعد میں اپنے شوہر کے ہمراہ لندن چلی گئی۔
میں اب اپنے گھر میں خوش و خرم ہوں اور میرا گھر آباد ہے، مگر میکہ بہت یاد آتا ہے۔ میکہ ایسی جگہ ہے جسے کوئی بھی بیاہتا لڑکی کبھی بھول نہیں پاتی۔ افسوس کہ میرے والد کے گھر پر آج بھی تالا پڑا ہے۔ مجھے خواہ دنیا کی کتنی ہی خوشیاں مل جائیں، میں اپنے بھائی کا غم کبھی نہ بھلا سکوں گی۔
(ختم شد)

