میں ایک ایسے انسان سے شادی کی غلطی کر بیٹھی جو پہلے ہی صاحبِ اولاد تھا۔ انہیں گھر بسانے کے لیے مجھ جیسی مخلص ساتھی کی ضرورت تھی، چنانچہ میں نے رضا مندی سے شادی کی ہامی بھر لی۔ وہ بہت خوش ہوئے، گویا اندھے کو دو آنکھیں مل گئیں۔ ہم نے بچوں کی موجودگی کو مشیتِ ایزدی جانا کہ ان معصوموں کو بھی ممتا کی ضرورت تھی، اور یوں زندگی کے نئے سفر کا آغاز ہو گیا۔
زندگی کا طویل سفر؛ کبھی دھوپ، کبھی چھاؤں، کبھی مرغزاروں کے مناظر تو کبھی خاردار دشت! بالآخر وہ نو نہال تناور درختوں میں بدل گئے۔ جب ان پر پھول کھلنے کا وقت آیا، تب مجھے احساس ہوا کہ اب تو سارے موسم گزر چکے ہیں اور محض خزاں باقی رہ گئی ہے۔
خزاں آگئی اور پت جھڑ شروع ہو گیا۔ تب اس جیون ساتھی کا اصل چہرہ بھی سامنے آگیا جس کو بیوی کی نہیں، بلکہ ایک “آیا” کی ضرورت تھی جو ان بچوں کو پال سکے جنہیں مائیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ انہوں نے میرے سامنے اپنی مظلومیت کا وہ رونا رویا تھا جو اکثر مرد خوبصورت لڑکیوں کو دیکھ کر رویا کرتے ہیں۔ بیوی کی بے اعتنائی اور اس میں موجود ہزاروں عیبوں کا تذکرہ جن سے زندگی اجیرن ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن رضا نے تو کمال ہی کر دیا۔ انہوں نے اپنی جیتی جاگتی (سابقہ) بیوی کو “مرحومہ” بنا دیا اور مجھ نادان نے اندھی محبت کی پٹی آنکھوں پر باندھ لی۔ نہ کچھ سوچا، نہ کچھ دیکھ سکی؛ بس جو وہ کہتے تھے، مانتی چلی گئی۔
پھر بچوں سے ملوایا جن کی ماں روٹھ کر میکے چلی گئی تھی۔ معصوم صورتیں، مگر اجڑی ہوئی آنکھیں اور کملائے ہوئے مکھڑے! ماں کے بغیر وہ راتوں کو آنسو بہاتے اور سسک سسک کر سو جاتے تھے۔ رضا سے زیادہ مجھے ان بچوں پر رحم آگیا۔ میں نے سوچا کہ نہ جانے یہ کیسی ممتا کی پیاس ہے کہ ان کے چہروں سے یتیمی برس رہی ہے۔ پیار سے پکارا تو وہ مجھ سے لپٹ گئے۔ تب میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ اے خدا! ان فرشتہ سیرت معصوموں کا کیا قصور؟
شادی کے ایک سال بعد انکشاف ہوا کہ دوسری بیوی ابھی میکے میں موجود ہے۔ سزا کے طور پر وہ دو بچے رضا کے پاس چھوڑ گئی تھی، جبکہ دو بچے پہلی بیوی کے تھے۔ اب یہ چاروں بچے ایک نئی ماں کے متلاشی تھے۔ میں ان کی تیسری بیوی تھی۔ دراصل پہلی نے طلاق لی تھی، دوسری روٹھی ہوئی مگر نکاح میں موجود تھی، اور تیسری میں خود تھی جس نے جلد بازی میں نکاح کا پھندا گلے میں ڈال لیا تھا۔ جب دوسری بیوی کو علم ہوا تو اس نے بھی طلاق حاصل کر لی۔
ان چار بچوں سے بھری گود میں اللہ نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ اس طرح میں، جو ایک بچی کی حقیقی ماں تھی، اب پانچ بچوں کی ماں کہلاتی تھی۔ جونہی بچے بڑے ہو کر جوان ہوئے، رضا کی وہ محبت اور اپنائیت جو میرے لیے تھی، اجنبیت میں بدل گئی۔ تب میں نے اس مرد کا اصل چہرہ دیکھا۔ جو شخص پہلی بیوی کو دھوکا دیتا ہے، وہ دراصل ایک بازی گر ہوتا ہے۔ گویا اس نے ثابت کر دیا کہ وہ ابلیس کا بھائی ہے؛ ایک اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا ہے اور دوسرا بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری لڑکیوں کو۔ وہ خود کو قصور وار نہیں سمجھتا، بلکہ سمجھتا ہے کہ جو اس کے جال میں آ جائے وہی بے وقوف ہے۔
وہ بے چاری لڑکی، جو اس کے دلی ارادوں اور نیت سے بے خبر ہوتی ہے، سادگی میں سوچتی ہے کہ کیا واقعی کوئی اتنا مخلص ہو سکتا ہے؟ اس نے مجھ پر اتنا یقین کیا کہ میری خاطر اپنے مضبوط رشتے توڑ دیے اور پہلی شریکِ حیات کی رفاقت مجھ پر قربان کر دی! اب میں بھی اسی کے لیے جیوں گی اور اسی کے لیے مروں گی۔ یہی سوچ کر وہ اپنی زندگی کی کل متاع اور محبت و اخلاص کے تمام خزانے اس کے حوالے کر دیتی ہے۔
وہ لڑکیاں پھر بھی خوش نصیب رہتی ہیں جنہیں تھوڑا سا سفر طے کرتے ہی عقل آ جاتی ہے اور وہ اس “بازی گر” کو چھوڑ کر اپنی راہ لیتی ہیں۔ جب وہ یہ جان لیتی ہیں کہ جو شخص اپنی (پہلی) شریکِ حیات کو دھوکا دے سکتا ہے، وہ انہیں کیوں نہ دے گا، تو وہ اپنی غلطی اور اس کی دروغ گوئی کا ادراک ہوتے ہی پلٹ جاتی ہیں۔ مگر میں وہ کم نصیب تھی جس نے شادی کی ہامی بھر لی اور پھر ایسے جال میں جکڑی گئی کہ نہ نکل سکتی تھی اور نہ وہاں رہنا سہل تھا؛ مگر محض اس سوچ میں رہتی رہی کہ اب کیا کروں؟ ایک غلطی تو کر لی کہ شادی شدہ اور بچوں کے باپ سے نکاح کر لیا، اب دوسری غلطی (طلاق) نہ کروں، کیونکہ غلطی کر کے اسے نباہنا ہی شرافت کا شیوہ سمجھا جاتا ہے۔
جب شیر کے منہ کو خون لگ جائے تو وہ شکار کیے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ بس ایک کے بعد دوسرا شکار کرتا چلا جاتا ہے۔ اس شکاری نے پھر نیا شکار کیا۔ وہ اتنا ہوشیار تھا کہ ہر بار کسی “کماؤ” لڑکی کا ہی پیچھا کرتا اور اسے اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہو جاتا۔ قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں، نہ جانے وہ کیسی قسمت لایا تھا کہ اس کے نصیب میں عورتوں کے انبار لگ گئے۔ اللہ نے اسے اچھی صورت دی تھی، اس لیے ہر نیا شکار اس کے لیے محض ایک تفریح تھا۔ وہ ان کے ساتھ گھومتا پھرتا اور عیش کرتا، جبکہ گھر میں موجود بیوی نوکری بھی کر رہی تھی، بچوں کو بھی پال رہی تھی اور خون کے آنسو بھی رو رہی تھی۔ مگر وہ گھر چھوڑ کر نہیں جاتی کیونکہ وہاں اس کے اپنے بچوں کے ساتھ شوہر کی پہلی بیوی کے بچے بھی تھے۔ وہ معصوم مجھ سے اتنے مانوس ہو گئے تھے کہ ایک لمحے کو دامن نہیں چھوڑتے تھے۔ “امی، امی” پکارتے رہتے اور اگر میں ایک پل کو نظروں سے اوجھل ہو جاتی تو صدمے سے بیمار ہو کر بستر سے لگ جاتے۔
کئی بار سوچا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس بے وفا کے گھر سے نکل جاؤں اور اس کے ریشمی جال کو توڑ ڈالوں، مگر ایسا نہ کر سکی۔ اب پچھتانے سے کیا ہوتا کہ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ کاش! شادی سے پہلے حقیقت کا علم ہو جاتا۔ میں اس لمحے کو کوستی تھی جب وہ مجھے ملا تھا، اور اپنی پسند کا نوحہ پڑھتی تھی کہ “اے دل! یہ تو نے کیا کیا؟ کس کو پسند کیا اور کیوں بنا سوچے سمجھے شادی کا بندھن باندھ لیا؟” اب جو کیا ہے اسے بھگتنا ہی تھا۔ کسی اور کو کیا موردِ الزام ٹھہراتی، میں خود ہی اپنی بربادی کی ذمہ دار تھی۔
میں تو سمجھتی تھی کہ محبت جینے کا جواز، دنیا کی خوبصورتی اور زندگی کا حسن ہوتی ہے؛ اور جو عورت اپنے محبوب کو پا لے اور نکاح کے مقدس بندھن میں اس کے ساتھ جڑ جائے، وہی “فاتحِ محبت” ہوتی ہے۔ مگر نہیں! محبت فاتح نہیں ہوتی۔ محبت تو محض ایک سراب اور خواب ہے، اصل فاتح تو چالبازی ہوتی ہے۔
اپنے اندر کی ممتا کو لاکھ چاہنے کے باوجود شکست نہ دے سکی۔ ان پھول جیسے بچوں کا ہاتھ اور ساتھ نہ چھوڑا۔ میرے روز و شب ان کے بڑے ہونے کے انتظار میں گزرتے رہے اور وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ مجھ سے پہلے دو اور میرے بعد رضا نے تین مزید شادیاں کیں۔ میرے سوا باقی تمام بیویوں نے عمر بھر ساتھ نباہنے سے معذرت کر لی۔ کچھ تو ویسے ہی نکاح کا بندھن توڑ کر چلی گئیں؛ ایک اپنا بیٹا ساتھ لے گئی، جبکہ دو بیویاں اپنے دو دو بچے رضا کے پاس ہی چھوڑ گئیں کہ “یہ تمہاری اولاد ہے، خود سنبھالو، ہم کیوں پالیں؟ ہم ملازمت کر کے انہیں کھلائیں اور تم کسی نوخیز کلی کے ساتھ موجیں کرو؟”
پتہ نہیں بچے ساتھ لے جانے والی مائیں زیادہ عقلمند ہوتی ہیں یا بے وفا شوہر کے بچے اسی کے پاس چھوڑ کر جانے والی زیادہ دانشمند؟ مگر میں نے اپنے مفاد کے بارے میں کبھی نہ سوچا۔ میری سوچ بس اتنی تھی کہ یہ بچے ممتا کے پیاسے ہیں؛ انہیں ایک ایسی ماں کی ضرورت ہے جو پرورش کے ساتھ انہیں پیار بھی دے اور اپنے دل کا ٹکڑا سمجھ کر پالے، ورنہ یہ نازک اور کومل پھول مرجھا جائیں گے۔ یہی وہ سوچ تھی جس کی بنا پر میں نے شادی کے وقت رضا کی اولاد کو بھی صدقِ دل سے قبول کر لیا تھا۔
مجھے پختہ یقین تھا کہ یہ بچے میرا پیار پا کر میرے ہو جائیں گے اور جب بڑے ہوں گے تو میری ممتا کا مان رکھیں گے۔ اگر رضا بے وفائی کرے گا تو یہ وفا کریں گے اور میرا ساتھ دیں گے۔ جہاں میں رہوں گی، یہ بھی وہیں رہنا پسند کریں گے۔ میں نہیں جانتی تھی کہ بے وفا کا خون بھی بے وفا ہی ہوتا ہے۔
میرے بعد رضا نے جس عورت سے شادی کی، وہ اس کے ساتھ رہنے چلے گئے کیونکہ وہ صاحبِ جائیداد تھی اور اس کا اپنا مکان تھا۔ اس نے شرط رکھی تھی کہ “میرے ساتھ رہو گے تو ان بچوں کی ماں (یعنی مجھے) ساتھ نہیں رکھو گے، وہ علیحدہ رہے گی۔”
بچے بڑے اور سمجھدار ہوئے تو کہنے لگے کہ “ہم اپنے باپ کے ہیں، جہاں وہ رہیں گے ہم بھی وہیں رہیں گے۔” رضا خوش تھے کہ اب بڑھاپا نزدیک ہے اور بیٹے جوان ہو چکے ہیں۔ انہیں بڑھاپے کی دھوپ میں اولاد کی چھاؤں چاہیے تھی، چنانچہ انہوں نے بچوں کو رجھانا اور ورغلانا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آہیں بھرتے اور کبھی آنسو بہا کر بچوں کو اپنی محبت کا یقین دلاتے۔
دوسری طرف میری پوری جوانی ان بچوں کو پالنے میں گزر گئی۔ جب وقت تھا کہ میں انہیں چھوڑ دیتی، تب وہ میرے پاؤں کی بیڑیاں بن گئے تھے اور میں ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر رہ گئی۔ رضا ان دنوں بھی خوش تھے کہ “واہ! کتنی پاگل عورت ہے، میرے بچوں کی خدمت بھی کر رہی ہے اور دیوانی ہو کر اپنی نوکری کی کمائی بھی ان پر وار رہی ہے۔” وہ سمجھتے تھے کہ میں یہ سب اپنی خوشی سے کر رہی ہوں، اس لیے وہ مطمئن رہے۔ نہ میں سوتن کے گھر بسنے پر لڑی اور نہ کبھی گھومنے پھرنے کی ضد کی۔ رضا کا کام تو دو چار ہزار روپے دے کر آرام سے چل رہا تھا، ورنہ آج کل تو “آیا” بھی بیس ہزار سے کم نہیں لیتی؛ اور میں تو ان کے نکاح میں تھی، ان کی بیوی کہلاتی تھی۔
تب مجھے احساس ہوا کہ نکاح جہاں مرد کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، وہیں یہ مرد کی سب سے بڑی فتح بھی بن سکتا ہے۔ یہ کچھ مردوں کی جیت اور عورت کی شکست ہے، بلکہ یوں کہیے کہ یہ محبت کی شکست ہے۔ بیوی کا کام محض گھرداری نہیں ہوتا، میاں بیوی تو ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ اگر بیوی ذرا سی باغی ہوئی تو اسے طلاق کا ہار پہنا کر خود بے فکر ہو جاتے ہیں کہ اب اس کا یہی علاج ہے۔
بالآخر لڑکے اپنے باپ کے پاس چلے گئے اور بیٹیاں میرے حصے میں آگئیں، کیونکہ بیٹیاں عموماً بے وفا نہیں ہوتیں اور وہ اپنی ماں کو تنہا نہیں چھوڑتیں۔ اب میرا بڑھاپا ہے اور میری دونوں بچیاں کما رہی ہیں اور گھر چلا رہی ہیں۔ ان کے والد ان سے اس لیے نہیں ملتے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بیٹیاں نافرمان تھیں، جنہوں نے باپ کے بجائے ماں کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔
ہر لمحہ مجھے ان کے کھوئے جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ کبھی کبھی راتوں کو نیند سے چونک کر اٹھ بیٹھتی ہوں اور ان کے کمرے میں جا کر دیکھتی ہوں۔ انہیں سکون سے سوتا پا کر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میرا رب ہمیشہ ان کا نگہبان رہے، کیونکہ باپ کے سائبان کے بغیر لڑکیوں کی حفاظت کرنا ایک تنہا ماں کے لیے بہت دشوار اور پرخطر مرحلہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ ملازمت بھی کرتی ہوں۔
لڑکیاں لاکھ سمجھدار سہی، مگر باہر کی دنیا خطرات سے بھری ہوئی ہے جہاں رضا جیسے کئی شکاری ہر دور میں موجود رہتے ہیں، جنہیں ہمیشہ نئے شکار کی تلاش رہتی ہے۔ میں اپنی بچیوں کو روز سمجھا کر بھیجتی ہوں کہ آنکھیں بند کر کے کسی پر بھروسہ مت کرنا۔ مرد کے پاس “محبت” ایک ایسا جال ہے جس میں پھنس کر نادان لڑکی کبھی ایسا زخم کھا لیتی ہے کہ پھر کسی سے شکایت کے قابل بھی نہیں رہتی۔
بے شک بڑھاپا ایک اٹل حقیقت ہے، اور یہ ایک بڑی سزا بھی ہے کہ جب پاپ کا گھڑا بھر جاتا ہے تو آدمی خود اس میں ڈوب جاتا ہے۔ جنہیں حوا کی بیٹی کی قدر نہیں ہوتی، انہیں خدا کا خوف بھی نہیں ہوتا؛ اور جنہیں خدا کا خوف نہ ہو، ان کی عاقبت کی فکر سبھی کو رہتی ہے۔
خدا نے مرد کو حقوق دیے ہیں تو ذمہ داریاں بھی سونپی ہیں۔ جو ان ذمہ داریوں سے آنکھیں چراتے ہیں، انہیں اس جہانِ مکافات میں سزا بھگتنی ہی پڑتی ہے۔ اگر کوئی شخص محض اپنی عیاشی کے لیے کسی لڑکی کی بھرپور زندگی نذرِ آتش کر کے یہ سوچتا ہے کہ وہ ہمیشہ خوش و خرم رہے گا، یا اولاد اس کے ساتھ وفا کرے گی، تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ معصوم اولاد بالآخر ایک نہ ایک دن سمجھ ہی جاتی ہے کہ ماں اور باپ میں سے کون صحیح تھا اور کون غلط؛ اسے کس کا ساتھ دینا چاہیے تھا اور کس کا نہیں۔ وقت ایک دن انسان کو خود اس کے بنے ہوئے مکڑی کے جال میں پھنسا لیتا ہے، اور تب آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ “میرا کیا قصور تھا؟”
آج رضا کے دو جوان بیٹے اپنی حقیقی ماں کے پاس چلے گئے ہیں۔ بہت وقت گزرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کی سگی ماں کون ہے اور کہاں رہتی ہے، تاہم وہ اکثر مجھ سے ملنے بھی آتے ہیں۔ دو بیٹے ابھی تک رضا کے ساتھ ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ جس دن وہ حقائق سے آگاہ ہوں گے، وہ بھی وہاں نہیں ٹھہریں گے۔ فی الحال وہ لڑکپن کے دور میں ہیں اور ان میں سوچنے سمجھنے کی پوری صلاحیت بیدار نہیں ہوئی۔
آج نہیں تو کل، یہ پختہ یقین ہے کہ رضا کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے گا؛ کیونکہ ماؤں کو بیٹے اور بیٹیوں کو ماں تو مل جائے گی، مگر رضا کو اب کوئی مخلص جیون ساتھی میسر نہیں آئے گا۔ جب صحت، جوانی اور روپیہ باقی نہ رہے، تو پھر بھلا کون نادان ان کے جال میں آئے گی؟
زندگی کا طویل سفر؛ کبھی دھوپ، کبھی چھاؤں، کبھی مرغزاروں کے مناظر تو کبھی خاردار دشت! بالآخر وہ نو نہال تناور درختوں میں بدل گئے۔ جب ان پر پھول کھلنے کا وقت آیا، تب مجھے احساس ہوا کہ اب تو سارے موسم گزر چکے ہیں اور محض خزاں باقی رہ گئی ہے۔
خزاں آگئی اور پت جھڑ شروع ہو گیا۔ تب اس جیون ساتھی کا اصل چہرہ بھی سامنے آگیا جس کو بیوی کی نہیں، بلکہ ایک “آیا” کی ضرورت تھی جو ان بچوں کو پال سکے جنہیں مائیں چھوڑ کر چلی گئی تھیں۔ انہوں نے میرے سامنے اپنی مظلومیت کا وہ رونا رویا تھا جو اکثر مرد خوبصورت لڑکیوں کو دیکھ کر رویا کرتے ہیں۔ بیوی کی بے اعتنائی اور اس میں موجود ہزاروں عیبوں کا تذکرہ جن سے زندگی اجیرن ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے، لیکن رضا نے تو کمال ہی کر دیا۔ انہوں نے اپنی جیتی جاگتی (سابقہ) بیوی کو “مرحومہ” بنا دیا اور مجھ نادان نے اندھی محبت کی پٹی آنکھوں پر باندھ لی۔ نہ کچھ سوچا، نہ کچھ دیکھ سکی؛ بس جو وہ کہتے تھے، مانتی چلی گئی۔
پھر بچوں سے ملوایا جن کی ماں روٹھ کر میکے چلی گئی تھی۔ معصوم صورتیں، مگر اجڑی ہوئی آنکھیں اور کملائے ہوئے مکھڑے! ماں کے بغیر وہ راتوں کو آنسو بہاتے اور سسک سسک کر سو جاتے تھے۔ رضا سے زیادہ مجھے ان بچوں پر رحم آگیا۔ میں نے سوچا کہ نہ جانے یہ کیسی ممتا کی پیاس ہے کہ ان کے چہروں سے یتیمی برس رہی ہے۔ پیار سے پکارا تو وہ مجھ سے لپٹ گئے۔ تب میرے دل میں ایک ہوک سی اٹھی کہ اے خدا! ان فرشتہ سیرت معصوموں کا کیا قصور؟
شادی کے ایک سال بعد انکشاف ہوا کہ دوسری بیوی ابھی میکے میں موجود ہے۔ سزا کے طور پر وہ دو بچے رضا کے پاس چھوڑ گئی تھی، جبکہ دو بچے پہلی بیوی کے تھے۔ اب یہ چاروں بچے ایک نئی ماں کے متلاشی تھے۔ میں ان کی تیسری بیوی تھی۔ دراصل پہلی نے طلاق لی تھی، دوسری روٹھی ہوئی مگر نکاح میں موجود تھی، اور تیسری میں خود تھی جس نے جلد بازی میں نکاح کا پھندا گلے میں ڈال لیا تھا۔ جب دوسری بیوی کو علم ہوا تو اس نے بھی طلاق حاصل کر لی۔
ان چار بچوں سے بھری گود میں اللہ نے مجھے بیٹی کی نعمت سے نوازا۔ اس طرح میں، جو ایک بچی کی حقیقی ماں تھی، اب پانچ بچوں کی ماں کہلاتی تھی۔ جونہی بچے بڑے ہو کر جوان ہوئے، رضا کی وہ محبت اور اپنائیت جو میرے لیے تھی، اجنبیت میں بدل گئی۔ تب میں نے اس مرد کا اصل چہرہ دیکھا۔ جو شخص پہلی بیوی کو دھوکا دیتا ہے، وہ دراصل ایک بازی گر ہوتا ہے۔ گویا اس نے ثابت کر دیا کہ وہ ابلیس کا بھائی ہے؛ ایک اللہ کے بندوں کو گمراہ کرتا ہے اور دوسرا بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری لڑکیوں کو۔ وہ خود کو قصور وار نہیں سمجھتا، بلکہ سمجھتا ہے کہ جو اس کے جال میں آ جائے وہی بے وقوف ہے۔
وہ بے چاری لڑکی، جو اس کے دلی ارادوں اور نیت سے بے خبر ہوتی ہے، سادگی میں سوچتی ہے کہ کیا واقعی کوئی اتنا مخلص ہو سکتا ہے؟ اس نے مجھ پر اتنا یقین کیا کہ میری خاطر اپنے مضبوط رشتے توڑ دیے اور پہلی شریکِ حیات کی رفاقت مجھ پر قربان کر دی! اب میں بھی اسی کے لیے جیوں گی اور اسی کے لیے مروں گی۔ یہی سوچ کر وہ اپنی زندگی کی کل متاع اور محبت و اخلاص کے تمام خزانے اس کے حوالے کر دیتی ہے۔
وہ لڑکیاں پھر بھی خوش نصیب رہتی ہیں جنہیں تھوڑا سا سفر طے کرتے ہی عقل آ جاتی ہے اور وہ اس “بازی گر” کو چھوڑ کر اپنی راہ لیتی ہیں۔ جب وہ یہ جان لیتی ہیں کہ جو شخص اپنی (پہلی) شریکِ حیات کو دھوکا دے سکتا ہے، وہ انہیں کیوں نہ دے گا، تو وہ اپنی غلطی اور اس کی دروغ گوئی کا ادراک ہوتے ہی پلٹ جاتی ہیں۔ مگر میں وہ کم نصیب تھی جس نے شادی کی ہامی بھر لی اور پھر ایسے جال میں جکڑی گئی کہ نہ نکل سکتی تھی اور نہ وہاں رہنا سہل تھا؛ مگر محض اس سوچ میں رہتی رہی کہ اب کیا کروں؟ ایک غلطی تو کر لی کہ شادی شدہ اور بچوں کے باپ سے نکاح کر لیا، اب دوسری غلطی (طلاق) نہ کروں، کیونکہ غلطی کر کے اسے نباہنا ہی شرافت کا شیوہ سمجھا جاتا ہے۔
جب شیر کے منہ کو خون لگ جائے تو وہ شکار کیے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ بس ایک کے بعد دوسرا شکار کرتا چلا جاتا ہے۔ اس شکاری نے پھر نیا شکار کیا۔ وہ اتنا ہوشیار تھا کہ ہر بار کسی “کماؤ” لڑکی کا ہی پیچھا کرتا اور اسے اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہو جاتا۔ قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں، نہ جانے وہ کیسی قسمت لایا تھا کہ اس کے نصیب میں عورتوں کے انبار لگ گئے۔ اللہ نے اسے اچھی صورت دی تھی، اس لیے ہر نیا شکار اس کے لیے محض ایک تفریح تھا۔ وہ ان کے ساتھ گھومتا پھرتا اور عیش کرتا، جبکہ گھر میں موجود بیوی نوکری بھی کر رہی تھی، بچوں کو بھی پال رہی تھی اور خون کے آنسو بھی رو رہی تھی۔ مگر وہ گھر چھوڑ کر نہیں جاتی کیونکہ وہاں اس کے اپنے بچوں کے ساتھ شوہر کی پہلی بیوی کے بچے بھی تھے۔ وہ معصوم مجھ سے اتنے مانوس ہو گئے تھے کہ ایک لمحے کو دامن نہیں چھوڑتے تھے۔ “امی، امی” پکارتے رہتے اور اگر میں ایک پل کو نظروں سے اوجھل ہو جاتی تو صدمے سے بیمار ہو کر بستر سے لگ جاتے۔
کئی بار سوچا کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس بے وفا کے گھر سے نکل جاؤں اور اس کے ریشمی جال کو توڑ ڈالوں، مگر ایسا نہ کر سکی۔ اب پچھتانے سے کیا ہوتا کہ تیر کمان سے نکل چکا تھا۔ کاش! شادی سے پہلے حقیقت کا علم ہو جاتا۔ میں اس لمحے کو کوستی تھی جب وہ مجھے ملا تھا، اور اپنی پسند کا نوحہ پڑھتی تھی کہ “اے دل! یہ تو نے کیا کیا؟ کس کو پسند کیا اور کیوں بنا سوچے سمجھے شادی کا بندھن باندھ لیا؟” اب جو کیا ہے اسے بھگتنا ہی تھا۔ کسی اور کو کیا موردِ الزام ٹھہراتی، میں خود ہی اپنی بربادی کی ذمہ دار تھی۔
میں تو سمجھتی تھی کہ محبت جینے کا جواز، دنیا کی خوبصورتی اور زندگی کا حسن ہوتی ہے؛ اور جو عورت اپنے محبوب کو پا لے اور نکاح کے مقدس بندھن میں اس کے ساتھ جڑ جائے، وہی “فاتحِ محبت” ہوتی ہے۔ مگر نہیں! محبت فاتح نہیں ہوتی۔ محبت تو محض ایک سراب اور خواب ہے، اصل فاتح تو چالبازی ہوتی ہے۔
اپنے اندر کی ممتا کو لاکھ چاہنے کے باوجود شکست نہ دے سکی۔ ان پھول جیسے بچوں کا ہاتھ اور ساتھ نہ چھوڑا۔ میرے روز و شب ان کے بڑے ہونے کے انتظار میں گزرتے رہے اور وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ مجھ سے پہلے دو اور میرے بعد رضا نے تین مزید شادیاں کیں۔ میرے سوا باقی تمام بیویوں نے عمر بھر ساتھ نباہنے سے معذرت کر لی۔ کچھ تو ویسے ہی نکاح کا بندھن توڑ کر چلی گئیں؛ ایک اپنا بیٹا ساتھ لے گئی، جبکہ دو بیویاں اپنے دو دو بچے رضا کے پاس ہی چھوڑ گئیں کہ “یہ تمہاری اولاد ہے، خود سنبھالو، ہم کیوں پالیں؟ ہم ملازمت کر کے انہیں کھلائیں اور تم کسی نوخیز کلی کے ساتھ موجیں کرو؟”
پتہ نہیں بچے ساتھ لے جانے والی مائیں زیادہ عقلمند ہوتی ہیں یا بے وفا شوہر کے بچے اسی کے پاس چھوڑ کر جانے والی زیادہ دانشمند؟ مگر میں نے اپنے مفاد کے بارے میں کبھی نہ سوچا۔ میری سوچ بس اتنی تھی کہ یہ بچے ممتا کے پیاسے ہیں؛ انہیں ایک ایسی ماں کی ضرورت ہے جو پرورش کے ساتھ انہیں پیار بھی دے اور اپنے دل کا ٹکڑا سمجھ کر پالے، ورنہ یہ نازک اور کومل پھول مرجھا جائیں گے۔ یہی وہ سوچ تھی جس کی بنا پر میں نے شادی کے وقت رضا کی اولاد کو بھی صدقِ دل سے قبول کر لیا تھا۔
مجھے پختہ یقین تھا کہ یہ بچے میرا پیار پا کر میرے ہو جائیں گے اور جب بڑے ہوں گے تو میری ممتا کا مان رکھیں گے۔ اگر رضا بے وفائی کرے گا تو یہ وفا کریں گے اور میرا ساتھ دیں گے۔ جہاں میں رہوں گی، یہ بھی وہیں رہنا پسند کریں گے۔ میں نہیں جانتی تھی کہ بے وفا کا خون بھی بے وفا ہی ہوتا ہے۔
میرے بعد رضا نے جس عورت سے شادی کی، وہ اس کے ساتھ رہنے چلے گئے کیونکہ وہ صاحبِ جائیداد تھی اور اس کا اپنا مکان تھا۔ اس نے شرط رکھی تھی کہ “میرے ساتھ رہو گے تو ان بچوں کی ماں (یعنی مجھے) ساتھ نہیں رکھو گے، وہ علیحدہ رہے گی۔”
بچے بڑے اور سمجھدار ہوئے تو کہنے لگے کہ “ہم اپنے باپ کے ہیں، جہاں وہ رہیں گے ہم بھی وہیں رہیں گے۔” رضا خوش تھے کہ اب بڑھاپا نزدیک ہے اور بیٹے جوان ہو چکے ہیں۔ انہیں بڑھاپے کی دھوپ میں اولاد کی چھاؤں چاہیے تھی، چنانچہ انہوں نے بچوں کو رجھانا اور ورغلانا شروع کر دیا۔ وہ کبھی آہیں بھرتے اور کبھی آنسو بہا کر بچوں کو اپنی محبت کا یقین دلاتے۔
دوسری طرف میری پوری جوانی ان بچوں کو پالنے میں گزر گئی۔ جب وقت تھا کہ میں انہیں چھوڑ دیتی، تب وہ میرے پاؤں کی بیڑیاں بن گئے تھے اور میں ممتا کے ہاتھوں مجبور ہو کر رہ گئی۔ رضا ان دنوں بھی خوش تھے کہ “واہ! کتنی پاگل عورت ہے، میرے بچوں کی خدمت بھی کر رہی ہے اور دیوانی ہو کر اپنی نوکری کی کمائی بھی ان پر وار رہی ہے۔” وہ سمجھتے تھے کہ میں یہ سب اپنی خوشی سے کر رہی ہوں، اس لیے وہ مطمئن رہے۔ نہ میں سوتن کے گھر بسنے پر لڑی اور نہ کبھی گھومنے پھرنے کی ضد کی۔ رضا کا کام تو دو چار ہزار روپے دے کر آرام سے چل رہا تھا، ورنہ آج کل تو “آیا” بھی بیس ہزار سے کم نہیں لیتی؛ اور میں تو ان کے نکاح میں تھی، ان کی بیوی کہلاتی تھی۔
تب مجھے احساس ہوا کہ نکاح جہاں مرد کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے، وہیں یہ مرد کی سب سے بڑی فتح بھی بن سکتا ہے۔ یہ کچھ مردوں کی جیت اور عورت کی شکست ہے، بلکہ یوں کہیے کہ یہ محبت کی شکست ہے۔ بیوی کا کام محض گھرداری نہیں ہوتا، میاں بیوی تو ایک دوسرے کے دکھ سکھ کے ساتھی ہوتے ہیں۔ لیکن ہوتا یہ ہے کہ اگر بیوی ذرا سی باغی ہوئی تو اسے طلاق کا ہار پہنا کر خود بے فکر ہو جاتے ہیں کہ اب اس کا یہی علاج ہے۔
بالآخر لڑکے اپنے باپ کے پاس چلے گئے اور بیٹیاں میرے حصے میں آگئیں، کیونکہ بیٹیاں عموماً بے وفا نہیں ہوتیں اور وہ اپنی ماں کو تنہا نہیں چھوڑتیں۔ اب میرا بڑھاپا ہے اور میری دونوں بچیاں کما رہی ہیں اور گھر چلا رہی ہیں۔ ان کے والد ان سے اس لیے نہیں ملتے کیونکہ ان کے نزدیک یہ بیٹیاں نافرمان تھیں، جنہوں نے باپ کے بجائے ماں کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔
ہر لمحہ مجھے ان کے کھوئے جانے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ کبھی کبھی راتوں کو نیند سے چونک کر اٹھ بیٹھتی ہوں اور ان کے کمرے میں جا کر دیکھتی ہوں۔ انہیں سکون سے سوتا پا کر خدا کا شکر ادا کرتی ہوں کہ وہ ان کی حفاظت کر رہا ہے۔ میں دعا کرتی ہوں کہ میرا رب ہمیشہ ان کا نگہبان رہے، کیونکہ باپ کے سائبان کے بغیر لڑکیوں کی حفاظت کرنا ایک تنہا ماں کے لیے بہت دشوار اور پرخطر مرحلہ ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ ملازمت بھی کرتی ہوں۔
لڑکیاں لاکھ سمجھدار سہی، مگر باہر کی دنیا خطرات سے بھری ہوئی ہے جہاں رضا جیسے کئی شکاری ہر دور میں موجود رہتے ہیں، جنہیں ہمیشہ نئے شکار کی تلاش رہتی ہے۔ میں اپنی بچیوں کو روز سمجھا کر بھیجتی ہوں کہ آنکھیں بند کر کے کسی پر بھروسہ مت کرنا۔ مرد کے پاس “محبت” ایک ایسا جال ہے جس میں پھنس کر نادان لڑکی کبھی ایسا زخم کھا لیتی ہے کہ پھر کسی سے شکایت کے قابل بھی نہیں رہتی۔
بے شک بڑھاپا ایک اٹل حقیقت ہے، اور یہ ایک بڑی سزا بھی ہے کہ جب پاپ کا گھڑا بھر جاتا ہے تو آدمی خود اس میں ڈوب جاتا ہے۔ جنہیں حوا کی بیٹی کی قدر نہیں ہوتی، انہیں خدا کا خوف بھی نہیں ہوتا؛ اور جنہیں خدا کا خوف نہ ہو، ان کی عاقبت کی فکر سبھی کو رہتی ہے۔
خدا نے مرد کو حقوق دیے ہیں تو ذمہ داریاں بھی سونپی ہیں۔ جو ان ذمہ داریوں سے آنکھیں چراتے ہیں، انہیں اس جہانِ مکافات میں سزا بھگتنی ہی پڑتی ہے۔ اگر کوئی شخص محض اپنی عیاشی کے لیے کسی لڑکی کی بھرپور زندگی نذرِ آتش کر کے یہ سوچتا ہے کہ وہ ہمیشہ خوش و خرم رہے گا، یا اولاد اس کے ساتھ وفا کرے گی، تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ معصوم اولاد بالآخر ایک نہ ایک دن سمجھ ہی جاتی ہے کہ ماں اور باپ میں سے کون صحیح تھا اور کون غلط؛ اسے کس کا ساتھ دینا چاہیے تھا اور کس کا نہیں۔ وقت ایک دن انسان کو خود اس کے بنے ہوئے مکڑی کے جال میں پھنسا لیتا ہے، اور تب آدمی سوچتا رہ جاتا ہے کہ “میرا کیا قصور تھا؟”
آج رضا کے دو جوان بیٹے اپنی حقیقی ماں کے پاس چلے گئے ہیں۔ بہت وقت گزرنے کے بعد انہیں معلوم ہوا کہ ان کی سگی ماں کون ہے اور کہاں رہتی ہے، تاہم وہ اکثر مجھ سے ملنے بھی آتے ہیں۔ دو بیٹے ابھی تک رضا کے ساتھ ہیں، لیکن مجھے یقین ہے کہ جس دن وہ حقائق سے آگاہ ہوں گے، وہ بھی وہاں نہیں ٹھہریں گے۔ فی الحال وہ لڑکپن کے دور میں ہیں اور ان میں سوچنے سمجھنے کی پوری صلاحیت بیدار نہیں ہوئی۔
آج نہیں تو کل، یہ پختہ یقین ہے کہ رضا کو اپنے کیے پر پچھتانا پڑے گا؛ کیونکہ ماؤں کو بیٹے اور بیٹیوں کو ماں تو مل جائے گی، مگر رضا کو اب کوئی مخلص جیون ساتھی میسر نہیں آئے گا۔ جب صحت، جوانی اور روپیہ باقی نہ رہے، تو پھر بھلا کون نادان ان کے جال میں آئے گی؟
(ختم شد)

